Dadhkan By Rania Mehar Readelle50327 Dadhkan (Episode 8)
Rate this Novel
Dadhkan (Episode 8)
Dadhkan By Rania Mehar
کراچی کے ایک بنگلے میں اس وقت گھپ اندھیرے میں کوئ شخص بلیک ہڈی پہنے گہری خاموشی کو توڑتا ہوا کچن کی کھڑکی سے اندر داخل ہوتا ہے ۔۔۔
ہڈی میں صرف اس کے عنابی ہوہٹ دیکھ رہے تھے جو مسلسل مسکرا رہے تھے ۔۔
وہ آہستہ آہستہ اپنے مطلوبہ کمرے کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔۔
بنا کوئ ڈر و خوف کے ۔۔
ہوہنٹوں پر ابھی بھی پر سرار مسکراہٹ تھی ۔۔۔
آہہہہہہہہہہ۔۔۔۔
ک۔کون ہو تم ۔۔۔
یہاں کیسے آے ۔۔۔
اس خوبصورت بنگلے میں اتنی سکیوڑٹی کے ساتھ اکیلی راحیلہ بیگم رہتی تھی ۔۔۔
رات کو پیاس کی وجہ سے راحیلہ بیگم پانی پینے کے لیے کمرے سے نکل کر جب کچن کی طرف جانے لگی تو کچن میں بلیک ہڈی لے شخص کو دیکھ کر چیخ پڑی ۔۔
تبھی ڈرتے ہوے پوچھ رہی تھی ۔۔۔
وہ کانپ رہی تھی اس وقت اپنے گھر میں ایک انجان بندے کو دیکھ کر ۔۔۔
ان کے چہرے پر واضح پریشانی تھی کس کو اپنی مدد کے لیے بلاتی ۔۔
وہ تو سوچ کر حیران تھی اتنے گاڈرز ہونے کے باجود کوئ کیسے اس بنگلے میں آ سکتا ہے ۔۔
ہڈی والے نے راحیلہ بیگم کی آواز سن کر مسکرا کر اپنا رخ ان کی طرف کیا ۔۔۔
تتتتتتتممممم۔۔۔۔
دور رہو مجھے سے خبر دار میرے قریب بھی آے ۔۔۔
راحیلہ بیگم نے اس شخص کی شکل دیکھ کر کہا ۔۔
جو اب آہستہ آہستہ ان کے قریب آ رہا تھا ۔۔۔
لبوں پر وہی پر سرار مسکراہٹ تھی ۔۔۔
———————————————————–
کچھ زیادہ ہی نہیں ڈی ایم کی فین تم ۔۔
یہ بھی بھول گی اپنے سرال ہو ۔۔
میر جو کب سے محمل کے آنے کا انتظار کر رہا تھا اب اسے کمرے میں داخل ہوتے طنز کرتے بولا ۔۔
محمل جو تیمور صاحب کے کہنے پر ڈرتی ہوی کمرے میں داخل ہو رہی تھی ۔۔
اسے ویسے ہی ڈر لگ رہا تھا جو شخص سب کے سامنے اس کو ذلیل کر دیتا تھا اب ایک کمرے میں وہ اس شخص کے ساتھ کیسے رہے گی ۔۔۔
جس کی آنکھوں میں اس وقت صرف غصہ تھا ۔۔
ک۔ی۔ں۔کیوں تمیں کیا مسلہ ہے میں جب مرضی آو اب یہ میرا گھر بھی ہے ۔۔
تم سو جاتے جاگ کیوں رہے ہو ۔۔
محمل نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہکلاتے ہوے کہا ۔۔
ہاہاہاہہا مجھے کیا مسلہ تم رہو باہر بلکہ میں تو کہتا ہو اس ڈی ایم ڈبلیو سے ہی شادی کر لیتی ۔۔
میرے سر کیوں یہ بلا آی ۔۔
میر نے اس کی گھبراہٹ انجواے کرتے ہنس کر ڈی ایم کا نام خراب کرتے کہا ۔۔۔
(اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی محمل کے سامنے کیوں وہ نرم ہو جاتا تھا ۔۔)..
