Dadhkan By Rania Mehar Readelle50327 Dadhkan (Episode 16)
Rate this Novel
Dadhkan (Episode 16)
Dadhkan By Rania Mehar
کیا خبر ملی ہے ۔۔۔
جو اتنا ضروری آنا پڑا ہمیں ۔۔۔
ڈی ایم نے اپنی سربراہی چیئر پر بیٹھتے ہوے رعب دار آواز سے پوچھا ۔۔۔
س۔سر۔وہ چندہ۔۔۔
کیا ہوا ہے میری چندہ کو مل گی کیا مجھے ابھی جانا ہے اس کے پاس جلدی بتاٶ ۔۔۔
ڈی ایم نے اپنی خاص بندے کی بات کاٹتے بے تابی سے پوچھا ۔۔۔
وہ سر ہمیں پتہ چلا ہے آپ کی چندہ کےکے
کے پاس نہیں ہے بلکہ ہمیں اطلاع ملی ہے وہ اسی دن گم ہو گی تھی ۔۔۔
کیسی کو نہیں پتہ کب چندہ کہاں اور کس کے پاس ہے ۔۔۔
ڈی ایم کے خاص آدمی نے سر جھکاتے ہوے تفصیل سے بتایا ۔۔۔
جبکہ ایچ ایم خاموش بیٹھا تھا ۔۔۔
سر آپ سن رہے ہے میری چندہ نہیں اس غلیظ انسان کے پاس اب میں نے جلدی سے اپنی چندہ کو ڈھونڈنا ہے ہر حال میں بس آپ مجھے اجازت دے ۔۔۔
ڈی ایم نے اپنے سر کے پاس جاتے بے تابی سے کہا ۔۔۔
سر جو کہ ابھی سپشل روم میں داخل ہوے تھے ۔۔۔
ایچ ایم ہم نے جو پلان بنایا تھا وہ اب تم اور اےاے پورا کرو گے ۔۔۔
ڈی ایم کو دور رکھنا ہے اس سے ۔۔۔
سر نے ڈی ایم کی بات اگنور کرتے ایچ ایم کو مخاطب کرتے کہا ۔۔۔
لیکن سر وہ میں ۔۔۔
ایچ ایم نے ڈی ایم کو سرخ نیلی آنکھوں سے خود کو گھورتے دیکھ گھبراتے ہوے ادھوری بات چھوڑ دی ۔۔۔
لیکن کیا ۔۔۔
مسٹر ایچ ایم یہ کام نہیں ہوتا تو بتا دو ۔۔۔
سر نے سرد انداز سے کہا ۔۔۔
مسٹر تیمور شاہ یہ آپ اچھا نہیں کر رہے ۔۔۔
اب میں اپنی چندہ کو خود ڈھونڈ لو گا ۔۔۔
ڈی ایم نے غصہ سے اپنے دانت پیستے اپنے سر کو کہتا باہر نکل چکا تھا ۔۔۔۔
(اس لڑکی سے ڈی ایم سوری کرے کبھی نہیں ۔۔۔
اس لیے ڈیڈ مجھے اگنور کر رہے ہے ۔۔۔
میں اپنی حقیقت سے بھاگ نہیں سکتا اچھا ہے ناراض رہے مجھ سے تاکہ کبھی میرے پاس نہ آے ۔۔۔
ڈیڈ بھی ایسا شو کر رہے جیسے وہ لڑکی ان کے لیے زیادہ ضروری ہے ۔۔۔)
روم سے باہر آتے ڈی ایم نے غصہ سے سوچا ۔۔۔۔
ایچ ایم بیٹا اسے سمجھا لو میرا بیٹا بڑا نادان ہے ۔۔
وہ نہیں جانتا کےکے کتنا خطرناک گنگسٹر ہے ۔۔۔
چندہ کو میں بچا نہ سکا لیکن میں اپنے بیٹے کو بھی کھونا نہیں چاہتا ۔۔۔
تیمور صاحب نے بے بسی سے ایچ ایم کے سامنے کہا ۔۔۔
فکر نہ کرے سر سب ٹھیک ہو جاے گا ۔۔۔
ایچ ایم نے تسلی دیتے کہا ۔۔۔
————————————————————
آپ تو بڑی پیاری ہے بھابھی ۔۔۔
ثانیہ نے محمل کا حیسن چہرہ دیکھتے مرغوب ہوتے کہا ۔۔۔
ہاہہاہاہا آپ بھی بہت پیاری ہو ۔۔۔
محمل نے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔۔
اچھا بھابھی آپ ارتضٰی بھای کو کیسے ملی ۔۔۔
محمل نے مسکراتے ہوے پوچھا ۔۔۔
جبکہ ثانیہ کے چہرے پر سایہ لہرایا تھا ۔۔۔۔
وہ دیکھو جلاد آ گیا ہے ۔۔۔
ارتضٰی نے محمل کا دھیان داٶد کی طرف کروایا ۔۔۔
جس میں کامیاب بھی ہوا ۔۔۔
ثانیہ ریلکس کیسی کو کچھ نہیں پتہ ۔۔۔
ارتضٰی نے سرگوشی سے تسلی دیتے کہا ۔۔۔
آ گیا مسٹر کھڑوس شکل ایسی ہوئ ہے جیسے ابھی میرا قتل کر دے گا ۔۔۔
محمل نے سامنے سے آتے داٶد کو گھورتے دیکھتے دل میں کہا ۔۔۔
جو اب ہاشم کے ساتھ اندر داخل ہو رہا تھا ۔۔۔۔
مسکان نہیں آی کیا ۔۔۔
ہاشم نے محمل سے ملتے ہوے پوچھا ۔۔۔۔
نہیں ابھی تو نہیں آی ۔۔۔
محمل نے جواب دیا ۔۔۔
ہمممم اچھا میں دیکھتا ہو ۔۔۔
ہاشم یہ کہتا باہر واپس چلا گیا ۔۔۔
جبکہ داٶد غصہ سے روم میں چلا گیا تھا ۔۔۔
————————————————————
تم یہاں کیا کر رہی ہو اگر طیبعت نہیں ٹھیک تو چلتے ہے ۔۔
ہاشم نے باہر آتے مسکان کو ڈھونڈتا ہوا پول کے پاس آتے پوچھا ۔۔۔
مسکان جو پول کے پاس بیٹھی ٹھنڈی ہوا لے رہی تھی ۔۔۔
لگتا طیبعت نہیں ٹھیک آنکھیں بھی ریڈ ہوی ہے ۔۔۔۔
