172.3K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 26)

Dadhkan By Rania Mehar

سر چار ماہ ہم نے ویٹ کر لیا ہم اب کب تک ویٹ کرے گے ڈی ایم کو ہمارے ہاتھ آ ہی نہیں رہا ۔۔

بلکہ ہمارے بندے ہی ختم کر رہا ہے ۔۔

ڈان کے خاص بندے نے پریشان ہوتے پوچھا ۔۔۔

وہ سنا ہے نہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔۔

ہم اب میٹھا پھل کھاۓ گے بہت جلد وہ ڈی ایم اس دنیا میں نہیں رہے گا ۔۔

ڈان نے شطانی مسکراہٹ سے کہا ۔۔۔

لیکن اس کے چمچے ۔۔۔

اس کی فکر مت کرو ایک تو ویسے معذور ہو چکا ہے ۔۔۔

جو خود سب کا محتاج ہو وہ ہمارا کیا کرے گا ۔۔

دوسرا تو بچہ ہے ابھی جو صرف بیوی کا رن مرید بنا ہے ۔۔۔

اور وہ اس کا باپ جنرل لندن جا کر بیٹھا ہے مطلب ہمارا کام آسان ہو جاے گا ۔۔

ڈان نے اپنا پلان بناتے بتایا ۔۔۔

اب تو ہمارا کام بلکل ٹھیک ہو گا ۔۔۔

آدمی نے بھی مسکراتے حامی بھری ۔۔۔

بس اب چوہے کا بل سے نلکنا باقی ہے ۔۔۔

جیسے ہی باہر آے ویسے ہی شوٹ کرنا اسے ۔۔

پتہ چلے اسے بھی موت ہوتی کیا ہے جو خود آرام سے دیتا ہے سب کو ۔۔

ڈان نے غصہ کرتے کہا ۔۔۔

———————————————————–

اففففف بھاہیٶ میں ٹھیک ہو اتار دے آپ کیسے چھوٹے بچو کی طرح گود میں اٹھایا ہے ۔۔۔

آپ کی ایج کی ہو اتنی بڑی ۔۔۔

ہاہاہہاہااہاہاہہاا۔۔۔۔

مسکان نے داٶد کو روکتے ہوے ہنستے کہا تھا ۔۔۔

جو اسے اپنی گود میں اٹھاے نیچے سیڑھاں اتر کر آ رہا تھا ۔۔۔

ان چار ماہ میں مسکان کو سب کچھ یاد آ چکا تھا ۔۔۔

مسکان اور داٶد ایک ساتھ رہے تھے ۔۔۔

جو خواہش داٶد بچپن میں پوری نہ کر سکا تھا ۔۔

اب روز وہ مسکان کی خواہش پوری کرتا تھا ۔۔۔

مسکان کو رشک تھا اسے اللہٌنے اتنا پیارا بھاہیٶ دیا تھا ۔۔۔

چندہ تمہیں پتہ تم کہتی تھی بھاہیٶ مجھے گود میں لے کر چلا کرے بس وہی کر رہا ہو ۔۔

ہاں بس اب موٹی ہو گی ہو ۔۔

ہاہاہااہاہا داٶد نے اسے آرام سے صوفے پر بیٹھاتے مذاق کرتے کہا ۔۔۔

بھاہیٶٶوووو۔۔۔

جاے میں بات نہیں کرتی ۔۔۔

مسکان مضوعی نارضگی سے کہتی منہ موڑ گی ۔۔۔

ایسا مت کرنا ورنہ تمہارا بھاہیٶ مر جاے گا چندہ ۔۔

میں ایسا نہیں کہو گا بس مجھے بات کیا کرو ۔۔

داٶد اچانک سنجیدہ ہوتا مسکان کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا بولا ۔۔۔

سوری بھاہیٶ میں مذاق کر رہی تھی ۔۔۔

مسکان اس کی نیلی آنکھوں میں وحشت دیکھتے ڈرتے ہوے بولی تھی ۔۔۔

چھوڑو یہ بتاٶ تمہارا بزدل شوہر کدھر ہے ۔۔۔

داٶد مسکان کے قدموں میں بیٹھتا ہوا بولا ۔۔

بھاہیٶ یہ کیا کر رہے اٹھ جاۓ ۔۔۔

مسکان نے جب دیکھا داٶد اپنے ہاتھوں میں تیل لیتا اس کے پاٶں پر لگان والا تھا ۔۔

تبھی بات اگنور کرتے پوچھا ۔۔۔

چپ بلکل چپ پانچ منٹ بڑا ہو تم سے سمجھی دیکھو کیسے پاٶں پر سوجن ہے ۔۔

زرا جو خیال رکھتی ہو تم ڈاکٹر کو چیک کروانا ۔۔۔

داٶد نے تیل لاتے ڈاٹتے ہوے کہا ۔۔۔

واقعی اس حالت میں مسکان کے ہاتھ پاٶں پر سوجن ہوئ تھی ۔۔۔۔

————————————————————

کیا دیکھ رہی ہے بھابھی ۔۔۔

آپ رو رہی ہے کیا ۔۔۔

ارتضٰی محمل کے پاس آتا حیرت سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔

