172.3K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 2)

Dadhkan By Rania Mehar

امی کیا سوچ رہی ہے آپ

۔مراد فریش ہوتے اصغری بیگم کو پریشان دیکھ کر قریب آتے ہوے پوچھا ۔۔

مراد اتنی دیر ہو گی مسکان نہیں آی ۔

اصغری نے پریشانی سے بتایا ۔۔

امی کیوں بار بار اس کا نام لے کر میرا دماغ خراب کر دیتی ہے ۔

ایک دن چھٹی کا ہوتا ہے وہ بھی منحوس گزرتا ہے ۔۔

صبح سے اس کا ذکر سن سن کر دماغ خراب ہو رہا ہے

میں تو شکر کر رہا تھا آج وہ میرے سامنے نہیں ہے ۔۔

مراد نے غصے سے کہا ۔۔

سبز آنکھیں غصے سے سرخ انگارہ ہوگی تھی ۔۔

بیٹا آخر تم ۔۔

نہیں امی اس کی حمایت میں اگر آپ کچھ بولیں گی ۔۔

تو میں چلا جاو گا بلکہ میں جا ہی رہا ہو ۔

آپ اپنی مسکان کے ساتھ سنڈے انجواے کرے ۔

آجاو گا رات کو ۔

مراد غصے سے کہتا اصغری بیگم کی بات سنے بنا چلا گیا ۔۔

پتہ نہیں کب اس کے دل دماغ سے نفرت ختم ہو گی ۔۔

یا الللہ میرا بیٹا اتنا سخت دل کیسے ہو سکتا ہے ۔

اتنا سخت دل کم عمری میں ہی ہو گیا ۔۔

کہ اپنے نام کے ساتھ اپنے باپ کا نام لگانا گوارہ نہ سمجھا ۔۔

اصغری بیگم سوچتے ہوے پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔

کاش آپ نے وہ سب نہ کیا ہوتا

تو آج میرا بیٹا اتنا سخت دل نہ ہوتا ۔۔

اصغری نے اپنے شوہر کو یاد کرتے ہوے سوچا ۔۔

پتہ نہیں اس پتھر دل میں کب دھڑکن آے گی ۔۔

یا الللہ میرے بیٹے کا دل بدل دے اس کی دھڑکن واپس کر دے ۔

اصغری بیگم نے آج بھی روتے ہوے دعا کی ۔

وہ تھک چکی تھی ۔

اپنے بیٹے کو پتھردل بنتا دیکھ کر ۔

جس کے پاس دل تو تھا شاہد دھڑکن نہیں تھی ۔۔

ہر جذبات سے عاری انسان تھا ۔

————————————————————

“آسمان میں جیسے بادل ہو رہے ہیں ۔

ہم دھیرے دھیرے پاگل ہو رہے ہیں ۔””

مسکان زور شور سے گاتی ہوی سائیکل پر سوار موج مستی میں مگن گھر میں داخل ہوی ۔۔

اپنے دھیان میں میں وہ دیکھ نہ سکی اور اس کا ٹکراٶ سامنے آتے مراد سے ہوا ۔۔۔

مسکان کو دیکھ کر مراد کے ماتھے پر ہزاروں بل پڑے ۔

بیلو جنیز وائٹ ٹاپ ٹیل پونی گلے میں سٹائل ڈوپٹہ سیٹ کیے جوگر پہنے بہت ہی کیوٹ لگ رہی تھی ۔۔

ہلیو کھڑوس سڑیل انسان ۔

مسکان نے مسکراتے ہوے مراد کو پکارا ۔۔

بکواس کم کیا کرو اور تمیز سے بات کیا کرو ۔

مراد نے غصے سے کہا ۔۔

تمیز کا دائرہ مجھ میں نہیں ہے

۔سڑیل انسان کیونکہ ساری تمیز تو آپ کے اندر چلی گی میرے لیے تو کچھ بچا ہی نہیں

۔مسکان نے قہقہ لگاتے ہوے کہا ۔۔

کہاں دفع ہو گی تھی امی صبح سے پریشان ہے اس بے حیا منگیتر کے ساتھ جانا ہوتا ہے تو امی کو بتا کر دفع ہوا کرو ۔

