274K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 28)

Dadhkan By Rania Mehar

ویل ڈان مجیر ہاشم اینڈ مجیر ارتضٰی ہیمں امید تھی آپ دونوں داٶد کے جانے کے بعد ضرور کےکے کو ختم کرے گے ۔۔۔

جنرل نے خوش ہوتے دونوں کو داد دی ۔۔

جبکہ دونوں حیران پریشان کھڑے تھے ۔۔

لیکن سر ہم نے کچھ نہیں کیا بلکہ ہم دونوں اپنے اگلے میشن کے لیے تیاری کر رہے تھے ۔۔

ہاشم نے حیرت پر قابو پاتے کہا۔۔۔

ایسے کیسا ہو سکتا ہے ہمیں صبح کےکے کا سر ملا اففف اتنی بری حالت تھی دیکھا بھی نہیں گیا ۔۔۔

تم دونوں کے علاوہ کون یہ سب کر سکتا ہے ۔۔

ڈی ایم تو زندہ نہیں پھر یہ ۔۔

یہ سب میرے جلاد نے کیا ہے مطلب جلاد زندہ ہے ۔۔

ایچ ایم سنا جلاد زندہ ہے ہمیں ڈھونڈنا چاہے ۔۔

جنرل کی بات سنتے ارتضٰی خوشی سے چہکتا ہوا بولا ۔۔۔

سر کوئ غلط فہمی ہوئ ہے اس کی سانس میرے ان ہاتھوں سے نکلی تھی ۔۔

ہاشم اس کی بات اگنور کرتا حیران ہو کر اپنے ہاتھ دیکھتا بولا ۔۔۔

جبکہ اب دونوں پریشان ہوتے سوچ رہے تھے یہ کام کس کا ہے ۔۔۔

ارتضٰی تو خوشی سے پاگل ہو گیا تھا ۔۔۔

یہ سوچ کر اس کا جلاد زندہ ہے ۔۔

————————————————————

ارے میم صاب دھیان سے چلا کرو ابھی تمہارا موت ہو جاتا ۔۔۔

راجو جلدی سے محمل کو پکڑتا گاڑی کے سامنے ہٹاتا بولا ۔۔۔

محمل نے ضروری چیزیں لینی تھی ۔۔

مسکان کو ساتھ چلنے کا کہا وہ صاف منع کر گی تھی ۔۔

کیونکہ وہ چاہتی تھی محمل اپنی زندگی میں واپس آ جاے ۔۔

تبھی مال سے باہر آتے محمل اپنی گاڑی کی طرف جا رہی تھی جب سڑک کراس کرتے اس نے دھیان نہیں دیا ایک گاڑی اس کے قریب آ رہی تھی جب راجو نے اسے بچایا ۔۔۔

شکریہ محمل اسے بنا دیکھے کہتی گاڑی کی طرف جانے لگی ۔۔

ارے کدھر جا رہا میم صاب تم ہمارا بات سن لیتی ۔۔

راجو جو مگن محمل کے خوبصورت چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔

اسے جاتے دیکھ خود پیچھے آتا بولا ۔۔۔

ہم نے سنا تمہارا شوہر مر گی ہے ۔۔

راجو خاموشی چلتی محمل کے پیچھے آتا بولا ۔۔

یہ بیٹی تمہارا ہے ہم ہاتھ ۔۔۔

وہی رک جاٶ ۔۔

محمل جو اس کی بات اگنور کرتے گاڑی میں بیٹھ رہی تھی جب راجو گاڑی کی کھڑکی کے اندر سر کرتا اس کی بیٹی دیکھتا بولا ۔۔۔

جو کوڈ کے اندر لیٹی پنک کمبل میں سکون سے سو رہی تھی ۔۔۔

چلو ہم تمہارا بیٹی بھی سنبھال لے گا پھر بتاٶ کب شادی کر رہا تم ہمارے ساتھ ۔۔

راجو خوشی سے دانت نکالتے محمل کی طرف دیکھتا بولا ۔۔۔

چٹاخ چٹاخ ۔۔۔

کیا سمجھا ہے مجھے بتاٶ تم میرا شوہر زندہ ہے ۔۔

جب تک یہ دھڑکن چل رہی مطلب وہ زندہ ہے ۔۔

خبر دار اگر کبھی میرے سامنے آے خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرو گی ۔۔۔

