172.3K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 3)

Dadhkan By Rania Mehar

نے تیز بھاگتے ہوے کہا ۔۔..Hm..DM بھاگ جلدی بھاگ

کتے کمینے بھاگ ہی رہا ہو میں دیکھ نہیں رہا سارا قصور تمہارا اور اس AA کا ہے مجھ بتا تو دیتے کہ پولیس چھاپا مارنے والی ہے ۔۔

ہاےےے بس تھوڑی دیر اور رک جاتی پولیس میں نے اس لڑکی کا کام تمام کر دینا تھا ۔۔۔DM نے شدت جذبات سے کہا ۔۔

کیوں کرتے ہو ایسا تم لڑکیوں کے ساتھ کیا ملتا ہے تم کو ۔۔HM نے افسوس سے پوچھا ۔۔

پوچھ بھی کون رہا ہے مجھ سے ۔۔

مجھے سکون ملتا ہے لڑکی ذات سے نفرت ہے مجھے اور تجھے بھی تو ہے ۔۔

ڈی ایم نے طنزیہ مسکرا کر کہا ۔۔

ہاں نفرت ہے مجھے لیکن تم کچھ زیادہ کرتے ہو ۔۔

وہ دونوں مسلسل بھاگ رہے تھے ۔۔

ٹھااااااہ ہ ۔۔

بھاگ جلدی پولیس کے ہاتھ نہیں آنا تم ایسا کرو یہاں سے تم جگہ چینچ کرو میں یہاں سے جاتا ہو ۔۔

گولی کی آواز سن کر جلدی سے

ڈی ایم نے ایج ایم کو جنگل کے اس راستے پر دونوں طرف کی جگہ کو تبدیل کرنے کو کہا ۔۔

چل زندگی رہی تو ملے گے ۔۔

ایچ ایم نے جذباتی ہو کر ڈی ایم کو دیکھ کر کہا ۔۔

کچھ زیادہ نہیں ہو گیا مطلب زندگی رہی تو پھر ملے گے ۔۔

ڈی ایم نے ایچ ایم کی نقل اتارتے ہوے کہا ۔۔

ارے ہمارے آگے یہ پولیس کیا چیز ہے ۔۔

بس ہم اگر مجبور ہے تو ایک وجہ سے ورنہ میں کبھی نہ بھاگتا وہاں سے اچھے سے بتاتا ۔۔

ڈی ایم کس بلا کا نام ہے جس کا نام سن کر ہی سب کانپ جاتے ہے ۔۔

ڈی ایم نے اچھا خاصا بات سنا دی ۔۔

لیکن ۔۔

اچھا جا ملتے ہے میری جان سے ضروری مجھے تمہاری جان کی فکر ہے یار ۔۔

ڈی ایم نے ایچ ایم کی بات کاٹتے ہوے گلے ملتے ہوے کہا ۔۔

————————————————————

ہاے جانمن تم بس آج کی رات میرے پاس آ جاو میں تمیں بتاو گا تم سے کتنی

محہہہہہہ

اہہہہہہہہ ۔۔۔AA جو اس وقت اپنے اڈے پر بیھٹا فون پر کیسی لڑکی سے بات کر رہا تھا جب اچانک ایچ ایم اور ڈی ایم دونوں نے اسے مارنا شروع کر دیا ۔۔

کیا مسلہ ہے کتوں کیوں مار رہے ہو مجھے ہاےے میں معصوم کیوں کر رہے ہو ۔۔

اے اے نے اپنا بچاو کرتے ہوے دہای دی ۔۔

تم بتا سکتے تھے کہ پولیس آ گی ہے لیکن تم بھاگ گے ۔۔

ڈی ایم نے اپنی نیلی آنکھوں سے گھورتے ہوے کہا ۔۔

میں بتانے ہی والا تھا لیکن تم لڑکی کے ساتھ اتنا مصروف تھے تو سوچا تم انجواے کر لو ۔۔

اے اے نے گھبراہٹ سے جو منہ میں آیا بول دیا ۔۔

(ایچ ایم بس افسوس سے دیکھتا رہا کہ اب اے اے کو ڈی ایم سے اللہ ہی بچاے ۔۔ جس نے اب خود اپنی شامت کو دعوت دی ہے )..

