274K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 13)

Dadhkan By Rania Mehar

بلیک ہڈی پہنے وہ اپنے بھاری قدم داٶد پیلس کے اندر رکھ رہا تھا ۔۔۔۔

پورا پیلس خاموشی میں تھا ۔۔۔

صرف اس کے قدموں کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔۔

آہستہ آہستہ وہ اپنے مطلوبہ روم کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔

بلیک ہڈی پہنے اپنی نیلی آنکھوں میں وحشت لے گردن اور سینے سے خون نکل رہا تھا ۔۔۔۔

چڑرررررر۔۔۔

چڑرررر ۔۔۔

ک۔ن۔و۔کون ہے ۔۔۔

محمل جو ابھی نماز ادا کیے سونے لگی تھی ۔۔۔

جب اچانک روم کے دروازا کھولنے کی آواز آی ۔۔۔

تبھی ڈرتے ڈرتے پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ وہ شخص آرام سے روم داخل ہوا اندھیرے میں کھڑا تھا ۔۔۔۔

کون ہو تم دیکھو میرا شوہر گھر نہیں ورنہ تمہیں بتاتا کیسے کسی کے روم میں ایسا آیا جاتا ہے ۔۔۔۔

تم جانتے نہیں اسے بہت محبت کرتا ہے مجھ سے اگر تمہیں یہاں دیکھ لیا تو جان سے مار دے گا تمہیں ۔۔۔

(توبہ أستغفر الله کیا بول رہی میں محبت اور وہ مجھ سے ہو نہیں سکتا )….

محمل نے اپنا پیسنہ صاف کرتے ڈرتے ہوے کہا ۔۔۔

جبکہ آخری والی بات دل میں سوچی ۔۔۔۔

جاٶ یہاں سے عیجب پاگل انسان کیسے کھڑا ہے کمرے میں ۔۔۔

آے ڈی ایم ہوتا تو مٹنوں میں مجھے بچاتا اس سے ۔۔۔

ہاے میری قیسمت ۔۔۔

محمل نے اسے کہتے خود دل میں افسوس کرتے کہا ۔۔

(کبھی ایسا ہو میں ڈی ایم کا ذکر کرنا چھوڑ دو ہر وقت اس کا ذکر کرتی میں ۔۔)۔۔

شششششش۔۔۔

اس شخص نے بیڈ کے پاس پہنچ کر محمل کو خاموش کروایا ۔۔۔۔

جس کی زبان مسلسل چل رہی تھی ۔۔۔

جبکہ محمل کی سانس وہی تھم سی گی تھی ۔۔۔

افففف لڑکیاں کتنا بولتی ہے ۔۔۔۔

اب اگر یہ زبان چلی تو نکال کر ہاتھ میں رکھ دو گا سمجھی تم ۔۔۔۔

اس نے غراتے ہوے کہا ۔۔۔

محمل کی آواز سن کر ہی آنکھں پھٹی کی پھٹی رہ چکی تھی ۔۔۔۔۔

————————————————————

کیا ہوا ہے اصغری سب خیریت ہے ۔۔۔

تم ٹھیک ہو ۔۔۔۔

انور نے ہاسپٹل آتے پریشانی سے پوچھا ۔۔۔۔

وہ اس وقت آفس سے گھر جا رہا تھا جب اصغری نے فون کرتے ہاسپٹل آنے کو کہا تھا ۔۔۔۔

جی سب ٹھیک ہے بس میں اس کی وجہ سے یہاں آی ہو ۔۔۔

اصغری نے سامنے آپریشن تھٹر کی طرف اشارہ کرتے کہا ۔۔۔

کون ہے ہاشم ٹھیک ہے محمل وہ بھی ٹھیک ہے نہ ۔۔۔

انور نے سامنے دیکھتے پریشان ہوتے پوچھا ۔۔۔۔

مجھے ایک لاورث بچی ملی ہے زخمی تھی بہت میں اسے یہاں لے آی ۔۔۔

اصغری نے تحمل سے جواب دیا ۔۔۔۔

وہ دیکھ چکی تھی انور کتنا پریشان ہو چکا تھا ۔۔۔۔

اچھا کب تک یہ خدمتِ خلق کرتی رہو گی ۔۔۔۔

کیوں ہو اتنی اچھی ۔۔

انور نے پرسکون ہوتے اصغری کے خوبصورت چہرہ دیکھ کر کہا ۔۔۔

وہ شکر ادا کرتا تھا اللہٌنے اس کو وفا شعار اور اچھی بیوی عطا کی ۔۔۔

انور ہم اسے رکھ لے گے ہماری بیٹی بن کر رہے گی ۔۔۔

ہم دونوں اس کی پرورش کرے گے ۔۔۔۔

اصغری نے بے تابی سے کہا ۔۔۔

ایسے کیسے ہم رکھ لے کوئ تو اس کا ہو گا اور ہم ایک انجان لڑکی کو کیسے ۔۔۔

اچھا تم خوش ہو تو رکھ لیتے ہے اب خوش اداس مت ہوا کرو یار پہلے کیا تھوڑے دکھ دے ہے میں نے اب تمہیں اور اداس نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔

