Dadhkan By Rania Mehar Readelle50327 Dadhkan (Episode 12)
Rate this Novel
Dadhkan (Episode 12)
Dadhkan By Rania Mehar
ڈاکٹر ڈاکٹر جلدی آو میرے بیٹے کو کچھ ہو گیا ۔۔۔
تیمور نے روم سے باہر نکل کر چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
ریلکس تیمور کچھ نہیں ہو گا ۔۔
کوما سے باہر آ کر انسان ایک بچے جیسا ہو جاتا ہے سب کچھ سمجھنے کی کوششش کرتا ہے ۔۔
إن شاءالله تمہارا بیٹا بلکل ٹھیک ہو جاے گا ۔۔۔
اگر ہو سکے تو اس کی جگہ تبدیل کر دو ۔۔۔
کافی بہتر اثر پڑے گا ۔۔۔
ڈاکٹر نے داٶد کو چیک کرنے کے بعد تفصیل سے سمجھایا ۔۔۔
میں اپنے بیٹے کو لندن لے جاو گا پاکستان سے اتنا دور وہ سب بھول جاے گا ۔۔۔
تیمور نے داٶد کا گال چومتے ہوے کہا ۔۔۔
———————————————————–
بیٹا میری بات مانو گے نہ میں ڈیڈ ہو تمہارا ۔۔۔
تیمور نے ہوش میں آتے داٶد کو دیکھ کر پوچھا ۔۔
جو اب بھی خاموش بیھٹا تھا ۔۔۔
جی ڈیڈ آپ جانتے ہے دنیا میں آپ کے اور چندہ کے سوا میرا ہے ہی کون ۔۔
داٶد نے اداس ہوتے کہا ۔۔۔
میری جان میرا بہادر بیٹا اداس نہیں ہوتا ہمت سے کام لو چندہ ہمیں مل جاے گی ۔۔۔
تیمور نے حوصلہ دیتے کہا تھا ۔۔
وہ اس وقت دس سال کا بچہ نہیں بلکہ ایک نوجوان لگ رہا تھا۔۔۔
جیسے حالات نے اسے ایسا بنا دیا تھا ۔۔۔
میں زندہ کیوں میری چندہ تو ہے ہی نہیں میرے پاس ۔۔
داٶد نے سامنے دیوار کو دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
کیونکہ چندہ زندہ ہے بس ہمیں ڈھونڈنا ہے اسے اور میرا بیٹا ڈھونڈ لے گا ۔۔۔
تیمور نے پیار سے کہا ۔۔
ان کے چہرے پر صرف ایک باپ جیسی شفقت تھی جیسے اپنی اولاد سب سے زیادہ پیاری ہوتی ہے ۔۔۔
ہم کیسے اسے تلاش کرے گے ۔۔
داٶد نے ایک اور سوال کیا ۔۔۔
اس کی نیلی آنکھں خالی ویران سی تھی ۔۔
جیسے کچھ گم ہو گیا ہو ۔۔
تم تلاش کرو گے بیٹا وہ ایسے کہ ہم کل لندن جا رہے تم وہاں اپنی تعلیم شروع کرو گے ۔۔
اتنا پڑھو گے کہ ایک اچھا انسان بنو گے ۔۔
بڑا آدمی پھر جا کر تیمں چندہ مل جاے گی ۔۔۔
تیمور نے اپنا پلان بتایا کیونکہ وہ اب چاہتے تھے داٶد پاکستان چھوڑ دے ۔۔۔
واقعی ڈیڈ ایسا کرنے سے چندہ مل جاے گی پھر میں پڑھو گا اتنا زیادہ کہ ہر اس لڑکی کی حفاظت میں کرو گا جس کی کوئ نہ کر سکے ۔۔۔
اگر میں ایسا کرو گا تو مجھے میرا اللہٌمیری چندہ واپس کر دے گا ۔۔۔
میں جاٶ گا لندن ڈیڈ آپ تیاری کرے ۔۔۔
داٶد نے عزم پختہ ارادہ بنا کر کہا ۔۔۔
چندہ کے ملنے کی خوشی سے اس کی آنکھں چمک رہی تھی۔۔۔۔
پھر یہ ہوا داٶد تیمور کے ساتھ ہمیشہ کے لیے لندن چلا گیا تھا ۔۔۔
————————————————————
امی کھانا دے ہمیں چندہ رو رہی ہے ۔۔۔
پانچ سالہ بھاہیٶ ریشم بیگم کے پاس آتا بولا ۔۔۔
اففف ایک یہ عذاب ہے میری زندگی کے نہ جان چھوڑتے ہے نہ مرتے ہے میں کیا کرو ان کا ۔۔۔
ریشم بیگم نے اپنے خوبصورت بیٹے کو دیکھ کر دل میں سوچا ۔۔۔
وہ اتنا خوبصورت تھا ہر کوئ بار بار اسے دیکھتا ۔۔۔
جاٶ میں لے کر آتی ہو کھانا ۔۔۔
ریشم نے اکتا کر جواب دیا ۔۔۔
بھاہیٶ جو محبت پاش نگاہوں سے اپنی ماں کو تیار ہوتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اسے اپنی ماں سے محبت تھی چاہے کبھی ریشم نے ان دونوں سے پیار سے بات نہ کی ہو لیکن وہ ماں سمجھ کر عزت کرتا تھا ۔۔۔
اب جاو کیا دیکھ رہے ہو مجھے دفع ہو عذاب بن گی میری زندگی ۔۔
ریشم نے خود کو مسلسل گھورتے بھاہیٶ کو دیکھتے پھاڑ کھانے کو بولی۔۔۔
————————————————————
کیا کرو میں ان دونوں کا ۔۔
ریشم نے سوچا ۔۔۔
ہاں یاد آیا میری بہن کس کام کی آگے بھی میرے لیے اس نے قربانی دی ہے اب پھر دے گی ۔۔۔
ہاہاہاہاہا
ریشم نے ہنستے ہوے فون ملایا ۔۔۔
ان پانچ سالوں میں اس نے سب کی پوری انفارمشن لیتی رہی تھی ۔۔۔
تبھی اس نے اصغری کا فون نمبر بھی ڈھونڈ لیا تھا۔۔۔
ہلیو ہاں اصغری میری بہن ہاہاہاہاہا ۔۔۔
ریشم نے اصغری کو فون ملاتے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف صرف خاموشی تھی ۔۔۔
