Chandni By Meem Ain Readelle50270 (Chandni) episode 1
Rate this Novel
(Chandni) episode 1
نہ وفا کا ذکر ہوگا نہ وفا کی بات ہوگی
اب محبت جس سے بھی ہوگی رمضان کے بعد ہوگی
وہ رگڑ رگڑ کر برتن مانجتا زور و شور سے اپنے خیالات کا اظہار بھی کر رہا تھا۔
“اللّه کا واسطہ ہے حسام اپنی یہ سستی شاعری کم از کم آج تو بند کر دے۔ اتنے زیادہ کام دیکھ دیکھ کر میرا بی پی لو ہو رہا ہے اور تجھے گھٹیا اشعار سنانے کی پڑی ہے۔”
سیڑھی پر چڑھ کر کھڑے جالے صاف کرتے عباد نے جل کر کہا تو حسام ناک چڑھا گیا۔
“بیٹا تجھے اکیلے کو تو کام نہیں کرنے پڑ رہے۔ میری جوانی بھی تیرے ساتھ ہی رل رہی ہے۔ ہائے کاش امی بابا ایک عدد بہن ہی پیدا کر کے دے جاتے۔ اس منحوس احمد کے بعد ہی انھیں منصوبہ بندی یاد آئی تھی آہ!!!”
حسام کی چلتی زبان کو بریک کمر پر پڑنے والے بھاری جوتے کی ضرب نے لگائی تھی۔وہ غصّے سے احمد کو دیکھنے لگا جس نے پیروں میں پڑا جوتا کھینچ کر اس کی کمر میں دے مارا تھا اور اب خونخوار نگاہوں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔
“کاش تجھ جیسا نمونہ پیدا کرنے سے پہلے اس منصوبہ بندی کا خیال آ گیا ہوتا انھیں اور سالے میری پیاری بہن کیا ماسی بن کر گھر کے کام کرتی۔ اسے تو میں شہزادی بنا کر رکھتا !!!”
بہن کا شوق جس قدر احمد کو تھا ان چاروں میں سے اور کسی کو بھی نہ تھا۔ احمد اور حسام میں چونکہ ایک سال کا ہی فرق تھا اس لئے ان میں مذاق مذاق میں ہاتھ پائی تک چلتی تھی۔
“تم دونوں کی زبانوں کے آگے خندق ہے۔ زبانوں کو لگام ڈال کر ہاتھوں میں تیزی لاؤ۔ آج رمضان کا چاند نظر آ جاۓ گا اس لئے تمام کام آج ہی ختم کرنا ہے۔”
عباد کی کڑک آواز پر حسام منہ بناتا واپس سنك میں پڑے برتنوں کے ڈھیڑ کی طرف متوجه ہوا۔
“شامی کباب کب بنیں گے بھیا۔ پتا ہے نہ سحری میں سالن نہیں کھایا جاتا صرف شامی کباب کے ساتھ ہی روٹی کھائی جاتی ہے۔”
اب تک شامی کباب نہ بنے تھے یہ سوچ سوچ کر ہی سدا کے بھکڑ احمد کو ہول اٹھ رہے تھے۔
“ثاقب بھیا کی یونیورسٹی میں فیئرول پارٹی کی وجہ سے تاخیر ہوگئی۔ شامی کباب بس ان کے ہاتھ کے ہی کھانے کے لائق ہوتے ہیں۔ بھیا نے بولا تھا کہ رات واپسی پر آ کر بنا لیں گے۔ سامان میں سارا لا کر رکھ چکا ہوں۔”
عباد کی بات پر احمد نے شکر کا سانس بھرتے اپنا کام جاری کیا۔
یہ تھی جمال فیملی!!! جمال احمد مرحوم کے چاروں صاحب زادے۔ سب سے بڑا ثاقب جمال جو پنجاب یونیورسٹی میں کیمسٹری کا پروفیسر تھا۔ اس سے چھوٹا عباد جمال جو ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کرتا تھا۔عباد سے چھوٹا حسام جمال جو یونیورسٹی کے دوسرے سال میں تھا جب کہ سب سے چھوٹا حیدر جمال یونیورسٹی کے پہلے سال میں۔
ماں باپ کی وفات کے بعد وہ چاروں ہی ایک دوسرے کی کل کائنات تھے۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
“یہ شکل سے معصوم دکھنے والی ایک بدكار لڑکی ہے جس نے اپنے ہی استاد کو اپنی چال میں پھنسا کر منہ کالا کیا ہے۔”
یونیورسٹی کے بڑے سے لان میں سٹوڈنٹس کے ہجوم کے وسط میں کھڑی وہ لال لباس والی لڑکی ساکت کھڑی اپنی جان از عزیز دوست کو یہ زہر اگلتے دیکھ رہی تھی۔
“مم۔۔۔میں ایسی نہیں ہوں میرا یقین کریں آپ سب !!!”
