172.3K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 20)

Dadhkan By Rania Mehar

“”” تین ماہ بعد ۔۔۔۔۔

مبارک ہو ارتضٰی مجھے بہت خوشی ہوئ ۔۔۔

ہاشم نے خوشی سے گلے ملتے ہوے کہا ۔۔۔

ارتضٰی کے چہرے پر صاف خوشی دیکھائ دی رہے تھی ۔۔۔

میں بہت خوش ہو ہاشم میرے اللہٌنے مجھے یہ مقام دیا ۔۔۔

مجھے بہت بے صبری سے انتظار ہے اس دن کا جب میری اولاد میرے ہاتھوں میں آۓ گی ۔۔۔

ارتضٰی نے خوشی سے چکہتے ہوے کہا ۔۔۔

جب سے اسے پتہ چلا تھا وہ باپ بننے والا ہے تب سے وہ آسمان میں اُڑ رہا تھا ۔۔۔

بس تم بھی اب مجھے چاچو بناٶ یار ۔۔۔

ارتضٰی نے شوخ ہوتے ہاشم سے کہا ۔۔۔

اولاد کا سوچتے ہاشم کے چہرے پر مسکراہٹ آی تھی ۔۔۔۔

لو جلاد آ گیا ۔۔۔

سامنے سے آتے سنجیدہ چہرہ لے داٶد کو آتے دیکھ ارتضٰی نے طنزیہ کہا ۔۔۔

وہ اس وقت تینوں داٶد کے فارم ہاٶس آے تھے ۔۔۔۔

مبارک کو اےاے تمہاری بھی اولاد آنے والی ہے اب خود کوئ عقل کر لو ۔۔۔

یہ لڑکیوں کی طرح ہنسی مذاق کرنا چھوڑ دو ۔۔۔

داٶد نے روکھے سوکھے انداز سے ارتضٰی کے سامنے آتے کہا ۔۔۔

کیا جلاد کیوں ایسے ہو مجھے سمجھ نہیں آی تم نے مبارک دی ہے یا طنز کیا ہے ۔۔۔

ارتضٰی نے زبردستی گلے ملتے ہوے روٹھے پن سے کہا ۔۔۔۔

جو دل کرے وہی سمجھ لو تم ۔۔۔

داٶد نے اسے خود سے دور کرتے سرد انداز سے کہا ۔۔۔

دیکھو ایسا کب تک چلے گا وہ واپس۔۔۔۔

مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے سمجھے مجھے کوئ نہیں چاہے بس اپنی چندہ کے لیے یہاں پاکستان آیا ہو جیسے ہی ملے گی واپس چلا جاٶ گا ۔۔۔

ڈی ایم ہو میں جس کا کام صرف برائ ختم کرنا ہے ۔۔۔

میرے دل میں کوئ احساس نہیں ہے ۔۔۔

بہت ہو گی بات وہ کام کرے جس کے لیے آۓ تھے ۔۔۔

داٶد نے ارتضٰی کی بات کاٹتے ہوے سرد انداز سے کہتے دونوں کی طرف دیکھا ۔۔۔

ہم سب سیف ہاٶس میں جاۓ گے سن رہے ہو ۔۔۔

ماما اور تم دونوں اپنی بیویوں کو ساتھ لے آو ۔۔۔

جب تک کےکے مجھے مل نہیں جاتا تم سب وہاں رہو گے ۔۔۔

میری اجازت کے بنا کوئ باہر نہیں جاۓ گا ۔۔۔

ڈی ایم نے دونوں کو پلان سمجھاتے آخر میں یہ بات کی ۔۔۔

لیکن محمل اس کا کیا تمہاری بیوی ہے وہ ۔۔۔

ہاشم نے غصہ سے غراتے ہوے کہا ۔۔۔

بیوی اور وہ صرف نام کی تب تک جب تک میں زندہ ہو اس کے بعد کچھ نہیں میرے جیسوں کی بیوی بچے نہیں ہوتے ۔۔۔

میں اپنا بوجھ پتہ نہیں کیسے اٹھا رہا ہو ۔۔۔

داٶد نے کوفت سے کہا ۔۔۔۔

لی۔۔۔

تم سے کوئ بات نہیں کر رہا مسٹر ہاشم ۔۔۔

داٶد نے ہاشم وہی روکتے کہا ۔۔۔

میں جا رہا ہو شام تک سامان تیار کرو تم شام کو جاۓ گے ۔۔۔

داٶد نے اپنے کپڑے چیج کیے کہا ۔۔۔

ڈی ایم تم جانتے ہو وہاں کتنا خطرہ ہے سمجھتے کیوں نہیں ہو ۔۔۔

اےاے نے تڑپتے ہوے کہا ۔۔۔

میں خود چلتی پھرتی موت ہو سمجھے دور رہو میں تم سب کے لیے بھی خطرہ ہو ۔۔۔

یہ میری لڑائ ہے کےکے سے تم سب درمیان میں مت آو ۔۔۔

ڈی ایم نے اپنی براٶن لیز لگی آنکھوں سے گھورتے غراتے ہوے کہا ۔۔۔

اس دن جو ہوا اس میں تمہارا کوئ قصور نہیں تھا ۔۔۔

ت۔۔۔

میں اپنی وجہ سے کسی کی زندگی خراب نہیں کر سکتا تم لوگ جاٶ یہاں سے اب ۔۔۔

ڈی ایم نے بات کاٹتے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔۔

————————————————————

”””تین ماہ پہلے ۔۔۔۔

کیا ہوا داٶد بیٹا ایسے کیوں آ رہے ہو ۔۔۔

ڈیڈ فورًا پلیس سے سب کو لے کر باہر جاے جلدی ۔۔۔

داٶد نے بے چینی سے ہال میں آتے ہوے کہا ۔۔۔

ہوا کیا ہے جلاد ۔۔۔

ارتضٰی نے داٶد کا سرخ انگارہ چہرہ دیکھتے پوچھا ۔۔۔

پلیس بمب فٹ کیا ہے جیسے بلاسٹ ہونے میں صرف بیس منٹ رہ چکے ہے جلدی نکلو یہاں سے ۔۔۔

داٶد نے غصہ سے کہتے سب کو باہر نکالتے ہوۓ کہا ۔۔۔

لیکن ہم تمہیں ایسے کیسے چھوڑ دے بیٹا تمہاری طیبعت ۔۔۔

ڈیڈ میری قسم سب کو جلدی جاٶ یہاں سے ۔۔۔

داٶد نے طش کے عالم میں چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

وہ محمل کے جانے کے بعد سوچ رہا تھا جب ایک کال آی ۔۔۔

ہیلو کون ۔۔۔

داٶد نے فون اٹھاتے بیزار ہوتے پوچھا ۔۔۔۔

چچچچچچ ۔۔۔۔

کتنا دکھ ہوا تمہاری بیوی جا رہی چھوڑ کر افسوس ۔۔۔

کےکے نے افسوس سے بات کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔

کےکے تم اپنی اوقات میں رہ کر بات کرو ایسی موت دو گا کانپ جاٶ گے بس ایک دفعہ ملو مجھے بس ایک دفعہ ۔۔۔

