Chandni By Meem Ain Readelle50270

Chandni By Meem Ain Readelle50270 (Chandni) Episode 09

50.7K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Chandni) Episode 09

“روزے کا تو پتا ہی نہیں چلا آج !!!”
حمزہ حسام کے ساتھ باہر صوفے پر بیٹھتا جمائی لیتا ہوا بولا۔
“ہاں سارا دن سونے کے بعد !!!”
حسام کی طنز سے بھرپور آواز پر جہاں دل آرا کے لبوں سے ہنسی پهسلی وہیں حمزہ برا سا منہ بنا گیا۔
“بھائی آج کے بعد زیادہ بات نہیں کروں گا میں !!!”
وہ ناراضگی سے کہتا صوفے پر نیم دراز ہو گیا۔
“اور ایسا معجزہ کیوں کر رونما ہوگا وہ بھی اس صدی میں ؟؟”
حسام کے سوال پر حمزہ نے چہرے سے تکیہ ہٹا کر بہت اکڑ کر اسے دیکھا۔
“کیوں کہ سانس بھی لوں تو چار لوگ دور ہو جاتے ہیں۔”
وہ بھر پور ایکٹنگ کرتا بولا تھا۔ دل آرا مزے سے بیٹھی ان کی نوک جھوک سے مستفید ہو رہی تھی۔
“بیٹا تجھے ایک عدد اچھے ٹوتھ پیسٹ کی ضرورت ہے بس۔ بدبودار سانسیں لوگوں کو دور ہونے پر ہی مجبور کریں گی نا !!!”
حسام ایک دفعہ پھر میدان مار چکا تھا جس پر اب کی بار دل آرا کے ساتھ ساتھ لاؤنج میں داخل ہوتے عباد کی ہنسی بھی شامل ہو گئی۔
“پارسل آ گئے ؟؟”
عباد کے ہاتھوں میں موجود بیگز دیکھتے حمزہ پر جوش ہو کر بیٹھنا ہوا پوچھنے لگا تو عباد مسکراتا ہوا سر ہلا گیا۔ حسام بھی پر جوش سا اس کے قریب آ گیا۔
“ایسا کیا ہے ان میں جس پر اس قدر پر جوش ہوا جا رہا ہے ؟؟”
دل آرا ان تینوں کے چمکتے چہرے دیکھ کر پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔
“آپ کے سہاگ کا جوڑا !!!”
حسام کی شوخ آواز پر بے ساختہ دل آرا کے گلابی گال لال ہو گئے۔
“یہاں آئیں آپی آپ بھی۔ مل کر دیکھتے ہیں !!!”
حمزہ کے اشتياق سے بولنے پر دل آرا ان کے قریب ہی نیچے میٹ پر بیٹھ گئی تو عباد بیگز کھولنے لگا۔
“دیکھتے ہیں ہماری ہونے والی بھابھی کو ہماری پسند ، پسند بھی آتی ہے یا نہیں !!!”
حمزہ کی بات پر دل آرا اس کے سر پر چپت رسید کر گئی۔ دل آرا شاپنگ پر جانے سے منع کرتی ہوئی انہیں کہہ چکی تھی کہ وہ اپنی مرضی سے جو بھی لائیں گے وہ خوشی خوشی پہن لے گی جن پر ان سب کے چہرے کھل اٹھے . کتنا شوق تھا انھیں کہ ان کی کوئی بہن ہوتی تو وہ اس کے سب شوق پورے کرتے۔ دل آرا کی صورت میں ان کا یہ خواب پورا ہو رہا تھا۔
ان تینوں نے ثاقب کے مشورے سے آنلاین چیزیں پسند کر کے آرڈر کر دی تھیں ارجنٹ ڈیلیوری کے ساتھ۔ نکاح اتوار کی جگہ جمعہ کو رکھا گیا تھا جس کی وجہ سے انھیں تیاری کا وقت مل گیا تھا۔
پہلے بیگ میں سے سرخ عروسی جوڑا نکلا تھا جسے دیکھ کر دل آرا کے منہ سے بے ساختہ ماشاءالله نکلا تھا۔ یہ جوڑا اس کی سوچ سے بڑھ کر حسین تھا۔ کھلتے ہوئے سرخ رنگ لہنگی پر سنہری خوبصورت کام کیا گیا تھا۔ جوڑے کے علاوہ تین جوتے جیولری پرفیومز فیس واش لوشنز میک اپ کا سامان اور گھر پہننے والے کچھ جوڑے تھے۔ ہر چیز بہت خوبصورت اور نفیس تھی۔
“ہم نے بس چند ایک ضروری چیزیں خریدی ہیں نکاح کے لئے۔ باقی شاپنگ آپ بھیا کے ساتھ جا کر اپنی پسند کی کریے گا۔”
عباد کی بات پر دل آرا کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔ ماں باپ کے بعد اس در در کی ٹھوکریں کھانے والی لڑکی نے کہاں دیکھی تھی ایسی محبت اور ایسا مان !!! کس نے دی تھی اسے آج تک ایسی عزت !!!
اس کی برستی آنکھیں دیکھ کر وہ تینوں ایک دم پریشان ہو اٹھے۔
“کیا ہوا آپی کیوں رو رہی ہیں آپ ؟؟”
حمزہ بے چینی سے اس کے نزدیک آتا پوچھنے لگا۔
“کیا آپ کو ہماری پسند کی گئی چیزیں اچھی نہیں لگیں ؟؟ آپ روئیں مت جیسا آپ چاہیں گی ویسا سب مل جاۓ گا۔”
حسام بھی اسے تسلی دیتا بول اٹھا۔
“جی دل آرا حسام سہی کہہ رہا ہے۔ ہم آپ کی پسند کی چیزیں منگوا لیتے ہیں اس میں کون سی بڑی بات ہے کوئی۔”
عباد بھی حسام سے اتفاق کرتا بول اٹھا۔ دل آرا کو مزید رونا آنے لگا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے۔ بس اتنی محبت اور مان دیکھتے میری آنکھیں بھر آئیں۔ یہ سب میری سوچ سے بڑھ کے خوبصورت ہے۔”
وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی تو ان تینوں بھائیوں کی جان میں جان آئی۔
“قسم سے حسین آرا آپ نے سہی کوکیلا والا کردار ادا کیا ہے اور اب پل میں گوپی بہو بن گئی ہیں !!! ڈرا کر رکھ دیا ہمیں !!!”
حسام نے ہمیشہ کی طرح الٹی مثال ہی دی تھی۔ دل آرا ہنستی ہوئی اس کے کندھے پر تھپڑ جڑ گئی۔
“اللّه اللّه اتنا نازک ہاتھ۔ ناشتے میں پھول کھاتی ہیں کیا ؟؟”
حسام کی زبان پھر سے پهسلی تو دل آرا ہنستی چلی گئی۔ اسے خوش دیکھ کر وہ تینوں بھائی سکوں بھرا سانس بھر گئے۔