بلیک کلر کی فل شلوار قمیض پہنے اپنے کسرتی جسم کے ماتھے پر آے براٶن بال کشادہ پیشانی نیلی آنکھوں میں سنجیدگی لے ڈمپل کے ساتھ وہ پورا مگن مسکان کے پاٶں پر تیل لگا رہا تھا ۔۔۔۔

مسکان کی کوئ نہ کوئ بات پر جب مسکراتا تو اس کے ڈمپل دیکھنے کو ملتے ۔۔

دور کھڑی محمل یہ سب دیکھ رہی تھی ۔۔۔

یہ دیکھ رہی تھی کیسی محبت ہے ان دونوں کی مجھے سمجھ نہ آی کوئ بھای ایسا ہو سکتا ہے کیا ۔۔

کوئ دیکھ کر کہا سکتا ہے کیا یہ وہ ڈی ایم ہے جس سے ساری دنیا ڈرتی ہے ۔۔۔

بنا اپنی پروا کیے وہ اس کے تیل لگا رہا ہے ۔۔۔

بس ان دونوں بہن بھای والی محبت دیکھ کر آنسو آ گے میرا سگا بھای نہیں ہے ورنہ وہ بھی ایسے محبت کرتا مجھ سے ۔۔۔۔

محمل مسکراتے ہوے اپنے آنسو صاف کرتے بولی ۔۔

ہممم اس کا مطلب میں بھای نہیں آپ کا بھابھی یہ غلط بات ہے ۔۔

ارتضٰی نے زرا غصہ کرتے کہا ۔۔۔

ارے نہیں وہ بات ۔۔۔

چھوڑے اس بات کو آپ نے آج جلاد کو بزی رکھنا ہے چاہے کچھ بھی ہو بھابھی پلیز ۔۔

اچانک ارتضٰی نے سنجیدہ ہوتے کہا ۔۔۔

لیکن میں کیسے مجھے ڈر لگتا ہے میں کیا کہو گی ۔۔۔۔

محمل نے پریشان ہوتے پوچھا ۔۔۔

بیوی ہے کچھ بھی کرے اب میں بتاتے ہوے مجھے شرم آ گی چلے آپ کا کام شروع ہوا ۔۔۔

ارتضٰی محمل کا بازو پکڑتے ہال میں لے کر جاتے بولا ۔۔۔

محمل کو اپنی جان جاتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔

————————————————————

یہ غلط بات ہے جلاد میں بھی بچہ ہو تمہارا تم تو بھول ہی گے مجھے ۔۔۔

ارتضٰی اپنی ٹانگیں داٶد کے سامنے کرتا معصوم شکل بناۓ بولا ۔۔۔

شرم کر کچھ تیر

ا بچہ دنیا میں آنے والا ہے اور تیرے ڈرامے ختم نہیں ہو رہے ۔۔۔

داٶد نے اس کی ٹانگوں پر جوتے مارتے کہا ۔۔۔

دفع ہو جا جلاد زرا جو عزت کرو میری ۔۔

تیرے بچے جب ہو گے میں دیکھو گا دیکھنا ایسے ہی مارا کرو گا انہیں ۔۔

ارتضٰی نے شرارتی انداز سے کہا ۔۔

میرے بچے۔۔

داٶد نے یہ لفظ دہراتے محمل کی طرف دیکھا ۔۔

جو خود اس کی بات سنتی اس کی دھڑکن تیز ہوئ تھی ۔۔۔۔

ہاےےےے میرے شوہر کو بھی دیکھ لو کوئ کہاں دفع ہو چکا ہے ۔۔۔

آپ کا شوہر دن رات مسٹر داٶد کو گالیاں دیتا ہے ۔۔

کیوں جلاد ۔۔ارتضٰی ویل چیئر پر ہاشم کو لاتے ہوے بولا ۔۔

جو واقعی غصہ سے داٶد کو گھور رہا تھا ۔۔۔

سیریسلی مسٹر ہاشم آپ ایسا کرتے ہو ۔۔

کیا خیال ہے پھر اور سزا دی جاۓ ۔۔۔

داٶد نے پاس جاتے مسکرا کر پوچھا ۔۔۔

(ہنس لے سالے ایک دفعہ ٹھیک ہو جاٶ دیکھنا پھر مسکان کو کبھی تیرے گھر آنے نہیں دو گا ۔۔۔

شوہر میں ہو ان چار ماہ میں تو نے ایک دفعہ بھی اسے اکیلا نہیں چھوڑا جیسے میں اس کا سوتیلا شوہر ہو ۔۔)

ہاشم نے دانت پیستے دل میں سوچا ۔۔۔

بول تو وہ سکتا ہی نہیں تھا ۔۔۔

بھاہیٶ میری ایک بات مان لے گے آپ ۔۔

اچانک مسکان نے سنجیدہ ہوتے داٶد کے پاس آتے کہا ۔۔۔

ارے چندہ چلنا نہیں تھا ۔۔۔

یہاں بیٹھو ۔۔

داٶد اس پکڑتے دوبارہ صوفے پر بیٹھاتا ہوا فکر مندی سے بولا ۔۔۔

وہ بھاہیٶ آپ ان کو ٹھیک کر دے پلیز میں انہیں اس حالت میں نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔

مسکان نے روتے ہوے کہا تھا ۔۔۔

کہاں وہ ہاشم کو اس حالت میں دیکھ سکتی تھی ۔۔۔

آج اس نے ہاشم کی آنکھوں میں ویرانی دیکھی تھی تبھی روتے التجا کر رہی تھی ۔۔۔۔

بس بس میری جان اتنی سی بات کہتے ہوۓ تم نے چار ماہ گزار دے رکو یہ ٹھیک ہو جاے گا ۔۔۔

داٶد ہاشم کے پاس جاتے ایک انجکشن لے جا کر بولا۔۔۔

————————————————————

“”چار ماہ پہلے ۔۔۔۔

آہہہہہہہ آہہہہہہہہہ میرا جسم ۔۔۔

ہاشم سب کے ساتھ بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا جب اسے ایسے محسوس ہوا جیسے سارا جسم مفلوج ہو چکا ہو تبھی چلاتے ہوے بولا ۔۔۔

ہاشم ہاشم کیا ہوا آپ کو ۔۔

مسکان نے ہاشم کے پاس جاتے پریشان ہوتے پوچھا ۔۔۔

جس کا سارا جسم اکڑ گیا تھا ۔۔۔

غ۔و۔غوں ہم۔م۔

ہاشم نے جب بولنے کی کوشش کی اس سے بولا بھی نہیں گیا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہہاہاہااہاہااہاہااہہہا

سچی جلاد یہ تیرا کام ہو سکتا ہے ۔۔

ہاےےےے میرا پیٹ

ہاشم کی حالت دیکھ جو نہ تو اپنی جگہ سے ہل سکتا تھا نہ کچھ بول سکتا تھا ۔۔

ارتضٰی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے بولا ۔۔۔

جبکہ سب اسے ہکابکا دیکھ رہے تھے ۔۔۔

ہمممم چلو کوئ تو جان پایا کہ میرا کام ہے یہ ویسے مسڑ ہاشم یہ بہت ہی کم سزا تھی ۔۔

میں چاہتا تو اسی وقت شوٹ کرتا پر افسوس تم مسکان کی محبت ہو بس اس لیے چھوڑ دیا تمہیں ۔۔

داٶد ہاشم کو ویل چیئر پر بیٹھاتا سرد لہجے سے بولا ۔۔۔

بھاہ۔بھاہیٶ کیا ہوا ہے انہیں ۔۔

مسکان نے ہی ہمت جمع کرتے پوچھا ۔۔

کچھ نہیں چھوٹی سی سزا دی ہے جو تمہیں برا بلا کہتا تھا ۔۔۔

فکر مت کرو ٹھیک ہو جاے گا جس دن تم نے کہا اسی دن یہ ٹھیک ہو گا ۔۔۔

داٶد نے ایک ایسا انجکشن لگایا تھا اسے جس سے سارا جسم مفلوج ہو چکا تھا ۔۔۔

وہ تب ہی ٹھیک ہو سکتا تھا جب داٶد اس کا اثر ختم کرنے والا انجکشن لگاتا ۔۔۔

ان چار ماہ میں ہاشم جان چکا تھا داٶد کی بہن کو تنگ کر کے اس نے کتنی بڑی سزا کاٹی تھی ۔۔۔

مسکان کو کبھی دکھ ہوتا تو کبھی خوش ہوتی اس کی حالت دیکھ تبھی اس نے داٶد کو کہا ہی نہیں تھا وہ ٹھیک ہو جاے ۔۔

————————————————————

تین گھنٹے بعد ٹھیک ہو جاے گا فکر مت کرو ۔۔

ہاشم میں چاہتا تو تمہیں بہت مارتا لیکن تمہیں وہ درد فیل نہ ہوتا جو ان چار ماہ میں تو نے فیل کیا ۔۔۔

یہ چھوٹی سزا تھی خیر اب سوچ سمجھ کر مسکان کو کچھ کہنا اس کا بھاہیٶ زندہ ہے ۔۔۔

امید ہے تم سمجھ گے ہو میری بات انجواۓ کرو باپ بننے والے ہو بہت جلد ۔۔۔

داٶد ہاشم کا ماتھا چومتے ہوے محبت سے کہا ۔۔

وہ جانتا تھا ہاشم کو کیسے سزا دی تھی اسے عزیز تھا ہاشم ارتضٰی کی طرح ۔۔

جبکہ ہاشم داٶد کی بات سنتے اس کی آنکھ سے آنسو ٹوٹا تھا ۔۔

(ہاے میں کتنا غلط سمجھا کیوں بھول گیا جلاد سب کا خیال رکھتا ہے بلکہ اچھا کیا مجھے پتہ چلا درد کیا چیز ہے )..

