Dadhkan By Rania Mehar Readelle50327 Dadhkan (Episode 24)
Rate this Novel
Dadhkan (Episode 24)
Dadhkan By Rania Mehar
کیا بات ہے بڑی ہنسی نکل رہی ہے تمہاری ۔۔۔
ہاشم نے مسکان کو اپنے حصار میں لیتے مسکراتے ہوے پوچھا ۔۔۔
مسکان جو کھڑی ہنس رہی تھی ثانیہ اور محمل کی حرکت سوچ رہی تھی ۔۔۔
ہاشم کا لمس پاتے چپ ہوئ ۔۔
وہ کچھ نہیں چھوڑے مجھے ۔۔
مسکان نے گھبراتے ہوے کہا ۔۔۔۔
میرا پاس آنا تمہیں برا لگتا ہے کیا مسکان ۔۔
ہاشم نے اداس ہوتے کہا ۔۔
ارے میرا کیوٹ شوہر مجھے نیند آ رہی تھی تبھی کہا ۔۔۔
مسکان ہاشم کے گال کیھچتے ہوے کہا ۔۔۔
پھر ٹھیک ہے میں سمج۔۔۔۔
اس سے پہلے ہاشم کچھ کہتا جب مسکان اس کے گال پر کس کرتے بیڈ کی طرف بھاگ چکی تھی ۔۔۔
رکو یار یہاں بھی کس کرو پھر سونا ۔۔۔
ہاشم خوش ہوتا مسکان کے پاس جاتا لبوں کی طرف اشارہ کرتا بولا ۔۔۔
سو جاۓ ورنہ سر کو بلا لو گی میں ۔۔۔
مسکان نے مسکراہٹ دباتے ہاشم کو دمھکی دی جس میں کامیاب بھی ہوئ ۔۔۔
ظالم بیوی ۔۔
ہاشم مسکان کو گلے لگاتے منہ بناتے بولا ۔۔۔
آپ کی ہی ہو اب میں
مسکان ہاشم کی گردن میں اپنی بازو حائل کرتی بولی ۔۔۔۔
————————————————————
اس روم کی طرف کیوں جا رہی ہو تم ۔۔۔
داٶد محمل کے پیچے کھڑا غصہ سے غراتے بولا ۔۔۔
و۔م۔ی۔وہ میں
محمل نے سوچتے ہوے اٹک آٹک کر بولی ۔۔۔
کیا میں میں لگائ ہے بکری ہو کیا ۔۔۔
داٶد نے پاس جاتے مسکراہٹ روکتے کہا ۔۔۔
وہ جانتا تھا محمل اب اس سے دور بھاگتی ہے ۔۔۔
ہاں یاد آیا میں مسکان کے روم میں جا رہی تھی ۔۔
محمل نے جلدی سے بہانہ بناتے وہاں سے بھاگ گی تھی ۔۔۔
ہاہاہا ڈرامہ کوئین بھاگ گی ۔۔۔
میں نہیں چاہتا تم کبھی بھی اس روم میں آو ۔۔۔
اچانک داٶد نے سرد لہجے میں اپنے آپ سے کہا ۔۔۔
وہ ریڈ روم کی طرف جا رہی تھی جب داٶد نے اسے روکا ۔۔۔۔
————————————————————
یہ لو مسکان کھاٶ خبردار اب تم نے منع کیا تو ۔۔۔
ہاشم نے مسکان کو فروٹ کھانے کو دیتے زرا سختی سے کہا ۔۔۔
نہیں میں نہیں کھا رہی میرا دل خراب ہوتا ہے جیسے الٹی آ جاے گی ۔۔۔
مسکان نے منہ بناتے ہوے کہا ۔۔۔
ایسی حالت میں ہوتا ہے کھانا تو پڑے گا ورنہ ہمارا بے بی کو نقصان ہو گا ۔۔۔
ہاشم نے مسکان کے منہ میں سیب کا ٹکڑا رکھتے بہلاتے ہوے کہا ۔۔۔
نہیں مجھے کافی پینی ہے اب ۔۔۔
مسکان نے جان بوجھ کر جوس دیکھتے کافی کی فرمائش کی ۔۔
لو یہ کافی بھی پڑی ہے میری جان نے جو بھی کھانا سب حاضر ہے۔۔۔۔
