Dadhkan By Rania Mehar Readelle50327 Dadhkan (Episode 15)
Rate this Novel
Dadhkan (Episode 15)
Dadhkan By Rania Mehar
ہاشم میری بیٹی کیسی تھی ۔۔۔۔
ناراض ہو گی اپنے پاپا سے ۔۔۔
مختار صاحب اداس ہوتے کہا ۔۔۔
ہاشم ان سے ملنے آیا تھا ۔۔۔۔
جی ماموں جان وہ بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔
بس تھوڑے حالات ٹھیک ہو جاے میں آپ کو لے جاو گا محمل کے پاس ۔۔۔
ہاشم نے مسکراتے ہوے جواب دیا ۔۔۔
وہ اور داٶد مختار صاحب کو اپنے کام اور نکاح کیوں کیا سب کچھ بتا چکے تھے ۔۔۔
سچائ سننے کے بعد انہیں بہت افسوس ہوا تھا کیوں انھوں نے اپنی بیٹی پر یقین نہیں کیا ۔۔۔
تو دوسری طرف وہ خوش بھی بے حد تھے ۔۔
ان کی بیٹی ڈی ایم کی فین تھی اور اسے ہمسفر داٶد میر عرف ڈی ایم ہی ملا تھا ۔۔۔
انہیں فخر تھا اپنے داماد پر جو سب کی مدد کرتا تھا ۔۔۔۔
تمہارا جو دوست ہے داٶد مجھے ایسے لگا جیسے میں نے اسے دیکھا ہے ۔۔۔
شاہد ۔۔
مختار صاحب نے پر سوچ انداز سے کہا ۔۔۔
ارے ماموں کہاں دیکھا ہو گا ۔۔۔
اسے کبھی کیسی نے نہیں دیکھا آپ کا وہم ہو گا ۔۔۔
ہاشم نے پر سکون انداز سے کہا ۔۔۔
ہاشم میری بیٹی کو کچھ ہو گا تو نہیں مطلب مجھے ملنا ہے ایک دفعہ اپنی بیٹی سے ۔۔۔
مختار صاحب نے بے چین ہوتے کہا ۔۔۔
جو شخص باقی لڑکیوں کی عزت کی حفاظت کر سکتا ہے تو سوچے وہ اپنی بیوی کی کیسی حفاظت کرتا ہو گا ۔۔۔
ہم نے اس لیے ہی نکاح داٶد سے کروایا تھا تاکہ اس کی حفاظت میں رہے ۔۔۔
تبھی وہ ہم سب سے دور ہے ۔۔
اگر آپ ملے اس سے تو جو لوگ اسے تلاش کر رہے ہے محمل کی وجہ سے آپ کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے ۔۔۔
اور آپ چاہتے ہے کیا ایسا ہو ماموں جان بس تھوڑا ویٹ کر لے ہم سب ٹھیک کر دے گے ۔۔۔
ہاشم نے اپنی کہی بات دوبارہ دوہرائ ۔۔۔
ہمممم اچھا چلو میں ویٹ کر لو گا ۔۔۔
اچھا مجھے اپنے ایک دوست سے ملنے جانا ہے ۔۔۔
کافی عرصے بعد وہ پاکستان آیا ہے ۔۔۔
سوچا مل لو اس سے ۔۔۔
مختار صاحب نے کچھ سوچتے ہوے بتایا ۔۔۔
جی ماموں جان میں لے جاٶ گا آپ اکیلے باہر نہیں جاے گے ۔۔۔
ہاشم نے محبت سے ان کے ہاتھ پکڑتے ہوے کہا ۔۔۔
ہاہہاہہہاہاہہا۔۔۔
اچھا بابا تم لے جانا ٹھیک ۔۔
مختار صاحب نے ہاشم کا اپنے لیے فکر مند چہرہ دیکھ کر ہنستے ہوے کہا ۔۔۔
————————————————————
مسٹر کھڑوس تمہارے دوست نہیں ہے کیا مطلب اس پیلس میں کوئ آتا نہیں ہے کیا ۔۔
تمہارا کوئ رشتے دار یا کوئ بھی ۔۔۔
محمل نے ڈارسینگ روم سے باہر آتے داٶد کو مخاطب کرتے پوچھا ۔۔۔
جو بلیک ٹی شرٹ اور بیلو جنیز میں تیار سا باہر آ رہا تھا ۔۔۔
کیوں تمہیں سکون پسند نہیں جو چڑیا گھر بنانے کا ارادہ ہے ۔۔۔
داٶد نے طنز کرتے کہا ۔۔۔
گھر میں رونق لگی ہو تو اچھا ہوتا ہے تم ایسا کرو اپنے دوستوں کو بلا لو ۔۔۔
میں بور ہو رہی مسکان بھی نہیں ہے ۔۔۔
ورنہ اس کے ساتھ انجواۓ کرتی ۔۔۔
محمل نے دانت نکالتے ہوے کہا ۔۔۔
اچھا میں بلا لو گا ۔۔۔
اور کچھ ۔۔
داٶد نے اس کی اداسی کا سوچتے ہوے حامی بھری ۔۔۔
سچی آپ بھی ہو گے ہمارے ساتھ ۔۔۔
محمل داٶد کے قریب آتی خوشی سے بولی تھی ۔۔۔
واہ آپ کہہ دیا طبیعت تو ٹھیک ہے ۔۔
داٶد نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔
شوہر ہے اتنی عزت کرنی چاہے کیوں نہیں کہا سکتی کیا ۔۔۔
محمل نے داٶد کی گردن میں اپنے دونوں بازو حائل کرتے چہکتے ہوے پوچھا ۔۔۔
ک۔کیا۔۔۔
کیا کر رہی ہو دماغ چل گیا ہے کیا ۔۔۔
دور رہ کر بات کیا کرو ۔۔۔
داٶد نے ہکلاتے ہوے محمل کو خود سے دور کرتے کہا ۔۔۔
(ہمممم مطلب مسٹر کھڑوس ڈرتا ہے میرے قریب آنے سے واہ اب مزہ آے گا اسے تنگ کرنے میں )…
محمل نے اس کا ڈر دیکھتے دل میں سوچا ۔۔۔
میرے قریب آنے سے کرنٹ آتا ہے کیا ۔۔۔
جو ایسے ڈرتے ہے ۔۔۔
محمل نے مسکراتے ہوے جان بوجھ کر قریب آتے پوچھا ۔۔۔۔
نہیں اگر میں تمہارے قریب آیا نہ تو تمہیں چالیس ولٹ کا جٹھکا لگے گا ۔۔۔
پھر پوچھ گا کیسا فیل ہوا تمہیں ۔۔۔
داٶد نے محمل کی آنکھوں میں شرارت دیکھتے خود اس کے قریب آتے مذاق سے کہا ۔۔۔۔
نہی۔نہیں دور رہو میرے قریب مت آنا ورنہ ۔۔۔
ورنہ کیا ۔۔
داٶد نے اس کی حالت انجواۓ کرتے بات کاٹتے ہوے پوچھا ۔۔۔
ورنہ ہاں ورنہ میں نے بھاگ جانا ہے روم سے ایسے ۔۔۔
محمل کو جب سمجھ نہ آی تو اپنا عیجب سا بہانہ بنا کر روم سے بھاگ گی تھی ۔۔۔
ہاہاہہاہاہااا پاگل لڑکی اففففف مجھے پتہ نہیں کیا ہو جاتا اسے سامنے دیکھ کر ۔۔۔
داٶد نے محمل کی حرکت دیکھتے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔
————————————————————
مسکان تم تیار ہو جانا ہم نے کہئ جانا ہے ۔۔
ہاشم نے روم میں داخل ہوتے کہا ۔۔۔
اسے محمل کا فون آیا تھا وہ چاہتی تھی ۔۔
مسکان اس کے ساتھ آے ۔۔۔۔
کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ۔۔
کچھ ہو گیا
ہے کیا ۔۔۔
ہاشم نے سامنے مسکان کو ڈرتے ہوے دیوار کے ساتھ لگتے ہوے پوچھا ۔۔۔۔
جو اپنے سامنے کھڑے ہاشم کو مسلسل گھور رہی تھی ۔۔
(اففف اس سڑیل شکل والے نے ابھی آنا تھا ۔۔
ہاے میری بیک زپ کھولی ہے کیسے بند کرو ۔۔۔)
مسکان نے دل میں سوچا ۔۔۔
وہ باتھ لے کر باہر آی تھی جب اسے محسوس ہوا اس کی بیک زپ اوپن ہے اس سے پہلے وہ بند کرتی جب ہاشم روم میں انٹر ہوا ۔۔۔
کچھ ہوا ہے تو ابھی ٹائپ کر کے بتاو تاکہ مدد کر سکو ۔۔
ہاشم نے تحمل سے پوچھا ۔۔۔
جبکہ مسکان نے نا میں سر ہلایا ۔۔
مطلب کوئ مسئلہ ہے دوسری طرف منہ کرو اپنا ۔۔
ہاشم نے قریب جاتے زرا غصہ سے کہا تھا ۔۔۔
وہ جانتا تھا کبھی نہیں بتاے گی اپنا مسئلہ ۔۔۔
(توبہ یہ لڑکی پتہ نہیں کیوں میں اس کی طرف مائل ہوتا ہو جانتا بھی ہو کیسی لڑکی ہے ۔۔
لیکن یہ کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا ۔۔۔)
ہاشم نے کنفیوژ ہوتے قریب جاتے سوچا ۔۔۔
اپنے بالوں کو آگے کرو ۔۔۔
ہاشم نے مسکان کے نیم گیلے بال کو دیکھتے کہا ۔۔۔
مسکان جو چپ دوسری طرف منہ کیے کھڑی تھی ۔۔
جلدی سے ہوش میں آتی بال آگے کر گی ۔۔۔
(اففف یہ سڑیل شکل والا ہی ٹھیک ہے ۔۔
ایسے جب قریب آتا ہے دل کو موت پڑ جاتی ہے ۔۔۔
اگر یہ تھوڑا رومانٹک ہوتا تو کیا ہوتا توبہ توبہ میں کیا سوچ رہی ہو ۔۔۔)
مسکان نے مسلسل دل میں سوچا ۔۔۔
آخری والی بات پر خودی مسکرا دی ۔۔۔۔
تمہاری زپ اوپن تھی ۔۔
ماما کو کہا دیتی تم پر نہیں پاگل لڑکی سارے کام آتے ہے تمہیں بس یہ کام نہیں ہوتا تم سے ۔۔۔
ہاشم نے مسکان کی نیم برہنہ کمر دیکھ کر جنجھلا کر کہا ۔۔۔
(ہاہہاہا مزہ آیا مجھے ۔۔
