172.3K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 11)

Dadhkan By Rania Mehar

کون ہو تم لوگ کیوں ہمیں یہاں بند کر کے رکھا ہے ۔۔

تم لوگ جانتے نہیں ہو کس سے پنگا لیا ہے ۔۔۔

اگر اپنی جان بچانا چاہتے ہو تو ہمیں چھوڑ دو ۔۔

اگر یہاں ڈی ایم آ گیا تو اپنی موت سے پناہ مانگو گے ۔۔۔

اےاے کرسی پر بیھٹا زور زور سے چیخ رہا تھا ۔۔

جبکہ ایچ ایم سکون سے بیھٹا اندھیر میں آس پاس کچھ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

کیوں چیخ رہے ہو جب ڈی ایم یہاں آے گا یہ ویسے ہی اپنی موت کو دیکھ کر سامنے آ جاے گے میں تو یہ سوچ رہا ہم یہاں کیسے آے ۔۔۔

ایچ ایم نے اے اے کو چپ کرواتے کہا ۔۔

کیوں نہ چیخوں میں تیمں پتہ ہے ڈی ایم میرے لیے کیا ہے میرے جینے کی وجہ ہے تم جانتے ہو۔۔۔

میں کب کا مر چکا ہوتا اگر مجھے ڈی ایم نہ ملتا میرا بھای میرا باپ دوست سب کچھ ہے ۔۔

اگر میں یہاں اس مقام تک ہو تو صرف ڈی ایم کی وجہ سے اور تم سکون سے کیوں بیھٹے ہو ۔۔۔

اےاے نے شدید جذبات میں آتے کہا ۔۔۔

ریلکس یار وہ صیح ہو گا تم فکر نہ کرو میں جانتا ہو تم کتنی محبت کرتے ہو اس سے ۔۔

ایچ ایم نے اسے پرسکون کیا جو کہ کرسی پر بیھٹا بے چین ہو رہا تھا ۔۔۔

(دونوں کو کسی غیر شخص کا فون آیا تھا جس میں یہ کہا گیا تھا ڈی ایم ان کے پاس ہے اگر وہ اسے بچانا چاہتے ہے تو اس جگہ پر آ جاے ۔۔

یہ سنتے ہی دونوں دیوانہ وار بھاگے آے تھے یہ سوچے سمجھے بنا ڈی ایم کو پکڑنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔۔

دونوں جب بتاے گی جگہ پر آے دونوں کو بے ہوش کر کے کرسیوں پر باندھ دیا تھا ۔۔۔

کافی دیر بعد جب ہوش میں آے تو اےاے نے چلانا شروع کر دیا تھا ۔۔۔)

لیکن ۔۔۔آہہہہہہہہہہہ۔۔۔۔

اس سے پہلے اےاے کچھ اور کہتا جب اچانک کمرے میں روشنی ہوی ۔۔۔

اےاے کی آنکھں اتنی تیز روشنی سے کھولنا مشکل ہو رہی تھی ۔۔۔۔

ہاہاہاہہا واہ یہ تو ڈی ایم کا فین لگتا ہے ویسے افسوس سے کہنا پڑے گا ڈی ایم کو ہم نے پکڑ لیا ہے دیکھنا چاہو گے تم لوگ اپنے اس انسان کو جس نے آج تک صرف سب کو موت دی ہے آج خود کس حالت میں ہے ۔۔۔

سامنے کھڑی فل میک اپ میں تیار نگارہ بیگم حقارت اور غصہ سے چیخ رہی تھی ۔۔۔

جبکہ وہ دونوں سامنے اسے دیکھ حیران تھے ۔۔۔

کیا بکواس ہے یہ بول کہاں ہے ڈی ایم اگر اسے کچھ ہوا تو میں تیری پہلے جان لو گا سمجھی تو ۔۔۔

