Dadhkan By Rania Mehar Readelle50327 Dadhkan (Episode 30) Last Episode
Rate this Novel
Dadhkan (Episode 30) Last Episode
Dadhkan By Rania Mehar
چلو بیٹا بولو ماما ۔۔۔
دادا(ڈیڈ)..
محمل دھڑکن کو اپنی گود میں بیھٹاۓ اسے ماما بولنا سکھا رہی تھی ۔۔
لیکن وہ مسلسل اپنے چھوٹے ہاتھوں کی تالیاں بجاتی ڈیڈ کہا رہی تھی ۔۔
پھر ڈیڈ مارو گی بولو ماما ۔۔۔
محمل دانت پیستی دوبارہ بولی ۔۔
دادا دادا دادا (ڈیڈ )…
دھڑکن چڑتی ہوئ داٶد کی طرح منہ بناتے ہوے بولی ۔۔۔
پکڑو اسے بے شرم ڈی ایم یہ میری بیٹی ہے ہی نہیں زرا جو ایک دفعہ ماما بولے یہ ۔۔۔
محمل مسلسل اس کی چلتی زبان دیکھتی اسے اٹھاے داٶد کی گود میں پھکتی ہوئ بولی ۔۔
جو لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا ۔۔
ارے ارے دھیان سے سویٹ ہارٹ بچی ہے میری ۔۔
داٶد مسکراتا ہوا ہوا بولا ۔۔
ہاں آپ کی بچی میری تو ہے نہیں سارا دن آپ کے ساتھ آفس جاتی ہے میں بور ہو جاتی اور جب اسے کہو میں ماما ہو تو بس اس کو ڈیڈ یاد رکھتے ہے ۔۔۔
میری کسی کو پرواہ نہیں ۔۔
محمل روٹھے پن سے بولی ۔۔
داٶد سارا دن دھڑکن کو اپنے ساتھ آفس لے جاتا تھا جہاں ہر کوئ اتنی سی ننھی بچی کے غصہ سے ڈرتا تھا ۔۔۔
وہ داٶد کی ہی کاربن کاپی تھی چہرے پر ہر وقت سنجیدگی اور غصہ رہتا ۔۔۔
ابھی بھی وہ داٶد کی گود میں بیھٹی محمل کو غصہ سے گھور رہی تھی ۔۔۔
افففف میری ڈرامہ کوئین تمہارا بے شرم ڈی ایم تو عشق کرتا ہے نہ دھڑکن ہو میری اور یہ ہم دونوں کی دھڑکن ہے ۔۔
کیوں جلیس ہوتی اپنی بیٹی سے ۔۔
داٶد محمل کو بھی اپنی گود میں بیھٹاتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔
جبکہ محمل شرم کے مارے منہ بھی نہ اٹھا پائ ۔۔
دادا میلا (ڈیڈ میرا )….
دھڑکن غصہ میں آتی محمل کے چہرے پر تپھڑ مارتی بولی ۔۔۔
دیکھا یہ جلیس ہوتی سنبھال لو اسے ہی ۔۔
محمل دھڑکن کے گال چومتی کہتی روٹھے پن سے روم سے چلی گی ۔۔۔
ہاہاہہاہہاہاہااا میرا پیارا بیٹا ماما ہے وہ چلو شاباش ماما بولو ۔۔
ممم(ماما )….