ہاشم نے دل میں سوچا ۔۔

اچھا اچھا بس کرو آو گیم پلے کرتے ہے ثانی اور مسکان بور ہو رہی ہے ۔۔۔

ارتضٰی نے ماحول چیج کرتے کہا ۔۔

سب نے حامی بھر لی تھی ۔۔۔

————————————————————

(ہاے بھای کہاں پھسا دیا ہے مجھے میری ویسے ہی جان نکل رہی ہے )…

محمل ٹبیل کے پاس کھڑی داٶد کو بیٹھے سنڈوچ کھاتے دیکھتے بولی ۔۔

وہ کب سے اس کے ساتھ ساتھ گھوم رہی تھی ۔۔

تبھی اب بھی اچھی بیویوں کی طرح پاس کھڑی تھی ۔داٶد کو فوک کے ساتھ سکون کے ساتھ سنڈوچ کھاتے وہ مسکرا دی تھی ۔۔۔

اففففف ڈی ایم ہاے میں تمہارے عشق میں مبتلا ہو رہی ہو ۔۔

داٶد کا وجہہ خوبصورت چہرہ دیکھتے محمل نے مسکراتے ہوے سوچا ۔۔۔

داٶد بھی اس کی مسکراہٹ دیکھ چکا تھا ۔۔

لیکن جب محمل نے اسے اپنی طرف دیکھتے پایا جلدی سے مسکراہٹ نگل گی ۔۔۔

ک۔کچھ چاہے تمہیں ۔۔

داٶد کو آس پاس کچھ ڈھونڈنتے ہوے محمل نے پوچھا ۔۔۔

ہاں جوس چاہے ۔۔

اچھا میں دیتی ہو ۔

ایک سنڈوچ اور چاہے ۔

اچھا میں دیتی ہو ۔

مجھے کس چاہے ۔۔

اچھا میں ابھی دیتی ہو

داٶد نے سب کچھ تنگ کرنے کے لیے کہا تھا ۔۔

جیسے محمل بچوں کی طرح حامی بھر رہی تھی ۔۔

آخری والی بات سمجھتے محمل شرمندہ ہوتی بھاگنے والی تھی ۔۔۔

اس اب افسوس ہو رہا تھا کیوں اتنا جلدی بولی ۔۔

پھر کب کس دے رہی ہو مجھے سویٹ ہارٹ ۔۔

داٶد اس کی کلائ پکڑتے آنکھ ونک کرتے مسکرا کر بولا ۔۔۔

بے شرم ڈی ایم ۔۔۔۔

محمل اپنا بازو چھڑواتے جاتے ہوے بولی ۔۔۔

نائس نیم بے شرم ڈی ایم آی لالک اٹ ۔۔۔

داٶد اپنا نام کی دہراتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔

———————————————————-

چلو سب سٹارٹ ہو جاٶ ہم سب گیم پلے کرنے والے ہے ۔۔

ارتضٰی نے شور مچاتے ہوے کہا ۔۔۔

داٶد محمل مسکان ہاشم ارتضٰی ثانیہ سب اکھٹے بیھٹے تھے ۔۔۔

سب سے پہلے بھابھی کو پلے کرے گی ۔۔۔

ارتضٰی نے محمل کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا جو نروس سی بیٹھی ہوئ تھی ۔۔۔

نہیں میں کی۔۔۔

گیم بتاٶ کیا ہے ۔۔۔

داٶد محم کی طرف پر شوح دیکھتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔

گیم بہت سپمل ہے کرنا یہ ہے جو جس کے سامنے بیٹھا ہے اس نے اپنے سامنے والے کے کان میں جا کر کچھ کہنا ہے ۔۔

پھر وہ بندہ اپنے لفاظوں سے سمجھاے گا ۔۔۔

ارتضٰی نے چہکتے ہوے کہا ۔۔

گیم کسی کو سمجھ نہیں آیا ۔۔۔

ہاشم نے منہ بناتے کہا ۔۔

تو چپ کر ابھی ٹھیک ہوا ہے ۔۔۔

داٶد نے طنز کرتے کہا ۔۔۔

جلاد تم بھابھی کے کان میں کچھ کہو ۔۔۔

ارتضٰی چہکتے ہوے بولا ۔۔۔

ہممممم مجھے تو مزہ آنے والا ہے ۔۔

داٶد نے سرگوشی کرتے محمل کے قریب جاتے کہا۔۔۔

محمل داٶد کے الفاظ کانوں میں سن کر اس کی آنکیھں پھٹی کی پھٹی رہ چکی تھی ۔۔۔

جبکہ داٶد اپنی ہنسی کنٹرول کر رہا تھا ۔۔۔۔

بھابھی بتاۓ جلاد نے کیا کہا ۔۔

ارتضٰی بے بے چینی سے ہوچھا ۔۔۔

پ۔ہ۔ہاں وہ پتہ نہیں میں روم میں جا رہی ۔۔۔

محمل گھبراتے ہوے کہتی روم میں بھاگ چکی تھی ۔۔۔

————————————————————

کیا بھابھی روم میں آ گی آپ کہا بھی ہے اسے اپنے ساتھ بزی رکھے ۔۔۔

ارتضٰی روم میں آتا جنجھلا کر بولا۔۔۔۔

میں نہیں یہ کر سکتی وہ کھڑوس دیکھتا ایسا ہے جیسے کھا جاۓ گا ۔۔

محمل رونی صورت بناے بولی ۔۔

کچھ بھی کرے جلاد آج رات یہاں سے نہ جاے ۔۔۔

ارتضٰی منت کرتے بولا ۔۔۔

————————————————————

پھر کیا کہا تھا بولی کیوں نہیں سویٹ ہارٹ ۔۔

شام کو محمل باتھ لیتی باہر آ کر اپنے بالوں کو خشک کر رہی تھی جب داٶد نے بیک ہگ کرتے اپنے حصار میں لیتا سرگوشی کی ۔۔۔