ارے تم تو بول ہی نہیں رہی میں اکبٰری یار تمہاری بہن بھول گی کیا ۔۔۔۔
چلو مجھے بھی ضرورت نہیں کون یاد کرتا کون نہیں ۔۔۔
ریشم نے حقارت سے کہا ۔۔۔
ویسے یاد آیا انور محبت کرتا ہے یا نہیں ۔۔
ہممم میں نے بھی کیا پوچھ لیا وہ شخص تو میرے پیچھے پاگل تھا ۔۔۔
ویسے تمہاری سزا تھی یہ انور سے شادی کرنے کی کیونکہ تم مجھے روکتی تھی ۔۔۔
کہ میں حسن کے ساتھ بھاگ نہ جاو ۔۔
ہاہاہاہاہا اور میں بھاگ گی سارا الزام لگا کر ۔۔۔
ریشم خودی ہی ہنستی ہوئ بولی ۔۔۔
میری معصوم بہن آگے بھی مدد کی آج بھی کر دو ۔۔
میرے دو بچے ہے بد نصیبی سے وہ دونوں تم رکھ لو چاہے میرا بدلہ ان بچوں سے لینا مجھے فرق نہیں پڑتا ۔۔۔
میری جان چھوٹ جاے گی ۔۔
میں نے سنا ہے تمہارا بھی بیٹا ہوا ہے
جہاں اس کو پالو گی وہی یہ دونوں بھی پال لینا آخر کو خالہ ہو ان کی ۔۔۔
میں آڈریس دیتی ہو ۔۔
تم یہ دونوں منحوس لے کر چلی جاو ۔۔۔
اور ہاں انور کو بتانا اکبٰری ابھی بھی محبت کرتی ہے اس سے بس تمہاری وجہ سے وہ چلی گی ۔۔
ہاہاہاہہاہاہہاا ریشم نے مذاق کرتے ہنس کر کہا ۔۔۔
اور میں کیا کہا رہی تھی اگر تم بتا بھی دو انور کو
میں نے جھوٹا الزام لگایا ہے وہ پاگل شخص کبھی بھی یقین نہیں کرے گا ظاہر سی بات ہے
وہ مجھے پسن۔۔۔۔
ہیلو ہلیو اصغری بات سنو ۔۔
پاگل جل گی میری بات سن کر ہاہاہہاہاہا ۔۔۔
ریشم جو مسلسل بول رہی تھی جب اچانک فون کاٹ ہو گیا ۔۔۔۔
تبھی ہنستے ہوے فون رکھ دیا ریشم نے ۔۔
———————————————————–
سنۓ آپ کو ک۔چ۔کچھ ہوا ہے کیا ۔۔۔۔
ثانیہ نے ڈرتے ڈرتے ارتضٰی سے پوچھا ۔۔۔۔
جو کب سے گھر آ کر ایک ہی جگہ پر گم صم بیٹھا تھا ۔۔۔
تم ہاں تم میں نے تمہارے ساتھ غلط کیا تبھی میرے پاس سے وہ چلا گیا ۔۔۔
معاف کر دو میں نے تمہاری عزت خراب کر دی تبھی میرے اللہٌنے مجھے سزا دی میرا داٶد دور چلا گیا ۔۔۔
ارتضٰی نے ثانیہ کے پاس آتے شدید غم سے کہا ۔۔۔
وہ ابھی تک اس غم سے باہر نہیں نکلا تھا ڈی ایم ان سے دور چلا گیا ہے ۔۔۔
نہیں ایسی بات تو نہیں آپ نے بلکہ مجھے اس دلدل سے باہر نکال دیا اور میری عزت بھی محفوظ ہے آپ بھی جانتے ہے سب ۔۔۔
ثانیہ نے روک روک ارتضٰی کو سمجھایا وہ ڈر رہی تھی ۔۔
کچھ گھنٹے پہلے وہ کتنا خوش تھا اور اب یہ اجڑی حالت اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔۔
نہیں میں نے تمہں تکلیف دی ہے تبھی ایسا ہوا مجھے تم سے زبردستی نکاح نہیں کرنا چاہے تھا ۔۔۔
ارتضٰی نے بے چین ہوتے کہا ۔۔۔
کیا کہا رہے ہے مجھے بتاے آپ ۔۔
ثانیہ نے نا سمجھی سے کہا ۔۔
میرا دوست مجھ سے دور ہو گیا تم دعا کرو وہ واپس آ جاے ۔۔۔
ارتضٰی نے التجا کرتے کہا ۔۔۔
کچھ نہیں ہو گا آپ کے دوست کو دعا کرے آپ بھی ۔۔
ثانیہ نے ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ اسے بھی کہا ۔۔۔
ہاں میں دعا کر کے ابھی آیا ۔۔۔
ارتضٰی نے روم سے باہر جاتے ہوے کہا ۔۔۔
جبکہ ثانیہ پریشان سی سوچ رہی تھی ہوا کیا ہے۔۔
————————————————————
ماما کے پاس جاٶ میں پر کیا کہو گا میں۔۔۔
نہیں وہ سو رہی ہو گی ۔۔
ہاشم نے گھر داخل ہوتے سوچا ۔۔۔
(دونوں کیسے ہمت کر کے گھر آے تھے وہ وہی جانتے تھے )..
جب گھر میں داخل ہوتے اس نے سوچا تھا ۔۔
اصغری بیگم سے اپنا دکھ بانٹ لے گا پر اب نہیں۔۔۔
روم میں جاتا ہو میں شاہد وہاں سکون آ جاے ۔۔۔
ہاشم اپنے روم کی طرف جاتے سوچا ۔۔۔
مسکان کے روم کے پاس سے گزرتے ہوے وہ رک چکا تھا ۔۔۔۔
جب اندد داخل ہوا حیران رہ چکا تھا ۔۔۔
کیونکہ مسکان حجاب لے نماز ادا کیے بیڈ کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔
ہاشم مراد نے مسکان کے پاس جاتے رک گیا ۔۔۔
جبکہ مسکان جو اپنی دھیان میں بیڈ کی طرف جا رہی تھی اچانک ہاشم کو اپنے روم میں دیکھتی وہی رک چکی تھی ۔۔۔
مسکان خاموشی سے ہاشم کے چہرے پر دکھ پریشانی, اصطراب ,دیکھ رہی تھی ۔۔
(اسے کیا ہوا ابھی تو سڑیل شکل والا گیا تھا ۔۔
اب اسی شکل بنای ہے جیسے کچھ گم ہو گیا ہو اس سے )..
