172.3K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 22)

Dadhkan By Rania Mehar

یہ اتنے سارے گفٹ کون لے کر آیا ہے ۔۔

تم ماما کے ساتھ گی تھی کیا ۔۔۔

ہاشم نے روم میں آتے گفٹ دیکھتے حیران ہوتے مسکان سے پوچھا ۔۔۔

وہ یہ سر لے کر آے تھے ۔۔۔

وہ خوش تھے ۔۔

آج دیکھا میں نے انہیں ۔۔

مسکان نے نائٹ ڈریس میں بیڈ کے قریب آتی مسکرا کر بولی ۔۔۔

کییییییاااا وہ جلاد اور شاپنگ ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔

ہاشم نے شوک میں چلاتے کہا ۔۔۔

کیوں جلاد کہتے ہے پتہ کتنے سویٹ ہے مجھے بہت پیارے لگتے ہے ۔۔

مسکان نے خوشی سے چہکتے ہوے کہا ۔۔

ووووو میڈیم اچھا میں لگنا چاہے سمجھی اس جلاد سے دور رہو ۔۔

اور میرے پاس آو ۔۔

ہاشم نے مسکراتے ہوے مسکان کو اپنے قریب لاتے باہوں میں بھرتے کہا ۔۔۔

محمل خوش تو ہے نہ سر کے ساتھ میں نے دیکھا وہ دونوں نہیں بولتے ایک دوسرے کے ساتھ ۔۔۔

مسکان نے اس کے سینے پر سر رکھتے ہوے پوچھا ۔۔۔

کیا جان شوہر پیار کرنے لگا ہے اور تمہیں ان دونوں کی پڑی ہے ۔۔

خاموش رہو مجھے محسوس کرنے دو ۔۔۔

ہاشم نے بات ٹالتے اس کی گردن پر لب رکھتے ہوے کہا ۔۔

آپ مجھ سے محبت کرتے ہے کیا ۔۔

مسکان نے مسکراتے ہوے پوچھا ۔۔۔

وہ دل سے خوش تھی ہاشم اب اس سے نفرت نہیں کرتا ۔۔۔

نہیں ۔۔

ہاشم نے دو ٹوک جواب دیا ۔۔

کییییییا سڑیل شکل والے محبت نہیں کرتے مجھ سے ہاے میری خوائش تھی ۔۔

میرا ہونے والا شوہر رومانٹک ہو لیکن میر۔۔۔۔

اس سے پہلے مسکان کچھ کہتی جب ہاشم نے اس کی سانسوں کو بند کیا ۔۔

اففف بہت بولتی ہو ۔۔

چپ رہا کرو سمجھی ورنہ میں بولتی بند کر سکتا ہے ۔۔۔

ہاشم نے اسے چھوڑتے ہوے نرمی سے کہا ۔۔

جبکہ مسکان شوک کی حالت میں بلش کر رہی تھی ۔۔۔

ارے میری بیوی شرما رہی ہے ۔۔

حیرت ہے ۔

ہاشم نے تنگ کرتے کہا ۔۔

نہ کرے آپ بھی نہ ۔۔

مسکان نے شرماتے ہوے کہتی اس کے سینے میں منہ چپھا گی ۔۔

ہاہہاہاہاہہاہا ہاے میں بھی نہ کیا جان۔۔۔

ہاشم نے گرفت تنگ کرتے ہنستے ہوے پوچھا ۔۔۔

————————————————————

لاٶ بٹن کہاں ہے ۔۔۔

اکرم نے اپنے سامنے کھڑی محمل سے پوچھا ۔۔

جو کھڑی آس پاس دیکھ رہی تھی ۔۔۔

وہ ایک سنسنان جگہ پر بنے مکان میں آی تھی

یہ لو بٹن ۔

محمل نے کالے رنگ کا بٹن اسے دیتے کہا ۔۔۔

یہ کیا مذاق ہے اتنا سادہ بٹن پاگل ہو گی ہو تم وہ والا بٹن نہیں ہے یہ ۔۔۔

نہیں پاگل تو تم تھے جو مجھے دھمکی دی تم نہیں جانتے کیا میں کون تھی بتاٶ مجھے جاہل انسان ۔۔

