Dadhkan By Rania Mehar Readelle50327 Dadhkan (Episode 25)
Rate this Novel
Dadhkan (Episode 25)
Dadhkan By Rania Mehar
ہاۓ کہاں ڈھونڈو میں مسٹر کھڑوس کو ۔۔
محمل سیف ہاٶس کے سارے رومز دیکھتی گھبراتے ہوے بولی ۔۔۔
جاٶ یا نہ جاٶ اس کھڑوس نے منع کیا تھا ۔۔۔
محمل ریڈ روم کے سامنے روکتے ہوۓ سوچا ۔۔۔
چلی جاتی ہو کون سا کھا جاۓ گا ۔۔
روم کے اندر انٹر ہوتے محمل نے تسلی دی خود کو ۔۔۔
یہ تو وہی چندہ کا روم ہو ۔۔
ہاے کون ہو گی چندہ جس کے لیے اتنا خوبصورت روم سجایا ہے ۔۔
محمل روم کو حسرت سے دیکھتی بولی ۔۔۔
یہ کیا چیز ہے ۔۔۔
محمل پورے روم کو دیکھ رہی تھی جب اسے ایک عجیب سے دیوار سی دیکھی ۔۔
آہہہہہہہہ آہہہہہیہہہہہہ ۔۔۔
چھ۔ڑ چھوڑو داٶد کو جاہل انسان حیوان ہو تم سب دور رہو۔۔۔
محمل نے جب دیوار کو ٹچ کیا وہ دیوار کھولتی چلی گی ۔۔۔
لیکن سامنے والا منظر دیکھتے محمل چیختی بھاگتی ہوئ داٶد کے پاس آتی تھی ۔۔
جو خون سے لت پت سکون سا لیٹا تھا ۔۔۔
جب چار ہٹے کٹے آدمی داٶد کو مسلسل مارنے میں مصروف تھے ۔۔۔۔
چھوڑو اسے شرم نہیں آتی سر ہے تم سب کا ۔۔۔
جاٶ دفعہ ہو ۔۔۔
تم کیوں مار کھا رہے ہو ۔۔
یہ باڈی بلیڈر ہونے کا فائدہ جب اپنے سے کمزور آدمیوں کو مار نہیں سکتے ۔۔۔
اٹھ کیوں نہیں رہے تم ۔۔۔
محمل داٶد اور اس کے ملازم کو مخاطب کرتی روتے ہوے بولی ۔۔۔
جاٶ یہاں سے کیوں آی ہو ۔۔
مجھے درد چاہے یہ بھی کم درد ہے ۔۔۔
داٶد نے اپنے منہ سے نکلتا خون صاف کرتے محمل کو غصہ سے بولا۔۔۔
پاگل ہو گے ہو کیا مانا کہ تمہیں درد محسوس نہیں ہوتا لیکن یہ سب ۔۔۔
محمل نے داٶد کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے روتے ہوے کہا ۔۔۔
سوری ۔د۔سر ۔۔
ہم اب اتنا نہیں کر سکتے ۔۔
ایک ملازم نے سر جکھاتے افسوس سے کہا ۔۔۔
کہاں وہ اپنے سر کو مار سکتے تھے ۔۔۔
جس کی حالت بری ہونے کے باوجود بھی مار کھانے کو تیار تھی ۔۔۔۔
کیوں نہیں مار سکتے پیسے کس چیز کے لیے یہ ایسا کرو وہاں شیشے کی ٹیوب پڑی ہے اٹھا کر میری کمر اور سر پر مارو جلدی ۔۔۔
داٶد نے غصہ سے غراتے ہوے کہا ۔۔۔
نہیں نہیں ایسا ظالم کیوں کر رہے اپنے اوپر کیا دل نہیں جو یہ سب فیل کرے پلیز تم رک دو ان سب کو داٶد میری بات مان لو ۔۔۔
محمل داٶد کی بات سنتی تڑپتے ہوے بولی تھی ۔۔۔
تم جاٶ یہاں سے ورنہ خود تمہاری جان لے لو گا ۔۔۔
داٶد اپنی سرخ نیلی آنکھوں میں وحشت لے بولا ۔۔۔
میں نہیں جا رہی ایسا ہے تو ایسا صیح تم بھول جاتے ہو بیوی ہو میں سمجھے اب مارو مجھے بھی ۔۔۔