رک ابھی میں تیمں انجواے کرواتا ہو ۔۔

ڈی ایم نے رڈ اٹھا کر اےاے کے پاس آتے کہا ۔۔

تھوڑی دیر بعد ۔۔۔۔

ہاں اب بتا کیا بکواس کر رہے تھے ۔۔

ڈی ایم نے اےاے کی حالت دیکھ کر کہا ۔۔

جو اپنے منہ پر اور آنکھوں پر پرتے نیلے نشانات اور ہوئٹ سے نکتا خون صاف کر رہا تھا ۔۔

ہاہاہاہا سچ یار اتنا پیار آ رہا ہے کیا بتاو ۔۔

ایچ ایم نے اےاے کی حالت کو انجواے کرتے ہنستے ہوے کہا ۔۔

ہاں یہاں رومینس چل رہا ہے نہ تو جو بکواس کر رہا ۔۔

اےاے نے جل کر کہا ۔۔

اور تو مجھے ایسا مشکوک نگاہوں سے کیوں غور رہے ہو مانا کہ تم ہم سب کے بوس ہو ۔۔

لیکن میں ڈرتا نہیں ہو تم سے ۔۔

اے اے نے اپنی طرف مسلسل گھورتے ڈی ایم کو دیکھ کر کہا ۔۔

بہت گرمی ہے نہ تم میں بغیرت چل آج رات یہ گرمی تم ہی نکالوں کے ابھی اس لڑکی کو فون کر اور رات کے لیے بلا ۔۔

جو کام رہ گیا وہ تم پورا کرو گے ۔۔

لیکن ۔۔

تم مطلب تم بس ۔۔

ڈی ایم نے اے اے کی بات کاٹتے اپنی کہی ۔۔۔

دیکھو میرے یار لڑکیاں اتنا پیاری ہوتی ہے مجھ سے یہ گندہ کام نہیں ہوتا ۔۔

اےاے نے دور جاتے ڈی ایم کو دیکھ کر ایچ ایم کے پاس آتے مسکا لگایا ۔۔

اگر یہ گندہ کام تھا تو تم کیوں شامل ہوے اس کام میں ہمارے بتاو مجھے جو کام کہا ہے وہ کرو جانتے ہو نہ ڈی ایم کی نظر میں رحم نام کی کوی چیز نہیں ۔۔

ایچ ایم نے غصہ سے کہتا چلا گیا ۔۔

اےاے بچارہ اب سوچ رہا تھا کہ کیا کرے ۔۔

———————————————————–

“““

میرے خوابوں میں جو آے ۔۔

آ کے مجھے چھڑ جاے ۔

اسے کہو کبھی سامنے تو آے ۔۔

“””

برساتی بارش میں مسکان فل مستی میں مصروف تھی ۔۔۔ بارش میں اپنی سریلی آواز سے گانا گاتے ہوے انجواے کر رہی تھی ۔۔

اصغری بیگم اور محمل کو مسکان کی آواز بے حد پسند تھی ۔۔۔

اس کمینی کو کہا بھی تھا آجاے بارش انجواے کرے مجال ہے کبھی جو بات مان لی ہو میری ۔

مسکان نے دانت پیستے ہوے محمل کا سوچا ۔۔

اصغری بیگم کچن میں کھڑی مسکرا رہی تھی ۔

ان کی جان بستی تھی مسکان اور مراد میں ۔۔

“““

میں ناچو آج چھم چھم چھم ۔

مسکان بازو فولڈ کیے مسلسل ڈانس کرنے میں مصروف تھی ۔۔

اچانک ہادی گھر داخل ہوا مسکان کو بارش میں بیگھتا ہوا دیکھ کر دروازے پر ہی رک گیا ۔

وہ مسلسل مسکان کو بارش میں انجواے کرتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔

مسکان کو کوئ خبر نہ تھی وہ اپنے میں مگن تھی ۔۔

مراد جیسے ہی کمرے سے باہر آیا مسکان اور ہادی کو دیکھ کر اس کا پارہ ہای ہو گیا ۔۔

ہادی تو مراد کو وہاں دیکھ کر فورا بھاگ گیا ۔۔

لیکن مسکان کو ہوش ہی نہیں تھا ۔۔

وہ گانے میں مصروف تھی ۔۔

””””

یہ موسم کی بارش یہ بارش کا پانی ۔

یہ پانی کی بوندیں تجھے ہی تو

ڈھونڈے ۔۔

““““

مسکان کی نظر جیسے ہی مراد پر پری وہ اسے بھی زبردستی گھسیٹ لای ۔۔

بنا اس کے غصے کی پرواہ کیے مراد کا صدمے سے برا حال تھا ۔۔

اسے مسکان سے ایسی امید نہ تھی ۔۔

چلو سڑیل شکل والے آج میرے ساتھ انجواے کرو ۔۔۔

کتنا مزہ آ رہا ہے ۔۔

مسکان نے مراد کو گھوماتے ہوے کہا ۔۔۔

مراد کو تو چکر آنے لگ گے ۔۔

دور رہو مجھے سے بے شرم لڑکی ہاتھ مت لگاو مجھے ۔۔

مراد نے اپنے ہاتھ ایسے چھڑواے جیسے مسکان کو چوت ہو ۔۔

مسکان تو وہی رک گی ۔۔

اپنا نظارہ اپنے منیگتر کو کروانے کا اتنا شوق ہے تو نکاح پڑھو اور دفعہ ہو جاو ۔

ہماری عزت خراب کرنے کی کوشش مت کرو ۔۔

مراد یہ کہتا ہی غصہ سے چلا گیا ۔۔

مسکان اس کی باتوں کو سن کر مسکرانے لگی ۔۔

ہاے سڑیل شکل والے مجھ سے جلتے ہے ۔۔

مسکان نے اونچی آواز سے کہا تاکہ مراد سن لے ۔۔

پاگل لڑکی ہر وقت ہنسی مذاق کرتی ہے ۔۔

مراد غصہ سے سوچا سکا ۔۔

بارش کے پانی کے ساتھ ہی آنکھ سے بہتے آنسو مسکان نے چھپکے سے صاف کیے ۔۔

اس کے آنسو اصغری بیگم سے چھپے نہ رہ سکے ۔۔

————————————————————

اووو سورییی بہنا مجھے دیکھ کر بائیک چلانی چاہے تھی ۔۔

بائیک سوار لڑکا شرمندہ ہوتا اپنے اوپر گری محمل کو آٹھاتے ہوے بولا ۔۔

محمل کسی کام سے سنسنان راستے سے جانے میں مگن تھی جب اچانک ایک بائیک نے ٹکر ماری اور دونوں زمین پر گر گے ۔۔

گرنے کی وجہ سے محمل کا نقاب اتر چکا تھا ۔۔

ارے کوئ بات نہیں بھای غلطی میری بھی تھی ۔۔

محمل نے کھڑے ہوتے کہا ۔۔

لیکن دور سے ایک گاڑی میں بیھٹے شخص نے یہ منظر بڑے غور سے دیکھا ۔۔

جو کہ اس نے یہ منظر غلط سمجھتا ہوا گاڑی سے باہر نکلا ۔۔۔

ارے یہ بیڈ روم نہیں ہے جو یہاں ہی شروع ہو گے ۔۔

لڑکے نے پاس آتے محمل اور بائیک سوار پر طنز کیا ۔۔۔

تمیز سے بات کرے مسٹر ۔۔

بھای آپ جاے یہاں سے ۔۔۔

محمل نے سامنے والے کو سنا کر پھر بائیک والے کو مخاطب کیا ۔۔

اب بھای ہو گیا وری فنی ۔۔لڑکے نے ہنستے ہوے کہا ۔۔

(پتہ نہیں کون ہے جیسے تمیز نام کی کوی چیز نہیں ۔۔خیر میں بھی محمل ہو ابھی بتاتی ہو اسے میں کون ہو )..