داٶد نے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

ہاہاہہاہااہا پہلے اپنے گھر والوں کو تو بچا لو ۔۔۔

بڑے آے ڈی ایم کہنے والے جو اپنے گھر کا محافظ نہ ہو سکا ۔۔۔

کےکے نے طنز کرتے کہا ۔۔۔

کیا بکواس ہے یہ کتے کی موت مرو گے میرے ہاتھوں تم کےکے بس انتظار کرنا اپنی موت کا ۔۔۔

داٶد نے غراتے ہوے کہا ۔۔۔

ارے پہلے مل تو جاٶ پھر کچھ کرنا تمہارے اس خوبصورت پیلس میں بمب ہے بچا سکتے ہو تو بچا لو سب کو گرے بیوٹی کی فکر مت کر

نا میری جان ہے وہ ۔۔۔

کےےےےےےےےے تم جانتے نہیں ہو اپنی موت کو دعوت دی ہے تم نے ۔۔۔

داٶد نے نیچے بھاگتے ہوے چلاتے کہا ۔۔۔

جبکہ کےکے اب ہنستے ہوۓ فون بند کر چکا تھا ۔۔۔۔

سارے باہر آ گے ۔۔۔

داٶد نے سب کو باہر نکالتے پوچھا ۔۔۔۔

اس وقت سارے پیلس سے باہر نکل کر کھڑے تھے ۔۔۔

محمل بیٹا نہیں ہے ۔۔۔

تیمور صاحب نے سب کو دیکھتے کہا ۔۔۔

مسکان اور ثانیہ ڈری ہوئ کھڑی تھی ۔۔۔

واٹٹٹ ڈیڈ اب بتا رہے ہے صرف دس منٹ رہ گے ہے ۔۔۔

داٶد نے اندر جاتے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

نہیں تم اندر نہیں جاٶ گے جلاد ہم ڈھونڈ لے گے بھابھی کو کیا پتہ وہ اپنے گھر چلی گی ہو ۔۔

ارتضٰی نے تڑپتے ہوے داٶد کی بازو پکڑتے ہوے کہا ۔۔۔

میرے لیے اسے بچانا ضروری ہے میں جانتا ہو وہ کس طرف گی ہے ۔۔

تم دونوں ان سب کو ہنیڈل کرو ۔۔۔

داٶد نے اندر جاتے ہوے کہا ۔۔۔

ہاش۔م۔ہاشم محمل کو کچھ ہو گا تو نہیں ۔۔۔

مسکان نے روتے ہوے ہاشم کے گلے لگی بولی ۔۔۔

ریلکس مسکان کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔

داٶد بچا لے گا ۔۔۔

ہاشم نے اس کا سر سہلاتے ہوے کہا ۔۔۔

مسکان اس کے گلے لگی بھول چکی تھی وہ ناراض ہے اس سے اگر اسے یاد تھا تو صرف اتنا کہ محمل کی جان خطرے میں تھی ۔۔۔

———————————————————–

محمل محمل تم آدھر ہو آو میرے ساتھ ۔۔۔

داٶد نے لان میں آتے محمل کو دیکھتے کہا ۔۔

محمل جو لان میں سکون سے بیٹھی سوچ رہی تھی ۔۔۔

ک۔کہاں اور تم کیوں آے ہو ۔۔۔

محمل نے ڈرتے ہوے پوچھا ۔۔۔۔

پلیس بمب ہے تمہاری جان بچانی ضروری ہے ۔۔۔

یہاں سے جاٶ بس دو منٹ رہ گے ہے ۔۔۔

جاٶ جلدی ۔۔۔

داٶد نے محمل کو دھکا دیتے جلدی جانے کو کہا ۔۔۔

لیکن تم ۔۔۔

محمل نے ڈرتے ہوے پوچھا تھا ۔۔۔

میری فکر مت کرو محمل جاٶ یہاں سے جلدی ۔۔

داٶد نے اب کی دفعہ اسے گود میں اٹھاتے بھاگتے ہوے کہا تھا ۔۔۔۔

لیکن میں نہیں جا رہی تم مذاق کر رہے ہو ۔۔۔

داٶد نے جب اسے گود سے اتارتے لان سے باہر نکالا تب محمل نے روٹھے پن سے کہا ۔۔۔

افففف پاگل لڑکی جاٶ جلدی پانچ منٹ رہ چکے ہے ۔۔۔۔

داٶد نے دور جاتے کوفت سے کہا تھا ۔۔۔۔

جبکہ محمل وہی سکون سے کھڑی تھی ۔۔۔

شیٹ پاگل لڑکی صرف بیس سکینڈ رہ گے ہے ۔۔۔

داٶد نے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

تم ایسے نہیں مانو گی کیوں تنگ کرتی ہو مجھے ۔۔۔

داٶد نے پاس جاتے ہاتھ پکڑتے بھاگتے ہوے کہا تھا ۔۔۔

کیونکہ تم جھوٹ بول رہے ہو ۔۔۔۔

یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے ۔۔۔

محمل نے بات کرتے ہوے کہا جب داٶد نے اسے اپنے گلے لگاتے ہوے کھڑا ہوا ۔۔۔۔

تبھی محمل چیختی بولی ۔۔۔

ڈرنا مت بس مجھے زور سے پکڑنا ۔۔۔

داٶد نے یہ کہتے سوئمنگ پول میں جمپ کیا تھا ۔۔۔۔

آہہہہہہہ آہہہہہہہ

دونوں اس وقت پول کی گہری میں ڈوبۓ ہوے تھے جب محمل چیخی ۔۔۔

وہی پورا داٶد پیلس بمب سے اڑ چکا تھا ۔۔۔۔

بمب بلاسٹ کی آواز سنتے محمل بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔

————————————————————

جلادددددد اندر ہے مجھے جانا ہے ۔۔۔

ارتضٰی نے بلاسٹ ہوتے دیکھ تڑپ کر کہا تھا ۔۔۔

پورا پیلس آگ میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔

ریلکس ارتضٰی داٶد ٹھیک ہے تم اتنا پینک مت کرو ہم اتنے بزدل نہیں ہے ۔۔۔

ہاشم نے ارتضٰی کو پکڑتے سمجھاتے ہوے کہا ۔۔۔

فائر والوں کو فون کرو جلدی ۔۔۔

تیمور صاحب نے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

جبکہ سب گاڈرز آگ بجھانے میں مصروف تھے ۔۔۔

———————————————————–

یہ تو بے ہوش گی باہر بھی نہیں نکل سکتا ۔۔۔

باہر پورا پیلس گرنے کو تیار ہے ۔۔۔

ایک ہی کام کر سکتا ہو ۔۔

داٶد نے بے ہوش ہوئ محمل کو دیکھتے سوچا ۔۔۔

اس وقت دونوں پول کے اندر کھڑے تھے ۔۔۔

جیسے تیسے کرتے داٶد نے پول کے اندر بنے سکیرٹ روم کے اندر لے کر آیا ۔۔۔۔

روم ایک انسان کے رہنے کے لیے بنایا گیا تھا ۔۔

جس میں ساری چیزیں رکھی گی تھی ۔۔۔

بیڈ پر لٹاتے ہوے محمل کو داٶد بڑے غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