محمل نے غصہ سے اکرم کو ڈنڈا مارتے کہا ۔۔

بہت بڑی غلطی کر رہی ہو مجھے مار کر جانتی نہیں میں کون ہو ۔۔۔

اکرم نے مار کھاتے غصہ سے غراتے ہوے کہا ۔۔

مجھے جاننا بھی نہیں ہے ۔۔ڈی ایم کی بیوی کو کوئ چھوٹی بات نہیں ۔۔

سب کی حفاظت کرتا ہے وہ کوئ برا کام نہیں کرتا تم نے کیسے کہا کہ وہ قتل کرتا ہے ۔۔

ہر برائ کو ختم کرتا ہے ۔۔

حوس پرست نہیں ہے جیسے تمہاری آنکھوں میں حوس دیکھ رہی ہے مجھے ۔۔

کیا سمجھے تھے میں تمہاری بات مان جاٶ گی نہیں بلکل نہیں میں اگر یہاں آی ہو تو اس وجہ سے تمہیں بتا سکو ۔۔

ڈی ایم کی بیوی ڈرپوک ہرگز نہیں ہے ۔۔۔

محمل نے اور مارتے ہوے کہا ۔۔

تم یہاں آ تو گی ہو اب بچ کر کہا جاٶ گی ۔۔

کےکے کو تم چاہے اور میں لے کر جاٶ گا ۔۔۔

اکرم نے خباثت سے محمل کا ہاتھ پکڑتے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

سوچ ہے تمہاری اگر تم یہاں سے بچ گے تم کیا جانتے ہو ڈی ایم کے بارے میں ۔۔

میں کیا یہاں اکیلی آ گی ہو ہرگز نہیں وہ یہی کہی ہو گا ۔۔

ڈرو اس کے قہر سے جب اسے پتہ چلے گا تم نے مجھے ہاتھ لگایا ۔۔

محمل نے اپنی بازو کو چھڑواتے ہوے کہا ۔۔۔

ہاہاہاہاہہا آ تو جاے پہلے تم بہت مست مال ہو ۔۔۔

اب تو میں تمہیں بتاٶ گا حوس ہوتی کیا ہے ۔۔

اکرم نے ہنستے ہوے محمل کی شرٹ کا بازو پھاڑتے ہوے کہا ۔۔

دور رہو مجھ سے ڈی ایم قتل کر دے گا دور رہو ۔۔

محمل نے ڈرتے ہوے اکرم کو خود سے دور کرتے کہا ۔۔

بلکل نہیں اب تو میں تمہیں حاصل کر کے رہو گا ۔۔

تمہیں بھی پتہ چلے بیوقوف بنانے کی سزا کیا ہوتی ہے ۔۔۔

اکرم پاس جاتے ہوے بولا ۔۔

سنو دور رہو میرے پاس مت آنا ۔۔

محمل نے پیچھے دیوار کے ساتھ لگتے آنکھوں کو بند کرتے روتے ہوے کہا تھا ۔۔۔

وہ اب رو رہی تھی کیوں یہاں آ گی تھی جب عزت بھی خطرے میں محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔

————————————————————

ہم یہاں کیوں آے ہے ۔۔

ثانیہ نے سیف ہاٶس آتے ہوے پوچھا ۔۔

بیٹا ہم سب کو یہاں رہنا ہے جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے ۔۔

تم زیادہ مت سوچو اب آرام کرو ۔۔

راحیلہ بیگم نے ثانیہ کو بیڈ پر بیٹھاتے ہوے پیار سے کہا ۔۔۔

لیکن ماما میں یہاں اکیلی کیسے ارتضٰی پتہ نہیں کہاں ہو گے ۔۔

ثانیہ نے ایک دفعہ پھر روتے ہوے کہا

میرا

بیٹا ٹھیک ہے اگر تم نے ایسی حالت کی تو پکا مجھے بولے گا اس کی بیوی کا خیال نہیں رکھا میری جان تم سکون میں رہو ۔۔

راحیلہ بیگم نے ثانیہ کو تسلی دیتے کہا ۔۔

وہ آ جاے میں پھر سکون میں رہو گی ورنہ ۔۔

ثانیہ نے زیادہ روتے ہوے کہا ۔۔

اچھا چلو یہ دودھ پی لو پھر روتی رہنا ۔۔

راحیلہ بیگم نے جب دیکھا ثانیہ نہیں مان رہی دودھ میں نیند کی گولی ڈالتے ہوے کہا ۔۔۔