ہاےےے کتنے مزے کی بات ہوتی میری شادی اس کے ساتھ ہوتی ۔۔۔
تم سے نہ ہوتی ۔۔۔
کڑوا کریلا ۔۔۔
محمل نے چہکتے ہوے بیڈ پر بیٹھ کر منہ بنا کر کہا ۔۔۔
ہاں جیسے میں تو مر رہا تھا مجھے ایسی بیوی چاہے ۔۔
مجھے بھی شوق نہ تھا پتہ نہیں کون سا گناہ ہوا جو تم ملی مجھے ۔۔۔
میر نے حقارت سے جواب دیا ۔۔۔
محمل میر کی بات کا مطلب سمجھ کر خاموش رہی ۔۔۔
محمل کے چہرے پر دکھ تھا ۔۔۔
یہ یہاں کیوں لیٹ رہی ہو وہاں دفع ہو صوفے پر۔۔۔
میر نے اپنے قریب محمل کو بیڈ پر لیٹتے ہوے غصہ سے کہا ۔۔۔۔
صوفہ کیوں تم کہتے ہو تو زمین پر لیٹ جاتی ہو ۔۔
میرے شوہر ہو نہ ۔۔
محمل نے چڑتے ہوے جواب دیا ۔۔۔۔
کب تک خاموش رہتی تبھی اپنی ٹون میں واپس آتی بولی ۔۔۔
زمین کیا میں تمیں یہاں قبر بنا کر دیتا ہو وہاں سکون سے سو جاو ۔۔
میر نے محمل کے بازو کو پکڑتے زور سے دھکا دیتے کہا ۔۔۔
ظالم شوہر بیوی کے ساتھ کوئ ایسا کرتا ہے ۔۔
ہاے میری قسمت میں یہ کھڑوس انسان ملا تھا ۔۔۔
ڈی ایم کہاں ہو مجھے لے جاو اس ظالم شوہر سے بچا کر ۔۔
محمل کو پتہ چل گیا تھا میر کو اسے اپنے قریب دیکھ کر غصہ آیا تھا تبھی اب اسے چڑانے کے لیے اونچا اونچا بول رہی تھی ۔۔
ہاں کہو اسے لے جاے میری جان چھوڑ دو ۔۔
اب اگر تم بولی تو مجھے سے برا کوئ نہیں ۔۔
میر نے محمل کی بات سنتے ہوے آرام سے کہا ۔۔
اسے پراوہ نہیں تھی کیونکہ ان کا کمرہ ساونڈ پروف تھا ۔۔
تو تیمور صاحب کو یہ آوازیں نہیں جاتی ۔۔۔
اجی سنتے ہو مجھے نائٹ ڈریس چاہے یہ کپڑے نہیں سہی ۔۔
محمل نے جب دیکھا میر کو کوئ پرواہ نہ ہوی تبھی اب مذاق سے بولی ۔۔۔
واٹ ۔۔
اجی مطلب کیا اس کا ۔۔
دماغ خراب ہو گیا تمہارا ایسے ہی سو جاو ۔۔۔
میر جو بڑی مشک سے اپنی آنکھوں کو بند کیے سونے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔
محمل کی ئنی بات سن کر چلاتے ہوے بولا ۔۔۔
ہاں تو شوہر ہے فرض ہے آپ کا میری ہر چیز کا خیال رکھنے کا ۔۔
ورنہ میں انکل کو جا کر بتاتی ہو ۔۔
محمل نے اچانک کھڑے ہوتے کہتے دمھکی دی ۔۔
رکو میں اپنا ڈریس لے کر آیا ۔۔
میر کو ڈر تھا کہی سچ میں محمل ڈیڈ کے پاس نہ چلے جاے تبھی اٹھ کر وڈراب کی طرف جاتے کہا ۔۔
محمل جو کب سے بیڈ پر لیٹنے کے لیے اتنا کچھ کر رہی تھی ۔۔
میر کے جاتے ہی جلدیسے دھڑام کرتے بیڈ پر لیٹتی اپنی آنکھوں کو بند کر چکی تھی ۔۔۔
———————————————————–
مسکان بیٹا اب کیسی طیبعت ہے ۔۔
اصغری بیگم نے مسکان کے پاس آتے پیار سے پوچھا ۔۔
وہ شام کو ہی مسکان کو گھر لے آی تھی وجہ وہ چاہتی تھی مسکان گھر میں بہتر فیل کرے گی ۔۔۔
مسکان نے ایک مسکراہٹ دے کر اصغری کو یقین دلایا کہ ٹھیک ہے وہ ۔۔
میری بیٹی بہادر بہت ہے ہمت نہیں ہارنی ۔۔
اصغری بیگم نے مسکان کا ماتھا چومتے ہوے کہا ۔۔
ان کا دل دکھ رہا تھا مسکان کی حالت دیکھ کر ۔۔۔
ماما آپ مسکان کے لیے سوپ لے کر آے میں زرا مسکان سے بات کر لو ۔۔
مراد نے اچانک اندر آتے کہا ۔۔۔
مسکان یہ آی ٹائپ ہے کوئ بھی بات ہو تم اس پر لکھ کر دو گی ۔۔
یہ گھنٹی ہے جب بھی کوئ ضرورت ہو اس کا بیٹن پیش کرنا میں یا ماما آ جاے گے ۔۔۔
یہ گھڑی ہے اس میں چیپ لگی ہے ۔۔