محمل نے جب دیکھا داٶد کسی طور مان نہیں رہا تبھی اچانک اس کے گلے لگی بولی ۔۔۔
رک جاٶ دفع ہو جاٶ یہاں سے کیا بھول گے ہو کون ہے یہ بیوی ہے میری ۔۔۔
داٶد ہوش میں آتا اپنے آدمیوں کو بولا جو ٹیوب اٹھاے مارنے کے لیے آ رہے تھے ۔۔۔
وہ کیسے برداشت کرتا کوئ محمل کو دکھ دے ۔۔۔
————————————————————
کیوں اتنا درد کھڑوس کیا وجہ ہے مجھے بتاو بیوی ہو میں پلیز خود کو اتنی اذیت مت دو ۔۔
محمل داٶد کا چہرہ کپڑے سے خون صاف کرتے روتے ہوے بولی ۔۔
اتنا درد نہیں ہوتا اب محمل جیتنا درد مجھے چندہ کو کھونے کا ہوا تھا ۔۔
یہ درد بہت کم ہے بہت کم میں تڑپ رہا ہو مجھے سکون چاہے ۔۔
کیسا مرد ہو میں اپنی چندہ کو بچا نہ سکا میں ۔۔
پتہ آج اس کا برتھ ڈے ہے میں ہر سال اس کے لیے گفٹ لے کر آتا ہو ۔۔۔
لیکن ہر سال مجھے میری چندہ نہیں ملتی کیوں وجہ ۔۔۔
بس وہی درد محسوس کرنے کے لیے میں ہر سال ایسی اذایت سے گزارتا ہو ۔۔
پر افسوس مجھے درد محسوس نہیں ہو رہا ۔۔۔
داٶد نے ضبط کرتے محمل کی گود میں سر رکھتے کہا ۔۔۔
تمہیں درد اس لیے محسوس نہیں ہوتا کیونکہ تم نے اپنا درد کسی کے ساتھ شیئر نہیں کیا ۔۔۔
تم مجھ سے شیئر کر سکتے ہو داٶد پلیز
محمل نے کچھ سوچتے ہوے کہا ۔۔
ت۔تم سنو گی کیا میری ہر بات نفرت تو نہیں کرو گی نہ مجھ سے ۔۔
داٶد نے ہکلاتے ہوے محمل سے پوچھا ۔۔
وہ بکھر چکا تھا آج تبھی چاہتا تھا محمل اس کی ساری بات سنے لے ۔۔۔
ہاں ضرور اور نفرت کیوں کرو گی میں ۔۔
محمل داٶد کا ماتھا چومتے بولی ۔۔
ک۔و۔
کون ہے چندہ جو اتنا درد برداشت کر رہے اور کہاں ہے مجھے بتاۓ ۔۔۔
محمل نے ہمت جمع کرتے داٶد کا درد بانٹنے کے لیے پوچھا۔۔۔
چندہ میری بہن میری جان اپنے ان ہاتھوں سے پالا میں نے ۔۔
داٶد اپنے سرخ سفید ہاتھوں کو دیکھاتے ہوے بولا ۔۔۔
وہ عورت جان بوجھ کر ہم دونوں کو کھانا کم دیتی کہ شاہد ہم میں سے کوئ مر جاے ۔۔
لیکن میں ہمیشہ اپنے حصے کا کھانا چندہ کو دیتا خود بھوکا رہ جاتا پر اپنی چندہ کے لیے سب کچھ کرتا ۔۔۔
آج داٶد نے اپنے بچپن اور دل کی باتیں روتے ہوۓ شیئر کی ۔۔
کییییییااااا اتنا کچھ ہوا تم نے مجھے بتایا ہی نہیں واقعی چندہ اتنی لاڈلی تھی تمہاری جس کے لیے موت کے م
سے واپس آے ۔۔
محمل ساری بات سنتی روتے ہوے بولی ۔۔۔
ششش خاموش رو کیوں رہی ہو ۔۔
میں تمہاری ان گرے آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا ۔۔
داٶد اچانک اٹھتا محمل کے آنسو صاف کرتا بولا ۔۔۔
اتنا درد برداشت کیا میرا دل پھٹنے لگا ہے ۔۔۔
محمل روتے ہوے اس کے سینے لگے بولی ۔۔۔
