Chandni By Meem Ain Readelle50270 (Chandni) Episode 7
Rate this Novel
(Chandni) Episode 7
“یہ سب کیا تھا حسام ؟؟”
ثاقب کی ضرورت سے زائد سنجیدہ آواز پر حسام نے تھوک نگلتے باقی دونوں کی طرف دیکھا پر وہ یوں ہو گئے جیسے وہاں موجود ہی نہ ہوں۔
“بھیا وہ در اصل ۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا دل آرا کی خوفناک چیخ سنتے سب اس کے کمرے کی طرف بھاگے !!!!
سب سے آگے ثاقب اس کے پیچھے عباد اور اس کے پیچھے حمزہ اور حسام تھے۔
وہ کمرے میں پہنچے تو دل آرا بیڈ پر کھڑی آنکھیں بند کیے چیختی چلی جا رہی تھی۔
“کیا ہوا دل آرا ؟؟”
ثاقب نے تشویش سے استفسار کیا تو اس کی آواز سنتے ہی وہ پٹ سے آنکھیں کھولتی تیر کی تیزی سے بیڈ سے اتر کر ثاقب کی طرف بھاگتی اس کا بازو پکڑ کر اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔
*وہ ۔۔۔۔وہ میں باتھ روم میں تھی ۔۔۔۔میں نہا رہی تھی جب ۔۔۔۔وہ ایک دم باتھ روم میں آ گیا۔”
وہ جو اس کے بھیگے وجود کے اپنے قریب تر کھڑا ہونے پر خفگی کا شکار تھا دل آرا کی بات پر اس کا چہرہ پل بھر میں سرخ پڑ گیا۔
“کون تھا وہاں !!!”
وہ دل آرا کی گرفت سے اپنا بازو آزاد کرواتا سخت تیور لئے باتھ روم کی طرف بڑھا جب کہ پیچھے وہ تینوں بھائی صورت حال سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ثاقب ایک جھٹکے سے باتھ روم کا دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا تو اسے خالی پایا۔
“یہاں کوئی بھی نہیں ہے !!! بتاؤ دل آرا کون تھا !!!”
وہ واپس آتے دل آرا کے قریب کھڑا ہوتا لہو رنگ آنکھوں سمیت بولا تو اس کے ایسے تیور پر تینوں بھائیوں کے درمیان نظروں کا تبادلا ہوا۔
“وہ باتھ روم میں ہی تھا میں باہر آئی تو میرے پیچھے ہی باہر آ گیا۔ابھی میرے سامنے بیڈ کے نیچے گیا ہے!!!”
وہ خوف زدہ نظروں سے بیڈ کے نیچے فرش کو دیکھتی بولی تو ثاقب نا سمجھی سے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھنے لگا۔
“بھیا یہ حمزہ کے سچے پکے یار کی بات کر رہی ہیں !!!”
حسام لاپرواہی سے بولا تو اس کے جواب پر ثاقب کو جھٹکا لگا۔ مطلب یہ سارا خوف اور چیخ و پکار محض ایک کاکروچ کی وجہ سے تھی؟؟؟
ثاقب نے اپنے بھائیوں پر ایک بے بس نظر ڈالی جو ہنسی چھپانے کی جان توڑ کوشش کر رہے تھے۔
“دل آرا وہ ایک چھوٹا سا کیڑا آپ کا کیا بگاڑ لیتا جو آپ اس سے اس قدر خوف زدہ ہیں .”
وہ تحمل سے مستفسر ہوا تو دل آرا شرمندگی سے نظریں جھکا گئی۔
“گھر میں کیڑے مار پاؤڈر نہیں پڑا کیا ؟؟”
اس نے ڈرتے ڈرتے ثاقب سے نظریں چرا کر حسام اور حمزہ کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
“نہیں ہم کاکروچ کے اتنے نخرے نہیں اٹھاتے۔ آج پاؤڈر دیں گے تو کل پرفیوم مانگنے لگے گا۔”
یہ کہاں لکھا تھا کہ حسام سیدھا جواب دے دیتا۔ اس کے جواب پر عباد نے اس کی گردن پر رکھ کر ایک تھپڑ مارا جس پر وہ بلبلا کر رہ گیا۔
“میں کاکروچ کے ساتھ ایک کمرے میں نہیں رہ سکتی !!!”
