Dadhkan By Rania Mehar Readelle50327 Dadhkan (Episode 21)
Rate this Novel
Dadhkan (Episode 21)
Dadhkan By Rania Mehar
مسکان مسکان کیسی ہو میری جان چلوڈاکٹر کے پاس لے کر جاٶ تمہیں ۔۔۔
ہاشم نے بیڈ پر لیٹی مسکان کو ہوش میں آتے دیکھ پریشانی سے پوچھا ۔۔۔
وہ کب سے کوششش کر رہا تھا ۔
اسے ہوش میں لانے کی ۔۔۔
پ۔ی۔پانی ۔
مسکان نے اپنے خشک ہونٹ تر کرتے ہوے کہا ۔۔
کہا بھی تھا ریسٹ کرو لیکن تم نے ایک نہ مانی دیکھو طیبعت خراب کر لی نہ ۔۔۔
ہاشم نے اس پانی پلاتے ہوے غصہ سے کہا ۔
میں ٹھیک ہو آپ سو جاۓ ۔
مسکان نے نظریں چڑاتے ہوے کہا ۔۔
اس نے کب دیکھا تھا ہاشم کا ایسا نرمی والا رویہ ۔۔
تبھی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی ۔۔
چلو آرام کرو اور خبردار اگر منع کیا نہیں جانا ڈاکٹر کے پاس میں خود لے کر جاٶ گا ۔۔
ہاشم نے خود اپنے ساتھ لٹاتے ہوے مسکان کا سر اپنے سینے پر رکھتے ہوے کہا ۔۔۔
————————————————————
اگلی صبح وہ دونوں ایک دوسرے کی باہوں میں سو رہے تھے ۔۔
جب محمل کی آنکھ کھولی ۔
اپنے اوپر وزن محسوس کرتے محمل کی آنکھ کھولی تھی ۔۔
افف توبہ کیا کھاتے ہے اتنا وزن ایک بازو کا ۔۔۔
محمل نے اپنے اوپر سے داٶد کا بھاری وزنی بازو اٹھاتے ہوے سوچا ۔۔۔
جو خود آنکھں بند کیے سو رہا تھا ۔۔
مسڑ کھڑوس پیچھے ہو ۔۔
محمل نے غصہ سے بازو اٹھاتے داٶد کو دور کرنا چاہا ۔۔
سونے دو نا تھکاوٹ ہے ۔۔
داٶد نے غنودگی میں کہتے محمل پر اپنی گرفت اور سخت کی ۔۔
بھاگی نہیں جا رہی میں جو ایسے پکڑ کر سو رہے ہو ۔۔
چھوڑو مجھے ۔۔۔
محمل نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔
(اچھا ایسے نہیں چھوڑے گا مجھے اب میں بتاتی ہو اسے ).
محمل نے داٶد کو گھورتے ہوے سوچا ۔۔
جو ٹس سے مس نہیں ہوا تھا ۔۔۔
محمل نے داٶد کے سینے پر شرارت سے ہاتھ رکھا ۔۔۔
اس کے سینے پر بال محسوس کرتے محمل کو یاد آیا وہ شرٹ لیس تھا ۔۔
شرارت سے اب کبھی اس کے سینے کو چھوتی تو کبھی اس کے مسلز کو اور کبھی باڈی ایبز کو چھو کر محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
محمل یار مت کرو ورنہ میرے اندر کا جانور جاگ جاۓ گا ۔۔۔
داٶد نے اکتاۓ ہوے لہجے میں کہا ۔۔
انہہ جانور تو تم ہو ۔۔
محمل اپنی بات کہتی خودی کھی کھی کرنے لگی تھی ۔۔۔
اچھا جی میں جانور ہو رکو ابھی میں بتاتا ہو جانور کیسا ہوتا ہے ۔۔۔
داٶد سمجھ چکا تھا محمل شرارت کر رہی ہے تبھی اب نیند سے جاگتے ہوۓ محمل کے اوپر آتے کہا ۔۔۔
نہی۔نہیں تم جانور نہیں میں کہہ رہی تھی چلتے ہے یہاں ہو سکتے ہے جانور ۔۔
محمل نے جب دیکھا داٶد جاگ گیا ہے تبھی اپنی چال الٹی پڑتے دیکھ ہکلاتے ہوے بولی ۔۔۔
لیکن جان میں تو جانور ہو نہ ۔۔۔
داٶد نے طنزیہ مسکراتے ہوے محمل کی گردن میں منہ چھپایا ۔۔۔۔
چھوڑو مجھے زیادہ فری ہونے کی ضرروت نہیں ہے ۔۔۔
محمل نے زور سے دھکا دیتے غصہ سے کہا ۔۔
جبکہ داٶد اب زمین پر گرا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ہاہاہااہاہااہا ڈر گی ویسے جان ابھی کچھ کیا تو نہیں تھا ۔۔۔
داٶد زمین پر لیٹے ہوے طنز کیا ۔۔۔