ہاشم اس کی شرارت سمجھتا ہوا مسکرا کر بولا ۔۔۔۔
می۔۔۔
آے ڈاکٹر چیک اپ کرے بچے کا ۔۔۔۔
اس سے پہلے مسکان کچھ کہتی جب داٶد روم میں داخل ہوتا ڈاکٹر کو لاتا بولا ۔۔۔۔۔
کس چیز کی بے چینی ہے تمہیں جلاد وہ ٹھیک ہے ۔۔۔
ہاشم نے داٶد کے پاس جاتے دانت پیستے ہوے کہا ۔۔۔۔
بکواس کم کیا کرو میں اس لیے خیال نہیں رکھ رہا تمہاری بیوی کہ وہ میری چندہ ہے بلکہ اس لیے یہ سب کر رہا ہو وہ لڑکی ہے ۔۔۔
پہلی دفعہ ایسے مرحلے سے گزار رہی ہے ۔۔۔
شوہر ہو اس کے خیال رکھو یہاں سے تم لوگ باہر بھی نہیں جاسکتے تبھی یہ سب کر رہا ہو ۔۔۔
اب خودی دیکھنا سب چلتا ہو میں ۔۔۔
داٶد نے غصہ سے کہتے وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
جلاد رک یار سوری میں وہ ۔۔۔
ہاشم بات سننے کے بعد شرمندہ ہوتا اسے پکار رہا تھا ۔۔
جب داٶد ان سنی کرتا چلا گیا تھا ۔۔۔۔
اب مسکان غصے سے گھورتی ہاشم کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
مسٹر ہاشم آپ اپنی بیوی کا خیال نہیں رکھ رہے ان کی ڈائٹ کا خیال رکھے کافی ویک ہے یہ ۔۔
بی پی بھی لو ہوا ہے اگر میں اس وقت نہ آتی تو آپ کی بیوی بے ہوش ہوجاتی جو کہ بچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ۔۔۔۔
لیڈی ڈاکٹر چیک اپ کے بعد برہمی لے تفصیل سے بولی ۔۔۔۔
جی میں خیال رکھو گا ۔۔۔
ہاشم نے شرمندہ ہوتے جواب دیا ۔۔۔
———————————————————–
م۔۔۔
جاۓ یہاں سے میں بات نہیں کرتی آپ نے بلاوجہ سر کو باتیں سنائ ۔۔
اس سے پہلے ہاشم کوئ بات کرتا جب مسکان برہمی لے بولی ۔۔۔
یار میں نے کچھ غلط تو نہیں کہا تھا ۔۔۔
وہ تمہیں اپنی چندہ مانتا ہے اگر تم وہ نہ ہوئ اس کا دل بہت دکھے گا ۔۔۔
ہاشم نے اداس ہوتے کہا ۔۔۔
میں لڑکی ہو تبھی وہ ایسے کرتے ہے ۔۔
کیا ثانیہ بھی چندہ ہے ان کی بلکل نہیں وہ اس کا بھی خیال رکھتے ہے ۔۔۔
آپ اور ارتضٰی دونوں مصروف ہوتے ہے ۔
اگر ہمارا خیال رکھتے ہے تو سر سارا دن وہ بزی ہونے کے باجود ہمارے ساتھ رہتے ہے ۔۔۔۔
پورے سیف ہاٶس میں انھوں نے سوفٹ قالین بچھاۓ ہے ۔۔۔
تاکہ ہم دونوں گر نہ جاۓ ۔۔
اگر گر بھی گی تو ہیمں کوئ نقصان نہ ہو
سارا دن وہ چپ بیٹھے میری شرارتیں برداشت کرتے ہے ۔۔
اور آپ نے سر کو کیا کہا ۔۔۔
مجھے بہت دکھ ہے اس بات کا جاۓ میں بات نہیں کرتی ۔۔۔
مسکان آنکھوں میں آنسو لاتے ہوے بولی ۔۔۔
اچھا یار میں سوری کر لو گا ۔۔
تم رونا تو بند۔۔۔۔
جاۓ یہاں سے ورنہ میں چلی جاٶ گی ۔۔۔
