Dadhkan By Rania Mehar Readelle50327 Dadhkan (Episode 19)
Rate this Novel
Dadhkan (Episode 19)
Dadhkan By Rania Mehar
””ایک ہفتے بعد ۔۔۔۔۔
محمل یار رونا تو بند کرو ۔۔۔
داٶد نے روم میں آتے محمل کے پاس آتے کہا ۔۔۔
دور رہو مجھ سے نفرت ہے مجھے تم سے سب تمہاری وجہ سے ہوا ۔۔۔
میرے پاپا کوما میں چلے گے سب تمہاری وجہ سے ۔۔۔
محمل نے غصہ سے داٶد کو زور سے دھکا دیتے کہا ۔۔۔
گولی سر پر لگنے کی وجہ سے مختار صاحب کوما میں چلے گے تھے ۔۔۔
آج انہیں ایک ہفتہ ہو چکا تھا ۔۔۔
جبکہ محمل کو شدید نفرت ہو گی تھی داٶد سے جس کی وجہ سے یہ سب ہوا ۔۔
تم ٹیشن میں ہو آرام کرو پاپا کو کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔
مجھے پتہ ہوتا وہ سب تو کبھی نہ کرتا ۔۔۔
داٶد نے ضبط کرتے تحمل سے کہا ۔۔۔
ڈی ایم ہو تم وہ ڈی ایم جس کی میں فین تھی ۔۔
لیکن افسوس میں نے کتنے غلط انسان کو اچھا سمجھا ۔۔۔۔
تم ایسے نہیں ہو سب کا قتل کرتے ہو ۔۔
جیسے میرے پاپا کا حال ہوا سب تمہاری وجہ سے کیوں نہ بچا سکے میرے پاپا کو ۔۔۔
محمل نے داٶد کا گربیان پکڑتے غصہ سے چلاتے ہوے کہا۔۔۔
کیونکہ میرے لیے ضروری تھا تمہاری جان بچانا بس میں نے وہی کیا ۔۔۔
داٶد نے محمل کی سرخ سوجھی آنکھوں میں دیکھتے بے بس ہوتے کہا ۔۔۔۔
نہیں تم نے مجھے اذیت دینے کے لیے یہ سب کیا کیونکہ میں تنگ کرتی تھی تمہیں ۔۔۔
تمہیں کیا پتہ درد کا جب کوئ آپ سے دور جاتا ہے تو کیسا فیل ہوتا ہے ۔۔۔
تم تو ہو ہی پتھڑ دل انسان جیسے درد محسوس نہیں ہوتا ۔۔۔
محمل نے دور جاتے حقارت سے کہا ۔۔۔
کییییااا درد ۔۔۔
تم اس لفظ کا مطلب سمجھتی ہو ۔۔۔
ابھی آرام کرو کچھ زیادہ پاگل ہو گی ہو ۔۔۔۔
داٶد نے طش کے عالم میں چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
نہیں رہنا مجھے یہاں سمجھے میں اپنے گھر جا رہی ہو ۔۔۔
خبردار اگر تم میرے پیچھے آے ورنہ میں خود کو ختم کر لو گی ۔۔۔۔
محمل نے روم سے باہر جاتے داٶد کو دھمکی دیتے کہا ۔۔۔
داٶد خاموشی سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
میں چلی جاٶ گی ۔۔۔
یہ حیوان ہے قتل کرتا ہے ۔۔۔
کتنی بڑی پاگل تھی میرے سامنے رہتا تھا ۔۔۔
اور میں پاگلوں کی طرح اس کا سوچتی رہتی ۔۔۔
میں چلی جاٶ گی یہاں سے اپنے پاپا کے ساتھ بہت دور ۔۔۔
محمل نے وڈراب سے اپنے کپڑتے نکالتے ہوے سوچا ۔۔۔۔
———————————————————–
ہاشم بیٹا مسکان کو زرا محمل کے پاس لے کر جاٶ ۔۔۔
یا باہر لے جاٶ سارا دن کمرے میں رہتی ہے حالت دیکھو کیسی بنا لی ہے اس نے ۔۔۔
اصغری بیگم نے پریشان ہوتے ہاشم کو کہا ۔۔۔
اس پورے ہفتے ہاشم نے بہت دفعہ بات کرنے کی کوشش کی لیکن مسکان اگنور کر دیتی تھی ۔۔۔۔
وہ بلکل خاموش ہو چکی تھی ۔۔۔
جی ماما میں لے چلتا ہو ۔۔۔۔
(اسی بہانے میں بھی جلاد سے مل لو گا ۔۔۔۔)..