انور جو مسلسل بول رہا تھا اچانک اصغری کا اداس چہرہ دیکھتا مانتے ہوے کہا ۔۔۔

شکریہ انور آپ بہت اچھے ہے ۔۔۔

اصغری انور کے گلے لگاے خوش ہوتے کہا۔۔۔

ہاہاہہاہہاہا اچھا تو میں ہو بیوی لیکن یہ ہاسپٹل ہے میری جان ۔۔۔

انور نے ہنستے ہوے اصغری کو یاد کروایا وہ کہاں ہے اس وقت ۔۔۔۔۔

————————————————————

داٶد نے لندن میں رہ کر خوب پڑھا تھا یہ سوچ کر وہ اپنی بہن کے لیے سب کچھ کرے گا ۔۔۔۔

بیٹا تم آرمی جوائن کر لو ۔۔۔

تیمور صاحب نے اپنے خوبصورت بیٹے کو دیکھتے کہا جو کہ اب چوبیس سال کا ہو چکا تھا ۔۔۔۔

نہیں مجھے نفرت ہے اس فورس سے جو میری بہن نہ بچا سکی ۔۔

اب میں اپنے طریقے سے ڈھونڈ لو گا اپنی چندہ کو ۔۔۔

کسی کا محتاج نہیں رہو گا میں بس آپ میرا ساتھ دینا ڈیڈ ہمت ہے میری آپ ۔۔۔

آج جو کچھ میں ہو صرف آپ کی وجہ سے ورنہ میں کب کا مر چکا ہوتا ۔۔۔۔

داٶد نے پہلے سرد انداز سے کہتے آخر میں اداس ہوتے کہا ۔۔۔۔

وہ اکثر سوچتا تھا اگر تیمور اس کو اپنے ساتھ نہیں رکھتا تو وہ اس وقت کسی یتیم خانے میں ہوتا ۔۔۔۔

ارے بیٹا جو ہونا تھا ہو گیا ۔۔۔۔

تمہیں یقین ہے چندہ زندہ ہے تو ہم تلاش کر رہے ہے ۔۔۔

پوری فوج اسے ڈھونڈنے میں لگی ہے اتنی جلدی مایوس کیوں ہو رہے ہو ۔۔۔۔

تیمور نے پیار سے سمجھایا ۔۔۔۔

ہمممممم ۔۔۔

میں پاکستان جا رہا اب میں وہ داٶد نہیں اب میں میر ہو ایک جانا مانا بزنس مین ۔۔۔

داٶد نے کچھ سوچتے ہوے کہا ۔۔۔

لیکن د۔۔۔۔

میر میرا نام میر ہے داٶد اسی دن مر چکا تھا جب اس کی چندہ دور ہوئ تھی ۔۔۔۔۔

جس دن میری چندہ میری دھڑکن مجھے ملے گی تب داٶد زندہ ہو گا اپنی بہن کے لیے ۔۔۔

بسسسسس۔۔۔

میر نے غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔۔

تیمور صاحب خاموش ہو چکے تھے ۔۔۔۔

(میر پاکستان آ جا چکا تھا ۔۔۔

جب ایک دن اسے کسی مافیا گینگ کے سرادر کا فون آیا تھا ۔۔۔۔

مافیا گینگ سے رابطہ میر نے خود کیا تھا ۔۔۔

وہ چاہتا تھا چندہ کو کیسے بھی کر کے تلاش کرے ۔۔۔

ان کو کوئ بندہ چاہے تھا جو اس کے ہر غلط کام میں مدد کرے ۔۔۔

میر اس کام کے لیے مان گیا تھا ۔۔۔۔

اس گینگ کے ذریعے اس نے پورے پاکستان کی جگہ جگہ تلاش کر لی تھی پر چندہ اسے نہیں ملی تھی) ۔۔۔

————————————————————

تم کہاں تھے ۔۔

پتہ بھی ہے ڈیڈ کتنے پریشان تھے ۔۔۔

محمل کو جب ہوش آیا تب غصہ کرتی بولی ۔۔۔

جبکہ داٶد بس خاموشی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔

گرے بڑی آنکھں جو نیند کی وجہ سے سرخ ہوی تھی ۔۔۔

گوری رنگیت سنہری بال جو بکھر کر کچھ آگے کندھے اور کچھ کمر کے نیچے آے تھے ۔۔۔

گلاب کی پکھڑی جیسے ہونٹ کو وہ ڈر کے مارے اپنی زبان سے تر کر رہی تھی ۔۔۔۔

کیا بول نہیں رہے کوما میں چلے گے ہو تم ۔۔۔

خود کو مسلسل گھورتے ہوے داٶد کو کندھے سے ہلاتے محمل نے کہا ۔۔۔۔

ہاں ڈیڈ میں مل کر آیا ۔۔۔

داٶد نے بیڈ سے اٹھتے ہوے کمرے کی لائٹ آن کرتے کہا ۔۔۔

آہہہہہ آہہہہہ یہ کیا ہوا ہے تم ٹھیک ہو ۔۔۔

محمل نے روشنی میں جب داٶد کی گردن اور سینے پر خون دیکھتے چیختے ہوے پوچھا ۔۔۔

ہمممم سو جاٶ جا کر میں دیکھ لو گا ۔۔۔

داٶد نے اپنی ہڈی اتارتے ہوے شیشے کے سامنے کھڑے ہوتے کہا ۔۔۔۔

کیا سو جاٶ ہاں اتنی تکلیف میں ہو اور مجھے آڈر دے رہے ہو مسڑ کھڑوس ۔۔۔

بیٹھو یہاں پر ۔۔۔

محمل نے پاس جاتے غصہ سے کہا ۔۔۔

(کیسا شخص ہے اتنی تکلیف میں بھی پر سکون ہے اسے کیا دکھ نہیں ہوتا کیا )..