مسکان نے اپنی نیلی آنکھوں سے ہاشم کے چہرے کی طرف دیکھتے سوچا جو خود اپنی گرین آنکھوں سے مسلسل اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
مسکان تم دعا کرو گی میرے لیے بتاو جلدی ۔۔۔
اچانک ہاشم نے مسکان کو گلے لگاتے ہوے بے تابی سے پوچھا ۔۔۔
(ہے پاگل انسان گلے ایسے لگایا ہے جیسے ہماری دوستی کتنی ہے ۔۔۔
اور یہ کیا سوال ہوا کہ دعا کرو گی اسے کیا دعا مانگی نہیں آتی کیا ۔۔۔۔)
مسکان اپنے دل میں سوچ رہی تھی ۔۔
وہ صرف خاموشی سے ہاشم کے دل کی دھڑکن سن رہی تھی جو تیزی سے چل رہی تھی ۔۔۔
ہممم۔۔
مسکان نے صرف ہاں میں سر ہلایا تھا کیونکہ ہاشم اسے ایسے ہی گلے لگاے کھڑا تھا ۔۔۔
سچی تم کرو گی چلو کرو ابھی اللہٌتمہاری سنے گا ۔۔۔
ہاشم نے دور ہوتے خوش ہو کر پوچھا ۔۔۔
مسکان جو گہری نظروں سے اس کے چہرے پر خوشی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
کیا ہوا ہے آپ پریشان ہے ۔۔۔
مسکان نے آی ٹائپ پر ٹائپ کر کے پوچھا ۔۔۔
و۔ہ۔۔
وہ میرا دوست معصیبت میں ہے اس کے لیے دعا کر دو ۔۔
زیادہ سوال پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
سمجھی تم ۔۔۔
ایکدم ہاشم نے سرد انداز سے کہتے روم سے باہر چلا گیا ۔۔۔
(کیا سڑیل شکل والا میں کیا مر رہی تھی خودی مجھے گلے لگاے اور اب اس کا رویہ دیکھو جیسے میں ترس رہی ہو اس کے لیے ۔۔
آنہہ۔۔۔)
مسکان نے منہ بناتے سوچا ۔۔۔
————————————————————
مجھے کیا ضرورت تھی اسے گلے لگانے کی کیا سوچ رہی ہو گی ۔۔
کہ ابھی میں اسے اتنی سنا کر گیا اور اب اس کے قریب چلا گیا ۔۔۔۔
ہاشم نے اپنے روم میں غصہ سے آتے سوچا ۔۔۔
میں بھی کیا کرتا داٶد کی وجہ سے اتنا پریشان تھا ۔۔۔
پھر کیا ہوا اگر اسے گلے لگا لیا بیوی ہے میری ۔۔
ہاشم بیڈ پر لیٹتے ہوے سوچ رہا تھا ۔۔۔
توبہ توبہ کیا سوچ رہا میں ۔۔
ہاشم نے اپنے خیالات جان کر کہا ۔۔۔
دعا کرے گی وہ تو مجھے بھی کرنی چاہے ۔۔۔
کیا اللہٌمیری سنے گا ۔۔۔
ہاشم نے واش روم کی طرف جاتے سوچا ۔۔۔
(تاکہ وضو کر کے وہ نماز ادا کر سکے )…
————————————————————
اصغری اصغری کہاں ہو روم میں آو ۔۔۔
انور نے اپنی گرج دار آواز سے اصغری کو بلایا ۔۔۔
جو اس وقت ہاشم کے ساتھ تھی ۔۔۔
بیٹا ماموں کی طرف جا رہے ہو میرے بیٹے نے تنگ نہیں کرنا ۔۔
اچھے بچوں کی طرف رہنا ۔۔۔
اصغری بیگم نے اپنے سانچ سالہ ہاشم کو تیار کرتے ہداہت دی ۔۔۔
وہ جانتی تھی اتنی سی عمر میں وہ کافی سنجیدہ رہتا تھا ۔۔۔
جی ماما ۔۔
ہاشم نے کس کرتے کہا ۔۔۔
چلو اپنے ڈیڈ سے مل لو بیٹا ۔۔۔
اصغری نے پیار سے کہا ۔۔۔
نہیں ہے وہ میرے ڈیڈ سن رہی آپ میں صرف آپ کا بیٹا ہو ۔۔۔
ہاشم نے غصہ ہوتے کہا ۔۔۔
(ہاشم نے شروع سے انور کو اصغری کو مارتے پیٹتے ہوے دیکھا تھا ۔۔۔
تبھی اسے اپنے باپ سے شدید نفرت ہونے لگی تھی ۔۔۔
پانچ سال کی عمر میں اتنی نفرت کی اس نے اپنے نام کے ساتھ اپنے باپ کا نام نہیں لگایا تھا ۔۔۔
بلکہ خود اپنا نام ہاشم مراد رکھ لیا تھا ۔۔۔)..
اچھا جاٶ میرا بیٹا ۔۔
اصغری نے اس کا غصہ ختم کرتے کہا ۔۔۔۔
————————————————————
انور کدھر ہے آپ ۔۔
اصغری نے روم میں داخل ہوتے پوچھا ۔۔۔
جہاں کوئ نہ تھا ۔۔۔
ارے یہ کیا کر رہے آپ ۔۔۔
اصغری نے اپنے پاٶں کے پاس بیٹھے انور کو گھبراتے ہوے پوچھا ۔۔۔
معاف معاف کر دو مجھے اصغری ۔۔
میں تمہارا کتنا بڑا گناہگار ہو ۔۔
مجھے میرا اللہٌبھی معاف نہیں کرنے والا ۔۔۔
انور نے روتے ہوے معافی مانگتے ہوے کہا ۔۔۔
پہلے میرے پاٶں چھوڑے ۔۔
اصغری نے شوک کی حالت میں کہا ۔۔۔
اسے بلکل سمجھ نہیں آ رہی تھی ہوا کیا ہے ۔۔۔
تم مجھے معاف کرو گی تب ہی چھوڑو گا پاٶں ۔۔
تمہاری زرا قدر نہ کی میں نے تمہاری وفا کی بھی نہیں ۔۔
انور نے ندامت سے کہا ۔۔۔
اچھا معاف کیا مجھے کوئ شکوہ نہیں بس میری قسمیت میں ایسا تھا ۔۔۔
اصغری نے تحمل سے جواب دیا ۔۔۔
میں اپنی ہر غلطی کا ازالہ کرو گا اصغری میں اپنے بیٹے کو محبت دو گا اتنی کہ وہ فخر کرے گا میں اس کا باپ ہو۔۔۔
تمہاری بھی ہر خواہش پوری ہو گی میری جان ۔۔
انور نے اصغری کے ہاتھ پکڑتے ہوے کہا ۔۔۔
یہ سب کیسے مطلب آپ ۔۔
اصغری نے ناسمجھی سے اپنی بات ادھوری چھوڑی ۔۔
بس یہ سمجھو اللہٌ نے مجھے سیدھا راستہ دیکھا دیا ۔۔
مجھے اپنی ہر غلطی کا احساس ہے ۔۔
میں تم سے تب ہی محبت کرنے لگ گیا تھا جب تمہاری چاہت وفا دیکھی تھی پر تمہاری شکل دیکھ کر مجھے اپنی وہ محبت یاد آ جاتی جو ناکام تھی ۔۔
پر آج یقین آیا تمہاری محبت سچی تھی تبھی میں ہار گیا تمہارے آگے ۔۔
انور نے آج اپنے دل کی بات اصغری کے سامنے کی ۔۔۔
انور میں ہمیشہ آپ سے محبت کی لیکن وہ اک۔۔۔
بس میری جان اس کا نام مت لو نفرت ہے مجھے اب ہم دونوں اپنے بیٹے کی پرورش کرے گے ۔۔
اور کوئ نہیں آے گا ہمارے درمیان ۔۔
انور نے اصغری کی بات کاٹتے اسے گلے لگاتے ہوے کہا ۔۔۔
اصغری اپنے اللہٌ کا شکر ادا کرتی رہی بالاخر اس کی محبت اسے مل چکی تھی ۔۔۔
(اکبٰری کا فون انور نے اٹھایا ۔۔۔۔
تبھی اس نے خاموشی سے ساری باتیں سن کر غصہ سے فون کاٹ دیا تھا ۔۔۔۔
اسے خود پر افسوس تھا ۔۔۔۔
کہ ایسی عورت کی وجہ سے اس نے اپنی اتنی وفا شعار بیوی پر تشدد کیا ۔۔۔
انور نے فصیلہ کیا تھا۔۔۔
وہ کبھی اصغری کے اکبٰری اور اس کے بچوں کا ذکر نہیں کرے گا ۔۔۔
وہ جانتا تھا اگر اسے بچوں کا پیغام دیا تویقینً اصغری ان دونوں بچوں کو گھر لے آتی ۔۔۔)….