وہ تو محمل کا بلش کرتا چہرہ دیکھ کر خوش ہوا تھا ۔۔۔
————————————————————
کیییییییاااااا سچی مجھے یقین نہیں آ رہا ماما ۔۔۔
ہاشم نے خوشی سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
ہاں میرا بیٹا سچ ہے میں دادی بننے والی ہو ۔۔
اصغری بیگم نے ہاشم کا چہرہ چومتے ہوے خوش ہوتے کہا ۔۔۔
صبح جب وہ گھر آی تھی مسکان کی حالت دیکھ کر انھوں نے لیڈی ڈاکٹر کو گھر بلا لیا تھا ۔۔۔
بس بیٹا یہ کہو گی اپنی ہر غلطی کو بھول کر تم میری بیٹی کا خیال رکھو ۔۔
میں چاہتی ہو میرے دونوں بچے خوش رہے ۔۔
اصغری بیگم نے منت کرتے لہجے سے کہا ۔۔
ماما پہلے جو ہوا وہ سب غلط ہے میں مانتا بھی ہو آپ فکر مت کرے میں اب مسکان کو خوش رکھو گا ۔۔۔
ہاشم نے مسکراتے ہوے وعدہ کیا ۔۔۔
اچھا جاٶ دیکھو مسکان کو کچھ چاہے تو نہیں ۔۔
اصغری بیگم نے اسے روم میں جانے کو کہا ۔۔۔
———————————————————-
مبارک ہو فیوچر ماما ۔۔
ہاشم نے مسکان کو بیک ہگ کرتے خوش ہوتے کہا ۔۔۔
مجھے یہ نہیں چاہے ۔۔
مسکان جو شیشے کے پاس کھڑی تھی جب ہاشم کا لمس محسوس کرتے سرد لہجے سے کہا ۔۔۔
کیا لیکن کیوں مسکان ۔۔۔
ہاشم نے مسکان کا رخ اپنی طرف کرتے حیران ہو کر پوچھا ۔۔۔
کیونکہ میں نہیں چاہتی میری اولاد یا بیٹی میری جیسی قیسمت لے کر پیدا ہو ۔۔
اسے بھی وہ سب سننے کو ملے جو آج تک میں سنتی آی ۔۔
مجھے پتہ آپ کہہ گے یہ اولاد بھی نہیں آپ کی ۔۔
میں یہ برادشت نہیں کر سکتی ۔
پہلے ہی ٹوٹ کر بکھری تھی ۔۔
اب اگر تھوڑا ٹھیک ہوئ تو یہ آزمائش آ گی ہے ۔۔۔
میں کیسے آپ کی باتیں سنو گی اس سے اچھا ہے یہ بچہ اس دنیا میں نہ۔۔۔۔
مسکان جو ہاشم کو خود سے دور کرتی روتی ہوئ بول رہی تھی ۔
جب ہاشم نے
نے اس کی بولتی بند کروائ ۔۔
ہاشم جو مسکان کی اتنی ساری بات سن کر دکھ سے اس کا دل پھٹنے والا ہو گا تھا ۔۔
تبھی اسے چپ کروانے کے لیے ہاشم اپنے لب اس کے لبوں پر رکھا چکا تھا ۔۔۔۔
ششششش ایک لفظ بھی نہیں بولو گی بلکہ میری سنو گی تم سمجھی ۔۔۔
ہاشم مسکان کو نرمی سے چھوڑتے ہوے بولا ۔۔
اس سے پہلے مسکان کچھ کہتی جب ہاشم اپنی باہوں میں اسے بھرتے بیڈ کی طرف آیا ۔۔۔
میں یہ نہیں کہتا کہ مجھے معاف کر دو ۔
میں جانتا ہو اس دن جو ہوا ساری میری غلطی ہے ۔
لیکن پھر بھی تمہیں قصور وار کہا ۔۔
میں نے کتنا بڑا گناہ کیا تھا مجھے یہ احساس ان تین ماہ میں اچھے سے ہو چکا ہے مسکان ۔۔۔
میں اپنی ہر غلطی کا ازالہ کرنے کو تیار ہو بس ایک بات مان لو ہماری اولاد کو کچھ نہیں ہونا چاہے ۔۔
میں اپنی اولاد کو وہ ہر خوشی دو گا ۔۔
جس خوشی کے لیے میں بچپن سے ترستا ہوا آیا ہو ۔۔
مسکان تم نہیں جانتی میں نے اپنی ماں کو ہمیشہ روتے ہوے دیکھا کبھی انہیں خوش نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
بس میں تمہیں قصوار سمجھتا رہا ۔۔
لیکن تم بہت اچھی لڑکی ہو اس کا احساس مجھے اب ہوا ۔۔۔
ہاشم نے مسکان کا ہاتھ پکڑتے پیار سے کہا ۔۔۔
مسکان خاموش بیٹھی سن رہی تھی ۔۔
یہ بات میری بھی غلط تھی مسکان تمہارا کردار صاف شفاف تھا اس کی گواہی میں دیتا ہو ۔۔۔
تم پاک دامن تھی ۔۔
میری غلطی تھی یہ جو بچپن سے سنا وہی سمجھا تمہیں میں نے اس چیز کے لیے معاف کر دو ۔۔۔