محمل نے اس کے زخم دیکھتے دل میں سوچا ۔۔۔

لی۔۔۔

چپ بلکل چپ اب تم بولے تو میں ڈیڈ کو جا کر بتا دو گی خاموشی سے بیٹھو ۔۔۔

محمل نے اس کی بات کاٹتے زبردستی چیئر پر بیٹھاتے ہوے کہا ۔۔۔

یہ سب کیسے ہوا ۔۔۔

کوئ لڑائ ہوی کیا اور ساری رات کدھر تھے پتہ بھی ہے ڈیڈ پریشان تھے ۔۔۔۔

محمل نے اس کا خون صاف کرتے سوال کیے ۔۔۔۔

جبکہ داٶد سکون سے بیٹھا بس سن رہا تھا ۔۔۔

کیسے لڑکے ہو مار کھا کر آ گے تم ۔۔۔

جیسے چھوٹے بچے ہو وہی سب کو مارتے نہ تم ۔۔۔

یہ اتنی باڈی اور مسلز کیوں بناے ہے جب مار ہی کھانی تھی ۔۔۔

میں بھی کیسے کہہ رہی ہو تم کون سا ڈی ایم ہو جو ان سب کو مارتے بس ڈر کے گھر بھاگ آے ۔۔۔

محمل نے اسے خاموش دیکھتے مسلسل خودی بول رہی تھی ۔۔۔۔

جبکہ داٶد بس اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا جہاں صرف پریشانی اور اصطراب تھا ۔۔۔

جو اپنی پوری توجہ سے خون صاف کرتی اب مرہم لگا رہی تھی ۔۔۔

(افففف کیا ہے یہ لڑکی مجھے کہہ رہی ہے کہ میں ڈی ایم جیسا نہیں ہو ۔۔

اسے پتہ چل جاے میں ابھی کس کو کیسی موت دے کر آیا ہو ۔۔

اور میں ہی ڈی ایم ہو تو یہ لڑکی بے ہوش ہو جاے ۔۔۔)

داٶد نے دل میں سوچتے مسکرا دیا ۔۔۔۔

تم مسکر رہے ہو کیا ضرورت تھی ایسی حالت بنانے کی ڈیڈ کا ہی خیال کر لیا کرو تم ۔۔۔۔۔

بچے ہو کیا ۔۔۔۔

ت۔۔۔۔۔شششش ۔۔۔۔

چپ بلکل چپ ۔۔۔

محمل نے داٶد کو مسکراتے ہوے دیکھ کر غصہ سے بولی جب داٶد نے اسے چپ کرواتے اپنی گود میں بیٹھایا ۔۔۔۔

یہ۔یہ کیا کر رہے ہے دماغ چل گیا ہے کیا تمہارا ۔۔۔۔

محمل نے گھبراتے ہوے پوچھا ۔۔۔۔

تمہیں دکھ اس بات کا ہے کہ میں بچ گیا یا مجھے مرنا چاہے تھا ۔۔۔

جو اتنی دیر سے بولتی جا رہی ہو ۔۔۔۔

داٶد نے بات اگنور کرتے اس کے حسین چہرے کی طرف دیکھتے پوچھا ۔۔۔۔۔

تم ڈی ایم ہو کیا ۔۔۔

بتاو مجھے ۔۔۔۔

محمل نے بات اگنور کرتے اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھتے پوچھا ۔۔۔۔

ک۔کیا۔بکواس ہے یہ ۔۔۔

داٶد نے زندگی میں پہلی دفعہ ہکلاتے ہوے غصہ سے پوچھا ۔۔۔۔

ہاں تم ہو کیونکہ تمہاری آنکھیں نیلی ہے تمہارے سینے پر ڈی ایم لکھا ہے اس کا کیا مطلب ہوا پھر ۔۔۔۔

محمل نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔۔۔

پاگل ہو گی ہو تم۔۔۔

تم سے پیار سے بات کر لو تھوڑی سی سر پر چڑ جاتی ہو ۔۔۔

ڈی ایم کا مطلب داٶد میر بھی ہو سکتا ہے پر نہیں تمہارے اس دماغ میں صرف وہ ڈی ایم کا بچہ رہتا ہے ہر وقت ۔۔۔