محمل نے سوچتے ہوے سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھا ۔۔

آپ سے مطلب شکل گم کرے یہاں سے ۔۔

محمل نے یہ کہتے ہی ساہیڈ سے نکلنا چاہا جو کہ ناممکن ہوا ۔۔

لڑکی زبان سنھبال کر بات کرو ۔۔

جانتی نہیں ہو مجھے میر تمیور کو جواب دیتی ہو ۔۔پتہ بھی ہے میں کون ہو ۔۔

میر نے غصہ سے محمل کا بازو پکڑتے ہوے کہا ۔۔۔

چھوڑو میرا ہاتھ جنگلی انسان تم کون ہو مجھے جانے کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔۔

اگر کوئ لڑکی لڑکا آپس میں کھڑے ہو یا بات کر رہے ہو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا وہ دونوں غلط ہی ہو۔

خیر میں بھی کیسے کہہ رہی ہو ۔۔

جو خود دوسرے مردوں کی طرح غلط نگاہ سے دیکھتے اور سوچتے ہے گندی ذہینت کے مالک ہو تے ہے تمہارے جیسے مرد ۔۔

محمل نے حقارت سے میر کو دیکھتے ہوے کہا ۔۔

بکواس بند کرو اپنی مجھے بھی کوئ انٹرسٹ نہیں ہے تم جیسی لڑکی کی طرف دیکھنا ۔۔

عورت ذات سے نفرت ہے مجھے سمجھی تم بھی ایسی ہو آج اس لڑکے کے ساتھ تھی کل کیسی اور لڑکے کے پاس ہو گی ۔

ہنہہ ۔۔۔

میر نے بھی حقارت اور غصہ سے غراتے ہوے کہا ۔۔

عورت ذات سے نفرت ہے ۔۔

محمل نے میر کی نقل اتارتے ہوے کہا ۔

پھر اتنی تقریر مجھے کیوں سنا رہے ہو جاٶ نیوز میں دو یا اشتہار لگاٶ ۔۔۔

میرے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔

محمل نے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا ۔۔

اوووو لڑکی مجھے بھی شوق نہیں تمہارے منہ لگنے کے جس کے منہ لگ رہی تھی وہی کافی ہے ۔۔

میر نے بے باک انداز سے کہا ۔۔

اوقات میں رہو مسٹر ۔۔تم جیسے مرد ہوتے ہے جو عورت سے نفرت بھی کرتے ہے اور استعمال بھی عورت کو ہی کرتے ہو ۔۔

تھو ہے تم جیسے مردوں پر تم کیا اوقات دیکھاٶ گے مجھے ۔۔

محمل کو تو آگ ہی لگ گی تھی میر کی بات سن کر تبھی جو منہ میں کہا دیا ۔۔۔

اوقات کی بات مت کرو لڑکی اگر میں تمہاری اوقات دیکھانے پر آیا نہ تو شرمندہ ہو جاٶ گی ۔۔

میر نے اپنی براٶن آنکھوں کو محمل کے اوپر گاڑتے ہوے کہا ۔۔

کیا کرو گے تم ہاں ۔۔

ناولز کے ہیرو کی طرح کڈنیپ کرو گے یا میرا قتل کر دو گے یا پھر مجھے مارو گے ۔۔

بڑے آے مجھے میری اوقات دیکھانے والے ۔۔

چلو ہٹو میرے سامنے سے تمہارے جیسے مرد صرف اکیلے میں بول سکتے ہے ۔۔

ہنہہہ ۔۔۔

محمل نے کھری کھری سناتے ہوے میر کو پیچھے ہٹاتے ہوے خود اپنے گھر کی طرف چل پڑی ۔۔

اسے تو اب اچھے سے بتاو گا مرد ہوتا کیا ہے ۔۔

میر نے دور جاتی محمل کو غصے سے گھورتے ہوے سوچا ۔۔

پہلی دفعہ ہوا تھا میر تیمور کو اپنے ٹکر کی لڑکی ملی تھی جو سامنے ہی کھری کھری سنا کر جا چکی تھی ۔۔۔