ہاشم نے خودی مسکان کے پاس بیٹھتے فکر مندی سے کہا ۔۔۔
نہیں ٹھیک چلو اندر چلتے ہے ۔۔۔
مسکان نے ٹائپ کرتے اٹھ کھڑی ہوی ۔۔۔
————————————————————
مسکان اندر آتے حیران رہ گی سامنے محمل کو ہنستا مسکراتے دیکھ کر۔۔
۔۔بھاگ کر محمل کے گلے لگی ۔۔۔
مسکان میری جان میری دوست کیسی ہو ۔۔۔
اچانک اپنے گلے لگی مسکان کو دیکھ محمل نے حیران ہوتے پکارہ ۔۔۔
دونوں ہی ایک دوسرے کے گلے لگی پھوٹ پھوٹ کر دو دی ۔۔۔۔
دونوں کے پاس بولنے کے لیے کوئ الفاظ نہیں تھے ۔۔۔۔
اچھا بس کرو کیسے لڑکیاں رو لیتی ہے ۔۔
میری بیوی بھی سیڈ ہو رہی ہے ۔۔۔
کیا سیلاب لانے کا ارادہ ہے تم دونوں کا ۔۔۔
ارتضٰی نے مذاق کرتے کہا ۔۔۔
جبکہ ثانیہ پھٹی آنکھوں سے اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
وہ کب سیڈ ہوی تھی ۔۔۔
ہاہاہاہہا بھای آپ بھی ویسے میں نے نوٹ کیا ہے جب مسٹر کھڑوس سامنے ہو آپ نہیں بولتے وجہ ۔۔۔
محمل
ہنستے ہوے ارتضٰی پر طنز کرتے کہا ۔۔۔۔
ہاے بھابھی آپ چاہتی ہے میں چلا جاٶ یہاں سے اس جلاد کے سامنے بول کر میں اپنی شامت نہیں لانا چاہتا ثانیہ کے سامنے سمجھا کرے نہ ۔۔۔
ارتضٰی نے سرگوشی کرتے کہا ۔۔۔
جبکہ اس کی سرگوشی سن کر سب کے قہقے گونج اٹھے تھے ۔۔۔
مسکان ہاشم ارتضٰی ثانیہ محمل سب باتیں باتیں کرنے میں مصروف ہو چکے تھے ۔۔۔
جبکہ تیمور صاحب انٹر ہوتے بچوں کے پاس آے ۔۔۔
————————————————————
ارے واہ آج تو کافی رونق لگی ہے ہمارے گھر ۔۔
تیمور صاحب سب سے خوشی سے ملتے کہا ۔۔۔
مسکان تیمور صاحب سے ملنے کے بعد سوچ میں پڑ گی تھی کہاں دیکھا ہے انہیں ۔۔۔
ایک منٹ کے لیے وہ بھی حیران ہوے تھے مسکان کو دیکھ کر ۔۔۔
جو ہو بہو داٶد جیسی دیکھتی تھی۔۔۔
فرق صرف اتنا تھا مسکان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔۔
جبکہ داٶد کے چہرے پر سنجیدگی طاری رہتی تھی ۔۔۔
انکل آپ کو کہئ دیکھا ہے سمجھ نہیں آ رہا کہاں۔۔۔
مسکان نے جلدی سے ٹائپ کرتے پوچھا ۔۔۔
ہاہاہاا بیٹا دیکھا تو میں بھی ہے لیکن یاد نہیں آ رہا تم سب انجواۓ کرو پھر ملاقات ہوتی ہے ۔۔۔۔
تیمور صاحب نے ہنستے ہوے کہتے باہر فون سننے چلے گے تھے ۔۔۔
جو کہ کب سے بج رہا تھا ۔۔
———————————————————–
یہ دیکھو مسکان ارتضٰی بھای کیسے خاموش بیٹھے ہے۔۔۔
محمل مسکان ثانیہ تینوں ایک جگہ بیٹھی تھی ۔۔۔
جبکہ ہاشم ارتضٰی داٶد ایک جگہ بیٹھے کوئ بات کر رہے تھے ۔۔۔
ارتضٰی کی شکل رونے والی ہوی تھی جو داٶد اس کی جان نہیں چھوڑ رہا تھا ۔۔۔
ابے یار بس کر یہ میرا سر گھوم گیا ۔۔
کبھی فری بھی رہ لیا کرو ۔۔۔
شادی شدہ ہو چکے تینوں بجاۓ یہ کہ ہم اپنی بیوی کو ٹائم دے ہم یہاں کام کر رہے ہے ۔۔۔
ارتضٰی نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔۔
جبکہ اب وہ پھس چکا تھا داٶد کو چھڑ کر ۔۔۔
کیوں ایسے کرتے ہو دفعہ ہو جاتے بھابھی کے پاس ۔۔۔
ہاشم نے سرگوشی کرتے کہا ارتضٰی کو ۔۔۔
اب پھس چکا ہو نہ اس شیر سے بچا لے دیکھ میری عزت کا سوال ہے ۔۔۔
ارتضٰی نے منت کرتے ہاشم سے کہا ۔۔۔۔
جبکہ داٶد اپنے جوتے اتارنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔
چھوڑ یار صیح کہہ رہا جانے دے اسے ہم کام کی بات کل کر لے گے ۔۔۔
ہاشم نے ہی گھبراتے ہوے داٶد کو روکتے کہا ۔۔۔
جو بس جوتا مارنے والا تھا ۔۔۔
جاٶ دفع ہو جاٶ دونوں۔۔
داٶد نے دانت پیستے ہوے غرا کر کہا ۔۔۔
ہاے تو کتنا اچھا ہے ۔۔
بس جلاد نہ بنا کر ایسے اچھا لگتا ہے ۔۔۔
ارتضٰی نے جوش سے کہتے کس کرتے داٶد سے کہا ۔۔۔
کیسے کیوں دیکھ رہا کس کی ہے کبھی ہنس بھی لیا کر۔۔۔
ارتضٰی نے خود کو گھورتے داٶد کو دیکھتے دانت نکالتے کہا ۔۔۔
اچھا میں جا رہا کوئ پتہ نہیں یہ جلاد کب میری عزت اتار دے ۔۔۔