یہ کم ہے یار پتہ اپنی چندہ کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے میں نے واش روم تک بھی صاف کیے کہ مجھے پیسے ملے گے پھر اپنی چندہ کو وہ ساری چیزیں لے کر دو گا ۔۔۔
دیکھو آج اتنا پیسہ کمایا اپنی چندہ کی ہر خواہش پوری کر سکو ۔۔۔
کیوں میں چندہ کو بچا نہ سکا کیسا بھاہیٶ تھا میں مجھے مرنا چاہے تھا ۔۔۔
داٶد اپنے چہرے پر تپھڑ مارتے جنونی انداز سے بولا ۔۔
نہیں تم بچا لو گے ہم تلاش کرے گے مل کر جہاں اتنا صبر کیا وہاں اور سہی ۔۔
محمل داٶد کے ہاتھوں کو پکڑتے ہوے بولی ۔۔
تم ایک کام کرو گن اسے مجھے شوٹ کر دو ۔۔
میں کسی کے قابل نہیں ہو ۔۔
داٶد اپنی گن محمل کو پکڑاتے ہوے بولا ۔۔
کیا کر رہے ہو ڈی ایم اور اتنا کمزور دیکھنا ایک نہ ایک دن ہمیں چندہ مل جاے گی ۔۔
محمل تسلی دیتے بولی ۔۔۔
ت۔تم بھی دور رہو مجھ سے میں ناجائز ہو ۔۔
نفرت کرو مجھ سے نہ میں ایک اچھا بھای بن سکا نہ شوہر ۔۔۔
ہاہاہااا شوہر تو بن ہی نہیں سکتا تم کیسے برداشت کرو گی مجھے میں خون گندہ ہے ۔۔۔
میں مرنا چاہتا ہو ۔۔
داٶد پاگلوں جیسے ہنستے محمل کو خود سے دور کرتے بولا ۔۔۔
کون ناجائز ہے مجھے پروا نہیں تبھی آج تک ایسا بی ہیور کرتے تھے میرے ساتھ ۔۔۔
تم تو میرے ڈی ایم ہو شوہر ہو میرے سوچو جو شخص اپنی بہن کے لیے مار کھا سکتا ہے ۔۔
خود بھوکا رہ سکتا ہے ۔۔
اس کی خواہش پوری کرنے کے لیے واش رومز تک صاف کر سکتا ہے تو اپنی بیوی کے لیے کیا کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔
مجھے کبھی تھی ہی نہیں نفرت تم سے بلکہ یہ سب سن کر مجھے فخر ہے کہ میں مسز داٶد میر ہو ۔۔
محمل داٶد کے قریب جاتی اس کے گالوں کو چومتی عیقدت سے بولی ۔۔۔
آج واقعی سب جان کر اسے دکھ اور خوشی محسوس ہوی تھی ۔۔
کیا واقعی تمہں فرق نہیں پڑا کہ می۔۔۔
داٶد نے بے یقینی سے اسے دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
بلکل نہیں یہ محسوس کرو یہاں ہو تم کبھی یہاں سے گے ہی نہیں ۔۔۔
محمل اس کا ہاتھ پکڑتے اپنے دل کے مقام پر رکھتے مسکراتے ہوے بولی ۔۔۔
جہاں اس کی دھڑکن فل سیپڈ سے چل رہی تھی ۔۔۔۔
چھوڑو ہمدردی کر رہی ہو میرے ساتھ ۔۔۔
میں جانتا ہو ایسے ہی ہوا ہمیشہ میرے ساتھ بچپن کے دوست تھے ۔۔
جب انہیں پتہ چلا میں ایک گناہ کی سزا ہو سب چھوڑ گے مجھے یہ کہہ کر میں گندہ انسان ہو ۔
کچھ دوست تھے ساتھ وہ بھی اپنی ہر بات سے مجھے ہمدردی جیتا کر مجھے ناجائز کہتے ۔۔۔
ایسے ہی تم کر رہی ہو ۔۔۔
میری بس چندہ ہے سمجھی ۔۔۔