———————————————————–

بہت خوبصورت ہو تم ۔۔

ہم تم سے شادی کرے گا ۔۔

میم صاب ۔۔

محمل جو اپنی آنکھوں کو بند کر کے کھڑی تھی جب اپنے کانوں میں یہ الفاظ پڑتے شوک کی حالت میں اپنی آنکھوں کو کھولتی دیکھا ۔۔۔

آہہہیہہہ آہہہہہہ کو۔کون ہو تم بلیک مین ۔۔۔

اپنے اتنے قریب کھڑے راجو کو دیکھ کر محمل نے ڈرتے ہوے پوچھا ۔۔۔

اس سے پہلے اکرم محمل کے پاس جاتا جب راجو نے اس کے سر پر زور سے ڈنڈا مارتے ہوے محمل کے قریب گیا تھا ۔۔۔

جبکہ اکرم بے ہوش ہو چکا تھا ۔۔

ہم راجو ہے تم ہم کو نہیں جانتا میم صاب ۔۔

راجو نے اپنے پیلے دانت نکال کر کہا ۔۔۔

چچچچ دور رہو مجھے سے بلیک مین ۔۔

محمل نے نفرت سے اسے دور کرتے کہا ۔۔

اسے وحشت ہو رہی تھی ۔۔

راجو کی قربت سے ۔۔

ہم تم سے دور نہیں اور قریب آے گا ۔۔

تم بہت خوبصورت ہے ہم شادی کرنا چاہتا ہے ۔۔۔

راجو نے محمل کے ماتھے کو چھوتے ہوے بہکے ہوۓ انداز سے کہا ۔۔۔

جبکہ راجو کی آنکھیں شعلہ اگل رہی تھی ۔۔

جس پر محمل نے زرا غور نہیں کیا تھا ۔۔

وہ سچ میں اب گھبرا گی تھی ۔۔۔

ب۔ک۔بکواس بند کرو تم سمجھے جانتے نہیں ہو میں کون ہو ۔

ڈی ایم کی بیوی ہو شادی شدہ ہو میں خبردار مجھے چھوا بھی تو ۔۔۔

محمل نے ڈرتے گھبراتے ہمت کرتے بولی ۔۔

افففف میم صاب گھبرا کیوں رہی ہے ہم کون سا آپ کو کھا جاۓ گا ۔۔

بس شادی کرنا چاہتا ہے ۔۔

آپ کے شوہر کو ہم مار دے گا ۔۔

راجو نے محمل کے ماتھے سے پیسنہ صاف کرتے کہا ۔۔۔

شادی شدہ ہو میں کتنی دفعہ بکواس کرو میں ۔۔

تم ہو کون کالے موٹے گندے انسان چچچچ ۔۔

گھن آ رہی ہے مجھے شادی کی بات تو پھر دور ہے ۔۔۔

محمل نے ہمت جمع کرتے اسے دھکا دیتے نفرت سے کہا ۔۔۔

لیکن تم محبت نہیں کرتا اپنے شوہر سے ۔۔۔

راجو نے طنزیہ مسکراہٹ لاتے ہوے کہا ۔۔۔

م۔میں کرتی ہو محبت سمجھے تبھی یہاں آی میں ورنہ کبھی نہ آتی میں ۔۔۔

محمل نے روتے ہوے کہا ۔۔۔

راجو یہ بات سن کر ہنس پڑا تھا ۔۔۔

اچھی بات ہے یہاں آی اب تم صرف ہماری ہو ۔۔۔

راجو ایک دفعہ قریب جاتے محمل کا آدھا پھٹا شرٹ کا بازو سارا پھاڑتے ہوے کہا ۔۔۔

اب اس کی انگلیاں محمل کے کندھے پر رینگ رہی تھی ۔۔

ڈ۔ڈی ایممممممم مجھے بچا لو پلیز میں جانتی ہو تم یہاں ہی ہو پلیز ۔۔۔

محمل نے جب دیکھا اپنی عزت کی حفاظت وہ نہیں کر سکتی تبھی زور سے روتے ہوے کہا ۔۔۔

جاٶ یہاں سے خبردار اگر تم نے میری طرف دیکھا بھی سمجھی ورنہ تم زندہ واپس نہیں جاٶ گی ۔۔۔۔

راجو نے محمل کے آنسو صاف کرتے غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

محمل جانے کا سن کر اپنی چادر لیتی بھاگ چکی تھی بنا راجو کی طرف دیکھے ۔۔۔

وہ آج واقعی ڈر چکی تھی ۔۔۔

————————————————————

تہہ خانے میں زور سے چیخنے چلانے کی آوازیں آرہی تھی ۔ہر طرف اندھیرا اور سناٹا تھا ۔اس سناٹے میں اس شخص کے رونے اور چلانے کی آواز ہر طرف وحشت پیدا کر رہی تھی ۔۔