اےاے طش میں آتا بولا ۔۔۔

ہممم ویسے لاڈلے لگتے ہو اس ڈی ایم کے تبھی سکون سے بیٹھ نہیں رہے تم ۔۔۔۔

نگارہ بیگم اےاے کے پاس جاتے اس کی ہیزل براٶن آنکھوں میں دیکھتے طنز کیا ۔۔۔

تم نے اپنی موت کو خود دعوت دی ہے ۔۔۔

داد دیتا ہو تمہاری ہمت کو میں ۔۔

ایچ ایم نے سکون بھرا جواب دیا ۔۔۔

بڑا غرور ہے تم لوگوں کو ہم ڈی ایم کو نہیں پکڑ سکتے چلو یہ دیکھ لو اپنی آنکھوں سے ۔۔۔

نگارہ بیگم نے غصہ سے کہتے سامنے اشارہ کیا ۔۔۔۔

جب اس ہال نما کمرے کی ساری لاٹئس آن ہوی ۔۔۔۔

ڈی ایممممممممممم ۔۔۔ نہیں نہیں یہ ڈی ایم نہیں ۔۔

سامنے والا منظر دیکھ کر ایچ ایم اور اےاے چیخ پڑے تھے ۔۔۔

دیکھو میری جان لے لو ویسے بھی کیسی کام کی نہیں تم بس میرے ڈی ایم کو چھوڑ دو ۔۔۔

اےاے نے منت کرتے کہا ۔۔۔

(اسے خود پر افسوس ہو رہا تھا وہ آج اپنے ڈی ایم کو بچا نہیں سکا ۔۔۔اتنا مجبور اس نے کبھی اپنے آپ کو محسوس نہیں کیا تھا ۔۔۔جتنا وہ آج اپنے آپ کو کر رہا تھا ۔۔۔

ایسا ہی حال ایچ ایم کا تھا ۔۔۔

وہ تینوں جو آج تک سب کی موت لیتے آے تھے آج اپنی جان جاتی محسوس ہو رہی تھی سامنے ڈی ایم کو دیکھ کر ۔۔)

———————————————————–

یہ دیکھے انور یہ ہمارا بیٹا ہے ۔۔۔

اصغری نے خوش ہوتے اپنے کچھ گھنٹے پیدا ہوے بیٹے کو دیکھ کر انور سے کہا ۔۔۔

نہیں ہے یہ میرا بیٹا نہ تم میری بیوی سمجھی یہ تمہاری اولاد ہے مجھے شوق نہیں اسے بیٹا کہنے کی ۔۔۔

انور نے اپنے بیٹے کی طرف بنا دیکھے کہا ۔۔۔

جو اپنی معصوم کی شکل بناے سکون سے سو رہا تھا ۔۔۔

بے حد خوبصورت بلکل اصغری جیسا ۔۔۔

کیوں کر رہے ایسا پورے دو سال بعد اولاد ہوئ ہماری آپ ابھی تک کیوں نہیں بھول جاتے سب ۔۔

اصغری نے روتے ہوے کہا ۔۔۔

نہیں بھول سکتا میں سب کچھ سمجھی میری محبت تھی وہ پتہ نہیں کہاں ہو گی وہ نفرت ہے مجھے تم سے اور تمہارے اس بیٹے سے سمجھی ۔۔۔

انور نے حقارت سے کہتے روم سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔

ہمممم صیح یہ میرا بیٹا ہے صرف میرا میرے دل کی دھڑکن ہے میرا ہاشم میرا بیٹا ۔۔۔

اصغری نے روتے ہوے اپنے بیٹے کا دیوانہ وار چہرہ چومتے نام رکھتے کہا ۔۔۔

وہ تھک گی تھی انور کو اپنی بے گناہی کا بتاتے بتاتے ۔۔۔۔

میرا پیارا بیٹا ہاشم آج سے میرے جینے کی وجہ ہو تم ۔۔

اصغری نے سوے ہوے ہاشم کو گلے لگاتے ہو کہا ۔۔۔

———————————————————

مبارک ہو ریشم بیگم جڑاٶں بچے ہوے ہے ایک بیٹا ایک بیٹی ماشاءالله اتنے خوبصورت ہے دیکھتے ہوے دل نہیں بھرتا ۔۔۔

کوٹھے کی ایک عورت نے اکبٰری کے پاس آتے کہا ۔۔۔

اکبٰری نے بہت کوششش کی تھی اپنی اولاد کو ختم کرنے کی لیکن ایسا نہیں ہو سکا ۔۔۔

قمر خان کب کا اسے چھوڑ کر کہی گم ہو چکا تھا ۔۔۔۔

مجھے نہیں چاہے یہ منحوس ان کی وجہ سے یہ سب ہوا نہیں ہے یہ میری اولاد نفرت ہے مجھے ان سے۔۔۔۔