وہ روہانسی ہوتی بولی تو اس کی عجیب و غریب بات پر حمزہ اور حسام کی ہنسی چھوٹ گئی جب کہ عباد بھی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کرنے لگا۔ ثاقب نے ایک کڑی نگاہ ان تینوں پر ڈالی تو وہ شریف بن کر کھڑے ہو گئے۔
“اوکے پھر مجھ سے نکاح کر لیں تا کہ اس کاکروچ کی بجائے آپ میرے ساتھ کمرے میں رہ سکیں۔”
اس کی خلاف توقع بات پر جہاں دل آرا کی آنکھیں پهيل گئیں وہیں تینوں بھائی بھی منہ کھولے اپنے میسنے بھیا کو دیکھنے لگے۔
“جج ۔۔۔جی ؟؟”
وہ ہونق بنتی پوچھنے لگی تو اس کے چہرے کے تاثرات پر ثاقب مسکراہٹ روکنے کی خاطر لب بھینچ گیا۔
“ہاں جی !!! صاف لفظوں میں پوچھتا ہوں۔ محترمہ کیا آپ میرے تین عدد چھوٹے بھائیوں کی بڑی بھابھی بن کر مجھے اپنا شکریہ ادا کرنے کا موقع دیں گی ؟؟”
اس کے سوال پر جہاں تینوں بھائی ہوش میں آتے سیٹی بجانے لگے وہیں دل آرا کا چہرہ لال سرخ ہو گیا۔
“حسام آپ کے کمرے سے ابھی کاکروچ نکال دیتا ہے اور آپ صبح تک سوچ کر اپنے جواب سے آگاہ کر دیجئے گا پر میں امید کرتا ہوں کہ آپ مثبت جواب ہی دیں گی۔”
اپنی بات مکمل کرتا وہ کمرے سے نکل گیا تو اس کے پیچھے ہی عباد بھی دل آرا کے سر پر مسکرا کر ہاتھ رکھتا کمرے سے نکل گیا جب کہ حسام اور حمزہ نے دل آرا کو چھیڑ چھیڑ کا اس کا برا حال کر دیا۔ اتنا کہ وہ بے چاری کاکروچ کی موجودگی اور اس کا خوف ہی بھول گئی۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
زین کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اور وہ دو دن سے ہسپتال میں داخل تھا ۔ زین کی ایک ہی بہن اور امی تھی بس۔ والد حیات نہیں تھے۔
دو دن سے عباد ہسپتال میں ہی گھن چکر بنا ہوا تھا۔
ابھی بھی اس کی امی ہسپتال تھیں۔ انہوں نے عباد کو گھر سے زین کے لئے سوپ لینے بھیجا تھا جو چاندنی بنا چکی تھی۔
وہ زین کے گھر کے باہر کھڑا دروازہ کھٹکھٹاتا اس کے کھلنے کا انتظار کر رہا تھا۔
“جی کون ؟؟”
وہی میٹھی آواز عباد کے کانوں سے ٹکرائی تو اسے اپنی روح تک سکوں پهيلتا محسوس ہوا۔
زین اور عباد محلے دار ہونے کے ساتھ بچپن کے دوست بھی تھے پر یہ دوستی گھر کے باہر تک ہی محدود تھی۔ چاندنی پرده کرتی تھی اس لئے عباد کبھی اس کا چہرہ دیکھ نہیں پایا تھا پر وہ اس کی خوبصورت آواز اور نازک سے مومی ہاتھوں کا دیوانہ تھا۔ اسے پتا تھا یہ لڑکی حسین تر تھی۔
عباد کو پتا ہی نہ چل سکا کب اس کے دل میں چاندنی کے لئے محبت پیدا ہوئی۔ محبت ہمارے اختیار میں تھوڑی ہوا کرتی ہے۔یہ تو کبھی بھی کسی سے بھی ہو جایا کرتی ہے بس !!! عباد جمال کو بھی چاندنی الیاس سے محبت ہو گئی تھی۔ نہ جانے کب !!!