ہاشم نے ہاتھ جوڑتے ہوے کہا ۔۔
نہیں مجھے گناہہگار بنا رہے ہے بس ایک سوال کا جواب دے میں پھر آپ کو موقع دو گی ۔۔
مسکان نے بے تابی سے کہتے ہاشم کا چہرہ دیکھا ۔۔۔
بولو میری جان میں سب کچھ بتانے کو تیار ہو ۔۔
ہاشم نے خوش ہوتے پوچھا ۔۔۔
می۔میری ماں کیا لگتی تھی آپ کی ۔۔۔
مسکان نے شرمندہ ہوتے پوچھا ۔۔۔
میں نہیں جانتا بس اتنا سن لو میرے بابا کی محبت تھی وہ ۔۔
اب چھوڑو اس بات کو آرام کرو میں زرا فروٹ لے کر آتا ہو ۔۔
ہاشم نے اسے لٹاتے ہوے ماتھے پر کس کرتے کہا ۔۔
جبکہ مسکان اب سوچ میں پڑ چکی تھی ۔۔
اپنے ماضی کے بارے میں ۔۔۔
————————————————————
سر یہ راجو ہے ۔۔
اکرم نے کےکے کے روم میں آتے کہا ۔۔۔
کےکے جو محمل کی پک دیکھنے میں مصروف تھا اب خونخوار نظروں سے اکرم کو گھور رہا تھا ۔۔۔
کتنی دفعہ بکواس کی ہے میں اپنی گرے بیوٹی کے ساتھ مصروف ہوتا ہو ۔۔
تم اسے خود دیکھ لیتے مجھے کیوں ڈسٹرب کیا ۔۔
کےکے نے غصہ سے غراتے ہوے کہا ۔۔۔
س۔سوری سر لیکن یہ خود آپ سے ملنا چاہتا تھا ۔۔
اکرم نے ڈرتے ہوے راجو کی طرف اشاره کرتے کہا ۔۔
راجو خود عجیب نظروں سے کےکے کو گھور رہا تھا ۔۔
ہاں بولو جلدی ۔۔
کےکے نے بیزار ہوتے راجو کو مخاطب کرتے کہا ۔۔۔
ارے صاب جی۔
صاحب” ہوتا ہے” صاب “نہیں ہوتا ۔۔
اکرم نے راجو کی بات کاٹتے ہوے کہا ۔۔
صاب جی میں راجو ہو ۔۔
غریب بندہ ہو مجھے کام چاہے آپ کا ذکر کافی دفعہ سنا ہے ۔۔
راجو نے بات اگنور کرتے اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرواتے کےکے سے کہا ۔۔۔
حبشیوں والا کالا رنگ ۔۔کالے گندے بھرے بال جو کندھوں تک آتے تھے ۔۔پیلے دانت جس کی وہ بار بار نمائش کروا رہا تھا ۔۔
لمبا چوڑا قدوقامت والا ہٹا کٹا سا پھٹے پرانے کپڑوں والا راجو سامنے کھڑا کےکے کو گھور رہا تھا ۔۔۔
ویسے صحت سے لگ نہیں رہا تم غریب ہو ۔۔۔
کےکے نے مکمل راجو کا جائزہ لیتے کہا ۔۔
ارے صاب جی ہم غریب بندہ ہے ۔۔
روزی روٹی کے لیے محنت کرتا ہو اس لیے آپ کو ایسا لگا ہو ورنہ ہمارے پاس روٹی کھانے کے پیسے بھی نہیں ہے ۔۔
راجو نے رونے والی شکل بناتے ہوے کہا ۔۔
اچھا مان لیا لیکن تمہاری یہ آنکھیں کچھ اور بولتی ہے ۔۔
کےکے نے تفتیش کرتے ہوے کہا ۔۔
ہاے ہماری آنکھوں پر لڑکیاں مرتی ہے ۔
راجو نے شرماتے ہوے کہا ۔۔
(توبہ شکل دیکھنے کو دل نہیں کرتا کتنا کالا ہے اور خوش فہمی دیکھو زرا بچارے کی )۔۔
اکرم نے راجو کا رنگ دیکھتے دل میں سوچا ۔۔۔
اچھا بس کرو یہ بتاو کیا کر سکتے ہو ۔۔
کےکے نے ٹالتے ہوے کہا ۔۔
ہم سب کر لیتا ہے صاب جی ۔۔
راجو نے جلدی سے جواب دیا ۔۔
یہ بات ہے ادھر آو میرے جوتے لے کر میں نے پہنے ہے ۔۔
کےکے نے کچھ سوچتے ہوے کہا ۔۔
جی صاب جی ہم آیا ابھی ۔۔
راجو نے پاس جاتے خوش ہوتے کہا ۔۔
یہاں کیوں رکھ رہے ہو جوتے کام کرنا ہے تو پہناٶ بھی مجھے جوتے قدموں میں بیٹھ کر ۔۔
کےکے نے دور پڑے جوتے رکھتے راجو کو دیکھ کر کہا ۔۔
وہ صاب جی ہم ایسا کام نہیں کرتا اگر ہم کبھی جھکا ہے تو صرف اپنے اللہٌکے سامنے ۔
جب کام ہو ہم کو بتا دیتا ہم کر دے گا ۔۔
چلتا ہو صاب جی ۔۔
