Chandni By Meem Ain Readelle50270

Chandni By Meem Ain Readelle50270 (Chandni) Episode 3

50.7K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Chandni) Episode 3

“میری عمر روٹیاں بیلتے ہی گزر جانی ہے شاید !!!”
عباد کی بات پر پانی پیتے حمزہ کا بے ساختہ قہقہہ چھوٹ گیا۔
“آپ کو کس نے کہا تھا کہ گول مٹول پرفیکٹ روٹیاں بنایا کریں۔ بھائی میں نے تو اپنی زندگی سے یہی سبق سیکھا ہے کہ کبھی کوئی کام سیدھا مت کرو کیونکہ جو کام آپ کو اچھے سے آ جائے وہ پھر آپ کے پلے ہی پڑ جاتا ہے۔ مشرق ہو یا مغرب شمال ہو یا جنوب آندھی ہو یا طوفان وہ کام آپ کو ہر حال میں کرنا ہی پڑتا ہے۔”
حسام فرائی شامی کباب پلیٹ میں رکھتا ہوا بولا تو زندگی میں پہلی بار عباد کو حسام کی بات سے اتفاق کرنا پڑا۔
“ویسے بھیا باقی باتیں چھوڑیں ہماری بھابھی جان کو ایک سگھڑ شوہر تو ضرور مل جائے گا۔”
حمزہ کی بات پر عباد ہاتھ میں پکڑا چمٹا ہی اس کے بازو پر مار گیا جس کے جواب میں وہ سی کر کے رہ گیا۔
چند منٹوں میں ہی وہ تینوں بھائی ٹیبل سجا چکے تھے۔
“بھیا کیا اپ کی سٹوڈنٹ سحری نہیں کریں گی؟ ان کو بھی تو روزہ رکھنا ہوگا!!!”
حمزہ کی بات پر ثاقب جو کرسی پر بیٹھنے ہی لگا تھا ایک دم چونک کر رک گیا۔
“تم لوگ بیٹھو میں انہیں بلا کر لاتا ہوں بلکہ ایسا کرتا ہوں کہ کھانا ان کے کمرے میں ہی دے اتا ہوں کیا پتہ وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کو مناسب نہ سمجھیں۔”
اس کی بات پر تینوں بھائی متفق ہوتے سر ہلا گئے تو ثاقب دل آرا کے لیے ٹرے سجانے لگا۔
دروازہ کھٹکھٹا کر وہ اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا جب چند لمحوں کے بعد ہی وہ دروازہ کھول گئی۔
“سحری کر لیں ۔”
ثاقب کھانے سے بھری ٹرے اس کے سامنے کر گیا جسے وہ بغیر کوئی بھی لفظ کہے تھام گئی تو ثاقب وہیں سے واپس مڑ گیا۔
فجر کی نماز پڑھنے کے بعد دل آرا خالی برتنوں والی ٹرے لئے جھجھکتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی تو گھر سنسان پڑا تھا۔
لڑکے سب شاید نماز ادا کرنے مسجد تک گئے تھے۔
وہ کچن کی طرف گئی تو کچن گندے برتنوں سے بھرا پڑا تھا۔ کچھ سوچ کر وہ قمیض کے بازو کہنیوں تک موڑتی برتن دھونے میں جت گئی۔ برتن دھونے کے بعد وہ سلیبیں صاف کرتی وائیپر پکڑ گئی۔
وہ ابھی کچن سے وائیپر لگا ہی رہی تھی جب باہر سے آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ دل آرا ایک دم گھبرا سی گئی۔
نماز ادا کرنے کے بعد ثاقب اور عباد جو کچن صاف کرنے کی خاطر کچن کی طرف ہی آ رہے تھے دل آرا کو وہاں دیکھ کر رک گئے۔
“وہ میں برتن رکھنے آئی تھی اور فارغ بھی تھی تو سوچا صاف کر دوں۔”
ان کی نگاہوں کا مطلب سمجھتی وہ اپنی وہاں موجودگی کی وضاحت دینے لگی جس کے جواب میں عباد اسے هلكی سی مسکراہٹ سے نواز گیا جب کہ ثاقب محض سر ہلا گیا۔
“آپ کو ڈرنے یا گھبرانے کی بلکل بھی ضرورت نہیں ہیں۔ آپ ہمیں اپنے بھائی ہی سمجھیں۔ آپ یہاں بلکل محفوظ ہیں اور اسے اپنا ہی گھر سمجھیں۔ جیسے چاہیں آپ رہ سکتی ہیں۔”
عباد نرمی سے شفقت بھرے انداز میں کہتا اس کے سر پر ہاتھ رکھتا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔
“کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجھک بول دیجئے گا۔ ہچکچانے کی ضرورت نہیں۔”
ثاقب سنجیدگی سے کہتا وہاں سے عباد کے کمرے کی طرف چلا گیا تو دل آرا کی جان میں جان آئی۔
وائیپر لگا کر وہ کچن سے باہر نکلی تو سامنے ہی حسام اور حمزہ کھڑے نظر آئے۔
“کیسی ہیں آپی آپ ؟ کیا ہم آپ کو آپی بول سکتے ہیں ؟؟”
حمزہ اس کی طرف دیکھتا ہچکچا کر پوچھنے لگا تو اس کی آنکھوں سے چھلکتے اشتیاق کو محسوس کرتی وہ دھیرے سے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گئی۔
“مجھے بہن کا تو بہت شوق ہے پر آپ کو آپی نہیں بول سکتا کیوں کہ پیاری لڑکیوں کو میں بہن نہیں بول سکتا یار !!!!”