نہیں تو اکثر لڑکیاں میر کی پرسنلیٹی کو دیکھ کر ہی دل ہار بیھٹتی تھی ۔۔

ہاں مجھے ایک لڑکی کی معلومات نہیں تم ایسا کرو اب مجھے وہ لڑکی آج رات میرے فارم ہاوس میں ملنی چاہے ۔۔

میر نے غصے سے فون کرتے بات بدل کر اپنی کہی ۔۔

اب تمیں میں بتاو گا آج کی رات مرد ہوتا کیا ہے ۔۔

میر نے شیطانی مسکراہٹ سجا کر سوچا ۔۔۔

ایک تو یہ دل کی دھڑکن پتہ نہیں تیز ہو رہی ہے ۔۔

ڈاکٹر کو چیک کرواتا ہو کہیں دل کا مسلہ نہ ہو گیا ہو ۔۔

میر نے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے ہوے سوچا جو تیزی کے ساتھ دھڑک رہا تھا ۔۔

————————————————————

السلام و علیکم پاپا کیسی طبیعت ہے اب آپ کی ۔۔

محمل نے گھر میں داخل ہوتے پوچھا ۔

وعلیکم السلام بیٹا اب میں ٹھیک آپ کیوں غصے میں ہو ۔۔

مختار صاحب نے محمل کو گلے لگاتے ہوے پوچھا ۔۔۔

کچھ نہیں پاپا کوئ جاہل انسان مل گیا تھا دماغ خراب کر دیا تھا ابھی ٹھیک کر کے آی میں ۔۔

ایسے مرد بھی ہوتے ہے پاپا کہ عورت کو ہی غلط سمجھ جاتے ہے ۔۔

محمل نے مختار صاحب کے کندھے پر سر رکھتے افسوس سے پوچھا ۔۔۔

نہیں بیٹا قصور کیسی کا نہیں ہوتا جو شخص جیسے حالات دیکھے گا وہ وہی سوچتا ہے ۔۔ ہمیں ایسے انسان کو سمجھانا چاہے نہ کہ لڑ پڑے ہم ۔۔۔

آپ لڑ تو نہیں پڑی اس کے ساتھ ۔۔

مختار صاحب نے سمجاتے ہوے پوچھا ۔۔

وہ جانتے تھے محمل کوئ بھی غلط بات پر لڑ پڑتی تھی ۔۔

ارے چھوڑے اسے آپ یہ بتاے کہ میڈیسن ختم تو نہیں ہو گی آپ کی ۔۔

محمل نے بات ٹالتے کہا وہ جانتی تھی اگر بتا دیتی تو اس کے پاپا پریشان ہو جاتے ۔۔

تم فکر مت کرو مراد کو کہا ہے وہ شام تک لا دے گا ۔۔

مختار صاحب نے سہولت سے منع کیا ۔۔

کیوں کہتے ہے بھای کو وہ ویسے ہی اتنا کرتے ہے ہمارے لیے میں خود مارکیٹ جا کر میڈیسن اور کچھ فروٹ لے کر آتی ہو ۔۔۔

محمل نے جلدی سے کھڑے ہوتے کہا ۔۔

ارے بیٹا ابھی آی ہو میں مراد ۔۔۔

نہیں پاپا میں جاتی ہو نہ آپ بھای کو فون مت کرنا میں ابھی گی اور آی ۔۔

محمل نے جلدی سے اپنا نقاب کرتے کہا ۔۔

(محمل اور مختار صاحب کا ایک دوسرے کے علاوہ کوئ نہ تھا وہ دونوں ہی ایک دوسرے کی پوری دنیا تھے )..