دھڑکن اپنے تینوں ڈمپل کی نمائش کرتی مسکرا کر بولی تھی ۔۔۔
بہت اچھا پھر ماما کے سامنے کیوں نہ کہا ۔۔
داٶد اس کے گال چومتا خوش ہوتا بولا ۔۔۔
میلا دادا(میرے ڈیڈ)…
دھڑکن منہ بناتی کہتی داٶد کے بال پکڑتے ہوے بولی ۔۔۔
ہاں میری جان میں دادا تمہارا ہاہاہاہہاہاا۔۔۔۔
داٶد اپنی ننھی سی جان کی حرکیتں دیکھتا ہنستے ہوے بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
افففففف ارتضٰی یہ میری بیٹی نہیں لگتی اتنی چالاک ہے کیا بتاٶ زرا جو سکون ہو اسے ۔۔۔
ثانیہ سودہ کو ارتضٰی کے پاس لاتی غصہ اور پریشانی سے بولی ۔۔۔
کیا کر دیا میری بیٹی نے اب ۔
ارتضٰی سودہ کے گال چومتا بولا جو مسکراتے ہوے اب ارتضٰی کے بال پکڑ رہی تھی ۔۔۔
یہ دیکھے یہ کیے اس نے میرے سارے بال کاٹ دے کوئ کہا سکتا ہے یہ سب اس ننھی بچی نے کیا ہو گا ۔۔۔
ثانیہ اپنے بال ارتضٰی کو دیکھاتے ہوے بولی جو بری حالت میں کاٹے گے تھے ۔۔۔
ثانیہ باتھ لے کر آتی بیڈ پر بیٹھ چکی تھی ۔۔۔
سودہ اپنے ٹوائز کے ساتھ کیھل رہی تھی جب اسےبیڈ پر قنیچی ملی وہی اپنے ننھے ہاتھوں میں لیتی اس کے بال کاٹ چکی تھی ۔۔۔
ارےےے واہ میری بیٹی کو بال کاٹنے آتے ہے چلو ماما کے اب پورے بال کاٹے ۔۔۔
ارتضٰی سودہ کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔
جو ایسے اترا کر دیکھ رہی تھی جیسے کوئ بڑا کام کر دیا ہو ۔۔۔
ارتضٰی آپ بھی جاے دونوں کم نہیں پہلے آپ تنگ کرتے تھے اب یہ آ گی ہے ۔۔۔
ثانیہ روٹھے پن سے بولی ۔۔
ارے جان مسلہ ہی نہیں چلو میں ٹھیک کرتا ہو ۔۔۔
ارتضٰی ثانیہ کو شیشے کے سامنے بیھٹاتے ہوے بولا ۔۔۔
گہرے کالے بال جو جیل سے سیٹ کیے گے تھے ۔۔
ہیزل براٶن آنکھیں جن میں ہر وقت شرارت رہتی تھی ۔۔۔
چہرے پر مسکراہٹ جو اس کی وجہہ لک کو اور زیادہ خوبصورت بناتا تھا ۔۔۔
ثانیہ مگن ہوتی ارتضٰی کے خوبصورت چہرے کو دیکھ رہی تھی جو اپنے دھیان سے اس کے بال ٹھیک سے کاٹ رہا تھا ۔۔۔
کیا ہو گا ایسے دیکھا جا رہا ہے ویسے تمہارا ہی ہو پاس آ کر دیکھ لو ۔۔۔
ارتضٰی اس کی طرف دیکھتا شرارت سے بولا ۔۔
ہاں تو میرے ہے میرا حق بنتا ہے ۔۔
ثانیہ ارتضٰی کے پاس جاتی اس کی گردن میں بازو حائل کرتی بولی ۔۔۔
ہاۓ خیر نہیں لگ۔۔۔
شکریہ آپ کا جو میری زندگی کو بہت خوبصورت بنایا مجھے اتنی پیاری بیٹی دی مجھے لائف ممکل ہوئ شکریہ میری جان ۔۔
ثانیہ ارتضٰی کی بات کاٹتی اس کے سینے پر سر رکھتے خوش ہوتی بولی ۔۔۔
میں اپنی جان کے لیے کچھ بھی کرتا جانتی ہو نہ دھڑکن ہو میری شکریہ تمہارا جو مجھے اتنی پیاری بیٹی دی ۔۔۔
ارتضٰی اس کا ماتھا چومتا عیقدت سے بولا ۔۔۔
م۔۔۔چٹاک چٹاک۔۔۔
اس سے پہلے ثانیہ کچھ بولتی جب سودہ نے بیڈ پر پڑا ارتضٰی کا لیپ ٹاپ اٹھا کر مارا ۔۔۔
ہاہاااہہاہااہاہاہاہاہاہہاہا ۔۔
واقعی یار یہ مجھ سے بھی زیازیادہ تیز ہے ۔۔۔
ارتضٰی سودہ کی حرکت دیکھتا ہنستا ہوا بولا ۔۔۔
جو اب معصوم سی شکل بناے ارتضٰی اور ثانیہ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