مسکان اس کی بات کاٹتے غصہ سے چلاتی بولی ۔۔۔
ہاشم خاموشی سے منہ لے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔
————————————————————
کیا ہوا ارتضٰی تو کیوں پریشان کھڑا ہے ۔۔۔
شام کو جب ہاشم بیسمنٹ روم میں آیا تو پریشان کھڑے ارتضٰی سے پوچھا ۔۔۔۔
تو نے کچھ کہا ہے جلاد کو کچھ دیکھ ایچ ایم میں نے پہلے بھی کہا تھا۔۔۔
جو میرے جلاد کو برا بولے گا میں اس کی جان لے لو گا ۔۔۔۔
ارتضٰی نے غصہ سے ہاشم کی گردن دبوچتے ہوے کہا ۔۔۔۔
چھوڑ مجھے ہوا کیا ہے ۔۔
ہاں غلطی سے بولا میں تبھی ہمت جمع کرتے سوری کرنے آیا ہو ۔۔۔
ہاشم نے بھی طش کے عالم میں آتے کہا ۔۔۔۔
واہ کیا بات ہے تیری اب سوری کرنے آیا ہے ۔۔۔
تو جانتا ہے وہ جلاد درد میں ہے پتہ ہے ریڈ روم میں گیا ہے وہ اور تو اچھے سے جانتا ہے وہاں کیا کرتا ہے وہ ۔۔۔
کیوں کیا تو نے ایسے بتا مجھے تیری وجہ سے درد میں ہے وہ ۔۔۔
وہ تڑپ رہا ہے اندر میں اتنا بے بس ہو چکا ہو کہ اسے مل بھی نہیں سکتا۔۔۔
انکل بھی یہاں نہیں جو اسے ہنیڈل کر لے گے ۔۔۔
ارتضٰی ہاشم کے گلے لگے اداس ہوتے کہا ۔۔۔
ریلکس ارتضٰی ہم جانتے ہے نہ وہ کون ہے دوست کے ساتھ باس ہے ہمارا تو کیسے کمزور ہو سکتا ہے ۔۔۔
اسے چھوڑ اس کے حال پر دیکھنا ٹھیک ہو جاۓ گا ۔۔۔
ہاشم نے تسلی دیتے کہا ۔۔۔
تو جانتا ہے آج کیا دن ہے وہ ہر سال اپنے درد کو تازہ کرتا ہے ۔۔
اتنا تڑپتا ہے اپنے درد کو تازہ کر کے تو کہتا ہے میں چھوڑ دو اسے ۔۔۔
ارتضٰی نے غصہ میں آتے کہا ۔۔۔
میں سب جانتا ہو تو چل میرے ساتھ تیری طیبعت خراب ہوئ تو یہ جلاد مجھے نہیں چھوڑے گا ۔۔۔
ہاشم ارتضٰی کو بیسمنٹ سے باہر لے کر جاتے ہوے بولا ۔۔۔
————————————————————
کہاں لے کر آے ہے مجھے ہاشم ۔۔
مسکان نے اپنی بند کی آنکھوں سے ہاشم سے پوچھا جو اسے اپنے ساتھ ٹیرس پر لایا تھا ۔۔۔
مجھے اجازت دو آج کی رات صرف ہم دونوں کی ہو گی ۔۔۔
کوئ ہمارے درمیان نہیں ہونا چاہے ۔۔۔
ہاشم مسکان کی بند کی آنکھوں کو چومتے ہوے بولا ۔۔۔
ہمممم ۔۔
مسکان نے حامی بھری ۔۔۔
ہاےےےےے اتنا خوبصورت یہ کیوں کیا آپ نے ۔۔
مسکان نے جب آنکھوں کو کھولا تو سامنے کا منظر دیکھ کر حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔
پورے ٹیرس کو بیلو اینڈ پنک بالونز سے سجایا گیا تھا ۔۔۔۔
سامنے سنٹر میں ایک خوبصورت جھولا گلاب کے ساتھ سجایا گیا تھا ۔۔۔
ہپی برتھ ڈے میری جان ۔۔
ہاشم مسکان کے ماتھے کو چومتے ہوے مسکراتے ہوے بولا ۔۔۔