تم جہاں کہی بھی ہو گی مجھے پتہ چل جاے گا ۔۔
بس پریشان مت ہونا ۔۔۔
آخری بات ہادی کا کوئ فون آے مجھے بتانا ۔۔
مسکان ۔۔
مسکان میری بات سن رہی ہو کیا ۔۔۔۔
(مسکان جو اپنے سامنے بیٹھے مراد کو دیکھ رہی تھی جو بڑے اچھے سے اسے سب سمجھا رہا تھا ۔۔
اس کے چہرے پر پریشانی واضح تھی ۔۔
گہرے کالے بال جو ماتھے پر آ رہے تھے ۔۔سرخ سفید رنگ ۔سبز آنکیھں جو کہ ہر وقت غصہ میں رہتی تھی ۔۔
ہلکی شیو چھ فٹ سے نکلتا قد کسرتی جسم جو کہ ریڈ ٹی شرٹ میں اس کے بازو کے مسلز دیکھ رہے تھے ۔۔۔
وہ ایک خوبصورت مرد تھا کیسی بھی لڑکی کا دل دھڑکا سکتا تھا ۔۔۔
زندگی میں پہلی دفعہ ہوا تھا مسکان نے مراد کو غور سے دیکھتے اس کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی ۔۔۔
وہ سمجھ رہی تھی مراد ہمددری میں یہ سب کر رہا تھا )..
مراد کے پکارنے پر مسکان اپنے خیالات سے باہر آتی سر ہلا کر جواب دیا ۔۔۔۔
کچھ پوچھنا ہے پوچھ لو میں نے جانا ہے ۔۔
مراد نے اب غصہ سے کہا ۔۔
اسے برا لگا تھا مسکان کا خود کو ایسا گھورنا دیکھ کر ۔۔
ہادی کہاں ہے ۔محمل نظر نہیں آ رہی ۔۔
میرے ساتھ ایسا کیسے ہو گیا ۔۔
میں تو ہادی ۔ محمل کے ساتھ تھی نہ تو ۔۔
مسکان نے جلدی سے لکھ کر مراد کو دیا ۔۔
وہ اپنے آنسوں کو کنٹرول کر رہی تھی ۔۔
مراد کو پڑھ کر غصہ آ گیا تھا ۔۔
وہ اب مسکان کو غصہ بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
مراد نے اب غصہ کنٹرول کرتے بڑی مشکل سے وہی کہانی سنای جو اپنی ماما کو سنا چکا تھا ۔۔
مسکان سن کر خاموش رہی ۔۔۔
————————————————————
میں اب کچھ نہیں کر سکتا سب تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے ۔۔
ورنہ میں کبھی اس لڑکی کی شکل نہ دیکھو ۔۔
مراد نے کمرے میں آتے کیسی کو فون ملا کر کہا ۔۔
منہ بند کرو یہ تمہاری سزا تھی جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتی تو اس کے ساتھ رہو گے یہ بھی تو سمجھو کہ تمہاری جان بچانے کے لیے زخمی ہوی ہے ۔۔
فون پر کسی نے تحمل سے جواب دیا ۔۔۔
لیکن تم ۔۔
خاموش میں جو کہا رہا ہو ۔
وہ کیا کرو خبردار میری بات نہ مانی تو مجھے جانتے نہیں ہو کون ہو میں ۔۔
اس نے غصہ سے غراتے ہوے مراد کی بات کاٹتے ہوے اپنی باتیں سنای ۔۔
اووو ہلیو مسٹر داٶد تم مجھے نہیں جانتے سمجھے ملو تو سہی بتاو گا ۔۔
مراد کو تو غصہ ہی آ گیا تھا سمجھتا کیا ہو خود کو یہ شخص تبھی خود بھی غصہ سے بولا ۔۔
ہاہہاہاہا سچی ملو مجھے پتہ نیا راڈ لیا ہے میں نے تم پر ٹرائ کرو گا ۔۔
اس شخص نے مذاق میں بات کرتے کہا ۔۔
مراد کے تو پیسنے چھوٹ گے تھے بات سن کر ۔۔۔
شرم کرو تم میں تمہارے ڈیڈ کو بتاو گا تم کیا کرتے ہو ۔۔
مراد نے اسے ڈرایا جس میں وہ کامیاب بھی ہوا ۔۔
شکل اچھی نہ ہو بات اچھی کر لیا کرو ۔۔
یاد رکھنا میری نظر تم پر ہے مسٹر مراد ۔۔۔
وہ شخص واقعی ڈار گیا تھا تبھی اپنی کہہ کر فون بند کر چکا تھا ۔۔۔
چچچچچچ یہ انسان بس اپنے ڈیڈ سے ڈرتا ہے ۔۔۔
مراد نے ہنستے ہوے سوچا ۔۔۔
————————————————————
ت۔تممممم پیچھے ہٹو ۔۔۔
محمل جو اپنی آنکھوں کو بند کیے لیٹی تھی جب اپنے اوپر وزن اور چہرے پر کسی کی سانسوں کی گرماہٹ محسوس کرتے اپنی آنکھوں کو کھولتے یہ دیکھ کر حیران رہ گی تھی ۔۔۔