محمل آنکھں کھولو ۔۔۔

داٶد نے چہرہ تھپتپاتے ہوے کہا ۔۔۔۔

اسے تو سانس بھی کم آ رہا ہے کیا کرو ۔۔۔

داٶد نے سانس چیک کرتے پریشان ہوتے سوچا ۔۔۔

تمہیں کچھ نہیں ہو گا چاہے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے ۔۔۔

داٶد نے کچھ سوچتے ہوے اس کا پیٹ دبایا ۔۔۔

منہ سے پانی نکل رہا تھا ۔۔۔

لیکن محمل ہوش میں نہیں آئ تھی ۔۔۔

سی پی آر دینا ہو گا ۔۔۔

کافی کوشش کے بعد جب محمل ہوش میں نہ آی تب داٶد نے سوچا ۔۔۔

تمہاری جان بچانی ضروری ہے میرے لیے ۔۔۔

داٶد نے یہ کہتے ہی اپنے لب محمل کے لبوں پر رکھ دیے تھے ۔۔۔

وہ آہستہ آہستہ اپنی سانسوں کو محمل کی سانسوں میں منتقل کر رہا تھا ۔۔۔۔

کافی کوشش کے بعد محمل ہوش میں آتی اپنی آنکھوں کو کھولا ۔۔۔

دور رہو مجھے سے نفرت ہے مجھے تم سے ۔۔۔

گھن آتی ہے مجھے جب سوچو

تم قاتل ہو ۔۔۔

محمل نے اپنے اوپر جھکے داٶد کو غصہ سے پیھچے کرتے چلاتے ہوے بولی ۔۔۔

تم ٹھیک ہو شکر ہے میں ڈر گیا تھا جان ۔۔۔

داٶد نے اگنور کرتے خودی پاس آتے بے تابی سے پوچھا ۔۔۔

میری بے ہوش کا فائدہ اٹھا رہے تھے ۔۔۔

اپنی ہوس پوری کرنا چاہتے تھے ۔۔

جس کے لیے شادی کی تھی تم نے ۔۔۔

نفرت ہے مجھے تم سے سمجھے ۔۔۔

میں ایک خونی کے ساتھ نہیں رہ سکتی ۔۔

محمل سب کچھ بھول چکی تھی اگر یاد تھا تو صرف اتنا داٶد اس کے بے حد قریب تھا ۔۔۔

تبھی غصہ سے چلاتے جو دل میں آیا بول گی ۔۔۔

تم کچھ بھی نہیں جانتی تب۔۔

مجھے جانا بھی نہیں ہے سمجھے تم خونی ہو تمہاری وجہ سے ہم سب خطرے میں رہتے ہے ۔۔

یہ بمب بلاسٹ بھی تمہاری وجہ سے ہوا کیونکہ تم قاتل ہو ۔۔

تمہاری وجہ سے ہم سب مر جاتے تمہارا کیا جاتا کچھ بھی نہیں ۔۔

میرے پاپا بھی تمہاری وجہ سے اس حال میں پہنچے ہے ۔۔۔

محمل نے غصہ سے بولتی پھٹ پڑی تھی ۔۔۔

جبکہ یہ سب باتیں سن کر داٶد کا چہرہ سرخ انگارہ ہو چکا تھا ۔۔۔

تم صیح کہتی ہو میری وجہ سے سب کچھ ہوا ۔۔

میری وجہ سے چندہ نہیں رہی میرے پاس ۔۔

آج کے بعد تمہیں یہ داٶد میر نہیں سامنے دیکھے گا ۔۔۔

بس ایک بات یاد رکھنا میں چھوڑو گا کبھی نہیں تمہیں رہائ میرے مرنے کے بعد ہی ملے گی سمجھی ۔۔۔

داٶد نے غصہ سے غراتے ہوے کہا ۔۔۔

میری دعا ہے جلدی مر جاٶ میری جان چھوٹ جاۓ گی ۔۔۔

محمل نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔۔

إن شاءالله وہ دن بھی جلدی آ جاے گا ۔۔۔

داٶد نے سکون سے جواب دیا تھا ۔۔۔۔

———————————————————–

ان تین ماہ میں سب کچھ بدل گیا تھا ۔۔۔

مسکان کبھی کبھی ہاشم کو بلا لیتی تھی ۔۔۔

گھر کا سارا کام کرنا وہ سکھ چکی تھی ۔۔۔

ثانیہ ارتضٰی اپنی زندگی میں بہت خوش تھے ۔۔

اب تو اپنی آنے والی اولاد کا انتظار کر رہے تھے دونوں ۔۔۔

محمل اور داٶد کی اس دن کے بعد کبھی ملاقات نہیں ہوئ تھی ۔۔۔

محمل اپنے گھر واپس جا چکی تھی ۔۔۔

داٶد تیمور صاحب کو چھوڑ کر اپنے فارم ہاٶس رہتا تھا ۔۔۔

سب سے دور چلا گیا تھا ۔۔۔

پہلے جو بولتا تھا اب بلکل خاموش ہو چکا تھا ۔۔

زیادہ بے رحم بن چکا تھا وہ ۔۔

کسی پر رحم نہیں کرتا تھا ۔۔۔

کےکے کو ڈھونڈنے میں اس نے بہت محنت کی تھی ۔۔۔

لیکن ناکام رہا ۔۔۔

تیمور صاحب سے بس وہ فون پر بات کرتا تھا اگر اس کا دل کرے تب ورنہ وہ خاموش رہتا تھا ۔۔

————————————————————

ہلیو مسکان کیسی ہو ۔۔۔

محمل نے فون پر چکہتے ہوے پوچھا ۔۔۔

اس وقت محمل اپنے گھر کے بیڈ روم میں اکیلی بیٹھی تھی ۔۔۔

میں بلکل ٹھیک تم ایسا کرو شام کو میری طرف آ جاٶ ۔۔۔

میرا موڈ بھی ٹھیک ہو جاے گا پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے ۔۔۔

مسکان نے اداس ہوتے کہا ۔۔۔

کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے نہ ۔۔۔

محمل نے جلدی سے فکر مندی سے پوچھا ۔۔

یار کچھ نہیں ہوا آج ہم سب مل لے گے میں ثانیہ بھابھی کو بھی کہتی ہو ۔۔۔

اور ہاں وہ ریڈ ساڑھی پہن کر آنا اچھا ۔۔۔

مسکان نے جلدی جلدی کہتے فون کاٹ دیا تھا ۔۔۔

————————————————————

شکریہ مسکان تم نہیں جانتی تم نے کتنا بڑا احسان کیا ہے ۔۔

وہ بلکل جلاد بن چکا ہے پہلے محمل کی وجہ سے بولنے لگ گیا تھا لیکن اب وہ بے حس انسان بن چکا ہے ۔۔

مجھے یقین ہے آج محمل کو دیکھ کر وہ جلاد ضرور پاگل ہو گا ۔۔۔

ہاشم نے مسکان کے ہاتھ پکڑتے خوش ہوتے کہا ۔۔۔

اس کا پلان تھا سب آج ایک دوسرے سے مل لے ۔۔۔

تبھی مسکان کو فون کرنے کا کہا ۔۔۔

ہاتھ چھوڑو میرا محمل میری بہن ہے میں کچھ بھی کر سکتی ہو ۔۔

زیادہ ٹھرکی ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔

مسکان نے منہ بناتے ہاتھ چھڑوا کر کہتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔

بہت جلد تمہیں بتاٶ گا میں کتنی محبت کرتا ہو تم سے ۔۔۔

ہاشم نے مسکراتے ہوے خود سے کہا ۔۔۔

————————————————————

یہ ساری پہن تو لو پر وہاں ڈی ایم نہ ہو بڑی شرم آے گی مجھے ہاے ۔۔۔

شیشے کے سامنے کھڑی محمل خود پر ساڑھی لگتے خوش ہوتی بولی ۔۔۔

وہ ان تین ماہ میں اپنے پاپا کے پاس آ چکی تھی ۔۔

مختار صاحب کوما سے باہر آ چکے تھے ۔۔۔

انھوں نے بہت سمجھایا تھا محمل کو لیکن اس نے کسی کی نہیں سنی تھی ۔۔۔

اس عرصے میں محمل نے دوبارہ داٶد سے نہ رابطہ کیا تھا نہ ہی دیکھا تھا ۔۔۔۔

وہ سکون سے رہ رہی تھی ۔۔۔

لیکن میں تو نفرت کرتی ہو نہ اس سے ۔۔۔

محمل نے معصوم سی شکل بناتے ہوے سوچا ۔۔۔

میں تو ڈی ایم کی فین ہو نہ کوئ نفرت نہیں ہے مجھے ۔۔۔

محمل نے دل کو بہلاتے ہوے سوچا ۔۔۔

ہاے آج اگر وہ مسٹر کھڑوس ہوا میں اسے نہیں بلاٶ گی ۔۔۔

کیا تھا آج حالات کچھ اور ہوتے میں سب کو فخر سے بتاتی ڈی ایم میرا شوہر ہے ۔۔۔۔

ویسے اب بھی بتا سکتی ہو ۔

محمل مسلسل کھڑی سوچ رہی تھی ۔۔۔۔

میں بس مسکان سے ملنے جا رہی ہو بس وہ کھڑوس آے میں نہیں بات کرو گی ۔۔۔

محمل نے دل کو سمجھاتے ہوے کہا ۔۔۔

اب جلدی سے تیار ہو جاتی ہو ۔۔۔

پھر جلدی بھی واپس آ جاو گی ۔۔

محمل نے بیڈ پر گرتے ہوے سوچا ۔۔۔

جبکہ یہ سب کوئ اپنی نیلی آنکھوں سے محمل کی حرکیتں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

———————————————————–

ڈرامہ کوئین ۔۔۔

ڈی ایم نے مسکراتے ہوے طنز کیا ۔۔۔

ان تین ماہ میں کبھی نہ ہوا تھا ڈی ایم محمل کی ایک بھی حرکت سے غافل ہوا ہو ۔۔۔

پورے مختار ہاٶس میں ڈی ایم نے کیمرے لگاۓ تھے ۔۔

یہاں تک محمل کے بیڈ روم میں بھی ۔۔۔

وہ خاموشی سے روز لیپ ٹاپ پر محمل کی حرکیتں دیکھتا تھا ۔۔۔

میری ہو صرف میری کبھی خود سے جدا نہیں کرو گا ۔۔۔

چاہے کچھ بھی ہو جاۓ ۔۔۔

ڈی ایم نے محمل کو دیکھتے سوچا ۔۔۔

جو اب ساڑھی لیے واش روم جا رہی تھی ۔۔۔

————————————————————

السلام و علیکم ڈیڈ ۔۔۔

داٶد نے ہال میں آتے تیمور صاحب کو سلام کیا ۔۔۔

وعلیکم السلام بیٹا کیسے ہو میری جان ۔۔۔

تیمور صاحب نے دیوانہ وار چومتے محبت سے کہا ۔۔۔

تین ماہ بعد آج اسے ملنے آے تھے ۔۔۔

کیوں آے ہے آپ پتہ بھی ہے جان کو کتنا خطرہ ہے ۔۔۔

داٶد نے گلے لگاتے ہوے کہا ۔۔۔۔

جان کی فکر نہیں مجھ جنرل ہو کوئ ہاتھ تو لگاے ویسے بھی اتنا بہادر بیٹا ہے میرا ۔۔۔

تیمور صاحب نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔۔۔

میرا بیٹا تو اور زیادہ خوبصورت ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔

مسلسل خاموش بیٹھے داٶد کو متوجہ کیے تیمور صاحب نے کہا ۔۔۔

بیلو جیز ریڈ شرٹ پہنے جس میں اس کا کسرتی جسم دیکھ رہا تھا ۔۔۔

اپنے براٶن بالوں کو جیل سے سیٹ کیے ۔۔۔

نیلی آنکھوں میں سنجیدگی لیے وہ واقعی خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔۔۔

آپ جاۓ اب ڈیڈ ہم پھر ملے گے ۔۔۔۔

داٶد نے بے بسی سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔

تیمور صاحب کی بات کو اگنور کیا تھا اس نے ۔۔۔

میں ویسے ہی کچھ دنوں کے لیے لندن جا رہا ہو ۔۔۔

تم اپنا اور میری بیٹی کا خیال رکھنا ۔۔۔

اور ہاں جلد ہی مجھے دادا بننے کی خوشخبری سناٶ میں اپنے پوتے پوتی سے کیلھنا چاہتا ہو ۔۔۔

تیمور صاحب نے تفصیل سے کہا ۔۔۔

آپ جلدی آنا ڈیڈ مجھے ویٹ رہے گا آپ کا ۔۔۔

داٶد نے ضبط کرتے کہا ۔۔۔۔

کیوں ایسے بن گے ہو ۔۔

محمل کو اپنے پاس لے کر آو مجھے خوشخبری سناٶ کچھ زیادہ ضدی ہو چکے ہو ۔۔۔

تیمور صاحب کو اپنی بات اگنور ہوتے محسوس کرتے زرا سختی سے بولے ۔۔۔

(ہاں آپ کی بیٹی مجھے منہ لگانے کو راضی نہیں آپ کو خوشخبری کی پڑی ہے ۔۔۔۔

پہلے مجھے تو اپنے قریب آنے دے وہ ڈرامہ کوئین ۔۔۔۔)….