ارےےے یار یہ کیسے لڑکیوں کی طرح روتا ہے ۔۔۔
میری عزت کی لاج رکھ لے ۔۔۔
ہاشم ابراہئیم کو دیکھتا جنجھلا کر بولا ۔۔۔
سب ہال میں بیٹھے تھے ۔۔۔
محمل داٶد مسکان ہاشم ارتضٰی ثانیہ اصغری بیگم مختار صاحب راحیلہ بیگم سب سودہ ابراہئیم دھڑکن کی حرکتیں دیکھ رہے تھے ۔۔۔
دھڑکن اور سودہ ایک دوسرے سے لڑ رہی تھی فرش پر بیٹھی جبکہ ابراہئیم پاس بیٹھا ان کی لڑائ دیکھتا بھاں بھاں کرتے رو رہا تھا ۔۔۔
میلا دادا( میرا ڈیڈ )…
دھڑکن غصہ سے سودہ کے بال ہاتھوں میں پکڑتی بولی ۔۔
نہ میلا دالاد پاپا(نہ میرا جلاد پاپا)…
سودہ بھی اس کے بال پکڑتی شرارت سے بولی ۔۔
ہاےےے اللہٌیہ ہمارے بچے کس پر چلے گے ۔۔
وہ لڑکیاں ہو کر لڑ رہی اور یہ لڑکا ہو کر رو رہا ہے ۔۔۔
مسکان ہی تینوں کو اٹھاتی سب کو دیتی بیزار ہوتی بولی ۔۔۔
واقعی یار یہ ننھی پٹاکہ دیکھو زرا کیسے لڑتی ہے سب سے ۔۔۔
محمل دھڑکن کو پکڑتی مسکراتے ہوے بولی ۔۔
جو آدھی داٶد کی گود میں ٹانگیں رکھے بیٹھی تھی ۔۔۔
ہاہاہاہاہا ویسے جلاد مجھے بڑی خوشی تم دونوں کی اولاد ایسی ہے میری بیٹی دیکھ کتنی محبت کرتی مجھ سے
۔۔
ارتضٰی سودہ کو اپنی گود میں لیتا ہنستے ہوے بولا ۔۔
میلا دالاد پاپا(میرا جلاد پاپا )…
سودہ اس کی گود سے زبردستی نکلتی داٶد کی گود میں جاتی بولی ۔۔۔
ہاہااہاہاہاہہہہہہا ۔۔۔
مجھے بڑا مزہ آیا تیری بیٹی بھی جلاد کے پاس چلی گی ۔۔۔
ہاشم ہنستے ہوے مذاق کرتا بولا ۔۔۔
ممم جان(ماموں جان )…
ابراہئیم بھی داٶد کی ٹانگ پکڑتا روتا ہوا بولا ۔۔۔
ہاہاہاہااہا ویسے محمل ڈی ایم بھاہیٶ ہے بہت پیارے مجھے فخر ہے اپنے بھاہیٶ پر ۔۔۔
مسکان محمل کے گلے لگی خوش ہوتی بولی ۔۔
اب حالت یہ تھی داٶد کی بازو پر سودہ بیٹھی تھی ۔۔۔
اس کی ایک ٹانگ پر روتا ہوا ابراہیئم بیھٹا تھا ۔۔
اور مس دھڑکن داٶد کے شولڈر پر بیٹھی اسی کے بالوں سے کیھل رہی تھی ۔۔۔
جبکہ داٶد نروس ہوتا دیکھ رہا تھا کس کو ہنیڈل کرے ۔۔۔۔
ممم جان ۔۔۔۔بھاں بھاں ۔۔۔
میلا دالاد پاپا۔۔۔۔۔
نہیں میلا دادا ۔۔۔۔۔
بھاں بھاں ۔۔۔
آہہہہہہہہہہ۔۔۔۔
ہاہاہااہااہاہہاہا جلاد راضیہ غنڈوں میں پھس گی ۔۔۔
ہاشم ارتضٰی داٶد کی حالت دیکھتے ہنستے ہوے بولے تھے ۔۔۔۔
جس کی گود میدانِجنگ بنی ہوئ تھی ۔۔۔
وہ تینوں پھر لڑنے میں مصروف ہو چکی تھے ۔۔۔
————————————————————
ہاہاہاہااہااہاہاہاا۔۔۔
ویسے آج جلاد کی بینڈ سہی بجائ بچوں نے ۔۔۔
ہاشم رات کو بیڈ پر لیٹاتا ہوا مسکان کے پاس آتا بولا ۔۔۔۔
کیا ہاشم بچوں نے بھاہیٶ کو کتنا تنگ کیا یہ ابراہیئم کتنا روتا ہے ۔۔۔
مسکان غصہ کرتی بولی ۔۔۔
ویسے مجھے پتہ ہمارا بیٹا کیوں روتا ہے ۔۔۔
ہاشم مسکان کو اپنی گرفت میں لیتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔
دور ہٹے مجھے سونا ہے ۔۔۔
مسکان گھبراتے ہوے کہتی بولی ۔۔۔
ہمیں ایک بیٹی ہونی چاہے پھر یہ نہیں رویا کرے گا اسے بہن چاہے کیا خیال ہے ۔۔۔
ہاشم مسکان کی گردن پر لب رکھتا بہکے ہوے انداز سے کہا ۔۔۔
چھوڑے مجھے بے شرم بیٹا ہمارا جاگ ۔۔۔