میر اس کے اوپر جھکا ہوا مسلسل گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
میر جب ڈریس لیے واپس آیا بیڈ پر لیٹی سکون میں محمل کو دیکھ کر غصہ سے چلتا بیڈ کے قریب آیا ۔۔
لیکن کچھ سوچ کر محمل کے اوپر جھکتے ہوے لیٹ چکا تھا ۔۔۔
کیوں شوہر ہو تمہارا کب سے یہ لفظ سن رہا میں سوچا بتا دو کہ واقعی شوہر ہو ۔۔
میر نے محمل کے چہرے پر ہوائیاں اڑاتے دیکھ مزے سے کہا ۔۔۔
۔میر کی آنکھوں میں اس وقت شرارت تھی جو کہ محمل کو نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔
اس کی سانس اٹک گی تھی میر کو اپنے پاس دیکھ کر ۔۔۔
کیا ہوا سیوہٹ ہارٹ اتنی دیر سے یہی کہہ رہی تھی بیوی ہو میری تو اب چپ کیوں ہو ۔۔
میر نے محملکے گال سہلاتے ہوے پوچھا ۔۔۔
چ۔چھوڑو مجھے بے ہودہ انسان میں تو مذاق کر رہی تھی ۔۔
محمل نے ہمت جمع کرتے میر کو اپنے سے دور ہٹاتے ہوے کہا ۔۔
کیا بے ہودگی کی ہے میں نے ۔۔
میر نے غصہ سے محمل کے چہرے کو قریب کر کے پوچھا ۔۔۔
اسے غصہ آیا تھا وہ تو بس مذاق کر رہا تھا ۔۔
میر اور محمل دونوں کے درمیان صرف ایک انچ کا فاصلہ تھا ۔۔۔
محمل کے درد کے مارے آنکھوں میں آنسو آ گے تھے ۔۔
میر کا جنون دیکھ کر ۔۔
وہ ڈر رہی تھی ۔۔
اس کا ڈر دیکھ کر ہی میر کو خوشی محسوس ہو رہی تھی ۔۔
جو میر کی زرا سی قربت میں ہی اس کے پیسنے چھوٹ چکے تھے ۔۔
میری بیوی شرما رہی ہے ۔۔
میر نے اپنی انگلی سے محمل کے ماتھے سے لے کر گردن تک ایک لکیر بناتے مذاق سے کہا ۔۔
نہیں میں کیوں شرماٶں گی ۔۔
محمل نے ہمت جمع کرتے آنکھں کھول کر کہا ۔۔
چہرے پر صاف گھبراہٹ تھی ۔۔
اووو چلو اب شرما لو ۔۔
یہ کہتے ہی میر محمل پر جھک چکا تھا ۔۔
مییییییرررررر۔۔۔
محمل اس کی حرکت پر صرف چیخ سکی ۔۔۔
————————————————————
کاش میرے باپ ہوتا میرا خیال رکھتے میرا بھای ہوتا ۔
بہن ہوتی کوئ تو میرے پاس رہتا کیا سب کو جانے کی اتنی جلدی تھی ۔۔
مسکان اس وقت نماز پڑھ کر دعا مانگتے ہوے رو پری ۔۔
چاہے آج تک اصغری محمل مختار صاحب مراد سب نے اسے پیار محبت دی تھی
کبھی اسے محسوس نہیں ہونے دیا تھا ۔
کہ وہ دنیا میں اکیلی ہے ۔۔
لیکن کبھی کبھی وہ اپنے والدین کو یاد کر کے روتی تھی ۔۔
جیسے اب رو رہی تھی ۔۔
شام سے رات ہو گی وہ محمل کا انتظار کر رہی تھی جب وہ نہ آی تو مایوس ہو گی تھی ۔۔۔
وہ سمجھتی تھی ۔
محمل اس کے گونگے پن کی وجہ سے دور ہو رہی ہے ۔۔
اے اللہٌ میرا بھی بھای ہوتا جو تڑپتا مجھ سے محبت کرتا یا بہن ہوتی چاہے جھوٹی ہی سہی ۔۔
کوئ تو ہوتا ۔۔۔
میرا جیسے میں اپنا دکھ سنا سکتی ۔۔۔
اگر ایسے ہی مجھے رہنا تھا ۔۔
تو اپنے والدین کے ساتھ ہی مر جاتی میں ۔۔
میرا کوئ نہیں یہاں ۔۔
مسکان بے آواز روتے ہوے کہا رہی ۔۔۔۔
اصغری بیگم نے کبھی اسے نہیں بتایا تھا وہ کون ہے کہاں سے آی ہے ۔۔
(دنیا میں چاہے ہمیں کتنی ہی محبت مل جاے لیکن جو محبت اور چاہیت اپنے والدین بھای بہن سے ملتی ہے وہ کہی اور نہیں ہوتی ۔۔۔
ماں باپ کی محبت کا کوئ نعم البدل نہیں ہوتا ۔۔
یہی وجہ تھی مسکان کو اتنی محبت ملنے کے بعد بھی اس کے دل میں ایک کسک تھی )..