ارتضٰی یہ کہتا بھاگ چکا تھا ۔۔۔۔
ہاہاہا داٶد تمہارا بچہ بگڑ رہا ہے ۔۔۔
ہاشم نے ہنستے ہوے طنز کیا ۔۔۔
تو آ میں تمہیں صیح کر دو ۔۔۔
داٶد نے بیزار ہوتے ہاشم کو پکڑتے ہوے کہا ۔۔
چل ہٹ یہاں سے واقعی تو جلاد ہے ۔۔۔
ہاشم بھی اپنی جان بچاتا کہتا بھاگ چکا تھا۔۔۔۔۔
————————————————————
یہ کون ہے محمل۔۔۔
مسکان جو کب سے سامنے بیٹھے داٶد کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جس نے ایک دفعہ بھی مسکان کی طرف نہیں دیکھا تھا بلکہ فون میں بزی تھا ۔۔۔
یہ کھڑوس شوہر ہے میرا بولتا نہیں ہے اتنا جیسے پیسے لگتے ہے اس کے ۔۔۔
محمل نے سامنے داٶد کو دیکھتے مسکان کو منہ بناتے کہا ۔۔۔۔
نہیں پیارا ہے تمہارا شوہر جیسے ہیرو ہو کسی ناول کا ۔۔۔
مسکان بھی داٶد کی رعب دار پرسلنٹی دیکھ کر مرغوب ہوتی ٹائپ کیا ۔۔۔۔
ہاں پیارا ہے تم نے بات نہیں کی اس شخص سے ایک بات کرو آگے سے سڑا ہوا جواب دیتا ہے یہ ہاے میری قیسمت ۔۔۔
محمل نے جان بوجھ کر اپنا دکھ سنایا ۔۔۔
بکواس کم کیا کر اتنا پیارا انسان ہے کوئ بھی فدا ہو سکتی ہے
مسکان نے پھر ٹائپ کرتے کہا ۔۔۔۔۔
جبکہ ہاشم بھی کب سے دیکھ رہا تھا مسکان داٶد کو مسلسل دیکھ رہی تھی ۔۔۔
دوست ہے میرا وہ ایسا شخص نہیں ہے بار بار اسے دیکھ رہی ہو ۔۔۔
اسے پتہ چل گیا نہ تو میری جان لے گا کہ کیسی بیوی ہے تمہاری ۔۔۔
یہی سوچ لو محمل کا شوہر ہے ۔۔۔
کیوں ایسے دیکھ رہی ہو اسے ۔۔۔
کم از کم یہاں تو ایسے کام مت کرو ۔۔۔
اس سے پہلے محمل کچھ کہتی جب ہاشم نے مسکان کے قریب آتے دانت پیستے سرگوشی سے کہا ۔۔۔
ہاشم کی بات سن کر مسکان پر کوئ اثر نہیں ہوا تھا بلکہ اب وہ جان بوجھ کر داٶد کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
ہاشم یار لگتا بھابھی کو جلاد پسند آ گیا ہے۔۔۔
تم کیا کرو گے ۔۔۔
ارتضٰی بھی دیکھ چکا تھا تبھی مذاق کرتے بولا ۔۔۔
شٹ اپ ارتضٰی تو چاہتا ہے میں یہی تمہیں مارنا شروع کر دو ۔۔۔
ہاشم نے اپنا غصہ ارتضٰی پر اتارا ۔۔۔
وہ تو بس مذاق کر رہا تھا ۔۔۔۔
اب چپ ہو گیا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
داٶد جو اپنے آپ پر مسلسل کسی کی نظروں کو محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔
جب اچانک نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ دنگ رہ گیا تھا ۔۔۔
سامنے مسکان کو دیکھ کر جو خود اسے دیکھنے میں مصروف تھی ۔۔۔
داٶد کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی کاربن کاپی ہو وہ بلکل ویسی ہی بس مسلسل مسکراہٹ سے وہ داٶد کو مہیوت ہوتی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
تم بچہ یہاں آو میرے پاس ۔۔
داٶد سے جب رہا نہ گیا تو خود مسکان کو اپنے پاس بلایا ۔۔۔۔
دوسری طرف سب ہکابکا رہ چکے تھے ۔۔۔
ثانیہ مجھے مکا مارو مجھے لگ رہا میں خواب دیکھ رہا ہو ۔۔۔
اس جلاد نے محمل بھابھی ک بلانا تھا یہ پاگل ہاشم کی بیوی کو پاس بلا رہا ہے ۔۔۔۔
ارتضٰی نے گھبراتے ہوے ثانیہ کو کہا ۔۔۔۔
جبکہ ثانیہ سکتے کی حالت میں تھی ۔۔۔
اگر یہ شخص بولا تھا اتنی دیر سے اب تو بس یہ الفاظ ۔۔۔
مسکان آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی داٶد کے پاس جا رہی تھی ۔۔۔۔
تمہاری بیوی گی پکا اب کوئ نہیں بچا سکتا ۔۔
پکا مرے گی جلاد کے ہاتھ سے ۔۔۔
۔
ارتضٰی سے جب پھر نہ رہا گیا مجبور ہوتا ہاشم کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔
ہاشم خود سوچ رہا تھا ہونے کیا والا ہے ۔۔۔۔
یہاں بیٹھو بچہ کیا ہوا طیبعت ٹھیک نہیں لگ رہی ڈاکٹر کو بلاٶ میں ۔۔۔
داٶد نے مسکان کو اپنے پاس بیٹھاتے پیار اور نرمی سے پوچھا ۔۔۔
مسکان ہکابکا دیکھ رہی تھی..