داٶد نے زرا غصے سے محمل کے سر پر ہاتھ مارتے کہا ۔۔۔۔

تم ہو بھی سکتے اچھا شکل دیکھو زرا اتنی سی مار کھا کے آگے ۔۔

تمہاری جگہ وہ ہوتا تو سب کا قتل کرتا تم تو ہو ہی ڈرپوک انسان ۔۔۔

خبردار میرے ڈی ایم کے بارے میں کوئ بکواس کی تمہارا منہ نوچ لو گی میں ۔۔۔

میری غلط فہمی تمہیں یہ سمجھ لیا ۔۔۔

توبہ توبہ ۔۔۔

محمل نے منہ بناتے ہوے کھری کھری سنائ ۔۔۔۔

وہ کیسے سنتی یہ سب ۔۔۔۔

اوووو ہووووو میرا ڈی ایم تو شادی بھی اس سے کرتی میرے سر پر کیوں آی تم ۔۔۔

داٶد

نے مسکراتے ہوے دیکھا ۔۔۔۔۔

وہ ہنستا تھا محمل کا پاگل پن دیکھ کر ڈی ایم کے لیے ۔۔۔۔

تم کو شوق ہے میرا دکھ بار بار کھول کر رکھ دیتے ہو ۔۔۔

پتہ نہیں کون سا ٹائم تھا جب میری شادی تمہارے ساتھ ہوئ ۔۔۔

محمل نے دکھی ہوتے کہا ۔۔۔۔

صبح کا ٹائم تھا ۔۔۔

ہاہاہاہاہااہا ۔۔۔

داٶد نے ہنستے ہوے مذاق کیا ۔۔۔۔

جبکہ محمل بس اس کے ڈمپل دیکھ کر مہیوت ہو چکی تھی ۔۔۔۔

چلو ایک ڈیل کرتے ہے ۔۔۔۔۔

داٶد نے محمل کو متوجہ کیا جو اسے گھور رہی تھی ۔۔۔۔

میں تمہیں ڈی ایم سے ملا سکتا ہو ۔۔۔

پر شرط یہ ہے مجھے کیا ملے گا ۔۔۔۔

داٶد نے محمل کے لبوں کی طرف دیکھتے کہا ۔۔۔۔

(اسے خود سمجھ نہیں آتا تھا وہ کھڑوس انسان کیوں محمل کے سامنے نرم پڑ جاتا تھا ۔۔۔

جیسے پوری دنیا ڈرتی ہے )…

سچیییییییی ۔۔۔

ہاے میرا خواب پورا ہو جاے گا ۔۔۔

تم جو کہو گے میں مان جاٶ گی بس میں نے ملنا ہے اس سے ۔۔۔

محمل نے خوش ہوتے داٶد کو گلے لگاتے ہوے کہا ۔۔۔۔

جبکہ گلے لگتے ہی داٶد کی دھڑکن ایک منٹ کے لیے رک گی تھی ۔۔۔۔

اووووو ملکہ جذبات کنٹرول کرو اپنے جذبات ۔۔۔

میں بندہ بشر ہو بہک بھی سکتا ہو میں سمجھی پاگل لڑکی ۔۔۔۔

داٶد نے ہنستے ہوے محمل کو اپنی گود سے اتر کر کہا ۔۔۔

وہ بھول چکی تھی ۔۔

اس وقت وہ اس کی گود میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔

تم پھر کب ملاٶ گے مجھے ۔۔۔۔

واش روم کی طرف جاتے داٶد کو دیکھ کر محمل نے بے تابی سے پوچھا ۔۔۔۔

ہممممم جب میرا دل کرے گا ۔۔۔

(میں نہیں چاہتا کبھی وہ دن آے کیونکہ اگر تمہیں پتہ چل گیا میرے ماضی کے بارے میں ۔۔

مجھ سے نفرت کرو گی جیسے سب نے کی آج تک … ڈی ایم نے دل میں سوچا ۔۔۔)…

———————————————————–

کیا ہو گیا ہے ارتضٰی حوصلہ کرو یار ۔۔۔

اسے کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔۔

ہاشم نے تحمل سے کہا ۔۔۔۔

وہ تھک چکا تھا اسے سمجھا سمجھا کر پر ارتضٰی بات مان ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔۔

نہیں میرے دل کو سکون نہیں ہے ایچ ایم ۔۔۔

میرا جلاد ہے وہ جب غصہ کرتا ہے اتنا پیار آتا ہے کہ کیا بتاٶ ۔۔۔

مجھے چاہے ۔۔۔

اے اے نے افسردہ ہو کر سوچتے ہوے کہا ۔۔۔۔

میں نہیں چھوڑو گا اس کے کے کے بچے کو بتا رہا ہو ۔۔۔

مار دو گا سب کو اگر میرا جلاد کھڑوس نہ رہا ۔۔۔

اےاے نے اپنی گن لوڈ کرتے غصہ سے غراتے ہوے کہا ۔۔۔۔۔

صبر کرو میرا بھی دوست ہے وہ اس کی چندہ ڈھونڈنا زیادہ ضروری ہے اگر ہم نے کےکے کو مار بھی دیا تو کیا چندہ مل جاے گی ہیمں ۔۔۔

ایچ ایم نے تحمل سے سمجھایا ۔۔۔

تم جانتے ہو نہ جب بابا کی شہید ہوۓ مجھے ایسا لگا تھا جیسے میری ساری دنیا ختم ہو چکی ہے ۔۔۔۔