ہاشم نے دل میں سوچا ۔۔۔۔
———————————————————–
مسکان تیار ہو گی تم۔۔۔
ہاشم نے مسکان کے روم آتے پوچھا ۔۔۔
مسکان جو اپنے بال بنا رہی تھی ۔۔۔
وہی رک چکی تھی ۔۔۔۔
(اپنا حق لے لیا ہے اب کتنے آرام سے بولتا ہے سڑیل شکل والا آنہہ۔۔۔)
مسکان نے دل میں غصہ سے سوچا ۔۔۔۔
میں مانتا ہو میری یہ غلطی نہیں گناہ تھا ۔۔۔
جس کی معافی میں مانگو تو کم ہے ۔۔۔
لیکن میں یقین دلاتا ہو اب میں کچھ غلط نہیں ہونے دو گا ۔۔۔
میں اب تمہارے بنا نہیں رہ سکتا مسکان ۔۔۔
ہاشم نے خودی مسکان کو بیک ہگ کیے کہا ۔۔۔
مسکان کے دل کی دھڑکن تیز ہوی تھی ۔۔۔
لیکن خود پر قابو پاتے مسکان اسے دور کرتے روم سے باہر چلی گی تھی ۔۔۔۔
ہاشم بیٹا اتنا تو بنتا ہے کوئ نہیں میں اپنی مسکان کو مانا لو گا ۔۔۔۔
ہاشم نے باہر جاتی مسکان کی طرف دیکھتے مسکراتے ہوے سوچا ۔۔۔۔۔
————————————————————
(افففففف یہ کیوں اتنا بولا رہا ہے ۔۔۔
پتہ بھی ہے میں کتنی سیریس ہوئ ہو ۔۔۔
ہاےےے چپ کرو ورنہ میرا دل کر رہا بولو ۔۔۔)
مسکان نے اپنے پاس بیٹھے ہاشم کا چہرہ دیکھتے سوچا ۔۔۔۔
جو کب مسلسل بول رہا تھا ۔۔۔
جیسے مسکان آرام سے اگنور کیے گاڑی میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔
می۔۔۔
میں جا رہی آپ نے آنا ہوا آ جانا ۔۔۔
مسکان نے ہاشم کے کچھ بولنے سے پہلے خودی کہتی گاڑی سے باہر چلی گی تھی ۔۔۔۔
اے مجھے بچا لینا اس جلاد سے ۔۔۔
ہاشم داٶد پلیس انٹر ہوتے دل میں دعا مانگ رہا تھا ۔۔۔۔
———————————————————–
السلام و علیکم سر ۔۔۔۔
مسکان نے اندر انٹر ہوتے داٶد کے پاس آتے کہا ۔۔۔۔
وعلیکم السلام بچہ کیسی ہو ۔۔۔
داٶد نے خوش ہوتے پوچھا ۔۔۔۔۔
اسے دکھ ہوا تھا اب والی مسکان کو دیکھ کر ۔۔۔
جو بلکل بھی ویسی ہنس مکھ والی نہیں بلکہ سنجیدہ ٹائپ لڑکی لگ رہی تھی ۔۔۔۔
آپ یہاں ہے محمل کدھر ہے ۔۔
مسکان نے بے چین ہوتے پوچھا ۔۔۔۔
جبکہ داٶد مسلسل گھورنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔
روم میں ہے ۔۔۔
داٶد نے نظریں چڑاتے ہوے کہا ۔۔۔
بات سنو میرا کوئ حق تو نہیں لیکن یہ ضرور کہو گا ۔۔۔
ہاشم بہت اچھا لڑکا ہے ہو سکے تو اسے معاف کر دینا ۔۔۔
داٶد نے التجا کرتے مسکان سے کہا ۔۔۔۔
مسکان شوک سی بس چہرہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
تم یہاں کیا کرنے آے ہو ۔۔۔۔
