Dadhkan By Rania Mehar Readelle50327 Dadhkan (Episode 18)
Rate this Novel
Dadhkan (Episode 18)
Dadhkan By Rania Mehar
واٶہہہہہہہ۔۔۔
اتنا خوبصورت روم ۔۔۔
محمل نے روم کے اندر انٹر ہوتے چہکتے ہوے کہا ۔۔۔
وہ پورے داٶد پیلس کو گھوم کر دیکھ رہی تھی ۔۔
جب اسے ایک روم ملا جس کے باہر ریڈ روم لکھا تھا ۔۔۔
ملازمہ سے کی مانگ کر اس نے روم اوپن کیا تھا ۔۔۔
جبکہ ملازمہ اب ڈر رہی تھی ۔۔
داٶد کے جلال سے کون اسے بچاۓ گا ۔۔۔
روم کے اندر انٹر ہوتے محمل کو محسوس ہوا جیسے وہ ایک باربی لینڈ میں آ چکی ہو ۔۔۔
ہر طرف باربی چیزوں اور باربی ڈول سے روم کو سجایا گیا تھا ۔۔۔۔
اففف کتنا خوبصورت روم ہے پتہ نہیں کون خوش نصیب ہے جس کو یہ روم ملے گا ۔۔۔
محمل نے روم کی ایک ایک چیز کو چھوتے حسرت سے کہا ۔۔۔
کس کا روم ہو سکتا ہے لگتا تو کسی لڑکی کا ہے
یہ رنگ برنگ خوبصورت ڈریس جوتے جیولری ہر وہ چیز جو ایک لڑکی کو چاہے ۔۔۔
پتہ کرنا ہو گا کون ہے یہ لڑکی ۔۔۔
محمل نے وڈراب چیک کرتے سوچا ۔۔۔
جبکہ دل میں جلیس بھی ہو رہی تھی ۔۔۔
کون ہے وہ جس کے لیے اتنا کچھ کیا گیا تھا ۔۔۔
آدھر آٶ کس کا روم ہے یہ ۔۔
محمل نے جلیس ہوتے شکیلہ کو پاس بلاتے پوچھا ۔۔۔
وہ سر کو پتہ ہو گا ۔۔۔
داٶد سر اپنے ہاتھوں سے روم کو صاف کرتے ہے اور کسی کو اجازت نہیں ہے اس روم میں آنے کی میم آپ باہر چلی جاے ورنہ میری خیر نہیں ۔۔۔
شکیلہ نے رونی صورت بناتے منت کرتے کہا ۔۔۔
نہیں وہ۔۔۔
سر آ گے آپ پلیز چلی جاۓ یہاں سے ۔۔۔
اس سے پہلے محمل کچھ کہتی جب داٶد کی گاڑی کا سائرن سنتے شکیلہ نے ڈرتے ہوے کہا ۔۔۔
مرو یہاں پر تم میں خودی پوچھ لو گی مسٹر کھڑوس سے ۔۔
محمل نے چڑتے ہوے کہتی باہر چلی گی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
ڈیڈ ایک بات پوچھو میں ۔۔۔
کھانے کی ٹیبل پر بیٹھی محمل نے تیمور صاحب کی طرف دیکھتے پوچھا ۔۔۔
وہ تینوں رات کا کھانا کھانے بیٹھے تھے ۔۔۔
داٶد کھانا کم سوچ زیادہ رہا تھا ۔۔۔
جب محمل کی آواز پر متوجہ ہوا۔۔۔
کیا میں داٶد پلیس گھوم سکتی ہو مطلب ہر روم دیکھ سکتی ہو کیا ۔۔۔
وہ ایک روم آج دیکھا تھا بہتتتت پیارا تھا ۔۔
تو ۔۔۔۔
نہیں بلکل نہیں خبردار کبھی اس روم میں گی جس کا روم ہے وہی جا سکتی ہے ۔۔۔
اگر تم گی تمہاری جان جاۓ گی سمجھی ۔۔۔
ویسے جہاں مرضی مرو میری بلا سے ۔۔۔
محمل کی بات کاٹتے داٶد نے غصہ بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔
لیکن محمل پر زرا فرق نہ پڑا اس نے فل اگنور کرتے تیمور صاحب سے کہا ۔۔۔
ڈیڈ میرا گھر ہے یہ میں جہاں مرضی جاٶ کوئ مجھے روکنے والا نہیں ہے ۔۔۔
آپ نے ہی کہا تھا ۔۔۔
محمل نے معصوم سی شکل بناتے تیمور صاحب سے کہا ۔۔
ہاں میری بیٹی کا گھر ہے جہاں مرضی جا سکتی ہو ۔۔۔
تیمور صاحب نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔
(ڈرامہ کوئین ) داٶد نے دانت پیستے محمل کو لقب دیا ۔۔۔
آہہہہ آہہہہ ۔۔
داٶد بیٹا کیا ہوا ۔۔۔
تیمور صاحب جو کھانے میں مصروف تھے اچانک داٶد کے چلانے پر متوجہ ہوتے بولے ۔۔۔
داٶد جو سکون سے بیٹھا تھا جب اپنے پاٶں پر محمل کے جوتے کا وزن پڑا ۔۔۔
محمل نے ٹبیل کے نیچے اپنی ہیل داٶد کے پاٶں پر ماری تھی ۔۔۔۔
اس حملہ کے لیے داٶد تیار نہ تھا تبھی چلا اٹھا ۔۔۔
کچ۔کچھ نہیں ڈیڈ آپ کھانا کھاے ۔۔۔
داٶد نے دانت پیستے محمل کو دیکھتے کہا ۔۔
جو سکون سے بیٹھی کھانا کھا رہی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔۔۔
پاٶں اٹھاٶ جلدی ورنہ جو میں کرو گا پھر دیکھنا ۔۔۔
داٶد نے محمل کو مسج کرتے کہا ۔۔
محمل نے مسج پڑھ کے اگنور کیا ۔۔۔
(اچھا پنگے بھی مجھ سے لینے ہے اور اکڑ بھی مجھے دیکھانی ہے ۔۔۔کل سے جینا حرام کیا ہے محمل نے اپنی ان مستوں اور حرکتوں سے ۔۔۔
آگے سے کچھ بولتی نہیں چلو ایسا ہی سہی ۔۔)
داٶد نے دل میں سوچتے ہوے دیکھا ۔۔۔
(کیا دماغ چل گیا ہے مسڑ کھڑوس کا ایسے مسکرا رہا ہے جیسے پتہ نہیں کوئ چیز مل گی ہو )…
محمل نے داٶد کو اپنی طرف دیکھتے مسکراتے ہوے دل میں سوچا ۔۔۔
آہہہہہ آہہہہہہہ ۔۔۔
ہاۓ میری کمر ۔۔۔
چیئر سے نیچے گری محمل زور سے چلا رہی تھی ۔۔۔