اکیلی نہیں ہو میں سمجھے داٶد میر میرے ساتھ ہے ۔۔

اب دفع ہو جاٶ یہ اپنی کالی کولٹی شکل لے کر آے بڑے بلیک مین انہہ۔۔۔

محمل طش میں گاڑی سے باہر آتی راجو کو تپھڑ مارتی غصہ سے چلاتی بولی ۔۔۔

ہم تمہارے ساتھ۔۔

کیا کرو گے میرے ساتھ بتاٶ اب مجھے ڈر نہیں لگتا ۔۔

جو مرضی کرو میری بلا سے ۔۔۔

محمل اس کی بات کاٹتی غصہ سے گاڑی میں بیٹھ کر بولتی چلی گی تھی ۔۔۔

یہ تم نے بہت غلط کیا میم صاب وہ کےکے تمہیں سزا نہ دے لیکن اب ہم تم کو سزا دے گی ۔۔۔

راجو اپنے کالے چہرے پر ہاتھ پیھرتا غصہ سے بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

شکر ہے محمل تم واپس آ گی ۔۔۔

یہ ہم سوچ رہے تھے تمہاری شادی کر دے یہ کچھ لڑکوں کی پک ۔۔۔۔

محمل جب غصہ سے گھر واپس آی اس سے پہلے محمل روم میں جاتی جب مسکان اس کا ہال میں راستہ روکتی ہوئ جلدی سے بولی ۔۔۔

نہیں رکھنا مجھے تو صاف بتا دو یہ شادی والا بہانہ کیوں ۔۔۔

محمل راجو کا سارا غصہ مسکان پر اتارتے چلاتے بولی ۔۔

نہیں محمل میں تو بس یہ ۔۔۔

نہیں سنا کچھ بھی مجھے جینے دو اگر زندہ بچ گی ہو میں ۔۔

شادی ضروری نہیں میرے لیے بس داٶد کی یادیں کافی ہے ۔۔۔

میں نہیں شادی کر رہی ہر کسی کو فکر میری خدا کا واسطہ ہے میری جان چھوڑ دو ۔۔۔

ورنہ خود بھی مر جاٶ گی میں ۔۔۔

محمل غصہ میں بولتی اس کی بات کاٹتے روتے ہوے بولی ۔۔۔

تم غلط ۔۔

میں وہی سمجھی ہو جو تم لوگ چاہتے ہو ۔۔

میں مرنے کو تیار ہو لیکن دوسری شادی ہرگز نہیں کروگی ۔۔۔

محمل پھر چلاتے ہوے بات کاٹتی روم کی طرف چلی گی تھی ۔۔۔

————————————————————

صاب جی صاب ہم پکڑا گیا بھاگو یہاں سے ۔۔

راجو گھبراتے ہوۓ روم میں آتے ہوۓ بولا ۔۔۔

کےکے جو محمل کی پک دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔

ان دو سالوں میں کےکے کا ہر اڈا تباہ ہو چکا تھا ۔۔۔

اس کا ہر وہ برا کام ختم ہو چکا تھا جو وہ کرتا تھا ۔۔

سارے آدمی بھی مارے گے تھے ایک راجو تھا وہ ہر پل اس کے ساتھ رہا تھا ۔۔۔

کےکے بہت جلدی پاکست

ن سے بھی بچ کر بھاگنا چاہتا تھا ۔۔۔

کیا ہوا ہے اب کچھ برا مت سننا ۔۔

کےکے نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔

صاب جی ہم آرمی پکڑنے والی آی ہے باہر ہم تو بھاگنے والا تم بھی بھاگ جا ۔۔

راجو جلدی جلدی سے کہتا روم سے جا رہا تھا ۔۔۔

ک۔کی۔کیسے ہو سکتا ہے میں سمجھا تھا اس ڈی ایم کی موت کی وجہ سے اب مجھے کوئ کچھ نہیں کہا سکتا لیکن وہ مر تو گیا پھر بھی میری جان نہیں چھوڑی ۔۔۔

سارا کام میرا تباہ ہو گیا اب یہ آرمی ۔۔۔

کےکے گھبراتے غصہ کرتے بولا ۔۔۔

ارے صاب جی شکر کرے تم بچ گیا ہے ۔۔۔

وہ ڈان دیکھا کیسا مرا تھا ۔۔۔

راجو ڈرتے ہوے بولا تھا ۔۔۔

اس نے تو ڈی ایم کو مارا تھا میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔

کےکے نے خود کو حوصلہ دیتے جواب دیا ۔۔۔

ارے صاب جی یاد کرے وہ مارا کیسا تھا ۔۔

راجو نے زیادہ ڈراتے ہوے کہا ۔۔

ڈان کی لاش اپنے روم سے ملی تھی سب کو اتنی بری حالت تھی جسم کو درمیان سے چیرا دے ساری اندر کی چیزیں باہر نکالی گی تھی ۔۔

آنکھیں دل گردہ معدہ ہر وہ چیز جو جسم کے لیے ضروری تھی ۔۔۔

ڈان کی ایسی حالت دیکھ ہر کوئ کانپ گیا تھا ۔۔

جب ڈی ایم زندہ نہیں تھا تو اسے مارا کس نے ۔۔

آج تک سب کے ذہین میں یہ سوال تھا ۔۔

ت۔م۔تم رک ۔۔

ارے صاب جی مرے گے ہم پکڑا گیا ۔۔

کےکے ہکلاتے ہوے بول رہا تھا جب اچانک آرمی والوں نے حملہ کیا ۔۔۔

راجو کو آرمی والے پکڑ چکے تھے جب وہ چلاتا ہوا بولا ۔۔۔

جبکہ کےکے بھاگنے کی تیاری میں کھڑا تھا ۔۔

رک جاو ورنہ میں گولی مار دو گا ۔۔۔

کےکے ڈرتے ہوے اپنی گن ان کی طرف کرتا بولا۔۔۔

صاب جی مجھے بچا لے یہ مجھے مار دے گے ۔۔

راجو چلاتے ہوے بولا ۔۔

جب کےکے جان بچاتا روم سے بھاگنے والا تھا ۔۔۔

ارے جاٶ یہاں سے مجھے اپنی جان کی پڑی ہے ۔۔۔

کےکے سب کو ڈرتا روم سے بھاگ چکا تھا ۔۔۔

آفسرز فورًا پکڑو اسے ۔۔۔

آرمی کے جنرل نے آڈر دیتے کہا ۔۔۔

انہیں کےکے زندہ چاہے تھا ۔۔۔

———————————————————–

کیا ہوا مسکان تم رو رہی ہو ۔۔

ہاشم مسکان کے پاس آتا فکرمندی سے بولا۔۔

جو مسلسل بیٹھی رو رہی تھی ۔۔

ہاشم وہ ۔۔

مسکان اس کے گلے لگی روتے ہوے بولی ۔۔

یار غلط کیا ۔۔

پتہ بھی ہے وہ جلاد اس کے لیے کیا تھا ۔۔

کیوں چاہتی ہو اس کی شادی ۔۔

ہاشم نے بے بسی سے کہا ۔۔

مجھ سے نہیں دیکھا جاتا اس کا ویران چہرہ ۔۔

یہ گرے آنکیھں جن میں ہر وقت شرارت رہتی تھی آج ویران ہوئ پڑی ہے ۔۔

سارا دن سب سے بیگانہ رہتی ہے ۔۔

اپنی بیٹی تک کا ہوش نہیں ہوتا اسے ۔۔۔

اتنی کم عمری میں یہ بیوگی اسے مار دے گی ہاشم ۔

میرا بھاہیٶ چاہتا تھا ہم سب خوش رہے میں اسے خوش دیکھنا چاہتی ہو ۔۔

کیا اس کا حق نہیں خوش رہنے کا ۔۔

مسکان پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوی بولی ۔۔

ریلکس مسکان وہ سمجھ جاۓ گی سب ہمیں بس اس کا ساتھ دینا ہے ۔۔۔

یہ نہ ہو وہ یہاں سے بھی چلی جاے ۔۔

تمہاری تو دوست بھی ہے تو سمجھو اس کی حالت ۔۔

ہاشم اسے چپ کرواتے سمجھا رہا تھا ۔۔

لیکن میں ۔۔۔

شششش میری جان اسے ٹائم دو وہ سبنھل جاۓ گی ۔۔

ہاشم اسے دوبارہ چپ کرواتے ہوے بولا ۔۔

————————————————————

بچاٶ بچاٶ کوئ ہے ۔۔

کےکے زور سے چیخ چلا رہا تھا ۔۔

وہ سب سے بچ کر بھاگا جا رہا تھا جب وہ کسی سے ٹکرایا اس سے پہلے وہ جان پاتا کون ہے جب اسے بے ہوش کر دیا گیا ۔۔۔

