172.3K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 9)

Dadhkan By Rania Mehar

السلام و علیکم انکل ۔۔۔۔

محمل نے ڈائنیگ ٹیبل کے پاس آتے ہوے کہا ۔۔۔

وہ میر سے جلدی جاگ کر نیچے آ گی تھی کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی میر صبح صبح کوئ پنگا نہ لے اس سے ۔۔۔

۔وعلیکم السلام بیٹا ۔۔۔۔

مجھے ڈیڈ ابو پاپا ابا کچھ بھی کہہ لیا کرو میری بیٹی ہو تم ۔۔

تمیور صاحب جو ٹیبل کے پاس بیھٹے فون یوز کرنے میں بزی تھے جب اچانک محمل کی آواز سن کر خوش ہوتے بولے ۔۔

جی ڈیڈ ۔۔

محمل نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔

محمل کو تمیور صاحب اپنے پاپا جیسے لگے تھے جہنوں نے ایک دفعہ بھی اس سے ایک سوال نہیں کیا بلکہ فورًا اپنی بیٹی بنا لیا ۔۔۔

بیٹا رات نیند کیسی آی تھی ۔

اگر کچھ چاہے ہو تو بلاججک لے سکتی ہو تمہارا ہی گھر ہے ۔۔

پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اب تمہارے دو گھر ہو گے ایک یہ دوسرا تمہارے پاپا کا ۔۔

تمیور صاحب نے محمل کے چہرے پر اداسی دیکھ کر کہا ۔۔۔

جی ڈیڈ بس پاپا کی یاد آ رہی تھی رات ۔۔

محمل نے اپنے آنسو صاف کرتے کہا کیونکہ مختار صاحب کو یاد کرتے آنکھوں میں آنسو آ گے تھے ۔۔۔

فکر نہ کرو بیٹا تمہارے پاپا کی یہ غلطی فہمی بھی ہم خود ختم کر دے گے بلکہ داٶد خود یہ غلط فہمی دور کرے گا ۔۔

تمیور صاحب نے محمل کو تسلی دیتے کہا ۔۔

کیونکہ میر بتا چکا تھا نکاح کیسے ہوا ۔۔۔

یہ داٶد کون ہے ڈیڈ ۔۔

محمل نے حیران ہو کر پوچھا کیونکہ جب سے وہ آی تھی اتنے بڑے پلیس میں صرف میر اور تمیور کے علاوہ کوئ فرد نہیں دیکھا تھا ۔۔

تم داٶد کو نہیں جانتی کیا میر نے نہیں بتایا تمیں ۔۔

تمیور صاحب نے خوش ہوتے پوچھا ۔۔

وجہ یہ جب بھی داٶد کا نام آتا تھا تمیور صاحب ایسے ہی خوش ہو جاتے کیوں نہ ہوتے آخر ان کے دل کی دھڑکن تھا داٶد ۔۔

نہیں وہ کڑوا کڑیلا سو گیا تھا ۔۔

محمل نے منہ بناتے مدھم آواز سے کہا ۔۔

جو کہ تمیور صاحب کو بامشکل سنائ دی ۔۔

کیا بیٹا ۔۔

تمیور صاحب نے نا سمجھی سے پوچھا ۔۔

کچھ نہیں ڈیڈ آپ یہ بتاے کب مل رہے ہم آپ کے داٶد سے ۔۔

محمل نے بات ٹالتے ہوے کہا جس میں کامیاب بھی ہوئ ۔۔

شام کو مل لینا اس سے ۔۔۔

میرا بیٹا بہت معصوم ہے دل کا اتنا اچھا کہ کسی کے دکھ کو برداشت نہیں کرتا ہر کسی کی مدد کے لیے تیار رہتا ہے میرا پیارا داٶد ۔۔

تم ملنا مجھے خوشی ہو گی کیونکہ وہ مجھے جان سے زیادہ عزیز ہے ۔۔

تمیور صاحب نے خوش ہوتے محمل کے سامنے تعریف کرتے کہا ۔۔۔

کہاں رہتا ہے آپ کا بیٹا ۔۔

محمل نے ناشتہ کرتے پوچھا ۔۔

وہ کب سے صرف داٶد کا ذکر سن رہی تھی ۔۔

تبھی بے تابی سے پوچھا ۔۔۔

لندن سے آیا ہے کچھ ماہ پہلے اپنی اسٹڈی کمپلیٹ کرکے ۔۔۔

وہ اب یہاں پاکستان رہے گا ہمیشہ میرے ساتھ

اس نے شاد۔۔۔۔

لو میر آ گیا ۔۔

تمیور صاحب اس سے آگے کچھ کہتے جب سڑھیوں سے نیچے آتے میر کو دیکھ کر اپنی ادھوری بات چھوڑتے ہوے بولے ۔۔

میر جو اپنی وجہہ پرسیلنٹی لے تیار سا نیچے آ رہا تھا ۔۔۔

لو آ گیا سڑیل کھڑوس انسان شکل ایسی ہے کہ بس بندہ معافی مانگے اس سے دیکھتا ایسا ہے جیسے ابھی کھا جاے گا ۔۔