لیکن میرے لیے میرا یہ کھڑوس جلاد آیا ۔۔۔۔

پتہ کیا کہا تھا اس نے مجھے ۔۔۔

اگر ایسے ہی روتے رہے ساری دنیا تمہیں کھا جاے گی ۔۔۔

اتنا بہادر بنو کہ سب تمہارے جیسا بنے کی کوشش کرے ۔۔۔۔

مرد کبھی روتا نہیں ہے تم کیا عورتوں کی طرح رو رہے ہو ۔۔۔

اگر کبھی رونا ہو اپنے رب کے سامنے رونا ۔۔۔

اس کے سامنے رونے سے انسان شرمندہ نہیں ہوتا بلکہ دل کو سکون آتا ہے ۔۔۔

کبھی جو میری ضرورت پڑے تو یاد کر لیا کرنا ۔۔۔

آج سے تم میرے چھوٹے بھای ہو ۔۔۔۔

اےاے نے ڈی ایم کی ساری بات کی نقل اتارتے ہوے کہا ۔۔

(ارتضٰی کے پاپا ایک آرمی آفسر تھے ۔۔۔

ایک مشن میں انہیں شہادت نصیب ہوئ تھی ۔۔۔

تب ارتضٰی صرف سات سال کا تھا ۔۔۔

رضا تیمور کا بہت اچھا دوست تھا ۔۔۔

تبھی تیمور صاحب بھی رضا کے گھر آتے جاتے رہتے تھے ۔۔۔۔

تیمور کے ساتھ داٶد بھی جاتا تھا ۔۔۔

لندن جانے سے پہلے داٶد ارتضٰی سے ملنے آیا تھا ۔۔۔

جب اپنے روم میں روتے ارتضٰی کو دیکھ داٶد نے یہ سب باتیں کی تھی ۔۔۔۔

داٶد اس کا دکھ سمجھ سکتا تھا ۔۔۔۔

پھر ہوا کچھ یوں لندن جانے کے بعد بھی داٶد کا سارا دھیان ارتضٰی کی طرف رہتا تھا ۔۔۔

لندن رہ کر داٶد ارتضٰی کی ہر چیز کا خیال رکھتا بلکل ایک چھوٹے بچے کی طرح

۔۔۔۔

جبکہ تیمور نے کبھی شادی ہی نہیں کی تھی ۔۔

ان کے جینے کی وجہ بس داٶد رہ چکا تھا ۔۔۔۔

پاکستان آنے کے بعد داٶد نے ارتضٰی کو بھی اس گینگ میں شامل کر لیا تھا ۔۔۔

ہاشم ارتضٰی کا دوست تھا کب یہ تینوں اچھے دوست بلکہ دھڑکن بن گے پتہ ہی نہ چلا ۔۔۔۔)

———————————————————–

ارے میرا بچہ رو رہا ہے ۔۔۔

چچچچچچچ افسوس میرا ڈرپوک بچہ ۔۔۔

اے اے ایچ ایم فارم ہاوس بیٹھے ڈی ایم کے لیے سوچ رہے تھے جب اچانک ان کو ایک آواز سنائ دی ۔۔۔۔

ڈی ایمممممممم ۔۔۔۔

ہاےےے تم زندہ ہو ۔۔۔۔

ایچ ایم نے سامنے بلیک ہڈی لے اپنی نیلی آنکھوں میں وحشت لے کھڑے دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔۔

اور کیا مر جاتا کیا ایسا کوئ پیدا نہیں ہوا کہ مجھے ختم کر سکے ۔۔۔

ڈی ایم نے مسکراتے ہوے ایچ ایم کو گلے لگاتے ہوے کہا ۔۔۔۔

جبکہ ایچ ایم کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا ۔۔۔

ہمدردی

ہمدردی نہیں ایچ ایم ۔۔۔

مجھے نفرت ہے ہمدردی سے جب مر جاو تب رو لینا ۔۔۔

ڈی ایم نے اسے روتے ہوے محسوس کرتے غصہ سے کہا ۔۔۔۔

اسے کیا ہوا ہے یہ روٹھی ہوی محبوبہ کی طرح کھڑا ہے ۔۔۔۔

ڈی ایم نے اپنے سامنے منہ موڑے کھڑے اےاے کو دیکھ ایچ ایم کے کان میں سرگوشی کرتے پوچھا ۔۔۔۔

خودی دیکھ لے توبہ ایسا بچہ ہوتا ہے کیا جس نے رونا ڈالا ہوا ہے ۔۔۔۔

ایچ ایم نے بیزار ہوتے کہا ۔۔۔۔

ارے میرا بچہ رو رہا ہے دیکھو باپ آیا ہے تمہارا ۔۔۔

ملو گے نہیں کیا ۔۔۔

ڈی ایم نے اےاے کو بیک ہگ کرتے بہلاتے ہوے کہا ۔۔۔

جبکہ اےاے نے غصہ سے اسے دھکا مارا ۔۔۔

نہیں ہو بچہ میں تمہارا سمجھ ۔۔۔

کچھ نہیں لگتا میں تمہارا دفع ہو جاٶ یہاں سے آیا بڑا ڈی ایم ۔۔۔

اےاے نے غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

کیا یار روٹھی ہوی محبوبہ کی طرح کر رہے ہو ۔۔۔

ایسے تو میری بیوی بھی نہیں ملی جیسے تم کر رہے ہو ۔۔۔

ڈی ایم نے زمین پر لیٹتے ہوے کہا ۔۔۔

وہ جانتا تھا اےاے بس وقتی غصہ کر رہا تھا ۔۔۔

میں ملتا ہو تم سے اچھے سے رک زرا ۔۔۔۔

اےاے نے کہتے اندر روم میں چلا گیا ۔۔۔

ہاہاہا سکھ اس سے دیکھ میرے لیے جوس لینے گیا ہے ایک تم ہو جیسے مرگی پڑ گی ہو مجھے دیکھ کر ۔۔۔

ڈی ایم نے سامنے ایچ ایم کو منہ کھولے دیکھ کر طنز کرتے کہا ۔۔۔۔

جو اےاے کی بات سن کر کھول چکا تھا ۔۔۔۔

اب بتاٶ ہم سے محبت کرتے تھے تبھی یہ کام کیا اب میں بتاتا ہو عشق کرتے ہے ہم اب اتنا حق بناتا ہے تمہیں بتا سکے کیوں ایچ ایم ۔۔۔