داٶد سر جھکاتے مسلسل بڑبڑا رہا تھا ۔۔۔۔

کیا بولے ہو ۔۔۔

تیمور صاحب نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔۔

کچھ نہیں ڈیڈ آپ سکون سے جاۓ گا ۔۔۔۔

میں بھی جلد آنے کی کوشش کرو گا ۔۔۔

داٶد نے بات بدلتے تسلی دیتے کہا ۔۔۔۔

بیٹا پلیز محمل کو اپنے پاس لے آو مجھ پتہ وہ تمہاری محبت ہے ۔۔۔

تیمور صاحب نے التجا کرتے کہا ۔۔۔

جی ڈیڈ ۔۔۔

داٶد بیزار ہوتا بولا ۔۔۔

———————————————————–

ارے وہ جلاد نہیں آیا کیا ۔۔۔

یار اس کو بھی لے آتے مجھے چین نہیں آ رہا جب تک اسے نہ چھڑ لو ۔۔۔

ارتضٰی نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

وہ سب مراد میشن آے ہوے تھے ۔۔۔

کیا بھائ آپ کو سکون راس نہیں آ رہا جو اس کھڑوس کو بلا رہے ہے ۔۔۔

محمل نے ڈرتے ہوے بولی اسے ڈر تھا واقعی وہ آ نہ جاے ۔۔۔

محمل صیح کہا رہی ہے ۔۔۔

جب سے ڈی ایم نے دھمکی دی ہے مجھے تب سے مجھے بھی ڈر ہے ۔۔۔

شکر ہے نہیں آیا ۔۔۔

ہاشم نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

صبح سے شام ہو چکی تھی داٶد ابھی تک نہیں آیا تھا ۔۔۔

کیا کہتے ہے وہ خاموش رہتے ہے آپ سب ایسے ڈرتے ہے جیسے وہ مارتے ہے آپ سب کو ۔۔۔

مسکان نے منہ برا بناتے کہا ۔۔

اسے داٶد کے خلاف بات بری لگی تھی ۔۔۔

ارے جان تم نہیں جانتی اسے وہ جلاد ہے پورا ۔۔۔۔۔

ہاشم نے مسکان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے مسکراتے ہوے کہا تھا ۔۔۔

جبکہ مسکان ہاشم کا لمس پاتے کانپ گی تھی ۔۔۔

یہ موقع کا فائدہ نہ اٹھایا کرو سمجھے نہیں تو ابھی بتاتی میں تمہیں مجھے چھونے کی ہمت کیسے کی ۔۔۔

مسکان نے دانت پیستے سرگوشی کی ۔۔۔

کیسا موقع بیوی ہو میری ۔۔۔

چھو سکتا ہو سمجھی ۔۔۔

ہاشم نے مسکان پر گرفت سخت کرتے اپنے نزدیک کیا ۔۔۔

ارے او بھای بیڈ روم نہیں ہے یہ سمجھے ۔۔۔

ارتضٰی سے کنٹرول نہ ہو سکا تبھی بول پڑا ۔۔۔

مسکان تو بات سن کر شرمندہ ہو چکی تھی ۔۔۔

جبکہ ہاشم دانت نکال رہا تھا ۔۔۔

تجھے کیا تکلیف ہے میرا گھر ہے منہ بند کر ۔۔۔

ہاشم نے اترتے ہوے کہا ۔۔۔۔

ہاں تم اس کھڑوس کو جانتی نہیں ہو ۔۔

گھورتا ایسے ہے جیسے ابھی کھا جاۓ گا ۔۔۔

بولتا تو واقعی نہیں لیکن

اس کا گھورنا ہی کافی ہے ۔۔۔

روکو ابھی بتاتی ہو ۔۔

محمل غصہ سے اپنی جگہ سے اٹھتی بولی تھی ۔۔۔

مطلب تم بھی ڈرتی ہو ان سے ۔۔۔

مسکان نے محمل کی شکل دیتے کہا جہاں صاف ڈر دیکھ رہا تھا ۔۔

ارے میں کیوں ڈرو گی اس جلاد سے ڈرتی ہے میری جوتی میرے سامنے وہ بولتا بھی نہیں ہے ۔۔۔

ایسے خاموش ہو کر گھومتا ہے جیسے میں اسے مار دو ۔۔۔

محمل داٶد کی نقل اتارتے بتا رہی تھی ۔۔۔

محمل مسلسل داٶد کی نقل اتار کر سب کو دیکھا رہی تھی ۔۔۔

سب ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے ۔۔

اور پتہ۔۔

آہہہہہہہہ۔۔۔

اس سے پہلے محمل کچھ بولتی جب ارتضٰی اچانک چیخ پڑا ۔۔۔

باقی سب سکتے کی حالت میں چپ ہو گے تھے ۔۔۔

کیا ہوا ارے بھای میں جلاد نہیں ہو ۔۔

آپ سب تو ایسے ڈر گے جیسے جلاد واقعی آ گیا ہو ۔۔۔

میں ہو یہاں وہ نہیں آتا ۔۔۔

ریلکس ہو آپ سب ۔۔۔

ا۔۔۔۔

محمل کی چلتی زبان کو بریک لگی تھی جب اسے اپنی کمر پر کیسی کی انگلیاں چلتی ہو محسوس ہوئ ۔۔۔

————————————————————

داٶد جیسے ہی مراد منشن انٹر ہوا سامنے والا منظر دیکھ کر وہی روک چکا تھا ۔۔۔

جہاں سارے محمل کی حیرکتوں سے ہنس رہے تھے ۔۔۔۔

جبکہ محمل اپنی ساڑھی کا پلو پکڑے مستی کر رہی تھی ۔۔۔

داٶد سامنے محمل کو تیار ہوتا پاس جا رہا تھا ۔۔۔

سہنری بالوں کو کھولا چھوڑے جو کمر سے نیچے جا رہے تھے ۔۔۔

ریڈ ساڑھی پہنے وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔

پاس جاتے داٶد نے سب کو گھورا تبھی سب ڈر کے بیٹھے چکے تھے ۔۔۔

میری ڈرامہ کوئین میری اتنی یاد آ رہی تھی کیا ۔۔۔

محمل کی کمر پر گرفت سخت کرتے داٶد نے سرگوشی کرتے کہا ۔۔۔

داٶد کی آواز سن کر محمل کی سانس اٹک چکا تھا ۔۔۔۔

خوش فہمی ہے تمہارے ۔۔۔

محمل نے خود پر قابو پاتے کہتی وہاں سے بھاگ چکی تھی ۔۔۔

————————————————————

آپ پتہ یہ کہتے آپ مارتے ہے ان سب کو ۔۔۔

مسکان پاس بیٹھی داٶد کو بتا رہی تھی ۔۔۔

جو کب سے سکون سے بیٹھا مسکان کی پٹر پٹر چلتی زبان سن رہا تھا ۔۔۔

باقی سب خاموش تھے ۔۔

جبکہ محمل دل میں جل رہی تھی ۔۔۔

کبھی اس نے بھی داٶد کے ساتھ اتنی باتیں نہیں کی تھی جتنی مسکان کر چکی تھی ۔۔۔

اچھا میں تو نہیں مارتا کیسی کو ۔۔۔

داٶد نے معصوم سی شکل بناتے ہوے کہا ۔۔۔

اے مجھے مار زرا یہ جلاد کیوں تیری بیوی سے نرمی سے بات کرتا ہے ۔۔۔

کتنا بولتی ہے یہ اگر میں بولتا تو یہ جلاد مجھے مار چکا ہوتا ۔۔۔

ارتضٰی نے جیلس ہوتے کہا ۔۔۔

کہا برداشت کر سکتا تھا کوئ ڈی ایم کے قریب بھی آے ۔۔۔

مارنے کا دل تو بہت ہے لیکن موڈ نہیں بس تو دعا کر یہ جلاد کی چندہ نہ ہو ورنہ میرا اللہٌحافظ ہو گا ۔۔۔

