Chandni By Meem Ain Readelle50270

Chandni By Meem Ain Readelle50270 (Chandni) Episode 5

50.7K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Chandni) Episode 5

“کیا میری آنکھیں خراب ہو گئی ہیں یا سامنے نظر آنے والا منظر جھوٹ ہے ؟؟”
حمزہ کی صدماتی آواز پر ڈسٹنگ کرتی دل آرا مڑ کر اس کی آواز کی سمت دیکھنے لگی پھر اگلے ہی پل ہنس دی۔
“حسام جو بہت شوق سے نئی ٹوپی پہن کر کمرے سے باہر نکلا تھا اس کے انداز پر بری سی شکل بنا گیا۔
“سارا سال دوسروں کو ٹوپی کروانے والے بھی رمضان کے مہینے میں خود ٹوپی پہن لیتے ہیں۔ واہ مولا تیری شان !!!”
عباد پیچھے سے حسام کے کندھے پر ہاتھ رکھتا بولا تو محفل ایک دم زعفران بن گئی۔
“بس یہی ہماری پاکستانی عوام کا حال ہے۔ ذرا سا کوئی اچھا کام شروع کر دے اس بیچارے کو اتنا ذلیل کر دیتے ہیں کہ وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ بھئی میں تو برا ہی اچھا تھا۔ اچھائی کا کام شروع کر کے شاید جرم کر دیا میں نے۔”
اس کی بات پر وہ تینوں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔
“بھائی ایک بات تو ماننی ہی پڑے گی !!!”
عباد کی بات پر وہ تینوں سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔
“حسام ہے تو پورا خچر پر کبھی کبھی بات سچی کر جاتا ہے!!!”
عباد کی بات پر حسام کا منہ رونے والا بن گیا۔
“بس کریں بھائی آپ اب مزید تنگ مت کریں حسام بھائی کو۔ یہ تو میرے سب سے اچھے بھائی ہیں !!!”
دل آرا اسے پچکارتی بولی تو بجاۓ خوش ہونے کے حسام کا منہ ایسے بن گیا جیسے کڑوا بادام چبا لیا ہو۔
“حسین آرا کتنی دفعہ سمجھانا پڑے گا کہ میں خوبصورت لڑکیوں کا بھائی نہیں بنتا۔”
وہ سر پیٹتا بولا تو پاس کھڑے حسام نے رکھ کے اس کی گردن پر ایک تھپڑ مارا۔ تھپڑ کی وجہ سے اس کی سر پر پہنی ٹوپی نیچے گرنے لگی جسے وہ جلدی سے تھام کر پیچھے مڑتا ناراضگی بھری نگاہوں سے عباد کی طرف دیکھنے لگا۔
“مانتا ہوں کہ اس گھر میری میری کوئی قدر نہیں پر کم از کم میرے سر پر پہنی گئی اس نئی نکور ٹوپی کی ہی عزت کر لیں۔”
اس کی بات پر حمزہ اور دل آرا ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس دیے۔
“اگر آپ لوگوں کا ہو گیا ہو تو کیا اس نا چیز کو مداخلت کی اجازت ہے۔”
کب سے لاؤنج کے دروازے پر کھڑا ثاقب سنجیدگی سے بولا تو وہ چاروں ایک دم اچھے بچے بن کر کھڑے ہو گئے۔
“حسام تمہیں میں نے نائی کا پتا کرنے کا بولا تھا۔ اسے سب سمجھا دیا کہ کل کیا کیا اور کس مقدار میں بننا ہے ؟؟”
اس کے سوال پر حسام جھٹ سے سر ہلا گیا۔
“جی بھیا سب سمجھا دیا وہ کل جمعہ کے فورا بعد آ جاۓ گا پھر میں دیکھ لوں گا وو سارا انتظام !!!”
حسام کی بات پر وہ سر ہلاتا عباد کی طرف متوجہ ہوا۔
“فروٹس کا فائنل کر لیا ؟؟”
وہ عباد سے سوال کرتا چند قدم آگے آیا تو دل آرا وہاں سے كهسكنے لگی جب ثاقب ہاتھ کے اشارے سے اسے روک گیا۔ وہ وہیں کھڑی رہ گئی۔
“جی میں نے بات کر لی ہے رفیق چچا سے ۔ وہ پیکٹس بنا کر افطاری سے پہلے پہنچا دیں گے اور شربت ہم گھر میں تیار کر لیں گی۔ دل آرا بہت اچھا منٹ مارگریٹا بناتی ہے اس لئے یہ کام ان کے سپرد ہے۔”
عباد کی بات پر وہ گہری نظر سامنے کھڑی گھبرائی سی دل آرا پر ڈال گیا۔
“باہر کسی سے رابطہ کر لو انہیں پریشان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ویسے بھی انہیں افطاری میں آنے والی خواتین کو دیکھنا ہو گا۔”
ایک گہری نظر اس پر ڈال کر وہ اپنی نظر اس پر سے ہٹا گیا۔
“نہیں نہیں کوئی مشکل نہیں میں آسانی سے مینیج کر لوں گی۔ عباد بھیا کو میں نے ہی بولا تھا۔”
اس سے پہلے کہ عباد کوئی جواب دیتا وہ خود ہی بول پڑی جس پر ثاقب دوبارہ اسے دیکھتا سر ہلا گیا۔
“اور حمزہ تمہارا کام ہوا ؟؟”
اب حمزہ کی باری تھی۔
“جی بھیا میں کھجوریں لے آیا ہوں۔ کچن میں رکھی ہیں آپ چیک کر لیں اور ہاں سموسوں کا آرڈر بھی دے آیا ہوں کل وقت پر اٹھا لاؤں گا۔”
حمزہ کے پر جوش ہو کر جواب دینے پر ثاقب مسکرا کر اس کا گال تهپتهپا گیا۔