راجو نے روم سے باہر جاتے دانت پیستے ہوے کہا ۔۔
اس کی جرات کیسے ہوئ آپ کو جواب دینے کی ۔۔
اکرم نے غصہ کرتے کہا ۔۔۔
جانے دو اسے بلکہ اسے کل جو ہم نے کام کروانا ہے اس سے کر
واۓ گے ۔۔
کے کے نے سکون سے جواب دیا ۔۔
لیکن سر ہم کیسی پر یقین نہیں کر سکتے اتنا مہنگا مال ہے سارا ۔۔
اکرم نے حیران ہوتے کہا ۔۔
یہ کرے گا ہمارا کام اس کی آنکھوں میں ایک جنون تھا کچھ کرنے کا یہ کرے گا ۔۔
اب ڈسٹرب مت کرنا دفع ہو جاٶ ۔۔
کےکے محمل کی پک کو دیکھتے بہکے ہوۓ لہجے میں بولا ۔۔
بڈھا ہو گیا ہے لیکن اس کا کمینہ پن نہیں گیا ۔۔
اکرم نے کےکے کو دیکھتے منہ میں بڑبڑایا ۔۔
————————————————————
مبارک ہو ایچ ایم ہاے میں چاچو بننے والا ہو ۔۔
اے اے نے گلے ملتے ہوے خوش ہو کر کہا ۔۔۔
تم کیوں آے یار میں ملنے آ جاتا پتہ بھی ہے کتنا خطرہ ہے ۔۔۔
تمہاری حفاظت بھی میں نے کرنی ہے ورنہ جلاد مجھے نہیں چھوڑے گا ۔۔۔
ایچ ایم نے بیزار ہوتے کہا ۔۔
ارے یار جہاں تم اور جلاد ہو وہاں اےاے کو کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔
بس میری عزت کیا کرو ورنہ جب چھوڑ کر چلا گیا نہ تو روتے رہا جاٶ گے سب ۔۔
اےاے نے مذاق کرتے کہا ۔۔
ک۔۔آہہہہہہہہ آہہہہہہ ہاۓ میں مر گیا ۔۔۔
چھوڑ مجھے جلاد میری بیوی بیوہ ہو جاۓ گی چھوڑ مجھے ۔۔
اس سے پہلے اےاے کچھ اور کہتا جب ڈی ایم نے اس کی گردن دبوچی ۔۔
تو مرنا چاہتا ہے نہ تو مر میں موت ہی دے رہا ہو ۔۔
اچھا ہے جلدی مر جا تاکہ تیری حفاظت نہ کرنی پڑے مجھے ۔۔
ڈی ایم نے دانت پیستے ہوے گردن پر اپنا زور اور دیا ۔۔
چھوڑ جلاد مجھے تجھے قسم ہے بھابھی کی ہاے میری ننھی سی جان ۔۔۔
اےاے نے اور چلاتے ہوے کہا ۔۔
آئندہ ایسی بکواس کی تو سیدھا اوپر جاۓ گا سمجھے ۔۔
ڈی ایم نے دور دھکا دیتے غصہ سے کہا ۔۔۔
ہاں میں بھابھی کو سب کچھ بتاٶ گا دیکھنا تو ۔۔
زرا جو عزت ہو میری یہاں مجھے رہنا ہی نہیں ہے ۔۔
اےاے بیسمنٹ روم سے باہر جاتے روٹھے پن سے کہا ۔۔
رک میں ابھی تجھے بتاتا ہو بچ تو جا میرے ہاتھوں ۔۔
ڈی ایم نے غصہ سے غراتے ہوے پاس جاتے کہا ۔۔۔
جبکہ اےاے وہاں سے بھاگ چکا تھا ۔۔
اس کا خیال رکھنا ایچ ایم مجھے دھمکی ملی ہے وہ میرے کسی عزیز کو نقصان پہنچاۓ گے ۔۔
جلدی سے سیف ہاٶس شفٹ ہونے کی تیاری کرو سمجھے ۔۔
ڈی ایم نے ایچ ایم کو تفصیل سے سمجھاتے ہوے کہا ۔۔۔
اچھا اس کی فکر ہے اور میری حفاظت کون کرے گا ۔۔
ایچ ایم نے جلیس ہوتے پوچھا ۔۔
تیری میں کرو گا حفاظت بس اس پر نظر رکھ بچہ ہے یہ ۔۔
ڈی ایم نے پھر اپنی بات دہراتے ہوے کہا ۔۔
توبہ بچہ ہے یہ خود باپ بننے والا ہے تو بچہ کہا رہا ہے ۔۔
ایچ ایم نے روٹھے پن سے کہا ۔۔
باپ تو تم بھی بننے والا ہے اپنے بارے میں کیا خیال ہے تیرا ۔۔
ڈی ایم نے طنز کرتے کہا ۔۔
مبارک تو دی نہیں مجھے ۔۔
ایچ ایم نے روٹھے پن سے کہا ۔۔
جو حقدار ہے اسے ملے گی مبارک باد اور تو ہاں کون میں نہیں جانتا ۔۔۔
ڈی ایم نے بیزار ہوتے کہا کر اپنے روم میں چلا گیا ۔۔
جبکہ ایچ ایم ہکابکا منہ کھولے کھڑا تھا ۔۔
۔
(یا اللہٌیہ میرا سالا نہ ہو سچی ورنہ یہ تو مجھے سیدھی موت دے گا ۔۔۔)..