اےاے اپنے ہاتھ میں ڑاڈ لاتے ایچ ایم کو مخاطب کرتے کہا ۔۔۔۔

ہاہاہا ضرور میں تو دل کھول کر بتاو گا اجا تو ۔۔۔

ایچ ایم نے ڑاڈ لیے اےاے سے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔

ارے رکو جانتے نہیں ہو میں ڈی ایم ہو ۔۔

ڈی ایم نے دونوں کو اپنی طرف آتے ہوے کہا ۔۔۔

کون ڈی ایم کہاں کا ڈی ایم ہم نہیں جانتے ۔۔۔

اےاے نے دانت پیستے ہوے کہا ۔۔۔

آہہہہہ اہاہاہاہااہا رکو جاو دونوں ۔۔

اہہہہہہ ایچ ایم اے اے مجھے سے برا

کوئ نہیں ۔۔۔

آہہہہہہہ اہہاہاہاہہاہاہہاہااہہہاہاہہا اچھا اچھا معاف کر دو مجھے اب خوش ہو ۔۔۔

ڈی ایم زمین پر لیٹا اےاے اور ایچ ایم سے مار کھاتا ہنس اور چیخ رہا تھا ۔۔۔

جبکہ دونوں بس مارنے میں مصروف تھے ۔۔۔۔

آہہہہہ خون خون نکل رہا ہے داٶد کے کیا ہم نے زیادہ مار دیا ۔۔۔

اےاے نے ڈی ایم کے سینے سے خون نکلتا دیکھ چیخ کر کہا ۔۔۔۔

تم دونوں نے پوچھا مجھ سے کیسے بچ کر آیا میں بس بھڑاس نکالنی تھی تم لوگوں نے ۔۔۔

ڈی ایم نے اےاے کا فکر مند چہرہ دیکھ کر افسوس سے کہا ۔۔۔۔

یہ میرا قصور نہیں ہے اس ایچ ایم کے بچے کا قصور ہے میں تو تمہارا بیٹا ہو نہ ۔۔۔

ڈاکٹر کے پاس چلتے ہے مرہم کرے گا چلو چلے پہلے ہم ۔۔۔

خون زیادہ نکل آیا تو کیا کرے گے ۔۔۔

جلدی آو ۔۔۔

اےاے نے ڈی ایم کے سینے پر ہاتھ رکھتے سارا الزام ایچ ایم پر لگاتے فکر مند ہوتے کہا ۔۔۔۔

ریلکس اےاے کچھ نہیں ہوتا جب تک ہم ساتھ ہے ہمارا کوئ کچھ نہیں کر سکتا سمجھے ۔۔۔

یہ محسوس کرو دھڑکن چل رہی ہے نہ تو ہم سب زندہ ہے سمجھے ۔۔۔

ڈی ایم نے اےاے کا ہاتھ اس کے دل کے مقام پر رکھتے تسلی دیتے کہا ۔۔۔

جب تک یہ چیپ ہمارے جسم میں چل رہی ہے تب تک ہم سب زندہ ہے سمجھے ۔۔۔۔

جس دن یہ ہمارے جسم سے نکل گی تب سمجھ جانا ہم زندہ نہیں ۔۔۔۔

ڈی ایم نے اپنے سیدھے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا ۔۔۔

جہاں تینوں کے کندھوں کے اندر ایک چیپ چھپائ گی تھی ۔۔۔

جو یہ بتاتی تھی وہ سب ٹھیک ہے کیونکہ وہ دل کی دھڑکن کے ساتھ اٹچ کی گی تھی جو ان تینوں کو ایک دوسرے کی دھڑکن چلتی محسوس ہوتی تھی ۔۔۔۔

اگر تمہں کچھ ہو جاتا میں کیا کرتا بے غیرت انسان ۔۔۔

میری کل ہی شادی ہوی ہے ۔۔۔

کل ہی اپنی بیوی کے سامنے ڈرپوک ثابت ہوا کیا عزت رہ گی میری بتا مجھے ۔۔۔

ہاےےے میری شادی کی رات بھی خراب کر دی تو نے کمینا انسان ۔۔۔

اےاے پر سکون ہوتا اپنی ٹون میں واپس آتا بولا ۔۔۔

ارے تمہں بیٹی دی کس نے ہے شکل سے نشئ لگتے ہو ۔۔۔

ایچ ایم نے بھی مذاق کرتے کہا ۔۔۔۔

جبکہ دونوں جانتے تھے اے اے نے شادی کر لی ہے ۔۔۔۔

بک۔۔۔۔

بس بہت ہوا ہمارا جو آگے کا پلان ہے وہ سن لو ۔۔۔

اب میرے لیے میری چندہ کو تلاش کرنا بہت ضروری ہو چکا ہے جو شخص مجھے مارتے

ہوے یہ نہ سوچ سکا میں اس کا بیٹا ہو چاہے نا جائز ہی سہی وہ اپنی بیٹی کے ساتھ کیا کرے گا ۔۔۔۔