داٶد اچانک چلاتے ہوے محمل کو دور کرتا بولا ۔۔
اچھا بتاٶ چندہ ملی یا کوئ ایسی بات ملی ہو جیسے پتہ چلے وہ کہاں ہے ۔۔۔
محمل اس کی حالت سمجھتے بات بدلتی بولی ۔۔۔
————————————————————
مجھے ایسے لگتا تمہاری کزن مسکان میری چندہ ہے ۔۔۔
مجھے سکون ملتا ہے اس دیکھ کر ۔۔۔
داٶد اپنے چہرے پر محبت لاتے مسکراتے ہوے بولا ۔۔۔
وہی ہو سکتی ہم صبح پوچھ لے گے ۔۔۔
محمل داٶد کی خون سے بھری شرٹ اتارتے ہوے بولی ۔۔۔
اگر وہ نہ ہوئ پھر میں کیا کرو گا ۔۔۔
داٶد نے آس بھری نظروں سے دیکھتے پوچھا ۔۔۔
یہ لاکٹ تو مسکان کا ہے شاہد تمہارے گلے میں کیوں ہے ۔۔۔
محمل جب داٶد کا برہنہ سینہ صاف کر رہی تھی جب اسے لاکٹ دیکھا تبھی اس سے پوچھ بیٹھی ۔۔۔
سچی کیا مطلب وہ میری چندہ ہے ۔۔۔
پتہ اس کے اندر ایک چیپ ہے کہ جب بھی چندہ یہ لاکٹ چھوتی یا پہنتی مجھے اس لاکٹ کی لائٹ سے پتہ چل جاتا ۔۔۔
ابھی کچھ دن پہلے اس کی لائٹ اون ہوی تھی ۔۔۔
داٶد خوش ہوتے بولا ۔۔
ہو سکتا ہے اور میری دعا ہے وہ چندہ ہی ہو تمہاری ۔۔
محمل خوش ہوتے بولی ۔۔۔
ہم ابھی چلتے ہے دیکھ لے گے کیا پتہ واقعی چندہ ہو چلو چلے ہم ۔۔۔
داٶد نے جلدی سے اٹھتے ہوے کہا ۔۔۔
رات کافی ہو چکی ہے سو جاٶ صبح دیکھ لے گے ۔۔۔
محمل داٶد کو زبردستی بیڈ پر لٹاتے ہوے بولی ۔۔۔
لی۔۔۔
افففف کتنا بولتے ہوے بلکل لڑکیوں کی طرح ۔۔
اس سے پہلے داٶد کچھ کہتا جب محمل اپنے لبوں سے داٶد کے لب چومتی پیچھے ہوتی بولی ۔۔۔
داٶد ہکابکا اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ہاہااہاہہاااہہاہہاہاہہاہا ۔۔۔
کون کہا سکتا ہے ڈی ایم بلش بھی کرتا ہے ۔۔
ہاۓ میرا ڈی ایم محمل داٶد کے سرخ گال دیکھتی ہنستے ہوے بولی ۔۔
جو اب بھی حیران سا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اب سو جاٶ سویٹ ہارٹ اگر میں نے کس کیا تو تم سو نہیں پاٶ گی ۔۔۔
داٶد نے اپنے شرم ختم کرنے کے لیے محمل کو دمھکی دی ۔۔
جس میں کامیاب بھی ہوا ۔۔۔
مسٹر کھڑوس ۔۔۔
محمل اپنا منہ بناتے ہوے بولتی آنکھوں کو بند کر چکی تھ
ی تھی ۔۔۔
———————————————————–
کیا ہے جلاد اتنی صبح کیوں بلا رہے ہو پتہ بھی ہے ہم سو رہے تھے ابھی صرف چار بجے ہے ۔۔۔
ارتضٰی ثانیہ کے ساتھ نیچے آتا جمائ روکتا بولا ۔۔۔
صبح ہی داٶد نے سب کو ہال میں جمع ہونے کو کہا تھا ۔۔۔
سب آ چکے تھے ارتضٰی ثانیہ محمل مختار صاحب راحیلہ بیگم اصغری بیگم اور وہ خود بھی موجود تھا ۔۔۔
بیٹھ جاٶ یہاں بھای ۔۔۔
محمل نے آگے آتے کہا ۔۔۔
جبکہ داٶد پریشانی سے چکر کاٹ رہا تھا ۔۔۔