ایچ ایم نے دل میں سوچتے دعا مانگی ۔۔
———————————————————-
کون ہو تم لوگ چھوڑو مجھے میں جان سے مار دو گا ۔۔۔
اےاے نے چلاتے ہوے کہا ۔۔
وہ فارم ہاٶس کی بیسمنٹ سے باہر آ کر اپنی گاڑی میں بیٹھنے والا تھا جب کسی نے اس کے سر پر حملہ کرتے اپنے ساتھ لے جا چکے تھے ۔۔
اب ہوش میں آتے ہی وہ چلا رہا تھا ۔۔
اسے کرسی پر رسیوں کے ساتھ باندھا ہوا تھا ۔۔
پورا کمرہ خالی اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔
چھوڑو مجھے میرا جلاد آے گا دیکھنا ۔۔
اےاے نے بے بسی سے چلاتے ہوے کہا ۔۔
ہاے ثانی کیسی ہو گی مجھے سوچنا چاہے تھا سب کے بارے میں تف ہے ارتضٰی تجھ پر ۔۔۔
اےاے نے بے بسی سے سوچتے کہا ۔۔۔
اب وہ بیٹھا سوچ رہا تھا کیسے یہاں سے بھاگ جاۓ ۔۔۔
————————————————————
میری بیٹی نے اچھے سے کھانا پینا ہے خیال رکھنا ہے ۔۔
اصغری بیگم نے مسکان کو سمجھاتے ہوے کہا ۔۔
پر مجھے سے نہیں کھایا جاتا ماما دل بھاری ہوتا ہے ۔۔۔
مسکان نے رونی صورت بناتے ہوے کہا ۔۔
صبح سے شام ہو گی تھی ہاشم نے اسے زبردستی فروٹ جوس اسے کھانے کو دیا تھا ۔۔
اب مسکان تنگ آ گی تھی ۔۔۔
ارے بیٹا سب کچھ کھانا پڑتا ہے ۔۔
اصغری بیگم نے خوش ہوتے کہا ۔۔
ماما ایک بات پوچھو وعدہ کرے بتاے گی ۔۔
مسکان نے التجا کرتے پوچھا ۔۔
ہاں میری بیٹی بتاٶ ۔۔
اصغری بیگم نے پیار سے کہا ۔۔
میں کون ہو اور میری ماں کیوں بابا کی محبت رہی اگر محبت تھی تو شادی کیوں نہ ہوئ ۔۔
میں اتنا تو جانتی ہو میری یاداشت چلی گی ہے آپ اسی لیے مجھے نہیں بتایا کہ شاہد میں آپ سب سے دور نہ چلی جاٶ ۔۔
مسکان نے نرمی سے کہا ۔۔
ل۔۔مجھے جاننا ہے پلیز ۔
مسکان نے اصغری بیگم کی بات کاٹتے ہوے کہا ۔۔۔۔
جب مجبور آ کر اصغری بیگم نے سب کچھ بتا
دیا تھا ۔۔۔
کیییییاااا ماما پھر تو ہاشم صیح نفرت کرتے تھے بلکہ میں تو کہتی ہو انہیں مجھے چھوڑ دینا چاہے ۔۔
میری ایسی ماں مجھے یقین نہیں آ رہا کوئ عورت ایسی ماں اور بہن ہو سکتی ہے ۔۔۔
مسکان نے سنتے ہی روتے ہوے کہا ۔۔۔
نہیں بیٹا تم چاہے اس کی بیٹی ہو لیکن پرورش میں نے کی ہے تم میری بیٹی ہو ۔۔
اصغری بیگم نے مسکان کو چپ کرواتے ماتھا چومتے ہوے کہا ۔۔۔
بھاہیٶ وہ کہاں ہے مجھے ملنا ہے ان سے ۔۔۔
مسکان نے بے تاب ہوتے کہا ۔۔
میں نہیں جانتی اسے وہ کون اور کہاں ہے میرے لیے بس تمہاری جان بچانا ضروری تھا بیٹا جو میں نے کیا ۔۔۔
اصغری بیگم نے سکون سے کہا ۔۔۔
ماما میں کیسے نظریں ملا پاٶ گی ہاشم ہے میں کتنا شرمندہ ہو وہ بلکل ٹھیک سلوک کرتے تھے میرے ساتھ ۔۔
میری ماں ایسی تھی تو مجھے بھی ایسا سمجھا انھوں نے ۔۔
مسکان نے ایک دفعہ پھر روتے ہوے بات دہرائ ۔۔
نہیں میری جان ہاشم کی غلط فہمی تھی جو اب ختم ہوئ اب دونوں اپنی زندگی میں خوش رہو ۔۔
جو ہوا اسے بھول جاٶ ۔۔
اصغری نے چپ کرواتے ہوے کہا ۔۔
ل۔۔
میم کوئ ملنے آیا ہے آپ سے ۔۔۔
اس سے پہلے مسکان کچھ کہتی جب ملازمہ نے روم میں آتے کہا ۔۔۔
اچھا چلو میں دیکھتی ہو ۔۔۔
اصغری بیگم نے باہر جاتے ہوے کہا ۔۔
————————————————————
السلام و علیکم۔۔۔