اور ایک وہ ڈیڈ کا دوسرا بیٹا ہے داٶد کتنا پیارا ہو گا جیسا ڈیڈ بتا رہے ۔۔

محمل نے اپنے سامنے کھڑے میر کو دیکھ کر دل میں بیزار ہوتے سوچا ۔۔۔

السلام و علیکم ڈیڈ کیسے ہے ۔۔

میر اپنے ڈیڈ سے ملتے ہوے مسکرا کر پوچھا ۔۔

تبھی اچانک محمل کی نظر اس کے دونوں گالوں کے ڈمپل پر پڑی جو ہلکی ڈراھی کی وجہ سے جلدی غائب ہو چکے تھے ۔۔

وعلیکم السلام ۔۔

میں ٹھیک تم کیسے ہو ۔

تمیور صاحب نے خوش ہوتے جواب دیا ۔۔۔

میں بھی ٹھیک میر نے یہ کہتے ہی ناشتے کی طرف متوجہ ہو گیا ۔۔۔

کیا مصروفیات ہے تمہاری میر کیونکہ میں چاہا رہا تھا کہ تم محمل کو شاپنگ کروا دو اور آج شام کو ولیمہ ہے تم دونوں کا ۔۔

مجھے کام ہے ضروری آج میں نہیں جا رہا ۔۔

میر نے دو ٹوک جواب دیا ۔۔۔

تم جاٶ گے ہر حال میں اور محمل کو داٶد سے بھی ملاٶ تم جلدی ۔۔

تمیور صاحب نے اب زرا غصہ سے کہا ۔۔۔

ڈیڈ اس کا نام مت لیا کرے میرے سامنے مجھے نفرت ہے داٶد نام سے میر نے طیش کے عالم میں کہا ۔۔

کیوں نہ لے نام ان کا وہ تمہارا جیسا نہیں ہے کہ جیسے بات کرنے کی تمیز تک نہیں ہے ۔۔

مجھے ایسا لگاتا ہے داٶد ڈیڈ سے تمیز سے بات کرتا ہے اتنی تعریف سنی ہے میں نے ۔۔۔

تم کیسے پھاڑ کھانے کو ہو رہے ہو ڈیڈ کو ۔۔

بھای ہے وہ تمہارا ری ایکٹ ایسا کر رہے ہو جیسے تمیں ڈیڈ سڑک سے اٹھا کر لاے ہے ۔۔۔

تمیور صاحب کے بولنے سے پہلے ہی محمل بول اٹھی تھی ۔۔

اسے برا لگا تھا میر کا اس انداز میں بات کرنا وہ بھی اپنے باپ سے تبھی وہ نان سٹاپ جو منہ میں آیا بول گی ۔۔۔

شٹ اپ ..

جیسٹ شٹ اپ تم کون ہوتی ہو مجھے بتانے والی کہ مجھے سڑک سے اٹھاکر لاے ہے یا نہیں ۔۔

سڑک سے اٹھنے والی بات پر ایک پل کے لیے میر کے چہرے پر سایہ لہرایا تھا ۔۔

تبھی وہ آپے سے باہر ہوتے محمل پر دھاڑا ۔۔

ل۔۔م۔ک۔

محمل کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا بولے ۔۔

زیادہ زبان چلانے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ یہی زبان ہاتھ پر رکھ دو گا ۔۔۔

میر محمل کو ممناتے ہوے دیکھ کر اب پھر غصہ سے بولا ۔۔

یہ کیا طریقہ تھا داٶد ۔۔۔

تمیور صاحب نے شدید طش کے عالم میں پوچھا ۔۔۔

کیونکہ محمل میر کا غصہ دیکھ کر روتے ہوے کمرے میں بھاگ گی تھی ۔۔

میرا نام میر ہے میر ہے مت لیا کرے داٶد کا نام وہ مر چکا ہے سمجھے آپ ۔۔

میر نے غصہ سے کہا ۔۔

تمیور صاحب کو جب بھی غصہ آتا تھا وہ اسے داٶد کہتے ۔۔

میری ایک بات کان کھول کر سن لو ۔۔

آج ہی اسے شاپنگ پر لے کر جاو تاکہ وہ اپنی ضرورت کی چیزیں خرید سکے اور ولیمہ کا ڈریس شام تک آ جاے گا ۔۔

تمیور صاحب نے خودی اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوے اپنے سامنے کھڑے میر کو سمجھایا جو خود اب ایک شیر کی طرح کھڑا تھا ۔۔۔

میں نے یہ شادی خوشی سے نہیں کی آپ سب جانتے ہے پتہ نہیں کیوں میری زندگی میں آ گی ہے سارا سکون خراب کیا ہے میرا ۔۔