چلو جاٶ پر جلدی آنا اب مت لڑ پڑنا کیسی کے ساتھ بیٹا ۔۔

تیمں پتہ ہے نہ بیٹی کی عزت کتنی پیاری ہوتی ہے اور میری بیٹی تو ہے ہی اتنی پیاری ۔۔

مختار صاحب نے محمل کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوے اجازت دیتے ہوے کہا ۔۔

جی پاپا میں کبھی آپ کی عزت خراب نہیں کرو گی ۔۔۔

محمل نے بائیک سٹارٹ کرتے اونچی آواز سے کہا ۔۔

———————————————————–

ہاں مسکان میں مارکیٹ ہو گھر جا کر بات کرتی ہو ۔۔۔

محمل نے اپنی بائیک سٹارٹ کرتے فون پر مسکان کو کہا ۔۔۔

محمل اپنی چیزیں لے چکی تھی اسے جلدی تھی گھر جانے کی تبھی فون کان پر لگاے وہ اپنی بائیک سٹارٹ کر رہی تھی ۔۔

او۔۔اہہہہہہ رک مسکان بعد میں بات کرتی ۔۔

اس سے پہلے محمل کچھ اور کہتی جب اپنی بائیک پر کیسی گاڑی کی ٹکر لگتے ہوے محمل گرتے گرتے بچی ۔۔

ااااوووو۔۔۔۔

پاگل انسان اندھے ہو تم نظر نہیں آتا تمھیں جو اپنی گاڑی میری بائیک میں ٹھوک دی ۔تم امیر لوگ گاڑی میں بیٹھ کر اپنے اپ کو سڑکوں کا مالک سمجھ بیھٹے ہو جو تمھیں ہم جیسے غریب بھی نظر نہیں آتے اور ہمارے نقصان کرکے تم امیر دفع ہوجاتے ہو ۔۔

بیلک برقعے میں لڑکی جس کی صرف گرے آنکھں نظر آرہی تھی ۔وہ غصے سے سامنے والے کو باتیں سنارہی تھی ۔لیکن سامنے والا باتیں سن کب رہا تھا وہ تو ان گرے آنکھوں میں ڈوبا ہواتھا ۔ ابے لڑکی تمیز سے بات کرو تمیں معلوم بھی ہے تم کس سے بحث کر رہی ہو ۔۔

ایک گارڈ نے آگے اتے ہوے کہا ۔۔کیوں یہ کہیں کا شہزادہ ہے ۔گرے آنکھوں والی نے طنزیہ مسکرا کہا ۔۔۔

تم تمیز سے بات کرو تمھارے سامنے DM کھڑا ہے گارڈ نے غصے سے کہا ۔۔

گرے آنکھوں والی لفظ DM پر ہی اٹک گی ۔۔۔

سامنے والی شخصیت منہ پر ماسک لگاے کھڑا تھا نہ اس کی صرف آنکیھں دیکھ رہی تھی ورنہ اس شخصیت اور چہرہ آج تک کوئ دیکھ نہ سکا تھا ۔۔۔

کییییییییااااااااا ہاےےےےےےےےےے ڈڈدددییی اییییییممممممم ۔۔۔

محمل نے تو یہ سنتے ہی چہکتے اور چیخ کر کہا ۔۔

وہ تو مگن ہو گی تھی ان نیلی آنکھوں میں ۔۔

محمل نے چلانے پر ڈی ایم ہوش کی دنیا میں آیا ۔۔۔

پاگل ہو گی ہو لڑکی کیسے چلا رہی تو ۔۔

ایک گارڈ نے کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوے غصہ سے کہا ۔۔

لیکن یہاں سن کون رہا تھا ۔۔

محمل اور ڈی ایم ایک دوسرے کی آنکھوں میں مگن تھے ۔۔

کیا میں ہاتھ لگا سکتی ہو ۔۔ یہاں سے چلو

محمل نے جیسے ہی ڈی ایم کے ماسک کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی وہی ڈی ایم نے محمل کا محمل کا ہاتھ پیچھے کرتے سب کو یہاں سے چلنے کو کہا ۔۔۔