اندر انٹر ہوتے ہاشم کو دیکھ داٶد غصہ سے دھاڑا ۔۔۔
م۔ر۔میری بات سن میں مسکان کو لے کر آیا ہو ۔۔۔۔
ہاشم نے ہکلاتے ہوے بتایا ۔۔۔۔
چھوڑ دیا اب جاٶ یہاں سے میں شکل نہیں دیکھنا چاہتا تمہاری ۔۔۔
داٶد نے ضبط سے منہ موڑتے ہوے کہا ۔۔۔
نہیں جا رہا کیا کرو گے ۔۔۔
ہاشم نے بنا ڈرے کہا ۔۔۔
تی۔۔۔
کیا مسئلہ ہے تمہارا جلاد زرا جو سکون لینے دو ہمیں ۔۔۔
شادی شدہ بندہ ہو پھر نہیں تمہں سکون نہیں ہے ۔۔۔۔
اس سے پہلے داٶد کچھ کہتا جب اندر انٹر ہوتے ارتضٰی نے اپنا رگ لاپنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔
اتنی بکواس کرو جیتنا تم برداشت کر سکو سمجھے ۔۔۔
داٶد نے دانت پیستے ہوے کہا ۔۔۔۔
کیا یار سوری بیوی کے سامنے رعب رکھنا چاہے سمجھا کر نہ ۔۔۔
ارتضٰی داٶد کے گلے لگے منت کرتے بولا ۔۔۔۔
تیری بیوی کو بھی پتہ ہے تو کیا چیز ہے اتنا بڑا بنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔
داٶد نے زرا اونچا ثانیہ کو سنانے کے لیے بولا ۔۔۔۔
بےبی تم جاٶ بھابھی کے پاس یہ جلاد کچھ بھی بکواس کرتا ہے مطلب بولتا ہے ۔۔۔۔
ارتضٰی نے شرارتی انداز سے کہتے ثانیہ کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
جبکہ ثانیہ بلش کرتی اوپر جا چکی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
کییییییییییییاااااا یہ ڈی ایم مطلب تمہارا شوہر ہی ڈی ایم ہے ۔۔۔۔
مسکان نے ساری بات سنتے ہوۓ چیخ کر کہا ۔۔۔
ہاں پھر چیخ کیوں رہی ہو ۔۔۔
محمل نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔
جاہل عورت وہ شخص تمہیں ملا جس کی خواہش تم کرتی تھی ۔۔۔۔
ماموں جان کے ساتھ ایسا ہونا لکھا تھا ۔۔۔۔
تم کیوں ڈی ایم کو الزام دے رہی ہو ۔۔۔۔
سوچو اگر ماموں کسی اور وجہ سے زخمی ہو جاتے پھر بھی ڈی ایم کو الزام دیتی ۔۔۔۔
مسکان نے سمجھاتے ہوے کہا ۔۔۔۔
لیکن مسکان اس انسان نے مجھ سے بدلہ لینے کے لیے ایسا کیا ہے میں جانتی ہو ۔۔۔۔۔
مجھے نفرت ہے اس سے اب میں نہیں رہنا چاہتی ۔۔۔
محمل نے غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔۔۔
آپ جہاں چاہے رہ لے بھابھی اگر دل کرے میرے ساتھ آ جاے مجھے خوشی ہو گی ۔۔۔
ثانیہ نے حوصلہ دیتے کہا ۔۔۔
لیکن ثانی بھابھی ۔۔۔
نہیں مسکان بھابھی محمل ابھی پریشان ہے ہمیں اسے کچھ نہیں کہنا چاہے ۔۔۔۔