آپ سب جانتے ہے میری زندگی میں شادی نہیں

۔

کسی بھی لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل نہیں

کر سکتا کیوں بھول جاتے ہے میں کون ہو کیا ہو ۔۔

یہ آپ کا بڑا پن ہے جو مجھ جیسے کو بیٹا مانا ورنہ میں

۔ نا۔ج۔

میر کا غصہ ہمیشہ تمیور کا چہرہ دیکھ کر جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا تبھی وہ سمجھانے والے انداز میں بات ادھوری چھوڑ گیا ۔۔

ایک تپھڑ لگاو گا ہوش ٹھکانے آ جاے گے تمہارے ۔۔

میرے بیٹے ہو تم مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہو دھڑکن ہو میری ۔۔

صرف اور صرف تمیور کے بیٹے ہو تم کوئ چھوٹی بات نہیں ۔۔

تیمور صاحب نے میر کا افسردہ چہرہ دیکھ کر ڈائٹ کر کہا ۔۔

اگر کوئ اس ٹائم میر تمیور کو افسردہ دیکھ لیتا تو سو دفعہ غش پڑتا اسے ۔۔

دنیا کا جانا مانا بزنس مین صرف اپنے باپ کے سامنے افسردہ ہوتا تھا ۔۔

باقیوں کے لیے وہ سٹون مین تھا ۔۔

چلو جاٶ محمل کو شاپنگ پر لے کر جاو میرا بیٹا بہت پیارا ہے ۔۔۔

تمیور صاحب نے پھر اسے یاد کروایا ۔۔۔

جی ڈیڈ ۔۔

میر کو اپنے باپ کی بات مانی ہی پڑی ۔۔۔

———————————————————–

مسکان یہ کیا حرکت تھی تمہاری اگر میں لیٹ ہو جاتی تو کیا ہوتا ۔۔

۔

اصغری بیگم نے مسکان کے ہاتھ سے چاقو پکڑتے غصہ سے پوچھا ۔۔

جبکہ مسکان اپنی کلائ سے مسلسل نکلتا خون دیکھ رہی تھی ۔۔۔

وہ رات کے پہر مسکان کے کمرے میں جا رہی تھی یہ دیکھنے اسے کچھ چاہے تو نہیں ۔۔

جب کمرے میں مسکان کو نہ پا کر وہ کچن میں دیکھنے آی تھی جب سامنے یہ دیکھ کر حیران رہ گی مسکان اپنی کلائ پر چاقو رکھے آنکھوں کو بند کیے کھڑی تھی ۔۔۔

دیکھو بیٹا مایوسی گناہ ہے ۔

کیوں اپنے اللہٌکو ناراض کر رہی ہو ۔۔

اس نے تمیں آزمائش میں ڈالا ہے تو صبر کا دامن تھام لو ۔۔

نہ کہ ایسی حرکت کرو تم ۔۔

اصغری بیگم سمجھ گی تھی مسکان نے یہ حرکت کیوں کی ۔۔

تبھی اسے کمرے میں لے کر جاتے ہوے سمجھایا ۔۔

یہاں بیٹھ جاٶ میں پٹی کرتی ہو ۔۔

اصغری بیگم نے مسکان کو کرسی پر بیٹھا کر کہا ۔۔

جبکہ مسکان مسلسل اپنے آنسو بہانے میں مصروف تھی وہ انھیں کیسے بتاے واقعی وہ مایوس ہو چکی تھی ۔۔۔

————————————————————

السلام و علیکم میم ۔۔

نگارہ بیگم کو اس کے خاص آدمی نے فون کیا ۔۔

نگارہ بیگم پولیس کی ریٹ سے بچنے کے لیے کوٹھے سے بھاگتی ہوی ایک چھوٹی تنگ گلی میں بنے گھر میں چھپی بیٹھی تھی ۔۔

بول کیا بات ہے ۔۔

نگارہ نے سلام کا جواب دینے کی بجاے اپنے مطلب کی بات کی ۔۔۔

میم وہ دونوں لڑکیاں زندہ ہے ۔۔

مسکان نام کی لڑکی نیلی آنکھوں والی گونگی ہو چکی ہے ۔۔

جبکہ ساتھ جو گرے آنکھوں والی اس کی شادی ہو گی ۔۔۔

نگارہ بیگم کے آدمی نے اطلاع دی ۔۔۔

دفعہ کرو اس مسکان کو گونگی ہو گی کوئ فائدہ نہیں ہے تم بس اب وہ گرے آنکھوں والی کو پکڑو اس کے پیسے دے ہے ہم نے ۔۔

نگارہ نے اپنی بات کہہ کر فون کاٹ دیا ۔۔۔

————————————————————

میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہو ۔۔

ویسے بھی ساری رات میرے ساتھ رہی ہے ۔۔۔

اگلی صبح اے اے کمرے سے باہر نکل کر چندہ بیگم کو اپنی بات کہی ۔۔

لیکن صاحب ایسا نہیں ہو سکتا کوٹھے پر جب لڑکی آ جاے اس کی شادی نہیں ہوتی ۔۔۔

چندہ بیگم نے گھبراہٹ سے کہا ۔۔

بس کر ورنہ یہ گن کی ساری گولیاں تمہارے دماغ میں ڈال دو گا ۔۔۔

نکاح کا بندوبست کرو اور یہ چیک جتنی رقم چاہے لو تم شام تک نکاح ہونا چاہے ۔۔۔

نہیں تو یہ چلتی زبان اے اے اچھے سے بند کر سکتا ہے ۔۔۔

اےا ے نے اپنی ہیزل گرین آنکھوں میں غصہ لاتے چندہ بیگم کے ماتھے پر گن رکھتے کہا ۔۔۔