اصغری بیگم نیچے ہال میں انٹر ہوئ جب داٶد نے کھڑے ہوتے سلام کیا ۔۔۔
وہ خود نروس تھا کیا بولے ۔۔
وعلیکم السلام بیٹا بیٹھو آپ ۔۔
اصغری بیگم نے پیارے دیتے ہوے کہا ۔۔
(کون ہے یہ دیکھنے میں ایسا لگتا ہے جیسے میں جانتی ہو ۔۔
ہے بھی کتنا خوبصورت ہے پتہ نہیں کس کا بیٹا ہو گا ۔۔)
اصغری بیگم نے اپنے سامنے نروس ہوتے داٶد کو دیکھتے دل میں سوچا ۔۔
جو کب سے خاموش بیٹھا آس پاس دیکھ رہا تھا ۔۔۔
کون ہو بیٹا آپ ۔۔
اصغری بیگم نے مجبور ہو کر پوچھ ہی لیا ۔۔۔
وہ بچہ مطلب مسکان کو بلا دے مجھے کام ہے ۔۔۔
داٶد نے جلدی سے اپنے آنے کی اصل وجہ بتای ۔۔۔
ارے سر آپ یہاں کیسے ہے آپ ۔۔
اس سے پہلے اصغری بیگم بولتی جب خود مسکان بھاگتی ہو داٶد کے پاس آی ۔۔
بچہ دھیان سے اس حالت میں بھاگا نہیں جاتا ۔۔۔
داٶد اور مسکان دونوں بھول چکے تھے اصغری بیگم پاس ہی بیٹھی ہے ۔۔
جبکہ اصغری خود حیران ہوتی دیکھ رہی تھی ان دونوں کو ۔۔
ہاہاہہاہا سر کچھ نہیں ہوتا آپ بتاے محمل کو کیوں نہیں لاۓ آپ اور یہ اتنے سارے گفٹ کیوں ۔۔
مسکان نے داٶد کے پاس بیٹھتے ہوے جلدی جلدی پوچھا ۔۔۔
بچہ تم روی ہو وجہ پین ہو رہا کیا رکو میں ڈاکٹر کو بلاتا ہو بلکہ وہ یہاں رہ لیا کرے گی ۔۔
ہاشم کو یہ سب سوچنا چاہے ۔۔۔
داٶد نے بات اگنور کرتے مسکان کی نیلی سرخ آنکھوں کو دیکھتے پوچھا ۔۔۔
نہیں سر ڈاکٹر کی ضرورت کیسی آپ تو اب شرمندہ کر رہے ہے ۔۔
مسکان نے جھجکتے ہوے کہا ۔۔
اچھا چھوڑو یہ گفٹ دیکھو مجھے پیارے لگے تو لے آیا میں کچھ اور چاہے ہو تو بتانا مجھے ۔۔
داٶد نے مسکان کی طرف پیار سے دیکھتے ہوے کہا ۔۔
سر گفٹ اتنے سارے ہے جیسے پورا مال خرید لیا ہو لیکن یہ کپڑے کافی بڑے ہے اور بے بی تو چھوٹا ہوتا ہے ۔۔۔
مسکان نے رنگ برنگ بے بی کپڑوں کو دیکھتے کہا ۔۔جو کافی بڑے دیکھ رہے تھے ۔۔
مسکان سب چیزیں اندر روم میں لے جاٶ ۔۔
اصغری بیگم نے دونوں کو ڈ سٹرب کرتے کہا ۔۔۔
ارے ماما ان سے ملے یہ محمل کے شوہر ہے ۔۔۔
میں بھول ہی گی ۔۔
مسکان ہوش میں آتی مسکراتی ہوئ تعارف کروایا ۔۔۔
اچھا محمل بیٹی کا شوہر ماشاءالله کتنا پیارا بچہ ہے ۔۔۔
اصغری بیگم نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔
جبکہ داٶد بس چپ کھڑا تھا ۔۔۔۔
آپ کبھی ہمارے گھر آنا اب میں چلتا ہو ۔۔۔
داٶد نے فون رنگ ہوتے دیکھ دونوں کو کہتا چلا گیا تھا ۔۔۔
کچھ زیادہ کم نہیں بولتا ۔۔
اپنے آپ میں مگن رہتا ہے ۔
اصغری بیگم نے مسکراتے ہوے مسکان سے پوچھا ۔۔۔
ہاہاہا یہ آج تو پھر بول لیا ہے ورنہ یہ کم بولتے ہے ۔۔۔
مسکان نے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔
———————————————————–
محمل بیٹا ادھر آو بات کرنی ہے ۔۔۔
مختار صاحب نے محمل کو اپنے پاس بلاتے ہوے کہا ۔۔۔
اب تمہیں جانا چاہے بیٹا شوہر کا گھر ہی اپنا گھر ہوتا ہے ۔۔
مختار صاحب نے مسکراتے ہوے سمجھایا ۔۔۔
نہیں پاپا میں نہیں جا رہی اس وجہ سے یہ سب ہوا آپ کی حالت خراب ہوئ میں کبھی نہ جاٶ اس کے گھر ۔۔۔
محمل نے غصہ کرتے کہا ۔۔۔
دیکھو بیٹا داٶد نے بہت دکھ سہے ہے اب تمہیں چاہے اسے پیار محبت دو ۔۔۔
تاکہ اسے پتہ ہو وہ تمہارے لیے کیا ہے ۔۔