( اس کو کیسے پتہ چلا میری طیبعت نہیں ٹھیک ہاۓ کتنا پیارا شوہر ہے محمل کا اتنا خوبصورت اففففف)…
مسکان داٶد کی طرف دیکھتی سوچ رہی تھی ۔۔۔
بولو بچہ میں ف۔۔۔۔
کیا بچہ بچہ لگائ ہے ۔۔۔
جلاد میں تمہارا بچہ ہو ویسے بھی اپنی ایج کی لڑکی کو بچہ کہہ رہے ہو ۔۔۔
داٶد کی بات کاٹتے ارتضٰی نے جلتے ہوے کہا ۔۔۔
وہ کیسے برداشت کر لیتا کہ داٶد کا اس کے علاوہ بھی کوئ بچہ ہے ۔۔۔۔
داٶد نے بس ایک ناگوار گھوری سے نوازا ۔۔۔
کون ہے یہ لڑکی بول کیوں نہیں رہی ۔۔۔
داٶد نے بے چینی سے محمل سے پوچھا ۔۔۔
جبکہ محمل نے فل اگنور کیا تھا اسے ۔۔۔۔
ہاشم تم بتاو ۔۔۔
داٶد نے اب زرا غصہ سے پوچھا ۔۔۔
ہاشم جو شوک کی حالت میں بیٹھا تھا ہوش میں آتا بولا ۔۔
بیوی ہے میری وہی کزن جس سے نکاح تم نے کروایا تھا اور۔۔۔۔
بس سن لیا بہت چپ کرو ۔۔۔
داٶد نے ہاشم کی بات کاٹتے مسکان کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔
پین تو نہیں ہوتا بچہ گلے میں یا کئ اور مجھے بتاٶ ۔۔۔
داٶد کو خود سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کر رہا ہے ۔۔۔
مسکان نے آنسو چھپاتے نہ میں سر ہلایا ۔۔۔
اچھا تم ایسا کرو جب بھی تمہارا دل کرے یہاں اس پلیس آ سکتی ہو ۔۔۔
جہاں مرضی گھوم سکتی ہو ۔۔۔
میں اپنے گاڈرز کو کہہ دو گا تمہیں نہ روکے صیح ۔۔۔
داٶد نے پیار سے کہتے مسکان کے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
تبھی مسکان کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا ۔۔۔
کییییییییااااا لیکن ہیمں تو کبھی نہیں بلایا اپنے گھر یہ آج بھابھی نے بلا لیا ورنہ تم تو کسی کو یہاں آنے نہیں دیتے ۔۔۔۔
ارتضٰی کو اپنی زبان پر کنٹرول نہ ہو پایا تبھی چیختے بولا ۔۔۔
اسے میرے روم میں لے کر جاٶ محمل ۔۔۔
بچہ کچھ چاہے ہو تو بتانا ۔۔۔
داٶد نے ارتضٰی کی بات اگنور کرتے محمل اور مسکان دونوں کو مخاطب کرتے کہا ۔۔۔
محمل خود ناسمجھی سے داٶد کو گھورتی روم میں لے جا چکی تھی ۔۔۔۔
یہ کیا تھا داٶد ۔۔۔
ہاشم نے غصہ سے داٶد سے پوچھا ۔۔۔
مجھے خود نہیں پتہ جب بچہ کہے تب یہاں لے آنا اسے ہاشم منع مت کرنا اور ہو سکے تو خوش رکھو اسے۔۔۔۔
داٶد نے سختی سے کہتے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
چلو یہاں سے ثانیہ میرا تو دل ہی دکھی ہو گیا ہے ۔۔۔
جلاد کی بچی آ چکی ہے میرا یہاں کیا کام ۔۔۔
ارتضٰی نے ڈرامہ کرتے کہا ۔۔۔۔
یہاں آو میں بتاتا ہو تم کون ہو ۔۔۔۔
داٶد نے سنتے ہی واپس آتے زرا رعب سے کہا ۔۔۔
نہیں دور رہو میں جا رہا ہو ۔۔۔
ارتضٰی نے اتراتے ہوے کہا ۔۔
چلو دفع ہو تم یہاں سے آئندہ میرے سامنے مت آنا ۔۔۔
داٶد نے سرد لہجے سے کہا ۔۔۔
ہاں جا رہا ہو میں یہاں سے ۔۔۔
ارتضٰی نے روٹھے پن سے کہتے ثانیہ کو لیے چلا گیا تھا ۔۔۔۔
ابے یار وہ چلا گیا ۔۔۔۔
ہاشم نے بے تابی سے کہا ۔۔۔
ڈرامہ ہے سارا اس کا تبھی بھاگ گیا جانتا تھا یہاں ایک منٹ اور روکتا میں نے کیسی حالت کرنی تھی اس کی ۔۔۔
داٶد نے پر سکون سا جواب دیا ۔۔۔
جبکہ ہاشم حیران تھا یہ بندہ کیا چیز ہے جو سب کو جانتا ہے سب کی فکر اگر فکر نہیں ہے تو اپنی ۔۔۔۔
—————————————————–
شکر ہے جان چھوٹ گی میری ورنہ وہ جلاد مجھے نہیں چھوڑتا ۔۔۔
رات کو ارتضٰی روم میں انٹر ہوتا خوش ہو کر بولا ۔۔۔
آپ بہت اچھے ہے سچی جیسے آج مجھے سب نے عزت دی ہے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا ۔۔۔