کرو اسے تیار

شادی کے لیے ۔۔

چندہ بیگم نے جان بچانے کے لیے جلدی سے حکم دیا ثانیہ کو تیار کیا جاے ۔۔

ن۔نہی۔نہیں میں یہ نکاح نہیں کر سکتی ۔۔

ثانیہ جو کمرے کے ایک طرف زمین پر بیٹھی رو رہی تھی ۔۔

نکاح والی بات سنتے ہوش میں آتے کہا ۔۔

براٶن بال جو اس وقت بکھرے ہوے تھے ۔۔

کالی گہری آنکھیں جو رونے کی وجہ سے سوجی ہوی تھی ۔۔۔

پھٹے کپڑے اس کی اجڑی حالت کا ثبوت دے رہے تھے ۔۔۔

شام کو نکاح ہے تیرا بس ۔۔

چندہ بیگم نے ثانیہ کے چہرے پر تھپڑ مارتے ہوے غصہ سے کہا ۔۔۔

تپھڑ کھاتے ہی ثانیہ اپنا ہوش حواس کھوتی ایک طرف گر چکی تھی ۔۔۔

———————————————————–

چلو اٹھو شاپنگ پر جانا ہے ۔۔۔

محمل جو رونے میں مصروف کمرے میں بیٹھی تھی اب میر کی آواز سن کر حیران ہوی ۔۔۔

میں نہیں جا رہی ۔۔

محمل نے دو ٹوک جواب دیا ۔۔

میر جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا محمل کو روتا ہوا دیکھتا پاس جاکر بولا ۔۔

چلو میرے ساتھ ڈیڈ نے کہا ہے ۔۔

میر نے تحمل سے کہا ۔۔

کیونکہ وہ اپنے باپ کی بات نہیں ٹال سکتا تھا ۔۔۔

میں نہیں جا رہی تمہارے ساتھ دفعہ ہو جاو یہاں سے ہر دفعہ تمہاری مرضی نہیں چلے گی ۔۔

محمل نے میر کی طرف دیکھ کر غصہ سے کہا ۔۔

اس کے چہرے پر زرا شرمندگی نہیں تھی ۔۔

محمل سوچ رہی تھی یہ کیسے اتنا پرسکون رہ سکتا ہے ۔۔۔

تمیز سے بات کرو میرے ساتھ ورنہ ۔۔۔

ورنہ کیا کرو گے تم مجھے ذلیل کرو گے یا ڈیڈ کو بتاو گے میری بیوی میری سنتی نہیں چچچچچچچچ کتنی بری بات ہے ۔۔

جس کی ساری دنیا سنتی ہے اس کی میں نے سن رہی ۔۔

سو پلیز یہاں سے دفعہ ہو جاو ۔۔۔

محمل نے میر کی بات کاٹتے ہوے مذاق سے کہا ۔۔۔

پہلے تو یہ تم تم کہنا بند کرو شوہر ہو تمہارا کچھ شرم کرو ۔۔

میر نے اپنا غصہ کنٹرول کرتے تحمل سے کہا ۔۔

وہ لڑنا نہیں چاہتا تھا ۔۔

لیکن میں تمیں شوہر نہیں مانتی زبردستی کے شوہر ہو تم سمجھے ۔۔ جس نے اپنی انا کی تسکین کے لیے نکاح کیا ہے ۔۔۔

محمل نے غصہ سے کھڑے ہوتے کہا ۔۔

کیا شوہر ابھی بتاتا ہو شوہر ہوتا کیا ہے ۔۔

میر نے محمل کو کمر سے پکڑتے غصہ سے دیوار کے ساتھ لگاتے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ایک ہاتھ سے پکڑتے دیوار کے ساتھ پن کیا ۔۔۔

ہاہاہا شوہر اور تم ویسے کسی نے کہا تھا مجھے عورت ذات سے نفرت ہے ۔۔

اب وہی مسٹر شوہر شوہر کی رٹ لگا رہا ہے ۔۔۔

محمل نے تحمل سے جواب دیا ۔۔۔

میر کے چہرے پر غصہ دیکھ کر اسے خوشی ہوی تھی ۔۔

تم کہنا بند کرو ورنہ اچھا نہیں ہو گا ۔۔۔

میر نے محمل کے مسلسل ہلتے لب دیکھ کر دانت پیستے غصہ سے کہا ۔۔۔

تم ۔تم ۔تم ۔تم ۔تممممممممم۔ت۔۔۔

محمل جو اب واقعی میر کو چڑانے کے لیے تم کی رٹ لگا رہی تھی جب اچانک میر نے غصہ سے اپنے لب محمل کے لبوں پر رکھ کر بولتی بند کر چکا تھا ۔۔۔