ہاشم نے اپنی فکر کرتے کہا ۔۔۔

میری دعا ہے ہو اس کی چندہ تیری بیوی

مر تو اب بلکہ میں خود تمہیں قبر میں ڈالو گا ۔۔۔

ارتضٰی نے بھڑاس نکالتے ہوے کہا ۔۔۔

دفع ہو جا منحوس ۔۔

ہاشم نے لات مارتے ہوے کہا ۔۔۔۔

————————————————————

آپ ڈی ایم ہے ۔۔۔

ڈنر کرنے کے بعد سب ایک دوسرے سے بات کرنے میں مصروف تھے ۔۔۔

جب ثانیہ ڈرتی ہو داٶد کے پاس آتی بولی تھی ۔۔۔

یہ تمہارے لیے گفٹ لیا ہے گڑیا ۔۔۔

اتنا تو پتہ نہیں تمہیں پسند آے گا یا نہیں لیکن میں نے لے لیا ۔۔۔

داٶد نے بات اگنور کرتے ایک گفٹ کا بوکس اسے دیتے کہا ۔۔۔

پتہ میری خواہش تھے آپ سے ملنے کی کتنا اچھا کام کرتے ہے ۔۔

مجھے فخر ہے ۔۔آپ پر پتہ نہیں محمل کیوں نفرت کرتی ہے آپ سے ۔۔

آپ ایسا کرے اسے سب سچ بتا دے وہ مان جاۓ گی ۔۔۔

ثانیہ نے گفٹ لیتے ہمت کرتے بات پوری کی ۔۔۔

ارتضٰی کا خیال رکھنا تم مجھے پتہ تم بھی محبت کرتی ہو اس سے ۔۔۔

محمل محبت نہیں کرتی ورنہ مجھے جانتی وہ لیکن خیر ریلکس رہو اچھا اچھا سوچ ٹھیک ۔۔۔

داٶد نے بات بدلتے ثانیہ کو حوصلہ دیتے کہا ۔۔۔

ل۔۔۔

ارتضٰی تمہیں پتہ نہیں ہے کیا گڑیا کی طیبعت نہیں ٹھیک ٹائم سے گھر لے کر جاٶ ۔۔

رات کافی ہو رہی ہے ۔۔۔

داٶد نے بات کاٹتے ارتضٰی کو متوجہ کرتے غصہ سے بولا ۔۔۔

چل میں چلتا ہو اس جلاد نے مجھے چھوڑنا نہیں ہے ۔۔۔

ارتضٰی ہاشم سے ملتے جاتے ہوے کہا رہا تھا ۔۔۔

————————————————————

محمل تم یہاں رہ لیتی اب اتنی رات کو گھر کیوں جاٶ گی ۔۔

ویسے بھی موسم خراب بہت ہے ۔۔۔

مسکان نے محمل کو روکتے ہوے کہا ۔۔۔

نہیں پاپا اور پھوپھو وہاں اکیلے ہو گے میں چلی جاٶ گی فکر نہ کرو ۔۔۔

محمل نے سکون سے جواب دیا ۔۔

تم سر کے ساتھ چلی جاٶ مجھے سکون رہے گا پلیز ۔۔۔

مسکان نے داٶد کی طرف دیکھتے کہا جو خود جانے کے لیے باہر نکل گیا تھا ۔۔۔

لی۔۔۔

تم جاٶ گی ورنہ میں یہی روک لو گی ۔۔۔

مسکان نے گھورتے ہوے کہا ۔۔۔

چلو مرو تم بھی اس جلا

د سے ۔۔

ہاشم نے دانت پیستے ہوے کہا ۔۔۔

داٶد نے سب سے بات کی تھی ۔۔

اگر اس نے بات نہیں کی تھی وہ ہاشم اور محمل ان دونوں کو داٶد نے فل اگنور کیا تھا ۔۔۔

————————————————————

سر سر آپ پلیز محمل کو گھر تک چھوڑ دے گے ۔۔۔

میں نے منع کیا تھا پر مانی نہیں یہ آپ لے جاے گے تو میرے دل کو تسلی رہے گی ۔۔۔

باہر بھاگتے آتے مسکان نے ایک ہی سانس میں داٶد کے پاس آتی بولی ۔۔۔

ہممممم۔۔۔

داٶد ساری بات سنتے گاڑی میں بیٹھ چکا تھا ۔۔۔

میں نے بکواس کی تھی نہ یہ بولتا نہیں اس کے پیسے خرچ ہوتے ہے ۔۔۔

اب پتہ نہیں اس جلاد نے ہاں کہا ہے یا نہ ۔۔

محمل مسکان کے کان میں سرگوشی کرتے بولی ۔۔۔

چل بیٹھ جا آی بڑی بولنے والی ۔۔

مسکان نے محمل کو گاڑی میں دھکا دیتے کہا ۔۔۔

————————————————————

ثانیہ یار آرام کرو چلو اندر چلے موسم خراب ہو رہا ہے ۔۔۔۔

گھر واپس آنے کے بعد ثانیہ نائٹ ڈریس پہنے ٹیرس پر کھڑی ٹھنڈی ہوا انجواۓ کر رہی تھی ۔۔۔

جب ارتضٰی نے بیک ہگ کیے کہا ۔۔۔۔

میرا دم گھٹ رہا تھا یہ ٹھنڈی ہوا بہت مزے کی ہے ۔۔۔

ثانیہ نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔

پیاری تو تم بھی بہت ہو جانِ ارتضٰی ۔۔۔

ارتضٰی نے ثانیہ کا رخ اپنی طرف کرتے بہکے ہوے انداز سے کہا ۔۔

چلے ہم اندر ۔۔۔

ثانیہ ارتضٰی کی قربت میں گھبراتے ہوے بولی ۔۔۔

اب ناممکن ہے جان میری محبت ہو تم اتنا تو تمہارا بھی حق بنتا ہے میری شدت برداشت کر سکو ۔۔۔

ارتضٰی نے ثانیہ کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتے کہا ۔۔۔

ثانیہ نے کوئ مزاحمت نہیں کی تھی وہ سکون سے بارش میں بھیگی ارتضٰی کا لمس محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

