Chandni By Meem Ain Readelle50270 (Chandni) Episode 11
Rate this Novel
(Chandni) Episode 11
وہ باہر دوستوں کو الوداع کرنے جا رہا تھا جب اس کی نظر بے ساختہ کچن کی طرف پڑی۔ گلابی سوٹ میں ملبوس کوئی نازک سی لڑکی پشت کیے کھڑی تھی۔ لڑکی لے لباس اور سر پر کیے گئے حجاب اور لباس سے اسے ایک سیکنڈ میں پتا چل گیا تھا کہ لڑکی کون ہے۔
دل کی بے ساختگی پر وہ قدم آگے ہوا تو چہرہ کا تھوڑا سا رخ دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا کہ نقاب اترا ہوا تھا۔ وہ سب کچھ پس پشت ڈالتا دبے قدموں آگے بڑھنے لگا۔ دل تھا کہ بے ساختہ دھڑکنے لگا تھا وہ بھی پورے جوش سے .
اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کرتے دل آرا ایک دم چہرہ موڑ گئی تو جہاں عباد کو سامنے پا کر وہ روہانسی ہوئی وہیں عباد کے سامنے زمین و آسمان گھوم گئے۔ ایسا گہرا شاک لگا تھا کہ نظر ہٹانہ ہی بھول بیٹھا۔
اس کی شاکی نظریں محسوس کرتی وہ خود کو ملامت کرتی لرزتی انگلیوں سے نقاب واپس چہرے پر چڑھاتی چاۓ کی ٹرےپکڑ کر تیزی سے ایک سائیڈ سے نکلتی دل آرا کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
وہ ابھی تک شاک میں تھا !!! یہ تھی چاندنی ؟؟ یہ عام کی شکل و صورت کی دکھنے والی لڑکی چاندنی تھی ؟؟
اس کی خوبصورت آنکھوں اور نازک مومی ہاتھوں پیروں کو دیکھ کر وہ تو کچھ اور ہی تصور کر بیٹھا تھا اور یہاں ؟؟؟؟ اسے اپنا دماغ ماؤف ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
جیب میں پڑا موبائل تھرتهرايا تو وہ باقی سب کچھ پس پشت ڈال کر باہر کی طرف چل دیا۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
لال اور سنہری امتزاج کے خوب صورت لهنگے میں سجی سنوری وہ پریشان سی بیٹھی تھی۔ ہمیشہ سادگی میں رہنے والی دل آرا پر نکاح کے جوڑے میں ٹوٹ کر روپ آیا تھا۔
حسام اور حمزہ تو بار بار اس کی نظر اتارتے اسے جھینپنے پر مجبور کر رہے تھے.
تھوڑی دیر پہلے ہی چاندنی اسے اس کے اور ثاقب کے مشترکہ کمرے میں بیٹھا گئی تھی جو گلاب اور موتیے کے پھولوں سے خوب صورتی سے سجايا گیا تھا۔ ان تینوں بھائیوں نے اپنے بڑے بھائی اور آپی کی شادی پر خوب ارمان پورے کیے تھے۔
ابھی وہ کمرے میں نظریں ہی دوڑا رہی تھی جب ایک دم کمرے کے دروازے پر شور سنائی دیا۔ وہ تیزی سے سیدھی ہو کر بیٹھتی گھونگھٹ پھر سے چہرے کے آگے ڈال گئی۔
“جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میں نے اپنے کمرے کی پہرہ داری کے لئے کسی کو یہ ذمہ داری نہیں سونپی تھی اور نہ ہی آج جمعہ رات ہے تو پھر میرے کمرے کے دروازے پر یہ ناکہ کیوں ؟؟”
ثاقب ان تینوں بھائیوں کو اپنے کمرے کے دروازے پر راستہ روکے کھڑے دیکھ کر شرارت سے مستفسر ہوا تو اس کی بات پر ان تینوں کے منہ کھل گئے۔
“نہیں سب سے پہلے تو آپ اپنی بات کی وضاحت کریں نا ذرا۔ ہم آپ کو کس زاویے سے فقیر لگ رہے ہیں ؟؟ مانا کہ میرے یہ دونوں بڑے بھائی قبول صورت سے ہیں پر میں تو ہوں نا حسین و جمیل اور زہین و فطین !!!! کم از کم مجھے دیکھ کر ہی اپنی بات پر نظر ثانی کر لیتے آپ جناب !!!!”
