Chandni By Meem Ain Readelle50270 (Chandni) episode 2
Rate this Novel
(Chandni) episode 2
“باتھ روم صاف کرنے کے لئے تم لوگوں کو بس میں ہی ملتا ہوں کیا ؟ جب باتھ روم استعمال سب کرتے ہیں صفائی بس میرے اکیلے کے ذمے کیوں ؟”
حسام هارپک کی بوتل ہاتھ میں تھامے ہاتھ نچا نچا کر بولتا باقی دونوں کو قہقہہ لگا کر ہنسنے پر مجبور کر گیا۔
“کیوں کہ بیٹا باتھ روم میں سب سے زیادہ وقت تو ہی لگاتا ہے۔”
یہ بات حقیقت پسند عباد صاحب نے کی تھی اور ستم یہ کہ وہ عباد کو جواب بھی نہیں دے سکتا تھا کیوں کہ وہ اس سے بڑا جو ٹھہرا۔
“اور خدا گواہ ہے اس سے اچھے باتھ روم ہم چاروں میں اور کوئی بھی نہیں صاف کرتا۔”
یہاں حمزہ کی زبان کھلی اور وہاں حسام نے پیروں سے جوتا اٹھا کر اس کی طرف پهينكا جو کہ عین نشانے پر جا لگا تھا۔
(احمد نہ نام تبدیل کر کے حمزہ رکھ دیا ہے۔۔۔۔۔۔میم عین )
“اوئی ماں !!! قسم سے یار حسام کا نشانہ بھی ماؤں کی ہوائی چپل کی طرح کبھی نہیں چھوٹتا۔ جتنی مرضی دوری سے آئے پر لگتا عین نشانے پر ہے۔”
حمزہ اپنی کمر مسلتا برے برے منہ بنا رہا تھا۔
“تجھے تو شکر کرنا چاہئے بیٹا کہ اللّه نے تجھے ایسا بھائی دیا ہے جو تجھے ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتا۔”
حسام کہتا باتھ روم کی طرف بڑھنے لگا جب اسے باہر سے ثاقب کی آواز سنائی دی۔ ان چاروں بھائیوں کی عادت تھی کہ وہ گھر داخل ہوتے ہی بلند آواز میں سلام کیا کرتے تھے۔
“شکر بھیا آ گئے میرے شامی کباب تو بن جائیں گے نا وقت پر !!!”
حمزہ کی تشکر بھری آواز پر عباد نفی میں سر ہلا گیا جب کہ حسام اسے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں پهيلا کر لعنت کا اشارہ کر گیا۔
اگلے ہی پل ثاقب جمال کا وجود لاؤنج کے دروازے کے فریم میں ابھرا اور ان تینوں کو سکت کر گیا۔ وہ تینوں جہاں کہیں تھے وہیں ٹھہر گئے۔
عباد جو صوفے سیٹ کر رہا تھا وہیں رک گیا۔ حمزہ جو بوتل کو منہ لگا کر پانی پی رہا تھا بوتل اس کے ہونٹوں پر ہی جمی رہ گئی جب کہ ہاتھ میں هارپک کی بوتل پکڑے کھڑا حسام دیدے پھاڑے صورت حال سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ان سب کے یوں چونک کر بت بن جانے کی وجہ ثاقب نہیں بلکہ اس کے پیچھے کھڑی لال لباس والی لڑکی تھی۔
ثاقب جمال کے چہرے پر سرد تاثرات سجے تھے جب کہ وہ حسین سی لڑکی لال لباس پر ثاقب کا سفید کوٹ پہنے کھڑی تھی۔ اس کی چہرہ ہر قسم کے تاثر سے پاک تھا جب کہ اس کی حالت زار چیخ چیخ کر اس کے ساتھ کچھ برا ہونے کی نشان دہی کر رہی تھی۔ الجھے بکھرے بال اور سرخ آنکھیں!!!
“میرے ساتھ آئیں۔”
اسے اپنے ساتھ آنے کا کہتے وہ اسے اپنے ساتھ لئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جب کہ پیچھے وہ تینوں بے یقینی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے آیا ان کی آنکھوں نے جو دیکھا ہے کیا وہ حقیقت ہے یا کوئی خواب۔
“یہ میری گنہگار آنکھیں کیا کیا دیکھنے لگ گئی ہیں !!!”