جو ہونا تھا ہو گیا بیٹا اب تمہیں جانا چاہے ۔۔۔
مختار صاحب نے تحمل سے سمجھایا ۔۔
لیکن۔۔۔
میرا فون بج رہا سن کر آتی ہو ۔۔۔
محمل نے بنا جواب دے کہتی روم میں بھاگ گی ۔۔۔
اللہٌ میری بیٹی کو ہدایت دے بس اپنا گھر خراب نہ کرے ۔۔
مختار صا
حب نے دعا مانگتے کہا ۔۔۔
————————————————————
ہلیو مسز داٶد بات کر رہی ہے ۔۔
محمل نے جب کال اٹھای تو دوسری طرف سے کسی نے پوچھا ۔۔۔
جی میں ہی اس کی بیوی ہو ۔۔
محمل نے حیرت اور منہ بناتے جواب دیا ۔۔۔
گریٹ ہیمں آپ سے ہی بات کرنی تھی ۔۔
جیسا کہ آپ جانتی ہو گی آپ کے شوہر مافیا گینگ کے پورے بڑے گینگسٹر ہے ۔۔
پتہ نہیں کتنے لوگوں کی جان لی ہے آپ کے شوہر نے ۔۔
آگے بتاے گے کیوں فون کیا ہے میرے پاس ٹائم نہیں ہے ۔۔۔
محمل جو یہ سب سن رہی تھی اب بات کاٹتے اکتاے ہوے انداز سے بولی ۔۔
جی جی ہم بس یہ چاہتے ہے آپ ہمارے ساتھ تعاون کرے ۔۔
دوسری طرف سے چہکتے ہوے بولا ۔۔۔
کیسا تعاون ۔۔
محمل نے تعجب سے پوچھا ۔۔۔
ہم چاہتے ہے آپ ہیمں انھوں سزا دلوانے میں مدد دے مطلب اس کا حق نہیں بنتا معصوم جانوں کو مارنے کا ۔۔۔
ہم نے سنا ہے ڈی ایم اپنی شرٹ پر ایک بٹن لگاتا ہے ۔۔۔
وہ بٹن اس کے خفیہ بیسمنٹ کا ہے ۔۔۔
جس کے ذریعے وہ دروازہ اوپن ہوتا ہے ۔۔۔
ہیمں وہ بٹن چاہے تاکہ ہم اس کے خلاف ثبوت ڈھونڈ سکے ۔۔۔
کیا آپ نہیں چاہتی اسے سزا ملے آپ تعاون کرے ہمارے ساتھ ۔۔۔
دوسری طرف سے یہ سب کہا گیا ۔۔۔
مل جاۓ گا وہ بٹن مجھے جگہ بتاٶ کہاں آنا ہے ۔۔
میں خود وہ بٹن دینے آؤ گی ۔۔
ہم سب اس کی وجہ سے خطرے میں رہے ہے ۔۔
میرے پاپا کی یہ حالت ہوئ ہے ۔۔۔
میں چاہتی ہو اسے بڑی سے بڑی سزا ملے میں آو گی ۔۔۔
محمل نے نفرت اور غصہ سے کہتی فون کاٹ کر چکی تھی ۔۔۔
ہاہاہاہا بڑا آیا ڈی ایم اب دیکھنا ایسا لگے گا جب خود کی ہی بیوی تمہارے خلاف ثبوت دے گی ۔۔۔
چچچچچ افسوس بہت ۔۔۔
اکرم نے فون بند کرتے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔
اسے اب محمل کے آنے کا انتظار تھا ۔۔۔
————————————————————
آہہہہہ آہہہہہہی ۔۔۔
دیکھ کر نہیں چل سکتے کیا اندھے ہو گے ہو ۔۔۔
محمل جو سیڑھوں سے اتر کر نیچے آ رہی تھی جب داٶد سے ٹکراتی نیچے گرنے سے بچی ۔۔۔
تم دیکھ کر نہیں چل سکتی تھی کیا اندھی تو تم بھی ہوئ ۔۔
داٶد نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔
آ تو گیا ہے اچھا موقع ہے وہ بٹن لیتی ہو ۔۔۔
محمل نے جب سامنے کھڑے داٶد کو دیکھا تو یاد آتے بولی ۔۔۔
اس کی شرٹ کا بٹن وہ دیکھ چکی تھی جو سب بٹنز سے ہٹ کر تھا ۔۔۔
لائٹ گولڈن رنگ کا بٹن اس کی شرٹ پر لگا تھا ۔۔۔
دیکھ کیا رہے ہو پکڑو مجھے میں گر رہی ہو ۔۔۔
اس سے پہلے داٶد جاتا جب اچانک محمل اس کے گلے لگی چلاتے ہوے بولی ۔۔۔
کہاں گر رہی ہو اچھی بھلی کھڑی ہو ڈرامہ کوئین ۔۔
داٶد نے مسکراہٹ روکتے ہوے کہا ۔۔۔
ارے گر رہی ہو اچھے سے پکڑو مجھے ۔۔
محمل نے زبردستی اس کے ہاتھ پکڑتے اپنی کمر پر رکھتے ہوے کہا ۔۔۔۔
یہ کیسا گرنا ہوا ۔۔
گر بھی نہیں رہی اور چلا بھی رہی ہو ۔۔
سنو سویٹ ہارٹ اگر ایسے چپکی رہی تو بھول جاٶ میں یہاں سے جا پاٶ گا ۔۔۔
