65.2K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8 & 9

قسط نمبر 08
افطاری کے بعد لائبہ اور مسکان بیٹھی موبائل پر کپڑوں کے ڈیزائن دیکھ رہی تھیں۔ آج کل ان کے فارغ اوقات کا یہی ایک مشغلہ تھا۔ یوں جسے وہ ایک مہم پر نکلی ہوں۔ عید کے لئے بناۓ جانے والے کپڑوں کے ڈیزائن کی تلاش! وہ دونوں زور و شور سے اسی بحث میں مصروف تھیں جب نینا دهپ سے ان کے قریب ہی صوفے پر بیٹھ گئی۔ منہ پهولا ہوا تھا کیوں کہ آمنہ بیگم نے اسے زبردستی یھاں بھیجا تھا کہ ہر وقت کمرے میں نہ گھسی رہا کرو۔ اگر پڑھنا ہی ہے تو کتاب لے کر لاؤنج میں ہی آ جاؤ۔ اب بھی وہ بیزار شکل لئے کتاب ہاتھ میں تھامے آنکھیں بند کرتی صوفے کی پشت سے سر ٹکا گئی۔
لائبہ اور مسکان اسے ایک نظر دیکھتی سرگوشی میں بات کرنے لگیں تا کہ ان کی اونچی آوازوں سے نینا ڈسٹرب نہ ہو۔
لائبہ مسکان کے کان میں میں تقریباً گھستے ہوئے کوئی بات کر رہی تھی جس کے جواب میں مسکان کاسر پوری رفتار سے ہل رہا تھا۔ اس کی بات سنتے مسکان کی نظر اچانک سامنے بیٹھی دادی جان پر پڑی تو وہ بوکھلاتی ہوئی جھٹکے سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ اس کی نظروں کے تعا قب میں لائبہ نے دادی جان کودیکھا تو وہ سخت تیور لئے ان دونوں کو گھور رہی تھیں۔
” کیا ہوا دادی جان؟ اب ہم معصوموں نے ایسا کیا کر دیا جو آپ ہمیں اس طرح دیکھ رہی ہیں؟”
لائبہ نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے پوچھا۔
“یہ جو تم دونوں ایک دوسرے کے کانوں میں گھسی پھسپھسا رہی ہو۔ بہت اچھی بات ہے نا یہ۔ تم لوگوں کو نہیں پتا کہ بہن بھی پاس بیٹھی ہے۔ محفل میں بیٹھنے کے آداب بھی سیکھو۔
حدیث نبوی ہے کہ: جب تم تین لوگ ہو تو اپنے ساتھ کو چھوڑ کر دو آپس میں سرگوشی نہ کریں کیوں کہ یہ چیز اسے(تیسرے کو) غم زدہ کر دے گی۔(صحیح مسلم)”
ان کے لتاڑنے پر وہ دونوں اپنی جگہ شرمندہ ہو گئیں۔
“دادو ہم تو بس نینا کے آرام کے خیال سے آہستہ آواز میں بات کر رہے تھے تا کہ ہماری اونچی آواز اس کے آرام میں خلل نہ ڈالے۔”
وہ تفصیلی وضاحت دیتے ان کا موڈ بحال کر گئی۔
نینا وہاں سے اٹھی اور آ کر بانو بیگم کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی۔ بانو بیگم اس کے سر میں انگلیاں پهيرنے لگ گئیں۔
“دادی جان کسی پر جھوٹا الزام لگانے کی کیا سزا ہے۔ کوئی آپ پر وہ الزام لگا رہا ہو جس کے متعلق آپ کچھ جانتے ہی نہ ہوں..آپ پر بہتان باندھ رہا ہو !” وہ دھیمی آواز میں ان سے بہت اہم سوال پوچھ گئی۔
“الزام تراشی بہت بڑا گناہ ہے۔ حضرت علی کا فرمان ہے: کسی پر الزام لگانا یہ آسمانوں سے بھی زیادہ بھاری گناہ ہے۔
قرآن پاک میں سورت النور میں اللّه کا ارشاد ہے کہ: جو لوگ بھولی پاک دامن با ایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں معلون ہیں اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے۔”
وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتی حلاوت بھرے لہجے میں اسے بتانے لگیں۔
