Chandni By Meem Ain Readelle50270

Chandni By Meem Ain Readelle50270 (Chandni) Episode 10

50.7K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Chandni) Episode 10

“قسم سے حسین آرا آپ نے سہی کوکیلا والا کردار ادا کیا ہے اور اب پل میں گوپی بہو بن گئی ہیں !!! ڈرا کر رکھ دیا ہمیں !!!”
حسام نے ہمیشہ کی طرح الٹی مثال ہی دی تھی۔ دل آرا ہنستی ہوئی اس کے کندھے پر تھپڑ جڑ گئی۔
“اللّه اللّه اتنا نازک ہاتھ۔ ناشتے میں پھول کھاتی ہیں کیا ؟؟”
حسام کی زبان پھر سے پهسلی تو دل آرا ہنستی چلی گئی۔ اسے خوش دیکھ کر وہ تینوں بھائی سکوں بھرا سانس بھر گئے۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
“یار میں تو تھک گیا !!!!”
حمزہ دهپ سے صوفے پر بیٹھتا بولا تو پاس کھڑے حسام نے اسے بھر پور گھوری سے نوازا۔
“ایسا کون سا بھاری بھر کم کام کیا ہے تمھارے اس نازک وجود نے جو تھک گئے ہو تم !!!”
حسام نے اس کے کندھے پر تھپڑ رسید کیا تو حمزہ چیخ اٹھا۔
“کن ظالم لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا ہوں میں بھی۔ لوگوں کے بھائی ہوتے ہیں ایک جو اپنے چھوٹے بھائیوں پر ایک کھروچ بھی نہیں آنے دیتے اور ایک یہاں میرے بھائی ہیں ہر وقت مجھے پنچنگ بیگ سمجھ کر دھوتے رہتے ہیں !!!”
س کی روہانسی آواز پر پاس سے گزرتی دل آرا فورا اس کے پاس آئی۔
“کیا ہوا میری جان کسی نے کچھ کہا ہے کیا ؟؟”
وہ حمزہ کے پاس بیٹھتی پریشانی سے پوچھ اٹھی۔ وہ ابھی عباد کے ساتھ سیلون سے آئی تھی فشل وغیرہ کروا کر۔
“آپی میرے بھائی ہر وقت مجھے گندے کپڑے سمجھ کر دھوتے رہتے ہیں !!!”
وہ اپنا دکھڑا پھر سے رو بیٹھا۔
“سر اور عباد بھائی تو نہیں مارتے کبھی۔ بس حسام ہی مذاق مذاق میں مار لیتا ہے۔”
وہ تیزی سے بولی جس پر حمزہ کے ساتھ ساتھ حسام کی آنکھیں بھی پهيل گئیں جب کہ عباد لب دبا کر بیٹھ گیا۔
“واہ بھئی واہ !!!! سر کی حمایت میں فورا بول اٹھی آپ اور میں جو دن رات آپی آپی کرتا رہتا ہوں میرا کوئی خیال نہیں !!!!”
اس کی آواز میں مصنوعی حیرت کے ساتھ ساتھ شرارت بھی ناچ رہی تھی جسے محسوس کرتے دل آرا کے گلابی گال دہک اٹھے .
“فضول باتوں کو چھوڑ کر تیاری شروع کر دو اب۔ مزید گھنٹے تک مہمان آنا شروع ہو جائیں گے۔”
ثاقب کی سنجیدہ آواز سنتے جہاں وہ تینوں بھائی سیدھے ہو کر بیٹھے وہیں دل آرا سر پر لیا دوپٹہ پیشانی تک کھینچ گئی جس پر حسام اور حمزہ سیٹی بجانے لگے۔
ان کی حرکت پر ثاقب نے انہیں گھور کر دیکھا جو دل آرا کو تنگ کر رہے تھے۔
“آپی آپ کو پتا ہے کل میں نے خود کو ٹی وی میں دیکھا !!!!”