اکبٰری نے نہایت غصہ سے کہا ۔۔

اس نے ابھی تک اپنے دونوں بچے نہیں دیکھے تھے جو مسلسل رو رہے تھے ۔۔۔

کیوں ایسا کر رہی ہو اللہٌکا شکر ادا کرو تمیں اولاد جیسی نعمت عطا کی میرے پاس نہیں تھی میرا شوہر مجھے یہاں کوٹھے چھوڑ کر دفع ہو گیا ۔۔۔

تم کتنی نا شکری عورت ہو ویسے ۔۔۔

کوٹھے والی عورت نے افسوس سے کہا ۔۔۔

اسے دکھ تھا کسی ماں تھی جو اپنے روتے بچوں کوچپ نہیں کروا رہی تھی ۔۔۔۔

مجھے نہیں چاہے یہ لے کر دفع ہو جاو یہ دونوں ۔۔۔

اکبٰری نے منہ موڑتے ہوے کہا ۔۔

————————————————————

ارے یہ تو سو رہا رکو میں جاگتی ہو اسے ۔۔۔

نگارہ بیگم نے سامنے بے ہوش ہوے ڈی ایم کو دیکھ کر کہا ۔۔۔

دو بازوں کو زنجیروں سے باندھا ہوا ڈی ایم اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ تیزاب کے ڈرام کے اوپر لٹک رہا تھا ۔۔۔۔

جبکہ اس کی حالت دیکھ کر اےاے اور ایچ ایم دکھ سے مر رہے تھے ۔۔۔

جب نگارہ بیگم نے پانی گرایا اس پر ۔۔۔

ویسے صیح کہا کسی نے دوستی میں سب کچھ ہوتا ہے آج دیکھ بھی لیا ۔۔۔

جس انسان کو قابو کرنے کے لیے ہم اتنی محنت اتنے ماہ سے کرتے آے ہے وہ انسان خود اپنے دوست بچانے کے لیے ہمارے پاس آ گیا ۔۔۔

نگارہ بیگم نے ڈی ایم کو ہوش میں آتے دیکھ کر کہا ۔۔۔

جو اپنی بند ہوئ آنکھوں کو کھول رہا تھا ۔۔۔

(ڈی ایم اپنی پریشانی میں اتنا تھا وہ بھول چکا تھا ۔۔۔

کہ وہ ڈی ایم ہے اگر کچھ یاد تھا تو بس اتنا اےاے اور ایچ ایم کی جان بچانی ہے ۔۔۔

تبھی جب اس پر حملہ کیا گیا وہ جلد ہی بے ہوش ہو چکا تھا ۔۔۔)…

تمیں اپنی جان نہیں پیاری تبھی میرے سامنے کھڑی ہو ۔۔۔

ڈی ایم نے اپنی حالت پر غور کرتے غصہ سے کہا ۔۔۔

چچچچچ موت کے منہ میں کھڑے ہو ابھی بھی غصہ کر رہے ۔۔۔

نگارہ بیگم نےطنز کرتے کہا ۔۔۔

ہاہاہاہا موت کے منہ میں چند سال پہلے بھی واپس لوٹ کے آ یا ہو تم اپنی فکر کرو ۔۔۔۔

ڈی ایم نے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔

بتاو میرے دوست کہاں ہے ۔۔۔

ڈی ایم نے خودی بے چین ہو کر خاموش کھڑی نگارہ بیگم کو دیکھ کر پوچھا ۔۔۔

وہ رہے تمہارے دوست ویسے کیسے دوست ہو تم لوگ جو ایک دوسرے کو بچا نہیں سکتے ۔۔۔۔

نگارہ نے تینوں کی حالت دیکھ کرافسوس سے کہا ۔۔۔۔

اوےےے اےاے میرا بچہ دیکھو میں ٹھیک ہو ..