م۔مج۔۔

مجھے نہیں پتہ ۔۔

محمل اپنا گلا تر کرتی ہکلاتے ہوے بولی ۔۔۔

کیوں نہیں پتہ تمہیں ۔۔

داٶد اس کے بال ہٹاتے گردن پر لب رکھتا بہکے ہوۓ انداز سے بولا ۔۔۔

مج۔مجھے اچھا نہیں لگتا وہ۔۔۔

مطلب تمہیں پھر میں بھی اچھا نہیں لگتا۔۔۔

داٶد اس کا رخ اپنی طرف کرتا مسکراتا بولا ۔۔۔

نہی۔نہیں تم اچھے ہو بس وہ ۔۔

تو رات کیوں کس کی مجھے تم نے ۔۔۔

داٶد اس کی بات کاٹتے اپنے قریب کرتے بولا ۔۔۔

وہ۔ہ۔ہ۔

مجھے پیاس لگی ہے محمل ۔۔

داٶد اس کی بات کاٹتا خمار آلود لہجے سے بولا ۔۔۔۔

میں پانی لے کر آی ۔۔

محمل دور جاتی بولی جب داٶد نے اپنے اور اس کے درمیان کم فاصلے کو مٹاتے ہوے کہا ۔۔۔

تم بس اجازت دو مجھے ۔۔

داٶد اس کی گردن پر لب رکھتا بولا ۔۔۔

محمل کے دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی ۔۔۔

د۔ا۔داٶد پلیز نہ کرے ۔۔

محمل گبھراتے ہوے بولی ۔۔

ہاے سویٹ ہارٹ ایک دفعہ پھر میرا نام لینا تمہارا یہ بہکا بہکا میرا نام لینا مجھے پاگل کر رہا ہے ۔۔

داٶد محمل کی گردن سے منہ اٹھاتے مسکراتے ہوے بولا ۔۔۔

داٶ۔۔۔۔

اس سے پہلے محمل بولتی جب داٶد اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔

گیلے بالوں سے آتی شیمپو کی دھمی دھمی خوشبو داٶد کو مکمل مدہوش کر رہی تھی ۔۔۔

محمل کے دل کی سیپڈ تب تیز ہوئ جب داٶد نے اسی حالت میں محمل کی شرٹ کی بیک زپ اوپن کی ۔۔

پیچھے ہٹو ۔۔

محمل گھبراتے ہوے زور سے اسے دھکا مارتی بولی ۔۔۔

داٶد اپنے ہوش میں نہیں تھا تبھی دور جا کر گرا ۔۔۔

س۔سور۔ی

سوری میں یہ نہیں کرنا چاہتی تھی پتہ نہیں سوری ۔۔

محمل کو دکھ ہوا تھا اسے نیچے گرے دیکھ ۔۔

تبھی وہ گھبراتے ہوے اس کے پاس آتی بولی ۔۔

داٶد بنا کوئ جواب دے

روم سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔

ہاے برا مان گے میں کیا کرو میرا یہ مقصد نہیں تھا وہ دور چلے جاے ۔۔

محمل اب پریشانی سے روتی ہوۓ سوچا ۔۔۔

————————————————————

محمل تم بھی کتنی پاگل ہو ۔۔۔

کیوں اسے اپنے قریب آنے سے روکا ہاے ابھی تک روم میں نہیں آیا میں کیا کرو ۔۔

شام سے آدھی رات ہو چکی تھی ۔۔

داٶد دوبارہ روم میں واپس نہیں آیا تھا ۔۔

تبھی محمل صوفے پر بیٹھی افسوس سے سوچتی خود کو کوس رہی تھی ۔۔۔

داٶد داٶد میرا مقصد وہ نہیں تھا سچی سوری مجھے معاف کر دو ۔۔۔

محمل نے جب روم کا دروازہ کھولتا محسوس کیا تو فورًا بھاگ کر اندر آتے داٶد کے گلے لگی روتے ہوے بولی ۔۔۔

سوری چاہے تمہیں ۔۔

داٶد محمل کی سرخ گرے آنکھوں کو دیکھتا سرد پن سے پوچھا ۔۔۔

جو اب اپنے کان پکڑے کھڑی سوری کر رہی تھی ۔۔۔

تم جو کہو گے میں وہی کرو گی بس معاف کر دو ۔۔۔

محمل جلدی سے حامی بھرتی بولی ۔۔۔

ہمممم چلو یہ بیگ پکڑو تیار ہو جاٶ ۔۔

داٶد نے اپنے ہاتھ میں پکڑے بیگ اس کو دیتے کہا ۔۔۔

ک۔کی۔اچھا میں ابھی آتی ۔

محمل ڈرتے ہوے پوچھنے والی تھی جب داٶد کی گھوری دیکھتے مانتی واش روم چلی گی تھی ۔۔۔

————————————————————

افففف کیسے جاٶ میں کتنی شرم آے گی مجھے ۔۔۔

محمل واش روم میں کھڑی سوچ رہی تھی ۔۔

بیگ میں ایک بہت ہی خوبصورت لہنگا تھا سی گرین لہنگا نیٹ کا ساتھ چھوٹی سی کرتی جو بلکل سلیو لیس تھی ۔۔