حسام کی بات پر دل آرا نے ایک جھٹکے سے چہرہ موڑ کر حسام کی طرف دیکھا۔
“سچ میں ؟؟؟”
وہ پر جوش ہوتی سوال کرنے لگی تو اس کا جوش دیکھتے ثاقب کے لب دھیمی سی مسکراہٹ میں ڈھل گئے جب کہ باقی دونوں بھائی سکون سے بیٹھے تھے جیسے جانتے ہوں اچھی طرح حسام کو۔
“ہاں نا !!! آپ بھی خود کو دیکھ سکتی ہیں !!!”
اس کی بات پر دل آرا کے چہرے پر نا سمجھی بھرے تاثرات پهيل گئے۔
“پر وہ کیسے ؟؟؟”
اس کے سوال پر ثاقب نفی میں سر ہلاتا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔ اسے دل آرا پر بھی ہنسی آ رہی تھی جو اب تک حسام کی عادت کو سمجھ نہ سکی تھی۔
“ظاہر ہے ٹی وی بند کر کے !!!”
اس کی بات پر جہاں حمزہ اور عباد کی ہنسی چھوٹی وہیں دل آرا پاس پڑا کشن اس کے سر پر مار گئی جسے وہ ہنستے ہوئے تھام گیا۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
وہ نم آنکھیں لئے چاندنی کے کندھے سے لگی بیٹھی تھی۔ ابھی کچھ سیکنڈز پہلے ہی وہ اپنے پورے حقوق ثاقب جمال کو سونپ کر اسے اپنے جسم و جان کا مالک بنا چکی تھی۔
چاندنی اس کے پاس ہی تھی نکاح کے وقت۔ نکاح ہوتے ہی مولوی صاحب اور تینوں بھائی کمرے سے باہر چلے گئے تو دل آرا چاندنی کے کندھے سے لگتی رو دی۔
اسے اس وقت کسی ہمدرد کندھے کی شدید ضرورت تھی ۔ ماں باپ کی کمی تو زندگی کے ہر موڑ پر ہی محسوس ہوئی تھی پر آج کے دن یہ کمی بہت زیادہ کھل رہی تھی۔
کسی بد نصیب دلہن تھی وہ جسے اپنی زندگی کے اتنے بڑے دن ماں باپ کی شفقت ہی نہ مل پائی۔ گلے سے لگا کر دعا دینے والا کوئی اپنا ہی اس کے ساتھ نہ تھا۔
“بس کریں دل آرا اتنی پیاری لگ رہی ہیں رو رو کر سب خراب کر لیں گی۔”
چاندنی کی محبت بھری ڈانٹ پر وہ آنکھیں پونچھتی اس سے الگ ہوئی۔
“ہم اچھی دوستیں ہیں نا ؟؟ تو اپنی دوست کی مان کر یہ آنسو صاف کریں اور پیاری سے سمائل دیں مجھے جلدی۔ اتنے خاص موقع پر ایسی روکھی سی صورت مت بنائیں۔”
وہ خود سی دل آرا کے آنسو صاف کرتی بولی تو اس کی محبت محسوس کرتی دل آرا دل سے مسکرا دی۔
گزرے چند دنوں میں ان دونوں کی بہت اچھی دوستی ہو چکی تھی۔
ابھی وہ مزید کوئی بات کرتے جب دروازہ ناک کر کے حمزہ حسام اور عباد کمرے میں داخل ہوئے۔
وہ تینوں دل آرا کو بڑے بھائیوں کی طرح پیار اور دعائیں دے کر اسے اپنے ساتھ کا احساس دلا گئے .
“چاندنی آپی دل آپی کو باہر لے چلیں اب!!!!”