محمل کو میر سے یہ امید نہیں تھی تبھی اس کے شدت بھرے عمل پر تڑپ اٹھی تھی ۔۔۔

اس سے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا مشکل ہو رہا تھا ۔۔

میر کی سخت گرفت میں کھڑی محمل کو اپنا سانس جاتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔

میر رفتہ رفتہ اپنی سانسوں کو محمل کی سانسوں میں مدہوش ہوے منتقل کر رہا تھا ۔۔۔

چھوڑو مجھے بے ہودہ انسان بے شرم جاہل آوارہ سڑیل انسان کھڑوس کڑوا کڑیلا ۔۔۔

محمل کو جب اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا تب اپنی ہمت جمع کرتے اس نے میر کو زور سے دھکا دیتے غصہ سے بولی ۔۔

ہمت کیسے ہوئ مجھے چھونے کی ۔۔

محمل نے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ پھیرتے غصہ سے میر کی طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔

محمل کو ابھی بھی اپنے لبوں پر میر کا لمس محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہہا بیوی ہو میری حق رکھتا ہو میں اگر چاہو تو ابھی اپنا حق لے سکتا ہو ۔۔۔

میر جو مدہوش ہوا تھا اب دھکا لگنے کی وجہ سے ہوش میں آتا بولا ۔۔۔

میر جو اپنی حرکت پر پہلے شرمندہ ہوا تھا اب محمل کا سرخ گلنار چہرہ دیکھ کر مسکر ا کر بولا ۔۔

می۔میں ڈیڈ کو بتاو گی تمہاری حرکت دیکھنا ۔۔

محمل حق والی بات سن کر خاموشی ہوی تھی وہ صیح کہتا تھا شوہر ہے حق رکھتا ہے اس پر

لیکن پھر ہمت کرتے میر کو دمھکی دی ۔۔

ہاہاہاہ جاو بتاو ڈیڈ کو ۔۔

ویسے کیا بتاو گی ڈارلنگ کہ میر نے مجھے کس کیا ۔۔

جاو بتا کہ آو ۔۔

میر نے طنزیہ ہنسی ہنس کر کہا ۔۔

محمل شرمندہ ہو گی ۔۔

ایک بات آج کے بعد مجھے تم کہا تو یہ سزا بہت کم تھی آئندہ تم کہا تو اتنی بری سزا دو گا خود سے شرماتی رہو گی سمھجی ۔۔

اب آو باہر شاپنگ پر جانا ہے ۔۔۔

میر نے محمل کو چپ دیکھتے غصہ سے کہتا باہر چلا گیا ۔۔۔

————————————————————

شاپنگ پر ایسا لے کر آیا ہے جیسے ہماری لومیرج ہو اور اب میری طرف دیکھ بھی نہیں رہا ۔۔۔

محمل جو اب ایک گھنٹہ لگا کر کچھ ڈریس دیکھ سکی تھی ۔۔۔

میر اس کی زرا مدد نہیں کر رہا تھا بلکہ وہ مسلسل فون اور آس پاس میں مصروف تھا ۔۔

جیسا یہ کام اس کا ضروری ہو ۔۔

دونوں اس وقت شاپنگ کرنے آۓ تھے بلکہ وہ تمیور صاحب پر احسان کر رہے تھے دونوں ورنہ شاپنگ ابھی تک نہیں کی تھی ۔۔۔۔

جلدی کرو کیا سارا دن یہی رہنا ہے نکمی لڑکی ۔۔

اففف یہ لڑکیوں کی شاپنگ ڈیڈ نے بھی مجھے ساتھ بھیج دیا ۔۔۔

میر نے اپنی طرف گھورتی محمل کو دیکھ کر بیزار ہوتے کہا ۔۔۔

کیوں اب کیا تم کو موت پر گی ہے کب سے کھڑے فون اور آس پاس لڑکیوں کو دیکھ رہے تھے اب جلدی جلدی کر رہے ہو ۔۔

محمل نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ کر کہا ۔۔

اسے ویسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا لے ۔۔

ہاں میں دیکھ رہا لڑکیوں کو وہ دیکھو بلیک ڈریس والی اور یہ ریڈ والی دیکھو کیسے مجھے دیکھ رہی ہے ۔۔

دیکھ لیا اب جلدی کرو تم ۔۔

میر نے غصہ کنٹرول کرتے غصہ سے کہا ۔۔۔

تم مطلب آپ بتا دے کیا لو ۔۔۔

محمل جو تم کہنے والی تھی میر کی گھوری دیکھتے اپنے ہوئٹ پر ہاتھ رکھتے شرافت سے کہا ۔۔۔

ہلیو ایکسوزمی سسٹر یہ سب ڈریس اور ساتھ جو لیڈی چیزیں ہوتی ہے ساری پیک کر دے تاکہ میں بل بنا سکو ۔۔۔

