172.3K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 23)

Dadhkan By Rania Mehar

ک۔کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے ۔۔۔

محمل جو اپنے پیٹ پر بچھو کو رینگتا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔۔

جب اچانک اسی جگہ پر اسے داٶد کے لبوں کا لمس محسوس ہوتے ہکلاتے ہوے بولی ۔۔۔

جان سزا ہے تمہاری ۔۔

داٶد نے دوبارہ اپنے لب اس کے پیٹ کے اوپر رکھتے بہکے ہوۓ انداز سے کہا ۔۔

ک۔کیسی سزا ہے یہ جہاں یہ بکواس کام ہوتا ہو ۔۔

محمل نے ڈرتے ہوے کہا ۔۔۔

تم کیا سمجھی تھی میں تم پر تشدد کرو گا مارو گا بلکل نہیں تمہاری سزا میری یہ قربت ہو گی سویٹ ہارٹ کیونکہ میں جانتا ہو ۔۔

میرے قریب آنے سے تمہاری کیا حالت ہوتی ہے ۔۔

داٶد نے اپنے لب محمل کے گال پر رکھتے سرد لہجے سے کہا ۔۔۔

یہ بچھو سانپ والی سزا بہت کم تھی جان لیکن یہ والی سزا تم ساری عمر یاد رکھو گی ۔۔

کہ تم صرف میری ہو صرف داٶد میر کی تمہارے قریب تمہیں چھونے کا حق صرف مجھے ہے ۔۔

داٶد نے اپنے لب جنونی انداز سے محمل کی شہ رگ پر رکھتے کہا ۔۔۔

وہ بھول چکا تھا غصہ سے اپنی محبت کا اظہار کر چکا تھا ۔۔۔

می۔میرے بازو پین کر رہے ہے ۔۔۔

محمل نے داٶد کو اس کے کام میں مصروف دیکھتے روتے ہوے کہا ۔۔۔

شششش سویٹ ہارٹ کیوں پین ہو رہا ہے میں ہو نہ اور یہ آنسو کیوں میں نے سنا تم بہادر ہو ۔۔

داٶد نے محمل کے بازو کھولتے ان کو چومتے جنونی انداز سے کہا ۔۔۔

م۔معاف کر دو مجھے آپ میں کبھی ایسا نہیں کرو گی یہ قربت میری سانس لے ۔۔۔۔۔۔

محمل جو داٶد کو روتے ہوے پیچھے کرتی بول رہی تھی ۔۔

جب داٶد نے اپنے لب اس کے لبوں کے اوپر رکھتے چپ کروا دیا تھا ۔۔۔

محمل کو آج اس کے عمل میں شدت جنون محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔

اس کا جنون محسوس کرتے محمل کو یقین ہو چکا تھا اس نے کتنی بڑی غلطی کی تھی جا کر ۔۔۔

اتنا پین نہیں ہوا ہو گا تمہیں جیتنا مجھے ہوا تھا یہ خون بہت کم آیا تمہارے لبوں سے میں چاہتا تو اس سے بھی زیادہ سزا دے سکتا تھا ۔۔

اب امید ہے تم کوئ ایسا کام نہیں کرو گی سویٹ ہارٹ ۔۔

داٶد نے محمل کی سانسوں کو آزاد کرتے اسے کے لبوں سے نکتا خون اپنے ہاتھ سے صاف کرتے بہکے ہوے انداز سے کہا ۔۔۔

محمل بلکل خاموش ہو چکی تھی ۔۔۔

شوہر ہو تمہارا چاہتا تو ابھی اپنا حق لیتا پر میں نہیں چاہتا میں تمہارے اتنے قریب آو کہ تم صرف اذیت محسوس کرو ۔۔