اب یہ اداس مت ہونا ٹھیک میں تم دونوں کو کچھ نہیں ہونے دو گا اور اس عورت کو جلد ہی اس دنیا سے روانہ کرو گا ۔۔۔

فکر نہ کرو تم لوگ کیوں آے ہو یہاں ۔۔۔

ڈی ایم نے لٹکتے ہوے ریلکس انداز سے کہا جیسے اسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔۔

تم ٹھیک ہو بتاو مجھے میں اس عورت کو ابھی موت دو گا۔۔۔

اےاے نے بے چین ہو کر پوچھا ۔۔۔

جبکہ ڈی ایم کو سامنے زندہ دیکھ کر دونوں ہی پر سکون ہو چکے تھے ۔۔

اب انہیں فکر نہیں تھی چاہے موت آ جاے ۔۔۔

یہ لیٰلی مجنوں والی محبت ختم کرو اور تیار ہو جاٶ کون پہلے مرے گا ۔۔۔۔

نگارہ بیگم نے طش میں آتے تینوں کو کہا ۔۔۔

ویسے اپنا تعارف تو سن لو تم لوگ ہو کون ۔۔

نگارہ بیگم نے طنز کرتے کہا ۔۔۔

ارتضٰی رضا پلیس اےاے ۔۔۔

ہاشم مراد پیلس ایچ ایم ۔۔

داٶد میر پلیس ڈی ایم ۔۔۔

کیا لوگ ہو تم سب مافیا گینگ کی دنیا میں ایک گینگسٹر اور ہماری دنیا میں ایک فمیس بزنس مین ۔۔

نگارہ بیگم نے تینوں کی اصلیت کھولتے ہوے طنز کیا ۔۔۔

چلو شکر ہے تمیں پتہ چل گیا اب جب مرو گی تو افسوس نہیں کرو گی کہ ہیمں دیکھ نہ سکی ویسے بھی جن لوگوں کو ہم نے موت کے منہ بھیجا ہے کیسی نے ہمیں نہیں دیکھا ۔۔۔

تم خوش نصیب ہو جو ہمیں دیکھ رہی ۔۔

اےاے نے مذاق کرتے کہا ۔۔

اسے اب ٹیشن نہیں کیونکہ ڈی ایم سب کچھ کر لے گا ۔۔۔

ویسے حیرت ہے تم تینوں کیسے پرسکون ہوے ہو اپنی موت کو سامنے دیکھ کر بھی ۔۔

گینگسٹر جو ہوۓ ۔۔

نگارہ بیگم نے مسکراتے ہوے کہا۔۔۔۔

گینگسٹر نہیں ہے ہم سمجھی ۔۔۔

ڈی ایم نے غصہ سے دھاڑتے ہوے کہا ۔۔

کیوں تم لوگ فرشتے ہو ۔۔

نگارہ بیگم نے مذاق سے کہا ۔۔۔

موت ہم چلتی پھرتی موت ہے جو کہ اب تیمں آے گی ۔۔۔

ایچ ایم نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا ۔۔۔

میں تمہ۔۔۔رکو وہی خبر دار اگر تم نے ایچ ایم کو ہاتھ لگایا ۔۔۔

ڈی ایم نے نگارہ بیگم کو گن کے ساتھ ایچ ایم کے قریب جاتے روکتے ہوے کہا ۔۔۔

کیا کرو گے تم ہاں کچھ کر تو نہیں سکتے ۔۔۔

نگارہ بیگم نے ڈرتے ہوے پوچھا ۔۔۔

مقصد بتاو کیوں کیا ایسا تم نے ۔۔

ڈی ایم نے بات اگنور کرتے پوچھا ۔۔

تم چاہے کےکے کو تمہارا سر چاہے اسے اور یہ نیلی آنکھں جن میں وحشت ہے ۔۔۔

نگارہ بیگم نے غصہ میں اپنا مقصد بتایا ۔۔۔

زبردست مجھے بھی کےکے سے ملنا ہے چلو ایک ڈیل کرتے ہے منظور ہوئ تو میں اپنی جان دے دو گا ۔۔۔

ڈی ایم نے کچھ سوچ کر مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

کی۔کیسی ڈیل تم ایسا کچھ نہیں کرو گے داٶد سمجھ رہے ہو نہ اگر ہم مرے تو ساتھ ہی موت کو قبول کرے گے ۔۔۔