میرا قصور کیا ہے مجھے کیوں باندھ رکھا ہے میں نے کیا کیا ہے ۔اکرم نے غصے سے زور سے چلاتے ہوے کہا ۔۔

ڈی ایم اپنی وجہہ پرسنلٹی کا مالک بلیک ہڈی پہنے منہ پر ماسک لگاے (جس کی آنکھیں نظر آرہی تھی ۔ان نیلی آنکھوں میں وحشت غصہ تھا ۔۔۔غصے سے وہ نیلی آنکھیں لال انگارہ بن رہی تھی ۔)

تیرا قصور یہ ہے بغیرت انسان کہ تو نے میری چیز پر نظر رکھی اور جو میری ملکیت پر نظر رکھتا ہے میں اس کی آنکھیں نوچ لیتا ہوں ۔

ڈی ایم نے زور سے تپھر مارتے ہوے کہا ۔۔۔

راشد مجھے کچھ دیر میں اس کی آنکیھں میرے ٹبیل پر نظر آنی چاہیے ۔۔

یہ مجھے دیکھ چکا ہے ۔۔

آنکھیں نکال کر مجھے دو ویسے مارنا نہیں ایسے کےکے کو پتہ چلے جب کوئ ڈی ایم کی بیوی پر نظر رکھے گا اس کی حالت اس سے بھی بری ہو گی

۔۔

جو میری کسی بھی چیز پر نظر رکھے گا ۔وہ اپنی آنکھوں سے ہاتھ ہاتھ دھو بیھٹے گا ۔۔

اتنا کہہ کر ڈی ایم غصہ سے وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔

————————————————————

زبردست راجو تم نے مجھے خوش کر دیا ۔۔۔

کےکے نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔

راجو ڈرگز کا مال باہر دوبئ اچھے سے بھیج چکا تھا ۔۔۔

جس سے کے کے کو لاکھوں کا فائدہ ہوا تھا ۔۔۔

بس ہم چاہتا ہے صاب جی تم خوش رہو ۔۔

راجو نے اپنے دانت نکالتے ہوے کہا ۔۔۔

واقعی جو کام ابھی تک وہ اکرم نہ کر سکا تم کر کے ۔۔

اب تم یہاں کیسی کو لڑکی کے ساتھ ٹائم گزار سکتے ہو ۔۔

جانتے ہو نہ کتنی لڑکیاں ہے یہاں ۔۔۔

کے کے نے لالچ دیتے کہا ۔۔۔

نہیں صاب جی ہم ایسا کام نہیں کرتا ۔

بس ایک میم صاب سے ہم محبت کرتا ہے ۔۔

راجو نے اپنے خیالوں میں گرے آنکھوں کو لاتے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

اچھا جب دل کرے تب کر لینا ویسے کل ہم نے پانچ ہزار لڑکیاں باڈر سے باہر پہنچانی ہے تم کر لو گے ۔۔۔

کےکے نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔

ہاں صاب جی ہم کر لے گا تم زرا لڑکیاں دیکھا دو ہم کو پھر ہم نے جانا بھی ہے ۔۔

راجو نے جلدی سے کہا ۔۔۔

کہاں جانا ہے تمہیں ۔۔

کےکے نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔

وہ ہم کا ایک رشتہ آیا ہے صاب جی اگر ہم پسند آ گیا تو وہ ہم کو اپنے گھر رکھ لے گا بس وہاں جانا تھا ۔۔۔

راجو نے شرماتے ہوے کہا ۔۔۔

(یکککک تمہاری شکل ہے شادی والی خیر بچارے کے خواب ہے جو کبھی پورے نہیں ہو گے ۔۔).