وہ کانپتی آواز میں اپنی صفائی دینے کی کوشش کرنے لگی پر اس کی بات کے جواب میں وہاں موجود لوگوں نے گہری نظر اسے سر تا پیر دیکھا تو وہ زمین میں گڑ سی گئی۔ سرخ ہونٹوں کی لالی بکھری ہوئی تھی کاجل پهيلا ہوا تھا سرخ لباس کندھوں سے پھٹا ہوا تھا پر اسے اتنا ہوش بھی نہ تھا کہ اپنے وجود کو چھپا پاتی۔دوپٹہ جانے کہاں گر چکا تھا۔
“آپ کے پاس اپنی بے گناہی کا کیا ثبوت ہے ؟”
ڈین کی بات پر اس نے کسی امید کے تحت اپنے سے چند قدم کی دوری پر کھڑے اس مرد کو دیکھا جو سر ہاتھوں میں تھامے کھڑا اپنے ہوش بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس کی حالت دیکھتے دل آرا کی آنکھوں میں جلتی آخری امید کی شمع بھی بجھ گئی۔
اس کی خاموشی اس کا جواب بتا چکی تھی۔
“سر میں اندر سے اپنا بیگ لینے جا رہی تھی جب پروفیسر نے مجھے کہا کہ دل آرا کو روم نمبر فائیو میں بھجوں انھیں اس سے کوئی ضروری بات کرنی ہے۔”
ثانیہ کی بات نے آخری کیل ٹھونک دیا تھا۔ جب ثبوت سامنے تھے تو اس کی بات کا یقین کون کرتا۔
“یہ ۔۔۔یہ جھوٹ ہے ۔۔۔سب جانتے ہیں میں آج تک کسی پروفیسر یا کلاس فیلو سے اکیلے میں نہی ملی نہ کسی سے کام کے علاوہ کوئی بات کی۔”
وہ روتی ہوئی ڈین کی طرف بڑھی پر وہ ہاتھ اٹھا کر اسے روک گئے۔
“آپ کو ابھی اور اسی وقت یونیورسٹی سے ڈسمس کیا جا رہا ہے اور وارڈن سے کہہ کر ان کا سامان باہر پهینكوائیں ایسی لڑکیاں ہوسٹل میں رہنے کے قابل نہیں اور پروفیسر ثاقب آپ کل مجھ سے آ کر ملیں۔”
ڈین اسے کہتے واپس مڑنے لگے جب وه ایک جھٹکے سے ان کی طرف آیا۔
“یہ الزام بے بنیاد ہے نہ میں نے انہیں وہاں بلایا نہ ہی یہ وہاں اپنی مرضی سے آئیں۔ یہ سب ایک سوچی سمجھی چال کے تحت کیا ہے کسی نے۔ آپ ایک لڑکی پر یوں سر بازار بہتان نہیں باندھ سکتے۔ میں بہت جلد ثبوت کے ساتھ یہ بات واضح کر دوں گا مگر یہ کہیں نہیں جائیں گی کیوں کہ یہ بے گناہ ہیں۔”
اس کی پتھریلی آواز پر دل آرا کا دل چاہا کے آگے بڑھ کر اسے اپنی صفائی دے پر کہاں ممکن تھا۔
“ثبوت ہمیں پہلے ہی مل چکے ہیں۔ آپ ہمارے بہت اچھے استاد ہیں فکر مت کریں آپ کی جاب محفوظ ہے۔”
ڈین کی بات پر وہ ان کے دوگلے پن پر لب بھینچ کر رہ گیا۔
“آپ کو آپ کی جاب مبارک۔ کل آپ کو میرا ریزگنیشن لیٹر مل جاۓ گا۔”
ترش لہجے میں کہتا وہ آنکھوں میں ضبط کی لالی لئے جھٹکے سے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
وہ ساکت کھڑی تھی جب اس کی نام نہاد بیسٹ فرینڈ نے اس کا بیگ لا کر اس کے قدموں میں پهينكا۔ اس نے چپ چاپ بیگ اٹھایا اور وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
ٹھیک پانچ منٹ کے بعد وہ جی ٹی روڈ کے درمیان میں جا کھڑی ہوئی۔ اسے سامنے سے تیز رفتار گاڑی اپنی جانب آتی دکھائی دے رہی تھی۔ گاڑی تین قدم کے فاصلے پر تھی جب کوئی اس کا بازو سخت گرفت میں لیتا اسے اپنی طرف کھینچ گیا۔
ایک بلند چیخ دل آرا کے حلق سے برامد ہوئی تھی۔
