172.3K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 17)

Dadhkan By Rania Mehar

کیا ہوا ہے ڈی ایم دو گھنٹے سے ہم یہاں آ کر بیٹھے ہے تم بلکل خاموش ہو ۔۔۔

بتاٶ گے ہوا کیا ہے ۔۔۔

ایچ ایم نے بیزار ہوتے پوچھا ۔۔۔

دو گھنٹے پہلے داٶد نے ہاشم اور ارتضٰی کو فارم ہاوس بلایا تھا ۔۔۔

جب سے دونوں آے تھے داٶد کو گہری سوچ میں دیکھا تھا ۔۔۔

جو تب سے خاموش بیٹھا اپنا ماتھا مسل رہا تھا ۔۔۔

(داٶد کی عادت تھی ۔۔۔جب بھی پریشان ہوتا اپنا ماتھا مسلتا تھا مسلسل جو اب بھی مسل رہا تھا ۔۔۔۔)…

یہ نہیں بولنے والا ۔۔۔

میں کہتا ہو اپنا ماتھا ہاتھ میں پکڑ لو جلاد کب سے اسے ہی مسل رہے ہو ۔۔۔

کوئ پریشانی ہے تو بتاٶ کیا سوچ رہے ہو ۔۔۔

اےاے نے بھی اکتاۓ ہوے کہا ۔۔۔

سمجھ نہیں آ رہا میں کیا بولو ۔

ڈی ایم نے ہاشم کی طرف دیکھتے بے بسی سے کہا ۔۔۔

اتنی دیر سے یہ سوچ رہے تھے کیا بولو ۔۔۔

تم ایسے تو نہیں ہو بتاٶ کوئ بات ہے تو شیئر کرو ۔۔۔

اےاے نے تحمل سے کہا ۔۔۔

وہ بھی جانتا تھا ڈی ایم کوئ جھوٹی موٹی بات پر پریشان نہیں ہوتا تھا ۔۔۔

یقیناً کوئ سیریس بات ہو گی ۔۔۔

ایچ ایم مجھے لگتا ہے تمہاری بیوی مطلب کزن میری چندہ ہے دیکھو مجھے غلط مت سمجھنا ۔۔۔

ڈی ایم نے اپنی اصلی پریشانی بتای ۔۔۔

واٹٹٹٹ ۔۔۔

تمہاری چندہ کیا دماغ ہل گیا ہے تمہارا جلاد ہاشم کی بیوی کو ایسا کہہ دیا ۔۔۔

اےاے نے اپنی جگہ سے اچھلتے ہوے کہا ۔۔۔

بکواس بند کرو ورنہ ابھی تمہاری جان لے لو گا ۔۔۔

نہیں بات سنی مت سن دفع ہو یہاں سے میں سنجیدہ ہو اس بات کے لیے تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے ۔۔۔

ڈی ایم نے غصہ سے غراتے ہوے کہا۔۔۔۔۔

ایسا کبھی نہیں ہو سکتا میری بیوی تمہاری چندہ ۔۔۔

ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔

ہاشم نے نفرت سے کہتے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔

کیوں نہیں ہو سکتی مجھے آج فیل ہوا جیسے میری چندہ میرے کتنے قریب ہے ۔۔۔

ڈی ایم نے تعجب سے کہا ۔۔۔

کیونکہ وہ اس عورت کی بیٹی ہے جو خود ایک اچھی عورت نہ تھی ۔۔۔

تمہاری چندہ تو معصوم تھی ۔۔۔

یہ تمہاری چندہ ہو ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔

ایچ ایم نے تفصیل سے کہا ۔۔۔۔

اور میں کس عورت اور مرد کی اولاد ہو ۔۔۔

اس عورت کی جس نے کبھی ہماری طرف دیکھا تک نہیں یا وہ مرد جس نے پتہ نہیں کتنی لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ہے ۔۔۔

کوئ ایسا برا کام نہیں جو قمر خان نے نہ کیا ہو ۔۔۔۔

ناجائز ہی سہی بیٹا تو اس کا ہی ہو میں ۔۔۔

ڈی ایم نے غصہ سے غراتے ہوے کہا ۔۔۔

تمہاری بات اور ۔۔۔

میری بات اور کیوں ہے بتاٶ لڑکا ہو اس لیے اگر میں ایسی عورت کا بیٹا ہو تو میں اچھا انسان ہو ۔۔۔

تو تمہاری بیوی لڑکی ہے اس لیے وہ تمہیں ایسی لگتی ہے کہ جیسی ماں تھی ویسی بیٹی ہو گی ۔۔۔۔

