Chandni By Meem Ain Readelle50270 (chandni) episode 4
Rate this Novel
(chandni) episode 4
“خیر ہے آج اتنا رگڑ رگڑ کر شکل کو کیوں چمکایا جا رہا ہے تمہارا رشتہ دیکھنے والے آ رہے ہیں کیا ؟؟”
حسام شیشے کے آگے کھڑے حمزہ کو زور و شور سے منہ دھوتے دیکھ کر بولا تو جواب میں حمزہ گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔
“کیا بتاؤں میرے بھائی !!!! مجھ سے میرے دکھ درد کی وجہ پوچھ کر مجھے آنسو بہانے پر مجبور مت کرو !!!”
حمزہ کی دکھ بھری آواز پر حسام اسے اوپر سے نیچے تک دیکھنے لگا پھر سمجھتا ہوا سر ہلا گیا۔
“ٹھیک ہے نہیں پوچھتا۔ جیسی تمہاری مرضی !!!”
حسام کندھے اچکا کر بولتا وہاں سے جانے لگا تو اس کی بات پر حمزہ کے چہرے کے زاویے بگڑے۔
“بغیرت انسان جھوٹے منہ ہی پوچھ لیتا۔ میں تو بس مثال دے رہا تھا۔ اچھا یہ چھوڑ اور میرا دکھ سن !!!”
وہ حسام کو کوستا آخر میں خود ہی اپنے دکھ سنانے لگا کیوں کہ اسے اپنے سے سال بڑے بھائی سے پوری امید تھی کہ اس کا غم بانٹے بغیر ہی وہاں سے نو دو گیارہ ہو جاۓ گا۔
“بک بھی دے اب !!!”
حسام اس کے کندھے پر دو ہتھڑ مارتا بولا تو حمزہ كراه کر رہ گیا۔ ایک تو سب کا بس صرف گھر کی چھوٹی اولاد پر ہی چلتا ہے۔
“آج میں کلاس ختم ہونے کے بعد کلاس سے نکل رہا تھا جب آمنہ نے مجھے پیچھے سے آواز دے کر روک لیا۔ میرا تو دل گارڈن گارڈن ہو گیا کہ آخر کار اسے میری محبت محسوس ہو ہی گئی جو مجھے پکار بیٹھی !!!”
حمزہ کی بات پر حسام بھی اب کی بار متجسس ہوتا اس کے نزدیک ہوا۔
“اچھا پھر !!!”
حسام کی اشتياق بھری آواز پر حمزہ اس کا بازو اپنے کندھے سے ہٹا گیا۔
“میرے قریب آ کر بہت پیار سے بولی کہ حمزہ بھائی آپ کا رنگ تو مزید کالا پڑتا جا رہا ہے۔ میری مان کر صبح شام صابن سے منہ دھونے کے بعد فیئر اینڈ لولی کریم لگائیں دیکھئے گا رنگت میں قدرے افاقا ہو گا۔ بات پوری ہوئی تو آمنہ یہ جا وہ جا !!!”
حمزہ کی پوری بات سنتے حسام ہنس ہنس کر دہرا ہوتا لاؤنج میں موجود صوفے پر گر گیا۔ اس کا رد عمل دیکھتے حمزہ کو افسوس ہوا کہ کیوں اس کمینے کے کمینہ پن کو جانتے بوجھتے اپنے دل کی بات اس سے کر گیا۔
“سہی جا رہا ہے میرے بھائی۔بڑے بڑے موٹیویشنل سپیکر بھی وہ کام نہیں کر پاتے جو کام عورت کا طعنہ کر جاتا ہے۔”
حسام حمزہ کو چھیڑتا ایک بار پھر بے لگام ہنسنے لگا جب کہ اس کے منحوس پن پر حمزہ اسے ہاتھ سے اشارے سے لعنت نوازتا تولیے سے منہ خشک کرتا کمرے میں غائب ہو گیا آخر حسام کی کمینی نظروں سے بچنا جو تھا۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
وہ اپنے دوست زین کے دروازے پر کھڑا دروازہ کھٹکھٹا تھا پر گھر والے شاید سو چکے تھے۔ عباد کو کوفت ہونے لگی۔ وہ واپس مڑنے ہی والا تھا جب ایک دم دروازہ کھل گیا۔
دروازہ تو کھل چکا تھا پر دروازہ کھولنے والا شاید سلیمان ٹوپی پہن کر کھڑا تھا جو عباد کو نظر نہیں آ رہا تھا۔
“جی کس سے ملنا ہے آپ کو ؟؟”
مدهر سریلی آواز میں سوال سنتے عباد ایک دم چونک سا گیا۔ کس قدر میٹھی اور دل سوز آواز تھی۔
“میں زین کا دوست ہوں عباد !!! زین نے افطاری کا سامان بھیجا ہے لے لیں۔”
جانے کیوں مگر آج پہلی دفعہ وہ کسی صنف نازک کی جھلک دیکھنے کو بے تاب ہوا تھا۔
اس کی بات سنتے اگلے ہی پل ایک نرم و نازک سا ہاتھ دروازے سے باہر آیا تھا۔
اس کے ہاتھ کی خوبصورتی اور نازکی دیکھنے دل اور بھی مچکا تھا دیدار کے لئے۔
“جی بھائی نے بتایا تھا۔ لائیں پکڑا دیجئے!!!”
وہی میٹھی سی آواز دوبارہ سنتے عباد چونک کر حواسوں میں لوٹا اور ہاتھ میں پکڑے شاپر آگے بڑھا گیا جسے وہ اگلے ہی پل تھام کر دھیرے سے دروازہ بند کر گئی۔
“شرم کر عباد تیرے دوست کی بہن ہے۔ اس کا الزام تو اب تو شیطان پر بھی نہیں ڈال سکتا وہ بھی قید ہے۔ اف یہ نفس بھی نہ !!! بے لگام ہمارا نفس ہوتا ہے اور الزام ہم شیطان پر لگا دیتے ہیں۔ چل بیٹا بھول جا کہ ابھی تو نے کچھ دیکھا ہے !!!”