شششششش ابھی تو کچھ کیا ہی نہیں تم مجھے بے شرم کہا رہی ۔۔۔
ہاشم مسکان کے لبوں کو سہلاتے ہوے بولا ۔۔۔
جبکہ مسکان کے ماتھے پر پیسنہ آیا تھا ہاشم کی قربت میں ۔۔۔
شکریہ میری جان میری زندگی میں آی مجھے احساس کروایا میرے دل میں دھڑکن بھی ہے ۔۔۔
ہاشم مسکان کے کان کی لو چھوتا ہوا بولا ۔۔
م۔۔۔۔
اس سے پہلے مسکان بولتی جب ہاشم اس کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا ۔۔۔
مسکان بنا کوئ مزاحمت کیے اس کا لمس محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
———————————————————–
شکر یہ سو گی ہاے ارتضٰی نے کتنی عادت خراب کی ہے اس کی ۔۔
ثانیہ کو نیند میں جاتی سودہ کو کوڈ میں لٹاتے خوش ہوتی بولی ۔۔
سودہ صرف ارتضٰی سے سوتی آج وہ کام سے باہر گیا تھا ۔۔۔
تو میری بیوی کو عادت نہیں میری کیا ۔۔
ارتضٰی اچانک بیک ہگ کیے شرارت سے بولا ۔۔
آ۔پ آپ ڈرا دیا مجھے بیٹی کیا کم ہے اب آپ بھی شروع ہو گے ۔۔۔
ثانیہ گھبراتے ہوے بولتی اس کی طرف رخ کرتے بولی ۔۔۔
ویسے کیا خیال ہے میں سوچ رہا تھا سودہ کا بھائ آنا چاہے ۔۔
ارتضٰی ثانیہ کو گود میں اٹھاتے بیڈ کی طرف جاتے بولا ۔۔۔
اس کے علاوہ آپ کو کوئ بات ہی نہیں آتی ۔۔۔
ثانیہ شرماتے ہوے اس کے سینے میں منہ چھپاتے ہوے بولی ۔۔۔
اور تمہیں شرمانے کے علاوہ کوئ کام نہیں آتا جانِارتضٰی ۔۔۔
ارتضٰی ثانیہ کے لبوں پر ہونٹ رکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
دونوں ہی اپنی زندگی میں خوش تھے ۔
———————————————————–
میں اپنی بیٹی کو ہر وہ خوشی دو گا جو مجھے ڈیڈ نے دی تھی ۔۔۔
ایک اچھا باپ بن کر دیکھاٶ گا میں ایسا باپ جو اپنی اولاد کو دھوپ سے بچا کر چھاٶں میں رکھتا ہو ۔۔
وہ محبت دو گا جس کے لیے ترستا رہا تھا لیکن ڈیڈ نے بتایا وہ میرے باپ تھے ۔۔۔
میں اپنی بیٹی کی ہر خواہش پوری کرو گا کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ڈی ایم کی بیٹی ہو تم ۔۔۔
داٶد روم میں بیٹھا دھڑکن کو گود میں لیتا سب کچھ کہا رہا تھا ۔۔
جبکہ دھڑکن ایسے دیکھ رہی تھی جیسے اسے سمجھ آتی ہو ساری بات کی ۔۔
میلا دادا(میرا ڈیڈ )….
دھڑکن یہ کہتی نیند میں چلی گی تھی ۔۔۔
روز کا معمول تھا وہ داٶد کی باتیں سنتی سو جایا کرتی تھی ۔۔۔
محمل روم میں اندر آتے یہ حیسن منظر دیکھتی خوش ہوئ تھی ۔۔۔
جو داٶد اب آرام سے دھڑکن کو کوڈ میں لیٹا رہا تھا ۔۔
سارا پیار بیٹی کے لیے ہے بیوی کو بھول ہی گے ۔۔۔
محمل داٶد کو بیک ہگ کرتی بولی ۔۔۔
تو رات کس لیے ہے سویٹ ہارٹ اگر پیار کرو تو تمہیں ہی اعتراض ہوتا ہے ۔۔۔
داٶد مسکراتا ہوا اپنا رخ اس کی طرف کرتا بولا ۔۔۔
آپ روے ہے کیا داٶد ۔۔
محمل اس کی سرخ نیلی آنکھوں میں دیکھتی بولی جہاں لاتعداد آنسو جمع تھے ۔۔۔
ہاں ڈیڈ کی یاد آ رہی بہت خود باپ بنا تو احساس ہوا ڈیڈ نے مجھے کیسے پالا ہو گا کیوں محمل وہ چلے گے انھوں نے ابھی میرے بچے دیکھنے تھے ۔۔۔
یہ احساس مجھے اندر سے مار رہا ہے ڈیڈ میری وجہ سے ۔۔۔
