Chandni By Meem Ain Readelle50270

Chandni By Meem Ain Readelle50270 (Chandni) Last Episode

50.7K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Chandni) Last Episode

وہ کمرے میں داخل ہوتا اپنے پیچھے دروازہ بند کر گیا۔ اندر قدم رکھتے ہی گلاب کی مسحور کن خوشبو ناک کے نتھنوں سے ٹکراتی دل و دماغ پر ایک خوشگوار اثر چھوڑ گئی۔
نظریں پهسلتی جب سامنے نظر آتے حسین ترین منظر سے ٹکرائی تو روح تک ایک سکون سا اترتا محسوس ہوا۔
سامنے ہی وہ عورت اس کے لئے ہار سنگھار کیے گھونگھٹ اوڑھے بیٹھی تھی جسے کچھ دیر پہلے ثاقب جمال نے اپنے نکاح میں قبول کیا تھا۔
وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اس کے بلکل سامنے بیڈ پر ٹک گیا۔
“السلام علیکم !!!!”
اس کے سلام کرنے پر وہ دھیمی سی آواز میں جواب دے گئی تو اس کی لرزتی آواز سے اس کی كیفیيت محسوس کرتے ثاقب جمال کے لبوں کو خوبصورت مسکان نے چھو لیا۔
“کیا مجھے گھونگھٹ اٹھانے کی اجازت ہے ؟؟”
وہ اپنے مضبوط ہاتھ اس کے بھاری دوپٹے کے کنارے پر رکھتا مستفسر ہوا تو وہ محض سر ہلا گئی۔اس کے اقرار پر ثاقب نے دھیرے سے اس کا گھونگھٹ پلٹا۔
“ما شاء اللّه !!!”
اس کے چاند سے حسین چہرے پر نظر پڑتے ہی یہ الفاظ بے ساختہ ثاقب جمال کے ہونٹوں سے پهسلے تھے جنھیں سنتی دل آرا مزید سرخ پڑی۔
سرخ عروسی جوڑے میں سنہری زیور پہنے ہاتھوں پر ثاقب کے نام کی مہندی لگاۓ وہ حسین ترین سے بھی بڑھ کر لگ رہی تھی ساقب کو۔
اس نے ہمیشہ دل آرا کو سادگی میں دیکھا تھا۔ کہاں سوچا تھا کہ یوں بن سنور کر اس کا دل بے ایمان کر چھوڑے گی۔
دل آرا لرزتی پلکیں جھکا کر بیٹھی اس کی گہری نظروں کی تپش اپنے وجود پر محسوس کرتی پہلو بدل رہی تھی جب ثاقب اس کی گود میں پڑے نازک ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھام گیا۔ اس کے ہاتھوں کا لمس محسوس کرتی دل آرا تھرا اٹھی۔
“یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے کائنات کی ساری دلکشی میرے سامنے بیٹھے وجود میں آ سمائی ہے۔”
وہ جھک کر اس کے مہندی سے سجے ہاتھوں کی پشت پر اپنے لبوں کا پہلا عقیدت بھرا بوسہ دیتا ہوا بولا تو جانے کس احساس کے تحت دل آرا کے نین کٹورے بھیگ اٹھے ۔
“کیا آپ کو میرا چھونا برا لگا ؟؟”
اس کی بھیگی آنکھیں دیکھتا وہ بے ساختہ پوچھ اٹھا۔
“نہیں ایسا ۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں ہے !!!”
اسے غلط گہمی کا شکار ہوتے دیکھ کر وہ بے ساختہ اس کی بات کی نفی کر اٹھی۔
“پھر یہ خوبصورت آنکھیں نم کیوں ہیں ؟؟”
وہ ہاتھ بڑھاتا اس انگلی کی پور سے اس کی پلکوں پر ٹکا آنسو سمیٹ کر سوال کر بیٹھا۔
“مجھے کہاں آج تک کسی نے ایسی محبت دی ہے ؟؟ ایک بے بنیاد الزام کی وجہ سے میرے نام کے ساتھ آپ کا نام خراب ہوا آپ کو ایک مجمع کے سامنے برا بھلا کیا گیا بد کردار کہا گیا اور نوکری سے نکال دیا گیا مگر پھر بھی آپ نے مجھے جائے پناہ دی میری حفاظت کی مجھے اتنی عزت دی اور بغیر آنا کو بیچ میں لاۓ مجھے اپنا نام دیا بھلا کہاں میں اتنی عزت کی حق دار تھی !!!”