“میں ہوں عباد !!!”
اس کے جواب پر وہ تھوڑا سا دروازہ کھول گئی۔
“آپ رکیں میں کھانے کے بیگ لے کر آتی ہوں۔”
اپنی ازلی نرم آواز میں کہتی وہ پھر سے دروازہ بند کرتی پلٹ گئی۔ اس کی واپسی ٹھیک دو منٹ کے بعد ہوئی تھی۔ شاید وہ پہلے ہی کھانا پیک کر کے رکھ چکی تھی۔
گھر کے ادھ کھلے دروازے سے ایک مومی ہاتھ باہر آیا تو عباد کی آنکھیں اس کے نازک ہاتھ پر جم سی گئیں۔ کس قدر خوب صورتی سے تراشا تھا اوپر والے نے اس کے ہاتھوں کو۔
“یہ پکڑ لیں بھائی !!!”
اس کی روئی سی آواز پر وہ جہاں ہوش میں آتا خود کو ملامت کرتا اپنی نظریں ہٹا کر بیگ پکڑ گیا وہیں اس کے بھائی کہنے پر اس کے منہ کے زاویے بری طرح بگڑ گئے یوں جیسے کڑوا بادام چبا لیا ہو۔
اس کے بیگ پکڑنے کی ہی دیر تھی کہ وہ پھر سے دروازہ بند کر گئی۔
“کوئی نہیں عباد بیٹا تیرا وقت بھی آئے گا!!!”
منہ میں بڑبڑاتا وہ سامنے کھڑی اپنی بائیک کی طرف بڑھ گیا جب کہ لبوں پر خوب صورت مسکراہٹ چمک رہی رہی تھی جو یقیناً کسی کے خوشگوار خیال کی علامت تھی۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
“حسام اٹھو جلدی۔ ہری مرچیں اور پودینہ ختم ہو گیا ہے پہلے وہ لا دو !!!”
وہ لاؤنج میں صوفے پر نیم دراز موبائل پر گیم کھیل رہا تھا جب دل آرا اس کے پاس آتی حکم سنا گئی۔
“یہ لیول ختم ہونے والا ہے پھر لا دیتا ہوں !!!!”
وہ ہنوز گیم میں مگن بولا۔
“لیکن میں افطاری بنا رہی ہوں مجھے ابھی چاہئے۔ وقت بہت کم رہ گیا ہے۔”
اس کی بات پر حسام نے ایک دفعہ نظر اٹھا کر اسے دیکھا پھر واپس موبائل میں گم ہو گیا۔
“یار میں گیم کھیل رہا ہوں آپ حمزہ کو بھیج دیں !!!”
اس کی بات پر دل آرا اسے گھور کر رہ گئی۔
“پہلے اسے ہی بولا تھا پر وہ اپنے دوست کی کال پر باہر نکل گیا ہے نہ جانے کب تک واپس آئے۔”
وہ اسے بتاتی ایک نظر گھڑی پر ڈال گئی جہاں افطاری میں تھوڑا وقت ہی رہتا تھا بس۔
“عباد بھیا سے بول دیں نا پھر !!!”
اس کی لاپرواہی پر دل آرا دانت کچکچا کر رہ گئی۔
“عباد بھیا ہسپتال گئے ہوئے ہیں افطاری باہر ہی کریں گے آج۔ تم اٹھ رہے ہو یا لگاؤں ایک تھپڑ !!!”
حسام کے کہنے پر ہی وہ اسے نام سے ہی پکارتی تھی اب۔ چند دنوں میں وہ یوں سب میں گھل مل گئی تھی جیسے ہمیشہ سے یہیں رہتی ہو۔
“اچھا پھر آپ کے ہونے والے سرتاج گھر آنے ہی والے ہیں ان کو کال کر کے بول دیں وہ لے آئیں گے۔”
حسام کی فضول گوئی پر وہ کشن اٹھا کر اس کی طرف پهينكتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ اب واقعی بس ثاقب والا آپشن ہی بچا تھا۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
“یا اللّه !!!”