ہاں میں بھی اپنوں کے پاس چلی جاتی ہو ۔۔
مسکان کے چہرے پر دکھ تھا تبھی وہ اچانک کمرے سے باہر نکلتی ہوی کچن میں گی ۔۔
چاقو اٹھا کر اپنی نبض رکھتے آنکھوں کو بند کر لیا تھا ۔۔۔
اپنوں کا سوچتے ہی اچانک سامنے محمل مختار مراد اصغری بیگم کا چہرہ دیکھائ دیا ۔۔۔
ان کا سوچ کر مسکان کی آنکھوں سے آنسو نکل آے تھے ۔۔
اس سے پہلے وہ چاقو دور کرتی تب تک دیر ہو چکی تھی کیونکہ نبض سے خون آنا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
دور رہو مجھے سے ارتصٰی ۔۔
راحیلہ بیگم نے شدید غصہ سے کہا ۔۔
ہاہاہا ارےےے موم میں کیوں دور رہو پاس آو گا اتنے عرصے بعد آیا ہو ۔۔
ارتصٰی نے ہنستے ہوے زبردستی موم کو گلے لگاتے کہا ۔۔۔
جبکہ اتنے عرصے بعد اپنے بیٹے سے مل کر راحیلہ بیگم رو پڑی تھی ۔۔۔
ان کا دنیا میں سواے راتصٰی کے ہے ہی کون تھا ۔۔۔
ابھی بھی نہ آتے جب مر جاتی میں تب آ جاتے ۔۔
راحیلہ بیگم نے ناراضی سے کہا ۔۔
جبکہ چہرے پر خوشی تھی ۔۔
میں نے واپس چلے جانا ہے صبح تک موم ۔۔
ارتصٰی نے راحیلہ کو صوفے پر بیھٹاتے ہوے خود ان کی گود میں سر رکھے لیٹے ہوے کہا ۔۔۔۔۔
کیوں وجہ میں نہیں جانے دو گی ۔۔
بیٹا ہیمں کیا ضرورت ہے اتنا کچھ ہے ہمارے پاس تم یہ کام چھوڑ دو بس مجھے اچھا نہیں لگاتا ۔۔۔
کہی کہی دنوں بعد شکل دیکھاتے ہو مجھے ۔۔
کراچی کب آے تم ۔۔
راحیلہ بیگم یہ سنتے ہی نان سٹاپ شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔
اررےےے موم آپ نہیں جانتی میرے بوس کو سڑیل انسان ہے ۔۔۔۔۔
زرا جو چھٹی دے مجھے ۔۔
ارتصٰی نے برا سا منہ بناے شکایت لگای ۔۔
چل جھوٹا ہاےے میرا بچہ داٶد اتنا پیار بیٹا ہے ۔۔
راحیلہ بیگم نے برا مناتے کہا ۔۔
ہاں وہی بیٹا کیا ظلم ڈھاتا ہے مجھ پر آپ کو جیسے یاد نہیں۔۔۔۔
ارتصٰی نے مضوعنی خفگی سے کہا ۔۔
اچھا اسے چھوڑے یہ بتاے میری شادی کب کرواے گی آپ ۔۔
کیسی ماں ہے بیٹا جوان ہو گیا آپ کو فکر ہی نہیں ہے ۔۔
ارتصٰی نے جب دیکھا داٶد کا نام سن کر راحیلہ ہمیشہ کی طرح آج بھی سنجیدہ ہو گی تبھی ان کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے شادی جیسا ان کا فیورٹ ٹاپک چھڑا ۔۔۔
میں تو چاہتی ہو تم شادی کر لو تم مانتے نہیں ہو بتاٶ کوئ پسند ہے تیمں ۔۔
راحیلہ بیگم نے خوش ہوتے پوچھا ۔۔
انہیں اپنا یہ اکلوتا بیٹا بہت عزیز تھا ۔۔
سہنری بال ہیزل گرین آنکھیں جن میں ہر شرارت ہلکی شیو تھوڑی پر پڑتا ڈمپل وہ تب ظاہر ہوتا جب وہ مسکراتا ۔۔۔
ہنسی مذاق موج مستی کرنا ارتصٰی کا فیورٹ کام تھا ۔۔
کبھی اسے سنجیدہ نہیں دیکھا گیا تھا ۔۔۔
سب کے سامنے چلنے والی اس کی زبان داٶد کے سامنے بند ہو جاتی تھی ۔۔۔
موم سے زیادہ اگر وہ کسی سے ڈرتا تھا وہ تھا داٶد ۔۔