————————————————————
ارے بیٹا یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو کام والی یہ کام کر لے گی ۔۔۔
بہروز نے بھاہیٶ کو واش روم سے باہر نکالتے ہوے پوچھا ۔۔۔۔
جو واش روم صاف کرنے میں مصروف تھا ۔۔۔
مجھے پیسے چاہے تو کام کر رہا ہو ۔۔۔
ویسے بھی میں ہر زور کوئ نہ کوئ کام کر کے پیسے لیتا ہو ۔۔۔۔
ہماری ایسی ہی زندگی ہے ۔۔۔۔
بھاہیٶ نے سرد انداز سے کہا ۔۔۔۔
اس وقت اس کے چہرے پر اذیت ہی اذیت تھی ۔۔۔۔
کیییییاااا ۔۔۔
ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔۔
تمہاری ماں کے پاس اتنا پیسہ ہے پھر یہ ۔۔۔
بہروز نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔۔
ایک آٹھ سال کا بچہ کا ایسا دماغ ۔۔۔
وہ عورت میری ماں نہیں صرف چندہ کی ماں ہے وہ ۔۔
وہ عورت کہتی ہے ہم ناجائز بچے ہے تو وہ کیوں ہمیں پیسے دے ۔۔۔
بھاہیٶ نے طش کے عالم میں کہہ ۔۔۔
آپ پیسے دے رہے یا کام کرو میں مجھے یہ ہمدردی سے نفرت ہے
جو آپ کر رہے ہے ہم جیسوں کا کوئ نہیں ہوتا ۔۔۔
بھاہیٶ نے بہروز کو خاموش دیکھتے اپنی کہی ۔۔۔
کیا کرو گے ان پیسوں کا ۔۔۔
بہروز نے پیسے نکال کر دے تھے ۔۔۔
اپنی چندہ کے لیے جوتے لینے ہے میں نے آپ کے پیسے واپس کر دو گا ۔۔۔
بھاہیٶ نے پیسے لیتے ایک عقل مند آدمی کی طرح جواب دیا ۔۔۔۔
نہیں پیسے چاہے مجھے تم میرا ایک کام کروگے جب میں کہو گا ۔۔۔
بہروز نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔
اور ہاں بیٹا یہ کام مت کرو اچھا کام نہیں تم کچھ اور کرو گے ۔۔۔
بہروز نے بھاہیٶ کو اپنے پاس بیٹھاتے ہوے کہا ۔۔۔
کیا کرو گا میں ۔۔
بھاہیٶ نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔۔
تم پڑھو لکھو اتنا کہ بڑا آدمی بنو تاکہ اپنی چندہ کے لیے سب کچھ کر سکو تم ۔۔۔
بہروز نے محبت سے کہا ۔۔۔
اسے یہ بچہ بڑا پیارا لگا تھا ۔۔۔۔
بڑا آدمی بن کر میں اتنا پیسہ کماٶ گا ۔۔
کہ میری چندہ کی ہر خواہش پوری ہو سکے ۔۔۔
میں اس عورت سے کبھی پیسے نہیں مانگو گا ۔۔۔
بھاہیٶ نے اپنی نیلی آنکھوں میں چمک لاتے خوش ہوتے کہا ۔۔۔
تم مجھے ڈیڈ کہو گے بیٹا اپنی ہر مشکل مجھے بتاٶ گے ۔۔۔
بہروز نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔
اس کا کیا مطلب ہوتا ہے ۔۔۔
بھاہیٶ نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔۔
اس کا مطلب ہاں اس کا مطلب دوست ہوتا ہے تم میرے دوست ہو ۔۔۔۔
بہروز نے سوچتے ہوے جواب دیا ۔۔۔۔
لیکن سب کہتے ناجائز بچوں کا کوئ دوست نہیں ہوتا پتہ مجھے کسی نے دوست نہیں بنایا ۔۔۔
بھاہیٶ نے اداس ہوتے کہا ۔۔۔
ارے جاو چندہ کے لیے جوتے لے کر آو ۔۔۔
بہروز نے بات ٹالتے ہوے کہا ۔۔۔
ہاں یاد آیا شکریہ ڈیڈ ۔۔۔
میں یہ واپس کر دو گا ۔۔۔
بھاہیٶ نے بہروز کے کس کرتے ہوے کہا ۔۔۔
اور بھاگ گیا وہاں سے۔۔۔
————————————————————
ہر زور بھاہیٶ بہروز کے پاس بیٹھ کر کچھ نہ کچھ پڑھ لیتا تھا ۔۔۔۔
بھاہیٶ بھی بہروز سے مانوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
یہ دیکھے ڈیڈ میں نے انگلیش میں کیا لکھا ۔۔۔
بھاہیٶ نے اپنی کاپی سامنے کرتے خوش ہوتے پوچھا ۔۔۔۔
کیا لکھا ہے میرے بیٹے نے ۔۔۔
بہروز نے خوش ہوتے کاپی دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
(I LOVE My DaD & ChanDa
)
زبردست میرا بیٹا کتنا پیارا لکھتا ہے لیکن یہ چندہ کیوں لکھا نام لکھو اس کا ۔۔۔
بہروز نے پڑھتے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔۔
ہمارا نام ہی نہیں رکھا کسی نے ہم بہن بھائ ٹھیک ہے ۔۔۔
ہمارا کوئ نام نہیں ہوتا ۔۔۔
ہم صرف ایک گناہ کی سزا ہے ۔۔۔
چندہ نے پاس آتے منہ بناتے کہا ۔۔۔
ارے میری بیٹی کیسی ہے ۔۔
بہروز نے بات ٹالتے ہوے پوچھا ۔۔۔
میں صرف اپنے بھاہیٶ کی بیٹی ہو بس مجھے اور کوئ نہیں چاہے جاے یہاں سے آپ اچھے انسان نہیں برے ہے ۔۔۔
چندہ نے بھاہیٶ کو گلے لگاتے بہروز کو منہ بناتے کہا ۔۔۔
وہ جلیس ہوتی تھی جب بھاہیٶ بہروز کے ساتھ رہتا تھا ۔۔۔۔
ہاہاہاہا میری چندہ بھاہیٶ تمہارا ہی ہے میری جان یہ دوست ہے آپ ڈیڈ کہا کرو ان کو ۔۔۔
بھاہیٶ نے ہنستے ہوے چندہ کو کہا ۔۔۔
جبکہ بہروز کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا ۔۔۔
اتنی سی عمر میں وہ دونوں ایک سمجھدار انسان کی طرح بات کرتے تھے ۔۔۔
