274K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 10)

Dadhkan By Rania Mehar

(ولیمے سے کچھ گھنٹے پہلے ۔۔۔۔۔

آہہہہہہ آہہہہہہ آہہہہہہہہ۔۔۔

کیا ہوا ہے ارتضٰی ایسے کیوں چیخ رہا ہے ۔۔۔۔

مراد نے اپنے آفس میں اندر آتے ارتضٰی کو چیختے ہوے دیکھ کر پوچھا ۔۔۔

ارتضٰی اس وقت مراد کے آفس میں بیٹھا تھا ۔۔۔

یہ جلاد کا فون آ رہا ہے دیکھ میں کچھ نہیں کیا سچی ۔۔۔۔

ارتضٰی نے پریشانی سے سے سامنے پڑے فون کو دیکھ کر مراد سے کہا ۔۔۔

جبکہ فون مسلسل رنگ کر رہا تھا ۔۔۔

ہاہااہاہہہاہ

تم ڈر رہے ہو حیرت ہے مجھے ویسے کس کا فون ہے کون جلاد ہے ۔۔

مراد نے ہنستے ہوے فون اٹھا کر کہا ۔۔۔

ارےے یہ کھڑوس انسان ہے تمیں کیوں فون کر رہا ہے ۔۔

مراد نے فون پر داٶد کا نمبر دیکھ کر ارتضٰی سے پوچھا ۔۔

یہ کھڑوس انسان ۔سڑیل انسان .کڑوا کریلا ۔سڑا ہوا ٹینڈا جلاد پتہ نہیں کیا کیا میں بات نہیں کر رہا اس شخص سے ۔۔

ارتضٰی نے رونی صورت بناتے داٶد میر کو القابات سے نوازا ۔۔۔

کرو بات اس سے کیا پتہ کچھ کہنا ہو ۔۔

مراد نے اب زرا رعب سے کہا ۔۔۔

“آ تو جلاد تو آی بلا کو ٹال تو “

اب یہ کیا بکواس کر رہا ہے ہمارا دوست ہے وہ ۔۔۔

مراد نے ارتضٰی کو آنکھں بند کرتے ورد کرتے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

یار دوست ہے لیکن تو بھی جانتا ہے اس کی بات نہ مانی جاۓ یہ کیس سزا دیتا ہے ۔۔۔

میرا فلحال کوئ موڈ نہیں اس سے بات کرنے کا تو کر ۔۔۔

ارتضٰی نے منہ بگڑتے ہوے فون سپیکر پر لگاتے مراد سے کہا ۔۔۔

السلام و علیکم کیسے ہو ۔۔۔

مراد نے زبردستی مسکراہٹ لاتے داٶد کو سلام کہا ۔۔۔

ورنہ وہ خود بھی کبھی کبھی ڈر جاتا تھا اس سے ۔۔۔

وعلیکم السلام۔۔۔ میں ٹھیک ۔۔

شام کو ولیمہ ہے آ جانا تم دونوں ہاں میں انکار نہیں سن سکتا ۔۔

اگر تم لوگ نہ آے ڈیڈ مجھ سے ناراض ہو جاے گے ۔۔۔

داٶد نے فون پر دو ٹوک بات کی ۔۔۔

لے یہ ہمیں انوائٹ کر رہا ہے یا دھمکی دے رہا ۔۔۔

ارتضٰی نے مراد کے کان میں سرگوشی کرتے پوچھا ۔۔۔

پتہ نہیں یار ۔۔

مراد نے نروس ہوتے جواب دیا ۔۔۔

جو تم دونوں کا دل کرے وہی سمجھ لو ۔۔

اب آ جانا ۔۔

داٶد نے اپنی رعب دار آواز سے دونوں کو کہا ۔۔

ارتضٰی کی سرگوشی سن چکا تھا ۔۔۔

افففف اس کے کان کتنی جلدی ہماری بات سنی اس نے اور

مجال ہے یہ بندہ کبھی ہم سے پیار سے بات کر لے جلاد کئ کا ارتضٰی نے منہ بناتے پھر سرگوشی کی وہ حیران تھا داٶد کو کیسے سنی اس کی آواز ۔۔۔

ہم آ تو جاتے پر ۔۔

مراد نے اپنا گلا صاف کرتے بات ادھوری چھوڑ دی ۔۔۔

پر کیا؟؟

داٶد نے غصہ سے پوچھا ۔۔۔۔۔

تیاری ہاں یاد آیا ہماری تیاری نہیں ہے تو جلدی بتا دیتا تو ہم اپنا ڈریس خرید لیتے اب ہم نہیں آ سکتے ۔۔۔

سوری ۔۔۔

مراد نے بہانہ بنا کر جواب دیا ۔۔۔۔

تمیز کے ساتھ آٶ ولیمے میں فارم ہاوس میں نے تم دونوں کے ڈریس رکھ دے تھے وہ پہنو اور یہاں آو جلدی ۔۔۔

