Chandni By Meem Ain Readelle50270 (Chandni) Episode 6
Rate this Novel
(Chandni) Episode 6
“آپی آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟ باہر آئیں نا !!!”
وہ جو بیڈ پر بیٹھی پریشانی سے ہاتھ مسل رہی تھی حمزہ کی بات پر ایک دم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“حمزہ باہر سب عورتیں بہت عجیب نظروں سے مجھے دیکھ رہی ہیں میں نہیں جاؤں گی باہر !!!”
اس کے روہانسے انداز پر حمزہ نے اسے دیکھا جو بلکل بچوں کی طرح پریشان سی تھی۔
“اپنے بھائیوں کے ہوتے آپ کو کیسی پریشانی ؟؟ چلیں شاباش باہر آئیں۔”
وہ بغیر اس کی ایک بھی بات سنے اس کا ہاتھ پکڑتے اسے اپنے ساتھ کمرے سے باہر لاؤنج میں لے آیا جہاں عورتوں کے لئے اہتمام کیا گیا تھا۔
کچھ عورتوں نے بہت چبھتی نظروں سے حمزہ کے ہاتھ میں دبا دل آرا کا ہاتھ دیکھا تھا۔
“یہ لڑکی کون ہے؟ محلے کی سب بچیوں سے واقف ہوں میں پر یہ لڑکی پہلی مرتبہ دیکھی ہے !!!!”
وہی ہوا جس کا دل آرا کی ڈر تھا۔ ایک خاتون نے یہ سوال کر ہی ڈالا تھا۔افطاری بھی ہونے والی تھی اور وہ اس وقت کوئی تماشا نہیں چاہتی تھی اس لئے کمرے میں بند تھی پر حمزہ نے اسے مشکل میں پهنسا ہی دیا۔
“ہاں ناہید بہن میں بھی یہی پوچھ رہی تھی سب سے پر کسی کو علم نہیں۔ جس طرح اس گھر کے لڑکے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے دیدہ دلیری سے کھڑی ہے کوئی گہرا رشتہ لگتا ہے !!!”
ایک اور عورت کی بات پر اب کی دفعہ دل آرا کا رنگ سفید پڑا اور وہ تیزی سے حمزہ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکال گئی۔
“ہاں امجد بھی بتا رہا تھا کہ لڑکوں نے ایک لڑکی رکھی ہوئی ہے گھر پر۔”
ایک اور تیر چلا تھا جو سیدھا دل آرا کے سینے میں پیوست ہوا تھا۔
“یہ کس قسم کی گھٹیا باتیں کر رہے ہیں آپ لوگ۔ آپ کو شرم نہیں آتی کسی معصوم کے متعلق ایسی بات کرتے ہوئے۔ آپ بھی بیٹیوں والے ہیں سب خدا کا خوف کھائیں کچھ !!!”
حمزہ ان سب کی بکواس سنتا ایک دم بپهر گیا تھا۔
“اوہ بھائی معصوم اور شریف لڑکیاں یوں چار چار غیر لڑکوں کے درمیان نہیں رہتی اور ایسی لڑکی کو ہماری معصوم بیٹیوں سے مت ملاؤ۔”
شور ایک دم بڑھا تو ثاقب عباد اور حسام جو ڈرائنگ روم میں مردوں کے پاس تھے وہ بھی جلدی میں لاؤنج میں آ گئے اور محضایک پل لگا تھا انہیں موجودہ صورت حال سمجھنے میں۔
“ہاں سہی کہہ رہی ہو بہن یہ کونسا شرافت ہے کہ اکیلی خوبصورت اور جوان لڑکی تن تنہا چار غیر مردوں کے درمیان رہ رہی ہے اور اللّه جانے کتنی دفعہ منہ کالا ۔۔۔۔”
وہ وہ عورت بول ہی رہی تھی کہ حمزہ اور حسام ایک ساتھ دھاڑتے اسے خاموش کروا گئے۔
“کسی پر بہتان باندھنے سے پہلے انسان کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لینا چاہئے۔ میں چاہوں تو آپ میں سے ہر ایک کے گھر کا پردہ کھول سکتا ہوں پر اتنا بغیرت اور بے ضمیر نہیں ہوں۔”
بولتے بولتے حمزہ کا سانس پھول گیا۔
“اور جس لڑکی پر الزام لگا رہی ہیں آپ جانتی بھی ہیں یہ کون ہے ؟؟ یہ ثاقب بھیا کی ہونے والی بیوی اور ہم تینوں کی بہن ہیں !!!”
حسام کی بات پر محلے والوں کا تو کیا خود گھر والوں کا منہ کھل گیا۔ ثاقب دل آرا کو، دل آرا ثاقب کو اور عباد اور حمزہ منہ کھولے حسام کو دیکھ رہے تھے۔ پر اگلے ہی پل وہ سب اپنے تاثرات درست کر چکے تھے محض دل آرا تھی جو ہونق بنی سب دیکھ رہی تھی۔
“اگر یہ ثاقب کی منگ ہے تو تم لوگوں کے گھر کیا کر رہی ہے ؟؟ اس کے ماں باپ اور باقی گھر والے کہاں ہیں ؟؟”
لوگوں کی تسلی کہاں ہونی تھی بھلا۔
“بھابھی کے ماں باپ کا انتقال ہو گیا اور یہ اکیلی تھی تو ہم انہیں یہاں لے آئے۔ ویسے بھی اس اتوار کو نکاح ہے۔ فکر مت کریں آپ لوگوں کو ضرور بلایا جاۓ گا۔ مزید کچھ سننا باقی ہے ؟؟”
وہ ایک کے بعد ایک دهماكا کرتا سکون سے سینے پر ہاتھ باندھے سوالیہ نظریں سب پر دوڑا گیا۔
اپنے سوال کے جواب میں اسے محض خاموشی ہی ملی تھی۔
“آذان ہونے میں صرف دو منٹ باقی ہیں بیٹھ جائے آپ سب اور تم تینوں میرے ساتھ آؤ۔”
ثاقب سنجیدگی سے بولتا انہیں اپنے ساتھ آنے کا کہتا ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔
وہ وہیں کھڑی تھی جب حجاب کیے ایک لڑکی اس کے پاس آئ۔
“السلام علیکم میں چاندنی ہوں عباد بھائی کے دوست کی بہن۔ انہوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کیا ہم کمرے میں جا سکتے ہیں ؟؟”
اس لڑکی کی نرم خوبصورت آواز پر وہ بے ساختہ سر ہلاتی اسے ساتھ لئے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
“یہ سب کیا تھا حسام ؟؟”
ثاقب کی ضرورت سے زائد سنجیدہ آواز پر حسام نے تھوک نگلتے باقی دونوں کی طرف دیکھا پر وہ یوں ہو گئے جیسے وہاں موجود ہی نہ ہوں۔
“بھیا وہ در اصل ۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا دل آرا کی خوفناک چیخ سنتے سب اس کے کمرے کی طرف بھاگے !!!!