محمل جو اپنے پاٶں سے داٶد کو اور تنگ کرنے کے لیے اس کی ٹانگ پر مارنے والی تھی ۔۔۔
جب داٶد نے اپنی ٹانگ سے اس کی ٹانگ کو لاک کرتے اپنی طرف زور سے کھینچا ۔۔۔
اور محمل چیئر سے گری پڑی ۔۔۔
ارے بیٹا کیا ہوا ۔۔
داٶد آو اٹھاو محمل بیٹا کو ۔۔
تیمور صاحب نے فکرمندی سے کہا ۔۔۔
سوری ڈیڈ میں جا رہا ہو اتنا ٹائم نہیں اسے اٹھاو ویسے بھی گری پڑی رہتی ہے یہ ۔۔۔
داٶد نے طنزیہ مسکراہٹ لاتے کہتا روم میں چلا گیا تھا ۔۔۔
کھڑوس ۔سڑا ہوا بیگن ۔کڑوا کریلا ۔جلاد ۔۔
محمل نے غصہ سے کھڑی ہوتی بولی ۔۔
شکریہ ڈارلنگ ایسی تعریف کسی نے نہیں کی ۔۔
داٶد نے اوپر کھڑے ہوتے اونچی آواز سے کہا ۔۔۔
جبکہ محمل ڈارلنگ الفاظ سن کر بلش کرنے لگی تھی ۔۔۔
ہاہاہہہاہہہاہا ۔۔۔
ایسے ہی میرے بیٹے کو ہنستے بولتے رکھنا بیٹا ۔۔۔
محمل داٶد کی نوک جوک کو انجواۓ کرتے تیمور صاحب نے ہنستے محمل کے سر پر ہاتھ رکھتے کہا ۔۔۔
————————————————————
تم بیٹھ نہیں سکتی کیا ۔۔
کب سے برداشت کر رہا ہو ۔۔
کبھی ادھر کبھی اُدھر چل پھر رہی ہو ۔۔
روم ہے یہ کوئ پارک نہیں جاٶ سکون سے سو جاٶ مجھے کام کرنے دو ۔۔۔
داٶد جو کب سے لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا ۔۔۔
لیپ ٹاپ پر وہ ضروری کام کر رہا تھا جب محمل جان بوجھ کر اس کے کبھی پاس آتی تو کبھی روم میں چلنا پھرنا شروع کر دیتی ۔۔۔
داٶد نے تنگ آتے غصہ سے بول دیا ۔۔
محمل اگنور کیے سکون سے شیشے کے سامنے کھڑی ہاتھوں پر لوشن لگا رہی تھی ۔۔۔
(اففف جب تک سوری نہ کہا یہ ایسے ہی کرے گی ۔۔
سوری کر لیتا ہو نہیں تو دماغ کھاے گی میرا ۔۔۔)…
داٶد نے سامنے اسے دیکھتے سوچا ۔۔۔
یہاں آو تم داٶد نے کھڑے ہوتے کہا ۔۔۔
(ہاے اب مجھے کون بچاے گا ۔۔
یہ کھڑوس مجھے مارنے والا ہے ۔۔۔
ہاے کیا تھا کیوں تنگ کیا ہے اسے اب مجھے پکا مارے گا ۔۔۔میں کیا کرو اب ۔۔)
محمل نے داٶد کا سرخ انگارہ چہرہ دیکھتے دل میں ڈرتے سوچتے پاس جا رہی تھی ۔۔۔
کیا مسئلہ ہے کیوں ایسے واک کر رہی تھی ۔۔
داٶد نے دانت پیستے محمل کا بازو پکڑتے پوچھا ۔۔۔
محمل خاموش کھڑی تھی ۔۔۔
اچھا سوری اب مرو جا کر سو جاٶ ۔۔
داٶد نے چڑتے ہوے کہا ۔۔۔
کییییییاااا سوری یہ سوری تھا یا احسان سوری مسٹر کھڑوس اپنا سوری رکھے مجھے نہیں چاہے ۔۔۔
محمل نے غصہ سے کہتی بیڈ کی طرف جانے لگی ۔۔۔
جب داٶد نے وہی بازو سے پکڑتے دیوار کے ساتھ پن کیا ۔۔۔
محمل شوک کھڑی تھی ۔۔۔
کیا کہا سوری رکھو تمہارے کیا اب پاٶں پکڑٶ میں ۔۔۔
داٶد نے اپنا چہرہ محمل کے چہرے کے پاس لاتے غراتے ہوے کہا ۔۔۔
محمل کی دھڑکن تیز ہو گی تھی ۔۔
داٶد کو اپنے قریب دیکھ کر وہ سب کچھ بھول چکی تھی ۔۔۔
(چپ ہے مجھے اکڑ دیکھا رہی ہے ۔۔۔
ابھی بولنے پر مجبور کرتا ہو اسے ۔۔
ڈی ایم کو تنگ کرے گی یہ ۔۔۔)
داٶد نے چپ کھڑی محمل کو دیکھتے سوچا ۔۔۔
سوری معاف کر دو ۔۔
داٶد نے محمل کے ماتھے پر اپنے لب رکھتے کہا ۔۔۔
محمل چپ آنکھیں بند کیے کھڑی تھی ۔۔۔
(کھڑوس انسان کو کیوں تنگ کرتی ہو اب یہ ایسے ہی میرا حال برا کرے گا افففف)
محمل نے گھبراتے ہوے سوچا ۔۔۔
سوری جب تک معاف نہیں کرو گی تب تک جان نہیں چھوڑنی میں نے ۔۔
داٶد نے محمل کے کان کی لو کو چھوتے بہکے ہوے انداز سے کہا ۔۔۔
سوری ۔۔
داٶد نے اپنے لب محمل کی شہہ رگ پر رکھتے کہا ۔۔۔
سو۔۔۔
معاف کیا تمہیں اب دور ہو مجھے سے ۔۔۔
اس سے پہلے داٶد گردن سے نیچے جاتا جب محمل نے گھبراتے ہوے کہا ۔۔۔
شکریہ اب تم جا سکتی ہو ۔۔
آج کے بعد مجھے تنگ مت کرنا ورنہ پھر سمجھ جاٶ تم ۔۔
داٶد نے محمل کی حالت انجواۓ کرتے طنز سے کہا۔۔۔
کھڑوس بے شرم انسان زرا جو شرم ہو اس انسان کو ۔۔۔
محمل نے منہ میں بڑبڑاتے ہوۓ اپنا نائٹ ڈریس صیح کرتے بیڈ پر لیٹ گی تھی ۔۔۔
کیا بے شرم ابھی تو کچھ کیا بھی نہیں اور تم ڈر گی ۔۔
داٶد نے اپنی آنکھ ونک کرتے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔
پاگل ہو گیا ہے یہ اب نہیں تنگ کرنا میری توبہ ۔۔
محمل نے داٶد کی حرکت دیکھتے آنکھوں کو بند کرتے سوچا ۔۔۔
————————————————————
چند۔چندہ نہیں نہیں ۔۔۔
محمل جو گہری نیند میں سو رہی تھی جب اسے کسی کے چلانے کی آواز آ رہی تھی ۔۔