اگر کوئ نہ آیا تو میرے سپشیل روم میں آ جانا ۔۔۔

وہاں جا کر تیاری کرنا دونوں اچھے سے ۔۔۔

داٶد نے غصہ سے دو ٹوک کہتے فون کاٹ دیا ۔۔۔

لو یہ جلاد ہم کو مار کر رہے گا ۔۔۔

اگر نہ جاتے ہے تو مصیبت نہ جاے تو یہ جلاد سے کون بچاے گا ہمیں ۔۔

ارتضٰی نے کرسی پر گرتے ناڈھال ہوتے کہا ۔۔۔

جبکہ مراد کھڑا سوچ رہا تھا وہ محمل کو کیا جواب دے گا ۔۔۔

————————————————————

اووو ہاےےے سویٹ ہارٹ کیسا لگا سرپرائز مزہ آیا داٶد سے مل کر ۔۔۔۔

داٶد میر سب مہمانوں سے ملنے کے بعد سیٹج پر بیٹھی محمل کے پاس آتے چہکتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔۔

جو ابھی بھی شوک نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

میر ٫نہیں داٶد نہیں ٫ تم داٶد میر ہو ۔۔

محمل نے ہکلاتے ہوے کنفرم کرنا چاہا ۔۔۔۔

میری چڑیل بیوی کو یقین نہیں آ رہا ویٹ ڈیڈ آپ بتاے نہ داٶد میر کون ہے ۔۔۔

داٶد نے محمل کی حالت انجواے کرتے تیمور صاحب کو مخاطب کرتے کہا جو سٹیج کی طرف آ رہے تھے ۔۔۔۔

ہاں بیٹا یہ میرا بیٹا داٶد میر اس کڑروں کی جائیداد کا اکلوتا وارث کچھ ماہ پہلے ہی اپنی اسٹڈی کمپلیٹ کرکے آیا ہے ۔۔۔

تیمور صاحب نے داٶد کو گلے لگاتے ہوے خوش ہو کر بتایا ۔۔۔۔

جبکہ محمل خاموش بیٹھی تھی ۔۔۔

چلو تم لوگ انجواے کرو میں زرا مہمان دیکھ لو ۔۔

تیمور صاحب نے ہنستے ہوے کہا ۔۔۔۔

کیا کوما میں چلی گی ہو شکر کرو تمیں داٶد میر جیسا انسان ملا ہے ۔۔۔۔

داٶد نے محمل پر طنز کرتے کہا ۔۔۔

جبکہ اس کی آنکھوں میں شرات واضح تھی ۔۔۔

ڈیڈ نے تو کہا تھا ان کا بیٹا معصوم ہر کسی کے دکھ میں دکھی ہو جاتا جبکہ تم ایسے نہیں ہو کھڑوس انسان ۔۔۔

محمل کافی دیر بعد اپنی ٹون میں واپس آتی بولی ۔۔۔

ڈیڈ کا وہ بیٹا کب کا مر چکا ہے یہ داٶد میر ایسا نہیں ہے بلکہ سب کو دکھ دینا میرا فیورٹ کام ہے اب ۔۔۔

داٶد نے طش کے عالم میں دھاڑتے ہوے کہا ۔۔۔

اب صرف اس کے چہرے پر غصہ نظر آ رہا تھا ۔۔۔

ہاں پتہ ہے تم کھڑوس کڑوا کریلا سڑیل سب کچھ ہو سکتے ہو معصوم بلکل نہیں ہو سکتے ۔۔

ڈیڈ کو بہت غلط فہمی ہوی ہے ۔۔۔

محمل نے داٶد کی بات اگنور کرتے اپنا منہ بناتے ہوے کہا ۔۔۔

اس کا یہ دکھ ہی ختم نہیں ہو رہا تھا جس انسان کا انتظار وہ صبح سے کر رہی تھی وہ کوئ اور نہیں اس کا شوہر ہی ہو گا ۔۔۔

شکریہ اتنی تعریف کرنے کے لیے ویسے آج تک کیسی نے کی نہیں ۔۔۔

داٶد نے طنز کرتے کہا ۔۔۔۔

دفع ہو جاو میں سوچ بھی سکتی تھی تم وہ انسان ہو جس کے لیے میں نے اپنا ٹائم ضائع کیا ۔۔۔

میں تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتی ۔۔۔

محمل اب غصے سے دھاڑی ۔۔۔۔

لو منہ تو لگی تھی تم ۔۔

صبح والی حرکت بھول گی کیا اتنی جلدی ۔۔۔

اور ہاں یہ تم کہنا بند کرو ورنہ اب ایسی سزا ملے گی یہ خود سے شرماتی رہو گی ۔۔۔

داٶد نے بے باک انداز سے بات کرتے وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔

بے شرم بے حیا بے ہودہ انسان زرا جو شرم ہو اس کو ۔۔۔۔

محمل نے اپنے سرخ گلنار چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوے داٶد کو القابات سے نوازا ۔۔۔

————————————————————

شکر ہے تم دونوں آگۓ ۔۔

ورنہ میں سوچ رہا تھا سپشل روم تو نہیں چلے گے ۔۔۔

داٶد نے مراد اور ارتضٰی سے گلے ملتے طنز کیا ۔۔۔

زیادہ طنز کرنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے آے بڑے تیس مار خان ۔۔۔