ہاشم نے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

میرے دوستوں کو چھوڑ دو صیح سلامت انہیں کچھ نہ ہو ایسے ہی گھر جاے میں خود اپنا سر کےکے کو دینے کے لیے تیار ہو ۔۔۔

بتاو منظور ہے یا نہیں ۔۔۔

ڈی ایم نے بات اگنور کرتے اپنی کہی وہ اس وقت کافی سنجیدہ تھا ۔۔۔

ہہہمممم سوچا جا سکتا ہے ویسے ان دونوں کی ہمیں ضرورت بھی نہیں میری بھی ایک شرط ہے وہ بھی مان جاٶ تو چھوڑ دو گی انہیں ۔۔

نگارہ بیگم نے ڈی ایم نے پاس جاتے کہا ۔۔۔

ہاں بولو اپنی آخری خواہش میں سب کی پوری کرتا ہو ۔۔

ڈی ایم نے بیزار سی شکل بناتے ہوے پوچھا ۔۔۔

آ خ ر آخری نہیں ہے میری خواہش ۔۔

نگارہ نے ہکلاتے ہوے کہا ۔۔

بکو جلدی جیتنا تم ٹائم لو گی اتنی لیٹ تمہاری موت ہو گی میرا ٹائم ضائع کر رہی ہو ۔۔۔

ڈی ایم نے کوفت سے کہا ۔۔

تمہاری اکڑ ختم نہیں ہوئ اب دیکھو میں کیا کرتی ہو ۔۔

نگارہ بیگم نے غصہ سے کہتے ڈی ایم کے بازوں کی ایک زنجیر پر گولی مارتے ہوے کہا ۔۔۔

ڈی ایمممممم۔۔۔

ہاشم اور ارتضٰی داٶد کو اب ایک بازوں سے لٹکتا ہوا دیکھ کر چیخ پڑے ۔۔۔

ڈیل منظور کہ نہیں ۔۔

ڈی ایم نے غصہ سے پوچھا ۔۔۔

میں پہلے تمہارا یہ چہرہ دیکھنا چاہو گی ۔۔

ہمممم چلو دیکھ لو پاس آ کر ۔۔

ڈی ایم نے سن کر پر سوچ ہو کر کہا۔۔۔

ویسے خوبصورت ہو واقعی ۔۔

نگارہ بیگم نے داٶد کے چہرے سے ماسک اتار کر کہا ۔۔۔

براٶن بال جو ماتھے پر آے تھے ۔۔

نیلی سرخ آنکیھں جو غصہ کی وجہ سے تھی ۔۔

چہرے پر ہلکی شیو ۔۔

ایک بھر پور وجہہ پرسلینٹی کا مالک داٶد میر پلیس ڈی ایم۔۔۔۔

ہو گیا تمہارا اب مجھے اپنے دوستوں سے بات کرنی ہے میرے پاس لاو انہیں۔۔۔

ڈی ایم نے سامنے ہاشم اور ارتضٰی کو تڑپتے ہوے دیکھ کر کہا جو اس کی حالت دیکھ کر ہو رہے تھے ۔۔۔

کوئ بھی ہوشیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ جان سے چلے جاو گے ۔۔۔

نگارہ بیگم نے دونوں کو کرسیوں سے کھولتے ہوے کہا ۔۔۔۔

جبکہ ڈی ایم کو وہ نیچے اتار چکی تھی ۔۔۔

پر ایک بازوں ابھی بھی زنجیر میں قید تھا ۔۔۔۔

سنو میری بات غور سے پہلی بات کچھ نہیں ہو گا مجھے اگر ہو گیا کچھ تو سب کا خیال رکھنا ڈیڈ کا اور میری چندہ کا مجھے پتہ چل جاے گا میری چندہ کدھر ہے بس تم لوگ بچا لینا اسے ۔۔

اور یہ عورت کی طرح اداس ہونا چھوڑ دو مرد ہے ہم کتنی دفعہ جان ہتھلی پر رکھ کر سب کو بچایا ہے تب تو کچھ نہیں ہوا ہمیں ۔۔