تمہیں کیا ہوا ہے جو ایسے گھوم رہے ہو ۔۔
اور اتنی گرمی بھی نہیں آی جو شرٹ لیس ہو ۔۔
محمل نے جاگتے ہوے سامنے واک کرتے داٶد کو دیکھتے کہا ۔۔۔
جو اپنی شرٹ اتار کر واک کرتا پریشانی سے بول رہا تھا ۔۔۔
کچھ ہوا ہے کیا مجھے بتاٶ ۔۔
میں ڈیڈ کو لے کر آتی ہو ۔۔۔
محمل نے پاس جاتے داٶد سے پوچھا ۔۔۔
جو مسلسل اپنا سینہ مسل رہا تھا ۔۔۔
نہیں ڈیڈ نہیں تم بھی جاٶ سو مجھے اکیلا چھوڑ دو ۔۔۔
داٶد نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔
یہاں آو کچھ ہوا ہے کیا ۔۔۔
محمل نے بازو پکڑتے بیڈ پر بیٹھاتے پوچھا ۔۔۔
میری چندہ ٹھیک نہیں محمل وہ درد میں ہے اسے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔
اسے میری ضرورت ہے میں کتنا بے بس ہو اسے نہ دیکھ سکتا ہو نہ ہی جا سکتا ہو ۔۔
میرا دل جیسے پھٹ جاۓ گا ۔۔
محمل میں ایسا کیا کرو کہ اپنی چندہ کے پاس پہنچ جاٶ ۔۔
وہ تڑپ رہی ہے رو رہی ہے کوئ اسے دیکھنے والا نہیں ہے ۔۔۔
داٶد نے بے بس ہوتے کہا ۔۔
اس کے چہرے پر صرف اذیت ہی اذیت تھی ۔۔۔
محمل سوچ میں تھی کون ہے چندہ جس کے لیے داٶد تڑپ رہا تھا ۔۔۔
ہم مل لے گے آپ کی چندہ سے ریلکس رہے ۔۔
طعبیت خراب ہو گی ۔۔۔
محمل نے حوصلہ دیتے کہا ۔۔۔
وہ کیسے دیکھ سکتی تھی ۔۔
داٶد کو اتنا بے بس وہ تو بس چاہتی تھی وہ لڑے بولے لیکن یہ داٶد تو اور کوئ تھا ۔۔
جو بکھری حالت میں سامنے بے بس ہوا بیٹھا تھا ۔۔۔
لیکن مجھے ابھی ملنا ہے اس سے محمل دیکھنا چاہتا ہو کس نے میری چندہ کو تکلیف دی ہے ۔۔۔
داٶد نے غصہ سے غراتے ہوے کہا ۔۔۔
اچھا ہم جاتے ہے آپ یہ پانی پی لے ۔۔۔
محمل کو جب سمجھ نہ آیا وہ کیسے اسے ہنیڈل کرے پانی میں نیند کی گولی ڈال کر اسے دیتی کہہ رہی تھی ۔۔۔۔
لیکن میرے سینے میں درد اور جلن ہو رہی ہے ۔۔۔
یہ بھی ختم کرو ۔۔۔
داٶد نے محمل کا ہاتھ پکڑتے اپنے دل پر رکھتے کہا ۔۔۔
یہ پی لو آرام آے گا ۔۔۔
محمل نے زبردستی پانی پلاتے ہوے کہا ۔۔۔
ہم ملے گے چندہ سے تم دیکھنا میری چندہ بہت پیاری ہے اسے میں اپنے پاس رکھو گا ۔۔
کوئ دکھ درد اس کے پاس نہیں آنے دو گا ۔۔۔
تم۔۔۔
ششششش سو جاۓ آرام آے گا ۔۔۔
داٶد جو غنودگی میں پاس ہی لیٹا بول رہا تھا جب محمل کے چپ کرواتے ہوے کہا ۔۔۔
(کون ہو سکتی ہے یہ لڑکی جس کے لیے داٶد تڑپ رہا ہے ۔۔۔
ہاے کتنی خوش نصیب لڑکی ہے جس کے لیے یہ کھڑوس اداس ہوا پڑا ہے ۔۔
ملنا پڑے گا اس چندہ نامی لڑکی سے ۔۔)
محمل نے داٶد کا چہرہ دیکھتے سوچا ۔۔۔
جو اب نیند میں بھی آہستہ آہستہ بڑبڑا رہا تھا ۔۔۔
محمل کو رشک آیا تھا چندہ نامی لڑکی پر جس کے لیے اتنا خوبصورت مرد تڑپ رہا تھا ۔۔۔
————————————————————
ڈیڈ ایک بات پوچھو۔۔۔
محمل نے صبح جاگتے نیچے کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے پوچھا ۔۔۔
وہ ساری رات نہ سو سکی تھی ۔۔۔
تبھی داٶد کو جاگۓ بنا خودی نیچے آ چکی تھی ۔۔۔
ہاں بیٹا بولو ۔۔
تیمور صاحب نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔
محمل رات والی ساری بتاتے ہوے پوچھا ۔۔۔
جو بیٹا بس یہ کہو گا کچھ بھی ہو جاۓ میرے بیٹے کا ساتھ مت چھوڑنا باقی وہ خودی بتا دے گا چندہ کون ہے ۔۔۔
تیمور صاحب نے سکون سے جواب دیا ۔۔
لیک۔۔۔
مارننگ ڈیڈ میں آفس جا رہا وہی ناشتہ کر لو گا فکر مت کرنا آپ ۔۔۔
اس سے پہلے محمل کچھ کہتی جب داٶد تیار ہاش بشاش سا آتے ہوے تیمور صاحب کے پاس آتا بولا ۔۔
(عجیب بندہ ہے ایسے فریش لگ رہا ہے جیسے رات اسے کچھ ہوا نہ ہو ۔۔
میں تو ڈر گی تھی پتہ نہیں مر نہ جاے اور اب ایسا لگ رہا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اسے ۔۔
کیا چیز ہے یہ سمجھ سے باہر ہے ۔۔)
محمل حیرت سے منہ کھولے داٶد کو دیکھتی سوچ رہی تھی ۔۔۔
تمہیں کیا ہوا ہے سکتے میں چلی گی ہو ۔۔۔
داٶد نے پاس آتے محمل کا منہ بند کرتے مسکراتے پوچھا ۔۔۔
تم نہ جاٶ رات تمہاری طیبعت ٹھیک نہیں تھی اور۔۔۔
بکواس کم کیا کرو ۔۔
زرا نرمی سے کیا بات کر لو سر چڑ جاتی ہو میرے رات مر نہیں رہا تھا ۔۔۔
جہاں سب نے چھوڑ دیا وہی تم بھی چھوڑ دیتی ۔۔
بس پٹر پٹر زبان چل سکتی ہے تمہاری ۔۔
داٶد نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔
وہ اس لیے بولا تھا ۔۔۔
کیونکہ وہ چاہتا تھا محمل رات کے بارے میں زیادہ کچھ نہ سوچے ۔۔۔
دفع ہو جاو تمہارے ساتھ کوئ ہمدردی بھی نہ کرے میں پاگل تھی جو ساری رات ٹیشن میں رہی میں ۔۔۔
محمل نے پھاڑ کھانے کو بولی ۔۔۔
شکریہ مجھے ہمدردی سے نفرت ہے ۔۔
دور رہا کرو مجھے سے سمجھی ورنہ میں جب تمہارے قریب آیا تو تمہاری جان جاۓ گی ۔۔۔
داٶد نے طنز کرتے کہا ۔۔۔
انہہ جاٶ اپنی اس چندہ سورج کے پاس ۔۔
محمل نے منہ بناتے کہتے وہاں سے واک آوٹ کر چکی تھی ۔۔۔
ڈرامہ کوئین ۔۔
داٶد نے دور جاتی محمل کو دیکھتے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔
———————————————————–
تم نے رات اس لڑکی کو کیوں مار دیا ڈی ایم ہمارا یہ پلان نہیں تھا ۔۔۔
داٶد کے آفس میں اس وقت ارتضٰی ہاشم داٶد تینوں بیٹھے بات کر رہے تھے ۔۔۔
جس کے لیے پلان بنایا تھا اس میں کامیاب ہوۓ تھے لیکن جو لڑکی ڈی ایم کے ساتھ تھی اس کا قتل ہو چکا تھا ۔۔۔
تبھی اےاے نے شوک کی حالت میں پوچھا ۔۔۔۔
دماغ کھا رہی تھی بہت میرا تبھی مر گی وہ ۔۔
ڈی ایم نے اپنی سرد نیلی آنکھوں سے غراتے ہوے بولا ۔۔۔
کیا کہا تھا اس نے جو تو نے یہ کام کیا ۔۔۔
اےاے نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔
ڈی ایم کسی لڑکی کا قتل کر دے ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔
ایویں بکواس زیادہ فری ہو گی تھی کہتی میرے ساتھ رات گزارو اور تو جانتا ہے ہم ایسا کچھ بھی نہیں کرتے پھر بھی تبھی وہ دنیا سے کوچ کر گی ۔۔۔
داٶد نے بیزار ہوتے کہا ۔۔
ہاہاہہاہہا یار ویسے تو ہے خوبصورت اگر میں لڑکی ہوتی تو تجھ سے شادی کرتا ۔۔۔
اےاے نے مذاق بناتے ہوے کہا ۔۔
شیٹ اپ اےاے ۔۔
ڈی ایم نے غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
ویسے یہ آج سڑا ہوا بیگن کیوں بنا ہے ۔۔۔
اےاے سے جب نہ رہا گیا اس نے خاموش بیٹھے ایچ ایم کو دیکھتے کہا ۔۔۔
کیوں خاموش ہو ایچ ایم بتاٶ کیا بات ہوئ ۔۔
ڈی ایم نے بھی متوجہ ہوتے کہا ۔۔۔
وہ سمجھ نہیں آ رہا کیا بولو ۔۔
آفس آتے ہی اےاے اسے بتا چکا تھا وہ اپیل جوس نہیں شراب تھی جو وٹیر نے چیج کر دی تھی ۔۔۔
تب سے ایچ ایم شرمندگی سے بیٹھا سوچ رہا تھا اس نے کیا کیا مسکان کے ساتھ ۔۔۔
دیکھ اگر اس وجہ سے پریشان ہو کہ اپنی بیوی کو پسند نہیں کرتے یار بھابھی کو خوش رکھو ۔۔
اپنی فملیی بناٶ اپنی اچھی زندگی گزارو ۔۔
یہ پریشان ہونا چھوڑ دو ۔۔
ڈی ایم نے سمجھاتے ہوے کہا ۔۔۔
ہم دونوں کو ایسا کہتے ہو ۔۔۔
محمل کے ساتھ تم بھی خوش رہو جو ہوا بھول جاٶ ڈی ایم اپنی زندگی کی شروعات کرو ۔۔۔
ایچ ایم نے الٹا اسے ہی سمجھاتے ہوے کہا ۔۔۔
تیری بات اور ۔۔۔
کیا بات اور ہے ہماری بتا زرا ۔۔۔
اےاے نے بات کاٹتے غصہ سے پوچھا ۔۔۔
تم دونوں جائز بچے ہو ۔۔
میں ناجائز ہو میرا کوئ نہیں بن سکتا ۔۔۔
ڈی ایم نے حقارت سے کہا ۔۔
لیکن یہ بھی تو سوچ محمل ڈی ایم کے لیے پاگل ہے ۔۔
جب اسے پتہ چلے گا تم ہی ہو تو کتنا پیار کرے گی یہ جائز ناجائز کچھ نہیں ہوتا یار ۔۔۔
ایچ ایم نے چکہتے ہوے کہا ۔۔۔
ڈی ایم سے محبت ہے اسے لیکن ایک ناجائز بچے کو وہ نہیں اپناۓ گی کون بیوی ایسی ہو گی جیسے پتہ چلے اس کا شوہر ایک ناجائز ہے بلکہ کسی کے گناہ کی سزا ہو میں ۔۔۔
ڈی ایم نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا ۔۔۔۔
نہیں یار ایسا نہیں جب اسے پتہ چلے گا تم کیا کام کرتے ہوے اسے فخر ہو گا تم پر ۔۔۔
اےاے نے حوصلہ دیتے کہا ۔۔
جب محمل کی پہلی دفعہ گرے آنکھوں کو دیکھا تھا مجھے ایسا لگا جیسے میری دھڑکن مل گی ہو ۔۔
پتہ نہیں دل میں کیا آیا جلدی سے دعا کر دی اے اللہٌمیرے نصیب میں ہوئ تو مجھے دینا اگر نہ ہوئ اس لڑکی کو کسی کا نہ ہونے دینا ۔۔
ایک دن میں ہی میں تڑپ گیا تھا اس کے بارے میں سوچنا مجھے اچھی لگنے لگی تھی ۔۔۔۔
پھر جب تم نے نکاح کا کہا میں مان گیا ۔۔
وجہ محمل میرا عشق ہے میرے دل کی دھڑکن میں نہیں چاہتا تھا میرے علاوہ کوئ بھی اسے دیکھے یا چھوۓ ۔۔۔
نکاح تو کر لیا لیکن مجھے اپنی حقیقت بھی معلوم تھی ۔۔
میرا مقصد صرف اسے اپنے قریب رکھنا تھا تاکہ کوئ بری نظر بھی نہ دیکھ سکے اسے ۔۔۔