مسکان جانتی تھی ہاشم جب کیسی چیز سے چڑتا تھا تب ہی بلاوجہ وہ بولتا تھا ۔۔
جیسے اب بول رہا تھا ۔۔۔)…
مسکان نے ہنستے ہوے دل میں سوچا ۔۔۔
توبہ اگر مجھے کوئ دیکھ لے جس سے دنیا ڈرتی ہے ایچ ایم سے وہ اپنی بیوی کے زپ بند کر رہا ہے تف ہے مجھ پر ۔۔۔
ہاشم نے اپنی دونوں آنکھوں کو بند کرتے اس کی زپ بند کرتے دل میں سوچا ۔۔۔
تیار ہو جانا ہم نے جانا ہے ۔۔۔
ہاشم نے جلدی سے کہا کر بنا دیکھے روم سے باہر چلا گیا ۔۔۔
————————————————————
مسکان کی سچائ جاننے کے بعد کچھ عرصہ انور نفرت کرتا رہا لیکن جب مسکان کی معصوم حرکتوں کو دیکھ کر وہ بھی پیار کرنا شروع کر چکا تھا ۔۔۔
بلکل بیٹی جیسی محبت کرتا تھا وہ بھول چکا تھا ۔۔
مسکان اکبٰری کی بیٹی ہے یاد تھا تو بس اتنا کہ مسکان اس کی اور اصغری کی بیٹی ہے ۔۔۔
ہاشم دن با دن مسکان سے دور رہنے لگا تھا ۔۔۔
اس کے ننھے ذہین میں یہ بات بیٹھ گی تھی ۔۔
اس کی ماما کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب مسکان کی ماں کی وجہ سے ہوا ۔۔
پورے گھر کی رونق مسکان بن چکی تھی ۔۔۔
اصغری بھول گی تھی ۔۔
مسکان کا کوئ بھای بھی ہے ۔۔۔
چاروں اپنی دنیا میں مگن تھے ۔۔۔
———————————————————-
السلام و علیکم ڈیڈ
کیسے اب میں ڈیڈ کہہ سکتا ہو نہ کہ نہیں ۔۔
داٶد نے روم میں انٹر ہوتے مسکراتے ہوے پوچھا ۔۔۔
اگر کچھ ہو جاتا داٶد میں کیا کرتا بتاٶ مجھے میرا زرا خیال نہیں آیا تمہیں ۔۔
تیمور صاحب نے بات اگنور کرتے شکوہ بھری نظروں سے پوچھا ۔۔۔
اففف ڈیڈ کچھ نہیں ہونا تھا مجھے آپ جانتے نہیں کیا مجھے کہ جب تک میری چندہ زندہ ہے تب تک میں زندہ ہو ۔۔۔
ویسے بھی میرا پلان تھا یہ سب ورنہ ڈی ایم اتنی آسانی سے کیسی کے قابو میں آ جاے ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔
ہاں شوک تب لگا جب ایچ ایم اور اےاے کو دیکھا ۔۔۔
ان کی جان بچانی ضروری تھی ۔۔۔
خیر اب کیا پلان ہے ہمارا ۔۔۔
داٶد نے دو ٹوک جواب دیتے پوچھا ۔۔۔
ہممم سوچ لے گے ۔۔
پر ابھی میرا ایک دوست ملنے آ رہا ہے تم گھر رہنا اچھا ۔۔
تیمور صاحب نے آگاہ کیا ۔۔۔
لیکن ڈیڈ مجھے نہیں پسند کوئ بھی یہاں اس پیلس آے ۔
جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے ۔۔
میں نے کبھی اےاے اور ایچ ایم کو بھی یہاں نہیں بلایا ۔۔۔
آپ اور آپ کی یہ بیٹی مہمان بلانے کی کوشش کر رہے ہے ۔۔۔
داٶد نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔
افففف بیٹا کچھ نہیں ہوتا مجھے ۔۔
جہاں اتنا بہادر بیٹا ہے مجھے کیوں ڈر لگے گا ۔۔۔
تم ہو بچا لو گے ۔۔۔
ڈی ایم بن کر کیوں ۔۔
تیمور صاحب نے خوش ہوتے مسکرا کر کہا ۔۔۔
پ۔۔۔
ڈی ایم کہاں ہے ڈی ایم مجھے بھی دیکھنا ہے ۔۔۔
اس سے پہلے داٶد کچھ بولتا جب محمل چہکتے ہوے انٹر ہوتی بولی ۔۔۔
لو آ گی ڈی ایم کی کریزی فین توبہ ہے اس لڑکی سے ۔۔۔
داٶد نے منہ میں بڑبڑاتے ہوے کہا ۔۔۔
کیا کہا رہے ہو تم ۔۔۔
محمل نے داٶد کو گھورتے ہوے پوچھا ۔۔۔
کچھ نہیں بیٹا یہ ڈی ایم سامنے کھڑا ہے تمہارے تیمور صاحب نے خودی جواب دیا ۔۔۔۔
کیییییااا یہ نہیں ہے شکل دیکھی ہے اس کی کہاں سے ڈی ایم لگتا ہے آپ کو ڈیڈ ۔۔۔
محمل نے طنز کرتے کہا ۔۔۔
( کیا واقعی میری شکل ایسی نہیں ہے ۔۔۔
کہ ڈی ایم لگو ۔۔
یہ ہر بار ایسے کہہ دیتی ہے..