شششش یہ ڈی ایم تو نہیں ڈیڈ کا یہ کوئ رونے والا ڈی ایم ہے ۔۔
ڈیڈ کی قربانی ایسے رو کر ضائع کرے گے ۔۔۔
آپ کو چاہے ان کے لیے دعا کیا کرے اور آپ کی وجہ سے نہیں ہوا یہ سب اللہٌکے کام ہے وہی جانتا ہے اس میں کیا مصلحت کیا تھا ان کی قیسمت میں ایسا ہی لکھا تھا ۔۔۔
محمل داٶد کو حوصلہ دیتے کہا جو خود ضبط کیے کھڑا تھا ۔۔۔۔
ہمممم داٶد خاموش ہو گیا تھا ۔۔۔
سارا دن بیٹی کے ساتھ رہتے ہے میری بھی فکر کر لے پتہ بھی ہے میں کتنی محبت کرتی ہو ۔۔۔
محمل داٶد کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے اس کی گردن میں بازو حائل کیے بولی ۔۔۔
وہ کیسے دیکھ لیتی اپنے ڈی ایم کو اداس ۔۔
یار تمہارا ہی ہو لیکن بیٹی کو بھی دیکھنا پڑتا ہے نہ ۔۔
داٶد مسکراتا ہوا اس کو اپنے حصار میں لیتا بولا ۔۔۔
مجھے روز عشق ہو رہا ہے آپ سے میرے بے شرم ڈی ایم ۔۔۔
محمل داٶد کی گردن پر لب رکھتی مدہوش ہوتی بولی ۔۔۔
ہاہاہاایاا بے شرم میں کہ تم ۔۔
داٶد محمل کے کان کی لو کو چھوتے سرگوشی کرتے بولا۔۔
جبکہ محمل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی ۔۔۔
آپ میں بلکل نہیں ہو ۔۔۔
محمل ہوش میں آتی دور ہوتی گھبراتے بولی ۔۔۔
نو سویٹ ہارٹ یہ غلط ہے اب میری نیت خراب کر کے خودی دور ہو رہی ۔۔۔
میرے عشق کی شدت بھی برداشت کرو ۔۔۔
داٶد محمل کو اپنے حصار میں لیتا مخمور لہجے سے بولا ۔۔
نہیں آپ دھڑکن سے پیار کرے جاۓ ۔۔۔
محمل گھبراتے ہوے بولی اسے داٶد کا جلا دینے والا لمس برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔
جو اس کی شرٹ شولڈر سے نیچے کیے اپنے لب وہاں رکھ رہا تھا ۔۔۔
پہلے بیٹی کی ماما سے پیار کر لو پھر بیٹی دیکھ لو گا ۔۔۔
ویسے بھی اس کی ماما کے شکوے بہت تھے ۔۔۔
داٶد محمل کو بیڈ پر لٹاتے ہوے اس کی گردن سے زرا نیچے لب رکھتا بولا ۔۔۔
نہ۔نہ۔نہیں پلیز میں مذا۔۔۔۔
شکریہ میری جان مجھے یہ بتاتے کا یہ میرے دل میں بھی دھڑکن ہے جو صرف تمہارے نام سے دھڑکتی ہے ۔۔۔
شکریہ سویٹ ہارٹ ۔۔۔
داٶد محمل کے لبوں پر لب رکھتے خمار آلود لہجے سے بولا ۔۔۔
جبکہ محمل جو گھبراتے بولنے والی تھی اب اپنی جان جاتی اسے محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
داٶد آہستہ آہستہ اپنی سانسوں کی خوشبو محمل کے اندر منتقل کر رہا تھا ۔۔۔۔
دونوں ایک دوسرے میں مدہوش ہو چکے تھے ۔۔۔
————————————————————
“””پانچ سال بعد۔۔۔۔۔۔
آہہہہہ آہہہہہہہہ آہہہہہہہ بچاٶ بچاٶ ہاے میں مر گیا ۔۔۔
ابراہیئم زور سے چلاتا ہوا بولا ۔۔۔
جبکہ سامنے مرا ہوا کر چوہا پڑا تھا ۔۔۔
جبکہ پاس کھڑی سودہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی ۔۔
ارے یار مرا ہوا ہے تم ایسے چلا رہے جیسے زندہ ہو ۔۔۔
بکواس بند کرو میں ابھی ماموں جان کو بلاتا ہو ۔۔۔
چھ سال کا ابراہیئم اپنی گرین آنکھوں سے گھورتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جبکہ چھ سال کی سودہ بے بی فراک پہنے اپنی بالوں کی پونی بناے مسکراتی ہوئ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