بس یہ یاد رکھنا میری ہو صرف میری اور میں تمہاری اجازت سے ہی قریب آنا چاہتا ہو ۔۔

داٶد نے محمل کو باہوں میں بھرتے واش روم لے کر جاتے ہوے سرد انداز سے کہا ۔۔۔

چلو کپڑے چیج کرو ورنہ کوئ گستاخی ہو جاے گی مجھے سے ۔۔

داٶد نے محمل کو شاور کے نیچے کھڑے کرتے کہتا باہر چلا گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

ا۔رتضٰی آپ ہے۔۔۔

ثانیہ جو نیند کی گولی کھاے گہری نیند میں سو رہی تھی ۔۔

جب اسے اپنی گردن پر لمس محسوس ہوے آنکھوں کو بند کیے بولی ۔۔

جبکہ ارتضٰی اس کے اوپر جھکا اپنی پیاس کو بجھا رہا تھا ۔۔۔

سوری جان میری وجہ سے تم اتنے درد میں رہی ۔۔

مجھے پتہ ہوتا میں کبھی بھی تم سے دور نہ جاتا لیکن شکر ہے وہ جلاد تم سب کو یہاں لے آیا ۔۔۔

ارتضٰی نے افسردہ ہوتے کہا ۔۔۔

اچھا چھوڑو اس بات کو تم سو جاٶ مجھے پتہ تم تب تک نہیں سو گی جب میں پاس نہ آ جاٶ ۔۔

ارتضٰی نے ثانیہ کے پاس لیٹتے ہوے کہا جو اپنی آنکھوں کو بند کیے روتے ہوے اس کا لمس محسوس کر رہی تھی ۔۔