پر میں تو ڈی ایم ہو افففف یہ لڑکی پاگل کر دے گی ۔۔۔
حالانکہ سب لڑکیاں مجھ پر مرتی ہے ۔۔
ایک یہ میری نمونہ بیوی ملی ہے ۔۔۔)
داٶد نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوے سوچا ۔۔۔
ڈیڈ میں کہاں سے وہ ڈی ایم کا بچہ لگتا ہو ۔
۔
داٶد نے دانت پیستے ہوے تیمور صاحب سے پوچھا ۔۔
۔
ہاں تم ڈی ایم کیا تم تو ڈیڈ کے بیٹے بھی نہیں لگتے شکل سے بلکل نہیں لگتے تم ۔۔۔
محمل نے تیمور صاحب کے بولنے سے پہلے خودی بول پڑی ۔۔
کیا بکواس کرنے آی تھی وہ کرو اور جاٶ یہاں سے ۔۔
آرام سے بات کر لو اس سے سر پر چڑ جاتی ہے ۔۔۔
داٶد نے غصہ کرتے محمل کو کھری کھری سنائ ۔۔۔
تم سے بات کر بھی کون رہا ہے سمجھے میں ڈیڈ کو بلانے آی تھی ۔۔۔
ڈیڈ آپ کے کوئ گیسٹ آے ہے ۔۔۔
ان سے مل لے ۔۔۔
محمل نے اپنے آنسو کنٹرول کرتے تیمور صاحب کو کہتی باہر روم سے چلی گی تھی ۔۔۔۔۔
یہ کیا کیا داٶد بچی ہے وہ اور تم ایسا کرتے ہو ۔۔۔
اتنے کم دنوں میں گھر کی رونق بن گی ہے اور تم ایسا کرتے ہو مجھے بہت دکھ ہے اس بات کا سوری کرو اس سے ۔۔۔
تیمور صاحب نے ڈانٹتے ہوۓ کہا ۔۔۔
واٹ ڈیڈ نو ۔۔۔
داٶد نے سنتے بیزاریت سے کہا ۔۔۔
سوری کرو گے تو ہی میں اب بات کرو گا ۔۔۔
لیکن ڈیڈ میں آپ کا بیٹا ۔۔۔
وہ بیٹی ہے میری اگر تم بیٹا ہو تو ۔۔
جلدی سے سوری کرو اس سے ۔۔۔
تیمور صاحب نے دو ٹوک بات کرتے داٶد کی بات کاٹتے ہوے کہا ۔۔۔۔
آپ کی بیٹی کی ایسی کی تیسی ۔۔۔
داٶد نے دانت پیستے کہا ۔۔۔
———————————————————–
کیسے ہو مختار کافی ٹائم بعد یاد آیا تمہیں مجھ سے ملنا ۔۔۔
تیمور صاحب نے گلے ملتے طنز کیا ۔۔۔
ہاہاہاہہہاہا طنز آج بھی کرتے ہو فوجی ۔۔۔
بس وقت ہی نہیں تھا اتنا اور تم خود لندن بھاگ گے تھے یہ سوچے سمجھے بنا کہ میرا کیا ہوتا ۔۔۔
ایک تم ہی تو میرے دوست رہے ہمیشہ ۔۔
مختار صاحب نے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔۔
اب تو دوست نہیں رشتے دار بھی ہو ہمارے ۔۔۔
تیمور صاحب نے معنی خیز انداز سے کہا ۔۔۔
مطلب ۔۔
مختار صاحب نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔۔
مطلب بھی بتا دے گے ۔۔
یہ بتاو میری بیٹی کیسی ہے ۔۔۔
تیمور صاحب نے بات ٹالتے ہوے پوچھا ۔۔۔۔
میں نے مختار صاحب نے سب کچھ انہیں سچ بتا دیا تھا ۔۔۔
وہ دونوں بچپن کے جگری دوست تھے ۔۔۔
تبھی وہ ایک دوسرے سے ہر بات شیئر کرتے تھے ۔۔۔۔
میں نے کتنی بڑی غلطی کی میری بیٹی تھی وہ اپنے ہاتھوں سے پالی اور میں کیسا باپ ثابت ہوا میں ۔۔۔
مختار صاحب نے روتے ہوے کہا ۔۔۔
کیا پتہ ہو تمہاری بیٹی کو اچھا شوہر ایسے ہی ملنا تھا ۔۔۔
اب دیکھو نہ وہ ڈی ایم کی فین تھی اسی کی بیوی بن گی ۔۔
ایک ہم ہے جو خود ملنے کے لیے ترس گے ہے ڈی ایم سے ۔۔۔
تیمور صاحب نے مختار کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے بات بدلی جس کامیاب بھی ہوۓ ۔۔۔
ہاں زور میں اپنے بیٹے سے ملواٶ گا ۔۔۔
مختار صاحب نے فخر سے کہا ۔۔۔
ہمممم تمہارا بیٹا بڑی بات ہے اور جو اس کا باپ ہو گا اس کا کچھ نہیں لگتا کیا ۔۔۔
تیمور صاحب نے غصہ کرتے کہا ۔۔۔
یار غصہ ایسے کر رہے جو جیسے میں نے تمہارے بیٹے کو کچھ کہا دیا ہو ۔۔۔
مختار صاحب نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔
چھوڑ اس بات کو میرے بیٹے داٶد سے مل ۔۔
تیمور صاحب نے سکون سے کہا ۔۔۔
داٶد وہ ۔۔
میرا بیٹا ہے وہ مختار صرف میرا ۔۔۔
تیمور صاحب نے مختار کی بات کاٹتے زور دیتے کہا ۔۔۔
مختار صاحب سب جانتے تھے داٶد کے ماضی کے بارے میں تبھی انھوں نے پوچھا تھا ۔۔۔
داٶد بیٹا یہاں آو میرے دوست سے مل لو ۔۔۔
تیمور صاحب نے داٶد کو آواز دیتے کہا ۔۔۔
جو ہال سے گزر کر جا رہا تھا ۔۔۔
السلام و علیکم انکل ۔۔۔
داٶد نے اچھے بچے کی طرح اسلام کیا ۔۔۔
جبکہ وہ سامنے والے کو دیکھ کر شوک میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔
ووع۔۔۔۔
تم یہاں کیسے میری بیٹی کہاں ہے ۔۔۔
مختار صاحب نے داٶد کو سامنے دیکھتے سلام کا جواب دیتے بھول کر اپنی کہی ۔۔۔
آپ بے فکر ہے انکل محمل بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔
داٶد نے تحمل سے جواب دیا ۔۔۔
مطلب تم ڈی ایم ہو واہ یار گھر میں لے کر گھومتے ہو اسے اور مجھے کہہ رہے ہو کہ میں تمہیں اس سے ملوا دو ۔۔۔
مختار صاحب نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔
انہیں سکون تھا اب داٶد تیمور شاہ کا بیٹا ان کے جگری دوست کا بیٹا تھا ۔۔۔
ہاہاہااہا اانکل ایسی بات نہیں یہ ڈیڈ مذاق کرتے ہے ۔۔۔
داٶد نے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔
لو میں کہاں مذاق کر رہا ہو ۔۔۔
اس کی بیٹی میری تو میرا بیٹا اس کا ہوا نہ ابھی کہہ رہا تھا بیٹا ہے میرا یہ ۔۔۔
تیمور صاحب نے سکون سے جواب دیا ۔۔۔۔
اب تم کہاں کھو گے ہو ۔۔۔
ڈی ایم ہی ہے میرا ببر شیر ہے یہ ۔۔۔
تیمور صاحب نے مختار صاحب کی طرف دیکھتے پوچھا ۔۔۔
جو مسلسل داٶد کو مسکراتے ہوے دیکھ گم
ہو گے تھے۔۔۔۔
ایسا لگتا ہے جیسے اسے کہئ دیکھا ہو ۔۔۔
پتہ کہاں دیکھا ہے ۔۔۔
بلکہ اس کی آنکھیں میری جیسی ہے ۔۔۔
اور یہ بال بھی بلکل میرے جیسے ہے ۔۔۔
ایسا لگتا مجھے جیسے تم اپنے ہو ۔۔
سمجھ نہیں آ رہا کہاں دیکھا ہے ۔۔۔
مختار صاحب نے پورہ جائزہ لیتے نروس ہوتے کہا ۔۔۔
اففف مختار کیا ہو گیا اگر یہ تمہارے جیسے دیکھتا بھی ہو ۔۔۔
بیٹا ہے اب تمہارا ۔۔۔
تیمور صاحب نے بات ٹالتے ہوے کہا ۔۔۔۔
وہ نہیں چاہتے تھے داٶد دوبارہ ماضی کے بارے میں سوچے ۔۔۔
مختار بھی سمجھتے چپ ہو گے تھے پر داٶد سوچ میں پڑ چکا تھا ۔۔۔۔
اچھا جاٶ میری بیٹی سے مل لو پھر مت کہنا ملنے نہیں دیا تمہیں ۔۔۔
تیمور صاحب نے مختار صاحب کو کہہ ۔۔۔
شکریہ یار بلکہ شکریہ بیٹا میری بیٹی کی حفاظت کرنے کے لیے ۔۔۔
مختار نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔
کیسی بات کی پاپا بیٹی ہے آپ کی تو میری بیوی ہے میرا یہ فرض تھا ۔۔۔
داٶد نے کھو ہوے انداز سے کہا ۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آی تھی ۔۔
مختار صاحب کا چہرہ دیکھ کر وہ کیوں اتنا سکون محسوس کرتا تھا ۔۔۔
تبھی اب بھی نرمی سے بات کر رہا تھا ۔۔۔
ڈیڈ مجھے اچھا فیل ہوتا جیسے آپ کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔
داٶد نے خود کو گھورتے تیمور کو جواب دیا ۔۔۔
———————————————————–
دفعہ ہو جاو یہاں سے میں بات نہیں کر رہی ۔۔۔
محمل نے جب روم کے اندر کیسی کو انٹر ہوتے محسوس کیا تو بنا دیکھے وہ بولی تھی ۔۔۔۔۔