وہ پیچھے پریشان رہتی ہے ۔

مراد نے نہایت بیزاریت سے کہا ۔۔

مسکان کا اس کے سامنے ہونا مراد کو غصہ دلا رہا تھا ۔۔

اس بے حیا منگیتر کے پلے بھی آپ لوگوں نے ہی باندھا ہے ۔

اور میں آپ کو بتانا گوارا نہیں سمجھتی کہاں تھی کس کے ساتھ تھی ۔

آپ جاکر اپنی سڑیل شکل پر غور کرے سڑ سڑ کر کالے ہوتے جارہے کسی نے اپنی بیٹی بھی نہیں دینی

۔مسکان قہقہ لگاتے ہوے وہاں سے بھاگ گی ۔۔

ہے ہی بے شرم اور بے حیا لڑکی

آخر بیٹی کس کی ہے اسی بے شرم ماں کی جس کی وجہ سے میری ماں محبت سے محروم رہی

مراد غصے سے سوچتا ہوا باہر چلا گیا ۔۔۔

————————————————————

کیا ہوا شکیلہ بھاگی کیوں آ رہی ہو ۔

سر تاج نے پریشانی سے پوچھا ۔۔

ارے سرتاج مجھے بچا لے آج میری خیر نہیں مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گی ۔۔

ہوا کیا ہے

۔سرتاج نے گھبراہٹ سے پوچھا ۔۔

وہ میر صاحب کی کافی بناتے وقت پتہ ہی نہیں چلا اس میں نمک ڈال دیا ۔۔

میں جب کپ دے کر واپس آی تو پھر یاد آیا

لیکن جب میں دوبارہ واپس کمرے میں گی میر صاحب اٹھ چکے تھے

۔اب میں کیا کرو ۔۔

شکیلہ نے اپنی پریشانی بتای ۔۔

جب دونوں کو میر کی گرنج در آواز سنای دی ۔۔

آج تو تمہارا اللہ حافظ ہے

۔سر تاج نے افسوس سے کہا اور میر کے کمرے میں چلا گیا ۔۔

بابا بابا

شکیلہ سر تاج

میر نہایت غصہ سے سب کو بلا رہا تھا ۔۔

اس کی آنکھیں سرخ ہو گی تھی ۔۔

کیا ہوگیا ہے بیٹا کیوں اتنا غصہ ہو رہے ہو ۔

تیمور صاحب نے پریشانی سے پوچھا ۔۔

بابا کیسے فضول نوکر ہے آپ کے پاس ایک کافی بھی نہیں بنانے آتی ۔

انھیں کس کام کے لیے رکھا ہے ۔

میر نے غصہ سے کہا ۔۔

شکیلہ اور سرتاج کانپ رہے تھے ۔۔

جاو آپ لوگ تیمور صاحب نے ان کی حالت دیکھتے ہوے انھیں وہاں سے بجھنا بہتر سمجھا ۔۔

بابا آپ کیوں اتنے نرم دل ہے ۔

میر نے حیرانی سے پوچھا ۔

بیٹا نرم دل ہونا پڑتا ہے

۔غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہے

۔تیمور صاحب نے سمجھاتے ہوے کہا ۔۔

لیکن میں ان میں سے نہیں ہو

۔میر کی نظر میں غلطی نہیں گنا ہ ہوتا گناہ ۔۔

میر نے غصہ سے کہا ۔۔

اچھا چھوڑو یہ سب میں

سوچ رہا ہو تمہاری شادی کر دو ۔۔

تیمور صاحب نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔

سوچے گا بھی نہ بابا

۔لڑکی ذات کی میری زندگی میں کوی گنجائش نہیں ہے ۔نفرت ہے مجھے اس عورت ذات سے جو اپنے مفاد کے لیے کسی کا خیال نہیں کرتی ۔۔