ہاں کرے شادی میں بے تاب ہو لڑکی کا بتاو گا آپ کو ابھی میں کمرے میں جا رہا ۔۔۔
ارتصٰی نے اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوے کہا ۔۔۔
کوئ کام یاد آتے ہو اچانک سنجیدہ موڈ لیے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔
لو اسے کیا ہوا۔۔
راحیلہ بیگم نے اچانک جاتے سنجیدہ شکل لے ارتصٰی کو دیکھ کر سوچا ۔۔۔۔
————————————————————
(میری بیٹی اتنا خوش کیوں ہے ۔۔
مختار صاحب نے محمل کو گلے لگاتے ہوے پوچھا ۔۔
جو اس وقت ٹی وی سامنے بیٹی نیوز سن رہی تھی ۔۔
پاپا آپ کو پتہ ابھی ڈی ایم کی بہادری کی نیوز سن رہی تھی ۔۔
کتنا بہادر ہے نہ موت کے منہ سے بچ کر سب کو بچا لیا اس نے ۔۔
محمل نے خوش ہوتے کہا ۔۔
اسے بہت خوشی ہو رہی تھی ۔۔۔
وہ آے دن ڈی ایم کے قصے سنتی فین ہو رہی تھی ۔۔۔۔
جی بیٹا وہ بہادر تو ہے لیکن آپ ایسا پاگل مت ہوا کرے ۔۔
لڑکیوں کی عزت ہوتی ہے اگر کبھی آپ نے اسے سامنے دیکھ کر ایسے شروع ہو گی تو کیا سوچے گا آپ کے بارے میں کہ کیسی لڑکی ہو ۔۔۔
مختار صاحب کبھی کبھی محمل کا ڈی ایم کے لیے جنون دیکھ کر ڈر جاتے تھے ۔۔۔۔
پاپا آپ یقین کرے کبھی بھی میں آپ کی عزت خراب نہیں کرو گی ۔۔
بس پتہ نہیں ڈی ایم کا نام سن کر جنونی ہو جاتی ہو ۔۔
اب نہیں لو گی میں نام اس کا ۔۔
محمل اچانک سنجیدہ ہوتے کہا ۔۔
کیونکہ جب بھی وہ ڈی ایم کے لیے ایسا ری ایکٹ کرتی مختار صاحب پریشان ہو جاتے تھے ۔۔
کبھی کبھی اگر ہم کیسی چیز کو پانے کے لیے جنونی ہو رہے ہو تو اگر وہ نہ ملے تو بہت دکھ ہوتا ہے۔۔
یہی وجہ تھی مختار صاحب جانتے تھے ان کی بیٹی کے نصیب میں ڈی ایم جیسا شخص نہیں ہو سکتا ۔۔
تبھی وہ چاہتے تھے محمل اتنا سنجیدہ نہ ہوا کرے ۔۔
پتہ نہیں اس کے نصیب میں کون ہو ۔۔
میں منع نہیں کر رہا بیٹا لیکن دیکھنا ڈی ایم سے بھی اچھا لڑکا ملے گا تمیں میری بیٹی ہے ہی اتنی پیاری ۔۔
کل کو تمہاری شادی ہو گی اگر کبھی تم اس کا نام شوہر کے سامنے لو گی تو کیا سوچے گا تمہارے بارے میں کیا عزت رہ جاے گی تمہاری اور میری بیٹا ۔۔۔
وہ سوچے گا میں تریبت اچھی نہیں کی اگر تمہاری ماں زندہ ہوتی وہ سمجھاتی کہ لڑکیوں کی عزت کتنی نازک ہوتی ہے ۔۔
مختار صاحب نے محمل کا اداس چہرہ دیکھ کر کہا ۔۔
آپ کو سجنیدہ ہو گے دیکھنا مجھے ڈی ایم ہی ملے گا ۔۔
محمل اپنے باپ کا سنجیدہ دیکھ کر مذاق کرتے کہا ۔۔
ہاہاہہاہہاہاا میری بیٹی ۔۔
مختار صاحب نے ہنستے ہوے اسے گلے لگایا ۔)
پاپا آپ سہی کہتے تھے میرے نصیب میں ڈی ایم جیسا اچھا انسان نہیں بلکہ یہ میر تیمور آ گیا ۔۔۔
جس کی شکل دیکھ کر ہی مجھے نفرت ہوتی ہے ۔۔
محمل نے روتے ہوے اپنے پاس لیٹے میر کو دیکھ کر سوچا جو گہری نیند میں سو رہا تھا ۔۔۔