وہ سمجھی تھی داٶد ہو گا ۔۔۔۔۔
بی۔بیٹا ۔۔
میر۔میری بچی ۔۔۔
مختار صاحب نے روتے ہوے محمل کو پکارہ ۔۔۔
پاپپپپپپپپپپپاااااااا آپ یہاں کیسے نہیں کھڑے کیوں بیٹھ نہیں میرا خواب ہے یہ ۔۔۔
محمل نے اپنے باپ کی آواز سنی تو جب سامنے کھڑے مختارصاحب کو دیکھا ۔۔۔
تو خوشی سے چیختے خودی بول رہی تھی ۔۔۔
ملو گی نہیں اپنے پاپا سے کیا اتنا ناراض ہو گی ہو ۔۔۔۔
مختار صاحب نے روتی ہوی کھڑی محمل کے پاس جاتے پوچھا ۔۔۔
میرے پاپا میرے لیے سب کچھ ہے آپ مجھے معاف کر دے پاپا میں نے کچھ نہیں کیا تھا سچی ۔۔۔
محمل نے بھاگ کر گلے لگتے روتے ہوے کہا ۔۔۔
چپ میری بیٹی ۔۔
دونوں باپ بیٹی پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے ۔۔۔
میری غلطی تھی جو یقین نہیں کیا بیٹا باپ ایسا تو نہیں ہوتا جیسا میں ہو ۔۔۔
میں تو نظر ملانے کے بھی قابل نہیں رہا ۔۔۔
تمہارے سامنے ۔۔
مختار صاحب نے محمل کو چپ کرواتے ندامت سے کہا ۔۔۔
نہیں ایسا مت کہے میرے پاپا بہت اچھے ہے ۔۔۔
بلکہ آپ کی جگہ کوئ بھی ہوتا وہ بھی ایسا ہی کرتا ۔۔۔
محمل نے پیار سے کہا ۔۔۔۔
نہی۔۔
اچھا چھوڑے اس بات کو میرے لیے یہی بہت ہے آپ آ گے میری پاس ۔۔۔
آی لو یو پاپا ۔۔۔
محمل نے خوش ہوتے بات کاٹتے گلے ملتے کہا ۔۔۔
اس کے لیے اتنا بہت تھا مختار صاحب نے اسے معاف کر دیا تھا ۔۔۔
وہ خود ملنے آے تھے ۔۔۔
کافی دیر باپ بیٹی بات کرتے رہے ۔۔۔
وہ یہ بھی بتا چکے تھے تیمور ان کا جگری دوست ہے ۔۔۔
اچھا پاپا آپ مسٹر کھڑوس سے ملے ۔۔۔
سڑیل انتہا کا ہے وہ شخص ۔۔۔
محمل کو اچانک یاد آتے داٶد کا پوچھا ۔۔۔
ارے وہ تو بڑا پیارا بیٹا ہے ۔۔۔
بس اس کا خیال رکھنا ۔۔۔
محبت دو اسے وہ تم سے پھر محبت کرے گا ۔۔۔
مختار صاحب نے داٶد کے گن گاتے ہوے کہا ۔۔۔
پاپا یہ بات اچھی نہیں ۔۔۔
میرے پاپا ہے آپ بس محمل کے پاپا ۔۔۔
محمل نے جلیس ہوتے غصہ سے کہا ۔۔۔۔
ہااہاہا تمہارا ہی پر تم ۔۔۔
ہاں رکھ لو گی اس کھڑوس کا خیال پکا اب خوش ۔۔۔
محمل نے بات کاٹتے چڑتے ہوے کہا ۔۔۔
آپ کو پتہ وہ کھڑوس مجھے ۔۔۔
محمل کا ایک دفعہ پھر ڈی ایم نامہ سٹارٹ ہو چکا تھا ۔۔۔
وہ انہیں بتا رہی تھی داٶد اسے لے کر جاۓ گا۔۔۔
(پاگل بیٹی شوہر ہی ڈی ایم ہے اور اسے ہی نہیں پتہ ۔۔۔
اللہٌ ہی ہدایت دے میری بیٹی کو )…
مختار صاحب نے اپنے سامنے بیٹھی خوش محمل کو خوش ہوتے سوچا ۔۔۔
جو اپنی پٹر پٹر چلتی زبان سے ڈی ایم کی تعریف کر رہی تھی ۔۔۔
———————————————————–
حاتم بھائ حاتم بھائ جلدی آے بابا کو کچھ ہو رہا ہے ۔۔۔
مسکان نے روتے ہوۓ ہاشم کے روم میں انٹر ہوتے کہا ۔۔۔
اففف بھائ نہیں میں تمہارا اور ہاشم نام ہے میرا ۔۔۔
ہاشم نے چڑتے ہوے غصہ سے کہا ۔۔۔۔
جبکہ بارہ سالہ مسکان رونے میں مصروف تھی ۔۔۔
مجھے نہیں کہنا آتا ہش۔م۔جو بھی نام ہے ۔۔۔
مسکان نے روتے ہوے اپنا مسئلہ بتایا ۔۔۔۔
بولو کیا ہوا بابا کو ۔۔
ہاشم نے بیزار ہوتے پوچھا ۔۔۔۔
اسے صرف اپنی ماما سے محبت تھی باقی کیسی سے نہیں ۔۔۔۔
چلو آو ۔۔۔
ہاشم نے باہر جاتے مسکان کو کہا ۔۔۔
انور صاحب کو ہارٹ اٹیک آیا تھا ۔۔۔۔
ہاسپٹل انہیں لے کر چلے گے تھے ۔۔۔۔
اصغری نے رو رو کے برا حال کر لیا تھا ۔۔۔۔
ڈاکٹر میرا شوہر کیسا ہے ۔۔۔۔
اصغری بیگم نے روتے ہوے روم سے
آتے ڈاکٹر سے پوچھا ۔۔۔۔
