172.3K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dadhkan (Episode 1)

Dadhkan By Rania Mehar

لاہور کا پوش علاقہ یہاں کا دروالامان بہت مشہور ہے

بہت سی بے سہارا لڑکیوں کا آسراہ یہ دروالامان ہے

بہت سی لڑکیوں نے حالات اور اپنی بے بسی سے تنگ آکر اس دروالامان میں پناہ لی

لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھی

اپنی زندگی گزارنے کے لیے جس ٹھکانے کا انہوں نے انتخاب کیا ہے وہ ٹھکانا ان کی زندگی کو عذاب بنا دے گا

یہاں سانس لینا بھی مشکل ہوجاے گا

لاہور کے پوش علاقے میں موجود دروالامان جو دن کی روشنی میں لڑکیوں کے لیے بہترین ٹھکانے کی نمائش کرتا ہے

لیکن حقیقت میں یہ دروالامان ایک دنددل ہے

یہاں جو ایک بار آجاے اس کے لے وہاں سے نکلنا نامکمن ہوجاتا ہے

یہ دروالامان رات کے اندھیرے میں ایک کوٹھا ہے

یہاں بےحیا بے شرم لوگ اپنی راتوں کو رنگین کرنے کے لیے آتے تھے

وہاں موجود لڑکیاں اپنی بے بسی سے مجبور ہوکر اپنا آپ پیش کر دیتی ہے

کچھ لڑکیاں شوق سے سب کرتی تھی

اور کچھ مجبور ہوکر

لیکن وہاں موجود لڑکیوں کو دیکھ کر ہر کسی کے دماغ میں صرف ایک ہی سوچ آتی تھی

کہ سب اپنی مرضی سے آئی ہے

————————————————–

آخر کب تک اس منحوس مشن پر اپنا آپ خوار کرتے رہے گے ہم DM

ہم نہ آگے جارہے ہے نہ پیچھے ہورہے

میں تو تنگ آگیا ہو

روز ہی ناکامی دیکھ دیکھ کر

دو سال ہوگے ایک ہی جگہ ذلیل ہو رہے ہے کچھ ہاتھ نہیں آرہا HM نے غصے سے کہا

تجھے پتہ ہے آج چندہ کا برتھڈے ہے DM نے اپنی آنکھوں کو صاف کرتے ہوے کہا

اس کا HM کی باتوں پر دھیان ہی نہ تھا

وہ تو اپنی چندہ کو یاد کرنے میں مصروف تھا

( دوسروں کے سامنے مضبوط نظر آنے والا DM جسے دیکھ کر لوگ جذبات سے عاری انسان سمجھتے ہے

لیکن حقیقت میں وہ ایک شخصیت کو یاد کرکے دن رات روتا ہے اس کی یاد میں تڑپتا ہے )

تم بے فکر رہو

بہت جلد چندا تمہارے ساتھ ہوگی H،M نے اسے گلے لگاتے ہوے پیار سے سمجھایا

تجھے پتہ ہے نہ

میں نے کبھی اپنی دھڑکن کو محسوس نہیں کیا

دل تو ہے میرے پاس لیکن دھڑکن نہیں

مجھے میری دھڑکن واپس چاہے بس

میں بھی دوسروں کی طرح جینا چاہتا ہو

کیا میرا کوئی حق نہیں خوشیوں پر

مجھے بھی خوشیاں چاہے

ڈی ایم نے بچوں کی طرح ضدی انداز میں کہا

( ایچ ایم اور ڈی ایم

جو دوسروں کے سامنے ایک دوسرے کو دشمن ظاہر کرتے لیکن حقیقت میں وہ ایک جسم ایک جان ہے

دونوں کی دنیا ایک دوسرے پر ہی ختم ہے وہ دونوں خود کو ایک دوسرے کے بغیر بے کار سمجھتے ہے

ایسا رشتہ ہے ڈی ایم اور ایچ ایم کا)

تم بھول رہے ہو ڈی ایم

ہمارے پاس دل تو ہے لیکن اسے دھڑکنے کی اجازت ہم نہیں دے سکتے

اپنے دل میں کسی کے لیے جذبات لانا مطلب خود کو برباد کرنا ہے

ایچ ایم نے نہایت سنجیدگی سے کہا

کیوں کہ وہ جانتا تھا جو کام وہ کرتے ہے اس میں ہر وقت ان کی جان خطرے میں ہی اٹکی ہوتی ہے