رکو زرا میں دیکھتی ہو اس سودہ کی بچی کو ۔۔
بتاٶ کیوں تنگ کرتی ہو ابراہئیم کو ۔۔
پانچ سال پانچ ماہ کی دھڑکن بلیک شرٹ بلیک ہی پینٹ پہنے ہاتھوں میں گن لے بلکل داٶد کی طرح چلتی ہوئ آ رہی تھی بواۓ ہیر سٹائل میں بلکل لڑکا لگتی تھی ۔۔۔
شکر ہے ڈی ڈی تم آ گی دیکھو یہ مارتی مجھے ۔۔
ابراہیئم اپنے آنسو صاف کرتا دھڑکن کے پاس جاتا بولا۔۔۔
سودہ بلکل شرارتیبچی تھی ہر وقت سب کو تنگ کرنا اس کا فیورٹ کام تھا ۔۔۔
بلکل ارتضٰی کی کاپی وہ کبھی کبھی داٶد کو بھی تنگ کر دیتی اپنے باپ کی طرح ۔۔
ابراہیئم شکل سے بلکل ہاشم پر گیا تھا لیکن وہ ایک بزدل ڈرپوک لڑکا تھا ہر چھوٹی چھوٹی بات پر رونا اس کا فیورٹ کام تھا ۔۔۔
لیکن دل کا بہت نرم اتنا نرم کہ مرے ہوۓ چوے کو دیکھ کر پورے گھر کو سر پر اٹھا لے ۔۔۔
دھڑکن عرف ڈی ڈی ۔۔۔
شکل صورت حرکیتوں سے بلکل داٶد جیسی تھی ۔۔۔
بلکل خاموش رہنے والی جب دل کیا بات کی ورنہ نہیں سب کو بچانے والی (اس کے خیال میں جہاں وہ لڑتی تھی کسی کو مارتے وقت نہیں ڈرتی بلکہ سب کو فخر سے بتاتی دھڑکن داٶد میر کی بیٹی ہے )…
ابراہیئم کو سودہ کی شرارتوں سے بچاتی تو اس کے لیے بنی دھڑکن ڈان مطلب ڈی ڈی ۔۔۔
جیسے لڑکیوں والی کوئ چیز پسند نہ تھی ۔۔
گڑیا کی بجاۓ وہ گن بمب جیسے کیھلتی تھی۔۔۔
اب بھی غصہ سے کھڑی سودہ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
کیوں مار رہی تھی تم ۔۔
دھڑکن اپنی نیلی آنکھوں سے گھورتی بولی ۔۔
چلو ہٹو یہاں سے میں جلاد پاپا کے پاس جا رہی وہ کیک لے کر آے گے ۔۔
سودہ اپنی جان بچاتی جلدی سے کہتی بھاگنے والی تھی ۔۔۔
روکو میرے ڈیڈ ہے صرف سمجھی ۔۔
دھڑکن غصہ سے اسے پکڑتی بولی ۔۔
اور میرے فیورٹ ماموں جان ۔۔۔
ابراہیئم بھی اپنا رونا بھولتا ہوا بولا ۔۔۔
جبکہ اسے نہیں پتہ تھا اپنی شامت کو دعوت دے چکا تھا ۔۔۔
تم دونوں کو سمجھ نہیں آتا وہ صرف ڈی ڈی کے ڈیڈ ہے مطلب میرے ۔۔۔
دھڑکن سودہ کو چھوڑتی ابراہیئم کی طرف دیکھتی غصہ سے غراتی بولی ۔۔
سو۔آہہہہ آہہہہہہ آہہہہہ اور مارو اسے میں بھی مارتی ہو ۔۔۔
اس کے بولنے اسے پہلے دھڑکن نے مارنا شروع کر دیا تھا جبکہ سودہ اپنی جان بچتی دیکھ خود بھی ابراہیئم کو مارنا شروع کر چکی تھی ۔۔۔
اب یہ حالت تھی ابراہیئم کی چیخے پورے داٶد پلیس میں گونج رہی تھی ۔۔۔
اور دھڑکن سودہ اسے مارنے میں مصروف تھی ۔۔۔
یہ سارا منظر ہال میں کھڑے تینوں کپل مسکراتے ہوے دیکھ رہے تھے ۔۔۔
ارتضٰی ثانیہ ۔۔مسکان ہاشم ۔۔۔داٶد محمل سب اپنی زندگی میں ممکل خوش تھے ۔۔۔
اب تینوں ہسنتے سامنے بنے میدانِجنگ دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
جہاں ابراہیئم کی بھاں بھاں گونج رہی تھی ۔۔۔۔
تم دل کی دھڑکن میں رہتے ہو رہتے ہو ۔۔۔![]()
![]()
![]()
تم دل کی دھڑکن میں رہتے ہو رہتے ہو ![]()
![]()
میری ان سانسوں سے کہتے ہو کہتے ہو ![]()
باہوں میں کھو جاٶ سپنوں میں کھو جاٶ ![]()
![]()
![]()