میر نے محمل پر احسان کرتے سیل گرل کو بیزار ہوتے آڈر دیا ۔۔۔

ج۔جی سر یہ سب ۔۔۔۔

سیل گرل اپنی شاپ پر لاکھوں کا سامان ایک منٹ میں خریدتے میر کو دیکھ کر حیرت میں کھڑی سے پوچھ لیا ۔۔

تم آجاو میں بل پے کر کے آتا ہو ۔۔۔

میر نے بات اگنور کرتے اپنی کہہ کر شاپ سے باہر نکل گیا ۔۔

پاگل انسان بھاگا ایسا جا رہا ہے جیسے یہاں حملہ ہونے والا ہے اور اسے اپنی جان کی پڑی ہے ۔۔

محمل نے میر کو شاپ سے باہر بھاگ کر نکلتے ہوے حیرت سے سوچا ۔۔۔

————————————————————

کہاں رہ گیا ہے ابھی تک نہیں آیا ۔۔

محمل مسلسل دو گھنٹے سے مال کے باہر کھڑی میر کا ویٹ کر رہی تھی

جو کب سے مال کے اندر بل پے کرنے گیا تھا ۔۔۔

آہہہہہہہ آہہہہہہہہ

محمل جو ابھی سوچ رہی تھی جب اچانک کسی نے اسے کمر سے پکڑتے اپنی طرف کھنچا ۔۔۔

آپ ڈی ایممممممم کیسے یہاں کیوں ۔۔

محمل نے جب اس انسان کی طرف دیکھا جس نے اپنی طرف کیا تھا ۔۔

ڈی ایم کو سامنے دیکھ کر حیران ہوتے پوچھا ۔۔

جو اپنی نیلی آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا ۔۔۔

ٹھاہہہہہہہہ ٹھاہہہہ ۔۔۔

اس سے پہلے ڈی ایم کچھ کہتا جب گولی کی آواز آی ۔۔

چلو میرے ساتھ ۔۔۔

ڈی ایم نے محمل کا ہاتھ پکڑتے بھاگتے ہوے کہا ۔۔۔

محمل کو کوئ ہوش نہ تھا وہ تو بس ڈی ایم کی خوبصورت آواز سن کر پاگل ہو رہی تھی ۔۔۔

ہاے آپ کی آواز کتنی پیاری ہے آپ کو پتہ میں کتنی بڑی فین آپ کی ۔۔

محمل نے ساتھ بھاگتے ڈی ایم کو دیکھ کر چہکتے ہوے کہا ۔۔۔

جب کہ ڈی ایم اسے اگنور کیے مسلسل آس پاس دیکھتا بھاگ رہا تھا ۔۔۔

کس کے ساتھ آی ہو تم ۔۔۔

تمیں پتہ بھی ہے اس مال میں چار دہشت گرد پکڑے گے ہے کتنا خطرہ تھا وہاں لیکن تم لڑکیوں کو شاپنگ کی پڑی رہتی ہے ۔۔۔

ڈی ایم نے اب غصہ سے غراتے ہوے بولا لیکن محمل صرف مسکرانے میں مصروف رہی ۔۔۔

کچھ پوچھا ہے کس کے ساتھ آی ہو ۔۔

ڈی ایم نے اکتا کر پوچھا ۔۔۔

بزدل شوہر کے ساتھ جو کہ اب پتہ نہیں کہاں رہ گیا ہے ۔۔

محمل نے دو ٹوک جواب دیا ۔۔۔

بزدل شوہر مطلب ۔۔

ڈی ایم نے نیلی آنکھوں میں حیرت لاے پوچھا ۔۔

ہاں نہ بزدل شوہر میرا اُسے نہیں تھا پتہ کہ یہاں دہشت گرد حملہ کرنے والے ہے جان بوجھ کر مجھے لے کر آیا تاکہ میں مر جاٶ اس کی جان چھوٹ جاے مجھے سے ۔۔۔

ابھی بھی پتہ نہیں کہاں چھپ کر بیٹھا ہے ۔۔۔

زرا میرا خیال نہیں ہے ۔۔

محمل نے اب دکھی ہوتے کہا ۔۔

اسے دکھ تھا میر شوہر ہو کر اس کی حفاظت نہیں کر سکا ۔۔

ڈی ایم غیر مرد ہو کر اس کی حفاظت کر رہا تھا ۔۔۔

بہت بولتی ہو تم لڑکیاں چلو جاٶ یہاں سے راستہ صاف ہے وہ سامنے گاڑی میں بیٹھ جانا تمیں گھر چھوڑ دے گی ۔۔

ڈی ایم نے بات اگنور کرتے سامنے گاڑی کی طرف اشارہ کرتے جانے کو کہا ۔۔۔

لیکن آپ کیوں ایسا کر رہے لڑے ان سب سے میں دیکھنا چاہتی ہو کیسے آپ ان سب کو مارتے ہے صرف نیوز میں ہی سنی ہے آپ کی بہادری بس ۔۔