ثانیہ نے مسکان کی بات کاٹتے ہوے تحمل سے کہا ۔۔۔۔
ہمممم کہا تو صیح ہے پر محمل تم ڈی ایم نہیں چھوڑ سکتی چاہے کچھ بھی ہو جاۓ ۔۔۔۔۔
مسکان نے اٹل انداز سے کہا ۔۔۔
فحال میں یہاں نہیں رہ سکتی ۔۔۔
محمل نے روتے ہوے کہا ۔۔۔۔
کیسے برداشت کرتی داٶد کسی کا قتل بھی کر سکتا ہے ۔۔۔
جب بھی اپنی آنکھوں کو بند کرتی سامنے ان سب کا خون آ جاتا سب کی لاش آ جاتی ۔۔۔۔
————————————————————
داٶد داٶد یہ کیا کر رہے ہو ۔۔۔
سپشل روم کے اندر انٹر ہوتے ہاشم نے چلاتے ہوے پوچھا ۔۔۔۔
دور رہو تم مجھ سے بلکہ سب دور رہو میں اچھا انسان نہیں ہو ۔۔۔۔
تبھی چندہ چھوڑ کر چلی گی ۔۔۔
اب محمل بھی چھوڑ دے گی مجھے ۔۔۔
اسے چھوڑنے سے پہلے میں مر جانا بہتر سمجھتا ہو ۔۔۔
داٶد نے اذیت سے کہتے اپنی کمر پر زور سے کوڑے مارے ۔۔۔۔
ہوش کرو کچھ خودی چاہتے تھے ۔۔۔
وہ نفرت کرے ۔۔۔
ہاشم نے پاس جاتے کہا ۔۔۔۔
کرے نفرت مجھ سے لیکن دور نہ جاۓ مجھ سے ۔۔۔
وہ کہتی ہے مجھے درد محسوس نہیں ہوتا ۔۔۔
وہ بلکل صیح کہتی ہے میں حیوان ہو ۔۔۔۔
کچھ فیل نہیں کرتا ۔۔۔۔
میری وجہ سے وہ درد میں ہے تو میں کیوں سکون میں رہو ۔۔۔۔
داٶد نے مسلسل کوڑے مارتے ہوے کہا ۔۔۔۔
پوری کمر خون سے لت پت تھی اور پاٶں بھی شیشوں کی وجہ سے خون آلود تھے ۔۔۔
جن پر داٶد ننگے پاٶں چل رہا تھا ۔۔۔۔
بس کر دو پلیز حالت دیکھو اپنی کتنا خون ضائع ہو رہا ہے ۔۔۔۔
ہاشم نے درد سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
اس کی حالت دیکھ کر وہ تڑپ اٹھا تھا ۔۔۔۔
جاٶ یہاں سے مجھے کوئ نہیں چاہے ۔۔۔
یہ خون بھی گندہ ہے اچھی بات ہے ضائع ہو جاے ۔۔۔
سب کو تکلیف دی ہے میں نے کوئ خوش نہیں رہتا میرے ساتھ ۔۔۔۔
داٶد نے طنز کرتے کہا ۔۔۔۔
ہاشم بے بس ہوا کھڑا تھا ۔۔۔۔۔
————————————————————
کیا ہوا ڈیڈ ۔۔۔۔
محمل جو گھر جانے کے لیے تیار کھڑی تھی ۔۔۔
تیمور صاحب کو روتا دیکھ پریشان ہوتی بولی ۔۔۔۔
میرے بیٹے کو بچا لو محمل میرے پاس اس کے علا
وہ کوئ نہیں ہے ۔۔۔
میری پوری زندگی کی جمع پونجی ہے ۔۔۔
وہ بکھر رہا ہے اسے سمیٹ لو ۔۔۔
تیمور صاحب نے منت کرتے ہوے کہا ۔۔۔۔
لیکن میں کیا کرو ڈیڈ اس کی وجہ سے یہ سب ہوا ہے ۔۔۔
محمل نے تنگ آتے کہا ۔۔۔۔
بیٹا تم اسے معاف کر دو مت جاٶ گھر چھوڑ کر وہ خود اذیت میں ہے ۔۔۔
تم نے وعدہ کیا تھا نہیں چھوڑو گی اسے پلیز بیٹا بس ایک دفعہ اس سے مل لو معاف کر دو ۔۔۔