تم دل کی دھڑکن میں رہتے ہو رہتے ہو ![]()
![]()
![]()
![]()
ختم شد ۔۔۔۔
———————————————————–السلام و علیکم
اللہٌ کا شکر میرا آج یہ ناول بھی ختم ہو چکا ۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہا خوش ہو یا اداس لیکن خیر اسے میں نے بڑی مشکل سے ختم کیا ![]()
بچارہ رک ہی جاتا تھا بالاآخر آج یہ ناول ختم ہو ہی چکا ۔۔۔
امید ہے باقیوں کی طرح یہ بھی پسند آیا ہو گا آپ سب کو ![]()
![]()
مجھے نہیں پتہ کیسے لکھا گیا یہ ناول پر اپنی محنت ضرور لگائ میں نے تاکہ اچھا ہو سکے ۔۔۔
ان سب کا شکریہ بہہہہہہہہتتتتتتت والا جہنوں نے ساتھ دیا آپ سب کا احسان تھا مجھ پر ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
میرے پیارے پیارے ریڈرز جو روز کومنٹ لائک کرتے ۔۔۔
ان دوستوں کا شکریہ جہنوں نے ساتھ دیا اب سب کا نام نہیں لو گی کیونکہ سارے پھر لڑ پڑے گے ![]()
ہاں کچھ دوست ہے جو میرے پہلے ناول پر ساتھ تھے اب نہیں کیونکہ سارے بزی ہے لیکن جب آے گے تب کومنٹ کرے گے (![]()
میری خوشی فہمی )…
ہاں پر جہنوں نے احسان کیا میں ہمیشہ یاد رکھو گی روحا کبھی بھی احسان نہیں بھولتی ۔۔۔
اب زرا بتا دو دھڑکن کا مطلب ۔۔۔
”دھڑکن ۔۔۔ دھڑکن وہ نہیں جو ایک لڑکا لڑکی کی محبت کی ہو جیسے آج کل کے لوگ سمجھ رہے ۔۔
دھڑکن وہ جو ایک بھای کی اپنی بہن کے لیے تھے ۔۔دھڑکن وہ جو اپنے دوستوں کے لیے تھے ۔
دھڑکن وہ جو ایک باپ بیٹا اور ایک بیٹی کے لیے تھی ۔۔
دھڑکن وہ جو ایک میاں بیوی کی بنی ![]()
![]()
![]()
![]()
دھڑکن وہ جو ایک کریزی فین کی بنی ۔۔
“““ہاشم مسکان ۔۔
ایک دوسرے کی دھڑکن بنے ہمیشہ ہم جوسنتے اور دیکھتے ہے وہ صیح نہیں ہوتا غلط بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔جیسے ہاشم کو غلط فمہی ہوئ لیکن اس نے ازالہ کیا اپنی ہر غلطی کا ۔۔۔مسکان کبھی کبھی ہم کسی لڑکی کو دیکھے جو ماڈرن ہوتی ہے ہنستی مسکراتی ہے ہمارا معاشرہ بہت غلط مطلب لیتا ہے یہ لڑکی ایسی یا ویسی حقیقت بلکل الٹ ہوتی ہے ۔۔۔ضروری نہیں جیسی ماں ہو ویسی بیٹی ہو گی بلکل نہیں تربیت بھی کوئ چیز ہے مسکان کے کردار نے ثابت کیا اکبٰری کی بیٹی ہونے کے باوجود وہ ایک اچھی بیٹی بہن بیوی بنی ۔۔۔۔ ہاشم مسکان ایک دوسرے کی دھڑکن بنے ۔۔۔
” ارتضٰی ثانیہ
یہ کردار اس لیے لیا تھا ہر لابالی لڑکا جو شرارتی ہو ہنسی مذاق والا جو کبھی سنجیدہ نہ ہو ہمارے یہاں بہت سے لوگ ایسے لڑکوں کو د
یکھے کر کہتے ہے یہ کچھ بھی نہیں ہر سکتا جو زرا سنجیدہ نہ ہو غلط ایسے لوگ ہی تو کام کرتے ہے جیسے ارتضٰی نے ایک بے سہارا لاورث لڑکی کو اپنایا ثانیہ جیسی بہت سی لڑکیاں ہے جو یہ سب جھیلتی ہے لیکن ان کے لیے ارتضٰی جیسا انسان نہیں آتا جس نے ثانیہ کو اپنا بنا کر عزت دی وہ مقام دیا جو ایک لڑکی کا ہوتا ہے ۔۔۔اگر وہ ویسا مرد ہوتا تو طعنہ دیتا اسے وہ کوٹھے سے آی یا بلا بلا ۔۔۔۔اس نے محبت دی اسے اپنی دھڑکن بنایا وہ بنے دھڑکن
“””داٶد محمل
یہ ایسا کردار جس میں محمل ایک کریزی فین تھی ہر وقت اس کی زبان پر ڈی ایم رہتا ۔۔۔
