Dadhkan By Rania Mehar Readelle50327 Last updated: 10 November 2025
Rate this Novel
Dadhkan (Episode 1)Dadhkan (Episode 2)Dadhkan (Episode 3)Dadhkan (Episode 4)Dadhkan (Episode 5)Dadhkan (Episode 6)Dadhkan (Episode 7)Dadhkan (Episode 8)Dadhkan (Episode 9)Dadhkan (Episode 10)Dadhkan (Episode 11)Dadhkan (Episode 12)Dadhkan (Episode 13)Dadhkan (Episode 14)Dadhkan (Episode 15)Dadhkan (Episode 16)Dadhkan (Episode 17)Dadhkan (Episode 18)Dadhkan (Episode 19)Dadhkan (Episode 20)Dadhkan (Episode 21)Dadhkan (Episode 22)Dadhkan (Episode 23)Dadhkan (Episode 24)Dadhkan (Episode 25)Dadhkan (Episode 26)Dadhkan (Episode 27)Dadhkan (Episode 28)Dadhkan (Episode 29) 2nd Last EpisodeDadhkan (Episode 30) Last Episode
Dadhkan By Rania Mehar
حسن تم مجھے یہاں کیوں لاے ہو ۔۔۔
اکبٰری نے گاڑی سے باہر نکلتے ہوے حسن سے پوچھا ۔۔
جو کہ ایک کوٹھے کے دروازے کے پاس کھڑے تھے ۔۔۔
جان تم اندر چلو میرے ساتھ تیمں وہ سب ملے گا جس کی تم حقدار ہو ۔۔
حسن نے چہکتے ہوے
اکبٰری کو اندر لے کر چلا گیا ۔۔۔
یہ تو کوٹھا ہے تم مجھے یہاں کیوں لاے ہو ہم تو نکاح کرنے والے تھے ۔۔
اکبٰری نے حیرت سے پوچھا ۔۔
ہاہاہاہاہاہا کیا نکاح تم جیسی لڑکیاں نکاح نہیں کرتی ارے یار تم جیسی لڑکیاں دو دن کی محبت کے لیے اپنے ماں باپ کی سالوں کی محبت چھوڑ کر ایک انجان انسان کے ساتھ گھر سے بھاگ جاتی ہے تم نکاح کی بات کرتی ہو ۔۔۔
حسن نے اکبٰری پر ہنستے ہوے کہا ۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ تم امیر نہیں ہو کیا ۔۔
اکبٰری کو کچھ غلط ہوتا محسوس ہوا تبھی اس نے گھبراتے ہوے پوچھا ۔۔۔
نہیں میں کہاں امیر میں اس کوٹھے کا ملازم ہو جو لڑکیاں پھس کر یہاں لاتا ہو اور تمہاری جیسی آ بھی جاتی ہے ۔۔
چچچچچچ افسوس ۔۔
حسن نے طنز کرتے کہا ۔۔۔
دھوکا دیا تم نے میں تمہاری جان لے لو گی ۔۔۔
اکبٰری کو حقیقت معلوم ہوتے طش کے عام میں حسن کو مارنے کے لیے آگے بڑھی ۔۔۔
رکو جانمن تم تو ویسے ہی کسی کی جان نکال دو ۔۔۔
اسے سے پہلے اکبٰری کچھ کرتی جب وہاں ایک خوش شکل آیا ۔۔۔
تم کون ہو ۔۔۔
اکبٰری اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوتے بولی ۔۔۔
میں اس کوٹھے کا مالک قمر خان ویسے تم خوبصورت ہو میرے کام آ سکتی ہو ۔۔۔
قمر نے اکبٰری کا گال چھوتے ہوے کہا ۔۔۔
چھوڑو مجھے میں حسن سے محبت کرتی ہو اس سے نکاح کرو گی اس کی وجہ سے میں سب کچھ چھوڑ کر آی تھی ۔۔۔
اکبٰری نے غصہ سے قمر کو دیکھتے حسن کا کہا جو اب شراب پی کر بے ہوش ہوا پڑا تھا ۔۔۔
دیکھو تم اب گھر بھی نہیں جا سکتی کیونکہ گھر چھوڑ آی تم اور تمہاری جیسی لڑکی سے کون شادی کرے گا تمیں یہ دو دن کی محبت نظر آی وہ محبت نہیں نظر آی جو تمہارے ماں باپ بھای بہن کرتے تھے ۔۔۔
تم پیسے پر مری ہو تو میرے ساتھ رہو میں تمیں وہ ہر چیز دو گا جو تمیں چاہے ۔۔۔
قمر نے اکبٰری کو بہلاتے ہوے کہا ۔۔
وہ اسے جانے نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔۔
ہاں بات تو ٹھیک تمہاری اور یہ جاہل انسان مجھے کیا دے گا ویسے بھی میرے ماں باپ کو بھی پراوہ نہیں ہونی تو میں کیوں یہ آفر چھوڑ دو ۔۔
تم مجھے ہر وہ چیز دو گے مطلب پیسہ۔۔
اکبٰری نے چہکتے ہوے پوچھا ۔۔۔
اسے زرا پرواہ نہیں تھی وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ کیا کر کے آی تھی اگر فکر تھی تو پیسوں کی۔۔۔
ہاں ضرور اب تم میری ہو ان سب کو اپنا سمجھو تم ۔۔۔۔
قمر نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔
وقت کا کام تھا گزرنا جو کہ گزر رہا تھا ۔۔۔۔
اصغری اور انور کے درمیان کچھ بھی صیح نہیں ہوا تھا بلکہ وہ جب بھی اصغری کو دیکھتا اسے اپنی ناکام محبت یاد آتی ۔۔
انور اپنا غصہ اصغری کو مار پیٹ کر نکلتا ۔۔۔
اصغری اپنا نصیب سمجھ کر خاموش ہو جاتی ۔۔۔
دو سال اکٰبری کو ہو گے تھے قمر کے ساتھ رہے ۔۔۔
اسے اتنی دولت ملی تھی کہ کوٹھے اب وہ اکٰری کی بجاے ریشم بیگم کے نام سے مشہور ہو گی تھی ۔۔۔۔
خان یہ اولاد تمہاری اور میری ہے کیوں نہیں سمجھ رہے تم ۔۔۔
اکبٰری نے غصہ سے قمر سے کہا ۔۔
نہیں ہے یہ میری اولاد سمجھی پتہ نہیں کس کی ہو گی میں نہیں مانتا یہ پتہ نہیں کس کس کے ساتھ رہی ہو تم ۔۔
قمر نے شراب پیتے ہوے کہا ۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی سمجھے تمہاری ہی ہے تم جانتے ہو میں ایسی نہیں تھی پہلے ۔۔۔
اکبٰری نے قمر کا گریبان پکڑتے غصہ سے کہا ۔۔۔
اوقات میں رہو سمجھی اگر زیادہ زبان چلائ تو ابھی کہ ابھی مار دو گا ویسے بھی کوئ نہیں جانتا تم کہاں ہو زندہ بھی ہو یا نہیں ۔۔۔
دور رہو مجھ سے ۔۔
قمر نے غصہ سے دور کرتے کہا ۔۔
ٹھیک ہے مجھے بھی یہ اولاد نہیں چاہے ۔۔۔
اکبٰری نے نفرت سے کہا ۔۔
ہاں جو مرضی کرو ۔۔۔
جاو دفع ہو اب یہاں سے ۔۔
قمر نے حقارت سے کہا ۔۔۔
--------------------------------------------------------