وہ بولنے پر آئی تو اپنے دل کی ساری بھڑاس نکال اٹھی۔ ثاقب آگے کو كهسكتا اسے نرمی سے اپنے حصار میں قید کر گیا۔
“جب آپ بے قصور تھیں تو میں کون ہوتا تھا آپ کو قصور وار ٹھہرانے والا۔”
وہ نرمی سے اس کی آنکھیں پونچھتا اس کا سر اپنے کندھے سے لگا گیا۔
“میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں سب سے پہلے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ ماں یا بڑی بہن بن کر میرے بھائیوں کا خیال رکھئے گا اس گھر کو اچھے سے سمبھالئیے گا کیوں کہ میں جانتا ہوں مجھے یہ سب کہنے کی تو دور سوچنے کی بھی ضرورت نہیں کیوں کہ مقابل آپ ہیں ۔ دیکھیں دل آپ ایک ماہ سے اس گھر میں رہ رہی ہیں آپ کو اچھے سے اندازہ ہو گیا ہوگا ہماری مالی حالت کا بھی۔
میں آپ سے بڑے بڑے دعوے نہیں کروں گا مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ ہمیشہ اپنی بساط سے بڑھ کر آپ کا خیال رکھوں گا آپ کو کسی چیز کی کمی نہیں آنے دوں گا۔ بس ہمیشہ میرے ساتھ مخلص اور باوفا رہنا آپ !!!”
وہ نرمی سے اپنے جذبات کی عکاسی کرتا جھک کر اس کی پیشانی کو اپنے لمس سے معتبر کر گیا۔
“مرد وہ نہیں ہوتا جو پیسے والا ہو بلکہ مرد وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ ایک غیر محرم عورت وقت آنے پر خود کو محفوظ سمجھ سکے۔ آپ نے مجھے تب پناہ اور عزت دی جب میں آپ کی کچھ بھی نہیں لگتی تھی اور اب جب میں آپ کی بیوی بن چکی ہوں تو آپ میری خاطر کیا نہ کر گزریں گے۔”
وہ محبت سے کہتی اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپا گئی تو ثاقب جمال بھر پور طریقے سے مسکرا دیا۔
“پھر میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ کیا آپ کو ہمارے رشتے کی سمجھنے کے لئے وقت چاہئے یا ہمیں آج کے اس خاص دن کی خاص رات اپنے رشتے کی شروعات کرتے ہوئے اپنے رشتے کو مضبوط کر دینا چاہئے۔”
وہ دل آرا کی ٹھوری کے نیچے اپنی انگلی رکھتا اس کا چہرہ اٹھا کر اپنے مقابل کرتا بولا تو اس کے بے باک انداز اور الفاظ پر دل آرا کا رنگ لباس کی طرح ہی سرخ پڑ گیا۔
وہ جھٹ سے اپنا اناری چہرہ اس کے سینے میں چھپاتی اسے اقرار سونپ گئی تو ثاقب سرشار ہوتا اسے سختی سے خود میں بھینچ گیا۔ اسے یقین تھا کہ آنے والی صبح بہت روشن ہونے والی تھی۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
وہ سر ہاتھوں میں دے بے بس سا بیٹھا تھا۔ چاندنی کا چہرہ بار بار آنکھوں کے سامنے آتا اسے مزید بے چین کر رہا تھا۔ آخر یہ سب کیا تھا۔ کیا سوچا تھا اور کیا ہوگیا۔
“خیریت ہے بھیا راتوں کو جاگ رہے ہیں !!! ڈال میں کچھ کالا بلکہ پوری کی پوری ڈال ہی کالی لگ رہی ہیں !!!”
حسام اس کے ساتھ آ کر بیٹھتا اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا شرارت سے بول اٹھا۔
“جاگ تو اب تک تم بھی رہے ہو۔ اپنے بارے میں کیا خیال ہے پھر ؟؟”۔
عباد الٹا اس سے سوال کر اٹھا۔
“بھئی ہم تو بھوک سے اٹھے تھے۔ آپ کی طرح مجنو بن کر یہاں سر میں ہاتھ دیے نہیں بیٹھا تھا میں !!!”