بہت افسوس ہے مجھے مسٹر ہاشم مراد ۔۔۔

کہ تمہاری اتنی غلیظ سوچ ہے ۔۔۔۔

ڈی ایم نے افسوس کرتے کہا ۔۔۔

میری بات کا وہ مطلب۔۔۔

تمہاری بات کا جو بھی مطلب ہو مجھے فرق نہیں پڑتا سمجھے ۔۔۔

اب ہر حال میں یہ ثابت کرکے بتاٶ گا تمہیں کہ تمہاری بیوی ہی میری چندہ ہے ۔۔۔

بس دعا کرنا وہ میری چندہ نہ ہو ۔۔۔

اگر میری چندہ ہوئ تو مسٹر ہاشم مراد تمہارا دنیا میں وہ آخری دن ہو گا ۔۔۔

ڈی ایم نے طش کے عالم میں غراتے ہوے کہا ۔۔۔

ڈی ایم کو جب زیادہ غصہ آتا تھا وہ ایسے ہی اےاے اور ایچ ایم کو ان کے نام سے پکارتا تھا ۔۔۔۔

(میری دعا ہے وہ کبھی تمہاری چندہ نہ ہو )

ایچ ایم نے دل میں سوچتے دعا کی ۔۔۔

وہ ڈر گیا تھا ڈی ایم کی دمھکی سے کیونکہ وہ سب اچھے سے جان چکے تھے چندہ ڈی ایم کے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے ۔۔۔

اس کی تڑپ اتنے سال کی چندہ کے لیے سب دیکھ چکے تھے ۔۔۔۔

میں تیار ہو تمہارے قل کی بریانی کھانے کو ہاےے ۔۔۔

اےاے جو کب سے خاموش بیٹھا تھا ۔۔۔

اب ایچ ایم کے کان میں دانت نکالتے سرگوشی کرتے کہا ۔۔۔

شیٹ اپ اےاے منہ توڑ دو گا تمہارا ۔۔۔

ایچ ایم نے اےاے کے منہ پر مکا مارتے غصہ سے کہا ۔۔۔۔

تم جانتے ہو میں بچپن میں بھی چندہ کے حصے کی مار ہنس کر کھا لیتا تھا ۔۔۔

جب وہ عورت میری چندہ کو مارنے لگتی میں خود آگے آ کر وہ مار کھا لیتا ۔۔۔

سوچو اگر وہ واقعی چندہ ہوئ تو میں تمہارا کیا حال کرو گا ۔۔۔

ڈی ایم نے پر سرار لہجے سے کہا ۔۔۔۔

آہم آہم تم مجھے مارو گے دوست ہو میں تمہارا ۔۔۔

ایچ ایم نے اپنا گلا صاف کرتے آس بھری نظروں سے دیکھتے پوچھا ۔۔۔

اب جا سکتے ہو یہاں سے پھر ملے گے ۔۔۔

ڈی ایم نے بات اگنور کرتے چابی اپنی انگلی میں گھماتے وہاں سے جاتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔

دیکھ میں تیرا دوست ہو ۔۔۔

تیرے جانے کے بعد میں انٹی کا خیال رکھ لو گا ۔۔۔

چندہ مطلب تیری بیوی تو اس جلاد کے پاس چلی جاے گی ۔۔۔

تم سکون میں رہنا ۔۔۔

اےاے نے مذاق اڑاتے ایچ ایم کو حوصلہ دیتے کہا ۔۔۔

کیا میں واقعی مر جاٶ گا ۔۔۔

ایچ ایم نے کسی بھی بات پر توجہ نہ دیتے اپنی کہی ۔۔۔۔

ہاے رضیہ غنڈوں میں پھس گی ۔۔۔

ہاہاہاہہاہاہااہاہہاا ۔۔۔

اےاے نے یہ کہتے وہاں سے بھاگ چکا تھا ۔۔۔

————————————————————

پ۔ا۔ن۔ی۔پانی ۔۔۔

ہاشم گھر آیا تھا ۔۔۔

وہ ہال میں بیٹھا داٶد کی باتوں کو سوچ رہا تھا ۔۔۔

جب مسکان پانی لے کر آی تھی ۔۔۔

مسکان نے بڑی مشکل سے اٹک اٹک کر کہا تھا ۔۔۔

جس میں کامیاب بھی ہوئ ۔۔۔

واہ ہ تمہاری آواز آ رہی ہے مطلب تم ٹھیک ہو رہی ہو ۔۔۔

ہاشم نے پانی کا گلاس پکڑنے کی بجاۓ خوش ہوتے مسکان کو اپنے پاس بیٹھاتے کہا۔۔۔

جہ۔ی۔جی ۔۔

مسکان نے مسکراتے ہوے اٹک کر جواب دیا تھا ۔۔۔

یہ کیسے ہوا ۔ماما کو پتہ ہے ۔۔

ہاشم نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔۔

وہ۔د۔ا۔ٶ۔۔د۔۔نے ۔ک۔ل۔م۔ج۔ھ۔ے۔۔سک۔ھ۔یا۔

وہ کل مجھے داٶد نے بولنا سکھایا وہ کہتے آہستہ آہستہ بولو گی تو ٹھیک ہو جاٶ گی ۔۔۔