محمل کے ساتھ اس لیے برا برتاٶ کرتا ہو اسے مجھے سے محبت نہ ہو ۔۔۔
میں نہیں چاہتا وہ پاگل لڑکی محبت کرنے کے بعد میری حقیقت جاننے کے بعد مجھ سے دور رہے ۔۔۔
نفرت کرے مجھ سے کوئ مسئلہ نہیں پاس تو ہے میرے سارا دن اس کی مستیاں دیکھتا ہو ۔۔۔
خوش ہوتا ہو میری محبت میری دھڑکن سامنے ہے ۔۔۔
ڈی ایم نے آج اپنے دل کی بات دونوں کے سامنے رکھتے عقیدت سے محمل کا ذکر کرتے کہا ۔۔۔۔
پھر تم بتا دو بھابھی کو کہ وہ تمہارے لیے کیا ہے ۔۔۔
تمہارا حق ہے یار ایک نارمل انسان کی طرح لائف جینا ۔۔۔
تمہارے بھی بچے ہو خوشحال فملیی ہو ۔۔۔
اےاے نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔۔
نہیں میں نہیں چاہتا محمل کو کبھی بھی پتہ چلے میں اس سے عشق کرتا ہو ۔۔۔
میری زندگی کا کوئ بھروسہ نہیں آج ہو کل نہ رہو ۔۔۔
مجھ سے محبت کر کے وہ صرف دکھ پاۓ گی ۔۔۔
میرے مرنے پر وہ نازک لڑکی ٹوٹ کر بکھر جاۓ گی ۔۔۔
میں نہیں چاہتا اس کے اتنا قریب جا کر مر جاٶ ۔۔۔
اس سے بہتر ہے نفرت کرے مجھ سے میں اتنا برا برتاٶ کرو گا وہ محبت کی بجاۓ نفرت کرے گی مجھ سے ۔۔۔
میری زندگی میں بس چندہ کو تلاش کرنا رہ گیا ہے ۔۔
پھر چاہے موت آ جاے کوئ غم نہیں ۔۔۔
ڈیڈ انھوں نے میرے لیے اپنی جوانی ایسے گزار دی ۔۔۔
ان کا بھی حق تھا ۔۔۔
بیوی بچے ہو ۔۔۔
لیکن انھوں نے شادی نہیں کی صرف میرے لیے ۔۔۔
اور میں احسان فراموش نہیں ہو ۔۔۔
اب محمل کی محبت کا احسان نہیں لینا چاہتا ۔۔۔
ڈی ایم ہو میں محمل کو کبھی پتہ چلنے نہیں دو گا بات ختم ۔۔۔
ڈی ایم نے دو ٹوک بات کرتے کہا ۔۔۔۔
تم بتاٶ کیا ہوا ہے ایچ ایم ۔۔۔
ڈی ایم نے ایچ ایم کو مخاطب کرتے پوچھا ۔۔۔
ایچ ایم نے ساری بات آرام سے بتا دی تھی ۔۔۔
دیکھو می۔۔۔۔
چٹاخ چٹاخ ۔۔۔
جاہل انسان حیوان ہو تم انسان کہلانے کا بھی حق نہیں تمہیں ۔۔۔
ایچ ایم کی بات پوری ہونے سے پہلے ڈی ایم طش کے عالم میں دو تھپڑ مارتے ہوے کہا ۔۔۔۔
کیسے مرد ہو تم ہم عورتوں کی حفاظت کرتے ہے ۔۔۔
سب کی عزت بچاتے ہے اور تم نے کیا کیا اپنی ہی بیوی کے ساتھ ظلم کر دیا ۔۔۔
اےاے نے افسوس سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔۔
میرا قصور نہیں یہ شراب کی وجہ سے سب کچھ ہوا ۔۔۔
میرا مقصد مسکان کو دکھ دینا نہیں تھا ۔۔۔
معاف کر دو مجھے ۔۔۔
ایچ ایم نے ندامت سے کہتے معافی مانگی ۔۔۔
کیسے مرد ہو مان بھی رہے تمہاری غلطی ہے بجاے یہ کہ تم اپنی بیوی کو حوصلہ دیتے معافی مانگتے تم الٹا اسی پر الزام لگا کر آے گے ۔۔۔
شاباش مسڑ ہاشم مراد آپ کو تو آسکر کا ایواڈ ملنا چاہے ۔۔۔
ڈی ایم نے غصہ سے غراتے ہوے طنز کیا ۔۔۔۔۔
ایچ ایم خاموشی سے سر جھکاے کھڑا تھا ۔۔۔۔
اگر یہ حرکت میں تمہاری بہن محمل کے ساتھ کرتا تو ۔۔۔
داٶدددددددد ۔۔۔
ڈی ایم کی بات پوری ہونے سے پہلے ایچ ایم چلا آٹھا ۔۔۔
بہن ہے وہ میری سمجھے ۔۔۔
ایچ ایم نے دانت پیستے ہوے کہا ۔۔۔۔
وہ کسی کی بہن نہیں تھی کیا جو تم نے اس کے ساتھ ایسا کیا ہے ۔۔۔
شوہر تھے اس کے حفاظت کرتے لیکن تم نے صرف اپنی ہوس پوری کی ۔۔۔
اور یہ چلانے کا کام کسی اور کو دیکھاٶ ۔۔۔۔
ڈی ایم نے غصہ سے ایچ ایم کا گربیان پکڑتے کہا ۔۔۔
معافی مانگ تو رہا ہو یار ۔۔۔
ایچ ایم نے شرمندہ ہوتے کہا ۔۔۔
ہم سے نہیں اپنی بیوی سے مانگو جب وہ معاف کر دے پھر آنا ہمارے پاس ۔۔۔
اور ہاں آج کے بعد ہماری ٹیم میں تم شامل نہیں ہو ۔۔۔
میں ایسے انسان کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتا جو حیوان ہو ۔۔۔
اب دفع ہو جاٶ میری نظروں سے دور ۔۔۔۔
ڈی ایم نے غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
جبکہ ایچ ایم اور اےاے بس منہ دیکھتے رہ گے ۔۔۔
————————————————————
یہ اتنے سارے گاڈرز کیوں ہے داٶد پلیس ۔۔۔۔
محمل صبح سے پلیس گھومتی رہی تھی اب وہ اپنے پاپا سے ملنے جا رہی تھی ۔۔۔
جب اس نے اتنے سارے گاڈرز کو پلیس میں دیکھتے سوچا ۔۔۔۔
میم آپ یہاں جاۓ خطرہ ہو سکتا ہے ۔۔۔
ایک گاڈر نے گھبراتے ہوے کہا ۔۔۔
محمل ان سب کے پاس آ گی تھی ۔۔۔۔
یہ اتنے سارے کیوں ہو آپ سب ۔۔۔
محمل نے معصوم سی شکل بناتے پوچھا ۔۔۔