میں ڈر گی تھی میں سمجھی آپ بھی مجھے چھوڑ دے گے ۔۔۔

ثانیہ نے ارتضٰی کے سینے پر سر رکھتے روتے ہوے کہا ۔۔۔

شششش میری جان باقی باتیں صبح کرے گے سو جاٶ ۔۔

ارتضٰی نے اسے چپ کرواتے ہوے کہا ۔۔۔

————————————————————

مسکان میری جان یہ دودھ پی لو دیکھو ٹھنڈا ہے منع مت کرو ۔۔۔

ہاشم نے مسکان کو ناشتے میں دودھ کا گلاس دیتے بہلاتے ہوے کہا ۔۔

جبکہ مسکان منہ کے عجیب غریب زاویے بنا رہی تھی ۔۔

اسے نیم گرم دودھ کا کپ دو پاگل انسان یہ ایسے نہیں پے گی ۔۔

داٶد نے ٹیبل پر آتے ہوے کہا ۔۔

جبکہ ہاشم کا منہ حیرت سے کھول چکا تھا ۔۔۔

کی۔کیا مطلب تمہارا بیوی ہے میری تم اپنے کام سے کام رکھ ۔۔

ہاشم نے منہ بناتے ہوے کہا ۔۔

چل ہٹ یہاں سے آیا بڑا شوہر ۔۔

ارتضٰی نے بھی اپنی انٹری مارتے جلانے والا انداز سے کہا ۔۔۔

تو کدھر سے زندہ ہو گیا ہے ۔۔

میں سمجھا تم مر گے ہو گے ۔۔

ہاشم خوشی سے گلے ملتے مسکرا کر بولا ۔۔۔

جبکہ محمل ثانیہ مسکان ان تینوں کی باتیں سن کر مسکرا رہی تھی ۔۔۔

تم تو چاہتے ہو میں مر جاٶ اپنے بچے بھی نہ دیکھ سکو میں ۔۔۔

ارتضٰییییییییی ۔۔۔

ارتضٰی نے مذاق سے بات کی تھی جب داٶد غصہ سے چلاتے ہوے بولا ۔۔

سو۔سوری جلاد میں بھول گیا تھا ۔۔۔

ارتضٰی نے جب سب کے شوک والے چہرے دیکھے تب اسے احساس ہوا کیا غلط بول دیا ہے ۔۔۔

آو میرے ساتھ میں تمہیں موت دیتا ہو ۔۔۔

داٶد نے اپنی شرٹ کے کف موڑتے دانت پیستے ہوۓ کہا ۔۔۔

نہ۔نہیں ثانی پلیز جلاد کو رک لو میں کچھ نہیں کہتا اب پکا ۔۔۔

ارتضٰی نے ڈرتے ہوے ثانیہ کی منت کی ۔۔۔

آپ لے جاے انہیں سر اچھے سے مارے انہیں ۔۔۔

ثانیہ نے منہ موڑتے ہوے داٶد کو اجازت دیتے کہا ۔۔۔

نہیں میں بچ گیا تو دیکھا سب سے پہلے تیرے دانت توڑو گا میں ایچ ایم کے بچےےےےےےے۔۔۔

داٶد ارتضٰی کو گھسیٹے ہوے اپنے ساتھ بیسمنٹ لے کر جا رہا تھا جبکہ اس کی حالت دیکھتے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے ۔۔۔

تبھی ارتضٰی دانت پیستے بولا ۔۔۔

دیکھ جلاد میری عزت کا جنازہ کیوں نکال رہا ہے ۔۔

میں کہہ تو رہا نہیں بکواس کرتا میں ۔۔

ارتضٰی نے زمین پر لیٹے اپنی ٹانگ چھڑواتے ہوے داٶد سے کہا جو سکون سے چلتا اسے گھسیٹ کر لے کر جا رہا تھا ۔۔۔

————————————————————

آہہہہہہہ آہہہہہ ہاے میں مر گیا ہاے میری کمر ۔۔۔

ارتضٰی بیڈ پر الٹا لیٹا درر سے چیخ رہا تھا ۔۔۔

ثانیہ پاس بیٹھی اپنی ہنسی کنٹرول کر رہی تھی ۔۔۔

کیونکہ ارتضٰی کو کچھ نہیں ہوا تھا ۔۔۔

ہاہایاہااہاہاہاہا بس کرے سچی کیوں چلا رہے ہے ۔۔۔

اچھے بھلے تو ہے ۔۔۔

ثانیہ سے جب کنٹرول نہ ہوا تھا ہنستے ہوے بول پڑی ۔۔۔

کیسی بیوی یار شوہر درد میں ہے تم بجاۓ کس کرنے کے رومینس کرنے کے تم ہنس رہی ہو ۔۔۔

ارتضٰی نے کروٹ لیتے ثانیہ کو اپنے اوپر گراتے ہوے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

کہاں درد ہو رہا ہے سر نے تو مارا ہی نہیں آپ کو ڈرامہ کر رہے ہے ۔۔۔

ثانیہ نے مسکراتے ہوے جواب دیا ۔۔۔

ہاے بیوی چوٹ اندرونی لگی ہے ۔۔۔

ڈاکٹر نے کہا تھا ۔۔۔

بیوی کس کرے گی تو ہی ٹھیک ہو پاٶ گے ۔۔۔

ارتضٰی نے ثانیہ پر گرفت تنگ کرتے کہا ۔۔۔

سچی ڈرامہ ہے پورے کس کرنے سے کون ٹھیک ہوتا ہے ۔۔۔

ثانیہ نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

اچھا واقعی چوٹ لگی ہے کیا ۔۔۔

ایکدم ثانیہ نے پریشان ہوتے پوچھا ۔۔۔

جبکہ ارتضٰی خاموشی سے اسے دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔

نہیں یار وہ جلاد مجھے کبھی نہیں مارتا یہ سب اسے تنگ کرنے کے لیے کرتا ہو ۔۔۔

پتہ باپ بن کر پالا ہے اس نے ہمیشہ کبھی کچھ نہیں کہتا میری ہر شرارت پر مسکراتا ہے وہ جلاد ۔۔۔