ارتضٰی نے جلتے ہوے داٶد کو بات سنای ۔۔۔

ارے میرا بے بی غصہ کر رہا ہے ۔۔

آو تمہارا غصہ ختم کرو ۔۔۔۔

داٶد نے ارتضٰی کے کندھے پر اپنے وزنی ہاتھ رکھتے دانت پیستے ہوے کہا۔۔۔۔

نہی۔نہیں تو میں کہاں غصہ کر رہا چل مجھے بھابھی سے ملا دے ۔۔۔

ارتضٰی نے گھبراتے ہوے داٶد کا ہاتھ جھٹکتے ہوے کہا ۔۔۔

ہاں مل لو تم دونوں مراد تم بھی جاو اس کے اس ۔۔

داٶد نے مراد کو مخاطب کرتے کہا ۔۔

جو کب سے سامنے سیٹج پر بیھٹی محمل کو دیکھ کر اداس ہو رہا تھا ۔۔

بلکل بہنوں جیسی محبت دی تھی مراد نے اسے اور اس کے ساتھ مراد نے کتنا برا کیا ۔۔

یار میں نہیں جا رہا میں اچھا بھای نہ بن سکا کیا جواب دو گا کہ کیوں تمہاری شادی داٶد میر سے کراوئ میں نے ۔۔۔

مراد نے اداس ہوتے پوچھا ۔۔

کچھ مت بتانا اسے سمجھے یہ کہنا کہ اس کی جان بچانے کے لیے تو نے مجھ جیسے انسان سے شادی کروا دی ۔۔

کیونکہ اس کی جان کو خطرہ تھا بس ۔۔

داٶد نے سمجھانے والے انداز سے کہا ۔۔۔

کیونکہ داٶد چاہتا تھا محمل کو کبھی اس کی سچائ کا پتہ نہ چلے ۔۔۔

————————————————————

السلام و علیکم بھابھی کیسی ہے آپ میں آپ کا سویٹ خوبصورت سا دیور پلس بھای ہو میرا نام ارتضٰی ہے ۔۔

ارتضٰی نے محمل کے پاس جاتے ایک ہی سانس میں اپنا تعارف کروایا ۔۔۔

وعلیکم السلام بھای ۔۔۔

محمل نے خوش ہوتے جواب دیا ۔۔

وہ کب سے بور فیل کر رہی تھی اب ارتضٰی کی موج مستی والی کمپنی دیکھ کر خوش ہوئ تھی ۔۔۔

اور سناے یہ جلاد آپ کو کچھ کہتا تو نہیں اگر کبھی کچھ کہے مجھے بتانا آپ میں مارو گا اسے ۔۔۔

ارتضٰی نے سامنے سے آتے داٶد کو دیکھ کر محمل سے کہا ۔۔۔

ہاہاہاہا ۔۔

کہنا کیا ہے یہ کھڑوس انسان سوچ سمجھ کر ایسا بولتا ہے جیسے اس کےپیسے لگنے ہے بولنے پہ ۔۔

محمل نے مذاق کرتے کہا ۔۔۔

کیا ہوا رہا ہے یہاں ۔۔

داٶد نے پاس آتے رعب دار آواز سے پوچھا ۔۔۔

تیری برائ ہو رہی ہے ۔۔

بھابھی کہہ رہی ہے تو بور سڑیل انسان ہے دیکھ میرا قصور نہیں میں نے نہیں بتایا تو ہے ہی ایسا تو ہمارا کوئ قصور نہیں ۔۔۔

ارتضٰی نے محمل پر الزام لگاتے ہوے ڈرتے ہوے کہا ۔۔۔

تو بیٹا مل صبح مجھے ابھی ٹائم نہیں ہے میرے پاس ۔۔

داٶد نے دانت پیستے طنز کرتے کہا ۔۔۔

جبکہ اب ارتضٰی کی بولتی بند ہو چکی تھی ملنے والی بات پر ۔۔

یہ کیا طریقہ ہے دوست ہے تمہارا مطلب آپ کا ۔۔

محمل نے ارتضٰی کو چپ ہوتے دیکھ کر داٶد کو کہا جبکہ اس کی گھوری سے جلدی آپ بھی کہہ دیا ۔۔۔

اسے چھوڑو یہ ڈرامہ کرتا ہے ۔۔

اس سے ملو یہ مراد میرا بچپن کا دوست ۔

اور یہ ارتضٰی یہ بھی میرا بچپن کا دوست ہے غلطی سے ۔۔۔

داٶد نے دونوں کا تعارف محمل سے کروایا ۔۔۔

کیا غلطی سے ہاں پکا والا دوست ہو میں تیرا اور یہ ٹھنڈا تعارف کروانے کا شکریہ میں نے پہلے ہی اپنا تعارف کروا دیا ہے ۔۔۔