سنو اگر وہ میری چندہ ہوئ میں کیسے نظریں ملا پاٶ گا کہ اس کو ان حیوانوں سے بچا کیوں نہ سکا ۔۔
وہ مجھے غلط سمجھے گی ۔۔۔
ایسا کرتا ہو مجھے جاننا ہی نہیں وہ میری چندہ ہے کہ نہیں ۔۔
داٶد اپنا ماتھا مسلتے محمل کے پاس آتے پریشانی سے سرگوشی کرتے کہا ۔۔۔
ریلکس کچھ نہیں ہوتا اسے آنے تو دے ۔۔۔
محمل جانتی تھی داٶد کی اس وقت کیا فیلیگز ہے تبھی حوصلہ دیتے کہا ۔۔۔
کیا ہوا جلاد تو پریشان ہے ۔۔۔
ارتضٰی نے گھبراتے ہوے پوچھا ۔۔۔
وہ دیکھ چکا تھا اس کو ماتھا مسلتے ۔۔۔
ہاں وہ نہیں ۔۔پ۔ت۔پہ۔۔پتہ نہیں ۔۔۔
داٶد کو سمجھ نہ آی کیا بولے ۔۔۔
————————————————————
مسکان آ گی ۔۔
محمل سامنے سے آتی مسکان کو دیکھتی بولی ۔۔۔
اب بتاٶ بیٹا کونسی ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔
مختار صاحب نے پیار سے پوچھا ۔۔۔
و۔ہ۔م۔
وہ میں تم ادھر آو بچہ میرے پاس ۔۔
داٶد کو جب سمجھ نہ آیا تو مسکان کو اپنے قریب آنے کو کہا ۔۔۔
جی سر ۔۔
مسکان داٶد کا پریشان چہرہ دیکھتی بولی ۔۔۔
یہاں بیٹھ جاٶ طیبعت کے لیے ٹھیک نہیں ۔۔۔
داٶد مسکان کو کندھوں سے پکڑتے ہوے بولا ۔۔۔
وہ میں کہنا چاہتا تھا کہ محمل تم بولو ۔۔۔
داٶد کہتے ہوے بچارگی سے محمل کو بولا ۔۔۔
مسکان تم اپنا لاکٹ دینا جو گلے میں پہنا ہے ۔۔۔
محمل سمجھ سکتی تھی اس کی حالت تبھی جلدی سے بولی ۔۔۔
ہاں ضرور یہ لو ۔۔
مسکان نے پریشان ہوتے اپنے گلے سے لاکٹ اتار کر دیا ۔۔
جبکہ سب خاموش تماشائ کی طرح بیٹھے سب دیکھ رہے تھے ۔۔۔
نہیں نہیں مجھے یقین نہیں آ رہا ۔۔۔
داٶد نے اپنے کاپنتے ہاتھوں سے جب لاکٹ کو کھول کر دیکھا ۔۔۔
تبھی زمین پر گرتے روتے ہوے چلایا تھا ۔۔۔
اسے یقین نہیں آ رہا تھا مسکان ہی اس کی چندہ ہے ۔۔۔
داٶدددددد ۔۔۔
بھای رک جاۓ ان دونوں کا معاملہ ہے یہ آپ پریشان نہ ہو ۔۔
محمل ارتضٰی کو روکتے ہوے بولی جو داٶد کو گرتا دیکھ چلاتے ہوے پاس جانے لگا تھا ۔۔
————————————————————
تم تم میری چندہ ہو ہاے مجھے یقین نہیں آ رہا میں کیسے تم سے نظریں ملاٶ ۔۔۔
داٶد خوش ہوتا مسکان کے قدموں میں بیٹھتا بولا تھا ۔۔۔
ک۔ن۔چندہ سر۔۔
مسکان نے شوک کی حالت میں پوچھا ۔۔۔
تم چندہ میری جان میں تمہارا بھاہیٶ ہو ۔۔
وہ بھاہیٶ جو تمہارے لیے سب کچھ کرتا تھا ۔۔۔
داٶد مسکان کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا دیوانے پن سے چومتا ہوا بولا ۔۔۔
بیٹا اسے کچھ یاد نہیں ہے ۔۔
اصغری بیگم نے ہی ہمت جمع کرتے پاس جاتے کہا ۔۔۔
سب شوک میں تھے داٶد اور مسکان بہن بھائ ہے ۔۔