مسکان نے اٹکتے ہوے خوشی سے بتایا ۔۔۔

کل کا سارا دن اس نے داٶد پلیس گزارا تھا ۔۔۔

جہاں اس کا ساتھ داٶد نے دیا تھا ۔۔۔

(اگر یہ واقعی اس کی چندہ ہوئ پھر ۔۔

اس کا بھی تو بھائ گم ہوا ہے بابا نے بتایا تھا ۔۔۔

افففف کیا سوچ رہا میں ایسا کبھی نہ ہو ورنہ وہ جلاد مجھے نہیں چھوڑے گا ۔)..

ہاشم نے مسکان کا چہرہ دیکھتے دل میں سوچا ۔۔۔

مسکان کے چہرے پر مسکراہٹ واپس آ چکی تھی ۔۔۔

———————————————————–

طب۔ی۔ت

طبیعت ٹھیک ہے آپ کی ۔۔۔

مسکان نے ہاشم کے ماتھے پر پسینہ دیکھتے پوچھا ۔۔۔

ہاں ٹھیک تم کیا کر رہی تھی ۔۔۔

ہاشم نے پسینہ صاف کرتے مسکان سے پوچھا ۔۔۔

س۔و۔پ

سوپ بنا رہی تھی ماما کے لیے ۔۔۔

مسکان نے خوش ہوتے بتاتے کچن میں چلی گی تھی ۔۔۔

ہمممم چلو دیکھاٶ کیا بنا رہی ہو ۔۔

ویسے تمہیں کام تو کرنا نہیں آتا ۔۔۔

ہاشم جان بوجھ کر بات کر رہا تھا تاکہ مسکان اور جلدی بول سکے ۔۔۔

یہ کیا ہے کچن کی ایسی حالت افففف ۔۔۔

یکککککک یہ انڈے زمین پر کیوں ۔۔

کچن میں انٹر ہوتے ہاشم نے شوک کی حالت میں آتے کہا ۔۔۔

کچن کی پوری حالت خراب ہوئ پڑی تھی ۔۔۔

زمین پر انڈے آٹا مصالحے سب زمین پر گرے پڑے تھے ۔۔۔

ی۔ی۔

پتہ نہیں کیسے ہو گیا ۔۔۔

مسکان نے معصوم سی شکل بناتے ہوے کہا ۔۔۔

پاگل لڑکی ایسے کام ہوتے ہے کیا چلو صاف کرو اب ۔۔۔

ہاشم نے منہ بناتے ہوۓ کہا ۔۔۔

اسے کچن کی حالت دیکھ کر غصہ آ رہا تھا ۔۔۔

س۔ڑ۔ی۔

سڑیل شکل والے تم مدد کرو گے میری ۔۔۔

مسکان نے بھی منہ بناتے ہاشم سے کہا ۔۔۔

اچھا جاٶ میں صاف کروا دیتا ہو ۔۔

تم جاٶ یہاں سے ۔۔۔

ہاشم نے بات ختم کرتے اسے باہر جانے کو کہا ۔۔۔

س۔چ۔ی

سچی یہ سوپ میں بنا لینا بلکل ٹھیک نہیں بنا ۔۔۔

مسکان نے مسکراتے ہوے ایک اور کام بتایا ۔۔۔

ہاں ہاں جاٶ ایچ ایم کو یہی کام رہ گے ہے ۔۔

ہاشم نے دل میں سوچتے ہوے کہا ۔۔۔

————————————————————

حاتم حاتم یہ دیکھو محمل نے مجھے مارا ہے ۔۔۔

نو سال کی مسکان دس سالہ ہاشم کے پاس آتی معصوم سی شکل بناتے ہوۓ شکایت لگائ ۔۔۔

افففف مسکان ہاشم نام ہے میرا۔۔۔

حاتم حاتم کرتی رہتی ہو ۔۔۔

ہاشم نے سامنے کھڑی خوبصورت مسکان کو دیکھتے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔

لیکن یہ نام مجھے نہیں کہنا آتا اچھا سنو نہ محمل نے مارا مجھے یہاں ۔۔۔

مسکان نے آنکھیں مٹکاتے ہوۓ کہا ۔۔۔

کیوں مارا ہے محمل تم نے ۔۔۔

ہاشم نے اپنے سامنے کھڑی محمل کو دیکھتے پوچھا ۔۔۔

جو پنک فراک پہنے معصوم سی آنکھوں والی بلکل ایک ڈول لگ رہی تھی ۔۔۔

یہ مجھے کہتی میں اس کی دوست نہیں ہو ۔۔۔

محمل نے غصہ سے کہا ۔۔۔

ہاہاہہہاہاہہاہاا تو تمہاری دوست کون ہے مسکان ۔۔۔

میرے آپ دوست ہے اچھے والے ہمیشہ خیال رکھتے ہے ۔۔۔۔

مسکان ہاشم کے گلے لگتی مسکرا کر بولی ۔۔۔۔

ہاں دوست تو ہو پر یہ بھی تو دوست ہے تمہاری ۔۔۔

ہاشم نے مسکان کو خود سے دور کرتے سمجھاتے ہوے کہا ۔۔۔

اچھا چلے میں اس کو دوست کہتی ہو آپ وعدہ کرے گے کہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گے ۔۔۔

مسکان نے احسان کرنے والے انداز سے کہا ۔۔۔

ہاہاہاہااہا میں ہمیشہ کیسے رہ سکتا ہو تمہارے ساتھ ۔۔

ہاشم نے ہنستے ہوے پوچھا ۔۔۔۔

ہم شادی کر لے گے پھر آپ میرے ساتھ رہے گے ۔۔

وعدہ کرو اب جلدی ۔۔۔

مسکان نے سوچتے ہوے اپنا حل بتاتے اپنا ہاتھ آگے کیے وعدہ لینا چاہا ۔۔۔

چلو وعدہ اب مان جاٶ تم ۔۔۔

ہاشم نے بھی جلدی سے وعدہ لیتے ہوے کہا ۔۔۔

مسکان صوفے پر بیٹھی بچپن کی باتیں یاد کرتی مسکرا رہی تھی ۔۔۔

جب سامنے آتے ہاشم کو دیکھا جو ہاتھ میں ٹرے پکڑے چلتا آ رہا تھا ۔۔۔

(کیا بچپن کا وعدہ کیے پورے ہوتے ہے ۔۔۔

مجھے نہیں تھا پتہ کہ

میری ناسمجھی والی بات پوری ہو جاۓ گی ۔۔۔میری قیسمت میں یہ سڑیل شکل والا رہ چکا تھا ۔۔۔)

پاس آتے ہاشم کو دیکھتے مسکان نے دل میں سوچا ۔۔۔

کس بات پر مسکرایا جا رہا ہے ۔۔۔

ہاشم نے مسکان کی مسکراہٹ دیکھتے پوچھا ۔۔۔

کچ۔ھ کچھ نہیں بس ویسے ہی ۔۔۔

مسکان نے سر جھکاتے ہوے کہا ۔۔۔

ہممممم چلو چھوڑو یہ بتاو کل محمل اور اس جلاد کے ساتھ کیسا گزارا ۔۔۔

ہاشم نے سوپ کا باٶل اسے دیتے پوچھا ۔۔۔

بہ۔ت۔اچھا ۔۔۔

وہ۔

جلاد۔اچھا ہے ۔۔۔

بہت اچھا وہ جلاد اچھا ہے ۔۔

مسکان نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

ہاں اچھا ہے تم اسے جانتی نہیں ابھی وہ کیا چیز ہے ۔۔۔

ہاشم نے منہ میں بڑبڑاتے ہوے کہا ۔۔

ا۔ک ۔ایک بات پوچھو۔۔۔

مسکان نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔۔

ہاں پوچھو ۔۔۔

و۔ہ۔م۔

وہ میں کون ہو مطلب میں کہاں سے آی ہو ۔۔

آپ سب کی کیا لگتی ہو میں ۔۔

مسکان نے نروس ہوتے پوچھا ۔۔۔

میں نہیں جانتا تم کون ہو ۔۔

یہ سوپ پی لینا ۔۔

ہاشم نے سرد انداز سے کہتے وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔

لو پوچھا ہی تھا بھاگ ایسا گیا جیسے سانپ لڑ گیا ہو اسے ۔۔۔

مسکان نے ہاشم کو غصہ سے جاتے منہ بناتے کہا ۔۔۔

————————————————————

ارے واہ میرا بچہ میں کتنا خوش ہو ۔۔۔

اصغری بیگم نے مسکان کا ماتھا چومتے ہوے کہا ۔۔۔

وہ بہت خوش ہوئ تھی جب پتہ چلا مسکان

کی آواز آ چکی ہے ۔۔۔

بس بیٹا اب خیال رکھنا اپنا تاکہ اور اچھے سے ٹھیک ہو سکو ۔۔۔

اصغری بیگم نے مسکان کو سمجھایا ۔۔۔

ج۔جی ماما۔۔

مسکان نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔

میں آج رات مختار کے پاس رہو گی بیٹا ۔۔

تم ہاشم کا اور اپنا خیال رکھ لینا صیح

اصغری بیگم نے سکون سے بتایا ۔۔۔

م۔ی۔میں بھی جاٶ ماموں جان کے پاس ۔۔

مسکان نے بے چینی سے کہا ۔۔

نہیں بیٹا آرام کرو ہم تمہیں بعد میں لے جاے گے ۔۔

اب ایسا کرو ہاشم کو یہ کافی دے کر آنا ٹھیک ۔۔

اصغری بیگم چاہتی تھی مسکان اور ہاشم کے درمیان یہ سرد مہری ختم ہو جاے تبھی وہ مسکان کو کام کا کہنے لگی تھی ہاشم کے ۔۔۔

ل۔ک۔ن۔

لیکن ماما وہ ان کے کمرے میں کبھی نہیں گی میں ۔۔

مسکان نے گھبراتے ہوے کہا ۔۔

ارے جاٶ بیوی ہو اس کی میں تو کہتی ہو اب سے تم اس کا ہر کام کرو گی ۔۔۔

اصغری بیگم نے پیار سے سمجھایا ۔۔۔

جبکہ اب مسکان کافی لے کر جانے کے لیے تیار کھڑی تھی ۔۔۔

————————————————————

ہاں اےاے میں ابھی نکل رہا ہو ۔۔۔

سر کے مطابق ڈی ایم کو اس پلان کا پتہ نہ چلے ۔۔۔

ہم خودی ہنیڈل کر لے گے ۔۔۔

ہاشم نے فون پر ارتضٰی سے بات کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔

چلو بند کرو فون میں آتا ہو ۔۔۔

ہاشم نے روم کے پاس کھڑی مسکان کو دیکھتے فون کاٹتے ہوے کہا ۔۔۔

آ جاو ۔۔۔تم کیوں آی ۔۔

ہاشم نے مسکان سے کافی لیتے ہوے کہا ۔۔

و۔ہ۔۔۔۔

کیا ہوا مسکان طبیعت ٹھیک ہے نہ ۔۔

ہاشم نے مسکان کو گلا پکڑتے فکرمندی سے پوچھا ۔۔۔

جیسے اب بولنے میں مشکل پیش آ رہی تھی ۔۔۔

یہاں آو تم نے میڈیسن لی تھی یا نہیں ۔۔۔

ہاشم نے مسکان کو بیڈ پر بیٹھاتے پوچھا ۔۔۔

مسکان نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔

کیوں نہیں کھای تم نے ابھی بولنا شروع کیا تھا ۔۔۔

ایسے کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔

میڈیسن لو گی تب ہی آرام آے گا ۔۔۔

مجھے لگتا ہے تمہیں بخار بھی ہے ۔۔

ہاشم نے مسکان کو میڈیسن دیتے کہا ۔۔۔

جب اس کے ہاتھ کو چھوا تبھی اسے محسوس ہوا جو اس کے ہاتھ گرم تھے ۔۔۔

می۔ٹ۔

چپ بلکل چپ یہاں لیٹ جاٶ آرام کرو ۔۔۔

میں تھوڑی دیر بعد گھر آتا ہو ۔۔۔

ہاشم نے مسکان کو چپ کرواتے زبردستی بیڈ پر لیٹاتے کہا ۔۔۔۔

میں جلدی آنے کی کوشش کرو گا ۔۔

تم ڈرنا مت ۔۔۔

ہاشم نے جلدی جلدی میں کہتے روم سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔

(فکر تو ایسے کرتا ہے جیسے میں اس کی محبت ہو ۔۔

صرف ہمدردی کرتا ہے میرے ساتھ ۔۔)