ارتضٰی نے داٶد پر طنز کرتے کہا ۔۔۔

بھا۔بھایییییی۔۔۔۔

محمل نے مراد کو دیکھتے چیخ کر کہا ۔۔۔

وہ شوک تھی مراد داٶد کا دوست کیسے ۔۔

محمل میری بہن میری جان ۔۔

مراد نے آگے بڑھتے محمل کو گلے لگایا ۔۔۔

بھا بھای میں بے قصور ہو میں نے پاپا کی عزت خراب نہیں کی ۔۔

میری کوئ غلطی نہیں ہے ۔۔

محمل مراد کے سینے لگی روتی ہچکیوں کے ساتھ روتے ہوے بولی ۔۔۔

چپ بلکل میری بات سنو غور سے ۔۔

مراد نے اسے چپ کرواتے کہا ۔۔۔

چل آ ہم چلتے ہے یہاں ان دونوں کا رونا دھونا شروع ہو چکا ہے ۔۔

داٶد نے بیزار ہوتے ارتضٰی سے کہا ۔۔۔

مسکان کیسی ہے پھپو پاپا سب کیسے ہے بھای ۔۔

محمل نے اپنے آنسو صاف کرتے پوچھا ۔۔۔

سب ٹھیک ہے تم یہاں بیٹھو میری بات سنو اب ۔۔۔

مراد نے محمل کو صوفے پر بیھٹاتے ہوے کہا ۔۔

دونوں کو خبر نہ تھی داٶد اور ارتضٰی وہاں سے چلے گے تھے ۔۔

پہلے یہ بتاو اپنے بھای پر کتنا یقین ہے تمیں ۔۔

مراد نے محمل کے ہاتھ پکڑتے اس کا چہرہ دیکھتے پوچھا ۔۔

مجھے آپ پر پورا یقین ہے بھای تبھی میں نے یہ شادی کی ورنہ کبھی میں اس انسان سے شادی نہ کرتی ۔۔

محمل نے تحمل سے جواب دیا ۔۔

شادی تمہاری میں نے اس لیے کراوی تم یہ سمجھ لو تمہاری جان کو خطرہ تھا بس تمیں بچانے کے لیے یہ شادی کروای میں نے ۔۔

مراد نے اس سے نظریں چراتے ہوے کہا ۔۔۔

لیکن بھای کیوں مجھے کچھ نہیں ہوتا اگر آپ سے شادی نہ کرواتے ۔۔

محمل نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا اس کی جان خطرے میں کیسے اور یہ سب ۔۔

ہادی نے کیا یہ سب مراد نے غصہ سے کہتے سارا کچھ بتا دیا ۔۔۔

کیسے وہ کوٹھے ۔مسکان کی آواز چلی جانا اور یہ بھی محمل کی جان کو خطرہ ہے ۔۔۔

مسکا۔مسکان اتنے درد میں ہے اور میں یہاں ۔۔

محمل نے ایک دفعہ پھر روتے ہوے کہا ۔۔

اسے دکھ تھا اپنی جان سے زیادہ عزیز بہن پلس دوست کا ۔۔

ٹھیک ہے وہ اب سب تھوڑا ویٹ کر لو میں سب ٹھیک کر دو گا تیمں یقین ہے نہ اپنے بھای پر ۔۔۔

مراد نے محمل کو چپ کرواتے ہوے پوچھا ۔۔۔۔

جی بھای لیکن یہ داٶد سڑیل انسان مجھے زرا پسند نہیں ہے مجھے ڈی ایم چاہے آپ مجھے وہ دے بس اس سے جان چھڑوا دے میری ۔۔۔

محمل نے چہکتے ہوے کہا ۔۔

وہ خوش تھی اس کے بھای کو یقین تھا اس پر تبھی اپنی ٹون میں واپس آتی بولی ۔۔۔

ہاہاہاہاہا سچی میں سمجھا اب تک تمہارا یہ ڈی ایم والا بھوت اتر چکا ہو گا لیکن یہ کیا میری بہن کو ابھی بھی ڈی ایم چاہے شادی شدہ ہو تم۔۔۔

مراد نے ہنستے ہوے محمل کے سر پر ہاتھ مارتے ہوے کہا ۔۔۔

لو لوگوں کی طلاق ہوتی ہے میں بھی لے کر ڈی ایم سے شادی کر لو گی دیکھنا ۔۔۔

محمل اب نہ ختم ہونے والا ڈی ایم نامہ شروع ہو چکا تھا ۔۔۔

————————————————————

انور میرا قصور نہیں ہے میں نے بہت بار اکبٰری کو روکنے کی کو ششش کی تھی لیکن وہ نہ مانی ۔۔۔

اصغری نے روتے ہوے انور کو کہا ۔۔

وہ رخصت ہو کر انور کے گھر آ چکی تھی ۔۔۔

جب انور نے اسے یہ کہا اس نے اپنی محبت پانے کے لیے اکبٰری کو گھر چھوڑنے پر مجبور کیا تھا ۔۔۔

کیا قصور نہیں ہے تمہارا یہ خط دیکھو صاف صاف لکھا ہے تم نے اسے دھمکی دی تھی ۔۔۔

تبھی وہ اپنی عزت بچانے کے لیے گھر سے بھاگ گی پتہ نہیں کہاں ہو گی وہ ۔۔۔

انور نے غصہ سے اصغری کے بال پکڑتے ہوے کہا ۔۔۔

(جب مجھے پتہ چلا انور مجھ سے محبت کرتا ہے میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتی تھی لیکن پھر ایک دن مجھے پتہ چلا انور سے سب سے زیادہ محبت اصغری کرتی ہے جب یہ بات اصغری سے میں نے پوچھی اس نے مجھے ڈرایا دھمکایا کہ میں انور سے منگنی توڑ دو ۔۔