دیکھے آپ امید رکھے اللؔہ نہیں تو ان کی طبیعت زرا ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔
ڈاکٹر نے افسوس سے کہا ۔۔۔
ڈاکٹر صاحب مسٹر انور اپنے بیٹے کو بلا رہے ہے ۔۔۔
نرس نے باہر آتے اطلاع دی ۔۔۔
جبکہ ہاشم ملنے کو زرا تیار نہ تھا ۔۔۔
اصغری کے زور دینے پر ہاشم ملنے کو پھر تیار ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
میرا ب۔ہ۔ی۔بیٹا ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا ۔۔۔
جس عمر میں تمہیں ایک باپ کی شفقیت چاہے تھی وہ میں دی ہی نہیں۔۔۔۔
اب احساس ہو رہا ہے کتنی بڑی ناانصافی کی ہے تمہارے اور اصغری کے ساتھ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا ۔۔۔۔
انور نے اپنی ناکام محبت اکبٰری کا چہرہ اصغری پر تشیدد سب کچھ روتے ہوے بتا دیا تھا ۔۔۔۔
اسے پتہ تھا۔۔۔
وقت بہت کم تھا ۔۔۔۔
ہاشم چپ چاپ بیٹھا سب سن رہا تھا ۔۔۔
وہ ایسے ہو گیا تھا جیسے ایک بے حس انسان ۔۔۔
وہ جانتا تھا سب کچھ مسکان کا ماضی جان کر اسے اور نفرت ہو گی تھی مسکان سے ۔۔۔۔
تمہاری ماں میرے ظلم سہتے سہتے کھبی دوبارہ ماں نہ بن سکی اس لیے ہم نے مسکان کو اپنی بیٹی مان کر پالا ۔۔۔
وعدہ کرو ہمیشہ مسکان اور اصغری کا خیال رکھو گے ۔۔۔
انور نے اپنی اٹکتی سانسوں کے درمیان وعدہ لینا چاہا ۔۔۔۔
جبکہ ہاشم ویسا ہی بیٹھا تھا ۔۔۔۔
مجھے ۔م۔ع۔ف۔۔۔
اس سے پہلے انور پھر معافی مانگتا جب وہ یہ دنیا چھوڑ چکا تھا ۔۔۔
انور کے مرنے پر ہاشم کی آنکھ سے صرف ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا ۔۔۔۔
پندرہ سال کی عمر میں ہاشم یتیم ہو چکا تھا۔۔۔۔
ہاشم کی مسکان کے لیے نفرت کم ہونے کے بجاۓ زیادہ ہو چکی تھی ۔۔۔۔
———————————————————–
دیکھ جلاد میری بیوی کے سامنے عزت رکھ لینا سمجھے یہ نہ ہو میں بھابھی کو بتا دو تو کون ہے ۔۔۔
ارتضٰی داٶد سے گلے ملتے منت کرتے مل رہا تھا ۔۔۔۔
وہ دونوں داٶد پیلس آے تھے ۔۔۔
جبکہ مسکان ہاشم ابھی آ رہے تھے ۔۔۔
چل ہٹ پیچھے آیا بڑا بتانے والا ۔۔۔
سپشل روم بھول جاتے ہو کیا ۔۔۔
داٶد نے طنز کرتے اسے دور کیا ۔۔۔
السلام و علیکم بھ۔ی۔بھائ ۔۔۔
ثانیہ نے اپنے پاس آتے داٶد کی رعب دار پرسنلیٹی دیکھتے گھبراتے ہوے سلام کیا ۔۔۔
وعلیکم السلام گڑیا ۔۔۔
داٶد نے مسکراتے ہوے جواب دیا ۔۔۔
بیٹھو دونوں محمل آتی ہو گی ۔۔۔
داٶد نے دونوں کو بیٹھنے کے لیے کہا ۔۔۔۔
جو کہ دونوں فورًا بیٹھ چکے تھے ۔۔۔۔
آپ کا دوست بہت کم بولتا ہے ۔۔۔
کیا بولنے پر پیسے لگتے ہے ان کے ۔۔۔
ثانیہ نے سرگوشی کرتے ارتضٰی سے کہا ۔۔۔
وہ دونوں سامنے بیٹھے داٶد کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔
جو کب سے فون میں بزی خاموش بیٹھا تھا ۔۔۔۔
ہممم یہ پورا جلاد ہے تم نہیں جانتی اسے بس مجھے اپنی فکر ہے تمہارا شریف شوہر اس کے ہاتھ آ جاتا ہے ۔۔۔
ارتضٰی نے شوخ ہوتے ثانیہ کے قریب آتے کہا ۔۔۔
ہٹے ہیچھے شریف اور آپ ابھی بتاٶ ۔۔۔
بھای کو ۔۔۔
ثانیہ نے گھورتے ہوے ارتضٰی کو دھمکی دیتے کہا ۔۔۔
تم بیوہ ہونا چاہتی ہو تو بتا دو ۔۔۔
ارتضٰی نے معصوم سی شکل بناتے ہوے کہا ۔۔۔۔
شرم بھی کوئ چیز ہوتی ہے مسڑ ارتضٰی رضا ۔۔۔
داٶد نے اپنی مسکراہٹ روکتے ہوے کہا ۔۔۔۔