حمزہ کے منہ سے ہوتی اپنی عزت افزائی پر حسام اور عباد دونوں ایک ساتھ اس کی پچھلی گردن پر ہاتھ مار گئے جس پر وہ كراه کر رہ گیا۔
“سالے تو حسن و جمیل ہے تو کیا ہمارے ماتھے پر ہی بڑا بڑا فقیر لکھا ہے ؟”
حسام حمزہ کو گھورتا بولا تو ثاقب اسے کڑی نظر سے نواز گیا۔
“ان دونوں کا چھتیس کا آکڑا کبھی ختم نہیں ہوگا۔ آپ جلدی سے ہمارا نیگ نکالیں !!!!”
عباد ان دونوں کو دفع کرتا آگے ہو کر بولا تو ثاقب اسے نا سمجھی سے دیکھنے لگا ل۔ باقی دونوں بھی اپنی لڑائی کو کسی اور وقت کے لئے چھوڑتے میدان میں کود پڑے اپنا حق لینے کے لئے۔
“ساڈا حق ایتھے رکھ !!!!”
حسام اپنی ہتھیلی ثاقب کے سامنے پهيلاتا اکڑ کر بولا تو باقی دو بھی تیزی سے سر ہلا کر اس کے اگل بغل کھڑے ہو گئے۔
“کون سا نیگ اور کون سا حق ؟؟ شادی کا طوق میرے گلے میں پڑا ہے اور سٹھیا تم لوگ گئے ہو !!!”
ثاقب نفی میں سر ہلا کر بولتا ایک سائیڈ سے کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگا تو وہ تینوں تیزی سے اس کے آگے سیسا پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوتے اس کا راستہ روک گئے۔
“چچ چچ بھیا بہت افسوس ہوا جان کر کہ اتنے زہین پروفیسر اور ہمارے بڑے بھیا ہوتے ہوئے آپ کو ہمارے اس نیگ کا ہی نہیں پتا۔ ناک کٹوا دی ہماری آپ نے یار !!!”
حسام کی ایکسپریس کی تیزی سے چلتی زبان کو کوئی روک سکے یہ کہاں لکھا تھا بھلا۔
“نکاح والے دن اپنے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے بہنوں کو پیسوں کی صورت میں نیگ دینا پڑتا ہے۔ اب چوں کہ ہماری بہن تو کوئی ہے نہیں تو یہ حق بھی ہمارا ہی بنتا ہے نا !!!!”
اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر عباد نے تفصیل بتاتے اس کی پریشانی حل کرنے کی کوشش کی۔
“بنتا تو نہیں پر یہ لو کیا یاد کرو گے تم لوگ بھی !!!”
وہ جیب سے پیسے نکالتا باری باری ان تینوں کی طرف بڑھا گیا۔اس کی شرافت دیکھتے حسام کی شرارت بھری رگ بہت تیزی سے پھڑکی تھی۔
“بھیا ویسے اس وقت آپ کو دیکھ کر ایک جملہ بہت شدّت سے میرے ذہن میں گونج رہا ہے !!!”
حسام کی شرارت بھری آواز پر ثاقب سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھنے لگا .
“کیسا جملا ؟؟؟”
اسے مسلسل مسکراہٹ ضبط کرتے اپنی طرف دیکھتے پا کر وہ بالآخر پوچھ ہی بیٹھا۔
“رضیہ گنڈوں میں پھنس گئی !!!”
آنکھ مار کر کہتا وہ قہقہہ لگاتے اگلے ہی پل وہاں سے نو دو گیارہ ہوا تو ثاقب دانت کچکچاتا اسے کوس کر رہ گیا جب کہ باقی دونوں بھی ہنسی ضبط کرتے اپنے اپنے کمروں کی طرف چل دیے۔