اگر میں نے یہ منگنی نہ توڑی وہ مجھ پر الزام لگا دے گی کوئ بھی یا میری عزت خراب کر دے گی میں انور کا دل توڑا نہیں چاہتی تھی لیکن نکاح والی رات اصغری نے مجھے کمرے میں آ کر ڈرایا دھمکایا کہ وہ میری عزت خراب کرے گی گھر سے نکال دے گی مجھے میں تب ڈر گی ۔۔

اپنی جان اور عزت کو بچانے کے لیے میں نے گھر سے بھاگ جانا بہتر سمجھا ۔۔

انور تم اصغری سے شادی کر لینا انہیں وہ ساری محبت دینا جن کی وہ حقدار ہے بس مجھے بھول جانا میں بے وفا لڑکی نہیں ہو پر اپنی عزت بچانے کے لیے میں کچھ بھی کر سکتی ہو ۔۔

وعدہ کرو کبھی مجھے نہیں ڈھونڈنے کی کوششش مت کرنا اگر کبھی مجھے ڈھونڈنے کی کوششش کی تم نے تو میں اپنی جان دے دو گی ۔۔

اگر مجھ سے محبت ہے تو اصغری سے شادی کر لینا میں نہ سہی اسے خوشیاں ملنی چاہے ۔۔

صرف تمہاری اکبٰری ۔۔۔۔)…

جھوٹ ہے سب وہ آپ سمجھ نہیں رہے وہ اک۔۔

چٹاخ ۔۔۔

ایک لفظ نہیں سمجھی تمہارے لیے وہ یہاں سے بھاگ گی میری محبت دور ہو گی تمہاری وجہ سے خوش ہو جاٶ تم شادی کر لی لیکن کبھی میری بیوی نہیں بنو گی سمجھی ۔۔

یہ صرف کاغذ کا رشتہ ہے۔۔۔

انور نے اصغری کو مارتے ہوے نفرت سے کہا ۔۔۔

جبکہ اصغری اپنی قسمیت پر رو رہی تھی اس کی ہی سگی بہن نے کیا کیا تھا ۔۔

————————————————————

حسن تم مجھے یہاں کیوں لاے ہو ۔۔۔

اکبٰری نے گاڑی سے باہر نکلتے ہوے حسن سے پوچھا ۔۔

جو کہ ایک کوٹھے کے دروازے کے پاس کھڑے تھے ۔۔۔

جان تم اندر چلو میرے ساتھ تیمں وہ سب ملے گا جس کی تم حقدار ہو ۔۔

حسن نے چہکتے ہوے

اکبٰری کو اندر لے کر چلا گیا ۔۔۔

یہ تو کوٹھا ہے تم مجھے یہاں کیوں لاے ہو ہم تو نکاح کرنے والے تھے ۔۔

اکبٰری نے حیرت سے پوچھا ۔۔

ہاہاہاہاہاہا کیا نکاح تم جیسی لڑکیاں نکاح نہیں کرتی ارے یار تم جیسی لڑکیاں دو دن کی محبت کے لیے اپنے ماں باپ کی سالوں کی محبت چھوڑ کر ایک انجان انسان کے ساتھ گھر سے بھاگ جاتی ہے تم نکاح کی بات کرتی ہو ۔۔۔

حسن نے اکبٰری پر ہنستے ہوے کہا ۔۔۔

کیا بکواس ہے یہ تم امیر نہیں ہو کیا ۔۔

اکبٰری کو کچھ غلط ہوتا محسوس ہوا تبھی اس نے گھبراتے ہوے پوچھا ۔۔۔

نہیں میں کہاں امیر میں اس کوٹھے کا ملازم ہو جو لڑکیاں پھس کر یہاں لاتا ہو اور تمہاری جیسی آ بھی جاتی ہے ۔۔

چچچچچچ افسوس ۔۔

حسن نے طنز کرتے کہا ۔۔۔

دھوکا دیا تم نے میں تمہاری جان لے لو گی ۔۔۔

اکبٰری کو حقیقت معلوم ہوتے طش کے عام میں حسن کو مارنے کے لیے آگے بڑھی ۔۔۔

رکو جانمن تم تو ویسے ہی کسی کی جان نکال دو ۔۔۔

اسے سے پہلے اکبٰری کچھ کرتی جب وہاں ایک خوش شکل آیا ۔۔۔

تم کون ہو ۔۔۔

اکبٰری اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوتے بولی ۔۔۔

میں اس کوٹھے کا مالک قمر خان ویسے تم خوبصورت ہو میرے کام آ سکتی ہو ۔۔۔

قمر نے اکبٰری کا گال چھوتے ہوے کہا ۔۔۔

چھوڑو مجھے میں حسن سے محبت کرتی ہو اس سے نکاح کرو گی اس کی وجہ سے میں سب کچھ چھوڑ کر آی تھی ۔۔۔