وہ سکون میں آے گا ۔۔۔
تیمور صاحب نے التجا کرتے کہا ۔۔۔۔
سپشل روم سے داٶد کو لے کر تیمور صاحب پلیس لے آے تھے زبردستی لیکن جب مرہم لگانے کا ٹائم آیا ۔۔۔
داٶد نے اپنے زخموں پر مرہم لگانے کی بجاۓ نمک مرچ لگائ تھی ۔۔۔۔
نمک مرچ زخم پر لگانے سے خون روکنے کی بجاۓ اور زیادہ رسنا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔
داٶد نے سختی سے سب کو منع کر دیا تھا ۔۔۔
روم میں آنے سے ۔۔۔
جب سے تیمور صاحب نے داٶد کی حالت دیکھی تھی تب سے تڑپتے ہوے محمل کے پاس آے تھے ۔۔۔
میں مل لیتی ہو ڈیڈ لیکن رکو گی نہیں ۔۔۔۔
محمل نے احسان کرتے کہا ۔۔۔۔۔
وہ کیسے دیکھ سکتی تھی ۔۔۔
تیمور صاحب کو روتے ہوے ۔۔۔
ہمیشہ خوش رہو بیٹا ۔۔۔
بس میرے بیٹے کو کبھی مت چھوڑنا ۔۔۔۔
تیمور صاحب نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔۔
———————————————————–
(جاٶ یا نہ جاٶ ۔۔۔
نہیں جانا چاہے ہاے ڈی ایم ہے وہ ۔۔۔
لیکن مجھے تو نفرت ہے اس سے ۔۔۔
چلی ہی جاتی ہو دو دفعہ میری جان بچائ ہے ۔۔۔
احسان تو ہے ۔۔۔)….
محمل اپنے بیڈ کے باہر کھڑی عجیب سوچوں میں مبتلا تھی ۔۔۔۔
کس نے اپنی موت کو آواز دی ہے ۔۔۔
داٶد نے روم کا دروازہ کھولتے محسوس کرتے غراتے ہوے بولا ۔۔۔۔
ایک موت ہی تمہں دینے آتی ہے ۔۔۔
محمل نے بیڈ کے قریب جاتے منہ بناتے کہا ۔۔۔
جبکہ داٶد کی شرٹ کو دیکھ کر حیران رہ گی تھی ۔۔۔
جو ابھی بھی خون سے بھری پڑی تھی ۔۔۔
تم آی ہو مجھے پتہ تھا ت۔۔۔۔۔
منہ بند کرو اپنا ڈیڈ کی وجہ سے آی ہو ورنہ کبھی نہ آتی میں سمجھے ۔۔۔
محمل نے داٶد کی بات کاٹتے ہوے بتایا ۔۔۔۔
پھر چلی جاٶ یہاں سے مرنے دو مجھے ۔۔۔
داٶد نے غصہ سے غراتے ہوے بولا ۔۔۔
جس دن مرو گے بتا کر مرنا مجھے بھی پتہ چلے کہ تم مر چکے ہو ۔۔۔
اب سکون سے لیٹے رہو ۔۔۔
محمل اس کے قریب بیٹھتے ہوے بولی ۔۔۔۔
شرٹ اتارو اپنی ۔۔۔
کییییییااا شرٹ لیکن کیوں مجھے شرم آتی ہے ۔۔۔
محمل کی بات سنتے داٶد نے شرارت سے کہا ۔۔۔۔
اتار رہے ہو یا نہیں ۔۔۔۔
محمل نے گھورتے ہوے کہتی بولی ۔۔
۔۔
اچھا تم اتار دو میں اپنی آنکھوں کو بند کرتا ہو ۔۔۔
داٶد نے محمل کا بلش کرتا چہرہ دیکھ کر شرارت سے کہا ۔۔۔
پاگل ہو کیا جاہل انسان کھڑوس کون اتنا درد دیتا ہے اپنے آپ کو ۔۔۔