لیکن تھوڑا سا تو یاد ہو چندہ کو اسے پتہ میں کتنا تڑپا ہو ایچ ایم اےاے تم دونوں بتاٶ خاموش کیوں ہو ۔۔۔
داٶد نے پاگلوں کی طرح ان دونوں کے پاس جاتے کہا ۔۔۔
تم اکبٰری کے بیٹے ہو میں جان گی ہو اور یقین بھی ہے مسکان تمہاری بہن ہے ۔۔۔
اصغری بیگم داٶد کی حالت دیکھتی روتے ہوے بولی ۔۔۔
نہیں ہو اس عورت کا بیٹا میں ۔۔
میں صرف تیمور شاہ کا بیٹا ہو ۔
وہ عورت میری کچھ نہیں لگتی آپ کیسے جانتی ہے اسے ۔۔۔
اچانک داٶد نے نیلی آنکھوں میں وحشت لے غرایا ۔۔۔
کیونکہ ہم دونوں اسی عورت کے بہن بھای ہے ۔۔۔
مختار صاحب نے بھی اپنی بات کہی ۔۔۔
مطلب آپ دونوں میرے ماموں اور خالہ ۔۔
کدھر تھے جب وہ عورت ہم پر ظلم کرتی تھی ۔۔
کدھر تھے جب وہ حیوان مجھ سے میری چندہ کو لے کر چلے گے تھے ۔۔۔
داٶد غصہ میں چلاتا ہوا بولا ۔۔۔۔
اصغری بیگم نے ہی روتے ہوے اکبٰری کا ماضی بتایا تھا ۔۔۔۔
محمل ہاشم مسکان تینوں شوک میں تھے داٶد ان کا کزن تھا ۔۔۔
مجھے بھی کوئ سمجھا دے میرا سر پھٹنے والا ہے ۔۔۔
اچانک مسکان نے اپنا سر پکڑتے چیختے ہوے کہا ۔۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی ہو کیا رہا ہے ۔۔۔
نہ میری جان بھاہیٶ ہے نہ میں سب سمجھا دو گا ۔۔
تم آرام کرو بلکہ آو میں تمہیں روم میں لے کر جاٶ ۔۔۔
آہستہ آہستہ سب یاد آ جاے گا ۔۔۔
داٶد نے پاس جاتے پیار سے کہا ۔۔
روتے دھوتے سب کے گلے شکوے ختم ہو چکے تھے ۔۔۔۔
داٶد خوش تھا اسے چندہ مل چکی ہے ۔۔۔
اس کی خوشی دیکھتے سب خوش تھے ۔۔۔
————————————————————
سر یہ۔۔۔
بھاہیٶ کہو میری جان یہ میرے کان ترس گے ہے سننے کو ۔۔
داٶد جب مسکان کو ریڈ روم لایا تب مسکان کی بات کاٹتے ہوے پیار سے بولا ۔۔۔
مسکان کو اگر سب یاد نہیں آیا تو وہ خوش بی تھی داٶد جیسے بھاہیٶ کو پا کر ۔۔۔
جی بھاہیٶ یہ کمرہ میرا تو بھی ۔۔
مسکان نے مسکراتے ہوے روم کو دیکھتے کہا جو بلکل باربی لینڈ لگ رہا تھا ۔۔۔
میری چندہ کا ہے یہ آج سے تم یہاں ہی رہو گی ٹھیک ہر ضرورت کی چیزیں ہے ۔۔۔
ارے چیزوں سے یاد آیا میری چندہ کو میرے ہاتھوں کے آلو والے پڑاٹھے بہت پسند ہے ۔۔۔
تم رکو میں ناشتہ تیار کرتا ہو ۔۔۔
داٶد مسکان کو چھوڑ کر جاتے ہوے بولا ۔۔۔
داٶد نے فحال ہاشم محمل ارتضٰی ثانیہ کسی سے بات تک نہیں کی تھی ۔۔۔۔
اس سارے عرصے میں اگر کوئ بولا نہ تھا وہ تھا ہاشم ۔۔۔
————————————————————
یہ والا کرتا شلوار کیسا رہے گا ۔۔۔
نہیں یہ والا دیکھ بول کیوں نہیں رہا تو ۔۔۔
ارتضٰی اپنے روم میں آتے ہاشم کو اپنے کپڑے دیکھاتے ہوے بولا ۔۔۔۔
تجھے کس بات کی خوش ہے اور یہ کپڑے کیوں ۔۔۔