اکبٰری نے غصہ سے قمر کو دیکھتے حسن کا کہا جو اب شراب پی کر بے ہوش ہوا پڑا تھا ۔۔۔

دیکھو تم اب گھر بھی نہیں جا سکتی کیونکہ گھر چھوڑ آی تم اور تمہاری جیسی لڑکی سے کون شادی کرے گا تمیں یہ دو دن کی محبت نظر آی وہ محبت نہیں نظر آی جو تمہارے ماں باپ بھای بہن کرتے تھے ۔۔۔

تم پیسے پر مری ہو تو میرے ساتھ رہو میں تمیں وہ ہر چیز دو گا جو تمیں چاہے ۔۔۔

قمر نے اکبٰری کو بہلاتے ہوے کہا ۔۔

وہ اسے جانے نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔۔

ہاں بات تو ٹھیک تمہاری اور یہ جاہل انسان مجھے کیا دے گا ویسے بھی میرے ماں باپ کو بھی پراوہ نہیں ہونی تو میں کیوں یہ آفر چھوڑ دو ۔۔

تم مجھے ہر وہ چیز دو گے مطلب پیسہ۔۔

اکبٰری نے چہکتے ہوے پوچھا ۔۔۔

اسے زرا پرواہ نہیں تھی وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ کیا کر کے آی تھی اگر فکر تھی تو پیسوں کی۔۔۔

ہاں ضرور اب تم میری ہو ان سب کو اپنا سمجھو تم ۔۔۔۔

قمر نے خوش ہوتے کہا ۔۔۔

وقت کا کام تھا گزرنا جو کہ گزر رہا تھا ۔۔۔۔

اصغری اور انور کے درمیان کچھ بھی صیح نہیں ہوا تھا بلکہ وہ جب بھی اصغری کو دیکھتا اسے اپنی ناکام محبت یاد آتی ۔۔

انور اپنا غصہ اصغری کو مار پیٹ کر نکلتا ۔۔۔

اصغری اپنا نصیب سمجھ کر خاموش ہو جاتی ۔۔۔

دو سال اکٰبری کو ہو گے تھے قمر کے ساتھ رہے ۔۔۔

اسے اتنی دولت ملی تھی کہ کوٹھے اب وہ اکٰری کی بجاے ریشم بیگم کے نام سے مشہور ہو گی تھی ۔۔۔۔

خان یہ اولاد تمہاری اور میری ہے کیوں نہیں سمجھ رہے تم ۔۔۔

اکبٰری نے غصہ سے قمر سے کہا ۔۔

نہیں ہے یہ میری اولاد سمجھی پتہ نہیں کس کی ہو گی میں نہیں مانتا یہ پتہ نہیں کس کس کے ساتھ رہی ہو تم ۔۔

قمر نے شراب پیتے ہوے کہا ۔۔۔

بکواس بند کرو اپنی سمجھے تمہاری ہی ہے تم جانتے ہو میں ایسی نہیں تھی پہلے ۔۔۔

اکبٰری نے قمر کا گریبان پکڑتے غصہ سے کہا ۔۔۔

اوقات میں رہو سمجھی اگر زیادہ زبان چلائ تو ابھی کہ ابھی مار دو گا ویسے بھی کوئ نہیں جانتا تم کہاں ہو زندہ بھی ہو یا نہیں ۔۔۔

دور رہو مجھ سے ۔۔

قمر نے غصہ سے دور کرتے کہا ۔۔

ٹھیک ہے مجھے بھی یہ اولاد نہیں چاہے ۔۔۔

اکبٰری نے نفرت سے کہا ۔۔

ہاں جو مرضی کرو ۔۔۔

جاو دفع ہو اب یہاں سے ۔۔

قمر نے حقارت سے کہا ۔۔۔

————————————————————

ماما کیا ہوا آپ رو رہی ہے سب ٹھیک ہے مسکان کیسی ہے ۔۔

مراد جب رات واپس گھر آیا تو ہال میں بیٹھی روتی اصغری بیگم کو دیکھ کر پوچھا ۔۔۔۔۔

مراد تم نکاح کر لو مسکان سے بیٹا ۔۔۔

اصغری بیگم نے روتے ہوے کہا ۔۔۔

لیکن

ہوا کیا ہے یہ بتاے ۔۔

مراد نے نکاح والی بات اگنور کرتے پوچھا ۔۔۔

وہ مسکان نے ۔۔۔۔۔ اصغری بیگم نے روتے ہوے بتایا کیسے مسکان نے اپنی جان لینے کی کوششش کی ۔۔۔۔

اچھا آپ رو تو نہ ہم کوئ حل نکال لیتے ہے یہ نکاح ضروری نہیں ہے ۔۔

مراد نے غصہ سے کہا نکاح اور مسکان سے کبھی بھی نہیں ۔۔۔

نہیں اس کا یہی حل ہے تم کرو گے شادی ۔۔

اصغری نے آس بھری نظروں سے دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔

ک۔۔

کیا ۔۔

امی یہ آپ کیا کہہ رہی میں کیسے اس گونگی سے شادی کرسکتا ہو جیسے اپنا آپ بھی سبھنالنا نہیں آتا مجھے کیا سبھالے گی ۔۔