واقعی حالات انسان کو سمجھدار بنا دیتا ہے ۔۔۔۔
اچھا یہ ڈیڈ ہے تو میں بھی آپ کو یہی کہو گی ۔۔۔
چندہ نے اچھے بچوں کی طرح کہا ۔۔۔
وہ اپنے بھاہیٶ کی ہر بات مانتی تھی ۔۔۔
میں تم دونوں کا نام رکھو ۔۔۔
بہروز نےخوش ہوتے کہا ۔۔۔
آپ رکھے گے واقعی ۔۔۔
بھاہیٶ نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔
ہاں آج سے تمہارا نام داٶد میر ہو گا میرا بیٹا ۔۔
اور یہ میری مسکان ہو گی ۔۔
ہر وقت ہنستی مسکراتی ہوئ ۔۔۔
““داٶد میر اور مسکان ””
کیسا نام ہے بتاو ۔۔۔
بہروز نے بے چین ہوتے پوچھا ۔۔۔
بہہہہہتتت پیارے ڈیڈ ہمیں اچھے لگے ۔۔۔
مسکان نے خوش ہوتے گلے لگا کر کہا ۔۔۔
جبکہ داٶد صرف مسکرا رہا تھا ۔۔۔
اچھا ایک بات تو بتای نہیں پتہ کل یہاں اتنی زیادہ بچیاں آی چھوٹی چھوٹی سی بلکل میرے جیسی ۔۔۔
چندہ نے بہروز کے پاس جاتے کہا ۔۔۔
جبکہ بہروز کے کان کھڑے ہو چکے تھے یہ بات سن کر ۔۔۔۔
مسکان بیٹا جاٶ ڈیڈ نے بات کرنی داٶد سے
بہروز نے جلدی سے مسکان کو جانے کا کہا ۔۔۔۔
جی ایسا ہی ہے ۔۔۔
داٶد نے بھی حامی بھری ۔۔۔
دیکھو بیٹا تم مجھے بتاٶ گے وہ بچیاں کدھر ہے ۔۔۔
بہروز نے بے تابی سے پوچھا ۔۔۔
جی چلے میں بتا دو ۔۔۔
داٶد نے ناسمجھی سے کہا ۔۔۔
وہ حیران تھا اچانک بہروز کو سنجیدہ دیکھ کر ۔۔
ایک منٹ ۔۔
کیا او شیٹ رکو میں آیا ۔۔۔
بہروز جیسے ہی جانے لگا جب اس کا فون رنگ ہوا ۔۔۔
فون پر بات سنتے وہ زیادہ پریشان ہو چکا تھا ۔۔۔۔
یہ فون رکھو بیٹا کوئ بات ہو بس ایک میسج کرنا میں آجاو گا ۔۔۔
اپنا اور مسکان کا خیال رکھنا ۔۔۔
بہروز نے جلدی سے فون دیتے کہہ کر بھاگ گیا ۔۔۔
بنا داٶد کی طرف دیکھے ۔۔۔۔۔
ک۔و۔کون ہے آپ ۔
۔
آپ بھی ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہے
داٶد نے اجنبی پن سے پوچھا ۔۔۔
بہروز جو بھاگ رہا تھا داٶد کی آواز سنتے رک گیا ۔۔۔
نہیں بیٹا میں آو گا بہت جلد یہاں سے جانا ضروری ہے ورنہ میں تم لوگوں کو کیسے بچاٶ گا ۔۔۔
بس ہمت رکھنا ۔۔۔
میرا بہارد بیٹا ہے دیکھنا بڑے ہو کر تم ایسا بنو گے ۔۔۔
کیا کام کرتے آپ ۔۔۔
داٶد نے بنا توجہ دے پوچھا ۔۔۔۔
میں ہر وہ برا کام ختم کرتا ہو ۔۔
جو ہمارے پاکستان کو نقصان دے ۔۔
میں اپنے وطن کی حفاظت کرتا ہو ۔۔۔
خیال رکھنا اپنا میں واپس آو گا ۔۔۔
بہروز نے داٶد کا ماتھا چومتے ہوے کہا ۔۔۔۔
————————————————————
یہ بچے کس کے ہے ۔۔۔
قمر خان نے اپنے سامنے داٶد اور مسکان کو دیکھ کر پوچھا تھا ۔۔۔
وہ اس وقت کوٹھے پر آیا ہوا تھا ۔۔۔
تمہں اس سے کیا پیسے بتاو جلدی ۔۔۔
ان لڑکیوں کے ۔۔۔
ریشم بیگم نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔
یہ لڑکی کا میں دس لاکھ دو گا ۔۔۔
اور یہ لڑکا بہت پیارا ہے میں اس کا بیس لاکھ دو گا آگے جا کر مجھے کافی فائدہ ہو گا ۔۔۔
اس لڑکے سے جیتنا یہ خوبصورت ہے ۔۔
قمر خان نے اپنے دو بچوں کا سودا کرتے کہا ۔۔۔
اسے نہیں پتہ تھا اس کے اپنے بچے ہے ۔۔۔
ہاں لے جاو مجھے بس پیسے چاہے ۔۔۔
ریشم بیگم نے جلدی سے کہا انہیں زرا فرق نہیں پڑتا تھا ان کے بچوں کا کیا ہو گا ۔۔۔
جبکہ داٶد یہ سن کر اپنے روم میں آتا رو پڑا تھا ۔۔۔
بھاہیٶ کیا ہم الگ ہو جاے گے ۔۔۔
مسکان نے داٶد کے پاس آتے روتے ہوے پوچھا ۔۔
نہیں ہم کبھی الگ نہیں ہو گے چاہے مجھے مرنا ہی کیوں نہ پڑے تمہں بچانے کے لیے ۔۔۔
میری چندہ ہو اور داٶد کچھ نہیں ہونے دے گا میں کچھ کرتا ہو ۔۔۔۔
داٶد نے کچھ سوچتے ہوے کہا ۔۔۔
یہ عورت ہماری ماں نہیں ہو سکتی ۔۔
داٶد نے افسوس سے سوچا کیسی ماں تھی اپنے ہی بچے پیسوں کے لیے دے رہی تھی ۔۔۔
———————————————————–
ہماری یہ راۓ ہے تو میجر تیمور شاہ آپ کی کیا راۓ ہے ۔۔
جنرل نے اپنے ہونہار آرمی آفسر کو مخاطب کیا ۔۔۔
جی میں چاہتا تھا کہ اس کوٹھے پر ریٹ ہم کل یا پرسوں کرے گے ۔۔
ایک اور بات سر مجھے وہ دونوں بچے چاہے ۔۔۔
تیمور نے اپنی راۓ پیش کی ۔۔۔
لیکن ابھی ہمہں وہ لڑکیاں نہیں ملی ۔۔۔
جنرل نے بے تابی سے کہا ۔۔۔
وہ ہو جاے گا سر میرا بیٹا مجھے بتاے گا ۔۔۔
تیمور نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔
تم تو شادی شدہ نہیں ہو تو ا۔۔۔
سر یہ آپ کے موبائل سے کسی کا میسج آیا ہے ۔۔۔
اس سے پہلے جنرل کچھ کہتا جب ایک کولیگ نے تیمور کو فون پکڑایا ۔۔۔