وہ سر نے ہمیں یہاں ڈیوٹی کے لیے رکھا ہے ۔۔۔
ایک گاڈر نے سر جھکاتے ہوے بتایا ۔۔۔
بیٹا تم آدھر کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔
تیمور صاحب نے باہر آتے محمل سے پوچھا تھا ۔۔۔
جو تیار ہوئ کھڑی تھی ۔۔۔
ریڈ شارٹ فراک کپری میں ملبوس سرخ وسفید رنگیت لے محمل بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔۔
وہ پاپا سے ملنے جانا تھا ۔۔۔
پھر یہ گاڈرز دیکھ لے ۔۔۔
محمل نے اپنے سامنے کھڑے گاڈرز دیکھتے کہا ۔۔۔۔
یہ حفاظت کے لیے رکھے ہے آپ لے کر جاٶ انہیں ۔۔۔
تیمور صاحب نے بتاتے ہوے گاڈرز کو ساتھ جانے کا کہا ۔۔۔
یہ ایک درجن گاڈرز میں نہیں لے کر جا رہی بچی تھوڑی ہو میں ۔۔۔
محمل نے منہ بناتے کہا ۔۔۔
ہاہاہا یہ کم ہے بیٹا اس پلیس میں ٹوٹل پچاس گاڈرز موجود ہے باقی تو اندر ہے۔۔۔
تیمور صاحب نے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔
کییییااا لیکن کیوں ڈیڈ ۔۔۔
محمل نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
داٶد کے آفس جانا آپ یہ بوکس اسے دینا ۔۔۔
تیمور صاحب نے ٹالتے ہوے کہا ۔۔۔
میں کیوں جاٶ کھڑوس کے پاس ۔۔۔
محمل نے منہ بناتے کہا ۔۔۔۔
چلو میرا بیٹا جاٶ داٶد کو یہ دینا اور پھر پاپا کے پاس چلی جانا ورنہ شام ہونے والی ہے پھر داٶد جانے نہیں دے گا ۔۔۔۔
تیمور صاحب نے زبردستی گاڑی میں بیٹھاتے ہوے کہا ۔۔۔۔۔
————————————————————
س۔سر آپ نے اس عورت کو اپنے پاس بلایا تھا ۔۔۔
داٶد کے آفس کے اندر انٹر ہوتے اس کے ورکر نے ڈرتے ہوے کہا ۔۔۔
ہاں اندر لے آو اسے ۔۔۔
داٶد نے ماتھا مسلتے اجازت دیتے کہا ۔۔۔۔
السلام و علیکم صاحب جی ۔۔۔
آفس کے اندر انٹر ہوتی ایک غریب سی عورت نے اسلام کیا ۔۔۔
سارا سٹاف شوک میں تھا ایک فقیرنی کا داٶد آئمپیائر میں کیا کام ۔۔
وعلیکم السلام آپ یہاں آے ۔۔۔۔
داٶد احترام سے کہتے انہیں صوفے پر بیٹھایا ۔۔۔۔
جبکہ اب فیقرنی بیٹھی سوچ رہی تھی اتنے شاندار آدمی نے اسے کیوں بلایا تھا ۔۔۔
حالانکہ وہ دیکھنے میں بھی امیر لگ رہا تھا ۔۔۔
صاحب جی ک۔کیا کام تھا ۔۔۔۔
عورت نے ڈرتے ہوے پوچھا ۔۔۔۔
داٶد سے جو ماتھا مسل رہا تھا ۔۔۔
وہ آپ کہہ رہی تھی جو دعا مانگتی ہے پوری ہو جاتی ہے ۔۔۔
ایک دعا میرے لیے بھی کرے ۔۔۔
داٶد نے آس بھری نظروں سے دیکھتے کہا ۔۔۔
ہاں لیکن ۔۔۔
یہ چیک رکھے یہ مت سوچۓ گا میں پیسے دے رہا بس مدد کر رہا ہو ۔۔۔
کبھی کسی چیز کی ضرورت ہو آپ میرے آفس آ سکتی ہے ۔۔۔
بس دعا کر دے مجھے میری چندہ مل جاۓ ۔۔۔
داٶد نے بے چینی سے کہتے دس لاکھ کا چیک دیتے کہا ۔۔۔۔
جبکہ عورت حیرت میں مبتلا تھی کہاں وہ سڑک پر بھیگ مانگنے والی اور کہاں اب دس لاکھ کا چیک مل گیا تھا ۔۔۔۔
صرف ایک دعا کے لیے ۔۔۔
بس اس دعا کے لیے تم بیٹا اتنی رقم دے رہے ہو ۔۔۔
عورت نے چیک دیکھتے پوچھا ۔۔۔۔
میری چندہ اس رقم سے زیادہ قمیتی ہے آپ کو یہ کم لگے پیسے تو میں اور دیتا ہو ۔۔۔۔
داٶد نے جلدی سے کہتے چیک کاٹتے کہا ۔۔۔۔
نہیں بیٹا میری دعا ہے تمہاری چندہ مل جاۓ بس یہ پیسے رکھ لو ۔۔۔۔
عورت نے روکتے ہوے دعا دیتی ہوے بولی ۔۔۔
حرام کا پیسہ نہیں ہے یہ حق حلال کی کمائ ہے میری آپ رکھ لے کبھی ضرورت ہو میں حاضر ہو آپ کے لیے ۔۔۔
داٶد نے دعا سنتے خوش ہوتے کہا ۔۔۔
صدا خوش رہو بیٹا تمہارے ماں باپ کتنا خوش نصیب ہے جہیں تم جیسا بیٹا ملا ہے ۔۔۔
عورت نے جاتے ہوے خوش ہو کر دعا دیتے کہا ۔۔۔۔
جبکہ دعا کا سن کر داٶد خوش ہو رہا تھا اسے
چندہ اب مل جاۓ گی ۔۔۔۔
———————————————————–
جاٶ یہاں سے اب کیا میرے ساتھ اندر بھی جانا ہے ۔۔۔
محمل نے گاڑی سے باہر آتی سب گاڈرز پر غصہ کرتی بولی ۔۔۔
جو اب داٶد ائمپیائر کی بلند بلیڈنگ کے باہر کھڑی تھی ۔۔۔
میم آپ جاۓ ہم یہی ہے ۔۔۔
گاڈر نے سر جھکاتے ہوے کہا ۔۔۔
جاٶ یہاں سے میں اپنے شوہر کے ساتھ ہو کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔
محمل نے غصہ سے کہتی اندر انٹر ہو چکی تھی ۔۔۔
واٶ اتنا خوبصورت آفس ۔۔۔
محمل نے اندر انٹر ہوتے دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔
سارا آفس شیشے کا بنا ہوا تھا ۔۔۔
ویسے تمہں کیا واقعی عورت سے نفرت ہے ۔۔۔