حمزہ کو شاک بھری آواز پر حسام جو کہ اسے كرارہ سا جواب دینے والا تھا ثاقب کو واپس آتا دیکھ کر خاموش ہے رہ گیا۔
“ڈرائنگ روم میں آؤ تم تینوں !!!”
وہ بغیر رکے ان کے قریب سے گزرتا ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گیا تو وہ تینوں بھی اس کے حکم کی تعمیل کرتے اس کی پیروی میں چل دیے۔
“بیٹھو !!!”
اس کی آواز پر وہ تینوں اس کے سامنے بیٹھ گئے۔
“کیا تم لوگوں کو مجھ پر یقین ہے کہ میں کوئی اخلاق سے گری ہوئی حرکت نہیں کر سکتا ؟؟”
وہ مستفسر ہوا تو اس کے لہجے اور الفاظ میں موجود بے یقینی ان تینوں کو برچھی کو مانند لگی تھی۔
“ہمیں اپنے باپ جیسے بھائی پر اتنا ہی گہرا یقین ہے جتنا خدا کی یکتائی پر !!!”
مضبوط لہجے میں یہ چند الفاظ ادا کرنے والا سب سے چھوٹا حمزہ تھا جب کے عباد اور حسام کے چہرے کے تاثرات بھی ایسا ہی کہہ رہے تھے۔
ثاقب ایک گہری سانس بھرتا الفاظ تولنے لگا۔
“یہ دل آرا ہیں۔ میری ایک سٹوڈنٹ۔ بچپن میں یتیم خانے میں ہی آنکھ کھولی اور بالغ ہونے کے بعد ہوسٹل میں شفٹ ہو گئیں۔ ہماری یونیورسٹی کے پاس ہی ایک اسکول میں پارٹ ٹائم جاب کرتی ہیں۔”
وہ لمحہ بھر کو سانس لینے کے لئے رکا۔
“آج فیئر ویل تھا۔ دل آرا نے شاید کسی سكیٹ میں حصّہ لیا تھا۔ میں عباد کی کال سننے کے لئے باہر گیا تھا۔ واپسی پر مجھے دل آرا کی دوست ملی۔ اس نے مجھے کہا کے دل آرا ایک کمرے میں بند ہو گئی ہے دروازہ نہیں کھل رہا اور اس کام کے لئے میں ان کی مدد کروں تب تک وہ کسی اور کو بھی بلا کر لاتی ہے۔ میں جب اس کے بتاۓ کمرے میں باہر پہنچا تو مجھے دل آرا کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔ میں نے تیزی سے دروازہ کھلا تو وہ پہلے سے ہی ان لاک تھا۔ کوئی لڑکا اس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لڑکے کو پیچھے کرتا میں جب تک دل آرا کو اٹھاتا وہ لڑکا باہر نکل کر تیزی سے دروازہ بند کر گیا اور چند لمحوں کے بعد ہی پوری یونیورسٹی وہاں جمع تھی۔”
بولتے بولتے وہی لمحات پھر سے یاد کرتے اس کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔ وہ تینوں بھائی دم سادھے اسے سن رہے تھے۔
“ہم دونوں پر بدکرداری کا الزام لگا کر دل آرا کو یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ ہوسٹل سے بھی نکال دیا۔ میں غصّہ میں جاب چھوڑتا وہاں سے نکل آیا۔ میری بائیک سٹارٹ نہیں ہو رہی تھی تبھی میری نظر ڈل آرا پر پڑی جو چلتی سڑک کے بیچ و بیچ جا کھڑی ہوئی تھی۔ بہت مشکل سے اسے بر وقت بچا پایا۔ وہ اس وقت اپنے حواسوں میں نہیں تھی اور نہ ہی اس کے پاس اور کوئی ٹھکانہ تھا تو اسے میں گھر لے آیا کیوں کہ وہ لڑکی ذات ہے اور لڑکی بھی ایسی جسے میرے نام کے ساتھ بدنام کیا گیا ہے۔ میں اس حیوانوں کے معاشرے میں اسے کہاں اکیلے چھوڑ آتا۔ کیا میں نے سہی کیا ؟؟”
اس کے پوچھنے پر وہ تینوں اسے جواب دے بغیر اس کی طرف لپكتے اس سے چپک گئے۔
“آپ کبھی کچھ غلط کر ہی نہیں سکتے۔ ہمیں آپ پر فخر ہے۔”
عباد کی بعد پر وہ بھی ان تینوں کو خود میں بھینچ گیا۔
“میرے شامی کباب !!!”