بھلا کہاں ممکن تھا کہ حسام کسی کو معافی دے دیتا۔
“بہت الجھن کا شکار ہوں حسام !!! دعا کرو میری یہ الجھن سلجھ جاۓ۔”
وہ بے ساختہ ہی کہہ اٹھا تو حسام بھی سیریس ہو کر بیٹھا۔
“کیا بات ہے بھیا سب ٹھیک تو ہے نا ؟؟ کہیں میری ہونے والی بھابھی سے تو لڑائی نہیں ہو گئی ؟؟”
وہ آخر میں پھر سے شرارت کر بیٹھا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے۔بس تھوڑی سی الجھن ہے !!!”
اس کی بات پر حسام گہری نظر اس کے پریشان سے چہرے پر ڈال گیا۔
“چلیں اٹھ کر سو جائیں تھک گئے ہوں گے آپ!! اللّه پاک سب ٹھیک کر دے گا !!!”
وہ اس کا کندھا تهپتهپا کر اٹھ گیا تو عباد بھی اس کی فکر پر سچے دل سے مسکراتا سب کچھ اللّه پر چھوڑتا اٹھ کر کمرے کی طرف بڑھ گیا کیوں کہ رات واقعی گہری ہو گئی تھی۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
پھولوں کا تاروں کا سب کا کہنا ہے
ایک ہزاروں میں میری بہنا ہے
ساری عمر ہمیں سنگ رہنا ہے
جیسے ہی دل آرا ثاقب کے ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی وہ تینوں بھائی ایک ساتھ پورے جوش سے گانے لگے۔ دل آرا کا چہرہ خوشی سے روشن ہو اٹھا۔
تینوں بھائیوں نے نئے شادی شدہ جوڑے کے ناشتے(سحری ) کا انتظام ڈرائنگ روم میں کیا تھا۔ عباد ثاقب کو رات ہی میسج کر کے بتا چکا تھا۔
“دیکھ لیں حسین آرا ۔۔۔دل پر پتھر رکھ کر آج آپ کو بہن بول ہی دیا ورنہ خدا گواہ ہے آج تک حسام نے کسی حسین لڑکی کو بہن نہیں بنایا !!!”
حسام دل آرا کو دیکھ کر اپنے نادیدہ آنسو پونچھتا بولا تو جہاں دل آرا كهلكهلا کر ہنس دی وہیں ثاقب حسام کی گردن پر تھپڑ لگا گیا۔
“یہ بڑے بہن بھائی ہمیشہ سے اتنے سڑو کیوں ہوتے ہیں۔ ہر وقت رعب میں ہی رہتے ہیں !!!”
وہ اپنی گردن سہلاتا منہ بنا کر بول اٹھا۔
“کیوں کہ ہم ان بچوں کے ماں باپ بن جاتے ہیں جنھیں ہم نے پیدا بھی نہیں کیا ہوتا۔ اتنا غصّہ تو بنتا ہے پھر۔”
ثاقب کندھے اچکا کر بولتا دل آرا کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھتا اسے اپنے ساتھ بیٹھا گیا جب کہ ثاقب کی بات پر سب کی ہنسی بے ساختہ تھی۔
سحری میں کم وقت تھا اس لئے سب چپ چاپ سحری کرنے لگے۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
“لیں جی چاند نظر آ گیا۔ میں نے کہا تھا نا کہ اس دفعہ بھی انتیس روزے ہی ہوں گے پر کوئی میری بات پر یقین کرے تو ہی نا !!!”
حسام چیخ چیخ کر بول رہا تھا۔
“یار بس کر دے مان لیا کہ تو نجومی ہے پر اب ہمارے کان کے پردے تو نہ پھاڑ !!!”
حمزہ جهنجهلا کر بولا تو حسام اس کی بات پر اسے گھور کر رہ گیا۔
عشاء کی نماز کے بعد ثاقب باہر کسی دوست کے پاس رک گیا تھا جب کہ وہ تینوں گھر آ گئے تھے۔ ابھی صبح عید ہونے کا اعلان ہوا تھا۔
“دل آرا اٹھ کر جلدی سے ریڈی ہو جائیں میں بائیک نکال رہا ہوں!!!”