پورے آفس میں مرد ہی مرد رکھے ہے تم نے ۔۔۔
محمل داٶد کے آفس میں انٹر ہوتے چہکتے ہوے بولی ۔۔۔۔
وہ جو سمجھی تھی داٶد کو غصہ آے گا وہ تو سکون سے بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
لیکن تم سے نفرت نہیں ہے مجھے ویسے کیوں آی ہو پتہ بھی ہے جان کو خطرہ ہے تمہاری ۔۔۔
داٶد نے پاس آتے محمل کی کمر میں ہاتھ ڈالتے قریب کرکے اس کا گال چھوتے بہکے ہوۓ انداز سے کہا ۔۔۔
وہ خوش تھا جلد ہی اس کی چندہ مل جاۓ گی ۔۔۔
د۔دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا یہ کیا حرکت تھی ۔۔۔
اس سے پہلے داٶد محمل کے لبوں پر جھکتا جب محمل نے خود سے دور کرتے ہکلاتے ہوے کہا۔۔۔
کیوں آی تھی ۔۔۔
داٶد نے تحمل سے پوچھا اب ۔۔۔
یہ بوکس لو میں جاتی ہو اب ۔۔۔
محمل نے جلدی سے بوکس دیتے ڈرتے ہوے کہا ۔۔۔۔
ہاہاہا ڈر گی دیکھو گی نہیں کیا ہے بوکس میں ۔۔۔
داٶد نے طنز کرتے کہا ۔۔۔
ہاں دیکھ لو گی مجھے کیا ہے ۔۔۔
محمل نے ہمت جمع کرتے کہا ۔۔۔
واٶ کتنا خوبصورت ہے یہ کیا ڈائمنڈ کا ہے ۔۔۔۔
بوکس کھولتے دیکھتے محمل نے چکہتے ہوے پوچھا ۔۔۔۔
بوکس میں ڈی ایم نام کا خوبصورت لاکٹ تھا ۔۔۔۔
نہیں لوہے کا ہے ہاتھ لگا لو ۔۔۔۔
داٶد نے منہ بناتے کہا ۔۔۔۔
چلو دو پھر میرا ہے ۔۔۔
داٶد جو لاکٹ کو گھوما کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔
محمل کی آواز پر متوجہ ہوا ۔۔۔
ہاں تمہارا ہے وعدہ کرو کبھی خود سے جدا مت کرنا اسے ۔۔۔
داٶد نے پاس آتے ہوے کہا ۔۔۔
محمل تو خوش تھی اسے ڈی ایم نام کا لاکٹ ملا ہے ۔۔۔
کوئ خبر نہ تھی داٶد کہہ کیا رہا ہے ۔۔۔
پاگل لڑکی ایک ڈی ایم لاکٹ پر خوش ہے ۔۔۔
اگر اس کے سامنے ڈی ایم آ گیا تو کیا کرے گی ۔۔۔۔
داٶد نے خود گردن میں لاکٹ پہنتے دل میں سوچا ۔۔۔۔
دا۔داٶ۔۔داٶد ۔۔۔۔
محمل جو اپنے خیالوں میں گم تھی ۔۔۔
جب اپنی گردن کی بیک پر داٶد کے لبوں کا لمس محسوس ہوتے تڑپ کر ہکلاتے ہوے کہا ۔۔۔
جی میری جان ۔۔۔
داٶد مکمل مدہوش ہوا محمل کی فراک کو شولڈر سے زرا نیچے کرتے لب رکھتے بولا ۔۔۔۔
م۔می۔مجھے جانا ہے باۓ ۔۔۔
محمل نے جلدی سے دور کرتے ڈرتے ہوے بھاگتی ہوی کہتی چلی گی تھی ۔۔۔
اففف میں بھی نہ پاگل ہو اس لڑکی سے جیتنا دور جانے کی کوشش کرتا ہو ۔۔
یہ میرے اور قریب آ جاتی ہے ۔۔۔
داٶد نے اپنے سر پر ہاتھ مارتے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔۔
————————————————————
چھوڑو مجھے میرے پاپا کدھر ہے مجھے جانے دو ۔۔۔
محمل جو اپنے پاپا سے ملنے ایک پارک میں گی تھی ۔۔۔
اس سے پہلے وہ اور مختار صاحب مل پاتے جب دونوں کو اغوا کر لیا گیا تھا ۔۔۔۔
گاڑی میں بندھی محمل روتے ہوے چلا رہی تھی ۔۔۔
جبکہ دوسری گاڑی میں بے ہوش مختار صاحب کو لے کر جا رہے تھے ۔۔۔
———————————————————–
السلام و علیکم ڈیڈ ۔۔۔
آج بڑی خاموشی ہے مس ڈرامہ کوئین کدھر ہے ۔۔۔
پلیس کے اندر انٹر ہوتے داٶد نے مسکراتے ہوے پوچھا ۔۔۔
پورا داٶد پلیس خاموش تھا ۔۔۔۔
وعلیکم السلام بیٹا ۔۔۔
لیکن محمل تو تمہارے پاس گی تھی پھر اس نے اپنے پاپا کے پاس جانا تھا ۔۔
تیمور صاحب نے پریشان ہوتے بتایا ۔۔۔
وہ خود دیکھ رہے تھے اب تو رات بھی ہو گی تھی ۔۔۔۔
واٹ ڈیڈ آپ مجھے اب بتا رہے ہے پتہ بھی ہے جان خطرے میں ہے اس کے پھر بھی ۔۔۔۔
داٶد نے شوک میں چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
ہیلو اےاے ایچ ایم محمل اور پاپا کی جان کو خطرہ ہے میں فورًا لوکیشن سینڈ کرتا ہو تم لوگ پہنچو وہاں ۔۔۔
داٶد نے جلدی سے فون ملاتے ماتھا مسلتے ہوے کہا ۔۔۔
اسے ایسا محسوس ہوا جیسے دل کی دھڑکن رک چکی ہو ۔۔۔
یہ پاگل لڑکی جنگل والی جگہ پر کیا کر رہی ہے ۔۔۔
داٶد نے محمل کی لوکیشن چیک کرتے غصہ سے بولا ۔۔۔۔
لاکٹ کے اندر ایک چیپ لگی تھی جو محمل کی لوکشن بتا رہی تھی ۔۔۔۔
بیٹا میری غطل۔۔۔۔
ڈیڈ ریلکس کچھ نہیں ہوا ۔۔۔
ڈی ایم کے ہوتے کچھ نہیں ہوسکتا ۔۔۔
داٶد نے بات کاٹتے غصہ سے کہا ۔۔۔
———————————————————–
ابے یہ کون آگے کھڑا ہے ۔۔۔
گاڑی کے سامنے کھڑے داٶد کو دیکھ کر بولا ۔۔۔
جبکہ محمل ابھی چلا
چلا رہی تھی ۔۔۔۔
تیری موت آی ہے ۔۔۔۔