مسکان نے دل میں افسوس سے سوچا ۔۔۔

————————————————————

اب بولو کیا کرنا ہے مجھے ۔۔۔

ایچ ایم نے اےاے کے پاس آتے پوچھا ۔۔۔۔

رات کے نو بج چکے تھے ۔۔۔

وہ اس وقت ایک بار کلب میں اپنا روپ چیج کیے بیٹھے تھے ۔۔۔۔

یار اس حیلے میں تو مجھے واقعی ایسا لگ رہا ہے

جیسے کتنی لڑکیوں کے ساتھ رات گزاری ہو ۔۔۔

اےاے نے ایچ ایم کا لوفروں والا حیلہ دیکھتے طنز کرتے کہا ۔۔۔

بکواس بند کر ورنہ یہی منہ توڑ دینا ہے ۔۔۔

ایچ ایم نے غصہ سے غراتے ہوے کہا ۔۔۔

اچھا چھوڑ یہ گلاس لو اس کو پی لینا تاکہ اس لڑکی کو لگے تم نے شراب پی ہے ۔۔۔

اےاے نے اپیل جوس کا گلاس دیتے ایچ ایم سے کہا ۔۔۔

پکا یہ اپیل جوس ہے شراب نہ ہو تمہیں پتہ ہم نے کبھی یہ پی نہیں ۔۔۔

ایچ ایم نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔

آج وہ دونوں اکیلے ڈی ایم کو بتاے بنا اپنا کام کرنے آے تھے ۔۔۔

انہیں ڈر بھی تھا کچھ غلط نہ ہو جاے تبھی

ایچ ایم نے پوچھا تھا ۔۔۔

ارے نہیں ہے شراب اب جلدی پلان پورا کرو ۔۔۔

رات کافی ہو رہی ہے ثانیہ انتظار کر رہی ہو گی یار ۔۔۔

اےاے نے فکر مندی سے کہا ۔۔۔

انہیں بیٹھے دو گھنٹے ہو چکے تھے اب تک ہاشم تین گلاس شراب پی چکا تھا ۔۔۔۔

چل اب جا تو میں یہی ہو ۔۔۔

اے اے نے ایچ ایم کو سامنے بیٹھی لڑکی کے پاس جانے کو کہا ۔۔۔

یہ جلاد کا فون کیوں آ رہا ہے ۔۔۔

اس سے پہلے ایچ ایم جاتا جب اسے ڈی ایم کا فون آیا ۔۔۔

بول ۔۔۔

ہاشم نے گھبراتے ہوے کہا ۔۔۔

جلدی سے بار کے باہر نکل جاٶ ۔۔

ان سب کو پتہ چل چکا ہے ایچ ایم اور اےاے

یہاں ہے دفع ہو جاٶ یہاں سے مجھے بتاے بنا یہاں آ گے ہو ۔۔۔

گھر جاٶ کل صبح میں پوچھو گا اچھے سے کیا کرنے آے تھے ۔۔۔

ڈی ایم نے غصہ سے غراتے ہوے کہا ۔۔۔

ت۔تم کہاں ہو ۔۔۔

ایچ ایم نے ڈرتے ڈرتے آس پاس دیکھتے پوچھا ۔۔۔۔

جہاں تم سب کی سوچ ختم ہوتی ہے وہاں ڈی ایم کی سوچ شروع ہوتی ہے ۔۔۔۔

اب جلدی نکلو یہاں سے ۔۔۔

ڈی ایم نے غصہ سے غراتے ہوے کہتے فون کاٹ کر دیا ۔۔۔

ڈی ایم یہاں آیا ہے مجھے لگتا ہے ۔۔۔

ہمیں چلنا ہو گا ۔۔۔

ایچ ایم نے اپنا سر پکڑتے ہوے اے اے کو اطلاع کی ۔۔۔

جبکہ اےاے سامنے دیکھتا شوک میں بیٹھا تھا ۔۔۔

بول بھی کیا سکتے میں ۔۔۔

ڈی ایم وہاں بیٹھا ہے ایچ ایم یہ یہاں کیسے آ گیا ۔۔۔

اےاے نے ایچ ایم کی بات کاٹتے ہوے سامنے دیکھتے کہا ۔۔۔

جہاں اس لڑکی کے پاس بیٹھا ڈی ایم اپنی نیلی آنکھوں سے انہیں گھور رہا تھا ۔۔۔

لڑکی نے ڈی ایم کے گلے کا ہار بنی بیٹھی خوشی سے پتہ نہیں کیا بتا رہی تھی ۔۔۔

بہت خطرناک شخص ہے یہ ۔۔

ہم کیسے بھول گے جہاں ہم نہیں جا سکتے وہاں یہ ڈی ایم آجاتا ہے ۔۔۔

اب یہ کام کر لے گا ہمیں چلنا چاہے ۔۔۔

ایچ ایم نے بھی اپنے چکراتے سر کو پکڑتے ہوے کہا ۔۔۔

چلو مجھے اپنی جان پیاری ہے یہ جلاد ایسے گھور رہا ہے جیسے ابھی کھا جاے گا ۔۔۔