بیک پر موتی والی ڈوری تھی ۔۔

کرتی اتنی شارٹ تھی کہ کمر اور پیٹ برہنہ تھے۔۔۔

ڈوپٹہ نیٹ کا ہونے کی وجہ سے کچھ بھی چپ نہیں پا رہا تھا ۔۔

تبھی محمل کو شرم آ رہی تھی ۔۔۔

آ جاٶ سویٹ ہارٹ ورنہ خودی اندر آ جاٶ گا ۔۔

داٶد نے باہر سے آواز دیتے کہا ۔۔

وہ کب سے اس کا ویٹ کر رہا تھا ۔۔۔

جہ۔جی ۔۔

محمل اپنا گلا تر کرتی ہمت کر کے بولی ۔۔۔

———————————————————–

ی۔یہ کیا ہے ہمارا روم تو نہیں یہ ۔۔۔

محمل جو ڈرتے سمہے روم میں انٹر ہوی سجا روم دیکھ ہکلاتے ہوے داٶد سے پوچھا ۔۔۔

سارے روم کو سرخ گلاب سے سجایا گیا تھا ۔۔۔

زمین پر گلاب ہی گلاب تھے جیسے ان کا قالین بچھایا گیا ہو۔۔۔

مدھم چلتی لائٹ جو روم کی خاموشی کو معنی خیز بنا رہی تھی ۔۔۔۔

سینڑ میں خوبصورت سیفد بیڈ جو گلاب کی پتیوں سے سجایا گیا تھا ۔۔۔

داٶد جو محمل کو بنا کسی میک اپ میں تیار کھڑی مہیوت ہوا تھا ۔۔۔

اپنے پورے جسم کو ڈوپٹہ سے چھپانے کی کوشش کی گی تھی ۔۔

سنہری بالوں کا جوڑا بنا گیا تھا ۔۔۔

جس سے اس کی صاف گردن نظر آ رہی تھی ۔۔۔

جھکی پلکوں کے ساتھ اپنے ہاتھ کی انگلیاں موڑوتے ہوے محمل نے جب پوچھا ۔۔

تب داٶد ہوش میں آیا ۔۔

سو بیوٹفل سویٹ ہارٹ ۔۔۔

داٶد نے بات اگنور کرتے محمل کی کمر میں ہاتھ ڈالتے بہکے ہوۓ انداز سے کہا ۔۔۔

وہ۔۔سو۔ر۔

ششششش۔۔

پہلے تھوڑا پاگل ہو میں تمہارے لیے اب یہ ایسی حرکتوں سے میری نیت خراب کر رہی ہو ۔۔۔

محمل جو اپنے لبوں کو کاٹتی بولنے والی تھی جب داٶد نے اس کے لب آزاد کرواتے بہکے ہوۓ انداز سے بات کاٹی ۔۔۔

پل۔ن۔ن۔

پلیز نہ کرے مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے ۔۔۔

محمل داٶد سے نظریں چراتے گھبراہٹ سے بولی

داٶد کی آنکھوں میں اپنے لیے جزبات کا سمندر دیکھتے محمل گھبرا گی تھی ۔۔۔

تمہیں پتہ میں چاہتا تھا میں تمہیں دلہن کے روپ میں دیکھو آج میری خواہش پوری ہوی ۔۔

اب چاہے میری جان۔۔

داٶددددد۔۔۔۔

داٶد محمل کی گردن سے ڈوپٹہ اتارتے بول رہا تھا جب محمل نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھتی چیخ کر بولی ۔۔۔

داٶد کی جان سویٹ ہارٹ آج مجھے سب کچھ کہنے دو شاہد یہ لمحہ میرے پاس آے یا نہیں ۔۔

داٶد محمل کا وہی ہاتھ پکڑتے چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

پہلی نظر کی محبت ہو میری ان گرے آنکھوں کا دیوانہ ہو میں جو مجھے پاگل کر گی تھی ۔۔۔

داٶد محمل کو باہوں میں بھرتے بیڈ پر لٹاتے اس کی آنکھوں کو چومتا بولا تھا ۔۔۔

محمل بغیر مزاحمت کیے خاموشی سے سن رہی تھی ۔۔۔

تمہارے ساتھ برا بی ہیور کرتا تھا کہ تم نفرت کرو لیکن تم نے ایسا نہیں کیا ۔۔

داٶد محمل کی گردن کو چومتے ہوے بولا ۔۔

ایک بات میں نے تمہیں نہیں بتائ محمل لیکن آج میں ضرور بتاٶ گا ۔۔۔

داٶد نے محمل کی گال سہلاتے ہوے کہا ۔۔

کییییاااا یہ سچ ہے لیکن ابھی مجھے اسی چیز کی محبت دیکھ رہی ہے ۔۔۔

محمل سب سنتی شوک سے بولی ۔۔

ہاں یہ سچ۔۔۔

پتہ نہیں اب میری جان چلی جاے بس اس لیے تمہیں بتایا ۔۔۔

ہاں مجھے محبت ہے اس سے اس کی وجہ سے میں آج یہاں ہو دنیا کے لیے ڈی ایم بنا ۔۔۔

اگر مجھے جان بھی دینی پڑی میں ضرور دو گا ۔۔۔

کیا مجھ سے محبت نہیں تم کو ۔۔

محمل نے ویران نظروں سے دیکھتے پوچھا ۔۔۔

وہ میری پہلی محبت ہے محمل میں اس کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہو ۔۔۔