ثانیہ نے ارتضٰی کو بیک ہگ کیے خوشی سے کہا ۔۔۔۔
ارتضٰی نے جب اپنے سینے پر نرم ہاتھوں کا لمس محسوس کیا تب چونک گیا ۔۔۔
خیریت بیوی آج اپنے شوہر پر پیار آ رہا ہے ۔۔۔
ارتضٰی نے خوش ہوتے ثانیہ کو اپنے سامنے لاتے کہا ۔۔۔
وہ جانتا تھا ثانیہ کیوں خوش تھی ۔۔
سب نے اسے اچھے سے اور عزت سے بلایا تھا ۔۔۔
ہاے میں معصوم شوہر میری عزت لوٹ رہی ہے میری بیوی ۔۔۔
ارتضٰی نے مذاق کرتے ثانیہ کو گلے لگاتے ہوے کہا ۔۔۔
پیچھے ہٹے آپ میں بات ہی نہیں کرتی ۔۔۔
ثانیہ نے شرماتے ہوے ارتضٰی کو دور کیا ۔۔۔
ہاہاہا چلو آو سو جاٶ ورنہ پھر مجھے سے ہی کہو گی آپ نے مجھے سونے نہیں دیا ۔۔۔
ارتضٰی نے ہنستے ہوے ثانیہ کی نقل اتاری ۔۔۔۔
———————————————————–
صبح کی کرنیں کھڑیوں سے اندر داخل ہوتی بیڈ پر سوئ ثانیہ کے چہرے پر پڑ رہی تھی ۔۔
ثانیہ جو ارتضٰی کے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی ۔سورج کی کرنیوں کی وجہ سے آنکھیں کھولی ۔۔
اف میں اتنی دیر سو گئ ۔
ثانیہ نے اپنے بالوں کا جوڑا بناتے گھڑی کی طرف ٹائم دیکھ کر کہا ۔۔
ثانیہ نے ارتضٰی کی طرف دیکھا جو معصوم سی شکل کے ساتھ سورہا تھا ۔۔
“اف کتنے پیارے لگ رہے ہے سوتے ہوۓ ویسے تو ہر وقت شرارت میں رہتے ہے ۔
ثانیہ نے شرماتے ہوۓ محبت سے ارتضٰی کے ماتھے پر کس کرتے کہا ۔۔۔
دیکھا میں نے کہا تھا معصوم شوہر کی عزت لوٹی جا رہی ہے ۔۔۔
ہاے دوبارہ کرو میں اب جاگ رہا ہو ۔۔۔
ارتضٰی نے ثانیہ کو اپنے گرفت میں لیتے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔
آپ بھی نہ چھوڑے مجھے ۔۔
ثانیہ نے شرماتے ہوے کہا ۔۔۔
چلو چھوڑ دیا تمہیں کیا یاد کرو گی اتنا پیارا شوہر ملا ہے ۔۔۔
ارتضٰی نے ثانیہ پر رحم کرتے کہا ۔۔۔
شکریہ آپ بہت اچھے ہے ۔۔۔
ثانیہ نے خوش ہوتے گال پر کس کرتے بھاگ چکی تھی ۔۔
اور اٹھ کر بھاگتی واش روم فریش ہونے چلی گئ ۔۔۔
————————————————————
تمہارے چہرے پر مکھن لگا ہے ۔۔۔
ارتضٰی ثانیہ ناشتہ کر رہے تھے جب ارتضٰی نے ثانیہ کے لبوں پر مکھن لگے دیکھ کر کہا ۔۔۔
کہاں لگا ہے میں ابھی منہ دھو کر آی ۔۔
ثانیہ نے جلدی سے کرسی سے اٹھتے ہوے کہا ۔۔۔
لو میں صاف کرتا ہو ۔۔۔
ارتضٰی نے کچھ سوچتے ہوے آفر کی ۔۔
آپ کیسے کرے گے میں۔۔۔
اس سے پہلے ثانیہ اٹھ کر جاتی ارتضٰی نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتے اس کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا ۔۔۔۔
ثانیہ آنکھیں بند کیے ارتضٰی کا لمس محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
کافی دیر خود کو سیراب کرتے ارتضٰی نے نرمی سے ثانیہ کے لبوں کو چھوڑا ۔۔۔
اب صاف ہے ۔۔۔
ارتضٰی نے ثانیہ کے لبوں پر انگوٹھا پھیرتے ہوے کہا ۔۔۔۔
بہت برے ہے آپ ۔۔
ثانیہ نے شرماتے ہوے ارتضٰی کے سینے پر سر رکھتے کہا ۔۔۔۔
ہاہاہاہا بیوی کچن ہے یہ ۔۔۔
ارتضٰی نے ہنستے ہوے تنگ کرتے کہا ۔۔۔
———————————————————–
ثانیہ یہاں آو ۔۔
ایک ضروری بات کرنی تھی اگر تم برا نہ مان جاٶ ۔۔۔
ثانیہ شیشے کے پاس کھڑی بال بنا رہی تھی جب ارتضٰی نے اسے پاس بلایا ۔۔۔۔
جی پوچھے ۔۔۔۔
ثانیہ نے پاس آتے نرمی سے کہا ۔۔۔
غلط مت سوچنا پلیز مجھے یقین ہے تم پر بس جانا چاہتا ہو تم کوٹھے کیسے آی وہاں کیا جانتی نہیں تھی وہ جگہ کیسی ہے ۔۔۔
ارتضٰی نے سوچتے سوچتے بولا ۔۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا ثانیہ اسے غلط سمجھے ۔۔۔