ہیلو ڈیڈ میری چندہ کو بچا لے آپ پلیز آپ مدد کرے گے میری جلدی آ جاے مجھے ضرورت ہے ۔۔۔۔۔
داٶد کا میسج پڑتے تیمور حیران رہ گیا تھا ۔۔۔
سر ہمیں ابھی جانا ہو گا ریٹ ہم ابھی کرے گے ۔۔
میرے بچے معصیبت میں ہے سر جلدی کرے ۔۔۔
تیمور نے بے چین ہوتے کہا ۔۔۔
ویٹ مسٹر تیمور ہم جاتے ہے لیکن وہ بچے کیوں تمہاری جب شادی ہو گی تب ۔۔
جنرل نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔
میں شادی نہیں کرو گا یہ میرے بچے ہے اور ہمیشہ رہے گے ۔۔
مجھے بچانا ہے ان دونوں کو ۔۔۔
تیمور نے اپنی گن لوڈ کرتے کہا ۔۔
ٹیم تیاری کی جاے ہم ابھی جاے گے ۔۔
فاسٹ ۔۔۔
تیمور نے چلاتے ہوے آڈر دیا سب کو ۔۔۔
(جبکہ وہ دل میں صرف ایک ہی دعا کر رہا تھا دونوں بچے ٹھیک ہو )…
————————————————————
تیمور سوچ لو خطرہ ہے بہت ۔۔
جنرل نے ایک دفعہ پھر اپنی بات کہی ۔۔۔
اس وقت پوری آرمی فورس کوٹھے کو اپنے گھیرے میں لیے کھڑی تھی ۔۔۔
وہ چاہتے تو منٹوں میں ریٹ کر سکتے تھے لیکن ان بچوں کو بچانا بہت ضروری تھا ان سب کے لیے ۔۔۔
سر میں تیار ہو میرے ساتھ کوئ نہیں جاے گا میں سب کو باحفاظت بچا کر لے آو گا بس آپ سب تیار رہنا ۔۔
تیمور نے اپنی وردی کو ٹھیک کرتے کہا ۔۔۔
نہیں تم ایسے نہیں جاو گے ہم سب ساتھ ہو گے ۔۔
جنرل نے سختی سے کہا ۔۔
اندر اکیلے جانے کا مطلب موت کے منہ میں جانا ۔۔
کیونکہ قمر خان نے اپنے کوٹھے پر گولا بارود اسلحہ سب کچھ تیار کر کے رکھا تھا ۔۔۔
وہ نہیں چاہتے تھے ایک کی غطلی سے سب بے گناہ بچوں کی جان لے ۔۔۔
سر میں کر لو گا اپنے بچوں کو لے آو مجھے سکون آے گا ۔۔۔
فکر نہ کرے بچا نہ سکا تو شہادت تو نصیب ہو گی مجھے ۔۔۔
تیمور نے مسکراتے ہوے اندر جاتے کہا ۔۔۔
————————————————————
چندہ میری جان ہم یہاں سے جا رہے ہے ڈیڈ ہمیں لینے آ رہے ہے ہم ہمیشہ یہاں سے چلے جاے گے ۔۔
داٶد نے مسکان کو تیار کرتے خوش ہوتے کہا ۔۔۔۔
امی ساتھ ہو گی کیا ۔۔
مسکان نے بے چین ہوتے پوچھا ۔۔۔
نہیں وہ عورت نہیں جاے گی بس تم اور میں ۔۔
داٶد نے نفرت سے کہا ۔۔
لیک۔۔۔۔۔
بیٹا میری جان ۔۔
مسکان کے
بولنے سے پہلے تیمور کھڑکی سے اندر داخل ہوتے بولے ۔۔۔
ڈیڈ ہم تیار ہے یہ آپ نے کیسے کپڑے پہنے ہے ۔۔۔
داٶد نے خوش ہوتے پھر حیرانی سے تیمور کی وردی دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
یہ تب پہنے جاتے ہے جب ہم کسی کی جان بچاتے ہے جیسے آج میں بچاو گا ۔۔۔
تیمور نے بہلاتے ہوے کہا ۔۔۔
سچی میں بھی یہ پہنو گا تاکہ میری چندہ کو کوئ کچھ نہ کہہ سکے ۔۔۔
داٶد نے مرغوب ہوتے کہا ۔۔۔
ہاں ضرور مسکان بیٹا چلو چلتے ہے ۔۔۔
تیمور نے مسکان کی طرف مسکرا کر دیکھتے پوچھا ۔۔۔
جی ڈیڈ ۔۔۔
مسکان نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔
چلو آو میرے ساتھ شور مت کرنا اچھا ۔۔
اگر کوئ میرے پیچھے رہ جاے کیسے بھی کر کے یہاں سے بھاگ کر وہاں ان لوگوں کے پاس جانا ہے جو باہر کھڑے ہے ۔۔۔
تیمور نے جلدی جلدی بم کو سیٹ کرتے کھڑکی سے باہر کھڑی آرمی فورس کو دیکھتے دونوں کو کہا ۔۔۔
ڈیڈ ان لڑکیوں کا کیا ہوا ۔۔۔
داٶد نے جلدی سے پوچھا ۔۔۔
بیٹا وہ ہم نے حفاظت سے گاڑیوں میں بیٹھا دیا ہے بس آپ دونوں رہتے ہو ۔۔۔
تیمور نے جلدی جلدی چلتے ہوے کہا ۔۔۔
کیونکہ اس کے پاس صرف بیس منٹ تھے ۔۔
اس کے بعد پورا کوٹھا دھماکے سے آڑ جاتا ۔۔۔
جبکہ مسکان کی فرمائشوں کا پروگرام سٹارٹ ہو چکا تھا ۔۔۔
(میرا روم سب سے زیادہ خوبصورت ہو گا ۔۔۔
اس میں ساری وہ چیزیں ہو گی جو مجھے چاہے ۔۔۔
میرے روم میں صرف بھاہیٶ آ یا کرے گا ۔۔
میری ہر خواہش میرا بھاہیٶ پورا کرے گا ۔۔۔
بھاہیٶ تم ایسا بنا جیسا ڈیڈ بنے ہے صیح ۔۔
مجھے جب ڈر لگا کرے گا میں بھاہیٶ کے پاس جایا کرو گی ۔۔
میری اتنے پیارے پیارے کپڑے ہو گے سب جل جاے گی ۔۔۔
میری دوستیں بھی ہو گی کیونکہ اب ہم امیر ہو جاے گے ۔۔۔۔)
ہاں میری جان میں اپنی چندہ کی ہر خواہش پوری کرو گا جلدی چلو ڈیڈ باہر چلے بھی گے ہے ۔۔۔
داٶد نے چندہ کا ہاتھ پکڑتے بھاگنے والے انداز سے کہا ۔۔
کیونکہ مسکان مسلسل اونچا اونچا بول رہی تھی ۔۔۔
بھاہیٶ نہیں بھاگا جا رہا مجھے سے آپ اٹھا لے مجھے
پلیز ۔۔۔
مسکان نے معصوم شکل بناتے فرمائش کی ۔۔۔