ڈی ایم نے بات کو کاٹتے سرد انداز سے کہا ۔۔۔

وہ اب جلدی چاہتا تھا چندہ اس کو مل جاے ۔۔۔۔

———————————————————–

““““ دھماکے سے پہلے ۔۔۔۔۔۔

چلو تمہارے دوست تو گے اب جلدی سے اپنی ڈیل پوری کرو ۔۔۔۔

نگارہ بیگم نے اےاے اور ایچ ایم کو باہر جاتے دیکھ ڈی ایم کی طرف دیکھتے کہا ۔۔۔۔

جبکہ ڈی ایم کی طرف دیکھ کر وہ ڈر چکی تھی ۔۔۔

جس کے چہرے پر سکون تھا

اب اسی چہرے پر وحشت چھای ہوی تھی ۔۔۔۔

کون سی ڈیل کیسی ڈیل میں نہیں جانتا ۔۔۔

ڈی ایم نے سکون سے جواب دیا ۔۔۔

اس کا مقصد بس اےاے اور ایچ ایم کو با حفاظت بچانا تھا جس میں وہ کامیاب ہوا ۔۔۔۔

اگر اب اس کی جان بھی چلی تھی اسے کوئ افسوس نہ تھا ۔۔۔

ک۔ی۔کیا مطلب تمہارا ۔۔۔

تم اپنے کہے سے مکر رہے ہو سمجھے ابھی بتاتی ہو کون ہو میں ۔۔۔

نگارہ یبگم نے ہکلاتے ہوے کہتے ڈی ایم نے پاس جاتے غصہ سے کہا ۔۔۔

چچچچچ میرا مقابلہ کرنے کے لیے ایک عورت کو بیھج دیا ۔۔۔۔

تم جاٶ کوئ مرد کو لے کر آو میں عورت پر ہاتھ نہیں آٹھاتا ۔۔۔

ڈی ایم نےنگارہ کاچہرہ دیکھتے غراتے ہوے کہا ۔۔۔۔

کیا بکواس رہے ہو تم ایک ناجائز بچہ اتنا بولے گا واہ کیا بات ہے۔۔۔۔

نگارہ نے حقارت سے کہا ۔۔۔

جبکہ ڈی ایم کے چہرے پر سایہ لہرایا تھا ۔۔۔

کام کی بات کرو سمجھی یہ زبان نکال کر ہاتھ پر رکھ دو گا ۔۔۔

ڈی ایم نے بات اگنور کرتے دانت پیستے ہوے کہا ۔۔۔

تمہاری اتنی اجرت میں ابھی تمہیں بتاتی ہو ۔۔۔

نگارہ نے غصہ سے خنجر نکال کر ڈی ایم کی شہہ رگ پر رکھتے کہا ۔۔۔

آہہہہ آہہہہہ اگر تم ایسا کرو گی تو خود اتنی ہی تکلیف سے مرو گی ۔۔۔

ڈی ایم نے چلاتے ہوے سکون سے کہا ۔۔۔

جبکہ اس کی گردن سے خون رسنا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔

کیا کرو گے مجھے مار ۔۔۔

حسن کی موت یاد ہے تمیں کیسے موت آی اسے یاد کرو ۔۔۔

نگارہ کے بولنے سے پہلے ڈی ایم نے سرد لہجے سے کہا ۔۔۔۔

حسن کی موت بلکہ اس کی حالت سوچتے نگارہ بیگم اپنا خنجر پیچے ہٹا چکی تھی ۔۔۔۔

سوچو اتنی سکیوڑٹی ہونے کے باوجود میں نے حسن کو موت دی تم سب نے مجھ سے چھاپا کر اسے ایک کال کولٹھری میں بند کیا تھا ۔۔۔۔

میں وہاں بھی پہنچ گیا تو کےکے کو موت دینا میرے لیے کتنا آسان ہے ۔۔۔

بتاو کہاں ہے وہ ۔۔۔

ڈی ایم نے غصے سے غراتے ہوے کہا ۔۔۔

میں نہیں بتا رہی ویسے بھی وہ پورے پاکستان گھومتا ہے ہم نہیں جانتے کس اڈے پر وہ رہتا ہے آج کل ۔۔۔

نگارہ کے سامنے جب حسن کی رگیں اور جسم کی حالت آی جیسے دیکھ کر ہر کوئ الٹی کرنے کو دوڑا تھا ۔۔۔۔

تبھی ڈر کے بولی ۔۔۔

ویسے شیر کو باندھ کر نہیں مارا جاتا ۔۔۔

جیسے مجھے باندھ لیا ہے تم سب جانتے ہو میں صرف موت دے سکتا ہو ۔۔۔

ڈی ایم نے نگارہ بیگم کے چہرے کو زد پڑتے دیکھ چلاتے ہوے کہا ۔۔۔۔

بکواس کم کرو تمہارا باپ ملک کی حفاظت کرتا نہیں تھکتا ایک تم ہو سب کے قتل کرتے پڑتے ہو ۔۔۔

جنرل تیمور شاہ کے بیٹے ہو نہ تم میں سب جانتی ہو ۔۔۔

آے بڑے شیر ۔۔۔

آنہہ ۔۔۔

نگارہ بیگم نے اپنے ڈر پر قابو پاتے ڈی ایم کا ذہین بدلنا چاہا ۔۔۔

ہااہاہہہاہا ان کی نظر میں اچھا انسان ہو خیر ڈیڈ ہے میرے ۔۔۔

تم جیتنا بولوں گی اتنی لیٹ موت ہو گی تمہاری میرا ٹائم ضائع مت کرو ۔۔۔۔

ڈی ایم نے پہلے ہنستے اور پھر غصہ سے کہا ۔۔۔۔

تمہاری بیوی بھی ہے اس دن مجھے پتہ ہوتا تم ڈی ایم ہو وہی گولی مارتی میں ۔۔۔

اور اب اپنی بیوی کو بچانے کے لیے شادی کر لی ۔۔۔

ویسے اگر اسے پتہ چل جاے تم کون ہو پھر ۔۔۔

نگارہ بیگم نے ڈی ایم کے سینے پر خنجر رکھتے طنز کرتے کہا ۔۔۔

جبکہ سینے سے خون رسنا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔

خبردار میری بیوی کے آس پاس بھی کوئ آیا

۔۔۔

دوسروں کی لڑکیوں کی عزت کی حفاظت ڈی ایم کر سکتا ہے تو سوچو اپنی بیوی کی حفاظت کیسے کرے گا وہ ۔۔۔