میں وہاں کیسے آی اگر یہ سوچتی ہو تو رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہے۔۔۔
ثانیہ نے خوفزدا ہوتے کہا ۔۔۔
تم رہنے دو ت۔۔
نہیں شوہر ہے آپ کو پتہ ہونا چاہے میں نہیں چاہتی کہ اپنی زندگی کی شروعات کرو تو کیسی جھوٹ سے نہ کرو ۔۔۔
ثانیہ نے ارتضٰی کے سینے پر سر رکھتے کہا ۔۔۔۔
————————————————————
میں نے جب ہوش سنبھلا تو محسوس ہوا میں ایک یتیم خانے میں رہتی ہو۔۔۔
پتہ نہیں کس کی بیٹی تھی یا میرا کوئ بہن بھای بھی ہو گا یا نہیں۔۔۔
یا کیسی کا گناہ ہو ۔۔
کچھ پتہ نہیں ۔۔
بچپن سے لڑکپن ایسے ہی یتیم ہو کر گزاری ۔۔۔
اکثر سوچتی تھی میرے لیے شہزادہ آے گا ۔۔۔
لیکن جب یہ سوچتی مجھے جیسی یتیم سے کون شادی کرے گا ۔۔۔
انٹر کیا تو پتہ چلا یہ دنیا بھیڑے سے بھری پڑی ہے ۔۔۔
جس کالج جایا کرتی تھی وہاں ایک آدمی تنگ کیا کرتا تھا ۔۔۔
میں واپس آ کر بہت روتی تھی کوئ تو اپنا ہوتا کوئ ایک رشتہ ہوتا میرے پاس لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔
مجھے ڈر لگنے لگا تھا میں نے اپنی اسٹڈی چھوڑ دی ۔۔۔
کہ نہ باہر جاٶ نہ ہی کوئ مجھے غلیظ نظروں سے دیکھے ۔۔۔۔
ششششش
خاموش میری جان رونا نہیں۔۔۔
یہی بات ختم کر دو اب ہم کبھی کوئ بات نہیں کرے گے ۔۔۔
ارتضٰی نے اپنی سرخ ہیزل براٶن آنکھوں
جو کہ ضبط کرنے کی وجہ سے ہوئ تھی ۔۔۔
جو کہ ثانیہ کی باتیں سن کر سرخ آنکھیں ہوی تھی ۔۔۔
ثانیہ کو چپ کروایا ۔۔۔
جو بتاتے ہوے رو رہی تھی ۔۔۔
نہیں مجھے بتانے دے ۔۔۔
ثانیہ نے ہمت جمع کرتے کہا ۔۔۔۔
میرا شوق بھی تھا آگے پڑھنے کا لیکن ڈر کی وجہ سے میں باہر نہیں جاتی تھی ۔۔۔
ایک دن ایک عورت مجھے کہتی کہ وہ مجھے ایک ایسی جگہ بھیج دے گی جہاں مجھے سب کچھ ملے گا۔۔۔۔
میں اپنی ہر خواہش پوری کر سکو گی ۔۔۔
پڑھ بھی سکو گی کوئ مجھے ایسی نظروں سے نہیں دیکھے گا ۔۔۔
بلکہ وہاں میں محفوظ رہو گی ۔۔۔۔
مجھے کیا چاہے تھا میں فورًا مان گی ۔۔
یہ سوچ کر کہ یہاں سے جان چھوٹ جاے گی ۔۔۔۔
مجھے نہیں پتہ میں وہاں اس کوٹھے کیسے گی ۔۔۔
اتنا پتہ یتیم خانے کے باہر جانے سے پہلے اس عورت نے جوس پلایا تھا مجھے ۔۔۔۔
————————————————————
وہاں جا کر مجھے پتہ چلا وہ کوٹھا تھا ۔۔۔
بہت روی اپنی قیسمت پر کہ کیا ی
میں اتنی بری تھی جو یہاں ایسی غلیظ جگہ آ گی میں ۔۔۔
بہت منت کی سب کی کہ وہ کام نہیں کرنا جس کے لے لائ گی ہو میں ۔۔
لیکن نہیں کیسی نے نہیں سنی میری ۔۔۔
ایک دفعہ ایک آدمی کے کمرے میں مجھے بھیج دیا ۔۔۔
وہ تو میرے اللہٌ نے میری عزت بچا دی ورنہ
میں کیا کرتی ۔۔۔
خیر دو ماہ میں اپنے آپ کو بچاتی رہی ۔۔۔
بچانے کے چکر میں مار بھی بہت کھائ ۔۔۔
پر ایک بات سوچ لی تھی میری عزت کو کچھ ہوا تو پہلے جان خود کی لے لو گی میں ۔۔۔
وہاں کچھ لڑکیوں سے ڈی ایم نام کے لڑکے کا ذکر سنا تھا ۔۔۔
کہ وہ سب لڑکیوں کی عزت بچاتا ہے ۔۔۔
ڈی ایم کا ذکر سن سن کر میں اپنے اللہٌ سے دعا کرنے لگ گی تھی کہ یا اللہٌ مجھے بھی ڈی ایم بچا کر لے جاے ۔۔۔
سارا دن یہی سوچتے گزر جاتا اب ڈی ایم آے گا لیکن ایسا نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔
پھر سوچتی تھی میں تو یتیم ہو کون میری حفاظت کرے گا سواۓ اللہٌ کے ۔۔۔
لیکن دل میں ایک خواہش ہوتی تھی ۔۔
ڈی ایم کو دیکھ سکو مل سکو اس سے کہو کہ مجھے نہ سہی باقی لڑکیوں کو بچا لے ۔۔۔
پر ایسا نہیں ہوتا ۔۔۔