“پر دادی جان اس کائنات میں موجود ہر شے اللّه پاک کے کن کی محتاج ہے اور اس کی مرضی کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا پھر وہ لوگوں کو اتنی شہہ کیوں دیتا ہے کہ وہ کسی معصوم اور بے گناہ پر بہتان باندھیں؟ اس معصوم کا کیا قصور ہوتا ہے جس پر بہتان لگایا جاتا ہے۔”
وہ غمگین لہجے میں ایک اور سوال داغ گئی۔
“میری بچی اس دنیا میں ہر چیز ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ اگر اچھائی ہے تو برائی بھی ہے۔ نیکی ہے تو بدی بھی ہے۔ نور ہے تو تاریکی بھی ہے۔ اندھیرا ہے تو سویرا بھی ہے۔ اللّه نے جنت بنائی تو اس کے ساتھ دوزخ بھی بنائی۔ اور اس دوزخ کا ایندھن ایسے لوگ ہی ہوں گے۔ اور رہی بات معصوموں کی تو بچے اللّه ہر طریقے سے اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ آزمائش اللّه کے محبوب بندوں پر ہی آتی ہے۔ وہ لے کر بھی آزماتا ہے اور دے کر بھی۔ یہ تو بندے پر پر منحصر ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف سے ملنے والی آزمائش پر صبر و شکر کر کے پورا اترتا ہے یا بےصبری اور نا شکری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ بیشک صبر کر کے سیدھے راستے پر قائم رہنے والے ہی اپنے رب کے ہاں عزت پاتے ہیں۔ اور اللّه صبر کبھی رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ قرآن پاک میں ایک آیت بار بار دہرائ گئی ہے:
ان اللّه مع الصابرین۔
ترجمہ: “بیشک اللّه صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”
ان کی باتوں پر پرسکون ہوتی وہ ان کو گود میں سر رکھے ہی میٹھی نیند میں جا چکی تھی۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
وہ کب سے کمرے میں بیٹھی تھی۔ موسم هبس زدہ تھا۔ کمرے میں بیٹھے بیٹھے اسے گھٹن ہونے لگی تو دوپٹہ حجاب کی صورت سر پر اوڑھتی بالکنی کا دروازہ کھول کر باہر نکل آئ ۔ باہر کا موسم اندر سے قدرے بہتر تھا۔ اس نے آنکھیں بند کرتے ایک لمبی سانس بھری۔
زمان آفس سے آ کر فریش ہونے کے بعد بالکنی میں آ گیا۔ اس کی نگاہیں روز کی طرح آج بھی سامنی بالکنی پر اٹھی تھیں جو ہمیشہ کی طرح ویران پڑی تھی۔ اس نے اب تک بس دو دفع ہی اس پری پیکر کو یہاں دیکھا تھا ورنہ وہ دروازہ ہمیشہ بند ہی ملتا تھا۔ کافی دیر وہاں نظریں جمانے کے باوجود وہ نظر نہ آئ تو وہ ایک آخری مایوس نگاہ اس بالکنی کے بند دروازے پر ڈالتا وہاں سے ہٹنے کو تھا جب غیر متوقع طور پر سامنے موجود دروازہ دھیرے سے کھلا اور حجاب میں لپٹا وہ پر نور چہرہ اس کی نظروں کی گرفت میں آیا۔ وہ یک تک اس کے چہرے کو دیکھنے میں محو تھا جو آنکھیں بند کیے فضا سے ٹھنڈی سانسیں کھینچ رہی تھی۔اس نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں اس کی ہری آنکھیں سامنے کھڑے وجود کی کالی آنکھوں سے ٹکرائی تھیں۔ اس کی ہری آنکھیں دیکھتے زمان بے ساختہ منہ میں ماشاءالله کہہ گیا۔ وہ واقعی قدرت کا حسین شاہکار تھی۔ اسکی حسین پٹھانی!