کےکے تک جانا ضروری ہے اسی انسان کے پاس میری چندہ ہے ۔۔۔

ڈی ایم نے دونوں کو اپنے گلے لگاتے ہوے سمجھایا جبکہ اےاے بس اداس کھڑا تھا ۔۔۔

کچھ بھی ہو جاے یہاں سے بھاگ جانا پیچھے واپس موڑ کر مت دیکھنا چاہے میری جان چلی جاے۔۔۔

اگر کوئ واپس موڑ کر میری طرف دیکھا تو سوچ لو خودی جان لے لو گا میں اپنی ۔۔

ڈی ایم نے اپنی نیلی آنکھوں سے اےاے کا چہرہ دیکھ کر کہا جو اب رونے والا ہوا تھا ۔۔۔

اب جاٶ دونوں جلدی بھاگ جاٶ ۔۔

ہاشم ڈیڈ کو کچھ مت بتانا ۔۔۔

وہ ٹیشن لے گے اور میں ایسا نہیں چاہتا ۔۔۔

داٶد میں کہہ ۔۔۔

بس ارتضٰی جاو تم دونوں کی ضرورت ہے تمہاری بیویوں کو ۔۔

ڈی ایم نے اےاے کی بات کاٹتے ہوے کہا ۔۔۔

اور محمل اسے ضرورت نہیں کیا ۔۔

ایچ ایم نے افسوس سے پوچھا ۔۔۔

نہیں میری ضرورت کسی کو بھی ہے مجھ جیسے انسان کی بیوی نہیں ہوتی اور میں چاہتا ہو محمل کو کبھی پتہ نہ چلے میں کون ہو ۔۔

ڈی ایم نے شدت غصہ سے کہا ۔۔۔

بس کرو جاو یہاں سے ورنہ میں جانے نہیں دو گی ۔۔۔

نگارہ بیگم نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔

چلو جاٶ اچھے بچوں کی طرح ۔۔

ڈی ایم نے زبردستی دھکا دیتے کہا جو کہ دونوں جانے سے انکار کر رہے تھے ۔۔۔

———————————————————

ہاشم میں مجھے جانے دو یار میں بچا لو گا اسے ۔۔

ارتضٰی نے ہاشم کا ہاتھ پکڑتے ہوے التجا کرتے کہا ۔۔۔

تم۔۔۔

آہہہہہہہ آہہہہہہ ۔۔

اس سے پہلے ہاشم کچھ کہتا جب اسے ڈی ایم کے چلانے کی آواز آی ۔۔۔

دیکھ رہا وہ درد میں ہے میں جا رہا ہو مجھ سے برردشت نہیں ہو رہا ۔۔۔

ارتضٰی نے واپس موڑتے کہا ۔۔۔

رکو یار وہ ڈی ایم ہے بچ جاے گا تم نہ جاو وہ تمیں اپنا بیٹا کہتا ہے ۔۔

اگر تم گے وہ واپس آ کر مجھے مار دے گا ۔۔۔

ہاشم نے مشکل سے ارتضٰی کو ہینڈل کرتے مسکراتے ہوے کہا ۔

۔

ورنہ دل میں ڈر تو وہ بھی گیا تھا لیکن اسے حوصلہ رکھنا تھا ۔۔۔۔

ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہہہہہہہہ۔۔۔۔

تھوڑی دور جاتے ہی انہیں ایک دھماکے کی آواز آی تھی ۔۔۔

دونوں نے واپس موڑ کر دیکھا تو شوک میں

ہی چلے گے تھے جس جگہ ڈی ایم اور نگارہ بیگم تھے وہاں اب دھماکہ ہو چکا تھا ۔۔۔

ہر جگہ آگ ہی آگ لگ چکی تھی ۔۔۔

ڈی ایممممم ڈی ایممم ۔۔۔

دونوں ہی چلاتے ہوۓ زمین پر بیٹھ چکے تھے ۔۔

نہیں ایسا نہیں ہو سکتا مجھے چاہے وہ سمجھے وہ جلاد شخص چاہے سن رہے ہو نہ ۔۔

اےاے نے غصہ سے چلاتے ایچ ایم کو کہا ۔۔۔

جو خود سکتے کی حالت میں بیٹھا آگ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