پھر آپ آے ارتضٰی میری زندگی میں ۔۔۔
ثانیہ نے ارتضٰی کا چہرہ ہاتھوں میں لیتے کہا ۔۔۔
جبکہ ارتضٰی غصہ میں بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کیوں اس نے ثانیہ سے پوچھا جو اب روتے ہوے بتا رہی تھی ۔۔۔
اس رات جب آپ مجھے کمرے میں لے کر گے میں ڈر گی تھی کہ واقعی آج میں بچ نہیں پاٶ گی ۔۔۔
جب میرے کپڑے آپ نے پھاڑے تھے مجھے اپنی جان جاتی محسوس ہوئ ۔۔۔۔
لیکن حیران تب زیادہ ہوئ جب آپ بیڈ پر جا کر لیٹ چکے تھے ۔۔۔
وہ شراب جیسے میں شراب سمجھ رہی تھی وہ اپیل جوس تھا ۔۔۔۔
ساری رات آپ بیڈ پر سوۓ رہے اور میں ڈر کے مارے دور بیٹھی رہی ڈرتی رہی کہ آپ مجھے کچھ کر نہ دے ۔۔۔
اگلے دن جب آپ نے سب کے سامنے یہ کہا آپ مجھے سے نکاح کرنا چاہتے ہے ۔۔۔
مجھے لگا آپ مجھے سے بدلہ لینے کے لیے کر رہے ہے ۔۔۔
شادی کے بعد مجھ پر ظلم کرے گے ۔۔۔
مجھے ہر روز کہا کرے گے میں کوٹھے کی لڑکی ہو ۔۔۔
لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ جیسے کل سب کے سامنے میری عزت کروائ ہے سب سے اتنا پیار محبت میں نے کبھی محسوس نہیں کیا ۔۔۔
شکریہ ارتضٰی آپ نے میری عزت بچای اپنا نام دیا مجھے ۔۔۔
میں بہت احسان مند ہو آپ کی ۔۔۔۔
ثانیہ نے بات ختم کرتے ارتضٰی کا شکریہ ادا کیا ۔۔۔۔۔
سوری میری جان مجھے نہیں تھا پتہ پکا وعدہ اب کبھی رونے نہیں دوگا تمہیں ۔۔۔
ارتضٰی نے ثانیہ کے ماتھے کو چومتے ہوے کہا ۔۔۔
چلو اب یہ بات ختم کرو تم ۔۔۔
ہم کبھی یہ ذکر نہیں کرے گے ۔۔۔
تم صرف ارتضٰی کی ہو ۔۔۔
میں چاہتا ہو یہ کچھ پل ہمارے اچھے گزرے ۔۔۔
تمہیں میں اپنے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہے ثانی ۔۔۔
مجھے دنیا میں پہلے صرف دو لوگ عزیز تھے ۔۔۔
ایک موم ایک میرا جلاد لیکن اب تم بھی مجھے ویسی کی عزیز ہو ۔۔۔۔
آج سے تم خوش رہا کرو گی میرے لیے نہ سہی اپنے لیے۔۔۔۔
چلو اٹھو تیار ہو جاٶ آج ہماری گولڈن نائٹ ہے ۔۔۔
میں نہیں چاہتا کہ کچھ بھی خراب ہو ۔۔۔۔
ارتضٰی نے تفصیل سے کہتے لاسٹ والی بات ثانیہ کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے کہی تھی ۔۔۔
جس میں کامیاب بھی ہوا تھا ۔۔۔
ثانیہ شرماتے ہو ارتضٰی کے گلے لگ چکی تھی ۔۔۔۔
بیوی پہلے تیار ہو جاٶ پھر گلے مل لینا ۔۔۔
ارتضٰی نے ثانیہ پر گرفت سخت کرتے تنگ کرتے کہا ۔۔۔۔
ثانیہ تو شرم کے مارے کچھ بول بھی نہ سکی ۔۔۔۔
————————————————————
ہاں بول جلاد کیوں فون کیا ۔۔۔۔
کون سی اکڑ میں گھوم رہے ہو بھول گے ہو میں کون ہو ۔۔۔۔
داٶد کی رعب دار آواز سپیکر سے باہر آ رہی تھی ۔۔۔
اچھا پتہ چل گیا مجھے
میری بات سن اب ۔۔۔
ارتضٰی نے سنجیدہ ہوتے ساری ثانیہ والی بات بتا چکا تھا ۔۔۔۔
ہمممم میں دیکھ لو گا ۔۔۔
تم ایسا کرو گڑیا کو موم کے پاس لے جاٶ مائنڈ فریش ہو جاے گا ۔۔۔۔
موم کو سب کچھ بتا دیا ہے وہ خوش تھی ۔۔۔
باقی تم مل لینا ان سے ۔۔۔
داٶد نے راحیلہ بیگم کا ذکر محبت سے کرتے ارتضٰی کو سب کچھ بتا چکا تھا ۔۔۔۔
تم بہت اچھے ہو داٶد میرا کام کر دیتے ہو ۔۔۔
پتہ کتنا پریشان تھا ۔۔۔
موم کو کیا بتاٶ گا لیکن تم نے سب ٹھیک کر دیا ۔۔۔
لو یو یار سچی ۔۔۔
ارتضٰی نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔۔
بس بس بیوی نہیں ہو تیری جو ایسے واہیات الفاظ بو ل رہا ہے ۔۔۔
داٶد نے اکتاے ہوے لہجے میں کہا ۔۔۔
کبھی جو آرام سے بات کر لیا کرو ۔۔۔