حسام منہ بناتا بیچارگی سے بولا تو اس کے انداز پر بے ساختہ دل آرا کی ہنسی چھوٹ گئی۔
“آپ رات دیر سے سوئی تھیں تو ابھی نیند آ رہی ہو گی یقیناً آپ کو۔ ابھی آپ سو جائیں اور ہم صفائی کر لیں پھر یونیورسٹی سے آنے کے بعد ہم آپ سے ڈھیر سی باتیں کریں گے۔”
حمزہ کے اشتياق پر وہ خوبصورتی سے ہنس دی۔
“باقی سب تو ٹھیک ہے پر آپ صفائی کیوں کریں گے خود ؟”
دل آرا کے سوال پر وہ دونوں بھائی ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔
“بات کچھ یوں ہے حسین آرا کہ کچن کا کام دونوں بڑے بھائیوں کے سپرد ہے اور باقی گھر کی صفائی ستھرائی کا ہم دونوں کے سر۔ بھائیوں کے حصّے کا کام تو آپ نے کر دیا پر ہم بیچاروں کو تو اپنے حصّے کا کام کرنا ہے نا “
وہ اسے پوری تفصیل بتاتا شرٹ کے بازو فولڈ کرنے لگا۔
“نہیں آپ مت کریں میں کر دوں گی۔ میرے لئے بلکل بھی مشکل نہیں۔”
دل آرا جلدی سے بولی تو حسام جھٹ سے نفی میں سر ہلا گیا۔
“بلکل بھی نہیں۔ یہ ہمارا معمول ہے ہم جھٹ پٹ کر لیں گے آپ فلحال آرام کریں باقی ہم بعد میں ڈسکس کر لیں گے۔”
قطعیت سے کہتا وہ وہاں سے نکل گیا۔
“پیاری آپی آپ ابھی آرام کریں بعد میں میرے حصّے کا تھوڑا بہت کام کر دیجئے گا۔ اب اپنے بھائی کی خاطر اتنا تو کر ہی سکتی ہیں نا آپ ؟؟”
حمزہ کی بات پر وہ مسکراتی ہوئی سر ہلا گئی تو وہ بھی وہاں سے چل دیا۔ ان کے جانے کے بعد وہ بھی کمرے کی طرف چل دی کیوں کہ اس وقت اس کے دماغ کو واقعی سکون کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ دل آرا بہت زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت گھر والوں کے ساتھ نارمل ہو چکی تھی۔ثاقب سے اس کا سامنا بہت کم ہوتا تھا اس لئے وہ سکون میں تھی۔
ثاقب گھر داخل ہوا تو اسے معمول کے برعکس کافی شور شرابہ سنائی دیا۔ وہ کمرے میں جانے کا ارادہ ترک کرتے کچن کی طرف ہی چل دیا کیوں کہ وہیں سے شور سنائی دے رہا تھا۔
“حمزہ کے بچے چھوڑو تم سارا خراب کر رہے ہو۔ میں کر لوں گی تم چھوڑ دو براۓ مہربانی۔”
کچن کے دروازے سے اندر داخل ہوتے اسے دل آرا کی جهنجھلائی آواز سنائی دی۔
“یار آپی میں تو آپ کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور آپ ہیں کہ الٹا مجھے ہی ڈانٹ رہی ہیں۔”
یہ روتی بسورتی آواز حمزہ کی تھی۔
“حسین آرا میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ یہ چوزہ کام بگاڑنے میں نمبر ون ہے۔ آپ کو ہی شوق ہوا تھا اس پیارے بچے کو ساتھ لگانے کا۔”
حسام کی چڑاتی آواز پر جہاں حمزہ چیخا وہیں دل آرا حسام اور عباد زور سے ہنس دیے۔
ثاقب حیرت بھری نظروں سے سامنے نظر آتا منظر دیکھنے لگا جہاں دل آرا کوئی ریسیپی ٹرائے کر رہی تھی اور حمزہ اس کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
عباد کرسی پر بیٹھا اپنے آگے میز پر رکھی سبزی بنا رہا تھا اور حسام شربت بنانے کے ساتھ ساتھ حمزہ کی ٹانگ بھی کھینچ رہا تھا۔
جانے کیوں پر سامنے نظر آتا منظر دیکھ کر ثاقب کو خوشگوار سی حیرت ہوئی تھی۔
“حمزہ سنو جب میں کہوں تب روزہ افطار کرنا آج اس سے پہلے نہیں !!!”
حسام کی سنجیدہ آواز میں سنائی دیتے حکم پر حمزہ نا سمجھی سے اس کی جانب دیکھنے لگا۔
“پر کیوں ؟؟”
وہ دل کی بات زبان پر لے ہی آیا تھا۔
“کیوں کہ پچھلی مرتبہ بھی تم نے فوتگی کے اعلان پر افطاری کر لی تھی۔”
حسام کی بات کے جواب میں جہاں عباد اور خود حسام کا چھت پھاڑ قہقہہ سنائی دیا وہیں دل آرا ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئی۔ ثاقب کے لبوں کو بھی بے ساختہ پیاری سی مسکراہٹ نے چھو لیا۔ حمزہ بے چارے کی روہانسی شکل دیکھنے لائق تھی۔
“یار تب میں بہت چھوٹا تھا۔ آخر کتنی مرتبہ اس بات کی یاد دہانی کرواؤ گے تم !!!”
وہ روہانسا ہو کر بولا تو وہ سب ایک مرتبہ پھر سے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