ہاےےےے آپ کو یاد تھا کیا ۔۔۔
مسکان نے خوشی سے چکہتے ہوے ہاشم کے گلے لگی بولی ۔۔۔
اف کورس جان میں کیوں بھولنے والا یاد ہے کیسے میں تمہاری برتھ ڈے انجواۓ کرتا تھا ۔۔۔
ہاشم مسکان کا ہاتھ پکڑتے ہوے جاتے کہا ۔۔۔
شکریہ میں بہت خوش ہوئ سچی ۔۔۔
مسکان نے کیک کاٹ کرتے مسکراتے ہوے کہا ۔۔
ایسی سوکھا شکریہ نہیں چاہے کچھ میٹھا بھی ہونا چاہے نہ ۔۔۔
ہاشم مسکان کے لبوں پر کیک لگاتے بہکے ہوۓ انداز سے کہا ۔۔۔
کچھ شرم کر لے باپ بننے والے ہے اور یہ سب ۔۔
مسکان نے گھبراتے ہوے اھودری بات چھوڑتے ہوے کہا ۔۔۔
ہاہاہااہاہاا شرم کرتا تو آج باپ نہ بنتا خیر آج کی رات میری ہے سو تم بس چپ رہو ۔۔۔
ہاشم مسکان کے لبوں کو اپنی قید میں لیتے بولا ۔۔۔
ہا۔ش۔م۔
ہاشم کوئ آ جاے گا ۔۔۔
پہلی دفعہ مسکان گھبراتے ہوے ہاشم کو دور کرتی بولی ۔۔۔
کوئ نہیں آتا سب اپنے رومز میں ہے ۔۔
ہاشم مسکان کی حالت انجواۓ کرتے کہا ۔۔۔
تمہیں پتہ میں بچپن سے تمہاری محبت میں گرفتار تھا جانتی ہو نہ ہر وقت ہم ساتھ رہتے تھے ۔۔۔
ہاشم مسکان کی گود میں سر رکھتے چہکتے ہوے بولا ۔۔۔
ہاں اور پتہ اس لڑکے ہو ہم نے کیسے مل کر مارا تھا ۔۔۔
ہاے میں تو بازو ہی توڑ دیا تھا اس کا ۔۔۔
مسکان اپنے بچپن کے دن یاد کرتی مسکراتے ہوے بولی ۔۔۔
یار بہت برا مارا تھا تم نے حالانکہ وہ بچارے نے بس مجھے مارا تھا ۔۔۔
ہاشم نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔
آپ تب ڈرپوک تھے تبھی مار کھا کر آ گے تھے ۔۔۔
میرے ہے آپ صرف میرے آپ کو میں مار سکتی ہو بس ۔۔
مسکان ہاشم کی گردن میں بازو حائل کرتے شرماتے ہوے بولی ۔۔۔۔
ہاے مار تو دیا ہے تم نے مجھے شروع سے اب تو ہم بس پیار کرے گے ۔۔۔
ہاشم مسکان کو اپنے بے حد قریب کرتے اس کی شہ رگ پر لب رکھتے بولا ۔۔۔
————————————————————
ہاشم آپ رو رہے کیا ۔۔۔
مسکان اپنی گردن پر گیلاپن محسوس کرتے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔۔
میں معافی کے قابل تو نہیں ہو پھر بھی معافی مانگتا ہو ۔۔۔
ہاشم نے روتے ہوے ہاتھ جوڑتے ہوے کہا ۔۔۔
نہی۔۔۔۔
مجھے بولے دو میرے دل کا بوجھ کم ہو جاۓ آج ۔۔۔
ہاشم مسکان کے لب پر انگلی رکھتے بولا ۔۔۔
میری محبت تھی تم لیکن جب بابا کی باتیں سنی تو میری محبت کے آگے نفرت آ گی ۔۔
وہ نفرت جو مجھے تم سے تھی ۔۔
پھر اتنی نفرت ہوئ کہ تم کو ویسا سمجھنے لگا ۔۔
لیکن یہ دل پھر بھی مانے کو تیار نہیں رہتا تھا ۔۔۔