اب اسے ہوش آیا تو خود کو ایک عجیب سنسنان جنگل میں پایا ۔۔

جہاں اسے زمین میں دفن کیا گیا تھا صرف اس کا سر زمین سے باہر نکالا گیا تھا ۔۔۔

وحشت ناک آوازوں سے گھبراتے کےکے زور سے چلا رہا تھا ۔۔۔

چچچچچچ چچچچ افسوس ویسے کیسا فیل ہوا مجھے مزہ نہیں آیا ۔۔

کےکے چلا رہا تھا جب کسی کی آواز سنتے بولنے والے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

جہاں کوئ بلیک ہڈی پہنے مکمل بلیک ماسک لگاۓ چلتا ہوا اسی کی طرف آ رہا تھا ۔۔

بچاٶ بچاٶ مجھے کو۔ن۔کون ہو تم پلیز بچا لو ۔۔۔

کےکے اسے اپنے قریب نیچھے بیٹھتے جلدی اور ڈرتے بولا ۔۔۔

ارے واہ موت سے ہی پناہ مانگ رہے ہو ۔۔

وہ اس کے قریب بیٹھتا بولا۔۔

مو۔ت ۔مو۔موت کیا بکواس ہے یہ تم جانتے نہیں میں کون۔۔۔۔

منہ بند کر تو نہیں جانتا میں کون ہو تیری موت ہو جو بہت جلد آنے والی ہے ۔۔۔۔

وہ اس کی بات کاٹتا غصہ سے بولا ۔۔

ڈی۔ای۔ڈی ایم ہو تم ۔۔

کےکے اس کی آنکھوں کی طرف مشکل سے دیکھتا ڈرتے ہوے بولا ۔۔

ہاہاہااہاہہااا بڑی جلدی پہچان لیا چلو اب یہ چوہے بلی کا کھیل ختم کرتے ہے ۔۔۔

ڈی ایم طنزیہ مسکراہتے ہوے بولا ۔۔۔

سرخ نیلی آنکھوں میں خطرناک وحشت لے آی برو پر لگا گہرے سرخ تین کاٹ جیسے دیکھ کر ایسا لگتا جیسے خون نکل رہا ہو ۔۔۔

پورے چہرے کو ماسک سے کور کیے صرف آنکھیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔

ت۔تم۔زندہ ہو ۔۔

کےکے اپنی بھی شوک ہوتا پوچھ رہا تھا ۔۔

———————————————————————————————–

ہاں میں زندہ ہو صرف تجھے موت دینی ہے ۔۔۔

ڈی ایم غصہ سے غراتے ہوۓ بولا ۔۔۔

چل منہ کھول جلدی مجھے ٹائم ویسٹ کرنا زرا پسند نہیں ۔۔

ڈی ایم نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔

دیکھو مجھے چھوڑ دو میں کچھ نہی۔۔۔

منہ کھول ورنہ مجھے کھولنا آتا ہے ۔۔۔

ڈی ایم اس کی بات کاٹتا بولا ۔۔۔

اففف میرا ٹائم ویسٹ کر رہے تم چلو میں ہلیپ کرتا ہو ۔۔۔

ڈی ایم اسے خاموش دیکھتا خودی منہ کھولتا بولا۔۔۔

ک۔و۔ن۔ہو تم ۔۔۔۔۔

کےکے بہت مشکل سے بولا ۔۔۔

اب بتا ہی دو تمہاری آخری خواہش ہے یہ چلو سنو ۔

تمہارا گندہ خون ہو اکبٰری کا بیٹا بدقیسمت سے ۔۔

ڈی ایم اس کا منہ چھوڑتا غصہ سے بولا ۔۔۔

م۔ی۔ر۔بیٹا ۔۔

میرا بیٹا ہو تم ۔۔

کےکے نے خوش ہوتے کہا ۔۔

نہیں ہو تمہارا بیٹا ناجائز ہو میں تم لوگوں کا گناہ ہو ۔۔

بیٹا صرف تیمور شاہ کا ہو اور ہمیشہ رہو گا ۔۔

ڈی ایم نے غصہ سے چلاتے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے کہا ۔۔۔

جو اذیت اس کے چہرے پر تھی شاہد ہی کوئ ڈی ایم کی حالت سمجھ سکتا ۔۔۔

————————————————————

نہیں ت۔تو ناجائز نہیں نکاح کیا تھا ہم نے ۔۔

کےکے کی آنکھوں میں آنسو آتے کہا ۔۔

چلو اچھی بات ہے مان لیا اب میرا کام ہونے دو ۔۔

ڈی ایم یہ بات جان کر بھی خوش نہ ہوا تھا وہ ان کا جائز بیٹا ہے بلکہ بیزار ہوتا بولا ۔۔