اس کی نظروں کا ارتكاز اپنے چہرے پر محسوس کرتی وہ پل میں سرخ پڑی تھی۔ بغیر اس پر دوسری نظر ڈالے وہ تیزی سے مڑتی واپس کمرے میں گم ہوئی تھی جب کہ زمان اس کی تیزی ہی دیکھتا رہ گیا۔
وہ کمرے میں آ کر دروازہ بند کرتی اسی کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی اور اپنی معمول سے تیز دھڑکنوں کو محسوس کرتی سینے پر ہاتھ رکھ گئی۔ اس انسان سے حیا کا جب بھی ٹکراؤ ہوا تھا اسے یوں محسوس ہوا تھا جسے اس کی گہری سیاہ آنکھیں اس سے کچھ کہنا چاہ رہی ہوں۔ اس کے لئے سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ اس کا دیکھنا برا نہیں لگتا تھا۔ حیا کو اس کی آنکھوں میں اپنے لئے ہمیشہ عزت ہی دیکھی تھی بس۔ حوس اور خباثت جیسا کچھ بھی نہ تھا ان سیاہ آنکھوں میں۔ فقط عزت ہی دکھی تھی۔
“لا حولا ولا قوت! شرم کرو حیا جیسا بھی ہے پر ہے تو ایک نا محرم ہی نا وہو۔ تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہو۔ اف حیا تم بھی پاگل ہو پوری بس!”
وہ سر پر ہاتھ مار کر خود سے کہتی وضو کی نیت سےباتھ روم کی طرف بڑھ گئی جب کہ پیچھےکھڑا زمان بھی اپنے کمرے کی طرف مڑ گیا۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
قسط نمبر 09
دن بہت ہی سست روی سے گزر رہے تھے۔ آج ان دونوں نے یونیورسٹی سے آف لیا تھا۔ مسکان کی طبیعت کچھ ناساز تھی اور لائبہ اکیلی جاتی نہیں تھی۔ نینا کو رات سے بخار تھا اس لئے وہ بھی گھر ہی تھی اور اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی۔ زمان آفس گیا ہوا تھا اور شارق یونیورسٹی جب کہ عمیر کسی کیس کے سلسلے میں مصروف تھا آج کل۔ گھر بھی رات کو دیر سے ہو لوٹ رہا تھا۔
وہ دونوں کمرے میں لیٹی اپنے اپنے موبائل میں گم تھیں جب شازیہ بیگم وہاں آئیں۔
“لائبہ جاؤ اوپر سے کپڑے اتار لاؤ۔ شانو نے دھو کر سوکھنے کے لئے اوپر ڈالے تھے پر اس کے بیٹے کی طبیت خراب تھی تو میں نے اسے گھر بھیج دیا۔جاؤ تم لے آؤ اب کیا ہر وقت موبائل کے ساتھ چپکی رہتی ہو کبھی اس کی جان چھوڑ بھی دیا کرو۔”
ان کی گولہ باری کا رخ اپنے عزیز از جان موبائل کی طرف ہوتا دیکھ کر وہ جھٹ سے موبائل تکیے کے نیچے رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
“جا رہی ہوں امی۔”
وہ انہیں کہتی تیزی سے اوپر کی طرف بڑھ گئی۔وہ اوپر آ کر جلدی جلدی کپڑے سمیٹنے لگی تا کہ جلد فارغ ہو جاۓ۔ اپنے چہرے پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرتے اس نے نظریں آس پاس دوڑاںٔیں تو سامنے ہی شاہین کو ٹکٹکی باندھ کر اپنی طرف دیکھتے پا کر دھک سے رہ گئی۔ چہرے کا رنگ تیزی سے بدلا تھا اور گالوں پر گلال آ ٹھہرا تھا۔ وہ اسے آنکھوں میں بساۓ نہارنے میں مصروف تھا۔ اس کی نگاہوں سے خاںٔف ہوتی وہ اپنا رخ موڑ گئی۔ اسے نیچے کی طرف قدم بڑھاتے دیکھ کر وہ اسے پکار اٹھا۔
“سنیں!”
اس کی پکار پر وہ رکی ضرور پر پلٹی نہیں.