“مجھے پتا تھا میرا شیر اپنا کام پوری ذمہ داری سے کرے گا۔”
اس کی بات پر حمزہ سرشار ہوتا مسکرا دیا۔
“دل آرا یہ میں آپ کے لئے کچھ کپڑے اور جوتے لایا ہوں۔ چیک کر لیں۔”
وہ ہاتھ میں پکڑے تین بیگ دل آرا کی طرف بڑھاتا بولا تو وہ جھجھکتی ہوئی اس کے ہاتھوں سے بیگز تھام گئی۔
“اس کی کیا ضرورت تھی سر میرے پاس پہلے سے موجود ہیں۔ آپ نے تكلف کیا۔”
وہ بلا وجہ دوپٹہ سہی کرتی بولی وہ ثاقب نفی میں سر ہلا گیا جب کہ باقی تینوں بھائی آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو شریر اشارے کر رہے تھے۔
“ضرورت محسوس ہوئی تو ہی لایا اور کوئی تكلف نہیں کیا۔ مزید کسی بھی چیز کی ضرورت محسوس ہو بلا جھجھک بول دیجئے گا۔ مجھ سے نہیں تو ان تینوں میں سے کسی سے۔ “
اس کی بات وہ محض سر ہلاتی اگلے ہی پل وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئی۔ اس کے جانے کے بعد ثاقب ان تینوں کی طرف متوجہ ہوا۔
“باز آ جاؤ تم تینوں۔ مجھے سب نظر آ رہا ہے۔”
اس کی تنبیہ پر عباد تو اگلے ہی پل وہاں سے كهسك گیا کہ حسام اور حمزہ كهسيانے ہو کر ہنس دیے۔
ثاقب نفی میں سر ہلاتا کمرے کی طرف بڑھ گیا کیوں کہ عشا کا وقت ہو رہا تھا۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
وہ کچن میں کھڑی سامان سیٹ کر رہی تھی جب باہر شور سنائی دیا۔ سب کام وہیں چھوڑتی وہ باہر کی طرف چل دی۔
“کیا ہوا شور کیوں مچا رہے ہو ؟؟”
وہ باتھ روم کے دروازے کے باہر کھڑی لال پیلے ہوتے حمزہ کو دیکھ کر نا سمجھی سے پوچھنے لگی۔
“آپی مجھے نہانا تھا۔ یہ حسام کب سے لیٹا مرا گیم کھیل رہا تھا اسے میں نے کہا بھی تھا نہا لو بعد میں مجھے نہانا ہے تب یہ اٹھا نہیں اور اب جب میں نہانے لگا ہوں تو یہ باتھ روم میں نہانے دفعان ہو گیا ہے۔”
حمزہ بیچارہ رونے والا ہو چکا تھا۔
“میری جان تم مت كهپو اب۔ تمہارے چیخنے سے وہ باہر تھوڑی آ جاۓ گا نہانے سے پہلے اب۔”
وہ پیار سے حمزہ کو سمجهاتی بولی تو وہ ایک آخری مرتبہ دروازے کو زور دار تھپڑ مارتا وہاں سے ہٹ کر کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
“موٹے اگر دروازہ ٹوٹ گیا تو اپنی جیب سے سہی کروائے گا کیا۔”
باتھ روم میں موجود حسام کی آواز سنتی دل آرا نفی میں سر ہلا گئی۔ ان کا واقعی کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔
تھوڑی دیر بعد حسام نکل کر کمرے میں بند ہوا تو وہ حمزہ کو آواز دینے لگی کہ آ کر نہ لے۔
“حسین آرا یہ شلوار میں ناڑا تو ڈال دو جلدی سے۔”
حسام نے کمرے سے آواز لگائی تو دل آرا اس کی طرف چل دی جو بازو دروازے کے باہر نکال کر کھڑا تھا جس میں شلوار پکڑی تھی۔
وہ ناڑا ڈال کر شلوار حسام کو پکڑا کر ابھی ہٹی ہی تھی جب کچن سے حمزہ کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔ وہ تیزی سے کچن کی طرف بڑھی جہاں حمزہ اپنے بال مٹھی میں جکڑے کھڑا تھا۔
“کیا ہوا حمزہ ؟؟”
اس کے سوال پر حمزہ کو سمجھ نہ آئی کیا جواب دے اب۔
“اس خبیث کے کام دیکھے ہیں آپ نے ؟؟ گیزر بند تھا تو میں نے پانی گرم ہونے کے لئے چلہے پر رکھا تھا جو اس ذلیل نے استعمال کر لیا۔ اب میں کیسے نہاؤں۔”
حمزہ کی بات پر دل آرا کو ہنسی بھی آئی اور افسوس بھی ہوا۔
“میں آج اس آستین کے سانپ کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔”
حمزہ غصّے سے تن فن کرتا کمرے کی طرف بڑھا تب تک حسام اندر سے لاک لگا چکا تھا۔ حمزہ زور زور سے دروازہ پیٹنے لگا۔
دل آرا پریشان نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ ثاقب اور عباد بھی گھر نہیں تھے جو ان دونوں کو باز رکھ لیتے۔
“حمزہ وہ اب دروازہ نہیں کھولے گا جانتے تو ہو تم اسے۔ جمعہ ہونے والا ہے میرے بھائی جیسا بھی پانی ہے نہا لو اب مزید وقت ضائع مت کرو۔”
وہ حمزہ کو پچکارتی بولی تو وہ بے چارہ چارو نچار نہانے چل دیا وہ بھی ٹھنڈے پانی سے۔
دل آرا نفی میں سر ہلاتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