کےکے راجو کی حبیشوں والی شکل دیکھ کر دل میں سوچتا ہنس دیا ۔۔۔

————————————————————

سنو بچہ کیسا ہے یہاں خیال رکھنا اس کا میں نے لیڈی ڈاکٹر بھی یہاں بلا لی ہے وہ بچے کا اچھے سے خیال رکھے گی ۔۔۔

ڈی ایم ایچ ایم کے پاس آتے جلدی سے بولا ۔۔

جبکہ بچے کا نام سن کر ایچ ایم کے منہ سے پانی باہر نکل آیا تھا جو وہ پی رہا تھا ۔۔

اووووو جلاد کون بچہ کہاں کا بچہ دماغ ہل گیا ہے کیا اور تو یہ سب کیوں کر رہا ہے ۔۔

میری بیوی ہے وہ مسکان نام ہے اس کا بچہ نہ کہو کبھی ایسے لگتا جیسے تم سسر ہو میرے ۔۔

ایچ ایم نے دانت پیستے ہوے کہا ۔۔

بکواس کم کیا کرو سمجھے میں جو بول رہا ہو ۔۔

وہ کرو یہ چھوٹا دماغ کم چلایا کرو ۔۔

بس دعا کرو وہ میری چندہ نہ ہو سچی اگر وہ چندہ ہوئ تمہاری موت میرے ہاتھوں ہو گی ۔۔۔

ڈی ایم نے ایچ ایم کی گردن دبوچتے ہوے کہا ۔۔۔

چھوڑ مجھے جلاد میں دوست ہو تمہارا بھول گیا کیا ۔۔

ایچ ایم نے اپنے آپ کو چھڑواتے ہوے کہا ۔۔۔

تو بھول گیا میں کون ہو سمجھے وہی کرو جو کہا ۔۔

سب سر پر چڑ گے ہے میرے اگر میں نرمی سے بات کر لو ۔۔۔

ڈی ایم نے غصہ سے غراتے ہوے کہا ۔۔۔

پہلے اپنی بیوی کو دیکھ لے کیسا ڈی ایم ہے جو ایک بیوی ہنیڈل نہیں ہو ر ہی ۔۔

بس ہمارے ساتھ بول سکتا ہے تو ۔۔

جا جا تو آیا بڑا ڈی ایم ۔۔

ایچ ایم نے اپنی جان چھڑواتے ہوے محمل کا ذکر جان بوجھ کر کیا جس میں کامیاب ہوا ۔۔۔۔

تمہاری کزن بھول گی ہے میں کون ہو ۔۔

اب اسے سزا ملے گی تاکہ ہمیشہ یاد رہے اسے ڈی ایم کون ہے ۔۔۔

وہ بھی سر چڑ گی ہے میرے ۔۔

ڈی ایم غصہ سے باہر جاتے ہوے بولا ۔۔۔

————————————————————

سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو سالا ۔۔۔

ہاشم روم میں آتے غصہ سے بولا ۔۔

کون سالا آپ کا اور اتنی سڑی ہوئ شکل کیوں بنای ہے ۔۔۔

مسکان نے پاس آتے پوچھا ۔۔۔

وہ ڈی ایم یار مجھے اتنی فکر نہیں جیتنی وہ کرتا ہے تمہاری کہتا تم بچہ ہو اس کی ۔۔۔

ہاشم نے مسکان کو گلے لگاتے ہوے کہا ۔۔۔

ویسے سر کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے جیسے کوئ دل کا رشتہ ہے ان سے آپ مجھے بتاے کون ہے وہ اور یہ ایسا کیوں کر رہے ہے ۔۔۔

مسکان نے اپنے دل کا سوال پوچھ ہی لیا وہ کب سے نوٹ کررہی تھی ۔۔

داٶد صرف اس کے ساتھ نرمی سے بات کرتا ورنہ وہ کسی کو بلاتا بھی نہ تھا ۔۔۔

یار اس کا ماضی بہت دکھ بھرا ہے ۔۔

پتہ نہیں کیسے زندہ ہے کہتا ہے وہ اپنی چندہ کے لیے زندہ ہے بس مل جاۓ اسے ۔۔

ہاشم نے دکھ بھرے انداز سے پوچھا ۔۔۔

چندہ کون ہے ۔۔۔

مسکان نے ہاشم کی آنکھوں میں دیکھتے پوچھا ۔۔۔

مجھے ایسے کیوں لگتا ہے میرا جو بھاہیٶ ہے وہ سر ہی ہے ہاشم کیا ایسا ہو سکتا ہے ۔۔۔

مسکان داٶد کا سارا ماضی سنتے روتے ہوے بولی تھی ۔۔

خدا کا خوف کرو بیوی کیوں چاہتی ہو مجھے ہارٹ اٹیک آے جانتی ہو پہلے ہی کہہ چکا ہے وہ مجھے مار دے گا اگر تم چندہ ہوئ ۔۔۔