کاٹ کھانے کو دوڑتے ہوے ہر کیسی کو ۔۔۔
یہاں سب کی بیویاں ڈی ایم کی فین نکل رہی ہے ۔۔۔
بھابھی کو بتاٶ گا جس شخص کی فین ہے وہ یہی جلاد ہے ۔۔۔۔
انہیں کنٹرول کرے سب کی بیویاں ڈی ایم پر مرتی ہے ۔۔۔
پھر پتہ چلے گا تمہیں بھابھی کیا حال کرتی ہے تمہارا ۔۔۔
ارتضٰی نے منہ بناتے جلتے ہوے کھری کھری سنائ ۔۔۔
بکواس کم کیا کرو کچھ زیادہ نے بگڑ گے تم ۔۔۔
داٶد نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔
فون بند کر تیری بیوی تجھے منہ نہیں لگاتی ان کا غصہ ہم پر اتار رہا ہے ۔۔۔۔
میری بیوی میرا انتظار کر رہی ہے ۔۔۔۔
ارتضٰی کے منہ میں آیا وہ بول گیا تھا ۔۔۔
جبکہ داٶد فون بند کر چکا تھا ۔۔۔
ہاے ارتضٰی کے بچے کیوں بار بار شیر کو چھڑ لیتا ہے ۔۔۔
اب کون مجھے معصوم کو اس شیر سے بچاے گا ۔۔۔
ارتضٰی نے فون کو گھورتے افسوس سے سوچا ۔۔۔۔
———————————————————–
ہاے یہ میرا روم ہے ۔۔۔
ارتضٰی نے روم میں شوخ لہجے سے کہا ۔۔۔
جبکہ پورے روم کو سرخ گلابوں سے خود سجا چکا تھا ۔۔۔
سامنے ہی بیڈ پر دلہن بنی ثانیہ نروس سی بیٹھی تھی ۔۔۔
سرخ لہنگے میں ملبوس ہلکے میک اپ میں تیاری بیٹھی ثانیہ ارتضٰی کو پری لگی ۔۔۔
السلام و علیکم
ارتضٰی نے ثانیہ کے پاس بھٹتے ہوے اسلام کیا ۔۔
وعلیکم السلام ثانیہ نے ہاتھوں کو آپس میں مسلتے ہوے جواب دیا ۔۔۔
ارتضٰی نے اس کے نرم ملائم سفید ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر دبایا ۔۔
کیا ہو گیا ہے جان ریلکس رہو ۔۔۔
ارتضٰی نے ثانیہ کے ہاتھوں کو سہلاتے ہوے کہا ۔۔۔
ثانیہ نروس سی خاموش بیٹھی رہی ۔۔
تمھارا منہ دکھای کا گفٹ ۔
ارتضٰی نے ثانیہ کو گولڈ کا برسیلٹ دیتے کہا۔۔
دیکھو ثانیہ میں زبردستی کا قائل نہیں ہو ۔۔۔
جب تم دلی رضامندی سے راضی ہو گی تب ہی تمہارے قریب آو گا ۔۔۔
ہم میاں بیوی سے پہلے اچھے دوست بن سکتے ہے ۔۔۔
ارتضٰی نے ثانیہ کو برسیلٹ پہنتے ہوے تحمل سے سمجھایا ۔۔۔
لیکن آپ کی موم ۔۔۔
موم کوئ اعتراض نہیں ہے انہیں سب کچھ داٶد بتا چکا ہے ۔۔۔۔
تم بے فکر رہو ۔۔
تمہاری حفاظت کرنا میری زمہ داری ہے ۔۔۔
ارتضٰی نے سکون سے جواب دیا ۔۔۔
کہاں جا رہے ہے ۔۔۔
ثانیہ نے اپنے پاس سے جاتے ارتضٰی کا ہاتھ پکڑتے روکتے ہوے کہا ۔۔۔
جو وہاں بیڈ سے اٹھ رہا تھا ۔۔۔
اتنی پیاری لگ رہی ہو اگر کوئ گستاخی ہو گی تم مجھے بولو گی ۔۔۔
اور میں نہیں چاہتا تمہارے ساتھ کچھ غلط کرو ۔۔۔
ارتضٰی نے ثانیہ کا گال چھوتے بہکے ہوۓ انداز سے کہا ۔۔۔
میں آپ کو روک نہیں رہی بس اپنے اللہٌ اور آپ کو ناراض نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔
شوہر تو آپ کو میں نے تب ہی مان لیا تھا جب ہمارا نکاح ہوا تھا ۔۔۔۔
میں آپ کو اجازت دیتی ہو ۔۔۔
پہلے غیر محرم ہو کر آپ نے میرے ساتھ غلط نہیں کیا تھا اب پھر شوہر ہے محرم ہے میرے ۔۔۔
ثانیہ نے نظریں جھکاتے شرماتے ہوے کہا ۔۔۔
سچی ثانی ۔۔
ارتضٰی نے خوش ہوتے ثانیہ کا چہرہ ہاتھوں میں لیتے پوچھا ۔۔۔
جبکہ ثانیہ اپنی آنکھوں کو بند کر چکی تھی ۔۔۔
ارتضٰی نے اپنے لب ثانیہ کے لبوں پر رکھ چکا تھا ۔۔۔۔
جیسے جیسے رات گزر رہی تھی ویسے ہی ارتضٰی کی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا ۔۔۔
ثانیہ کو ارتضٰی کے ہر عمل اور چاہت دیکھ کر یقین آ گیا تھا۔۔۔
وہ اس سے کتنی محبت کرتا ہے۔۔۔۔
ثانیہ اپنے رب کا شکر ادا کر رہی تھی جس نے اسے اتنی محبت کرنے والا شوہر دیا ۔۔۔