داٶد دونوں کی سرگوشیاں سن چکا تھا ۔۔۔۔
آہہہہہہ جلاد کبھی جو تم میری کوئ بات نہ سن پاٶ ۔۔۔
خود کی بیوی منہ نہیں لگاتی مجھے شرم بتا رہے ہو ۔۔۔۔۔
ارتضٰی نے چیختے ہوے کہا ۔۔۔۔
میرا بچہ کیا چاہتا ہے میں اسے اس کی بیوی کے سامنے گھسیٹتے ہوے سپشل روم لے کر جاو ۔۔۔
داٶد نے طنزیہ مسکراہٹ سے دانت پیستے کھڑے ہوتے کہا ۔۔۔
وہ دیکھ بھابھی ۔۔۔
ارتضٰی نے جان بچانے کے لیے سامنے دیکھتے کہا ۔۔۔
جہاں سے محمل تیار ہوتی آ رہی تھی ۔۔۔
تو می ۔۔۔۔
داٶد نے پیچھے مڑتے ہوے کچھ کہنا چاہا جب سامنے تیار ہوئ آتی محم کو دیکھ کر گم ہو چکا تھا ۔۔۔۔
محمل سلور شولڈر لیس فراک پہنے ہلکے میک اپ اپنے سہنری بالوں کی پونی ٹیل بناے بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔
لو گیا اب یہ داٶد بڑا آیا مجھ پر رعب ڈالنے والا ۔۔۔
داٶد کی حالت دیکھ کر ارتضٰی نے سرگوشی سے طنز کیا ۔۔۔
داٶد جو وہی مسلسل کھڑا محمل کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ہوش تو اسے تب آیا جب کان میں مخصوص سائرن بجا ۔۔۔
ڈی ایم یہ ۔۔۔
ارتضٰی نے پریشانی سے داٶد کے پاس آتے پوچھا ۔۔۔۔
تم یہاں دیکھو میں جاتا ہو فکر مت کرو ۔۔۔
داٶد نے سامنے محمل کو دیکھتے ہوے ارتضٰی سے کہا جو ثانیہ سے ملنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔
لیکن ۔۔۔
میں کر لو گا ۔۔۔
داٶد نے سخت انداز سے بات کاٹتے کہتا باہر کی طرف بھاگ چکا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
ارے دھیان سے بچہ لگی تو نہیں ۔۔۔
داٶد نے زمین پر گری مسکان کو اٹھاتے پوچھا ۔۔۔۔
مسکان اور ہاشم داٶد پیلس آ چکے تھے ۔۔۔
ہاشم سائرن کی آواز سن کر بنا مسکان کی پرواہ کیے سپشل روم کی طرف بھاگ چکا
تھا۔۔۔۔
مسکان جو داٶد پیلس دیکھنے میں معروف تھی ۔۔۔۔
اسے پتہ ہی نہیں چلا ہاشم کدھر گیا ہے ۔۔۔۔
وہ پیلس کو دیکھتی دیکھتی اچانک ایک جگہ سے پھس کر گر چکی تھی ۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ اٹھتی جب باہر آتے داٶد نے اسے اٹھایا ۔۔۔۔
مسکان اپنے سامنے کھڑے داٶد کو دیکھتی حیران رہ چکی تھی ۔۔۔
جبکہ داٶد نے ایک دفعہ دیکھ کر توجہ نہیں دی وہ جلدی سے سپشل روم کی طرف بھاگ چکا تھا۔۔۔۔
داٶد کا چہرہ دیکھ کر مسکان کو کوئ یاد آنے لگا تھا ۔۔۔۔۔
جس کی وجہ سے اسے چکر آ رہے تھے ۔۔۔
اپنی حالت پر قابو پاتے مسکان مشکل سے اندر چلی گی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
سر یہ ڈی ایم کی وائف کی پک ہے ۔۔۔۔
کےکے کے خاص آدمی نے محمل کی ایک پک لاتے دی جو اس نے مال میں لی تھی ۔۔۔
یہ اس کی بیوی ہے واہ پلان چیج کرے گے اب یہ ڈی ایم نہیں بلکہ مجھے اس کی بیوی چاہے ہر حال میں۔۔۔۔
کےکے شراب میں ہورا مدہوش ہوا بولا۔۔۔۔
محمل کی خوبصورتی دیکھ کر پاگل ہو چکا تھا وہ ۔۔۔
ہاے اس کی یہ گرے گھائل آنکھیں ۔
یہ گلاب جیسے ہونٹ یہ صرف میری قمر خان کے لیے بنی ہے ۔۔۔۔
مجھے چاہے یہ اب جلدی ڈھونڈ کر لاٶ اسے ۔۔۔
کےکے نے محمل کی پک کو چومتے مدہوش ہوتے کہا ۔۔۔
وہ بھول چکا تھا۔۔۔۔
اس کا مقصد کیا ہے۔۔
اگر کچھ یاد تھا تو محمل کی خوبصورتی یاد رہی تھی ۔۔۔۔
ہاے جانمن اب کب تم میرے قریب آٶ گی ۔۔۔
کےکے نے پک دیکھتے بہکے ہوے انداز سے کہا ۔۔۔۔