اے اے نے رونی صورت بناتے ہوے کہا ۔۔۔

———————————————————–

افففف میرا سر ۔۔۔

ہاشم نے بڑی مشکل سے گھر کے اند انٹر ہوتے کہا ۔۔۔

وہ بڑی مشکل سے گاڑی چلاتے گھر آیا تھا ۔۔۔

مراد پیلس مکمل خاموشی میں تھا ۔۔۔

ہاشم گرتا پڑتا اپنے روم میں پہچ گیا تھا ۔۔۔۔

لگتا نیند آ رہی ہے اتبھی ایسی حالت ہے سو جاتا ہو ۔۔۔

ہاشم نے بیڈ کی طرف جاتے سوچا ۔۔۔

آہہہہہ آہہہہہ ۔۔۔

ہاشم جیسے ہی بیڈ کے اوپر گرا ویسے ہی چیخ پڑا ۔۔۔

بیڈ پر گہری نیند میں مسکان بھی اٹھ کر بیٹھتی چیخ رہی تھی ۔۔۔

تم یہاں کیسے ۔۔۔

ہاشم بجاۓ مسکان کے اوپر سے اٹھنے کے وہی لیٹا پوچھا رہا تھا ۔۔۔

مسکان جو میڈیسن کھاے وہی سو چکی تھی ۔۔۔

اسے پتہ ہی نہ چلا کب نیند آ گی اب ہاشم کے گرنے کی وجہ سے وہ جاگ چکی تھی ۔۔۔

نہ۔

ششششش چپ طبیعت کیسی ہے اب ۔۔۔

ہاشم نے مسکان کو چپ کرواتے بہکے ہوے انداز سے مسکان کے گال کو چھوتے ہوے پوچھا ۔۔۔۔

ہاشم کے چھونے پر مسکان گھبرا گی تھی ۔۔۔

کبھی ایسا نہیں ہوا تھا ہاشم اتنا قریب آیا ہو اس کے ۔۔۔

تمہیں ابھی بھی بخار ہے خیال کیوں نہیں رکھتی تم ۔۔۔

ہاشم نے خاموش لیٹی مسکان کی اب گردن چھوتے ہوے پوچھا ۔۔۔

(سڑیل شکل والے نے شراب پی ہے چچچچچ یہ کام اس نے کب شروع کر لے ۔۔۔)…

مسکان نے ہاشم کے منہ سے شراب کی بدبو آتی محسوس کرتے دل میں سوچا ۔۔۔

جبکہ ہاشم پورا مدہوش ہوا مسکان کو مسلسل دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔

م۔ی۔

میں جاتی ہو ۔

مسکان نے کہتے ہاشم کو پیچھے کرنا چاہا جو کہ وہ کر نہ سکی ۔۔۔۔

ہاشم نے مسکان کی کمر پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی ۔۔۔

کہاں جا رہی ہو بیوی ہو میری تو پاس رہو ۔میرے بلکہ تمہیں پتہ میں کتنی محبت کرتا ہو تم سے لیکن تمہارا ماضی جان کر میری نفرت میری محبت کے آگے آگی ہے ۔۔۔

ہاشم نے پہلے پیار سے اور بعد میں نفرت سے کہا ۔۔۔

مسکان بلکل چپ سمجھنے میں مصروف تھی وہ کیا کہہ رہا ہے ۔۔۔

(انہہ محبت ہمدردی ہے یہ بھی آج پتہ چلا اسے کہ بیوی ہو میں سارے مرد ایسے ہوتے ہے )..

مسکان نے حقارت سے دل میں سوچا ۔۔۔

تم بہت پیاری ہو مسکان میں تمہیں بتاٶ گا میں کتنی محبت کرتا ہو ۔۔۔

ہاشم نے مسکان کے لبوں پر اپنے لب رکھتے کہا ۔۔۔

مسکان شوک میں تھی آج ہاشم کو کیا ہوا ہے ۔۔۔

چھو۔

چھوڑو مجھے تم دور رہو ۔۔

مسکان نے ہمت جمع کرتے ہاشم کو خود سے دور کرتے چلاتے ہوے کہا تھا ۔۔۔

اسے پتہ چلانے سے گلے میں کتنا درد ہوا تھا ۔۔۔

کیوں دور آج میں اتنا پاس آو گا تمہں پتہ چلے گا میں کتنی محبت کرتا ہو ۔۔۔

ہاشم نے بہکے ہوۓ انداز سے دوبارہ قریب جاتے غصہ سے کہا ۔۔۔۔

ہمدردی ہے تمہاری یہ محبت نہیں ہے ہاشم یہ ظلم مت کرنا مجھ پر کہ اپنی نظروں میں گر جاٶ میں ۔۔