جو خود کے لیے کچھ نہیں بول سکتی میرے لیے کیا بولے گی ۔۔۔

بکواس بند کرو اور سوچ سمجھ کر بات کرو ۔تماری شادی اسی سے ہوگی ۔۔

امی اس کے گونگے پن کی وجہ سے سالوں کی منگنی ٹوٹ گی ۔اب کیا چاہتی ہے وہ مصبیت میں اپنے گلے ڈال لو ۔ایسا ہرگز نہیں

لیکن ماما میں ۔۔۔

اچھا میں آتا ہو ۔۔۔

مراد نے بات کرتے اچانک کچھ سوچتے ہوے باہر چلا گیا ۔۔۔۔

ہلیو داٶد یار بچا لے مجھے ماما میری شادی کروا رہی ہے تم سب کر سکتے ہو یہ کام کر دے ۔۔۔

مراد نے جلدی سے فون ملاتے ہوے اپنی کہی ۔۔۔

ہاں تو کر لو اس سے شادی میری بھی تو کروائ تھی تو نے مجھ سے پوچھا تھا کیا ۔۔۔۔

داٶد نے غصہ سے کہا ۔۔

یار تمہاری بات اور تھی محمل

اچھی لڑکی ہے اور یہ اچھی لڑکی نہیں ہے

نفرت ہے مجھے اس سے کہاں میں شادی کر لو اس سے ۔۔۔

مراد نے چڑتے ہوے کہا ۔۔۔

ہے میں تو جیسے عشق کرتا ہو تیری کزن سے ۔۔۔

تو کر شادی مجھے سکون آے گا اب ۔۔

داٶد نے طنز کرتے کہا ۔۔۔

میں نہیں کر رہا نکاح کچھ بھی ہو جاے بس۔۔

تم نہیں جانتے وہ کیسی لڑکی ہے ۔۔۔

مراد نے اب غصہ سے کہا ۔۔۔

تم کر رہے ہو نکاح اس سے یہ میرا فصیلہ ہے بس ۔۔۔

آگے میں کچھ نہیں سنو گا ۔۔۔

داٶد نے غصہ سے کہہ کر فون کاٹ دیا ۔۔۔۔

اب یہ مجھ سے بدلہ لے گا کیا کرو میں ۔۔

مراد نے دکھ سے اپنا سر پکڑتے ہوے سوچا ۔۔۔

————————————————————

ماما آپ اجازت لے مسکان سے ۔۔

مراد نے اندر آتے کہہ ۔۔۔

خوش رہو میرا بیٹا میں ابھی پوچھ کر آی ۔۔۔

اصغری بیگم نے مراد کا ماتھا چومتے ہوے کہا ۔۔۔

اففف میں کیسے اس گونگی کو برداشت کرو گا ۔۔۔

کہاں میں اس کی شکل دیکھنے کو تیار نہیں اور یہ بیوی بن رہی ہے میری ۔۔۔۔

مراد نے پریشان ہوتے سوچا ۔۔۔

———————————————————–

مسکان بیٹا بات کرنی ہے سو تو نہیں گی ۔۔۔

اصغری مسکان کے کمرے میں آتی بولی ۔۔

جبکہ مسکان خاموشی سے اٹھ کر بیٹھ چکی تھی ۔۔۔

دیکھو بیٹا غلط مت سمجھنا میں چاہتی ہو تم نکاح کر لو مراد سے میں تمیں ہمیشہ سے اپنی بیٹی بنانا چاہتی تھی آج میرے اللہٌنے سن لی سب تم مان جاو ۔۔۔

اصغری نے بے تابی سے جلدی جلدی کہا جبکہ یہ سن کر ہی مسکان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ چکی تھی ۔۔۔

میرا بیٹا بہت اچھا ہے تم انکار مت کرو میرے بیٹے کی زندگی میں شامل ہو جاو یہ میری درخواست ہے ۔۔۔

اصغری بیگم نے مسکان کو نفی میں سر ہلاتے منت کرتے کہا ۔۔۔

اب مسکان نے باقاعدہ رونا شروع کر دیا تھا وہ کیسے مراد سے نکاح کر سکتی ہے جو اس کی شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا ۔۔۔

بس مسکان میں تمہارے لیے ہی کہہ رہی ہو یہ نکاح تم کرو گی ورنہ میرا مرا ہوا منہ دیکھو گی سمجھی ۔۔۔

اصغری بیگم نے اب غصہ سے کہا کیونکہ وہ دل سے چاہتی تھی مسکان اور مراد کا نکاح ہو جاے ۔۔۔

مرنے والی بات پر مسکان پھوٹ پھوٹ کر روتی مان گی ۔۔۔

کیونکہ دنیا میں صرف اس کے پاس ایک اصغری بیگم کا سہارا تھا ورنہ وہ تو جانتی بھی نہیں تھی کہ کون ہے وہ ۔۔۔