ہاشم نے ڈرتے ہوے کہا ۔۔

نہیں مارتے وہ اتنے اچھے ہے ہاے میری دعا ہے میرا بھاہیٶ ہو وہ کتنا مزہ آے گا ۔۔

میں سب کو فخر سے بتاو گی ڈی ایم میرا بھای ہے یاہوووووووو ۔۔۔

آپ کو کچھ نہیں کہے گے بس میں کہو گی آپ کو اتنا مارے کہ بس سانس آتی رہے ۔۔

بس اللہٌ کرے میرا بھاہیٶ ہو وہ ۔۔

ہاے سن کر ہی مزہ آ گیا مجھے اگر واقعی میرا بھاہیٶ ہوا تو کیا کرو گی ۔۔

توبہ ہے کیسی بیوی ہو یار ویسے اگر تم چندہ ہوئ اس کی تو واقعی ایک دوسرے کے بہن بھائ لگتے ہوے جیسی حیرکتیں ہے تم دونوں کی مجال ہے جو زرا مجھ ہر ترس آیا ہو ۔۔

کبھی تمہارا بھاہیٶ نہ ہو وہ ۔۔۔

پاگل لڑکی اللہٌمجھے بچا لے ورنہ یہ دونوں مجھ مار دے گے ۔۔۔

ہاشم مسکان کی خوشی دیکھتے روٹھے پن سے بولا ۔۔۔

جبکہ اب مسکان خوش ہوتی لیٹ چکی تھی ۔۔۔

————————————————————

آہہہہہ آہہہہہ ۔۔۔

کون ہو تم لوگ بتاٶ مجھے ۔۔

ڈی ایم تم سب کو چھوڑے گا نہیںارتضٰی نے اپنے اوپر گرتے ٹھنڈے پانی پر ہوش میں آتے چلاتے ہوے بولا ۔۔۔

تیرا باپ ۔۔

جلاد تم ہو ہاے میں جانتا تھا تم مجھے بچا لو گے ۔۔۔

ڈی ایم کی آواز سنتے ارتضٰی نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔

بکواس بند کر تو اپنی ورنہ جان سے مار دو گا ۔۔۔

ڈی ایم نے روم کی لائٹ آئن کرتے مسکراتے ہوے بولا ۔۔۔

یہ میں کہاں ہو ۔۔

دیکھ جلاد میں ثانی کے پاس جانا ہے مجھے جانے دے پتہ نہیں تم مجھے کہاں لے آے ۔۔۔

ارتضٰی نے خوبصورت روم دیکھتے ہوچھا ۔۔۔

جبکہ داٶد سکون سے کھڑا دیکھ رہا تھا ۔۔۔

سیف ہاٶس ہو اور گڑیا بھی ادھر ہی ہے ریسٹ کر رہی ہے تو جا اس کے پاس اب ۔۔۔

داٶد نے مسکراتے ہوے جواب دیا ۔۔۔

کییییی ااااا لیکن مجھے تو اغوا کیا گیا تھا ۔۔

ہاے تو نے بچہ لیا جیو میرے شیر مجھے فخر ہے تم پر جلاد ۔۔۔

ارتضٰی نے خوش ہوتے داٶد کے گلے لگے کس کرتے کہا ۔۔۔

تیری بیوی نہیں ہو میں جو کس کر رہا ہے ۔۔

اغوا میں نے ہی کروایا تھا تجھے ۔۔۔

داٶد نے مسکراتے ہوے زور سے گلے ملتے کہا ۔۔۔

لیکن کیوں جلاد میں بھی تیری بیوی نہیں جو مجھے اغوا کر کے ایسے رومینس کر رہا ہے ۔۔۔

ارتضٰی نے بھی حساب برابر کرتے کہا ۔۔۔

دفعہ ہو جا گڑیا کے پاس اب باہر مت جانا میری اجازت کے بنا رہ گی اغوا والی بات وہ کس لیے تیری جان کو سکون بلکل نہیں ہے ۔۔

تمہیں کنٹرول کرنے کے لیے یہاں سب سے پہلے سیف ہاٶس لایا ہو ۔۔

میں نہیں چاہتا تم سب کو میری وجہ سے کچھ ہو بس اس لیے اغوا کروایا ویسے تم جلدی آتے نہیں ایسے ہی سہی ۔۔۔