محمل نے چہکتے ہوے کہا ۔۔

وہ گھر نہیں جانا چاہتی تھی ۔۔۔

تم لڑکی ذات ہو ان سب کو میں دیکھ لو گا تم جاٶ یہاں سے ورنہ مر جاٶ گی ۔۔

ڈی ایم نے تحمل سے کہا ۔۔

لیکن میں ۔۔۔

بس جاٶ یہاں سے ورنہ یہ گن کی ساری گولیاں تمیں مار دو گا پاگل عجیب لڑکی کب سے ایک ہی بات کہی جا رہی میری نہیں سنتی ۔۔۔

محمل کو دوبارہ بولتے دیکھ ڈی ایم نے گن اس کے ماتھے پر رکھتے غصہ سے دھمکی دی ۔۔۔۔

اچھا ایک شرط پر جاٶ گی ۔۔۔

محمل نے اپنے دانت نکال کر کہا ۔۔۔

بکو جلدی ۔۔۔۔

ڈی ایم نے بیزار ہو کر پوچھا ۔۔۔۔

وہ چاہتا تھا کہ محمل یہاں سے جلدی چلی جاے ۔۔۔

ہم اگر کبھی دوبارہ ملے تو میں آپ کا چہرہ دیکھو گی ۔۔۔

ہاےےے میری خوائش پوری ہو جاے گی پلیز مان جاے ۔۔

محمل نے منت کرتے ہوے کہا ۔۔۔

ہہممم سہی اب جا میں ۔۔۔

سچی اب میں دعا کرو گی وہ دن جلدی آے ۔۔

محمل نے خوش ہوتے کہہ کر بھاگ گی ۔۔۔

پاگل لڑکی جس دن اسے پتہ چلا میں کون ہو سب سے پہلے یہ بے ہوش ہو گی ۔۔

ڈی ایم نے طنزیہ مسکراہٹ سے سوچا ۔۔۔۔

————————————————————

واہ میم آپ تو میک اپ کے بنا ہی اتنی پیاری لگ رہی ہے ۔

محمل جو کہ سلور مکیسی گاٶن پہنے ڈارسنگ روم سے باہر آئ تب بیوٹی پالر والی نے کہا ۔۔۔

محمل لائٹ میک اپ نفیس جیولری کے ساتھ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔

ماشاءالله میم آپ تو اور زیادہ پیاری لگ رہی ہے یہ سن کر محمل شرما گی ۔

سنو یہ بالوں کو کھول دو کیونکہ پیچھے سارا بیک لیس ہے ۔۔۔

محمل نے اپنی تیاری دیکھتے ہوے اچانک کہا جب اسے اپنی برہنہ کمر نظر آی ۔۔۔

جو کہ بالوں کا جوڑا بنانے کی وجہ سے دیکھ رہی تھی ۔۔

لیکن میم ۔۔

تم جاٶ یہاں سے ۔۔

اس سے پہلے پالر والی کچھ کہتی جب میر کی آواز سنای دی ۔۔۔

لو اب یہ سڑیل بولے گا کچھ محمل نے منہ میں بڑبڑاتے ہوے کہا ۔۔

میر جو کمرے میں تیار داخل ہوا ایک منٹ کے لیے محمل کو خوبصورت سا تیار دیکھ کر مہیوت رہ گیا ۔۔

لیکن برہنہ کمر دیکھ کر غصہ سے بولا ۔۔۔

دیکھو میں کوئ فضول بکواس نہ۔۔۔

محمل میر کی طرف کمر کیے کھڑی تھی تبھی پلٹ کر میر کو بولنے لگی پر باقی کے الفاظ منہ میں رہ گے ۔۔

میر بیلو تھری پیس میں اپنے کسرتی جسم چھ فٹ سے نکلتا قد اپنی وجہہ پرسنلٹی پر مہنگی راسٹ واچ پہنے چہرے پر سنجیدگی اپنی آنکھوں میں وحشت لے کھڑا تھا ۔۔۔

یہ اتنا خوبصورت ہے کھڑوس میں نے آج دیکھا ۔۔

محمل نے میر سے نظریں چراتے ہوے سوچا ۔۔۔

رکو ایسے مت جانا ۔۔

میر نے محمل کے قریب آتے کہا جو کمرے سے باہر جا رہی تھی ۔۔

دور رہ کر بتاو مجھے پاس کیوں آ رہے ہو ۔۔

محمل نے میر کو اپنے اتنے قریب آتے دیکھ کہا ۔۔

ششششش ۔۔۔

میر محمل کے قریب آتے اس کے لبوں پر انگلی رکھتے چپ کروا چکا تھا ۔۔

محمل اپنی آنکھوں کو بند کیے میر کی قربت کو محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

جس کی گرم سانسوں کی تپش اپنی گردن پر محسوس ہو رہی تھی ۔۔

ہو گیا اب ایسے جانا اچھا ۔۔۔

میر نے محمل کے بالوں کا جوڑا کھولتے پیچھے ہوتے کہا بنا دیکھے کمرے سے چلا گیا ۔۔۔

محمل جو اپنی بند آنکھیں کیے کھڑی تھی میر کی آواز سنتے ہوش میں آی ۔۔

اففف یہ میرا دل اس کی دھڑکن تیز کیوں ہوئ

۔۔

محمل اپنی بند آنکھوں کو کھولتی میر کو باہر جاتا دیکھ کر اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے ہوے سوچا ۔۔۔