خوش رہو میری بیٹی میرا بیٹا تمیں خوش رکھے گا ۔۔۔

اصغری بیگم نے خوش ہوتے کہا

———————————————————–

کیسا لگ رہا ہے مسز مراد بن کر ۔۔۔

مراد نے مسکان کے کمرے میں آتے طنز کرتے پوچھا ۔۔۔۔

تھوڑی دیر پہلے ہی دونوں کا نکاح ہوا تھا ۔۔۔

مراد تب سے جل رہا تھا غصے سے ۔۔۔

مسکان خاموش تھی ۔۔

(میں جانتی ہو تمہاری نظر میں میری کوئ اوقات نہیں اب تو بول بھی نہیں سکتی ورنہ بتاتی میں کہ کیسا فیل کر رہی ۔۔۔

تم نے مجھ پر ترس کھا کر شادی کی ہے مسٹر مراد مجھے پتہ میں کبھی تمہاری بیوی نہیں بن سکو گی ۔۔۔

مجھے جیسی لڑکی سے کون شادی کرتا جس کو اپنا ہی نہیں پتہ ۔۔۔

میں جلد ہی یہاں سب کو چھوڑ کر چلی جاو گی ۔۔۔)

مسکان گم صم سی بیٹھی ان ہی سوچوں میں گم تھی ۔۔۔

اسے احساِس کمتری ہو رہی تھی مراد نے کیوں اس سے شادی کی منع بھی کر سکتا تھا ۔۔۔

اووو میں تو بھول ہی گیا تم بول نہیں سکتی

چچچچ افسوس ۔۔۔

مراد نے مسکان کا مذاق بناتے ہوے کہا ۔۔۔

کچھ دن پہلے جو ہمدردی اسے ہو رہی تھی مسکان کے ساتھ اب نکاح کرتے ہی وہ واپس اپنے غضیلے پن آیا ۔۔۔۔

اس خیال میں مت رہنا میں کوئ خوش ہو کر شادی نہیں کی ۔۔۔

بلکہ ۔۔۔

مراد جو اپنا اور غصہ نکالنے میں تیار تھا جب فون رنگ ہوتے ادھوری بات چھوڑ دی ۔۔۔

واٹ کیا بکواس ہے یہ میں آتا ہو ۔۔۔

مراد نے فون کرنے والے کی بات سن کر بنا مسکان کی طرف دیکھے دیوانہ وار کمرے سے بھاگ گیا ۔۔۔

جبکہ اب مسکان اپنی قیسمت پر رونے میں مصروف تھی

———————————————————–

یہ میرا گھر ہے ۔۔۔

اے اے نے ثانیہ کو اپنے فلیٹ پر لاتے کہا ۔۔

جبکہ کہ ثانیہ بلکل ڈری سہمی سے کھڑی تھی ۔۔

اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا وہ اس دلدل سے باہر نکل آی ہے ۔۔۔

یہ ہمارا بیڈ روم ہے ہاں میں نے سجاوٹ نہیں کوئ بات نہیں پھر کرے گے ۔۔

اےاے نے ثانیہ کو اندر لاتے ہوے کہا ۔۔

وہ بے حد خوش

تھا اس کی محبت اس کے پاس تھی ۔۔

تم میری ۔۔

ایک منٹ ۔۔

اس سے پہلے اےاے ثانیہ سے کچھ کہتا جب اس کا فون رنگ ہوا ۔۔

واٹ دا ہیل یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔

کس میں اتنی ہمت آی ہے ۔۔

اےاے فون والے کی بات سن کر غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔

تم دروازہ بند کر لو میں ابھی آیا ۔۔

اےاے نے جلدی سے ثانیہ کو کہتے باہر بھاگ گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

کون ہے تو اگر کوئ بات نہیں کرنا چاہتا تو مت تنگ کرو ۔۔۔

ڈی ایم نے بیزار ہوتے فون اٹھا کر کہا ۔۔

جو کہ کب سے بج رہا تھا ڈی ایم مسلسل اگنور کیے بیٹھا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہاہاہا ڈی ایم چچچچ کیسے دوست ہو تمہارے دوست خطرے میں ہے تم سکون میں ہو ۔۔

فون کرنے والے نے اسے چرایا ۔۔۔

کیا بکواس ہے یہ اگر میرے دوستوں کو کچھ ہوا تو کتے کی موت مرو گے تم سب۔۔۔

ڈی ایم نے غصہ سے دھاڑتے ہوے کہا ۔۔

ارے پہلے آ تو جاو پھر مار لینا اس ایڈریس پر آو تمیں تمہارے دوست مل جاے گے ۔۔۔

فون والے نے حقارت سے کہا ۔۔

یہ تم اچھا نہیں کر رہے اپنی موت سے پناہ مانگو ورنہ ڈی ایم اتنی آسان موت نہیں دیتا ۔۔

ڈی ایم نے شدید غصہ سے چلاتے ہوے کہا ۔۔

اس کی نیلی آنکھں سرخ انگارہ ہو چکی تھی ۔۔

میرے دوستوں کو ایک آنچ بھی نہیں آنی چاہے ورنہ تمہاری سات نسلوں کو ختم کر دو گا۔۔۔

ڈی ایم نے اپنی گاڑی میں بیھٹتے ہوے کہا ۔۔

جبکہ فون کب کا بند ہو چکا تھا