جو بھی میری بیوی کی طرف میلی نظر سے دیکھے گا ۔۔۔

ڈی ایم اس کی آنکھں نکال دے گا ۔۔۔۔

ڈی ایم نے غصہ سے دھاڑتے ہوے کہا ۔۔۔۔

چچچچچ افسوس تم بچ پاٶ گے تو ہی ایسا کر گے نہ ۔۔۔

نگارہ نے افسوس کرتے اپنا خنجر والا ہاتھ اوپر لے کر جاتے ڈی ایم کے دل کے مقام پر مارنا چاہا ۔۔۔۔

ہاہاہاہہا ڈی ایم ابھی زندہ ہے پر افسوس تم زندہ نہیں رہ پاٶ گی ۔۔۔

میری جو کمزوری تھی۔۔۔

وہ باہر جا چکے ہے ویسے بھی اب میں تنگ آ گیا تھا ۔۔۔

اس کھیل سے ۔۔۔۔

سو گیم از ور۔۔۔۔

ڈی ایم نے نگارہ کا خنجر والا ہاتھ اپنے ایک ہاتھ سے پکڑتے اسی پر وار کرتے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا ۔۔۔۔

نگارہ کا جو ہاتھ ہوا میں تھا ڈی ایم نے وہی گھوما کر نگارہ کے منہ کے اندر آر پار کر دیا تھا ۔۔۔۔۔

نگارہ بیگم کی آنکھں ابال کر باہر آ چکی تھی ۔۔۔

منہ اور گردن سے خون کا فوارا پھوٹ چکا تھا ۔۔۔

بڑی جلدی موت نہیں دے گی میں نے ویسے خیر بھاڑ میں جاے کےکے کو سکون سے مارو گا ۔۔۔

چچچچچ بہت بول رہی تھی کتنا کہا ٹائم ضائع مت کرے پر سنے تب نہ ۔۔۔

عورت ذات ہوتی ایسی ہے مطلبی ۔۔۔

ڈی ایم نے اپنے ہاتھ کی زنجیر توڑتے نیچے آتے

نگارہ بیگم کو تیزاب کے ڈارم میں پھکتے ہوے افسوس سے کہا ۔۔۔۔

جبکہ نگارہ کا جسم تیزاب میں گل سڑ رہا تھا ۔۔۔

ڈی ایم نے باہر جاتے ہوے اس جگہ بم گرا چکا تھا ۔۔۔۔

جب تک وہ باہر آیا ۔۔۔

بم پھٹ چکا تھا ۔۔۔

———————————————————

کیا کہا رہی ہو یہ لڑکی اس فحاشہ عورت کی بیٹی ہے اصغری میں نہیں رکھ رہا اسے نکالو ابھی اور اسی وقت ۔۔۔

انور نے روم میں جاتے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

ایسی بات نہیں ہے میں بتانے والی تھی ۔۔

وہ معصوم اسے کچھ پتہ بھی نہیں ہے بیٹی ہے وہ میری پلیز مان جاے انور ۔۔۔

اصغری نے منت کرتے کہا ۔۔۔

ہمارا بیٹا بھی ہے وہ ہی ہمارا ہے بس اسے چھوڑ کر آو جہاں سے لے کر آی ہو بس ۔۔

بات ختم ۔۔۔

انور نے دو ٹوک بات کرتے کہا ۔۔۔۔

میں نہیں ایسا کر سکتی خون ہے وہ میرا ۔۔۔

اصغری نے غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔

کیا تم یہ کہہ رہی ہو جس کی ماں نے تمہارے ساتھ اتنا کچھ کیا ۔۔۔

کیسے بھول سب تم ۔۔۔

انور نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

اس معصوم کا کیا قصور ہے انور اسے تو یہ بھی نہیں پتہ اس کی ماں کیسی تھی یا یہ کہ ہم سب کون ہے ۔۔۔

اصغری نے سمجھاتے ہوے کہا ۔۔۔

جیسی ماں تھی ویسی یہ ہو گی ۔۔۔

ہم نہیں رکھ رہے اسے باہر نکالو اس کو ۔۔۔

ہم نے بھی منہ دیکھنا ہے دنیا والوں کو ۔۔۔

انور نے غصہ سے کہتے روم سے باہر چلا گیا ۔۔۔

جبکہ روم کے پاس کھڑے ہاشم نے سب کچھ سن لیا تھا ۔۔۔۔

اے اللہٌاس معصوم بچی کو کس گناہ کی سزا ملنے والی ہے ۔۔۔

میں کیا کرو ایسا کہ انور مان جاے میں اتنی چھوٹی بچی پر ظلم نہیں کر سکتی ۔۔۔

اصغری نے روتے ہوے سوچا ۔۔۔۔