لیکن تم میری دھڑکن ہو جس نے مجھے یہ بتایا میں کیسا انسان ہو ۔۔

بس ایک وعدہ کرنا میرے جانے کے بعد تم دوسری شادی کر لینا محمل تاکہ مجھے سکون رہے ۔۔۔

داٶد نے آج سب کچھ بتاتے محمل کو پیار سے کہا ۔۔۔

ہاے کیوں اتنے اچھے ہے داٶد کہ روز مجھے عشق ہوتا تم سے ۔۔۔

محمل ساری بات سنتی چکہتے ہوے بولی ۔۔۔

دوسری بات اگنور کر چکی تھی ۔۔۔۔

ہممممم۔۔۔۔

بس تم میری بات مان۔۔۔

میں نہیں مانتی کیوں اتنی تکلیف دیتے ہے مجھے تم ہو تو میں ہو سمجھے ۔۔۔

محمل اس کی بات کاٹتی غصہ سے بولی ۔۔۔

———————————————————–

کیا ساری رات ہم بات کرے گے محمل آج کی رات میں محسوس کرنا چاہتا ہو تمہیں ۔۔۔

داٶد بات بدلتے دوبارہ بہکے ہوے انداز سے بولا ۔۔

محمل جو اسی بات پر گم تھی داٶد کی بات پر ہوش میں آی ۔۔

ل۔۔

تم خوبصورت ہو تم محمل شکریہ جان میری زندگی میں آنے کا ۔۔

داٶد اس کی بات کاٹتا شہ رگ پر لب رکھتے بولا ۔

داٶد کے لب اب آہستہ آہستہ اس کے شولڈر کی طرف جا رہے تھے ۔۔

د۔ا۔

داٶد نہیں پلیز ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔

محمل نے جب یہ محسوس کیا داٶد اس کی کرتی شولڈر سے نیچے کیے لبوں سے چھو رہا تھا ۔۔۔

تبھی ڈرتے ہوے بولی ۔۔۔

آی وانٹ یو محمل پلیز سے یس ۔۔۔

داٶد اس کے کان کی لو کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوے بولا ۔۔۔

پلیز د۔۔

سے یس محمل

اجازت دو مجھے کہ تم میری شدت برداشت کر سکتی ہو کہ نہیں ۔۔۔

بھروسہ رکھو کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔

داٶد محمل کی بات کاٹتے اس کی گال سہلاتے ہوے بولا ۔۔۔۔

ہممممم۔۔۔

محمل اجازت دیتے کروٹ لے چکی تھی ۔۔۔۔

شرم کے مارے اس سے نظریں بھی ملائ نہیں جا رہی تھی ۔۔۔

محمل کی دل کی دھڑکن ٹرین کی سیپڈ کی طرح تب تیز ہوئ جب اسے اپنی کمر پر لگی ڈوری ٹوٹتے ہوے محسوس ہوئ ۔۔

جو داٶد اپنے دانتوں سے توڑ چکا تھا ۔۔۔

داٶد پلیز۔یہ۔۔۔

محمل گھبراہٹ سے دوبارہ کروٹ داٶد کی طرف لیتی بولنے والی تھی ۔۔

جب داٶد اس کے لبوں پر ہونٹ رکھ چکا تھا ۔۔۔۔

محمل نے گھبراہٹ سے داٶد کے مضبوط شولڈر پکڑے تھے ۔۔۔

داٶد مکمل مدہوش ہوا محمل کی سانسوں کی خوشبو محسوس کر رہا تھا ۔۔۔

محمل کو محسوس ہوا تھا داٶد واقعی اس سے محبت عشق کرتا ہے ۔۔۔

کیونکہ داٶد کے ہر عمل مین اسے نرمی محسوس ہوئ ۔۔

وہ تو اسے چھو بھی ایسے رہا تھا جیسے کوئ گلاب ہو ۔۔۔

جیسے رات گزر رہی تھی دونوں ایک دوسرے میں مگن ہو چکے تھے ۔۔۔

———————————————————–

سوری میری جان مجھے جانا ہو گا میرے لیے اپنا فرص نبھانا زیادہ ضروری ہے ۔۔۔

اگر زندہ بچ گیا تو ضرور واپس آٶ گا مجھے پتہ تم سب کو سنبھال لو گی ۔۔۔

محمل جو تھوڑی دیر پہلے اس کی شدت برداشت کرتی داٶد کی شرٹ پہنے اسی کے سینے پر سر رکھے سکون سے سوئ تھی ۔۔۔