تبھی ثاقب لاؤنج میں آتا دل آرا سے بولا تو اس کی عجلت پر وہ بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی۔
“پر جانا کہاں ہے وہ بھی اس وقت ؟؟”
وہ اسے دیکھتی بے ساختہ پوچھ اٹھی۔
“ارے بھابھی جان اس قدر معصوم کیوں ہیں آپ ؟؟ ظاہر سی بات ہے چاند رات پر آپ کو مہندی اور چوڑياں ہی دلوانے لے جائیں گے نا !! مہندی آپ کی لگی ہے مگر تھوڑی سی جب کہ بھیا کو بھری ہوئی پسند ہے۔کیوں بھیا سہی کہہ رہا ہوں نا میں ؟؟؟”
حسام کی بات پر جہاں دل آرا کے چہرے پر شرم گیں مسکراہٹ چمکی وہیں ثاقب اسے گھور کر رہ گیا۔
“بہت زبان چلنے لگی ہے تمہاری!!! جائیں دل آپ چادر لے آئیں جلدی سے !!!”
حسام کو گھور کر وہ دل آرا سے کہتا باہر نکل گیا تو دل آرا بھی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
“بھیا کیسے لال گلابی ہو گئے تھے چوری پکڑی جانے پر!!!”
ان کے جانے کے بعد حمزہ اور حسام ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس دیے۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
“ثاقب اٹھ جائیں نماز کا وقت ہو گیا ہے !!!”
وہ کب سے اس کے سرہانے کھڑی اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی پر وہ نا جانے آج کیا کھا کر سویا تھا کہ اس کی نیند ہی پوری نہیں ہو رہی تھی۔
“سونے دیں دل !!! آپ بھی سو جائیں !!!”
نیند میں کہتا وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچنےلگا جب اس کا ارادہ سمجھتے وہ تیزی سے پیچھے ہٹ گئی۔
“ثاقب میں جا رہی ہوں کچن میں آپ سوتے رہیں اب !!”
دهمكی بھرے انداز میں کہتی وہ کمرے سے نکل گئی تو ثاقب جو کب سے جان بوجھ کر اسے تنگ کر رہا تھا بد مزہ ہو کر اٹھ بیٹھا۔
“بہت ہی ان رومانٹک بیوی ملی ہے مجھے !!!”
خود سے کہتا وہ اٹھ کر الماری کی طرف بڑھ گیا جہاں وہ اس کا آج کے دن پہننے والا سوٹ لٹکا گئی تھی۔
ڈریسنگ ٹیبل پر نظر پڑی تو اس کی ساری چیزیں سلیقے سے رکھی نظر آئیں۔وہ مسکراتا ہوا کپڑے پکڑ کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
“عید مبارک آپی جان !!!”
وہ ٹیبل پر شیر خورمہ رکھ رہی تھی جب حمزہ کی آواز سنائی دی۔
وہ مسکراتا ہوا اسے اپنے ساتھ لگا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ گیا۔
“عید مبارک میری جان !!!”
وہ مسکراتی ہوئی اس کا گال تهپتهپا گئی۔
حمزہ کے پیچھے ہی وہ تینوں بھی آ گئے۔
“عید مبارک بیگم جان !!!”
عباد اور حسام سے ملنے کے بعد وہ اپنی جگہ پر ہی کھڑی تھی جب ثاقب اس کے قریب آتا اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر اس کی پیشانی پر اپنے لمس کا پھول کھلا گیا۔
“اوئے ہوۓ !!!!”
وہ تینوں شرارت سے سیٹی بجاتے ایک کورس میں بولے تو دل آرا جھینپ اٹھی۔
“شرم کرو تم لوگ !! اپنی حق حلال کی بیوی سے ہی عید ملا ہوں !!!”
ان تینوں کو گھورتا وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا تو وہ سب بھی اپنی اپنی جگہ سمبھال گئے۔
دل آرا انہیں میٹھا سرو کرنے لگی۔
میٹھا کھانے کے بعد وہ سب لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئے۔ ثاقب کی نظریں بھٹک بھٹک کر دل آرا پر اٹھ رہی تھیں جو گلابی لباس میں خود بھی گلابی پر بنی ہوئی تھی۔
“حوصلہ رکھئے بھیا آپ کی ہی ہیں !!!”
حمزہ کی شرارتی آواز پر دل آرا سٹپٹا گئی۔
“باتوں میں مت لگاؤ۔میری عیدی نکالیں شاباش سب !!!”