(میں تمہاری جیسی لڑکیوں کے منہ لگانا پسند بھی نہیں کرتا کہاں تمہارے قریب آو میں ۔۔
نفرت ہے مجھے لڑکی ذات سے دور ہو جاو یہاں سے ۔۔
میر جو جھک کر گہری نظروں سے بند آنکھں کیے محمل کو دیکھ رہا تھا ۔۔
اچانک کچھ سوچتا حقارت سے بولتا پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔
محمل کا یہ سنتے ہی ایسا محسوس ہوا جیسے دل پھٹ گیا ہو ۔۔
اس کے چہرے پر صرف اذایت ہی اذایت تھی ۔۔۔
مجھے بھی شوق نہیں ہے تمہارے منہ لگنے کی میں یہی سو گی بس ۔۔
محمل نے اپنے بارے میں سن کر دکھ سے کروٹ بدلتے ہوے غصہ سے کہا ۔۔
تم۔۔۔
میر جو کچھ کہنے والا تھا اب اپنے غصہ کو کنٹرول کرتے رک گیا ۔۔) ..
محمل تب سے جاگتی ہوی یہ سوچ کر رو رہی تھی ۔۔
ساری رات دونوں سو نہ سکے تھے ۔۔
محمل اپنے رونے کے شغل میں مصروف رہی ساری رات ۔
اور میر اس کی سسکیاں سن کر سو نہ پایا ۔۔
محمل جو سمجھ رہی تھی میر سو رہا ہے لیکن وہ جانتی نہیں تھی میر جاگ رہا ہے ۔۔
———————————————————–
مجھے یہ لڑکی چاہے رات کے لیے ۔۔
اے اے نے اپنی بند ہوتی آنکھوں کو بڑی مشکل سے کھولتے ہوے کہا ۔۔
جو شاید شراب پینے کی وجہ سے بند ہو رہی تھی ۔۔
ملے گی آپ کو ضرور کچھ دن پہلے ہی آی ہے یہ ۔۔
چندہ بیگم نے چہکتے ہوے کہا ۔۔
(اے اے ایچ ایم اور ڈی ایم کو بتاے بنا ہی خودی ایک نیۓ کوٹھے پر آ چکا تھا ۔۔
جب کچھ دیر بعد اس نے ایک لڑکی کو ٹرے پکڑے ہوے آتے دیکھا ۔۔
سادہ سے ڈریس میں وہ اےاے کو بہت پیاری لگی تھی ۔۔
اس نے حکم دیا ۔۔۔۔
۔
ن۔ہ۔نہیں میں ایسی لڑکی نہیں مجھ پر رحم کرو ۔۔
ثانیہ نے روتے ہوے کہا ۔۔
اس کی تو جان ہی نکل گی تھی یہ سن کر ۔۔
۔
میں انتظار کر رہا ہو ۔۔
جلدی کمرے میں آٶ ۔۔
اے اے نے بیزار شکل بناتے ہوے کہا ۔۔
چندہ بیگمجب ثانیہ کو زبردستی کمرے میں دھکا دیا ۔۔
کیونکہ وہ کب سے منا رہی تھی لیکن ثانیہ وہی اٹک گی تھی ۔۔
ارے اتنی بھی کیا جلدی سے جان جو گر ہی پڑی ہو آرام سے آتی نہ ۔۔
اےاے جو بیڈ پر لیٹ کر اس کا انتظار کر رہا تھا ۔۔
ثانیہ کے کمرے میں گرنے کی آواز پر کھڑے ہوتے پوچھا ۔۔
د۔دور رہو مجھ سے آپ ۔۔
ثانیہ جلدی سے آٹھتے ہوے بولی اسے ڈر تھا کہی پاس ہی نہ آ جاے ۔۔
ہاہاہاہا رات ہو اور میں تمہارے پاس بھی نہ آو غلط بات ہے جانمن ۔۔
اے اے نے اپنی شراب کی بوتل دور پھکتے ہوے اس کے قریب جاتے ہنس کر کہا ۔۔
چلو اب میں جیسا کہو گا ویسا کرو گی سہی ۔۔
اے اے ثانیہ کے اب قریب آتے سر گوشی میں بولا ۔۔
ثانیہ جو دیوار کے ساتھ چپک کر کھڑی تھی اور ڈر گی ۔۔
نہیں دور رہو میں مار دو گی تمیں ۔۔
ثانیہ نے ہمت جمع کرتے ہوے چیخ کر کہا ۔۔
سچ مارو گی ۔۔۔
چلو مارو مجھے ۔۔
اےاے نے اچانک ثانیہ کا ڈوپٹہ اتارتے ہوے کہا ۔۔
نہییییییییی۔۔۔