میں جانتا تھا تم ایسی نہیں لیکن دماغ یہ سوچنے نہ دیتا ۔۔۔
اس دن جو کچھ بھی ہوا میرا سارا قصور تھا ۔۔۔
مجھے اپنے آپ پر کنٹرول رکھنا چاہے تھا ۔۔۔
پر ایسا نہ ہوا ۔۔
اپنی غلطی مانے کی بجاے میں نے تب بھی سارا الزام تم پر ڈال دیا یہ سوچے سمجھے بنا ہی کہ تم کتنے درد میں تھی ۔۔
کیا کوئ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ یہ سب کرتا ہے ۔۔۔
جو میں نے کیا ۔۔۔
میں ان سب کی معافی مانگتا ہو ۔۔۔
ہاشم مسکان کے پاٶں پکڑتے روتے ہوے بولا ۔۔۔
نہیں یہ کیا میں بہت پہلے معاف کر چکی تھی آپ کو جب یہ پتہ چلا میں ماں بننے والی ہو ۔۔
نہیں یار جو بھی ہوا اس دن واقعی غلط تھا ۔۔۔
تم کتنی اچھی ہو مجھے معاف کر دیا ۔۔۔
ان تین ماہ میں مجھے احساس ہوا تم میرے لیے کیا ہو ۔۔
روز تڑپتا تھا کہ کیوں تمہیں یہ سب الفاظ کہے ۔۔
معافی تو بہت چھوٹی چیز ہے ۔۔۔
ہاشم مسکان کا چہرہ ہاتھوں میں لیتے بولا ۔۔۔
چپ کر جاۓ پلیز کیا ہم نے یہ سب باتیں کرنی ہے چلے میرا گفٹ دے ۔۔
مسکان ہاشم کا ماتھا چومتے مسکراتے ہوے بات بدل گی ۔۔۔
ہاں جان ضرور یہ رہا گفٹ ۔۔
ہاشم نے مسکان کو ایچ ایم نیم کا گولڈ کا بریسلٹ پہناتے ہوے کہا ۔۔۔۔
آپ ۔ای۔
نہیں وہ جو سر کے ساتھ ہوتا ہے جس کا ذکر میں نے سنا ہے ۔۔
مسکان ایچ ایم نیم دیکھتی ہکلاتے ہوے بولی ۔۔۔
ہاں میں ایچ ایم ہو بلکہ اپنے بارے میں سب کچھ بتانا چاہتا ہو ۔۔۔
تاکہ ہم آگے جا کر اپنی زندگی کی سہی شروعات کر سکے ۔۔۔
ہاشم سوچ سمجھ کر بول رہا تھا ۔۔۔
کیییییییاااااا ۔۔۔
مطلب آپ سب کا یہ کام ہے اس دن وہ کوٹھے پر جو مجھے روم میں لے کر گیا تھا وہ آپ تھے ۔۔۔
ہاشم کی ساری بات سنتے مسکان شوک میں بولی ۔۔۔
ہاں یار ہمارا کام ایسا ہے تو روپ بدلن۔۔۔
ہاےےےےےے میں کتنی خوش ہو سچی مجھے فخر ہے آپ پر بہتتتتت اچھے ہے آپ ۔۔۔
ہاشم کی بات پوری ہونے سے پہلے مسکان اس کے گال چومتی چہکتے ہوے بولی ۔۔۔
اتنی خوشی بیوی اگر پہلے پتہ ہوتا تم کس کرو گی کب کا بتا چکا ہوتا میں ۔۔۔
ہاشم اس پر گرفت تنگ کرتا مسکراتے ہوے بولا ۔۔۔
اچھا میری سنے زرا مجھے نہ ایک خواب آتا ہے جہاں صرف نیلی آنکھیں دیکھتی ہے مجھے ۔۔
مسکان نے پریشان ہوتے کہا ۔۔
وہ جب سے یہاں سیف ہاٶس آی تھی تب سے اسے یہ خواب آ رہا تھا ۔۔۔
مطلب تمہیں سب یاد آ رہا ہے ۔۔
اچھی بات ہے تم سب یاد کر لو جان مجھے خوشی ہوی ۔۔
ہاشم مسکان کا ماتھا چومتے ہوے بولا ۔۔۔
پھر مجھے اپنا بھاہیٶ بھی یاد آ جاے گا ہاشم ۔۔