ہاشم نے پریشان اور حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔
ہاں یہ والا سوٹ ٹھیک ہے ۔۔۔
تمہارے قل پر پہنے میں نے بتا کیسا ہے ۔۔۔
ارتضٰی اپنے دانت نکاتے ہوے بولا ۔۔۔
کیسا دوست ہے میرے مرنے کی خوشی ہو رہی ہے تجھے اور میں یہاں شوک میں ہو ۔۔۔
ہاشم اپنا جوتا اتار کر اسے مارتے افسوس سے بولا ۔۔
خوشی تو مجھے بھی ہوئ اس کی چندہ مل گی ۔۔
بس میں تمہیں یاد رکھو گا ۔۔۔
ارتضٰی باز نہ آتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔
میرے لیے یہ شوک کم تھا مسکان چندہ ہے اس کی اب تو اور جان جانے والی ہے کہ ہم کزنز بھی ہے ۔۔۔
ہاشم نے اپنا رونا رویا ۔۔۔
اب تو کدھر جا رہا ہے میں دکھ سن لے کوئ ۔۔
ہاشم بول رہا تھا جب ارتضٰی روم سے بھاگ کر جانے والا تھا ۔۔۔
میں بتانے جا رہا ہو جلاد کو کہ بریانی ضرور رکھے تمہارے قل پر ورنہ میں کچھ نہیں کھاٶ گا ۔۔۔
ارتضٰی دانت نکال کر کہتا باہر بھاگ چکا تھا ۔۔۔
ہے ہی کوئ ذلیل انسان ہے زرا جو میری پروا ہو سب کو ۔۔
ہاشم دل میں گالیاں دیتا افسوس سے بولا ۔۔۔
———————————————————-
ہاے کتنے مزے کی خوشبو ہے مسڑ کھڑوس تمہیں کھانا بنانا آتا ہے کیا ۔۔۔
داٶد اکیلا کچن میں کھڑا ناشتہ بنا رہا تھا ۔۔۔
سب نوکروں کو منع کر چکا تھا اندر آنے سے ۔۔
ہاں سویٹ ہارٹ میں اپنی چندہ کے لیے سب کچھ بنا لیتا ہو ۔۔۔
داٶد محمل کو اپنی باہوں میں بھرتے کچن شلیف پر بیٹھاتے مسکراتے ہوے بولا ۔۔۔
وہ آج خوش تھا ۔۔۔
مجھے بھی چیک کرواٶ میں بھی دیکھتی ہو تم نے کیسے بناے آلو کے پڑاٹھے ۔۔۔
محمل پڑاٹھوں کو دیکھتی منہ میں پانی لاتی بولی ۔۔۔
بتاٶ کیسا ہے ۔۔۔
داٶد اس کے منہ میں نوالہ ڈالتے بے تابی سے پوچھا ۔۔۔
بہہتتتت بہتتتت مزے کا ہے ہاے اپنی چندہ کے لیے اتنا کرتے ہو کاش میرے بھی کرتے ۔۔
محمل ایک نوالہ اور منہ میں ڈالتی حسرت سے بولی ۔۔۔
وہ جلیس بھی تھی داٶد صبح سے مسکان کے لیے پاگل ہو رہا تھا ۔۔۔
بہت جلد تمہارے لیے بھی کرو گا سویٹ ہارٹ ۔۔
داٶد محمل کے منہ سے نوالہ اپنے لبوں میں لیتے آنکھ ونک کرتے بولا ۔۔۔
بے شرم انسان تم کھڑوس اچھے تھے یہ والا بے شرم ڈی ایم نے اچھا توبہ توبہ ۔۔
محمل داٶد کی حرکت دیکھتی بلش کرتے کہتی کچن سے بھاگ چکی تھی ۔۔۔
اسے امید نہیں تھی داٶد ایسی حرکت بھی کرسکتا تھا ۔۔۔
ہاہااااااہاہاہہاہا میری ڈرامہ کوئین ابھی تو کچھ کیا ہی نہیں بے شرم پہلے ہی کہا دیا ۔۔۔۔
کچن میں کھڑے داٶد نے دل کھول کر قہقہ لگاتے ہوے اونچی آواز سے کہا ۔۔۔
تاکہ محمل سن لے ۔۔۔