اس کام کی وجہ سے ہی ان کی زندگی عام انسانوں جیسی نہ تھی

ڈی ایم بالکل خاموش رہا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا

————**———————————–

اوے صبر رکھو دونوں

گرم گرم کھاو گے تو منہ جل جاے گا

اے اے کی آواز پر دونوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا

یہاں AA شیطانی مسکڑاہٹ سے انھیں دیکھ رہا تھا

اس کی بات کا مطلب سمجھ کر ان دونوں کے چہرے پر بھی شیطانی مسکراہٹ آگی

یار کب جانا ہے اب ان حسین پریوں کا نظارہ کرنے

اے اے نے قہقہ لگاتے ہوے پوچھا

آج رات کو چلتے ہے اپنی رات بہتر بنانے کے لیے

ایچ ایم نے بے شرمی سے کہا

ان تینوں کے قہقے فضا میں گونج رہے تھے

اور وہ دوبارہ اپنے شیطانی مشن میں مصروف ہوگے

——————————–

مراد بیٹا اٹھ بھی جاو کتنا ٹائم ہوگیا ہے

اصغری بیگم نے اپنے اکلوتے بیٹے کو پیار سے کہا

امی سونے دے آج تو اتوار ہے

مراد نے بند آنکھوں سے ہی کہا

بیٹا بارہ بج گے اور کتنا سونا ہے

جلدی اٹھو اور مسکان کو لے کر آو

ابھی تک نہیں آئی وہ

اصغری بیگم نے پریشانی سے کہا

مسکان کے ذکر پر مراد ایک دم اٹھ کر کھڑا ہوگیا

اس کی سبز آنکھیں غصے سے لال انگارہ بن گی

اصغری بیگم کو اس کی انکھیں دیکھ کر احساس ہوگیا

وہ جلد بازی میں زیادہ ہی بول گی ہے

آخر امی کتنی بار بتانا پرے گا مجھے

کہ میرے سامنے اس لڑکی کا نام بھی مت لیا کرے

اسے اس گھر میں برداشت کر لیتا ہو کیا یہ ہی کافی نہیں آپ کے لیے

جو اب اس کے کاموں کی ذمہ داری مجھ پر تھوپ رہی ہے آپ

آخر کب تک اس اوارہ لڑکی کو برداشت کرو گا میں

ہو گی اس وقت اپنے اس بےشرم بے حیا منگیتر کے ساتھ مراد نے نہایت غصے سے کہا

مسکان کے ذکر پر اس کی حالت ایسی ہی ہوجاتی تھی غصے میں خود کے ہی ادا کیے ہوے الفاظ کا اسے اندازہ نہیں ہوتا تھا

بس کرو مراد

کب تک اس سے نفرت کرو گے

جو اس نے کیا ہی نہیں اس بات کی اسے کب تک سزا دو گے

اور آئندہ اسے آوارہ کہنے سے پہلے سوچ لینا اس کی پرورش تمہاری ماں کے ہاتھوں ہوی ہے

اصغری بیگم نے افسوس سے کہا

پرورش اپ کے ہاتھوں ہوی ہے

خون تو اس کی رگوں میں گندہ ہی ہے نہ

مراد غصے سے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا

اصغری بیگم مراد کی بات کا مطلب سمجھتے ہوے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی

یااللہ میرے بیٹے کو ہدایت دے

انھوں نے روتے ہوے دعا کی

——————————————–

محمل گھر چلتے ہے امی پریشان ہوگی مسکان نے پریشانی سے کہا

ارے چلتے ہے تھوڑی اور مستی کرنے دو

محمل نے سائیکل چلاتے ہوے کہا

دونوں اس وقت سائیکل چلانے میں مصروف تھی

ویسے آج پہلی بار ہم دونوں خاموش ہے بنا لڑائی کے ایک دوسرے کی بات مان رہی ہے میں حیران ہو آج

مسکان نے حیرانی سے پوچھا

( کیوں کہ وہ جب بھی ساتھ ہو اور ان کے درمیان بحث یا لڑائی نہ ہو یہ تو نامکمن تھا )