آہہہہہہہہہ آہہہہہہہہہہ باپ۔

ہو۔

تم۔ہ۔ا۔تمہارا ۔۔۔

اس سے پہلے کےکے کچھ بولتا جب ڈی ایم اس کا زبردستی اس کا منہ کھولے اس کے منہ میں لاتعداد بچھو چھوڑے ۔۔۔

لاتعداد بچھو آہستہ آہستہ کےکے کے منہ کے اندر جا رہے تھے ۔۔۔

جبکہ کےکے درد سے چلا رہا تھا ۔۔

ڈی ایم آنکھوں کو بند کیے سکون سے اس کی چیخیں سن رہا تھا ۔۔۔

پلیز۔۔۔چھ۔ڑ۔و۔میں۔۔

با۔۔۔۔

نہیں ہو میرے باپ باپ تو وہ تھا تیمور شاہ تم ایک حیوان ہو ۔۔

کےکے منہ سے خون کے لوتھڑے نکلتا ہوا بولا ۔۔۔

جب ڈی ایم اسی کی زبان پکڑا کر اپنے خجر سے کاٹتا بولا ۔۔۔

تب تم کہاں تھے جب مجھے اور چندہ کو بیچ دیا گیا تھا ۔۔۔

تمہیں سزا ملے گی اور ڈی ایم اتنا بے رحم بھی نہیں وہ تمہیں موت دے دیکھو میرا دل بہت نرم ہے بس موت دو گا تمجھے میں ۔۔

ڈی ایم اس کی حالت انجواۓ کیے اس کے کان کاٹتا بولا ۔۔

غوں ٶ۔ں۔۔۔

کےکے لاچار ہوا بول بھی نہیں پا رہا تھا ۔۔۔

منہ سے مسلسل خون نکل رہا تھا ۔۔۔

باپ تو وہ تھا جس کی اولاد نہ ہونے کے باوجود مجھے پالا یہاں اس مقام پر لایا ۔۔۔

ڈیڈ کی خواہش تھی تمہارا سر دو آرمی والوں کو آج ڈی ایم ان کا بیٹا یہ خواش ضرور پوری کرے گا ۔۔۔

ڈی ایم کےکے کی شہ رگ پر خجر چلاتے بولا ۔۔۔۔

جبکہ ایک ہاتھ دل کے مقام پر رکھے دھڑکن محسوس کر رہا تھا۔۔۔

————————————————————

““دو سال پہلے ۔۔

ڈاکٹر کیا ہوا ہے میرے بیٹے کو ۔۔

تیمور صاحب اچانک پاکستان آتے ہاسپٹل آتے پریشان ہو کر پوچھا ۔۔۔

مسٹر تیمور ہم نے آپ کو اسی لیے لندن سے بلایا ہے تاکہ آپ کو بتا سکے کہ۔۔

کہ کیا ڈاکٹر تیمور صاحب کے بولنے سے پہلے اندر آتے ہاشم نے پوچھا ۔۔

کہ یہ ان کا ہارٹ صرف%20 کام کر رہا ہے ۔۔

بہت جلد ان کا ہارٹ بند ہو جاۓ گا ہم چاہتے تھے ان کی سرجری کی جاۓ ایک نئے ہارٹ کی بس ہم وہ انسان چاہے جو اپنا ہارٹ داٶد کو دے سکے ۔۔