اور اس کی دعا پوری ہوی ایک ایسے انسان کی دھڑکن بنی جو خود درد تکلیف سہہ کر ایک بے حس انسان بن چکا تھا جو بکھرا تھا ٹوٹا تھا اسے محمل نے اپنی شرارتوں محبت اور باتوں سے ایک انسان بنایا ڈی ایم کی دھڑکن بنی کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے جو انسان مسلسل ایک چیز کی چاہ کرے اسے ضرور ملتی ہے جو کہ محمل کو ڈی ایم ملا جس کی فین تھی وہ ۔۔
دونوں بنے دھڑکن ۔۔
” مسکان داٶد ۔ہاشم ارتضٰی ۔۔
ایک ایسا بھای جس نے ہمیشہ اپنی بہن کو پیار دیا ہو ہر کام کیا ہو جب اچانک وہ بچھڑ جاۓ تو ایک بھائ پر کیا گزارتی ہے جیسے اس نے دھڑکن بنایا ہو ۔۔۔۔داٶد کی تڑپ اپنی بہن کے لیے اتنی مشکلات سہنے کے بعد اسے ملی چندہ اس کی دھڑکن ۔۔۔بھای بہن کا پیار ایسا ہی ہوتا ہے کبھی نہ ختم ہونے والی محبت ۔۔۔
ہاشم ارتضٰی جہنوں نے اپنی دوستی نبھائ ارتضٰی کی شرارتیں داٶد کی مار ہاشم کا جلانا یہ سب دوستی میں شامل ہوتا ہے ![]()
![]()
دوست بھی دل کی دھڑکن ہوتے ہے ۔۔
” اکبٰری قمر خان ۔۔
ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ ہے جو بس اولاد پیدا کر کے بھول جاتے ہے ان کی پرورش بھی کرنی ہے دیکھنا بھی ہے ہمارے بچے درد میں تو نہیں لیکن افسوس ایسے ماں باپ صرف نام کے ہوتے اکبٰری قمر دونوں کو احساس نہ تھا اپنے بچوں کا ورنہ پیسوں کے لیے یہ سب نہ کرتے پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا اولاد اللہؔکی اتنی بڑی نعمت ہے لیکن کچھ ایسے لوگ قدر نہیں کرتے اپنے بچوں کی ۔۔
””داٶد تیمور شاہ ۔۔
تیمور شاہ ایک میجر اسے کیا پتہ تھا وہ ایک ایسے میشن میں جاے گا جہاں اسے داٶد جیسا غموں کا مارا بیٹا ملے گا ۔۔۔
وہی بات بچہ پیدا کرنے سے ہی نہیں کوئ ماں باپ بن جاتا اس کی پرورش کرو خیال رکھو پھر باپ ماں بنتے ہے جو کہ تیمور شاہ نے کر کے دیکھا ۔۔۔وہ بھی سوچ سکتا تھا داٶد کون سا سگا بیٹا تھا اس کا چھوڑ سکتا تھا لیکن نہیں نے سنھبالا اسے خیال رکھا اسے دھڑکن بنایا اپنے دل کا ۔۔۔
ضروری نہیں اپنے ہو گے تو ہی ہمارے دھڑکن چلتی ہے بلکل نہیں ایک اجنبی انسان بھی ہمارے دل کی دھڑکن بن جاتا ہے ۔۔
تیمور شاہ نے اپنا ہارٹ داٶد کو دیا ایک پل کے لیے وہ بھی سوچ سکتے تھے کون سا سگا بیٹا ہے لیکن نہیں انھوں نے اپنی خاموش محبت ظاہر کرنے کے لیے اپنا ہارٹ دیا اور بنے اس کی دھڑکن ۔۔۔ہمارے آس پاس بہہہہہتتت کم لوگ ایسے ہے جو اپنے لفاظوں سے نہیں اپنے عمل سے ہمیں بتاتے ہے کہ ہم اس کے لیے کتنے ضروری ہے جیسے تیمور شاہ نے بتایا وہ داٶد کا باپ تھا محبت تھی جیسے انھوں نے ثابت کیا ۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
![]()
خیر کچھ زیادہ بول لیا میں نے ![]()
![]()
![]()
![]()
ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بہت پاۓ جاتے ہے جو بنا کسی غرص کے ہمارے ساتھ رہتے ہے ہم کہی نہ کہی کسی کی دھڑکن بنے ہوۓ ہے جو کہ ہمیں بھی معلوم نہیں ۔۔۔