جبکہ اس حرکت پر ثانیہ نے اپنی آنکھوں کو زور سے بند کرتے چیخ پڑی ۔۔۔
————————————————————
ڈاکٹر ڈاکٹر ۔۔
کہاں ہو سب کے سب ۔۔
ہاسپٹل میں اچانک تیمور صاحب کی گرج دار آواز سنای دی ۔۔
جبکہ سب ڈاکٹرز تیمور صاحب کے چلانے پر بھاگے ڈورے آے ۔۔۔
تیمور صاحب کو ہر کوئ جانتا تھا ۔۔
کیا ہوا آپ کے بیٹے کو ۔۔
ایک ڈاکٹر نے ڈرتے ہوے پوچھا کیونکہ تیمور کا غصہ دیکھنے والا تھا ۔۔۔
میرا بیٹے کو پتہ نہیں کیا ہوا ۔۔
چیک کرے کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے میرے بیٹے کو ۔
تیمور نے جنونی انداز سے ڈاکٹر کا گربیان پکڑتے ہوے کہا ۔۔
کیا نام ہے آپ کے بیٹے کا ۔۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے ای سی یو کے کمرے سے باہر آتے پوچھا ۔۔
د۔داٶد نام ہے میرے بیٹے کا ۔۔
تیمور صاحب نے ہکلاتے ہوے جواب دیا ۔۔
جو کہ اپنے سال کے بچے کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گے تھے ۔۔
آپ کے بیٹے کا نروس بریک ڈاٶن ہوا ہے ۔۔
دعا کرے ان کو ہوش آ جاے ورنہ ۔۔
ڈاکٹر نے تسلی دیتے بات ادھوری چھوڑتے ہوے کہا ۔۔
ورنہ کیا ڈاکٹر میرے بیٹے کو کچھ نہیں ہونا چاہے سمجھے ۔۔
تیمور صاحب نے غصہ کرتے پوچھا ۔۔۔
دیکھے آپ ہماری بات تحمل سے سنے ۔۔۔
پہلی بات ایک دس سال کے بچے کا نروس بریک ڈاٶن ہو گیا ۔۔
حیرت ہے کیا وجہ ہوی جو ایسی حالت ہو گی ۔۔
اگر اسے چوبیس گھنٹوں میں ہوش نہ آیا تو سوری وہ کوما میں جا سکتا ہے ۔۔
ڈاکٹر نے اب ساری بات سنای ۔۔
آپ اپنے بیٹے کے لیے دعا کرے اللہٌ بہتر کرنے والا ہے اور سوچے کہ کیا بات تھی جو اتنے چھوٹے بچے کے ساتھ ایسا ہوا ۔۔
ڈاکٹر نے دکھ بھرے انداز سے کہا ۔۔
کیونکہ وہ خود پریشان ہو گا تھا داٶد کو ایس کیا پریشانی تھی جو یہ سب ہوا ۔۔
چوبیس گھنٹے بعد ۔۔۔
اے اللہٌتو جانتا ہے داٶد کے سوا میرا کوئ نہیں ۔۔
میرا بیٹا واپس کر دے تو سب کی سنتا ہے میی بھی سن لے ۔۔
تیمور صاحب روتے ہوے دعا مانگ رہے تھے ۔۔
داٶد کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا ۔۔۔
تمیور تمیور ۔۔
وہ دعا مانگنے میں مصروف تھے جب اچانک ڈاکٹر نے بھاگتے ہوے آواز دی ۔۔
میرا بیٹا کیسا ہے اب ہوش آ گیا نہ اسے ۔۔
بتاو مجھے ۔۔
تمیور صاحب نے کھڑے ہوتی آس بھری نظروں سے ڈاکٹر کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔۔
وی آر سوری مسڑ تیمور ہم نے بہت کوششش کی لیکن جو اللہٌ کو منظور ۔۔
داٶد کوما میں جا چکا ہے ۔۔
اب تم اللہٌسے امیدی رکھو وہ بہتر کر سکے گا ۔۔
تمہارا بیٹا جلدی ہی زندگی کی طرف واپس آے گا ۔۔۔
ڈاکٹر نے تسلی دیتے کہا ۔۔۔
جبکہ تمیور صاحب کرسی پر ڈھے گے جیسے کوئ لولٹا ہوا مسافر اپنی ساری جمع پونجی لوٹا چکا ہو ۔۔