وہ کمر پر ہاتھ رکھتی رعب سے بولی تو اس کے انداز پر ثاقب ابرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
“لیں !!!! اپنا جنا جوان حسین و جمیل بھائی پورا کا پورا آپ کو دے دیا ہے ہم نے اور بونس میں تین عدد ہینڈسم سے بھائی بھی !!! اس کے بعد بھی آپ کو عیدی چاہئے کیا ؟؟؟”
حسام ڈرامائی انداز میں بولا تو دل آرا کا منہ کھل گیا حیرت کے مارے۔
“یہ گفت ٹ مجھے اللّه پاک نے دیا ہے اس لئے آپ زیادہ چالاک مت بنیں۔ چلیں شاباش جلدی نکالیں میری عیدی۔”
وہ دبنگ انداز میں کہتی سب سے پہلے اپنا مہندی سے سجا ہاتھ ثاقب کے آگے پهيلا گئی تو وہ مسکراہٹ دباتا اپنی جیب سے والٹ نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھ گیا۔
“بھیا آپ کی آنکھوں سے لگ رہا ہے کہ آپ حسین آرا کا ہاتھ چومنا چاہتے ہیں ۔ اگر ایسا کوئی ارادہ ہے تو کیا ہم اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیں ؟؟ وہ کیا ہے نا کہ ہم معصوم بچے ابھی خراب نہیں ہونا چاہتے!!!”
حسام هنستا ہوا بولا تو ثاقب اس کی طرف کشن پهينك گیا۔
دل آرا ثاقب کے بعد ان تینوں کی طرف باری باری گئی تو وہ بھی اس عیدی شرافت سے اس کے حوالے کر گئے۔
کس قدر شوق تھا انھیں بہن کا اور اب وہ سارے شوق دل آرا سے ہی پورے کرنا چاہتے تھے۔
تھوڑی دیر مزید باتیں کرنے کے بعد وہ سب گھر سے نکل پڑے۔ اب ان کی منزل کوئی اور تھی ۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
“چاندنی ڈرائنگ روم آؤ میرے ساتھ۔ کچھ مہمان آئے ہیں تو ابو تمہیں وہاں بلا رہے ہیں !!!”
بھابھی کی بات پر چاندنی حیران رہ گئی۔ وہ پردہ کرتی تھی اور اس کے ابو نے کبھی اسے غیر لوگوں کے سامنے نہیں بلایا تھا پھر آج کون سے ایسے خاص مہمان آ گئے تھے۔
وہ ساری سوچوں کو جھٹکتی نقاب کرتی ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔
سامنے صوفے پر دل آرا کو بیٹھے دیکھ کر اسے خوش گوار حیرت نے آ لیا۔
وہ جوش سے دل آرا کی طرف بڑھتی اس کے گلے سے لگ گئی۔ اس سے الگ ہونے کے بعد وہ وہیں دل کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی کیوں کہ یہ اس کی امی کا حکم تھا۔ دل آرا کی پوری فیملی وہاں موجود تھی۔
“انکل آپ اگر چاہیں تو سوچنے کے لئے وقت لے سکتے ہیں۔ عباد آپ کی آنکھوں کے سامنے ہی پلا بڑھا ہے باقی آپ پھر بھی جتنا چاہیں وقت لے لیں پر جواب ہمیں ہان میں ہی چاہیے !!!”
ثاقب کی بات پر چاندنی نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
“بیٹا تم لوگ میرے اپنے بچے ہو بھلا مجھے کیسے نہیں پتا ہو گا۔ عباد جیسا ہیرا تو مجھے ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملے گا اپنی بچی کے لئے۔”
اپنے ابو کی بات سن کر چاندنی کا دل دھڑک اٹھا۔ کیا وہی بات ہو رہی تھی جو وہ سمجھ رہی تھی ؟؟
“چاندنی بیٹا تمھارے ثاقب بھائی عباد کا رشتہ لے کر آئے ہیں تمہارے لئے۔ ہمیں تو دل و جان سے یہ رشتہ پسند ہے۔ تم اپنی رضامندی بتاؤ تا کہ بات آگے بڑھائی جا سکے۔”
ان کی بات پر چاندنی کی ہتھیلیاں نم پڑ گئیں۔ کہاں سوچا تھا کہ دل کی مراد یوں بھی پوری ہو جاۓ گی۔
“جیسے آپ لوگوں کی مرضی۔ میں آپ کی رضا میں راضی ہوں !!!”