داٶد نے ارتضٰی کو تحمل سے جواب دیا ۔۔۔

جان کو واقعی سکون نہیں میرے اگر تم مجھے اغوا نہ کرواتے جلاد میں غصہ سے کچھ کر لیتا پر میں کیسے بھول گیا میرے پاس جلاد ہے وہ کچھ نہیں کرنے دے گا مجھے ۔۔۔

ارتضٰی ایک دفعہ پھر گلے ملتے بولا ۔۔

چل چھوڑ مجھے اوقعی بھابھی سمجھ لیا ہے جلاد مجھے اپنی بیوی کے پاس جانے دے کیوں مشکوک بنا رہا ہے مجھے ۔۔۔

ارتضٰی داٶد کے زبردستی گلے لگتے اسے ہی باتیں سنا رہا تھا ۔۔۔

اچھا بچو تیری طیبعت سیٹ کرنی پڑے گی ۔۔

داٶد نے ارتضٰی پر اپنی گرفت مضبوط کرتے کہا ۔۔۔

چھوڑ مجھے میں بھابھی واقعی نہیں ہو جلاد چل ہٹ یہاں سے ۔۔

ارتضٰی اس کی گرفت توڑتا روم سے باہر بھاگ چکا تھا ۔۔۔۔

ہممممم ۔۔۔

چلو مسز داٶد اب تم تیار رہو مسڑ داٶد آ رہا ہے ۔۔۔

داٶد نے کچھ سوچتے ہوے طنزیہ مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

————————————————————

یہ کیا کیا تم نے راجو میرا لاکھوں کا نقصان کر دیا ہے ۔۔۔

کےکے نے غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔

جبکہ راجو پریشان سے کھڑا تھا ۔۔۔

وہ صاب جی معافی مانگتا ہے ۔۔

ہم کر لیتا پر وہ آرمی کا بچہ ہم کو پکڑ لیتا تبھی ہم جان بچاتا آ گیا ۔۔

راجو نے ڈرتے ہوے کہا ۔۔۔

کیسے ان کی پکڑ میں آے تم ۔۔

اتنا چھوٹا کام نہیں ہوا بلکہ نقصان کروا دیا میرا تم نے اتنی لڑکیاں میرے ہاتھ سے چلی گی ہے ۔۔۔

کے کے نے طش میں آتے بولا ۔۔۔

ہم کر لیتا یہ کام پر پکڑا جاتا تبھی بچ کر بھاگ آیا میں صاب جی آپ کو یقین نہیں ہم پر تو ہم چلتا ہے یہاں سے ۔۔

اگر آرمی کا بچہ آپ کا ٹرک واپس کر دے صاب جی آپ کام کسی اور کو کہنا ہم چلتا ہے ۔۔۔

راجو غصہ میں بولتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

افففف میرا سر کتنا درد کر رہا ہے اور میں یہاں کیسے آی ۔۔

ہاے میرے بازو بھی باندھ دے ہے ۔۔

بچاٶ بچ۔۔۔۔

شششششش۔۔۔۔

محمل کی جب آنکھ کھولی خود کو ایک خوبصورت روم کے بیڈ پر لیٹے ہوے پایا ۔۔

جب خود کی حالت دیکھی تو اس سے پہلے وہ چلاتی جب اسے چپ کروایا گیا ۔۔۔

باتھ روب پہنے محمل بیڈ پر لیٹ باندھی ہوئ تھی ۔۔۔

جبکہ ڈی ایم اس کے اوپر جھکا ہوا تھا ۔۔۔

ت۔تم۔۔

یہاں کیسے چھوڑو مجھے ۔۔۔

محمل نے اپنے اوپر آے ڈی ایم کو دیکھتے ڈرتے ہوے پوچھا ۔۔۔

اسے ویسے ہی شرم آ رہی تھی اپنی حالت پر جو باتھ روب پہنے لیٹی تھی ۔۔۔

ہاں میری جان میں سوچا سب کو سزا دیتا ہو کیوں نہ آج اپنی بیوی کو دو ۔۔۔

ڈی ایم نے اپنے لب محمل کے ماتھے پر رکھتے ہوے کہا ۔۔۔

ک۔۔ل۔کو۔

لیکن کیوں میں اپنے گھر تھی تم مجھے یہاں لے آے ہو ۔۔۔

محمل نے ہکلاتے ہوے پوچھا ۔۔

(افففف شکر ہے میں بچ گی ہاے اللہٌاگر وہ بلیک مین واقعی کچھ کر دیتا میں کیا کرتی ۔۔

