Chandni By Meem Ain Readelle50270

Chandni By Meem Ain Readelle50270 (Chandni) Episode 8

50.7K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Chandni) Episode 8

“میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی!!!”
چند لمحے خاموشی کی نظر کرنے کے بعد وہ بولی بھی تو کیا !!!
“وجہ ؟؟”
وہ جیسے بہت ضبط سے پوچھ رہا تھا۔
“کیوں کہ میرا نکاح ہو چکا ہے۔ میں پہلے سے ہی شادی شدہ ہوں !!!!”
وہ ان سب پر دهماكا کرتی شرمندگی سے نظریں جھکا گئی جب کہ ان تینوں بھائیوں کی آنکھوں میں تیرتی بے یقینی واضح تھی۔
“ایسا ۔۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟”
سب سے پہلے حمزہ کی بے یقین آواز نکلی تھی۔
ان سب کی آنکھوں میں تیرتی بے یقینی دیکھ کر دل آرا کا دل کیا زمین میں گڑ جاۓ۔ آنسو تیزی سے آنکھوں کی سطح گیلی کرنے لگے تھے۔
“دل آرا بہتر ہوتا اگر آپ آدھی سچائی کی جگہ پوری سچائی بیان کرتی !!!”
ثاقب کی پر سکون آواز پر دل آرا نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کی بھیگی سرخ آنکھیں دیکھتا ثاقب بامشکل ہی نظریں اس پر سے ہٹا پایا۔
“کک۔۔۔کیا مطلب ؟؟”
وہ نا سمجھی سے بولی تو ثاقب سکون سے اپنے بازو سینے پر باندھتا ایزی ہو کر بیٹھ گیا جب کہ باقی سب کی سوالیہ نظریں اس پر ہی جمی تھی اب۔
“شاید آپ کو شادی شدہ لفظ کی جگہ بیوہ کا لفظ استعمال کرنا چاہئے تھا۔!!!”
ثاقب کی بات پر دل آرا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہ کیسے جانتا تھا اس کی زندگی کا اتنا بڑا سچ !!!!
“کیا !!!!!”
تینوں بھائی ایک کورس میں چیخے تھے۔
“محترمہ دل آرا صاحبہ دس سال کی عمر میں ہی بغیر رخصتی کے بیوہ ہو چکی تھیں۔”
اس کے انکشاف پر دل آرا ضبط سے آنکھیں میچ گئی۔
“پر ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟”
حسام کے حلق سے پھنسی پھنسی آواز برآمد ہوئی تھی۔
دل آرا نے گہرا سانس بھرتے نظریں جھکا کر بولنا شروع کیا۔
وه بہت چھوٹی تھی جن یتیم ہو گئی۔ماں باپ کا سایا سر سے اٹھ گیا تو چچا اپنے پاس لے آئے۔ چچا کو بہت محبت تھی اپنی بھتیجی سے اس لئے چند سال گزرے ان کا بیٹا احمد اٹھارہ کا اور دل آرا دس سال کی ہوئی تو چچا نے اپنی بیوی کی مخالفت کے باوجود دونوں کا نکاح کر دیا تا کہ بھائی کی نشانی ہمیشہ اپنے پاس رکھ سکے۔
نکاح کے کچھ روز بعد کی بات تھی جب احمد کالج سے واپسی پر ایک روڈ ایکسیڈنٹ کا شکار ہو کر اللّه کو پیارا ہو گیا۔ ننھی سی دل آرا پر اتنی سی عمر میں ہی منحوس کا ٹھپا لگ گیا۔ چچی نے جینا دوبھر کر دیا تھا۔ دل آرا اٹھارہ کی ہوئی تو چچا کی دہلیز چپکے سے پار کر گئی۔ تب سے اب تک ہوسٹلز کے دھکے کھاتے عمر گزر گئی تھی جب ایک حسین حادثے کے طور پر وہ ان مخلص لوگوں تک آ گئی۔
وہ چپ ہوئی تو حسام اٹھ کر اس کے قریب بیٹھتا اس کے سر پر ہاتھ رکھتا اسے آنسو بہانے سے باز رکھنے لگا۔
“آپی اس سب میں آپ کا تو کوئی قصور نہیں تھا۔ لوگوں کی گندی سوچ کا علاج کہاں کیا جا سکتا ہے۔”
حمزہ کی بات پر وہ سر ہلاتی سر جھکا گئی۔
“پھر کیا ڈیٹ فکس کریں نکاح کی ؟؟؟”
ثاقب کی بات پر دل آرا نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔آنکھیں شاک سے پهيلی ہوئی تھیں۔
“بھیا میرے خیال سے کل کا دن ہی بیسٹ ہے۔نیک کام میں دیری نہیں کرنی چاہئے کیا خیال ہے ؟؟”
حسام کی بات پر ثاقب سنجیدگی سے سر ہلا گیا۔
“لیکن میں .۔۔۔۔”
دل آرا نے کچھ بولنا چاہا تو ثاقب ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کروا گیا۔
“جو آپ کے ساتھ ہوا یقیناً بہت برا تھا لیکن اس سب میں کہی بھی رائی برابر بھی آپ کا قصور نہیں تھا۔ آپ میں ایسا کوئی عیب نہیں جو آپ انکار کریں ہاں اگر مجھ میں کوئی عیب ہے تو آپ بتا سکتی ہیں !!!”
ثاقب کی بات پر وہ تیزی سے سر نفی میں ہلا گئی۔بھلا اس میں کوئی برائی کیسے ہو سکتی تھی ؟؟
“پھر کیا خیال ہے ؟؟؟”
وہ پھر سے سوال دہرا گیا تو دل آرا گہری سانس بھرتی آنکھیں موند گئی۔
کبھی نا کبھی کسی نہ کسی کا تو ہونا ہی تھا تو پھر ثاقب ہی کیوں نہیں۔ اس سے محفوظ اور محبت بھرا ٹھکانا اور لوگ کہاں ملتے اسے ؟؟؟
“جیسا آپ کو ٹھیک لگے۔میں تیار ہوں !!!”
دھیمی آواز میں اپنا جواب سناتی وہ کمرے سے باہر نکل گئی پر اپنے پیچھے اٹھنے والا پر جوش شور اسے صاف سنائی دیا تھا جس پر وہ مطمئن سی اللّه کا شکر ادا کرنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
“حسام یار تھوڑے پیسے چاہئے۔ “
حمزہ کی بات پر حسام نے آنکھیں گھماتے اسے دیکھا۔
“بھائی اپنے پاس تو زہر کھانے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔ تجھے کہا سے دوں !!!”
وہ لاپرواہی سے کہتا واپس اپنے موبائل میں گم ہو گیا۔
“اپنی زندگی کا ایک ہی مقصد ہے اب !!!”
حمزہ کی بات پر حسام نے نظر اٹھا کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جیسے پوچھنا چاہ رہا ہو کہ کون سا مقصد ؟؟
“زندگی میں بس اتنا پیسا تو ضرور کمانا ہے کہ جس کے پاس زہر کھانے کے پیسے نہیں اس کو اس نیک مقصد کے لئے پیسے دے سکوں۔”
اس کی بات پر حسام اسے ہاتھ سے لعنت کا اشارہ کرتا کمرے سے نکل گیا تو اس کے تاثرات دیکھتے حمزہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