ڈی ایم نے غصہ سے آدمی کی شہہ رگ پر فائر کرتے بولا ۔۔۔
محمل فل شوک میں بیٹھی دیکھ رہی تھی ۔۔
چلو بھاگو یہاں سے ۔۔۔
گاڑی پر حملہ کرتے ڈی ایم نے پاس آتے محمل کو باہر نکال کر کہا ۔۔۔
میرے پاپا کھڑوس انہیں بچا لو ۔۔۔
محمل ابھی شوک کی حالت میں بولی ۔۔۔
چلو ساتھ پاپا سیف ہے۔۔۔
ڈی ایم نے سب پر فائر کرتے بھاگتے ہوے کہا ۔۔۔
اس کے لیے ضروری تھا محمل کو بچانا ۔۔۔
پاپا میرے میں ان کے بنا نہیں رہ سکتی انہیں بچا لو میرے پاپا ۔۔۔
محمل نے بھاگتے روتے ہوے چلا کر کہا ۔۔۔
چپ محمل ہم نے انہیں بچا لیا ہے شور مت کرو ۔۔۔
وہ یہاں بھی آ جاے گے ۔۔۔
داٶد نے چپ کرواتے ہوے کہا ۔۔۔
وہ بس محمل کی جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا ورنہ ابھی کہ ابھی مار دیتا ۔۔۔
دور رہو تم ڈی ایم نہیں اگر ہوتے ہو میرے پاپا کو بچا لیتے بزدل انسان ہو جیسے اس دن مجھے چھوڑ دیا تھا ۔۔۔
میرے پاپا میرے لیے سب کچھ ہے لیکن تم سجمھ۔۔۔۔
محمل جو اسے دور کرتی زور و شور سے چلا رہی تھی ۔۔۔
اچانک ڈی ایم نے محمل کو پکڑتے اس کے لبوں پر لب رکھ کر بولتی بند کروا چکا تھا ۔۔۔۔۔
محمل اس کے سینے پر مکے مارتی دبا دبا چلا رہی تھی ۔۔۔۔
افففف میری جان کتنا بولتی ہو ۔۔۔
اگر ایسے ہی چپ ہونا ہوتا ہے بتا دیا کرو مجھے کوئ مسئلہ نہیں ۔۔۔
ڈی ایم نے محمل کو نرمی سے چھوڑتے ہوے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔
محمل شوک میں کھڑی اسے گھور رہی تھی ۔۔۔
آرام سے بات سنو ۔۔۔
سامنے گاڑی ہے وہاں گاڈرز دیکھ رہی ہو جاٶ ان کے پاس پاپا بھی اُدھر ہے بس پیچھے واپس موڑ کر مجھے مت دیکھنا ۔۔۔
چاہیے کچھ بھی ہو جاۓ ۔۔۔
ڈی ایم نے محمل کے ماتھے کو چومتے ہوے پیار سے کہا ۔۔۔
محمل اپنے پاپا کے ملنے کی خوشی سے بھاگ گی تھی بنا یہ دیکھے ڈی ایم اسے حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
پاگل لڑکی اچھی بات ہے میری فکر نہیں کرتی اگر کرتی تو بکھر جاتی ۔۔۔
دور جاتی محمل کو دیکھتے ڈی ایم نے طنز کرتے کہا ۔۔۔
————————————————————
میرا لاکٹ کہاں گیا ۔۔۔
گاڑی کے اندر بیٹھتے محمل نے کہا ۔۔۔
مختار صاحب سے مل چکی تھی ۔۔۔
وہ اےاے اور ایچ ایم کے ساتھ آنے والے تھے ۔۔۔
تبھی محمل اکیلی گھر جا رہی تھی ۔۔۔
واپس گاڑی موڑ دو مجھے میرا لاکٹ چاہے ۔۔۔
محمل نے گاڈر سے گھبراتے ہوے کہا ۔۔۔
اس کا دل گھبرا رہا تھا جیسے کچھ برا ہونے والا ہو ۔۔۔
لیکن۔۔۔
تم جا رہے ہو یا نہیں۔۔۔
محمل نے غصے سے غراتے ہوے بات کاٹتی بولی ۔۔۔
————————————————————
تم غلط جگہ لے کر آے ہو یہ وہ جگہ نہیں ہے ۔۔۔
محمل نے اس جگہ پر پہنچتے ہوے گھبرا کر کہا ۔۔۔
کیونکہ اب اس جگہ پر خون ہی خون اور انسانوں کے جسم کاٹے ہوے پڑے تھے ہر طرف ۔۔۔
محمل کو دیکھ کر ہی الٹی آ رہی تھی ۔۔
وہ۔ہ۔
شخص کون ہے ۔۔۔
آس پاس سب کو دیکھتے ہوے محمل نے سامنے اشارہ کرتے پوچھا ۔۔۔
جہاں ایک مردہ آدمی کے اوپر ڈی ایم بیٹھا سکون سے ٹکڑاے کر رہا تھا ۔۔۔
وہ ڈی ایم ہے ۔۔
گاڈر نے بتایا ۔۔۔۔
نہ۔نہیں وہ ڈی ایم نہیں داٶد ہے ۔۔۔
داٶدددددد۔۔۔
محمل نے بے یقینی سے کہتے چلا کر کہا ۔۔۔
ڈی ایم جو سب کو مار کر اب سکون سے ان کے ٹکڑے کر رہا تھا جب محمل کی آواز سنتا اس کی طرف دیکھا ۔۔۔
وائٹ شرٹ کف موڑے ساری شرٹ خون سے بھری ہاتھ میں خنجر لیے اپنی سرخ نیلی آنکھوں میں وحشت لے ڈی ایم شوک سا محمل کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
ڈی ایممممممم اور تم نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔
محمل نے غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
م۔۔۔
پاپپپپپپپپپپپپپپپپااااااا۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے ڈی ایم پاس جاتا کچھ کہتا جب پیچھے کسی آدمی نے فائر کیا ۔۔
جو گولی ڈی ایم کو لگتی وہ گولی مختار صاحب کے سر پر لگتی آر پار ہو چکی تھی ۔۔۔
وہ ڈی ایم کی جان بچانے کے لیے آگے آے تھے ۔۔۔
یہ سارا منظر دیکھتے محمل شوک میں چلاتی بے ہوش ہوتی زمین پر گر چکی تھی ۔۔۔
محممممممللللل۔۔۔
ڈی ایم زمین پر گری بے ہوش محمل کے پاس آتا بولا ۔۔۔
وہ بے چین ہو اٹھا تھا محمل کو کچھ ہو نہ جاے ۔۔۔۔