آج اتنا ڈر بھی لگ رہا ہے وہ مسٹر کھڑوس پاپا کو بھی لے گیا اپنے ساتھ ۔۔۔

محمل واش روم سے باہر آتی اونچا اُونچا بولی رہی تھی ۔۔

وہ جب گھر واپس آی تو اسے پتہ چلا مختار صاحب کو ہاشم لوگ اپنے ساتھ سیف ہاٶس لے کر چلے گے ۔۔۔

اب محمل باتھ لیتی واش روم سے باہر آتی سوچ رہی تھی ۔۔۔

آہہہہہ آہہہہہہ لائٹ بند ہو گی ہاۓ میں کیا کرو پاپا بھی گھر نہیں ہے ۔۔۔

اس سے پہلے محمل اپنا ڈریس کبڑد سے باہر نکالتی جب لائٹ چلی گی ۔۔۔

ک۔کون ہے کون ۔۔۔

محمل اس سے پہلے کچھ سوچتی جب اسے اپنے باتھ روب کی ڈوری کھولتی محسوس ہوئ ۔۔

تبھی ڈرتے ہوے پوچھا ۔۔

اس کی جان لبوں پر آ گی تھی ۔۔

بہت شوق ہے تمہیں سب کو بچانے کا جان اب خود کو بچا لو مجھے سے ۔۔۔

ڈی ایم نے اندھیرے میں ہی محمل کے باتھ روب کی ڈوری کو پکڑتے سرسراتے ہوے کہا ۔۔۔۔

سو۔سوری مسڑ کھڑوس میں ۔۔۔۔

اس سے پہلے وہ اور کچھ کہتی جب اسے اپنی گردن پر ایک سوئ چھبتی ہوی محسوس ہوئ ۔)

اب جب ہوش آیا تو وہ ایسی حالت میں تھی ۔۔

سو۔سوری مسڑ کھڑوس م۔میری غلطی تھی ۔۔

محمل نے ہکلاتے ہوے کہا ۔۔

نہ میری جان سزا کے لیے تیار رہو ڈی ایم کسی کو نہیں چھوڑتا اب تم دیکھو گی ۔۔

کیوں گی تھی اس انسان کے پاس جب پتہ تھا ۔۔۔

سب کو نقصان ہے اگر تمہیں کچھ ہو جاتا پاپا ڈیڈ کو کیا جواب دیتا ۔۔

سب مذاق کرتے کہ ڈی ایم اپنی بیوی کو ہنیڈل نہ کر سکا ۔۔۔

ڈی ایم نے محمل کا پاٶں پکڑتے دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔

نہی۔نہیں سچی میں ایسا نہیں کرو گی ۔۔

میرے کپڑے ب۔۔۔۔

آہہہہہ آہہہہہہہہ نہیں ۔۔۔

محمل نے جب دیکھا ڈی ایم نے اس کی ٹانگ پکڑتے اس کے اوپر بچھو رکھا تھا ۔۔۔

جو اس کی برہنہ ٹانگ پر رینگتا ہوا اوپر کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔

تبھی چلاتے ہوے بولی ۔۔

میں مر جاٶ گی مسٹر کھڑوس نہیں آئندہ ایسا نہیں کرو گی تم یہ بھی دیکھو میں نے بس اسے مارا تھا بٹن تو دیا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔

محمل نے بچھو دیکھتے روتے ہوے کہا جو اس کے پیٹ کے اوپر آ رہا تھا ۔۔۔

نہیں مرتی تم اتنی جلدی بس محسوس کرو درد ہوتا کیسا ہے ۔۔۔

جیسے مجھے ہوا تھا جب پتہ چلا میری بیوی دشمنوں کے پاس میرے خلاف جا کر انہیں ثبوت دے رہی تھی ۔۔۔

اتنا درد تو بنتا ہے جان ۔۔۔

ڈی ایم نے اپنا چہرہ محمل کے چہرے کے پاس لاتے ہوے سرد لہجے سے کہا ۔۔۔

دونوں بازوں باندھے ہونے کی وجہ سے محمل تڑپتے ہوے اپنا سر دائیں بائیں ہلا رہی تھی ۔۔۔

نہیں چھوڑ دو پین ہو رہا ہے ۔۔۔۔

محمل نے تڑپتے روتے ہوے کہا ۔۔۔

جبکہ ڈی ایم سکون سے محمل کا چہرہ دیکھنے میں مگن تھا ۔۔۔