————————————————————

ڈیڈ آپ کا بیٹا داٶد نہیں آیا کیا ۔۔۔

محمل جو کب سے تیار میر کے ساتھ اسٹیج پر کھڑی تھی ۔۔

دونوں ہی بہت پیارے لگ رہے تھے جو بھی دیکھتا رشک بھری نظروں سے دیکھتا ۔۔

محمل کب سے داٶد کا انتظار کر رہی تھی جو کہ ابھی تک نہیں آیا تھا ۔۔۔

تبھی پاس آتے تمیور صاحب سے پوچھ لیا ۔۔

ہاں بیٹا بس آنے والا ہے وہ تم ویٹ کرو ۔۔

تمیور صاحب نے یہ کہتے ہی اسٹیج سے اتر گے ۔۔

تمیں بڑا شوق ہو رہا ہے داٶد سے ملنے کا ۔۔

میر نے طنز کرتے پوچھا ۔۔

ہاں وہ کیا ہے نہ تم تو سڑی ہوئ شکل بنا کر کھڑے ہو اور لگ بھی کھڑوس رہے ہو بس اپنی کمپنی چینچ کرنا چاہتی ہو تم یہاں سے چلے جاو ۔۔

محمل نے سامنے دیکھتے مسکراتے ہوے کہا ۔۔

دور سے یہی سب سمجھتے کہ کپل آپس میں بات کر رہے ہے جبکہ کوئ نہیں جانتا تھا وہ آپس میں لڑ رہے تھے ۔۔۔

تم چلی جاٶ یہاں سے میں تو نہیں جارہا ۔۔

میر نے اترا کر کہا ۔۔۔

ویسے مجھے ملے تمہارا بھای میں کہو گی تمیں پاگل کھانے چھوڑ آے ۔۔۔

لگتے بھی پاگل ہو تم ۔۔

محمل نے اپنے دانت پیستے ہوے کہا ۔۔۔

ویسے یاد آیا تم کہاں تھے جب مال میں انتظار کر رہی تھی ۔۔

بزدل شوہر ہو تم ۔۔

محمل کو اچانک مال والا واقعہ یاد آیا تو فورًا پوچھا ۔۔۔۔

کیا بزدل شوہر ہو میں اوقات میں رہو ورنہ میں بھول جاٶ گا کہ ہمارا آج ولیمہ ہے ۔۔

جاہل لڑکی زرا جو تمیز ہو تم میں ۔۔

میر نے مال والی بات اگنور کرتے اپنی کہی ۔۔۔

جو انسان ہوتا ہے وہی کہا جاتا ہے سمجھے آے بڑے مجھے اوقات دیکھانے والے ۔۔

محمل نے صوفے پر بیٹھتے ہوے بیزار ہوتے کہا۔۔۔

تم ۔۔

چھوڑو بات کرنی فضول ہے تمہارے سامنے ۔۔

میر کچھ کہتا رک کر اسے سنا کر سٹیج سے اتر گیا ۔۔۔

شکر ہے گیا یہاں سے ہاے مجھے اب سانس آرہا جب تک تھا ایسا لگا جیسے ابھی میری جان لے گا وہ ۔۔۔

محمل نے گہری سانس لیتے خوش ہوتے کہا ۔۔۔

———————————————————–

السلام و علیکم ایوری ون ۔۔

جیسے کہ آج آپ سب کو پتہ ہے میرے بیٹے کا ولیمہ ہے

۔۔

اسی خوشی میں یہ تقریب رکھی گی ہے ۔۔

ویسے بھی آج کچھ لوگوں سے میرا بیٹا داٶد ملے گا ۔۔

جن کو سب کچھ لوگ جانتے ہے داٶد کو ۔۔

آج اتنے عرصے بعد داٶد پاکستان اپنی اسٹڈی لندن سے کمپلیٹ کر واپس آ

تھا ۔۔۔

میں چاہتا ہو آپ سب میرے بیٹے کا اچھے سے ولکیم کرے تو آپ سب اپنی بھر پور تالیوں سے ولکیم کرے میرے جان سے پیارے بیٹے میری دھڑکن مسٹر داٶد میر کی ۔۔۔

تمیور صاحب نے ماہیک سے سب مہمانوں کو متوجہ کرتے خوش ہوتے داٶد میر کاتعارف کروایا ۔۔۔

جبکہ سٹیج پر بیھٹی محمل داٶد میر کا نام سن کر بے تابی سے کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔۔

لیکن جیسے ہی اس نے قالین کی روش پر چل کر آتی شخصیت کو دیکھا تو ہکابکا رہ گی تھی ۔۔۔

د۔ا۔ٶ۔۔۔داٶد میر یہ ۔۔۔

محمل سکتے میں آتی صوفے پر گرتے یہ الفاظ اداکیے ۔۔۔