محمل نے شرٹ اتارتے ہوے داٶد پر چلاتے ہوے بولی ۔۔۔
پوری کمر زخمی ہوی تھی پاٶں بھی زخم سے بھرے پڑے تھے ۔۔۔۔
داٶد سکون سے لیٹا آنکھوں کو بند کیے محمل کی انگلیوں کا لمس اپنی کمر پر محسوس کرتا مدہوش ہو رہا تھا ۔۔۔۔
جبکہ داٶد کے نہ بولنے پر محمل منہ میں بڑبڑا رہی تھی ۔۔۔۔
کیا چیز ہو تم تمہیں درد نہیں ہوا کیا ۔۔۔
افففف اتنے زخم ۔۔۔
محمل نے پوری مرہم لگا کر رکھتے ہوے پوچھا ۔۔۔
عجیب پاگل بندہ ہے یہ مسٹر کھڑوس ۔۔۔
محمل نے پاس سے اٹھ کر جاتے ہوے کہا ۔۔۔۔
جب داٶد نے محمل کی کمر کو پکڑتے اپنی گرفت میں لیتا اس کے اوپر جھکا ۔۔۔۔
محمل اس حملے کے لیے تیار نہیں تھی تبھی شوک کی حالت میں گھورا ۔۔۔
ہاں پاگل ہو تمہارے عشق میں ۔۔۔
تم نے کہا کہ مجھے درد نہیں ہوتا ۔۔۔
واقعی اتنا درد نہیں ہوا مجھے ان زخموں سے جیتنا درد تمہارے یہاں سے جانے کا ہو رہا ہے ۔۔۔
داٶد نے مدہوش ہوتے اپنا چہرہ محمل کی گردن میں چھپاتے ہوے کہا ۔۔۔۔
تم جا رہی ہو دیکھنا میں تمہیں واپس لے آو گا ۔۔۔۔
پھر کبھی دور نہیں جانے دو گا ۔۔۔۔
داٶد نے اپنے لب محمل کے لبوں پر رکھتے ہوے کہا ۔۔۔۔
میں کبھی نہیں آو گی سمجھے تم قتل ہو تمہاری وجہ سے سب ہوا ۔۔۔۔
نفرت ہے مجھے ۔۔۔
محمل نے داٶد کو خود سے دور کرتی نفرت سے کہا کر روم سے بھاگ گی تھی ۔۔۔۔
محمل سے اپنی دھڑکنوں کی رفتا ہنیڈل نہیں ہو پا رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
سر ہمارا کام ہو گا ۔۔۔
ڈی ایم کی بیوی گھر چھوڑ کر چلی گی ہے ۔۔۔
کےکے کے خاص آدمی نے خوش ہوتے اطلاع دی ۔۔۔
وہ ڈی ایم کے پلیس کا پہرہ دے رہا تھا ۔۔۔۔
زبردست اب گرے بیوٹی میری ہو گی صرف میری ۔۔۔
اب مجھے جلد ہی لاہور آنا ہو گا ۔۔۔
کےکے نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔۔
لیکن سر ڈی ایم ہمیں نہیں چھوڑے گا اس بیوی ۔۔۔۔
ہاہاہاہا وہ اپنی بیوی کے سامنے بلی بن جاتا ہے ۔۔۔
تو سوچو اگر اس کی بیوی میری باہوں میں ہوگی تو بچارہ ویسے ہی مر جاے گا ۔۔۔
چچچچچ افسوس ۔۔۔
کےکے نے شراب
پیتے افسوس سے کہا ۔۔۔۔
افففف میری گرے بیوٹی جلدی سے میرے قریب آو ۔۔۔
میں تمہاری ان نشیلی آنکھوں میں کھونا چاہتا ہو ۔۔۔۔
پتہ نہیں کب تم میری پناہوں میں آو گی ۔۔۔
مجھے بے صبری سے انتظار ہے اس دن کا ہاے ۔۔۔
کےکے شراب میں فل مدہوش ہوتے محمل کی تصویر دیکھتا بول رہا تھا ۔۔۔۔