————————————————————

یہ والی جگہ جانا ہے ۔۔۔

محمل نے ایک سنسنان جگہ کو دیکھتے داٶد سے کہا تھا ۔۔۔

جو صرف خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا ۔۔۔

وہاں سے جانا خطرہ ہے ۔۔

یہ راستہ ٹھیک ہے ۔۔۔

داٶد نے راستہ دیکھتے انکار کیا ۔۔۔

تم بھی تو خطرہ ہو میرے لیے یہ خطرہ تم سے کب سے ہم وہاں سے جاۓ گے ۔۔۔

محمل نے جان بوجھ کر طنز کرتے کہا ۔۔۔

ہمممم۔۔۔

داٶد نے خاموشی سے گاڑی اس راستے پر ڈال دی تھی ۔۔۔

————————————————————

اب یہ کیا مصیبت ہے ۔۔۔۔

میں جتنا جلدی چاہتا ہو اس بلا سے جان چھوٹ جاۓ ۔۔۔۔

اتنا ہی یہ میرے پاس آ رہی ہے ۔۔۔۔

داٶد نے راستے پر بڑا پتھڑ دیکھتے بیزار ہوتے بولا ۔۔۔۔

مجھے بھی شوق نہیں ہے تمہارے ساتھ رہنے کا سمجھے ۔۔۔

محمل غصہ سے کہتی گاڑی سے نکل چکی تھی ۔۔۔۔

اففف یہ ڈرامہ کوئین ۔۔۔

داٶد کوفت سے کہتا باہر نکل چکا تھا ۔۔۔۔

اب کیا دیکھ رہی ہو اٹھاٶ ۔۔۔

داٶد نے پاس جاتے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔

وہ مسلسل پتھڑ کو اٹھانے میں مصروف تھی ۔۔۔۔

تم اٹھا لو یہ باڈی کس چیز کے لیے بنائ ہے ۔۔۔

میں دیکھو آج تم یہ کام کرتے ہو یا نہیں ۔۔۔

محمل نے اکتاۓ ہوے انداز سے کہا ۔۔۔۔

تم گاڑی میں بیٹھ جاٶ میں یہ کر لو گا ۔۔۔

داٶد نے پتھڑ اٹھاتے ہوے کہا ۔۔۔

(ہاے اٹھا لیا اس نے زبردست شوہر کس کا ہے میرا ۔۔۔)…

محمل داٶد کو دیکھتی دل میں سوچا ۔۔۔

اسے خود سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کیا فیل کرے داٶد کے لیے ۔۔۔۔

———————————————————–

تم یہاں کیا کر رہی ہو جانِ ہاشم ۔۔۔

مسکان جو بارش ہوتے دیکھ چھت پر کپڑے لینے آی تھی ۔۔۔

جب ہاشم نے اسے اپنی حصار میں لیتے کہا ۔۔۔

ت۔م۔تم یہاں کیسے پیچھے ہٹو مجھے جانا ہے ۔۔۔

مسکان نے گھبراتے ہوے اسے دور کیا ۔۔۔۔

نہیں مسکان آج نہیں تم میری محبت ہو ۔۔۔

میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتا ۔۔۔

میری غلطی کی سزا دو لیکن یہ مجھے سے دور مت جاٶ۔۔۔

ہاشم نے مسکان کا رخ اپنی طرف کرتے اس کا ماتھا چومتے ہوے کہا ۔۔۔

لی۔۔۔۔

ششششش یہ لمحے محسوس کرنے دو مجھے شاہد یہ کبھی واپس آ یا نہیں ۔۔۔

مسکان کو چپ کرواتے ہاشم نے مسکان کی گردن پر لب رکھے ۔۔۔۔

مسکان خاموش کھڑی ہاشم کی گستاخیاں برداشت کر رہی تھی ۔۔۔۔

وہ خود اسے دور کرنا چاہتی تھی لیکن کر نہیں پا رہی تھی ۔۔۔

میں تمہارے ہر دکھ کا ازالہ کرو گا مسکان بس یقین کرنا مجھ پر ۔۔۔

ہاشم نے مسکان کے لبوں کو فوکس کیے کہا ۔۔۔

مجھے جانا ہے چھوڑے ۔۔۔۔

مسکان ہاشم کی آنکھوں میں طلب دیکھتی دور جاتی بولی ۔۔۔۔

میں کہہ رہا ہو نہ آج نہیں ۔۔۔

ہاشم نے مسکان کو دوبارہ قریب لاتے کہتا اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ چکا تھا ۔۔۔۔

دونوں ایک دوسرے میں مدہوش ہو چکے تھے ۔۔۔

————————————————————

اب سردی لگ رہی ہے کیا ۔۔۔۔

داٶد نے سردی سے کانپتی محمل کو دیکھتے طنز کرتا بولا ۔۔۔۔

نہیں گرمی لگ رہی ہے کھڑوس جاہل انسان سب تمہاری وجہ سے ہوا ۔۔۔۔

گاڑی بھی خراب ہو گی ہم گھر بھی نہیں جا سکتے ۔۔۔۔

محمل نے جلتے ہوے داٶد پر الزام لگاتی بولی ۔۔۔

واٹ میں کون بارش انجواۓ کر رہا تھا ۔۔۔

مرو اب یہاں گاڑی بھی نہیں چل رہی اور سگنل بھی یہاں نہیں ہے ۔۔۔

داٶد نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔۔

بارش شروع ہو چکی تھی جب وہ جانے لگے تھے ۔۔۔

لیکن بارش کی دیوانی محمل وہی کھڑی بارش انجواۓ کر رہی تھی ۔۔۔

اور داٶد بھی سب کچھ بھولے بارش میں بھیگتی محمل کو دیکھنے میں مصروف ہو چکا تھا ۔۔۔۔

گاڑی خراب ہو چکی تھی تبھی دونوں لڑ رہے تھے ۔۔۔

وہاں چلتے ہے ایک مکان لگ رہا ہے ۔۔۔۔

محمل نے اپنے پلو کو نچوڑتے ہوے داٶد سے کہا ۔۔۔

ہاں چلو ورنہ تم بیمار ہو جاٶ گی ۔۔۔

داٶد نے نظریں چڑاتے ہوے کہا ۔۔۔۔

وہ محمل کو دیکھ کر بہک رہا تھا ۔۔۔

( بس یہ رات جلدی ختم ہو جاۓ ورنہ یہ ڈرامہ کوئین کچھ کروا لے گی مجھے سے )….

داٶد نے ساتھ چلتے ہوے دل میں سوچا ۔۔۔۔

————————————————————

تم ایسا کرو یہ شرٹ پہن لو میری اتنی گیلی نہیں ہے تمہارا کام ہو جاے گا ۔۔۔۔۔

مکان کے اندر انٹر ہوتے داٶد نے کانپتی ہوئ محمل سے کہا ۔۔۔

وہ ایک ٹوٹا ہوا کوئ کمرہ تھا جہاں صرف ٹوٹی ہوئ چارپائ پڑی تھی ۔۔۔۔

کی۔کیوں میں ایسے ہی ٹھیک ہو ۔۔۔۔

محمل نے ڈرتے ہوے کہا ۔۔۔

مرو پھر ایسے ہی تمہیں راس ہی نہیں ہے میں تمہاری مدد کرو ۔۔۔

داٶد نے غصہ کرتے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔۔

———————————————————–

دور رہے مجھ سے مسٹر ہاشم ۔۔۔

سمجھتے کیا ہے خود کو جب چاہا قریب آے اور جب چاہا مجھے دور کر دیا ۔۔۔۔

اس سے پہلے ہاشم کوئ گستاخی کرتا جب مسکان ہوش میں آتے دھکا دیتی چلاتے ہوے بولی ۔۔۔۔

مسکان میری جان تم غلط ۔۔۔

میں غلط نہیں سمجھ رہی آپ نے ہی اس دن میری اوقات بتائ تھی ۔۔۔

مسکان نے ہاشم کی بات کاٹتے غصہ سے بولی ۔۔۔

میں وہی ہو ایک بدکردار ماں کی بیٹی ویسی ہی بدکردار گھن آتی ہے آپ کو مجھے سے ۔۔۔

نفرت کرتے تھے ۔۔۔

پھر کیسی محبت ہو گی ۔۔۔

اس رات آپ نے اپنا حق لیا تھا ہاشم میرا قصور کیا اتنا کہ میں اس عورت کی بیٹی تھی جو اچھی نہ تھی ۔۔۔