دھیمی آواز میں اپنا اقرار سونپتی وہ تیز کمرے سے نکل گئی۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
وہ اپنے کمرے میں بے یقین سی بیٹھی تھی جب بھابھی دوبارہ کمرے میں آئیں۔
“چندہ ابو کہہ رہے ہیں ایک دفعہ عباد سے مل کر جو بات کرنا چاہو کر لو اور سوچ سمجھ لو کیوں کہ پوری زندگی کی معاملہ ہے۔ جلدی سے آ جاؤ وہ انتظار کر رہا ہے چھت پر۔”
بھابھی کہتی چل دی پر وہ گھبرا اٹھی۔ اکیلے میں کیا بات کرےگی وہ بھلا۔
آخر کار ہمت کر کے اٹھتی وہ چھت کی طرف چل دی۔
سامنے ہی وہ منڈیر کے پاس کھڑا تھا۔ سفید شلوار قمیض میں دراز قد اور وجیح سا عباد جمال !!!
اس کے قدموں کی آہٹ پر وہ رخ موڑ کر اس کی طرف دیکھنے لگا جو نیلے رنگ کے لباس میں نقاب اوڑھے نظریں جھکائے کھڑی تھی۔
“کیا ہم بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں ؟؟”
وہ ڈائریکٹ اس کی آنکھوں میں دیکھتا سوال کر گیا تو چاندنی سر ہلاتی ایک طرف پڑی کرسیوں کی طرف بڑھ گئی۔
وہ دونوں اب آمنے سامنے کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ کئی لمحے یوں ہی خاموشی کی نظر ہو گئے۔
“کیا آپ مجھ سے کچھ پوچھنا چاہتی ہیں ؟؟”
عباد کے سوال پر وہ سر ہلا گئی۔
“میں جانتی ہوں آپ مجھے سرسری سا ہی سہی مگر نقاب کے بغیر دیکھ چکے ہیں۔ آپ خود اتنے خوبصورت ہیں تو شادی کے لئے آپ کا انتخاب ایک عام سی شکل و صورت والی لڑکی ہی کیوں ٹھہری ؟؟”
اس کے سوال پر عباد سر جھکا کر مسکرا دیا۔
“سچ بتاؤں تو پہلے مجھے بھی یہی لگتا تھا!!!”
عباد کی بات پر پل بھر کو چاندنی کا سانس سا رکا۔
“پھر میں نے جانا کہ جس سے محبت ہو جاۓ وہی حسین ترین ہے !!!”
اگلی بات تو اس سے بھی زیادہ جان لیوا تھی۔ کیا وہ چاندنی سے محبت کی بات کر رہا تھا ؟؟
“آپ کو نقاب میں دیکھتے اپنا دل اپ پر ہارا ہوں۔ آپ کو نقاب کے بغیر دیکھا بھی تو محض حادثاتی طور پر اور پھر ادراک ہوا کہ محبتیں صورتوں کی محتاج نہیں ہوا کرتی بلکہ جس سے محبت ہو جاۓ وہی حسین ترین ہے !!! باقی کی تعریف حلال رشتے میں بندہ کر کر دوں گا کیا خیال ہے ؟؟؟”
وہ جو مسحور ہوتی اس کا ایک ایک لفظ سن رہی تھی آخری الفاظ پر بری طرح شرما گئی۔
“کیا مجھے اپنی زندگی میں شامل ہونے کا شرف بخشیں گی آپ ؟؟”
وہ اب کی بار واضح الفاظ میں پوچھ گیا تو وہ سر ہلا کر اقرار کرتی وہاں سے اٹھ کر تیزی سے نیچے کی طرف چل دی۔
اس کے جانے کے بعد عباد سر شاری سے مسکرا دیا۔ اس نے سہی وقت پر سہی فیصلہ لے لیا تھا جس پر وہ اپنے اللّه کا شکر گزار تھا۔ اسے یقین تھا چاندنی اس کی زندگی میں شامل ہو کر اس کی زندگی کو بھی روشن کر دے گی آخر ایک نیک عورت اللّه کی طرف سے بہترین تحفہ ہوتی ہے۔
وہ مسکراتا ہوا خود بھی نیچے کی طرف چل دیا جہاں اس کے جان سے عزیز رشتے موجود تھے۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
“ثاقب میں کب سے پوچھ رہی ہوں ہم کہاں جا رہے ہیں اور آپ ہیں کہ بتا ہی نہیں رہے !!!”