میر غصہ سے چلایا ۔۔۔

بیٹا اتنا سنگ دل مت بنو ۔۔

اس دل کے دروازے کھولوں گے تو ہی محسوس کر سکو گے

۔محبت چاہیت کتنا خاص جذبہ ہے ۔

تیمور صاحب نے افسودگی سے کہا ۔۔

نہیں بابا اس دل کے دروازے نہیں کھول سکتا ۔

میرے پاس دل تو ہے لیکن دھڑکن نہیں

اور مجھے دھڑکن کی چاہ ہے بھی نہیں ۔۔

مجھے نہیں ضرورت کسی بھی لڑکی کی

میرے پاس آپ ہے میرے لیے یہی کافی ہے ۔۔

میر نے تیمور صاحب کے گلے لگتے ہوے شدت جذبات سے کہا ۔۔

میر کا سفید دوھیا چہرہ غصے سے لال ہو گیا تھا ۔۔

لیکن بیٹا ہر عورت ایک جیسی نہیں ہوتی تم ایک دفعہ سوچو تو سہی ۔۔

تمیور صاحب نے ایک دفعہ پھر سمجھایا ۔۔

ہر عورت دھوکے باز دغاباز ہوتی ہے فریب ہے عورت جو اپنے مفاد کے لیے اپنے بچوں کا بھی نہیں سوچتی ۔۔

میر نے نہایت ضبط سے کہا ۔۔

لیکن تمہاری ما۔۔

نہیں ہے وہ میری ماں سمجھے آپ کتنی دفعہ کہو میں ۔۔

میر نے تمیور صاحب کی بات کاٹتے ہوے چلا کر کہا ۔۔

میں آفس جا رہا ہو بابا اپنا خیال رکھنا ۔۔

میر تیمور صاحب کو کہتے گھر سے نکل گیا تھا ۔۔

ہاےےے میرے بیٹے کا پتہ نہیں کیا ہو گا ۔۔

کون سی ایسی لڑکی ہو گی جو اسے برداشت کرے گی ۔۔

تمیور صاحب نے افسوس سے سوچا ۔۔

————————————————————

تم بہت پیاری ہو محمل میں تم سے بہت محبت کرتا ہو

تم کرتی ہو مجھ سے محبت ۔۔

لڑکے نے محمل سے پوچھا جو مسلسل لڑکے کو گھور رہی تھی ۔۔

ہاں میں بہہہہہہہ۔۔۔۔

آہہہہہہہہ مسکان کی بچی یہ کیا تھا بغیرت لڑکی ۔۔

محمل جو اپنے خواب میں مگن تھی

جب اچانک اوپر پانی گرنے پر بوکھلاتے ہوے جاگتی مسکان کو سامنے دیکھ کر غصہ سے بولی ۔۔

میں نے کیا کیا ہے جاہل عورت ۔۔

مسکان نے ببل چباتے ہوے انجان بنتے ہوے پوچھا ۔۔

کیییییییاااا کیا کی کچھ لگتی ۔

۔ہاےےے میرا خواب پورا ہوتے رہ گیا کیا تھا کچھ دیر بعد آتی میں اپنی محبت کا اظہار ہی کر لیتی ۔۔

محمل نے آہ بھرتے ہوے کہا ۔۔

اچھا وہ خواب جو زور دیکھتی ہو ہاے پاگل لڑکی جس لڑکے کے پیچھے تم پاگل ہو کبھی دیکھا ہے اسے یا اس نے تمیں کبھی دیکھا ہے ۔۔

کیا جانتی ہو اس کے بارے میں تم

یہ ہی کہ اس نے لڑکی کی عزت بچا دی

سپمل یہ بات اور کچھ جانتی ہو اس کے بارے میں عیجب لڑکی ہو ۔۔

مسکان نے محمل کی معصوم شکل دیکھ کر کہا ۔۔

بکواس بند کرو اتنا اچھا ہے وہ ہاےےے ساری دنیا جانتی ہے اسے ہاں کبھی کسی نے دیکھا نہیں ہے اسے ۔۔

محمل نے بگڑے موڈ سے کہا ۔

۔اسے برا لگا تھا مسکان کی باتیں سن کر ۔۔

افففف محمل کی بچی تم ایسی کیوں ہو وہ لڑکا نہیں سہی کیسے پاگل ہو رہی ہو ۔۔

مسکان نے ایک بار پھر سمجھایا ۔۔

تم۔۔

اچھا آو گھر چلے ہم دونوں مجھے بتانا بھی کہ خواب میں اس DM کے بچے نے کیا کہا ہے تمیں ۔۔

مسکان اس سے پہلے ایک دفعہ پھر بولتی جب محمل کی رونی شکل دیکھ کر بات بدل گی ۔۔

(محمل نے جب سے DM کے بارے میں سنا تھا تب سے اس کے پیچھے پاگل ہوی تھی ۔۔جس کی شکل آج تک کسی نے نہیں دیکھی تھی وہ کیسا ہے کہاں رہتا ہے کوئ بھی نہیں جانتا تھا ۔۔

اگر سب کو پتہ تھا تو یہ کہ DM سب برے لوگوں کو اس کے انجام تک پہنچتا تھا ۔۔

لڑکیوں کی عزت کی حفاظت کرتا ہے قتل غارت کرتا ہے ۔۔محمل تو DM کے بہادری دیکھ کر ہی فین ہو گی تھی ۔۔)..