بس یہی دعا ہے وہ اپنی زندگی میں خوش رہے اور اس کی چندہ بھی مل جاۓ ۔۔۔

بہت دکھ دیکھے ہے اس نے میں نے کبھی نہیں دیکھا وہ خود کے لیے پریشان ہو ۔۔۔

سب کی فکر کرتا ہے ۔۔۔

تمہیں پتہ ثانی داٶد کی جان خطرے میں ہے ۔۔

کبھی بھی اسے موت اپنے گھیرے میں لے سکتی ہے ۔۔

وہ جانتا ہے اسے دھمکی بھی ملی ہے لیکن اسے زرا احساس نہیں ہے ۔۔۔

اپنی جان بچانے کی بجاے ہم سب کو یہاں لے آیا ہے ۔۔۔

اگر اب اسے کچھ ہوا تو میں کیسے رہ پاٶ گا ۔۔

اس کے بنا ثانی ۔۔۔

ارتضٰی اچانک سنجیدہ ہوتے روتے ہوے بولا ۔۔۔

ک۔کیا مطلب سر ۔۔۔

ثانیہ شوک کی حالت میں اھودری بات کہتی چپ ہوئ ۔۔

مطلب یہ موت اس کے بے حد قریب ہے ثانی ہم سب نے بہت کوشش کی جلاد کو باہر مت جانے دے پر وہ نہیں مانتا ۔۔۔

ارتضٰی نے دکھ بھرے انداز سے کہا ۔۔۔

جو سب کی حفاظت کرتا ہے اللہٌ اس کی حفاظت کرتا ہے آپ فکر نہ کرے سر کو کچھ نہیں ہو گا حوصلہ رکھے ۔۔۔

ثانیہ نے ارتضٰی کے آنسو صاف کرتے اس کی آنکھوں کو چومتے ہوے کہا ۔۔۔۔

إن شاءالله ایسا ہی ہو گا ورنہ جلاد کو کچھ ہوا تو ہم سب کیسے رہے گے اس کے بنا ۔۔۔

ارتضٰی ثانیہ کو گلے لگاتے بولا ۔۔۔

————————————————————

کیا ہوا محمل تم بڑی خاموش ہو ۔۔

مسکان نے چپ بیٹھی محمل سے پوچھا جو صبح سے خاموش تھی ۔۔۔

ارے یار سمجھا کرو نہ سر صبح سے باہر نکلے ہوے ہے ہماری چھوٹی بھابھی اداس ہے ۔۔۔

ثانیہ نے محمل کو تنگ کرتے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

ہاہایا لیکن پہلی دفعہ ہوا مس محمل چپ ہے ارے اب تو تمہارا ڈی ایم بھی ہے زیادہ خوش ہو اب یہ اداسی کیوں ہے تیرے چہرے پر ۔۔۔

مسکان نے بھی محمل کو تنگ کرتے کہا ۔۔۔

(توبہ ڈی ایم کو ایسا کام بھی کرنا آتا ہے پہلے پتہ ہوتا کبھی فین نہ بنتی اتنا بے شرم ڈی ایم شکر رات چھوڑ دیا مجھے )…

رات کا سین سوچتے محمل نے دل میں سوچا ۔۔۔

ارے بھابھی تو بلش کر رہی ہے ۔۔۔

ثانیہ محمل کا سرخ چہرہ دیکھتے بولی ۔۔۔

اسے چھوڑو اپنے مجنوں شوہر کا بتاٶ بچ گیا نہ وہ ۔۔۔

مسکان اب اپنی توپوں کا رخ ثانیہ کی طرف کرتی بولی ۔۔۔

ہاہاہاہا اب تم بولو میں تو جا رہی ۔۔۔

محمل ثانیہ کا گھبرا چہرہ دیکھتی وہاں سے جان بچاتی کہتی ہوی بھاگ چکی تھی ۔۔۔

ویسے ہاشم بھای سہی کہتے ہے تم بھی سر جیسی ہو ایک منٹ بھی کسی کو سکون میں رہنے نہیں دیتی ہو ۔۔۔