ڈاکٹر نے جلدی سے تفصیل بتاتے کہا ۔۔۔

میرا دل لے ڈاکٹر مجھے اپنے بیٹے کو بچانا ہے ۔۔

جلدی فاسٹ کام کرے ۔۔

تیمور صاحب نے اپنا فصیلہ سنایا ۔۔۔

لیکن۔انک۔۔

جلدی کرے ڈاکٹر مجھے میرا بیٹا زندہ سلامت چاہے ۔۔

تیمور صاحب نے ہاشم کی بات اگنور کرتے کہا ۔۔۔

سوچ لے آپ ایک دفعہ عمر کا بھی تقاضا ہے ۔۔۔

ڈاکٹر حیران پریشان ہوتا بولا ۔۔۔

سوچنا کیا ڈاکٹر اتنا کم ہے کیا میں اپنے بیٹے کی دھڑکن بنو گا ۔۔۔

تیمور صاحب نے پیار اور محبت سے کہا ۔۔

ان کے چہرے پر باپ جیسی شفقیت تھی ۔۔

————————————————————

م۔ی۔کہا۔ں۔ہو ۔۔

لندن کے ہاسپٹل پر ڈی ایم ہوش میں آتا ہاشم سے بولا ۔۔۔

اس وقت صرف ہاشم اس کے پاس تھا ۔۔

کسی کو پتہ نہیں تھا ڈی ایم زندہ ہے ۔۔

کیسے ہو جلاد ۔۔

ہاشم اس سے گلے ملتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔

ہممممم ڈیڈ محمل مسکان اور ارتضٰی کدھر ہے ۔۔

اسے نہیں پتہ جلاد ٹھیک ہے ۔۔

ڈی ایم اپنے دل پر ہاتھ رکھتا رک رک کے بولا ۔۔۔

ہاشم سب کچھ سچ بتا چکا تھا ۔۔۔۔

ہمممم چلو ڈیڈ کو بلاٶ یار اتنے دن ہوۓ دیکھا نہیں ۔۔۔

سب کا جانے کے بعد ڈی ایم نے تیمور کا پوچھا ۔۔۔

کوئ کہہ نہیں سکتا تھا وہ اتنی بڑی ہارٹ سرجری کے بعد ہوش میں آیا تھا ۔۔۔

جس کا چہرہ چمک رہا تھا ۔۔۔۔

یہ کیا لگا ۔۔۔

ڈیڈ۔۔۔

ہاشم نے اسے ایل ای ڈی پر ایک کلیپ لگایا جب ڈی ایم شوک ہوتا چلایا ۔۔۔

————————————————————

کیسے ہو بیٹا ٹھیک ہو گے میرا ببر شیر ہو تم ۔۔

پتہ جب تمہیں دیکھا تو ایسا لگا تھا جیسے میرا ہی بیٹا ہو تم ۔۔

واقعی میرے بہادر بیٹے ہو کبھی محسوس ہونے نہیں دیا میں تمہارا سگا باپ نہیں ۔۔

میں نے شادی کیوں نہیں وجہ یہ کہ تم بیٹا پہلے ہی بہت تکلیف سہہ چکے تھے اگر میں شادی کرتا میرے بیوی بچے تمہیں ٹارچر کرتے جو مجھے برداشت نہیں ہوتا ۔۔۔

بس تبھی شادی نہیں کی تمہارے لیے بیٹا اور میرا کتنا خوش نصیب باپ ہو جو مجھے تم ملے ۔۔۔

ہاہاہاہاہہاہاہ ویسے تم سوچ رہے ہو گے میں یہ کیا بولا رہا ۔۔۔

تیمور صاحب مسکراتے ہوے بولے جو ہاسپٹل کے بیڈ پر بیٹھے تھے ۔۔۔

تم کہتے تھے میرا دل ختم ہوا تھا پھر یہ دل کس کا ہے ۔۔

ڈی ایم ایل ای ڈی سے نظریں ہٹاے ہاشم کی طرف ڈرتے ہوے دیکھ کر بولا تھا ۔۔۔

ایسا ڈر اسے تب بھی نہ تھا جب مسکان اس سے دور ہوئ تھی ۔۔۔

ہاشم بنا کوئ جواب دے سر جکھا گیا تھا ۔۔۔

مجھے پتہ جب تمیں معلوم ہو گا میں نے کیا کیا ہے تب تم سب پر غصہ کرو گے ۔۔۔

بیٹا تمہارا مقصد اس کےکے کو موت دینا ہے ۔۔

اس کے لیے ضروری ہے تم زندہ رہ سکو ۔۔

ڈاکٹرز نے جب کہا تمہیں ہارٹ چاہے میں فخر سے بولا تھا میں دو گا ۔۔۔

کیا میں اپنے بیٹے کے لے اتنا نہیں کر سکتا باپ ہو تمہاراماننا سگا نہیں لیکن پالا تو ہے فرض ہے میرا میں تمہیں بچاٶ ۔۔۔

ڈی ایم سے بات سنتا ہاشم کی طرف سرخ نیلی آنکھوں سے دکھ سے گھورا ۔۔۔

میرے لیے اتنی خوش نصیبی والی بات ہے میں اپنے بیٹے کی دھڑکن بنو گا ہمیشہ تمہارے پاس رہو گا ۔۔۔