دل آرا ناراضگی سے بولی تو ثاقب نے محبت بھری نظروں سے اپنی جان سے پیاری بیوی کو دیکھا۔ ان کی شادی کو تین ماہ گزر گئے تھے اور اس عرصے میں دل آرا اسے جان سے بھی پیاری ہوگی تھی۔
“بس پہنچ گئے خود ہی دیکھ لیجئے گا !!!”
وہ بائیک روکتا بولا تو دل آرا نے نا سمجھی سے سامنے نظر آتی ہسپتال کی عمارت کو دیکھا۔
“ہم یہاں کیوں؟؟؟”
اس کے سوال پر ثاقب بغیر جوابدیے اسے اپنے ساتھ لیتا آگے بڑھنے لگا۔ وہ اسے ساتھ لئے ایک کمرے کے آگے روکا تو دل آرا کا دل گھبرانے لگا۔ ثاقب اسے تسلی دیتا دروازہ کھول کے اسے لئے اندر داخل ہوگیا۔ بیڈ پر موجود وجود کو دیکھتے دل آرا کی آنکھیں حیرت سے پهيل گئیں۔
“ثانیہ !!!!”
یہ نام سرگوشی کی مانند اس کے ہونٹوں سے پهسلا تھا۔ اس کی دوست یا یہ کہا جاۓ اسے بدنام کرنے والی ہستی ہوش و حواس سے بیگانہ بستر پر پڑی تھی۔
“اسے کیا ہوا ثاقب ؟؟؟”
وہ بے چینی سے ثاقب سے پوچھنے لگی۔
“ریپ کے بعد مرڈر اٹیک !!!!”
ثاقب کے جواب پر وہ دونوں ہاتھ ہونٹوں پر جما گئی۔
“جب انسان حسد کی آگ میں جلتا دوسروں پر کیچڑ اچھالے تو کسے ممکن ہے کہ اللّه انصاف نہ کرے۔اس نے اپنے بوئے فرینڈ آصف کے ساتھ مل کر ہم پر الزام لگایا اور خدا کا انصاف دیکھیں آصف اس کا ریپ کر کے اسے بہت بری حالت میں پهينك گیا۔ یہ تب سے کوما میں ہے۔ میں سی سی ٹی وی فوٹیج نكلوا کر یونیورسٹی میں ہماری بے گناہی ثابت کر چکا ہوں پر مجھے افسوس ہے کہ یہ اپنے منہ سے اقرار نہ کر سکی پر دل مطمئن ہے کہ اللّه بہتر انصاف کرنے والا ہے۔ آصف فرار ہو چکا ہے پر مجھے امید نہیں یقین ہے اس کی رسی بھی ضرور کھینچے گا اللّه!!!”
ثاقب کی بات پر وہ آبدیدہ ہوتی رو دی۔
“میں نے اسے معاف کیا ثاقب میں نے معاف کیا۔ اللّه اس کی سزا کم کرے آمین !!!”
وہ ثاقب کے کندھے سے لگی رو دی تو وہ اسے ساتھ لئے وہاں سے نکل آیا۔ اللّه نے ان کا انصاف کر دیا تھا۔ جب معاملہ اللّه کے سپرد کر دیا جاۓ تو وہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
ہاں جی تو فائنلی چاندنی کا سفر بھی آج ختم ہوا۔ میں نے اس ناول میں ایک مڈل کلاس فیملی کے رہن سہن کو دکھانے کی کوشش کی۔ بہن بھائیوں کی اپسی محبت دکھانے کی کوشش کی۔ چھوٹے چھوٹے سبق دینے کی کوشش کی۔ امید ہے میری یہ چھوٹی سی کاوش پسند آئی ہو گی آپ سب کو۔
آپ کو اس کہانی سے کیا سبق ملا ؟ کون سا کردار آپ کا پسندیدہ رہا؟؟ بتانا ضرور ہے۔
مجھے لمبے لمبے تبصرے چاہئے اس پر۔ چلیں شاباش جلدی سے اپنی رائے کا اظہار کریں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ Share ضرور کریں اور لائک کرنا مت بھولیں۔
اللّه حافظ ❤