مسکان خوش ہوتے پوچھا ۔۔۔
ہممممم۔۔۔
ہاشم اس کی بات پر بنا کوئ توجہ دے اس کے کندھے پر لب رکھے ۔۔۔۔
میں پھر اپنے بھاہیٶ کے پاس رہو گی بس مجھے یاد آ جاۓ ۔۔
مسکان نے ہاشم کو دور کرتے چکہتے ہوے کہا ۔۔۔
ہاں بس وہ بھاہیٶ تمہارا جلاد نہ ہو سچی ورنہ میں نہیں بچو گا ۔۔۔
ہاشم دوبارہ اپنے لب اس کے کندھے پر رکھتا بولا ۔۔۔
کیا ہے میں بات کر رہی آپ سن بھی نہیں رہے ۔۔
مسکان نے گھبراتے ہوے ہاشم کو دور کرتے کہا ۔۔۔
چھوڑو اپنے بھاہیٶ کو یہ ہمارا ٹائم ہے ۔۔
تم مجھے اجازت دو اپنے قریب آنے کی مسکان ۔۔
ہاشم نے شہ رگ پر لب رکھتے کہا ۔۔۔۔
ل۔
اجازت میں پھر تمہارے قریب آٶ گا ۔۔
ہاشم نے بات کاٹتے ہوے کہا ۔۔
ہممممم۔۔
مسکان نے حامی بھرتے اپنی آنکھوں کو بند کر لیا تھا ۔۔۔
شکریہ میری جان میں وعدہ کرتا ہو کبھی کوئ دکھ نہیں دو گا تمہیں ۔۔
ہاشم نے خوش ہوتے اپنے لب مسکان کے لبوں پر رکھتے ہوے کہا ۔۔۔
وہ مزاحمت کیے بنا ہاشم کا لمس محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
ہ۔ش۔
م۔
نہ۔
پلیز۔
ہاشم نہیں پلیز ۔۔۔
مسکان جو اپنی آنکھوں کو بند کیے لیٹی تھی جب ہاشم کے لب اپنے دل کے مقام پر محسوس ہوتے تڑپتے ہوے کہا ۔۔۔
ریلکس جان میں کچھ نہیں ہونے دو گا ۔۔
ہاشم جانتا تھا وہ کیوں گھبرا رہی تھی تبھی اس کا ماتھا چومتے ہوے سکون سے کہا ۔۔۔۔
پوری رات مسکان کو اس کے عمل سے شدت محسوس ہوی تھی ۔۔
وہ جان گی تھی ہاشم کے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے ۔۔
جیسے رات آہستہ آہستہ گزر رہی تھی ویسے ہی دونوں ایک دوسرے میں مدہوش ہو رہے تھے ۔۔
————————————————————
آہہیہہہہہہ آہہہہہہہہ۔۔۔
نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا اففففف میرا دل یہ کیسا خواب تھا ۔۔۔
اور مسٹر کھڑوس بھی پتہ نہیں کدھر ہے ۔۔۔
ہاےےےےے وہ خون کس کا ہو گا جو
خواب میں دیکھا میں نے ۔۔۔
محمل اپنے روم میں سو رہی تھی جب اس نے خواب دیکھا ۔۔۔
خواب میں وہ ایک ایسی جگہ کھڑی تھی جہاں ہر طرف خون ہی خون تھا ۔۔۔
تبھی ڈرتے ہوے چیخ پڑی ۔۔۔
اب سوچتے گھبراتے ہوے پیسنہ صاف کر رہی تھی ۔۔۔۔
مجھے مسٹر کھڑوس کے پاس جانا ہے ہاے پتہ نہیں کدھر ہے ۔۔۔
میں کیسے ڈھونڈو اسے اتنے بڑے سیف ہاٶس سے ۔۔۔
محمل اپنا نائٹ سوٹ صیح کرتی روم سے جاتے بولی ۔۔۔۔
جیسے جیسے وہ باہر جا رہی تھی اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے ہر جگہ خون ہی خون ہو ۔۔