جبکہ داٶد کی صحت اتنی نہیں تھی وہ مسکان کو اٹھا سکے ۔۔۔
لیکن بھای تھا باپ کی طرح پالا تھا ۔۔۔
اسے وہ کیسے اپنی چندہ کی بات نہ مانتا ۔۔۔۔
چلو آو ۔۔بس شور مت کرنا ۔۔۔
داٶد اسے گود میں اٹھا چکا تھا ۔۔۔
———————————————————–
روک رکو نہیں تو میں گولی مار دو گا ۔۔۔۔
داٶد جب بھاگنے میں مصروف تھا جب اچانک قمر خان نے گرج دار آواز میں کہا ۔۔۔
ان سب کو پتہ چل گیا تھا آرمی سب کو اپنی حراست میں لے چکی ہے ۔۔۔۔
بھاہیٶ بچاٶ مجھے میں مرنا نہیں چاہتی ۔۔۔
مسکان نے داٶد کی گود میں ہی چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
نہیں میری چندہ کو کچھ نہیں ہو گا بس ہم باہر جانے والے ہے ۔۔۔
کمزور سے داٶد نے پسینے سے شرابور ہوتے اپنی بہن کو کہا ۔۔۔
جبکہ وہ باہر نکل چکے تھے اب ۔۔۔۔
ٹھاہہہہہ ۔۔۔
آہہہہہہ چندہ ۔۔۔۔
جیسے ہی وہ دونوں باہر آے ویسے ہی قمر نے گولی داٶد کے بازو پر ماری ۔۔۔
داٶد کو اپنے بازو کی فکر نہ تھی اگر فکر تھی تو صرف اپنی چندہ کی جو گر چکی تھی ۔۔۔
داٶد میرا بیٹا تیمور نے داٶد کے بازو سے خون نکلتے ہوے دیکھ تڑپ کر کہا ۔۔۔
ڈیڈ میری چندہ کو بچا لے آپ بچا سکتے ہے ۔۔
جاے جلدی میں ٹھیک ہو ۔۔۔
داٶد نے بے تابی سے مسکان کا کہا ۔۔۔
بیٹا خون زیادہ نکل رہا ہے تم فکر مت کرو وہ ہمارے پاس ہی ہے وہ دیکھو ۔۔۔۔
تیمور نے حوصلہ دیتے کہا ۔۔۔
جبکہ سامنے مسکان اکبٰری کے ساتھ کھڑی ہو رہی تھی ۔۔۔۔
وہ اس عورت کے پاس ہے آپ کیسے کہا سکتے ہے کہ آپ لوگوں کے پاس ہے ۔۔۔
داٶد نے سامنے دیکھتے غصہ سے کہا ۔۔۔
وہاں کیسے آی ہم دیکھتے۔روکو داٶد مت جاو ۔۔۔
تیمور نے اپنی بات ادھوری چھوڑتے داٶد کو اکبٰری کے پاس جاتے دیکھ چلاتے ہوے کہا ۔۔۔۔
———————————————————–
چھوڑو میری بہن کو ورنہ میں آگ لگا دو گا تیمں سمجھی ۔۔۔۔
داٶد نے اکبٰری کے پاس جاتے غصہ سے کہا ۔۔۔
ارے واہ تم آگ لگاٶ گے ۔۔
حالت دیکھی ہے تم نے ۔۔۔
اکبٰری نے مذاق کرتے کہا ۔۔۔
داٶد کے بازو سے مسلسل خون نکل رہا تھا ۔۔
کپڑے پھٹے ہوے تھے ۔۔۔
لیکن وہ ایسا بن چکا تھا جیسے پتھر دل ہو ۔۔
جیسے کوئ احساس نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔
لگاٶ گا پوری دنیا کو آگ اگر میری چندہ کو کچھ ہوا ۔۔
داٶد نے ایک جگہ پر پٹرول چھڑک کر آگ لگاتے کہا ۔۔۔
دیکھو ریشم یہ مجھے دے دو میں تیمں ساری دولت دو گا ۔۔۔۔
قمر نے مسکان کی طرف دیکھتے کہا ۔۔۔
جبکہ اکبٰری پیسوں کا نام سن کر پاگل ہو گی تھی ۔۔۔
سچی ۔۔
لو یہ لو مجھے میرے پیسے دو ۔۔۔
اکبٰری نے قمر کے پاس جاتے کہا ۔۔۔
نہیں نہیں میری چندہ نہیں ۔۔
مجھے لے لو میری چندہ کو چھوڑ دو ۔۔
ہر کام کرو گا میں بس میری بہن کو چھوڑ دو ۔۔۔
داٶد نے اکبٰری کے پاٶں پکڑتے ہوے منت کرتے کہا ۔۔۔
ارے جاو یہاں سے تم کیا دو گے مجھے پیسے تو ہے ہی نہیں مجھے پیسے چاہے سمجھے ۔۔۔۔
اکبٰری نے داٶد کو لات مارتے حقارت سے کہا ۔۔۔
جبکہ وہ قمر کے پاس چلی گی تھی ۔۔۔
یہ لو مجھے بھی ساتھ لے کر جاٶ ۔۔
اکبٰری نے مسکان اس کو دیتے کہا ۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا کیسی ماں ہو۔۔
اپنے ہی بچوں کی نہ ہو سکی ۔۔۔
چچچچچ ۔۔۔
قمر نے ہنستے ہوے افسوس سے کہا ۔۔۔
ک۔ی۔کیا مطلب ۔۔۔
اکبٰری نے ہکلاتے ہوے پوچھا ۔۔۔
پاگل عورت اپنے بچوں پر رحم نہیں کر رہی تو میں کیوں تم کرو تم اس کی حقدار ہو ۔۔۔
قمر نے کہتے ہی آگ میں گرا دیا تھا جو داٶد نے لگای تھی ۔۔۔۔۔
آہہہہہ بچاٶ بچاٶ ۔۔۔
اکبٰری نے گرتے ہی چلانا شروع کر دیا تھا ۔۔۔
داٶد اپنی نیلی آنکھوں سے صرف سامنے کھڑی مسکان کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا اکبٰری کے چیخ و پکار سے ۔۔۔
————————————————————
کوئ نہیں بچاے گا اس عورت کو مرنے دو اس کو ۔۔
ایک آرمی آفسر اکبٰری کو بچانے کے لیے جانے والا تھا ۔۔
جب داٶد نے سرد انداز سے کہا ۔۔۔
لیکن بیٹا وہ ما۔۔۔
نہیں ہے ماں وہ میری ایسی ہوتی ماں یہ سزا بھی کم ملی اس عورت کو ۔۔۔
داٶد نے غصہ سے چلاتے ہوے تیمور کی بات کاٹتے ہوے کہا ۔۔۔
وہی رک جاٶ کے کے ورنہ ہم گولی چلا دے گے ۔۔۔۔
جنرل نے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
جبکہ کے کے اپنی جان بچانے کے لیے کوٹھے کے اندر واپس جا رہا تھا ۔۔۔۔
مسکان کو اپنے ساتھ لے ۔۔۔۔