مسکان نے روتے ہوے منت کرتے کہا ۔۔۔

لیکن ہاشم اپنی شرٹ اتار چکا تھا

اسے کوئ فرق نہ پڑا تھا ۔۔۔

وہ تو بس مسکان پر حاوی ہو چکا تھا ۔۔۔

مسکان کا چیخنا چلانا رونا منت کرنا وہ تو بس مدہوش ہوا مسکان کو اپنی محبت کا بتا رہا تھا ۔۔۔

جبکہ مسکان نے بہت مزاحمت کی تھی ۔۔۔

وہ کمزور لڑکی کیا کر سکتی تھی ۔۔۔

مسکان اپنی قیمست کا فصیلہ جان کر خاموش ہو چکی تھی ۔۔۔

ساری رات وہ یہ سوچ کر روتی رہی ۔۔

ہاشم نے اس کے ساتھ جو بھی کیا وہ سب ہمدردی میں کیا تھا ۔۔۔

————————————————————

اففففف میرا سر درد جیسے پھٹ جاۓ گا ۔۔۔

میں یہاں کیسے میں تو کلب میں تھا ۔۔۔

ہاشم صبح اپنے آپ کو روم میں دیکھتا اٹھتے ہوے سوچا ۔۔۔

وہ اپنا سر ہاتھوں میں پکڑ چکا تھا ۔۔۔

مسکان تم یہاں کیسے اور یہ ۔۔۔

ہاشم نے جب موڑ کر سائیڈ پر دیکھا وہاں اسے لیٹی ہوئ مسکان نظر آی جو مسلسل رونے میں مصروف تھی ۔۔۔

یہ کیسے میں تم یہاں آی ہو ۔۔

ہاشم نے اپنی اور مسکان کی حالت پر غور کرتے غصہ سے چلاتے ہوے پوچھا ۔۔۔

مسکان چپ چھت کو گھورنے میں مصروف تھی ۔۔۔

وہ جانتی تھی ہاشم اب کیا کہے گا ۔۔۔

کیا ٹسوے بہا رہی ہو سب تم نے کیا ۔۔۔

جیسی ماں تھی ویسے بیٹی نکلی ۔۔۔

اتنے دن سے قابو نہیں آ رہا تھا تبھی تم نے یہ سب کیا ۔۔

میں کیسے بھول گیا تم ہو اس عورت کی بیٹی ۔۔۔

زرا نرمی سے کیا بات کر لی تم نے میرا فائدہ اٹھا لیا ۔۔۔

اپنے چلن دیکھا دے مجھے تف ہے مجھ پر کیسے تمہارے بہکاوے میں آ گیا میں ۔۔۔

ہاشم نے بیڈ سے اٹھتے مسکان کو غصہ سے چلاتے بولا ۔۔۔

تم نے کیا سب مجھے میری نظروں میں گر دیا ۔۔۔

شراب پی کر کیا سب تم نے بجاۓ شرمندہ ہونے کے تم مجھے باتیں ۔۔

شٹ اپ جیسٹ شٹ اپ ۔۔۔

منہ توڑ دو گا تمہارا مجھ پر الزام لگا رہی ہو ۔۔۔

ہاشم نے مسکان کی بات کاٹتے غصہ سے غراتے ہوے بولا ۔۔۔

مسکان نے اپنے آنسو کنٹرول کرتے بول رہی تھی ۔۔۔

تم سے زیادہ خوبصورت لڑکیاں دیکھی ہے ۔۔۔

تب تو بہکا نہیں اور شراب میں کبھی پی نہیں ڈارمہ ہے تمہارا چلو دفع ہو میرے روم سے ۔۔

تمہارا کام ہو چکا ہے ۔۔۔

صیح کہتے لوگ جیسی ماں ہوتی ہے ویسی بیٹی تم نے آج ثابت کر دیا ہے ۔۔۔

بیوی بن گی میری اب خوش ہو جاٶ ۔۔

مجھے نہیں تھا پتہ تم اتنا گر سکتی ہو ۔۔۔

ہاشم نے اپنی شرٹ غصہ سے اٹھاتے روم سے باہر جاتے کہا تھا ۔۔۔۔

جبکہ مسکان پہلے ہی خود پر ہوۓ ظلم کو سہہ نہ پائ تھی اب ہاشم کی باتیں سن کر وہ بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