اس خاموشی کو حمزہ کی منمناتی آواز نے توڑا تھا۔ سب بھولتے وہ سب ایک دم قہقہہ لگا اٹھے۔
“چلو میرے شیر میں بس فریش ہو جاؤں پھر کام پر لگتا ہوں۔”
ان سے الگ ہو کر حمزہ کے بال بگاڑتے وہ فریش ہونے کی نیت سے عباد کے کمرے کی طرف بڑھ گیا کیوں کہ اس کے کمرے پر تو فلحال دل آرا کا قبضہ تھا۔
وہ ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ گھر میں کل تین کمرے تھے جن میں سے ایک ثاقب کے زیر استعمال تھا دوسرا عباد کے جب کہ ڈرائنگ روم میں حسام اور حمزہ چارپائیاں ڈال کر سوتے تھے۔ چھوٹے سے لاؤنج میں صوفے رکھ کر اور کالین بچھا کر اسے سٹنگ روم کی شکل دی گئی تھی۔ ساتھ ہی کچن تھا جو اگر بہت بڑا نہ تھا تو بہت چھوٹا بھی نہ تھا۔ کچن میں ہی ایک طرف درمیانے سائز کی فریج اور ساتھ چار کرسیاں اور ایک چھوٹا میز رکھا گیا تھا۔ وہ زیادہ تر یہاں کچن میں بیٹھ کر ہی کھانا کھا لیا کرتے تھے۔لاؤنج سے نکل کر چھوٹا سا گیرآج تھا جہاں ایک طرف پودوں سے سجے گملے رکھے گئے تھے اور ایک طرف تین موٹر سائیکلیں کھڑی تھیں۔ ایک ثاقب کے زیر استعمال تھی دوسری عباد کی جب کے تیسری حسام اور حمزہ استعمال کرتے تھے۔
یہ چھوٹا سا گھر ہی جمال برادرز کی جنّت تھا جہاں وہ بہت محبت اور اتفاق سے رہتے تھے۔
اگلے آدھے گھنٹے میں ثاقب فریش ہونے کے بعد کچن میں کھڑا سل بٹے میں شامی کباب کا آمیزہ پیس رہا تھا جب کہ باقی تینوں بھی اپنے اپنے کاموں سے فارغ ہوتے اب کچن میں کھڑے سودا سلف ڈبوں میں ڈال رہے تھے۔
“بھیا ہر دفعہ میں ہی سحری کے وقت دہی لاتا ہوں۔ اس دفعہ اس حسام سے بولیں ۔”
حمزہ ثاقب سے سفارش کرتا بولا تو اس کی فرمائش پر حسام نے تنک کر اسے دیکھا۔
“موٹے تجھے زیادہ ضرورت ہے واک کی۔ پهيلتا جا رہے ہے اس لئے تو تجھے بھیجتا ہوں تا کہ تھوڑی واک کر کے چربی کم ہو تیری۔”
حسام اس کی تھوڑی سی بھری جسامت پر طنز کرتا بولا تو حمزہ نے شکایتی نظروں سے ثاقب کی طرف دیکھا۔
“حسام مت تنگ کرو میرے شیر کوم حمزہ تم مت جانا میں لے آیا کروں گا دہی خود ہی کیوں کہ گلی کے نکڑ تک ہی تو جانا ہوتا ہے۔”
ثاقب کی بات پر حسام نے خونخوار نظروں سے حمزہ کی طرف دیکھا جیسے یہ سب اسی کا قصور ہو۔
“اچھا لڑنا بند کرو اور جا کر سو جاؤ صبح وقت پر اٹھنا بھی ہے۔ عباد یار اگر میں تمہارے ساتھ تمہارا روم شیئر کروں تو تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ؟”
وہ تینوں کو تنبیہ کرتا آخر میں عباد سے مستفسر ہوا تو وہ جھٹ سے نفی میں سر ہلا گیا۔
وو چاروں ہنسی مذاق کر رہے تھے جب کہ ثاقب کے کمرے میں بیٹھی دل آرا اپنے نصیب پر اپنے اللّه سے شکوے شکایات میں مگن تھی یہ جانے بغیر کہ اللّه نے اس کا نصیب کتنا پیارا بنایا ہے۔
یہ جانے بغیر کہ زندگی اس کے لئے کون سا نیا موڑ لینے والی تھی۔