نہیں انکل پلیز میری بہن ساتھ ہے ۔۔۔
داٶد نے روتے ہوے منت کرتے کہا ۔۔۔
لیکن بیٹا ہم بچا لے گے آپ فکر مت کرے ۔۔۔
جنرل نے بہلاتے ہوے کہا ۔۔۔
نہیں نہیں قمر خان تم میری بہن کو چھوڑ دو ہم کچھ نہیں کرے گے ۔۔۔۔
داٶد نے ایک سمجھدار انسان کی طرح کہا ۔۔۔
ہاہاہہاہہاہا اگر میں نے چھوڑ بھی دیا تو یہ آرمی مجھے ویسے ہی پکڑ لے گی ۔۔۔
کے کے نے مسکان نے سر پر گن رکھتے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔
سمجھتے کیوں نہیں ہو تم یہ میری دھڑکن ہے واپس آو ورنہ میں گولی مار دو گا ۔۔۔
داٶد نے طش میں آتے جنرل کے ہاتھ سے گن لیتے کہا ۔۔۔
ہاہاہاہا اتنا سا بچہ مجھے مارے گا چلو مار کے دیکھاٶ ۔۔۔
کے کے نے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔
وہ اندر جا چکا تھا ۔۔۔
————————————————————
روکو ۔۔۔
روکو ۔۔۔
میری بہن ۔۔۔
کوٹھے کے اندر جاتے کےکے کو دیکھ کر داٶد نے تڑپتے ہوے کہا ۔۔۔۔
ہوش میں آو بیٹا اندر بم ہے اس کا ٹائم ختم ہونے والا ہے کیوں جانا چاہتے ہو ۔۔
تیمور اور جنرل نے داٶد کو زبردستی پکڑتے ہوے کہا ۔۔۔
جو کہ مسلسل اندر جانے کو بے چین ہو رہا تھا۔۔۔
ڈیڈ اسے کچھ ہوا میں بھی زندہ نہیں رہو گا سمجھے آپ ۔۔۔
داٶد نے غصہ کرتے کہا ۔۔۔
لی۔۔۔۔۔بممممممم ٹھاہہہہہہ ٹھاہہہہہہ ۔۔۔۔
اس سے پہلے تیمور کچھ کہتا جب دھماکا ہو چکا تھا ۔۔۔۔
ہر طرف آگ ہی آگ تھی ۔۔۔
نہیں نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے میر۔میری چندہ میں کیا کرو اب ۔۔
داٶد نے سامنے دھماکہ ہوتا دیکھ چلاتے ہوے کہا ۔۔۔۔
میں کیا کرو میری بہن چلی گی میں بچا نہ سکا کیسا بھای ہو میں مجھے بھی مرنا ہے ہاں میں بھی اپنی چندہ کے پاس جاٶ گا ۔۔
داٶد نے روتے ہوے پاگلوں جیسی پ
باتیں کرتے کہا ۔۔۔
بیٹا حوصلہ کرو ہم بچا لے گے ۔۔۔
تیمور نے داٶد کو گلے لگاتے ہوے کہا ۔۔۔
انہیں دکھ ہو رہا تھا قیسمت نے دونوں بہن بھای کے ساتھ کیا کیا تھا ۔۔۔
نہیں بچا سکے آپ ہاں ایک انسان بچا سکتا ہے ۔۔۔
داٶد نے چلاتے ہوے کہتے اکبٰری کے پاس گیا ۔۔۔
جو آگ میں جل کر راکھ ہو چکی تھی ۔۔۔۔
تم ماں ہو نہ میری نہ سہی چندہ کی ہو کہتے ماں جو دعا کرے اپنی اولاد کے لیے وہ پوری ہوتی ہے ۔۔
تم دعا کرو اللہٌسے مجھے میری چندہ مل جاے ۔۔۔
تمہیں پیسے چاہے نہ میں اتنا کماٶ گا بڑے ہو کر کے سارے پیسے تمہیں دو گا بس دعا کر دو ۔۔۔
داٶد نے اکبٰری کی راکھ اپنے ہاتھوں میں لیتے التجا کرتے کہا ۔۔۔
جبکہ اس کی حالت دیکھ کر پوری آرمی فورس کی آنکھں اشک بار تھی ۔۔۔
اتنے چھوٹے بچے کی ایسی تڑپ اپنی بہن کے لیے جیسے اپنی زرا فکر نہ تھی بازو سے مسلسل خون نکل رہا تھا ۔۔۔۔
لیکن اسے اگر فکر تھی تو صرف چندہ کی ۔۔۔
ڈیڈ دیکھے یہ عورت بول نہیں رہی آپ اسے پیسے دے یہ بھوکی ہے ہم اسے پیسے دے گے یہ دعا کرے گی ۔۔۔
اللہٌسنۓ کا ایک ماں کی دعا میری چندہ واپس آ جاے گی پھر ۔۔۔
داٶد نے وہ راکھ اپنے ہاتھ میں لے کر تیمور کے پاس آتے کہا ۔۔۔۔
تیمور ہم سب دیکھ لے گے بچے کو لے جاٶ یہاں سے دیکھو اس کی حالت مر جاے گا ۔۔۔
جنرل نے ترس کرتے کہا ۔۔۔
داٶد کبھی اکبٰری والی جگہ پر جاتا تو کبھی کوٹھے والی جگہ ۔۔۔
سر یہ ایک بچی کی لاش ملی ہے ۔۔۔۔
آرمی آفسر نے پاس آتے کہا ۔۔۔۔
نہیں یہ میری چندہ نہیں ہے۔
داٶد نے لاش دیکھتے روتے ہوے کہا ۔۔۔۔
سب برے یہ عورت بری وہ انسان برا آپ برے ڈیڈ کوئ نہ بچا سکا میری چندہ کو ۔۔
میں کیوں زندہ ہو میرے جیسوں کی بھی دنیا میں ضرورت نہیں ۔۔۔
گولی مار دے مجھے ۔۔
میں اپنی چندہ کے پاس جانا چاہتا ہو ۔۔۔
داٶد نے غصہ سے تیمور کی گن پکڑتے ہوے کہا ۔۔۔۔
نہیں تم ۔۔۔
داٶد داٶد آنکھں کھولو ۔۔۔
تیمور کچھ کہتا جب داٶد زمین پر گرتا بے ہوش ہو چکا تھا ۔۔۔
فورًا اسے ہاسپٹل لے کر جاو بچے کی مدھم سانس چل رہی ہے ۔۔۔
جنرل نے داٶد کی سانسوں کو چیک کرتے کہا ۔۔۔
جبکہ داٶد اب پرسکون ایسا سو رہا تھا جیسے کبھی نیند آی نہ ہو۔۔۔
میں اپنے بیٹے کو کچھ نہیں ہونے دو گا ۔۔۔
تیمور نے اسے گود میں اٹھاتے بھاگتے ہوے کہا ۔۔۔
وہ مسلسل اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے جو اب بلکل زرد ہو چکا تھا ۔۔۔۔
(قیسمت نے بہت برا کیا تھا دونوں بہن بھای کے ساتھ شاہد ہی کبھی وہ دونوں مل سکے ایک دوسرے سے )…