توبہ میری اب نہیں پاس جانا اس بے شرم ڈی ایم کے ۔۔۔
محمل اس کی آواز سنتی بلش کرتی بولی ۔۔۔
———————————————————–
مبا۔مبارک ہو۔۔سالے۔مطلب سالے صاحب ۔۔۔
مبارک ہو سالے صاحب ۔۔
ناشتے کی ٹیبل پر ہاشم نے داٶد کے پاس جاتے مبارک دیتے کہا ۔۔۔
دل میں وہ بہت گھبرایا ہوا تھا ۔۔۔
شکریہ جیجو مجھے خوشی ہوئ مسکان تمہارے پاس تھی ۔۔
خیر آو ناشتہ کرے ہم ۔۔
داٶد نے مسکراتے ہوے ہاشم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا ۔۔۔۔
سس۔۔۔
کیا ہوا جیجو ۔۔
داٶد نے مسکرا کر پوچھا ۔۔۔
پتہ نہیں یار شولڈر پر جل ہو رہی ہے جیسے کسی چیز نے کاٹا ہو ۔۔۔
ہاشم اپنے کندھے کو سہلاتے ہوے بولا ۔۔
آو ناشتہ کرے ۔۔
داٶد اسے زبردستی چیئر پر بیٹھاتے مسکرا کر بولا ۔۔۔
یہ اتنا پرسکون کیسے رہ سکتا ہے اب تک تو میرا قتل کر دیتا ۔۔۔
ہاشم اس کا مسکراتا چہرہ دیکھتے سوچا ۔۔
کھاٶ نہ کھا کیوں نہیں رہے ۔۔
داٶد نے ایک دفعہ پھر اصرار کیا ۔۔۔۔۔
تو کھا پہلے کیا پتہ زہر نہ ہو ۔۔
ہاشم اسے کہتا خود پریشان ہوا ۔۔۔۔
ہاہاہہاہاا تم مجھے یہ سمجھتے ہو ۔۔
داٶد طنزیہ مسکراہٹ لاتے بولا ۔۔۔
میں سب سمجھتا ہو تم تو وہ ہو جو سامنے والے کو مات دو آنکھوں میں دیکھ میں کیا چیز ہو چل کھا اب یہ ۔۔
ہاشم دانت پیستہ ہوا بولا ۔۔
ویسے گھبرا نہیں جانتا نہیں کیا ڈی ایم اتنی آسان موت نہیں دیتا جو میں تمہیں اتنی جلدی موت دو ۔۔۔
داٶد اچانک سرد انداز اپناتے ہوے ناشتہ کرتے بولا ۔۔۔
سب نے ہنسی خوشی ناشتہ کیا تھا ۔۔
سب خوش تھے مسکان بھی خوش تھی اپنے بھاہیٶ سے مل کر ۔۔۔
کوئ نہیں جانتا تھا وقت کتنی جلدی ان کی یہ خوشی لینے والا تھا ۔۔۔
————————————————————
“” چار ماہ بعد۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا بھای آپ گھبراے ہوۓ کیوں ہے ۔۔۔
محمل نے ارتضٰی کو گھبراتے ہوے پوچھا ۔۔۔
جو خود محمل کی طرف آ رہا تھا ۔۔۔
بھابھی آپ ایک کام کرے کچھ بھی کر کے جلاد کو سیف ہاٶس سے باہر نہیں جانے دینا چاہے کچھ بھی ہو ۔۔
اس کے ساتھ رہے ۔۔
ارتضٰی جلدی جلدی میں بولا ۔۔
لیکن کیوں آپ دونوں ۔۔
ہم دونوں ساتھ نہیں ہے ہاشم معذور ہو گیا اور میں ثانی کے پاس رہتا ہو ۔۔
صرف آپ ہے جو اسے رک سکتی ہے بس اسے جانے مت دینا باقی میں بعد میں بتاٶ گا ۔۔۔
بس جلاد کو کچھ نہ ہو ۔۔
ارتضٰی جلدی جلدی کہتا بیسمنٹ روم کی طرف بھاگ چکا تھا ۔۔۔
جبکہ محمل اب سوچ رہی تھی داٶد کو کیسے روکے اس تو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے شیر کی غار میں جانے لگی ہے ۔۔