جب داٶد اسے بیڈ پر اچھے لٹاتا ہوا بولا ۔۔۔

میں جانتا ہو تم سب نے مجھے کیوں بزی رکھا تھا ۔۔۔

پر جان جب موت آنی ہے تو پھر ڈرنا کیوں ۔۔

ہوسکے تو اپنے بے شرم ڈی ایم کو معاف کر دینا ۔۔۔

داٶد مکمل تیار ہوتا محمل کا سویا ہوا چہرہ دیکھتا دکھ بھرے انداز سے بولا ۔۔۔

میری بیوی بہت اچھی ہے ۔۔۔

مجھے سمجھ جاۓ گی ۔۔۔

داٶد محمل کی گردن چومتا ہوا جلدی سے بھاگ چلا گیا تھا ۔۔۔

اسے ڈر تھا کہی محمل اسے رک نہ لے ۔۔۔

ہاہاہہاہا بے شرم ڈی ایم ۔۔۔

محمل گہری نیند میں اس کا لمس پاتے مسکراتے ہوے بولتی کروٹ بدل چکی تھی ۔۔۔

جبکہ داٶد رات کے اندھیر میں بلیک ہڈی پہنے چوروں کی طرح سیف ہاٶس سے نکل چکا تھا ۔۔۔

————————————————————

سو مسٹر داٶد ہم سب آپ پر فخر محسوس کرتے ہے جو آپ نے بنا ڈرے اپنی جان کی پروا کیے ہمارے وطن کی حفاظت کی ہے ۔۔۔

کوئ کہہ ہی نہیں سکتا آپ وہ بچے ہو جو اتنا کمزور تھا اور آج ایک آرمی آفسر مسٹر کمانڈر داٶد میر ہمارے سامنے کھڑا ہے ۔۔۔

آرمی کے ایک جنرل نے خوش ہوتے داٶد کو عزاز دیتے فخر سے کہا ۔۔۔۔

جبکہ پوری آرمی ہیڈ کواٹر کے سامنے سنجیدہ چہرہ لے داٶد مکمل آرمی یونفارم میں کھڑا تھا ۔۔۔

لندن سے واپس آ کر داٶد نے آرمی جوائن کی تھی ۔۔۔

دنیا کی نظر میں وہ ڈی ایم تھا لیکن آرمی والوں کے لیے ہونہار داٶد میر تھا ۔۔۔۔

جس نے بڑے سے بڑے خطرے کا سامنا کرتے وطن کی حفاظت کی تھی ۔۔۔۔

شکریہ سر یہ سب تو ڈیڈ کی وجہ سے ہوا ۔۔۔۔

داٶد نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔۔

ارے یہ آپ کی محنت بھی تھی خیر اب بہت

جلد اس کےکے کا سر ہمیں چاہے ۔۔۔

جیسا کہ وہ تمہارا مجرم ہے تو سزا تم دو گے لیکن ہمیں سر چاہے اس کا ۔۔۔

جنرل نے آڈر دیتے کہا ۔۔۔

یس سر ۔۔۔

داٶد نے سیلوٹ مارتے سرد پن سے کہا ۔۔۔۔

———————————————————–

ارےےے جان کتنا سوتی ہو دیکھو ہماری بیٹی رو رہی ہے ۔۔۔

داٶد نے محمل کو اپنی بیٹی پکڑاتے ہوے کہا ۔۔۔

بیٹی کہاں سے اور تم کہاں جا رہے ہو ۔۔۔

محمل نیند سے جاگتی حیران ہوتی بولی ۔۔۔۔

بیٹی کو سنھبالو تم میرے جانے کا ٹائم آ چکا ہے ۔۔۔۔

داٶد ویران نظروں سے کہتا واپس جا رہا تھا ۔۔۔

نہیں نہیں کیوں روکو ۔۔۔

آہہہہ آہہہہہ ۔۔۔

محمل نیند سے جاگتے چیختی ہوی بولی ۔۔۔

میرا خواب تھا داٶد کہاں ہو وہ۔وہ تم نہیں تھے ۔۔۔

سیفد سوٹ پر خون لگا تھا ہاے میرا دل پھٹنے والا ہے ۔۔۔۔

محمل روم میں داٶد کو تلاش کرتی روتی ہوی بولی ۔۔۔

فون کرتی ہو ہاں ۔۔۔

محمل حواس باختہ ہوتی جلدی سے فون نمبر ملاتے ہوے بولی ۔۔۔

جبکہ دل ایسا دھڑک رہا تھا جیسے جان چلی جاۓ گی ۔۔۔

———————————————————–

کہاں ہو تم پتہ میرے دل میں درد ہو رہا ہے ۔۔۔

اتنی صبح کیوں گے مجھے جاگا دیتے

محمل داٶد کو فون ملاتی ایک ہی سانس میں روتے ہوے بولی ۔۔۔

شششش ۔۔۔

سویٹ ہارٹ میں بلکل ٹھیک ہو جان گھر آ کر بات کرتا ہو ۔۔۔

داٶد مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔

اسے خوشی ہوئ تھی محمل کو فکر ہے اس کی ۔۔۔

آی لو یو بے شرم ڈی ایم ۔۔۔

محمل اس کی آواز سنتی روتے ہنستے بولی ۔۔۔

ہاہاہاہا لو یو ٹو میری ڈرامہ کوئی۔۔۔۔

ٹو ٹو ۔۔۔۔ٹو ۔۔۔۔

داٶد داٶد ہلیو بولو کچھ ہلیو ۔۔۔

اس سے پہلے داٶد اپنے الفاظ پورے کرتا جب فون کاٹ ہو چکا تھا ۔۔۔

محمل فون پکڑے چلاتے ہوے بولی تھی ۔۔۔

جبکہ دوسری طرف فون خاموش ہو چکا تھا ۔۔۔