خود سے کہتا وہ دوسری گلی میں موجود اپنے گھر کی طرف چل دیا۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
“آپی یہ کیا بنا رہی ہیں آپ ؟؟”
حمزہ کے سوال پر دل آرا مسکراتی ہوئی اس کی طرف متوجه ہوئی۔
وہ دونوں اس وقت کچن میں کھڑے افطاری کی تیاری کر رہے تھے۔ حسام دہی لینے دکان تک گیا تھا اور عباد اپنے دوست کی طرف گیا تھا جب کہ ثاقب افطاری سے چند منٹ پہلے ہی گھر آتا تھا۔
“سوپ بنا رہی ہوں !!!”
وہ مسکرا کر بتاتی واپس چلہے کی طرف متوجه ہوئی۔
“اتنی گرمی میں سوپ کیوں پئیں گے ہم ؟؟”
حمزہ اچنبے سے پوچھنے لگا۔
“روزے کی وجہ سے ہمارا معدہ خالی ہوتا ایسے میں ہم افطاری میں جب ایک دم ٹھنڈہ شربت پیتے ہیں تو خرابی پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے میں نے سوچا سب سے پہلے کھجور اور تھوڑا سوپ پی کر افطاری کر لیں تو بہتر رہے گا۔”
دل آرا کی بات پر حمزہ متفق ہوتا سر ہلا گیا۔
افطاری کے بعد لڑکے نماز پڑھنے مسجد میں چلے گئے جب کہ دل آرا بھی نماز پڑھ کے کچن صاف کرنے لگی۔
کچھ دیر بعد وہ سب لاؤنج میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔
“مان لیں پھر حسام سے اچھی چاۓ کوئی نہیں بنا سکتا اس گھر میں۔”
حسام چاۓ کی چسکی بھرتا فرضی کالر اچکا کر بولا تو نا چاہتے ہوئے بھی سب کو ماننا ہی پڑا کیوں کہ گھر میں سب سے اچھی چاۓ حسام ہی بناتا تھا اس لئے شام کی چاۓ کی ذمہ داری اس کی تھی۔
“بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی !!!”
حمزہ گہری آہ بھرتا بولا تو دل آرا کی ہنسی نکل گئی۔ اس کے یوں ایک دم ہنسنے پر بے ساختہ ہی ثاقب کی نظریں اس پر اٹھی تھیں پر اگلے ہی پل اپنی بے ساختگی کو کوستا نظریں پهير گیا۔
“ان بے ڈھنگوں کو چھوڑیں بھیا مجھے ضروری بات کرنی ہے آپ سے۔”
عباد سنجیدگی سے بولا تو ثاقب چاۓ کا آخری گھونٹ بھرتا خالی کپ میز پر رکھتے عباد کی طرف متوجہ ہوا۔
“میں سوچ رہا تھا گھر میں افطاری رکھ لیتے ہیں۔ آس پڑوس کے لوگ ہو جائیں گے۔ کیا خیال ہے ؟؟”
عباد کی بات پر باقی سب بھی سنجیدہ ہو کر بیٹھ گئے۔
“خیال تو اچھا ہے بہت۔ عشاء کی نماز کے بعد بیٹھ کر حساب لگا لیتے ہیں کتنا خرچہ آئے گا اور سب کیسے مینیج کرنا ہے۔”
ثاقب سنجیدگی سے بولا تو عباد سر ہلا گیا۔
“بھیا میں نے اور حمزہ نے بھی اسی مقصد کے لئے کچھ پیسے جمع کیے ہیں۔ ہم بھی حصّہ ڈالیں گے۔”
حسام کی بات پر حمزہ سر ہلا گیا جب کہ ثاقب اور عباد ان دونوں کی جانب دیکھنے لگے۔
“حسام میں اور عباد مینیج کر لیں گے ان شا اللّه ۔ تم دونوں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ تم لوگوں کو پاکٹ منی ملتی ہے بس اور وہ اتنی جس میں گزارا ہو سکے بس۔ اس لئے ان چکروں میں مت پڑو۔”
ثاقب کی بات پر حمزہ اٹھ کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔
“پلیز بھیا ہم نے بہت خوشی اور شوق سے اس مقصد کی خاطر پیسے جمع کیے ہیں۔ ہمیں بہت زیادہ خوشی ہو گی اگر ہم بھی اس کار خیر میں حصّہ ڈال سکیں۔”
ثاقب مسکراتا ہوا حمزہ کے بال بگاڑ گیا۔
“میری جان جو کچھ میرا ہے وہ تم سب کا ہی ہے لیکن تم دونوں کی خوشی کی خاطر ایسے ہی کر لیں گے جیسے تم لوگ چاہو۔ اب خوش ؟؟”
وہ نرمی سے کہتا حمزہ کے بعد حسام پر نظر ڈالتا مستفسر ہوا تو دونوں خوشی سے سر ہلا گئے۔
“چلو اب نماز کا وقت ہوگیا مسجد کے لئے نکلتے ہیں۔ دل آرا دروازہ بند کر لیں آ کر آپ!!”
ثاقب کی بات پر وہ تینوں بھائی اس کی تکلید میں وہاں سے نکلے تو دل آرا بھی دروازہ بند کرنے کی خاطر ان کے پیچھے چل دی۔ وہ بہت پر سکون تھی یہ جانے بغیر کے آنے والے چند دنوں میں اس کی زندگی پوری طرح بدلنے والی ہے۔