کتنی دفعہ دیکھا آپ نے یہ میرا کتنے لڑکوں کے ساتھ رشتہ ہے ۔۔۔۔

مسکاننننننننن۔۔۔۔

مسکان کی بات سنتے ہاشم طش سے چلایا ۔۔۔۔

اب کیوں چلا رہے ہے اس دن میری بات پر یقین کیا تھا آپ نے نہیں اتنے ماہ میں چپ تھی ۔۔۔

کہ شاہد آپ کو احساس ہو اپنی غلطی کا لیکن آج پھر آپ اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے قریب آے ہے ۔۔۔

تم غلط سوچ رہی ہو مسکان میں اپنی ہر غلطی کی معافی مانگتا ہو ۔۔۔

مجھے محبت ہے تم سے ۔۔۔

تم میرا یقین تو کرو ۔۔۔

ہاشم نے مسکان کے قریب جاتے محبت سے کہا ۔۔۔

انہہ محبت ایسی نہیں ہوتی مسٹر ہاشم کہ رات کی اندھیری میں محبت جاگ جاۓ اور صبح کی روشنی میں وہی محبت دم توڑ جاۓ ۔۔۔

اسے محبت نہیں ہوس کہتے ہے ہوس ۔۔

مسکان نے شدید غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

میں آپ کو اچھا انسان سمجھتی تھ ۔۔۔۔

مسکان مسکان کیا ہوا آنکھں کھولو یار ۔۔۔

اسے سے پہلے مسکان کچھ بولتی جب مسکان بے ہوش ہوتی زمین بوس ہوی ۔۔۔

میں کچھ نہیں ہونے دو گا تمہیں ۔۔۔

ہاشم مسکان کو گود میں اٹھاتا روم میں لاتا بے بسی سے کہا رہا تھا ۔۔۔

———————————————————–

مجھے سردی لگ رہی ہے ۔۔۔۔

محمل آگ کے پاس بیٹھی منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔

داٶد نے آگ کا انتظام کر لیا تھا ۔۔۔

تو مجھے کیا بتا رہی ہو میں کیا رضائ ہو تمہاری ۔۔۔۔

داٶد نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔

محمل ساڑھی سے خود کو کور کیے مشکل سے بیٹھی تھی ۔۔۔۔

یہ لو شرٹ پہن لو ۔۔۔

داٶد نے اپنی شرٹ اتار کر دیتے کہا ۔۔۔

لیکن یہ چھوٹی اور م۔ن۔

محمل نے شرٹ دیکھتے منہ میں منمناتے ہوے کہا ۔۔۔

جاٶ فورًا پہن کر آو ورنہ مجھے پہنانے میں کوئ جھجک محسوس نہیں ہو گی ۔۔۔

داٶد نے بے باک انداز سے کہا ۔۔۔

وہ جانتا تھا محمل ایسے کبھی نہیں مانے گی ۔۔۔۔

بے شرم انسان ۔۔۔

محمل نے گھبراتے ہوے شرٹ لیتی وہاں سے اٹھ گی تھی ۔۔۔۔

———————————————————–

چا۔ر۔

چارپائ پر تم لیٹ جاٶ میں یہاں ٹھیک ہو ۔۔۔۔

داٶد نے ہکلاتے ہوے محمل کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔

جو داٶد کی شرٹ پہنے چھوٹی بچی لگ رہی تھی ۔۔۔

شرٹ اس کے گھٹنوں تک آ رہی تھی ۔۔۔

جہ۔جی ۔۔۔

محمل نے شرماتے گھبراتے ہوے حامی بھری ۔۔۔

س۔سنو تم بھی یہاں آ جاٶ ۔۔۔

کافی دیر بعد محمل نے ہمت مجع کرتے داٶد کو کہا ۔۔۔

مجھے عادت ہے ان سب کی تم فکر مت کرو سو جاٶ ۔۔۔۔

داٶد نے محمل کی طرف دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔۔

مج۔مجھے ڈر لگ رہا ہے پلیز آ جاٶ ۔۔۔

محمل نے رونی صورت بناتے ہوے کہا ۔۔۔

جو بجلی

گرج سے ڈر رہی تھی ۔۔۔

کیوں چاہتی ہو میں کچھ ایسا ویسا کر دو ۔۔۔

پھر تمہاری خیر نہیں ہونی ۔۔۔

داٶد نے بے بس ہوتے کہا ۔۔۔

تم کچھ نہیں کر سکتے ڈی ایم ہو کر سب کی عزت کی حفاظت کرتے ہو میں تو پھر بیوی ہو ۔۔۔

اگر میرے ساتھ کچھ کرنا ہوتا اس دن ہی کر لیتے جب میں بے ہوش تھی ۔۔۔

محمل نے روکتے روکتے کہا ۔۔۔

اتنا یقین ہے دیکھنا کچھ ہو نہ جاۓ ۔۔۔

داٶد نے مسکراتے ہوے پاس جاتے کہا ۔۔۔

تم آ رہے ہو یا۔۔۔۔

اس سے پہلے محمل کچھ کہتی جب داٶد قریب آتا لیٹ چکا تھا ۔۔۔

دونوں کی دل کی دھڑکن کی رفتا تیز ہوئ تھی ۔۔۔

————————————————————

تم بہت پیاری ہو دھڑکن ۔۔۔

میں نہیں چاہتا کہ تم میری کوئ بھی شدت برداشت کرو ۔۔۔

تم سہہ نہیں پاٶ گی اتنی نازک لڑکی ہو ۔۔۔

اور میں چاہتا بھی نہیں تمہیں کبھی پتہ چلے تم میری دھڑکن ہو ۔۔۔

داٶد اپنے پاس لیٹی محمل کے بالوں میں منہ دے سرگوشیاں کر رہا تھا ۔۔۔

وہ سمجھا تھا محمل سو چکی ہے جبکہ محمل جاگ رہی تھی ۔۔۔۔

دا۔۔۔

شششش

دھڑکن آج کچھ مت کہنا ۔۔۔

کتنے عرصے بعد تم میرے قریب آی ہو ۔۔۔

محمل جو داٶد کی طرف پشت کیے لیٹی تھی جب اپنے شولڈر پر داٶد کے لبوں کا لمس محسوس کرتے گھبراتی بولنے لگی تھی ۔۔۔

داٶد کے لب اب محمل کی گردن اور چہرے کو چھو رہے تھے ۔۔۔

محمل آنکھوں کو بند کیے سب کچھ محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔

نہیں۔۔

دا ۔۔۔

داٶد کے لب جب اپنی تھوڑی پر محسوس ہوے محمل نے تڑپتے ہوے روکنا چاہا ۔۔۔

داٶد اپنے ہونٹ محمل کے لبوں پر رکھ چکا تھا ۔۔۔

وہ قطرہ قطرہ اپنی سانسوں کو منتقل کر رہا تھا ۔۔۔

وہ بھول چکا تھا کہاں ہے کیا کر رہا ہے ۔۔۔

بس محمل کی خوشبو میں مدہوش ہوا تھا ۔۔۔

رات آہستہ آہستہ گزر رہی تھی ۔۔۔