————————————————————

محمل بیٹا کیا ہوا آپ ابھی تک سوئ نہیں ۔۔

اور ڈریس بھی چینج نہیں کیا ۔۔

تیمور صاحب نے کمرے سے باہر نکلتی محمل سے پوچھا جو وہی مکیسی گاٶن میں ویسے ہی گھوم رہی تھی ۔۔۔

وہ ڈیڈ میرا دل گھبرا رہا ہے جیسے کچھ ہونے والا بس تازہ ہوا کے لیے باہر لان میں جا رہی تھی ۔۔۔

محمل نے پریشان ہوتے تیمور صاحب کے پاس آتے کہا ۔۔۔

بیٹا ڈریس بدل لو بھاری جوڑا ہے یہ شاہد اس لیے ہو۔۔

اچھا تم داٶد کو کہو میرے کمرے میں آے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔

تیمور صاحب نے اپنی بات کہہ کر جاتے ہوے کہا ۔۔۔

وہ کڑوا کریلا کمرے میں نہیں ہے بلکہ وہ آیا ہی نہیں اب تو صبح ہونے والی ہے ۔۔

محمل نےمنہ بناتے ہوے کہا ۔۔۔

کییییااا۔۔۔

آپ مجھے اب بتا رہی ہے بیٹا رات ختم ہونے والی ہے اور مجھے پتہ ہی نہیں داٶد کہاں چلا گیا ہے ۔۔۔

تیمور صاحب صوفے پر گرتے افسوس سے کہا ۔۔۔

دل تو ان کا بھی گھبرا رہا تھا لیکن ان کو عادت تھی۔۔

داٶد کا اتنی دیر تک باہر جا کر رہنے کی ۔۔

لیکن اب پریشان ہو رہے تھے ۔۔۔

ایسا دل ان کا تب پریشان ہوا تھا جب داٶد کوما میں چلا گیا تھا ۔۔۔

ڈیڈ کچھ نہیں ہوتا اسے آپ پریشان مت ہو ۔۔

محمل نے آگے بڑھتے حوصلہ دیتے کہا ۔۔۔

جبکہ تیمور صاحب گہری سوچ میں ڈوب چکے تھے ۔۔۔

———————————————————–

مبارک ہو تیمور تمہارا بیٹا کوما سے باہر آ گیا ۔۔۔

ڈاکٹر نے خوش ہوتے تیمور کے پاس آتے کہا ۔۔۔

اللہٌ تیرا شکر ہے ۔۔

تیمور نے خوش ہوتے شکر ادا کیا ۔۔۔

پورے دو سال داٶد کوما میں رہ تھا ۔۔۔۔

میرا پیارا بیٹا داٶد ۔۔۔

تیمور کمرے میں داخل ہوتے خوش ہوکر داٶد کو کہا ۔۔۔

جبکہ دس سالہ داٶد گم صم سا لیٹا تھا ۔۔۔

چن۔ہ۔د۔چندہ کہاں ہے۔

اور وہ ٹ۔ھ۔ک

ٹھیک ہے ۔۔

داٶد نے اٹک اٹک کر پوچھا ۔۔۔

و۔ہ

تم کیسے ہو بیٹا کوئ درد تو نہیں ۔۔

تیمور کو جب سمجھ نہیں آیا وہ کیا جواب دے۔۔

تبھی بات کو بدل لیا ۔۔۔

چندہ کیسی ہے وہ ۔۔

داٶد نے اپنی نیلی آنکھوں سے دیکھتے پوچھا ۔۔۔

ہم بچا نہ سکے اسے مجھے تمہاری پڑی تھی تو تمیں لے آیا میں۔۔۔

تیمور صاحب نے سر جھکا کر افسوس سے کہا ۔۔۔

نہی۔نہ۔ن۔نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے میری چندہ دور چلی گی تو میں زندہ کیوں ۔۔

داٶد نے غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

دیکھو ۔۔

داٶد داٶد آنکھں کھولو بیٹا ۔۔۔

اس سے پہلے تیمور کچھ کہتا جب داٶد غصے میں چلاتا ایک بار پھر بے ہوش ہو چکا تھا ۔۔۔