کیونکہ اب اگر میں تمہیں چپک گیا نہ تو آگے خودی سمجھ جاٶ ۔۔۔۔
داٶد نے اس پر گرفت سخت کرتے آنکھ ونک کرتے کہا ۔۔۔
کیو۔کیوں آے تھے ۔۔
محمل نے گھبراتے ہوے سرخ چہرہ لیے اس سے پوچھا ۔۔
جو اس کی بات سن کر سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔
پاپا سے ملنے آیا تھا ۔۔
اب جا رہا ہو ۔۔۔
داٶد نے اس کا حیسن چہرہ دیکھتے کہا ۔۔۔
چلو جاٶ یہاں سے کچھ زیادہ فری ہو جاتے ہو مسٹر کھڑوس۔۔۔
محمل نےداٶد کو خود سے دور کرتی بھاگتے ہوے کہا کر چلی گی تھی ۔۔۔
ڈرامہ کوئین ۔
داٶد نے مسکراہٹ دباتے ہوے کہا ۔۔۔
وہ محمل کو دیکھنے میں اتنا مصروف تھا کہ بھول ہی گیا محمل اس کی شرٹ کا بٹن اتار چکی تھی ۔۔۔
————————————————————
ارے بیٹا رو کیوں رہی ہو ۔۔۔
وہ شرارتی زیادہ ہے دیکھنا آ جاۓ گا ۔۔
راحیلہ بیگم نے ثانیہ کو چپ کرواتے ہوے کہا ۔۔۔
وہ کب سے ملنے آی تھی ۔۔
صبح سے رات ہو چکی تھی لیکن ارتضٰی ابھی گھر واپس نہیں آیا تھا ۔۔۔
اب تو سارے سیف ہاٶس جانے کو تیار کھڑے تھے ۔۔۔
لیکن آ۔۔
ماما کہو مجھے بیٹا مجھے خوشی ہے میرے بیٹے نے شادی کر لی ۔۔
راحیلہ بیگم نے ثانیہ کی بات کاٹتے ہوے کہا ۔۔۔
ماما ایسا کبھی نہیں ہوا وہ لیٹ گھر آے ہو ۔۔
پتہ نہیں کیسے آج لیٹ ہو گے ہے ۔۔
ثانیہ روتے ہوے راحیلہ بیگم کے گلے لگے بولی ۔۔
پریشان تو سب تھے ارتضٰی کہاں چلا گیا ہے ۔۔
لیکن وہ ثانیہ کو پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے اس حالت میں ۔۔۔
آ جاے بھابھی گاڑی تیار ہے ۔۔
ہاشم نے اندر آتے کہا ۔۔
لیکن و۔۔۔
چلو بیٹا ارتضٰی بھی آ جاے گا ۔۔۔
راحیلہ بیگم زبردستی اسے ساتھ لے کر جاتی بولی ۔۔
افففف کہاں ڈھونڈو میں اس کو ڈی ایم کو پتہ چلا میرا قتل کر دے گا ۔۔۔
کہاں کہاں نہیں تلاش کیا ۔۔
اب کیا کرو میں ۔۔۔
ہاشم نے پریشان ہوتے اپنے ماتھے کا پسینہ صاف کرتے سوچا ۔۔۔۔
———————————————————–
کہاں جا رہی ہو بیٹا ۔۔۔
مختار صاحب جب پانی پینے باہر ہال میں آے تب محمل کو باہر جاتے دیکھ پوچھ لیا ۔۔۔۔
پاپا میں زرا مسکان سے مل لو آتی ہو ابھی ۔۔۔
محمل نے بہانہ بناتے ہوے جلدی سے کہا ۔۔۔
لیکن اس وقت رات کافی ہو رہی ہے ۔۔۔
مختار صاحب نے پریشان ہوتے پوچھا ۔۔۔۔
پاپا میں ابھی آ جاو گی ۔۔۔
محمل جلدی سے کہتی باہر چلی گی تھی ۔۔
————————————————————
میں سب کو بچا لو گی ۔۔۔
تم حیوان ہو اگر ہمارے ساتھ رہے تو ہم سب کو خطرہ رہے گا ۔۔
اچھی بات سے تمہیں سزا ملے اب ۔۔۔
محمل گاڑی میں بیٹھی بٹن کو دیکھتی سوچ رہی تھی ۔۔۔
وہی بٹن تھا جو اس کی شرٹ سے اتارا تھا اس نے ۔۔۔
———————————————————–
محمللللللللللللللل۔۔۔
یہ تم نے اچھا نہیں کیا ۔۔
میرے اندر کا جانور جاگا دیا ہے ۔۔۔
بہت شوق ہے نہ سب کو بچانے کا اب زرا خود بچ جاٶ میرے وار سے ۔۔۔
میری ڈرامہ کوئین۔۔۔
جیسٹ ویٹ اینڈ واچ سویٹ ہارٹ ۔۔۔
ڈی ایم نے غصہ سے چلاتے ہوے طنز کرتے کہا ۔۔۔
وہ دیکھ چکا تھا ۔۔
لیپ ٹاپ سے محمل کیا کچھ کر رہی ہے ۔۔۔
ڈی ایم نے غصہ سے پورے روم کا نقشہ بگاڑ دیا تھا ۔۔۔
ہر جگہ شیشہ ہی شیشہ ٹوٹا پڑا تھا ۔۔۔۔