————————————————————

”””

اب تو ہوش ہے نہ خبر ہے یہ کیسا اثر ہے

تم سے ملنے کے بعد ۔۔۔

دلبر دلبر دلبر دلبر ”””

اوووو دلبر دلبر دلبر ۔۔

مراد جیسے ہی گھر میں داخل ہوا اسے گھر میں شور سنائ دیا ۔

۔گانے کے بول سن کر مراد کو غصہ آ گیا ۔۔

اس کا رخ مسکان کے کمرے کی طرف تھا ۔۔

سامنے کا منظر دیکھ کر مراد کو نہایت شرمندگی ہوی کیونکہ اس کی غلطی تھی بنا ناک کیے وہ کمرے میں انٹر ہو گیا ۔۔

مسکان اور محمل جو بنا ڈوپٹے کے ڈانس میں مصروف تھی ۔۔

مراد ان کا ڈانس دیکھ کر ہی غصہ میں آ گیا ۔۔

محمل اور مسکان نے جیسے ہی مراد کی طرف دیکھا تو دونوں نے ایک ساتھ چلانا شروع کر دیا ۔۔

مراد نے فورا اپنے کانوں پر ہاتھ رکھا ۔۔

منہ بند کرو پاگلوں امی جاگ جاے گی ۔۔

مراد کا غصہ دیکھ کر محمل شرمندہ ہوگی جبکہ مسکان مسکرا رہی تھی ۔۔

اور اس کی مسکراہٹ مراد کو بری لگتی تھی ۔۔

محمل اتنی رات ہوگی تم اس وقت یہاں اس پاگل کے ساتھ یہ تماشہ کر رہی ہو ۔۔

اسے تو عقل نہیں تم تو سمجھدار ہو ۔

تم جانتی ہو امی کو شور سے گھبراہٹ ہوتی ہے اور ماموں کو گھر اکیلا چھوڑ آی تم جانتی ہو ان کی بھی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی ۔۔

مراد نے افسوس سے کہا ۔۔

بھای میں سو رہی تھی یہ منحوس ہی مجھے یہاں لے آی ۔ہاےےے میں تو خواب میں اپنے DM کو دیکھ رہی تھی ۔۔

محمل نے شرمندہ ہوتے کہا ۔۔

اسے تو عقل چھو کے بھی نہیں گزری چلو تم اب گھر جاو ۔۔

شاباش

۔مراد نے DM کا نام سن کر طنزیہ مسکراہٹ سے محمل کو دیکھ کر کہا ۔۔

وہ بھی جانتا تھا محمل کو وہ پسند ہے ۔۔

محمل تو مسکان کو بنا دیکھے ہی چلی گی ۔۔

اسے خوشی تھی اب وہ دوبارہ خواب دیکھ سکتی ہے ۔۔

اگر تمہارا نام مسکان رکھ دیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہر وقت اپنے چہرے پر مسکان ہی سجاے رکھو۔۔۔

کبھی سنجیدہ بھی ہو جایا کرو ۔۔

مراد نے نہایت غصہ سے کہا ۔۔

اسے مسکان کی مسکراہٹ بالکل پسند نہ تھی ۔۔

کیوں آپ کو کوئ تکلیف پیش آتی ہے

۔میرے مسکرانے سے ۔

خود تو آج تک نہ مسکراے ۔۔

خود دوسروں کو مسکراتا ہوا دیکھ کر جلتے رہتے ہے ۔۔

مسکان نے قہقہ لگاتے ہوے کہا اور واش روم چلی گی ۔۔

پاگل لڑکی پتہ نہیں کب جان چھوڑے گی ہماری ۔۔

مراد نے غصے سے سوچا ۔۔

————————————————————

بہروز صاحب کیا لے گے ۔۔

پنتیس سالہ ریشم جو میک اپ سنگار کی وجہ سے اس وقت وہ پچیس سالہ لڑکی لگ رہی تھی ۔۔

دوھیا رنگ ڈارک براٶن آنکھیں کندھے تک آتے براٶن بال اس کی خوبصورتی کو ظاہر کر رہے تھے ۔۔۔