وہ لڑکوں کے شور پر جیسے ہی کچن سے باہر نکلی سامنے نظر آتا منظر دیکھ کر چیخ اٹھی۔
حمزہ کے سر اور بازو پر پٹی بندھی تھی ججب کہ پاؤں بھی زخمی تھا۔ چہرہ خراشوں سے پر تھا۔ حسام اور ایک اور لڑکے نے اسے سہارا دے رکھا تھا۔
“یہ کیا ہوا اسے حسام ؟؟”
وہ تیزی سے اس کے قریب آتی اس کا چہرہ نرمی سے چھوتی تڑپ کر حسام سے پوچھنے لگی۔
“کچھ نہیں ہوا بس چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ حسام اسے کمرے میں ہی لے چلتے ہیں۔”
ثاقب ان دونوں کے پیچھے ہی گھر میں داخل ہوا تھا اور صاف ظاہر تھا کہ اس معاملے سے لاعلم نہیں۔ دوسرا لڑکا گھر سے باہر نکل گیا تو ثاقب اور حسام اسے سہارا دیتے کمرے میں لے گئے۔
دل آرا بھی تیزی سے ان کے پیچھے ہی گئی تھی۔
ثاقب اور حسام اسے بیڈ پر بیٹھا کر پیچھے ہٹے تو دل آرا حمزہ کے پاس بیٹھ گئی۔
“بہت درد ہو رہا ہوگا نا !!!”
وہ آنکھوں میں آنسو لئے حمزہ سے پوچھنے لگی تو وہ تینوں بھائی اسے دیکھ کر رہ گئے۔
“آپی یار آپ رو کیوں رہی ہیں ایک دم ٹھیک ہوں میں۔ یہ هلكی پهلكی چوٹیں آپ کے بھائی کا کیا بگاڑ لیں گی۔میں یہاں ہنس رہا ہوں اور آپ رو رہی ہیں !!!”
وہ تکلیف میں تھا پر اسے پر سکون کرنے کے لئے ہنس کر بولا تو دل آرا اسے گھور کر رہ گئی۔
“مجھے سب نظر آ رہا ہے کتنی لگی ہے اور کتنی نہیں۔ آذان ہونے والی ہے میں جلدی سے کچھ ہلکا پهلكا بنا دیتی ہوں اور حسام تم یہاں کمرے میں ہی برتن رکھو۔ ہم آج یہیں افطاری کر لیں گے۔!!!”
حسام کو حکم دیتی وہ حمزہ کا گال تهپتهپا کر اٹھ گئی۔
🅼🅴🅴🅼 🅰🅸🅽🅽 🆆🆁🅸🆃🅴🆂
افطاری کے بعد وہ سب حمزہ کے پاس ہی بیٹھے چائے پی رہے تھے جب ثاقب ایک دم دل آرا کی طرف متوجہ ہوا۔
“دل آرا آپ نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔ میں منتظر ہوں !!!”
ثاقب ایک دم دل آرا سے مستفسر ہوا تو اس کا سانس جیسے رک سا گیا۔
“کیا آپ میری زوجیت میں آنا پسند کریں گی ؟؟”
وہ ایک دفعہ پھر سے اپنا سوال دہرا گیا۔
“میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی!!!”
چند لمحے خاموشی کی نظر کرنے کے بعد وہ بولی بھی تو کیا !!!
“وجہ ؟؟”
وہ جیسے بہت ضبط سے پوچھ رہا تھا۔
“کیوں کہ میرا نکاح ہو چکا ہے۔ میں پہلے سے ہی شادی شدہ ہوں !!!!”
وہ ان سب پر دهماكا کرتی شرمندگی سے نظریں جھکا گئی جب کہ ان تینوں بھائیوں کی آنکھوں میں تیرتی بے یقینی واضح تھی۔
See translation