ڈی ایم نے اپنی حالت پر قابو پاتے کہا ۔۔

افففف یہ میری ہاٹ بیٹ اتنی تیز کیوں ہے جیسے باہر آ جاے گا کتنی لڑکیوں کو دیکھا ہے میں نے لیکن یہ گرے آنکھوں کو دیکھ کر میرے دل کی ایسی حالت ۔۔

ڈی ایم نے گاڑی میں بیٹھتے ہوے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے ہوے سوچا ۔۔۔

نہیں میں ڈی ایم ہو اور ڈی ایم کی زندگی کا مقصد بس اپنی چندہ کو تلاش کرنا ہے اسی کے لیے میں آج تک زندہ ہو ۔۔

ڈی ایم نے غصہ سے سوچا ۔۔۔

ہاےےےے چلا گیا ۔۔۔

مسکان کو بتاتی ہو میں گھر جا کر ۔۔

محمل نے افسوس سے دور جاتی گاڑی کو دیکھ کر کہا ۔۔۔

————————————————————

مسکان میری ہے اسے میں بہت جلد آپ سب سے دور لے جاٶ گا ۔۔

ایک لڑکے نے اصغری بیگم کو دیکھ کر کہا ۔۔

نہیں تم نہیں لے جا سکتے چھوڑو مسکان کا ہاتھ ۔۔

اصغری بیگم نے چلاتے ہوے کہا ۔۔

میں آپ کے ساتھ جاو گی مجھے نہیں رہنا یہاں سب نے جھوٹ بولا تھا میرے ساتھ ۔۔

مسکان نے لڑکے کا ہاتھ پکڑتے اصغری بیگم کی طرف غصہ سے دیکھتے ہوے کہا ۔۔

نہیں مسکان رک جاو ۔۔

مسکانننننن۔۔

اصغری بیگم نے زور سے چلاتے ہوے کہا ۔۔

پھوپھو کیا ہوا آپ کو یہ پانی پی لے ۔۔

محمل جو سیدھی مسکان سے ملنے کے لیے مراد منیشن آی تھی لیکن جیسے ہی گھر داخل ہوی اصغری بیگم کی چلانے کی آواز سن کر کمرے میں بھاگی۔۔

اصغری بیگم نیند میں چلا رہی تھی ۔۔۔

تتت تم کب آی بیٹا ۔۔

اصغری بیگم نے اپنا پسینہ صاف کرتے محمل کے پریشان چہرے کو دیکھ کر پوچھا ۔۔۔

میں ابھی ۔۔

بھای کو فون کرو آپ کی طبیعت خراب لگ رہی ہے ۔۔

محمل نے ایک دفعہ پھر پوچھا ۔۔

ارے بیٹا میں ٹھیک ہو تم مسکان سے ملنے آی ہو شاہد لیکن وہ گھر نہیں ہے ۔۔

اصغری بیگم نے بدل ٹالنی چاہے جس میں کامیاب بھی ہوی ۔۔

جی اسی سےملنے آی تھی لیکن اب میں چلتی ہو اپنا خیال رکھنا آپ شام کو آو گی ابھی پاپا گھر اکیلے ہے ۔۔

محمل نے کھڑے ہوتے کہا ۔۔۔

اچھا جاو تم ۔۔

شکر ہے خواب تھا میں کبھی یہ حقیقت نہیں ہونے دو گی ۔۔

اس انسان کی وجہ سے میں نے ہادی کے ساتھ مسکان کی رشتہ جوڑا تھا تاکہ وہ ہمارے پاس رہے ۔۔

مراد بھی نہیں مانا ورنہ مسکان میرے پاس ہمیشہ رہتی ۔۔

اگر کبھی مسکان کو سچ پتہ چل گیا وہ تو نفرت کرے گی مجھے سے یا کبھی وہ انسان مسکان کے سامنے آ گیا تو ۔۔

نہیں نہیں میں ایسا کبھی نہیں ہونے دو گی ۔۔

اصغری بیگم مسلسل پریشانی میں سوچ رہی تھی ۔۔۔