ثانیہ بھی شرماتے ہوے کہتی بھاگ گی تھی ۔۔۔

ہاہاہاہا کاش ہم واقعی بہن بھای ہوتے اب کہا

ں چلی گی ہے بھاگ کر یار میں بھی تو بیٹھی ہو نہ پاگل لڑکیاں ۔۔۔

مسکان دونوں کی حالت دیکھتے ہنستے ہوے اُونچی آواز سے بولی ۔۔۔

———————————————————–

اوپسسسسس سوری میں غلط روم میں آ گیا شاہد ۔۔۔

ارتضٰی اپنے روم میں آتے شوک والی حالت میں بولا ۔۔۔

پورے روم کو ریڈ گلاب سے سجایا گیا تھا ۔۔

ہر طرف کینڈلز جلتی اپنی خوشبو بکھر رہی تھی ۔۔۔

نہیں یہ ہمارا روم ہی ہے ۔۔۔

ثانیہ شرماتی گھبراتی ارتضٰی کے سامنے آتی بولی ۔۔۔

یہ تممممممم ہو خیریت بیوی میں خواب دیکھ رہا ہو ۔۔۔

ارتضٰی ثانیہ کو اپنی باہوں میں بھرتے مسکراتے ہوے بولا جو ریڈ نائٹی پہنے شرما کر کھڑی تھی ۔۔۔

نہ کرے ارتضٰی پہلے ہی گھبراہٹ ہو رہی ہے میں جلدی سے کپڑے چیج کر کے آی ۔۔۔

ثانیہ جلدی سے کہتی جاتے ہوے بولی ۔۔

وہ پچھتا رہی تھی کیوں مسکان کے کہنے ہر نائٹی پہنی تھی ۔۔۔

ارے یار اتنی پیاری لگ رہی ہو ۔۔

ویسے یہ سب کس خوشی میں آج تو برتھ ڈے بھی نہیں کسی کا ۔۔۔

ارتضٰی ثانیہ کے کندھے پر لب رکھتے بولا ۔۔۔

وہ۔ش۔شکریہ کہنے کے کیے کیا یہ سب میں نے ۔۔۔

ثانیہ نے ہمت جمع کرتے کہا ۔۔۔

جبکہ ارتضٰی اس کے جسم کی خوشبو میں مگن چومنے میں مصروف تھا ۔۔۔

میں آپ سے بات کر رہی ہو ۔۔

ثانیہ نے ارتضٰی کو تھوڑا دور کرتے کہا ۔۔

ہممممم بولو میں سن رہا ہو ۔۔

ارتضٰی نے ثانیہ کا گال سہلاتے ہوے کہا ۔۔۔

شکریہ مجھ سے پیار کرنے کے لیے ۔

شکریہ مجھے فیل کروانے کے لیے میں آپ کے لیے کیا اہمیت رکھتی ہو ۔۔

مجھے جسی لاوث یتیم جس کا کوئ آگے پیچھے نہیں آپ نے مجھے سہارا دیا ۔۔۔

ہاشم اور داٶد سر جیسے بھای ملے مجھے آپ کی وجہ سے ۔۔

مسکان محمل جیسی چھوٹی بہنیں ملی ۔۔

ماما ملی وہ ماں جس کے لمس کے لیے میں ترستی رہی ساری عمر ۔۔۔

شکریہ میری جان آپ کی وجہ سے مجھے یہ سارے رشتے ملے ۔۔

آپ نہ ہوتے تو کبھی مجھے احساس نہ ہوتا میں بھی کسی کے لیے اتنی اہمیت رکھتی ہو ۔۔

ثانیہ نے روتے ہوے ارتضٰی کا چہرہ ہاتھوں میں لیتے اس کے ایک ایک نقش کو چومتے عقیدت سے کہا ۔۔۔