میرا کیا تھا آج ہو کل مر جاتا لیکن بیٹا تم زندہ رہتے مسکان تمہاری چندہ جو اتنی تکلیف مشکلات سہنے کے بعد تمہیں ملی ۔۔۔

محمل تمہارا عشق ہے جس کے لیے تم دیوانے ہو ۔۔

ارتضٰی تمہارا بچہ ہاشم تمہارا اچھا دوست کل کو تمہارے بچے ہوتے چھوٹے چھوٹے تمہیں جینا تھا بیٹا اس لیے میں اپنا ہارٹ تمہیں دے رہا ہو ۔۔

ڈی ایم جو ہاشم کو گھور رہا تھا دوبارہ تیمور صاحب کی آواز سنتا متوجہ ہوا ۔۔

خوش رہنا ہے میرے بیٹے نے یہ گلٹ ہرگز مت لانا تمہاری وجہ سے میں ہارٹ دے رہا بلکل نہیں ۔

میں تو ڈی ایم کا فین ہو اور فین کچھ بھی کرتے ہے بس اس لیے یہ کیا ۔۔

تم بس وہ کےکے کو موت دو اسے بتاٶ تم تیمور شاہ کے بیٹے ہو ڈی ایم ہو اس کے ۔۔

چلو اپنا خیال رکھنا بہت بول لیا میں نے ہو سکے تو اپنے دل کا خیال رکھنا میرا ہے دل وہ ۔۔

ہاہہاہہاہااہا ہو ہو سکے تو اپنے ڈیڈ کو معاف کر دینا بیٹا میری جان جانی تھی چاہے وہ اپنے وطن کی حفاظت کرتا تب جاتی یا ایسے ۔۔

دونوں حالتوں میں مجھے یہ قربانی قبول ہوتی بیٹا ۔۔۔

تیمور شاہ اپنے بیٹے پلیس ڈی ایم سے بہت پیار کرتا ہے ۔۔

لو یو میری جان داٶد میر ہمیشہ خوش رہو ۔۔

تیمور صاحب نے یہ کہتے ہی کیمرہ اف کر دیا تھا ۔۔۔

پوری فلم میں تیمور صاحب کی چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔۔۔

جیسے انہیں فخر تھا اپنے بیٹے پر ۔۔

————————————————————

ڈیڈ ڈیڈ ڈیڈ ہاشم ہاشم دیکھو ڈیڈ بھی چھوڑ کر چلے گے میں کیا اتنا برا ہو ۔۔۔

سکرین اف ہوتے ڈی ایم بیڈ پر لیٹا ہی تڑپتے ہوے بولا تھا ۔۔۔

جب ہاشم نے پاس آتے گلے لگایا ۔۔۔

نہیں تم ان کے بہادر بیٹے ہو دیکھو تم ایسا کرو گے تو فائدہ ان کی قربانی دینے کا ۔۔۔

ہاشم اسے چپ کرواتے ہوے بولا ۔۔

جو ایک چھوٹے بچے کی طرح گلے لگے پھوٹ پھوٹ کر رویا ۔۔۔

میں کچھ نہیں جانتا مجھے ڈیڈ چاہے ہر حال میں پہلے کیا کم احسان تھے ان کے جو اتنا بڑا احسان کر کے میرے اوپر ۔۔

ڈی ایم مسلسل پھوٹ پھوٹ کر روتا بولا ۔۔۔۔

یہ جانتے کہ اس کو ہارٹ دینے والا کوئ اور نہیں وہی شخص ہے جو آج تک اسے ہر پریشانی اور مصیبت سے باہر نکالنے والا تھا ۔۔۔

دیکھو محسوس کرو یہ دھڑکن ان کی ہے اگر تم یہ سب کرو گے تو کےکے کو موت کون دے گا ۔۔۔