جو بھی ایک بار اس کی طرف دیکھتا بس دیکھتا رہتا ۔۔

ہر شخص کی پسند تھی ریشم جو اپنا آپ سب کے سامنے پیش کرتی تھی ۔۔

تم اچھے سے جانتی ہو مجھے کیا چاہیے ۔۔

بہروز نے غلیظ نگاہوں سے دیکھتے ہوے کہا ۔۔

اس سے پہلے ریشم کچھ بولتی جب آٹھ سالہ معصوم سا بچہ بھاگتا ہوا آرہا تھا ۔۔

اماں بہت بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو دو ۔۔

بچے نے نہایت غصہ سے کہا ۔۔

لفظ اماں پر بہروز اور ریشم وہی اٹک گے ۔۔

یہ تیمں اماں کہہ رہا ہے کیا تمہارا بچہ ہے ۔۔

بہروز نے سامنے اس بچے کو دیکھا جس کی آنکھوں میں اس وقت ایک وحشت تھی چہرے پر اٹھ سال کی ہی عمر میں ایک عیجب سی وحشت اور غصہ تھا ۔۔

بہروز تو اس بچے کو دیکھ کر حیران تھا اتنی کم عمری میں اتنا غصہ اور وحشت اس کی آنکھوں میں

نہیں یہ میرا بیٹا نہیں کوٹھے میں ایسے بہت سے بچے ہے وہ ہی ہم سب عورتوں کو اماں کہہ دیتے ہے ۔۔

ریشم نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوے کہا ۔۔۔

چلو آو بیٹا کھانا دو میں

اور بہروز آپ انتظار کرنا میں آتی ہو ۔۔

ریشم مسکرا کر کہتی ہوی چلی گی ۔۔

————————————————————

کھانا چاہے تھا تجھے بغیرت کتنی دفعہ کہا ہے مت کہا کرو مجھے ماں

لیکن تجھے سمجھ نہیں آتی ۔

ریشم مسلسل اس بچے کو بلیٹ سے مار رہی تھی ۔۔

اپنا غصہ اس پر نکال رہی تھی ۔۔

اس معصوم بچے کی چینخیں ریشم پر کوئ اثر نہیں کر رہی تھی ۔۔

وہ مسلسل اسے مار رہی تھی ۔۔

اماں مت مارے کھانا ہی تو مانگا تھا ۔۔۔

اٹھ سالہ بچی نے التجا کرتے ہوے کہا ۔۔

آ تو بھی کمینی بغیرتوں تم دونوں کو کتنی دفعہ کہو نہیں ہو میں تمہاری ماں ۔۔

پتہ نہیں کہاں سے آگے میں تو چاہتی ہی نہیں تھی تم دونوں دنیا میں آو ۔۔

میں تو ختم کرنے والی تھی ۔۔

جس کی اولاد ہو اس نے تو ماننے سے ہی انکار کر دیا تھا ۔۔

میں کیسے تم لوگوں کا بوجھ سنبھالوں ۔۔

مجھے تو اپنی یہ رنگین زندگی پیاری ہے ۔۔

اگر اب ماں کہا تو دونوں کو جان سے مار دو گی ۔۔

ریشم مسلسل ان دو معصوم بچوں کو مار رہی تھی ۔۔

کیسی ماں تھی اس کا کلیجہ نہیں پھٹا ان معصوم بچوں کو مارتے ہوے ۔۔

اسے زرا رحم نہیں آ رہا تھا اپنے ہی بچوں پر ۔۔

اپنے ہی بچوں کے ساتھ کتنا غلط کر رہی تھی ۔۔

خود وہ اپنی رنگین رات میں مصروف ہوگی اور وہ دونوں معصوم بچے ساری رات روتے بلکتے وہی سو گے تھے ۔۔

آٹھ سالہ بچہ سب دیکھ اور سمجھ رہا تھا ۔۔

کم عمری میں ہی اس کا دماغ تیزی سے چلتا ہے ۔۔

آنکھیں موندنے سے پہلے وہ ایک فیصلہ کر چکا تھا ۔۔

جس پر عمل کرنا اسے ضروری لگ رہا تھا ۔۔۔