شششش چپ میری جان شکریہ تو تمہارا تم آی میری زندگی میں اب یہ کون سا رومینس ہے جس میں تم روتی ہوئ چوم رہی ہو مجھے ۔۔۔

ارتضٰی نے چپ کرواتے بات بدلتے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

ثانیہ کا اظہارِ محبت سن کر اسے سکون حاصل ہوا تھا کہ اس نے ثانیہ کے ساتھ کوئ زبردستی نہیں کی تھی ۔۔۔

رومینس تو آپ کرے گے نہ مجھے شرم آتی ہے ۔۔۔

ثانیہ اس کی بات کا مطلب سمجھتے شرماتے ہوے اس کے گلے لگی بولی ۔۔۔

ہاہاہاہہاہاہہاہااا ۔۔

شرما بھی رہی ہو اور گلے بھی میرے لگی ہو ۔۔

واہ بیوی کیا کہنے آپ کے ۔۔

ارتضٰی ثانیہ کی حرکت پر مسکراتے اس پر گرفت تنگ کرتے بولا ۔۔

ثانیہ خاموشی سے سینے لگی ارتضٰی کی دھڑکنوں کو سن رہی تھی ۔۔۔

میری جان آج کے بعد میں نے تمہیں روتے دیکھا تو بہت مارو گا تمہیں سمجھی ۔۔۔

ارتضٰی نے ثانیہ کے لبوں پر اپنے لب رکھتے کہا ۔۔

دونوں ایک دوسرے میں مگن مدہوش ہوۓ پڑے تھے ۔۔۔

ثانیہ اپنے رب کا شکریہ ادا کر رہی تھی جیسے اتنی محبت کرنے والا شوہر ملا تھا ۔۔۔

————————————————————

سر ہمارا کام ہو جاۓ گا لیکن کیا یہ صیح ہے مطلب ڈی ایم کو سب جانتے ہے وہ کون نے ۔۔

آدمی نے گھبراتے ہوے اپنے سر کے سامنے پوچھا ۔۔۔

وہ نہیں جانتا میں کون ہو ۔۔

مافیا گینگ سے غداری کی ہے اس ڈی ایم کے بچے نے کیا سمجھا تھا وہ مجھے مات دے گا ۔۔۔

ہااااہہہاہاہاہااہا ۔

مات تو میں دو گا اسے جب جان سے جاۓ گا وہ ۔۔

مافیا گینگ کے ڈان نے شراب پیتے ہنستے ہوے کہا ۔۔

لیکن سر اسے تو کےکے ن۔۔۔

کےکے چاہے بعد میں مارے لیکن ہم پہلے مارے گے ۔۔

بڑا آیا سب کو بچانے والا پہلے خود تو بچ جاۓ ۔۔۔

سب کی جان کی دھڑکن بنا گھومتا ہے وہ مجھے اس کا وہ دل چاہے ۔۔

ڈان نے نفرت سے غراتے ہوے کہا ۔۔۔

لیکن سر یہ ناممکن ہے وہ ایچ ایم اےاے دونوں ساتھ ہوتے ہے اس کے اور ہم کیسے ۔۔۔

آدمی نے ڈرتے ہوے پھر کہا ۔۔۔

میں نے جو پلان بنایا ہے ہم وہی کرے گے بس کچھ دن اور رک جاتے ہے پھر جلد ہی ڈی ایم کا دل میرے سامنے ہو گا ۔۔

رہ گی اس کے ان چمچوں کی بات وہ بچارے ویسے ہی مر جاۓ گے اپنے ڈرپوک ڈی ایم کو مرتے دیکھ ۔۔

ہاہاہہاہااہاہایایاہا۔۔۔

ڈان شراب پیتا پاگل ہوتا ہنس کر بولا ۔۔

جبکہ آدمی سوچ میں پڑ چکا تھا ۔۔

ڈی ایم کو مارنا اتنا آسان بھی نہیں ہے جیتنا اس کا ڈان سمجھ رہا تھا ۔۔۔