اس لیے کیونکہ میں بابا کی وجہ سے آج پریشان ہو یار

محمل نے دکھی ہوتے کہا

تم پریشان نہ ہو وہ جلد ٹھیک ہوجاے گے

مسکان نے اسے گلے لگاتے ہوے تسلی دی

(وہ دونوں ایسی ہی تھی ہر وقت لڑائی جھگڑا کرنے میں مصروف رہتی

موج مستی کرنا ان کا مشغلہ تھا

دونوں بہت کم ہی سکون سے ایک ساتھ رہتی تھی

زیادہ ٹائم تو دونوں کا ایک دوسرے سے لڑنے میں گزر جاتا تھا

لیکن دونوں ایک دوسرے کا مضبوط سہارا تھی

ہر دکھ تکلیف ایک دوسرے سے شئر کرتی تھی

اور بن کہے سب سمجھ جاتی تھی

جہاں لڑائی ہو وہاں پیار بھی سب سے زیادہ ہوتا ہے

یہ ہی حال تھا مسکان اور محمل کا)

————————–

ارے ہادی بھای آپ یہاں

محمل نے اپنے سامنے کھڑے ہادی کو دیکھ کر حیرانی سے پوچھا

جو مسلسل غصے سے مسکان کو دیکھ رہا تھا

اور مسکان اس کے غصے کو اگنور کیے چاکلیٹ کھانے میں مصروف تھی

تمہں کتنی بار منع کیا ہے مجھے اگنور مت کیا کرو

تمہں سمجھ نہیں آتی کیا میری بات

ہادی نے مسکان کے بازوں کو پکڑتے ہوے غصے سے کہا

مسکان کا اگنور کرنا اسے ایک انکھ نہ بایا

ہاتھ چھوڑو میرا

ہمت کیسے ہوی تمہاری

اپنے ان غلیظ ہاتھوں سے مجھے چھونے کی

مسکان نے اپنا بازو چھڑواتے ہوے نہایت غصے سے کہا

مینگتر ہو تمہارا

جب چاہوں چھو سکتا ہو تمہیں

اور یہ کیا بکواس کی غلیظ ہاتھ

ہمیت کیسے ہوئی یہ بکواس کرنے کی

ہادی نے نہایت غصے سے چلاتے ہوے پوچھا

جیسے تمہاری ہمت ہوجاتی ہے روز اپنی راتیں کسی اور کے ساتھ گزارنے کی

اور منگیتر ہو بیوی نہیں

آیندہ مجھے ہاتھ لگانے کی جرت بھی کی

تو سب کو تمہاری سچائی بتا دو گی بہتر یہ ہی ہے میرے ساتھ تمیز سے رہو

مسکان نے تحمل سے مسکراتے ہوے کہا

ہادی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا

اس لے خاموشی سے چلا گیا

آخر تم سب کو بتا کیوں نہیں دیتی مسکان

کب تک یہ سب برداشت کرو گی

محمل نے دکھی ہوتے کہا

میں کوئی پرانی صدی کی لڑکی نہیں جو چپ چاپ سب برداشت کر لو گی

آج کے دور کی لڑکی ہو میں

اور مجھ میں ہمت اور حوصلہ ہے کہ میں خود کو ان منحوس لوگوں سے بچا سکوں

تم اچھے سے جانتی ہو کن حالات میں منگنی ہوئی تھی

بس امی کی وجہ سے خاموش ہو

بہت جلد سب بتا دو گی انھیں

میری شادی اس گھٹیا انسان سے ہرگز نہیں ہوگی بے فکر رہو

مسکان نےمسکراتے ہوے کہا

اور دونوں گھر کی طرف چلی گی

دونوں ہی پر اعتماد حوصلہ منداور مضبوط قدم رکھنے والی لڑکیاں تھی

بہت سی پریشانیوں کا سامنا انہوں نے خود کیا بنا کسی کو بتاے

یہ تو اب وقت کا کھیل ہے

کہ وہ ہمشہ ہی ایسی رہے گی

یا اپنی ہی انکھوں سے وہ دونوں ایک دوسرے کی ذات کو کرچی کرچی ہوتے ہوے دیکھے گی