یہ انکل کی آخری خواہش ہے پوری تم کرو گے بیٹے ہو اس کے ۔۔۔

ہاشم اسے ہمت حوصلہ دیتے اس کا ہاتھ دل پر رکھتے بولا ۔۔۔

جب ڈی ایم کو اپنی دھڑکن چلتی محسوس ہوی ۔۔

ہاں میں موت دو گا اسی کی وجہ سے ڈیڈ میرے پاس نہیں رہے ۔۔۔

کےکے انتظار کرو ڈی ایم واپس آ رہا ہے ۔۔۔

ڈی ایم اپنی نیلی آنکھوں میں غصہ لاتے چلاتے ہوے بولا ۔

جبکہ ابھی بھی ہارٹ میں پین ہو رہا تھا ۔۔

ہاشم پاکستان آ کر کسی کو نہیں بتایا تھا ڈی ایم زندہ ہے ۔۔۔

یہاں تک ارتضٰی کو بھی نہیں ۔۔۔

————————————————————

ڈی ایم کےکے کے سامنے بیٹھا افسوس کرتے سب کچھ بتا چکا تھا ۔۔۔

جبکہ کےکے نیم بے ہوشی میں چلا گیا تھا ۔۔

مسلسل منہ اور اندر سے آتے خون کی وجہ سے وہ بے ہوش تھا ۔۔۔

تم باپ نہیں ۔۔

باپ وہ جو اپنے بچوں پر سایہ کرے خود دھوپ میں رہے ۔۔

اور تم کیا تھے ہمیں ہوسکا نشانہ بنانے لگے تھے ۔۔

ڈی ایم وہ سب یاد کرتا اچانک غصہ سے پاگل ہوتا کےکے کی آنکھ میں خجر مارتا بولا ۔۔

آنکھ نکل کر باہر آ چکی تھی ۔۔

باپ وہ تھا جو اپنے دل کی دھڑکن مجھے دے گا ۔۔

آج تک یہ محسوس نہیں ہونے دیا ۔میں اس کا بیٹا نہیں ۔

تمہارے جیسا باپ نہیں ہوتا جو اپنی ہی بیٹی کو نشانہ بناۓ جان بچا کر چلا گیا ۔۔۔

ڈی ایم کو جب سکون نہ آیا دوبارہ اس کی دوسری آنکھ میں خجر مارتا بولا ۔۔۔

دوسری آنکھ بھی باہر نکل کر آ چکی تھی ۔۔۔

اپنا درد برداشت نہ کرتے کےکے اس دنیا ہے کوچ کر چکا تھا ۔۔۔۔

مر گیا تو ہاہاہااہاہہاہہاہاا تو باپ تھا ہی نہیں باپ یہ تھا جو یہاں ہے اتنا درد سہہ نہ سکا سوچ میرے ڈیڈ کو کتنی تکلیف ہوئ ہو گی جب ان کا ہارٹ نکالا گیا بتا مجھے اب چپ کیوں ۔۔۔

ڈی ایم کے چہرے پر مسلسل خجر سے وار کرتا ہنستے ہوے بول رہا تھا ۔۔۔۔

ہاہہاہہاہا بہت جلدی مر گیا یہ برداشت نہ ہو سکا اس سے میری اور ڈیڈ کی محبت ۔۔

وہ باپ تھا میرا تو نہیں ڈی ایم نے آج گناہ کی جڑ کو ختم کیا ۔۔۔

ڈی ایم مسکراتا ہوا اس کا سر جسم سے الگ کرتا بولا ۔۔۔

ڈیڈ آپ کی خواہش پوری ہوئ ۔۔

میں اپنی دھڑکن کا بہت خیال رکھو گا ڈیڈ اب کبھی ایسا کام نہیں کرو گا جو

آپ کو تکلیف ہو ۔۔۔

ڈی ایم کےکے کا سر ہاتھوں میں لیتا کھڑا ہوتا جاتے ہوۓ اپنے آپ سے باتیں کرتا جا رہا تھا ۔۔۔

جبکہ کےکے کا مردہ جسم زمین کے اندر ہی دفن ہوا پڑا تھا ۔۔۔

————————————————————

ت۔تم۔تم بلیک مین ۔۔

دور رہو میں بھای کو ۔۔۔

شششششش ایک الفاظ بھی نہیں میم صاب ۔۔۔

محمل جو اپنی بیٹی کو بیڈ پر لٹاتے خود سونے لگی تھی جب اس نے کھڑکی کے اندر سے آتے راجو کو دیکھا ۔۔۔

محمل ڈرتے گھبراتے کہتی جب روم سے باہر جانے والی تھی تب راجو نے اسے پکڑ لیا تھا ۔۔۔۔

میم صاب بڑی مشکل سے جان بچا کر آیا ہو ۔۔

اب بس تم ہماری ہے صرف ہماری ۔۔

راجو محمل کے قریب جاتے اس کی گردن کو چھوتے بولا تھا ۔۔۔

چھو ۔ڑ۔چھوڑو مجھے میں بیوی ہو ڈی ایم کی ۔۔۔

محمل اپنی بے بسی پر روتی ہوئ مشکل سے بولی ۔۔۔

محمل کو اپنی عزت جاتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