حسام نقاب میں چھپی ہوئی چاندنی سے بولا تو وہ سر ہلا گئی۔ وہ خود بھی باہر جانا چاہتی تھی کیوں کہ عباد کی نظریں اسے پریشان کر رہی تھیں۔
ثاقب اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا ان کی شریر باتوں سے محظوظ ہو رہا تھا جب ایک دم کسی احساس کے تحت اپنی آنکھیں اٹھا گیا اور یہ آنکھیں اٹھانا جیسے بھاری ہی پڑ گیا تھا دل و دماغ پر۔
سامنے ہی وہ حسیناؤں کے حسن کو مات دیتی دل آرا اس کے دل و جان پر قبضہ جمانے کے لئے تیار کھڑی تھی۔
اس کے نام کے لال جوڑے میں ملبوس اسی کے نام کا سنگھار کیے اس کے دل پر بجلیاں گرا رہی تھی۔
وہ ایک ٹرانس کی كیفیت میں اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کی طرف قدم اٹھاتا اس کے آگے اپنا مضبوط ہاتھ پهيلا گیا۔
اس کی حرکت پر تالیوں اور سیٹیوں کا طوفان امڈ آیا جس پر وہ بجاۓ خجل ہونے کے پورے دل سے مسکرا کر سر کو خم دے گیا۔
حمزہ نے دل آرا کا لرزتا كانپتا ہاتھ پکڑ کر ثاقب کے ہاتھ میں دیا تو وہ مہندی اور چوڑیوں سے سجے اس کے نازک ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرتا اسے اپنے ساتھ لئے صوفے کی طرف بڑھ گیا جسے اس کے بھائیوں نے بہت محبت سے پھولوں سے سجايا تھا۔
اسے بیٹھا کر وہ خود اس کے ساتھ بیٹھا تو اس کی اس قدر نزدیکی پر دل آرا کا دل باہر آنے والا ہو گیا۔ اس نے کہاں محسوس کیا تھا بھلا آج سے پہلے ایسا انوکھا اور اچھوتا احساس۔
باری باری سب آ کر انہیں مبارک اور دعا دیتے ان دونوں کا منہ میٹھا کروانے لگے۔ اس کی گھبراہٹ محسوس کرتے ثاقب نے پھر سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں قید کر لئے جس پر وہ اپنی جھکی ہوئی گردن مزید جھکا گئی۔
حمزہ کچن سے باہر آ رہا تھا جب اسے سامنے والے گھر کی آمنہ نظر آئی۔ اس کی شرارت کی رگ پھڑک اٹھی۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔
“کیسی ہو آمنہ ؟؟”
اس کی آواز پر آمنہ چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگی جو سفید شلوار قمیض میں اچھا خاصا ہینڈسم لگ رہا تھا۔
“میں بہت اچھی ہوں اور مزے کی بات آج تم بھی غلطی سے اچھے لگ رہے ہو۔”
وہ اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتی بولی تو حمزہ فرضی کالر جھاڑ گیا۔
“خیریت ہے نا؟؟ آج منہ سے انگارے برسانے کی بجاۓ تعریف کر رہی ہو۔ کہیں اس ہینڈسم پر دل تو نہیں آ گیا ؟؟؟”
حمزہ اترا کر بولا تو آمنہ کی ہنسی نکل گئی۔
“کس خوشفہمی میں ہو بیٹا۔ مجھے چھوٹے بچے نہیں پسند۔مجھے میچور مرد اچھے لگتے ہیں !!!”
آمنہ اپنے بال جھٹکتی ایک ادا سے بولی تھی۔
“میرے دوست کے دادا ابو سنگل ہیں۔ کہو تو بات چلاؤں ؟؟”
وہ ہنسی ضبط کرتا سیریس ہو کر بولا تو آمنہ غصّے سے سرخ پڑ گئی۔ ہاتھ کے اشارے سے اس پر لعنت بھیجتی وہ تن فن کرتی وہاں سے نکلی تو حمزہ کے پیچھے ہنسی ضبط کرتے حسام کا زبردست قہقہہ پڑا تھا۔ اگلے ہی پل وہ دونوں بھائی وہاں کھڑے پاگلوں کی طرح ہنس رہے تھے۔