“مجھے آپ سے بات کرنی تھی ایک۔ آپ پلیز ایک دفعہ بات سن لیں میری۔ آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔”
اس کی بات پر وہ دھیرے سے پلٹ کر نگاہیں جھکاۓ منڈیر کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی گئی۔ ہاتھوں میں ہنوز کپڑے تھام رکھے تھے۔
“جی بولیں! کیا بات کرنی ہے آپ کو مجھ سے؟”
اس کے کہنے پر وہ ایک نظر آس پاس دوڑاتا تھوڑا آگے جھک گیا۔
“دیکھیں لائبہ میں ایک پریکٹیکل بندہ ہوں گھما پھرا کر بات نہیں کروں گا۔صاف سیدھی بات ہے کہ آپ پہلی نظر میں ہی دل کو اس قدر بھا گئی تھیں کہ میں نے اسی لمحے سوچ لیا تھا کہ اگر اس دل کی مکین آپ بنی ہیں تو میری زندگی کی ساتھی بھی آپ ہی بنیں گی۔ میں نا تو کوئی ٹین ایجر ہوں نہ ہی اس طرح فضول ملاقاتوں اور لمبے لمبے ٹیلیفونک رابطوں کو اچھا سمجھتا ہوں۔ اپنے پیرنٹس کو آپ کے گھر بھیجنے سے پہلے میں آپ کی رضامندی جاننے کا خواہاں تھا۔ اب آپ بتا دیں اور یہ بھی یاد رہے کہ جواب میرے حق میں ہی ہونا چاہیے کیوں کہ اس پٹھان کا بری طرح سے دل آ گیا ہے آپ پر اور اس دل کی قید سے آپ کی رہائی نا ممکن ہے اب۔”
وہ گہرے لہجے میں بولتا اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا جو آنکھیں پھاڑے اس کی بات سن کر بے یقین سی کھڑی رہی۔
“آپ اچھی طرح سوچ سمجھ لیں تین دن کے بعد رات عیشا کی نماز کے بعد میں یہیں آپ کا انتظار کروں گا۔ اللّه حافظ!”
اسے بت بنے کھڑا دیکھ کر وہ اسے تین دن کی مہلت دیتا الوداع کہہ کر نیچے کی طرف بڑھ گیا۔ وہ دونوں دن کے اس وقت چھت پر کھڑے تھے۔ اب تک تو کسی کی ان پر نظر نہ پڑی تھی پر وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی یوں ان دونوں کو آمنے سامنے بات کرتے ہوئے دیکھے اور کوئی نیا افسانہ بنے۔ وہ ایک مرد تھا اسے اپنی پرواہ نہیں تھی کیوں کہ یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ مرد کا ہر عیب دیکھ کے بھی ان دیکھا کر دیا جاتا ہے جب کہ عورت کی ذرا سے لاپرواہی بھی اسے تباہی کے دہانے پر لے جاتی ہے اور بدنامی کی موت مار دیتی ہے۔ وه نہیں چاہتا تھا کہ لائبہ کی عزت پر کوئی حرف آۓ اس لئے جامع بات کر کے وہاں سے چل دیا۔
اس کے جانے کے بعد بھی وہ بے یقینی سے کتنی ہی دیر وہیں کھڑی رہی۔ نیچے سے شازیہ بیگم کے مسلسل آوازیں دینے پر وہ ہوش میں آتی فلحال ہر سوچ کو جھٹک کر نیچے چل دی۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
وہ کب سے لائبہ کو دیکھ رہی تھی جو نا جانے کس سوچ میں گم تھی۔ اس نے پاس پڑا سرہانا پکڑ کر لائبہ کی طرف پهينكا تو وہ ہڑبڑا کر ہوش میں آئ۔
“کّک۔۔۔کیا ہوا؟”
وہ اس کے سخت تیور دیکھتی چہرے پر نا سمجھی کے تاثرات سجاۓ سوال کرنے لگی۔
“سیلاب آ گیا ہے بہن۔ دیکھنا چاہو گی؟”
مسکان کے یوں تیکھے چتونوں سے پوچھنے پر وہ اب کی بار سہی طرح ہوش میں لوٹی تھی۔
“کیا ہو گیا ہے جو اس طرح طنز کے تیر برسا رہی ہو۔ اس گولہ باری کی وجہ جان سکتی ہوں؟”
اس کے پوچھنے پر مسکان اپنی جگہ سے اٹھتی اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔
“ویسے مسی میں سوچ رہی تھی کہ آج کل عمیر بھائی بہت کم گھر پاۓ جاتے ہیں اور جب گھر ہوتے ہیں تب بھی تم سے کم ہی ٹکراؤ ہوتا ہے ان کا اور تم بھی نہیں خود سے پہل کرتی۔ کہیں تم نے اس بات پر عمل تو نہیں کر لیا کہ اپنے چاند سے چاند رات تک دور رہیں۔”
وہ شرارت سے کہتی اسے کہنی مار گئی۔
“تمہارے بھائی ٹکلے تو نہیں ہیں پھرکیوں انھیں چاند کہہ کر ان کے حسین بالوں کی توہین کر رہی ہو۔”
چاہے جتنے مرضی اختلاف سہی پر وہ خود معترف تھی اس کی وجاہت کی اور خاص طور پر اس کے گھنے بالوں کی تو دیوانی تھی وہ ۔ ہاں وہ الگ بات تھی کہ وہ مر کر بھی خود اس بات کا اعتراف نہ کرتی۔
“دھیان سے بھابھی! اپنے چاند سے اتنی بھی دوری اختیار نہ کریں کہ وہ چاند رات تک کوئی اور ہی چاند چڑھا دیں۔”
دروازے سے نمودار ہوتا شارق ان کی گفتگو کے آخری کلمات سنتا اسی کے مطابق اپنی پھلجھڑی چھوڑ گیا تو وہ اسے گھور کر رہ گئی جب کہ لائبہ کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
“کیا بکواس کر رہے ہو؟ لگتا ہے یونیورسٹی میں زیادہ پڑھائی کر لی آج اسی لئے دماغ سٹھیا گیا ہے تمہارا جو ایسے اول فول بک رہے ہو۔”
وہ اسے دیکھ کر ترخ کر کہنے لگی جس پر وہ کندھے اچکاتا اندر آ کر لائبہ کے پاس بیٹھ کر اس کے سر پر تھپڑ مار گیا۔
“اف بھائی کیا کر رہے ہیں۔”
لائبہ اپنا سر سہلاتی اس سے دور ہو کر بیٹھ گئی۔
“مجھے اپنی بکواس کا مطلب تو سمجھا دو۔”
مسکان کے پوچھنے پر وہ اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کے کندھے پر کہنی ٹکا کر کھڑا ہو گیا۔
“میری پیاری بھابھی جان آپ نیچے قدم رنجا فرما جائیں آپ کو خود ہی میری اس بکواس کا مطلب سمجھ آ جاۓ گا۔”
وہ کہنے کے ساتھ ہی اسے کندھوں سے تھامتا اس کا رخ سیڑھیوں کی طرف کر گیا۔ وہ نا سمجھی سے اسے دیکھتی کندھے پر پڑا دوپٹہ درست کرتی نیچے کی طرف بڑھ گئی۔ اس نے جیسے ہی آخری سیڑھی پر قدم رکھا اس کے کانوں سے عمیر کا بھاری خوبصورت قہقہہ ٹکرایا۔ وه متعجب ہوئی کیوں کہ وہ بہت کم ایسے کھل کر ہنستا تھا۔ پر سامنے کا منظر واضح ہوتے ہی اس کے اعصاب تن گئے۔ سامنے ہی تھری سیٹر صوفے پر اس کے شوہر کے پہلو میں ایک طرح دار حسینہ براجمان تھی۔ ٹخنوں سے چار انچ اونچی تنگ کیپری اور چھوٹی سی شرٹ پہنے دوپٹے سے بے نیاز وجود لئے کھلکھلا کر ہنستی وہ لڑکی کم چڑیل اس وقت مسکان کو ٹینڈے سے بھی زیادہ بری لگی۔ ٹینڈے کی مثال اس لئے کیوں کہ مسکان کو سب سے برے ٹینڈے ہی لگتے تھے۔ اتنے برے کہ اسے لگتا تھا کہ اس کے لئے اس سے زیادہ نا پسندیدہ چیز اور کوئی نہیں ہو سکتی پر سامنے بیٹھی اس لڑکی کو دیکھ کر مسکان کو آج یقین ہو گیا تھا کہ ٹینڈے اتنے برے بھی نہیں ہوتے۔
وہ تنا ہوا چہرہ لئے لاؤنج میں آ گئی۔ اسے دیکھتی شازیہ بیگم مسکرا دیں۔
“السلام علیکم!”
وہ بلند آواز میں سلامتی بھیجتی جا کر شازیہ بیگم کے ساتھ بیٹھ گئی تو وہ اسے اپنے ساتھ لگا گئیں۔ جب کہ اس کی آواز پر وہ دونوں بھی اس کی طرف متوجه ہوئے۔
“یہ کون ہے عمیر؟”
وہ مسکان کو دیکھتی ایک ادا سے بالوں کی لٹ کہ انگلی پر لپیٹتی عمیر سے پوچھنے لگی۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا مسکان تیزی سے اٹھ کر ان دونوں کے درمیان موجود خالی جگہ پر بیٹھ کر عمیر کا بازو اپنے ہاتھ میں لے گئی۔اس نے یہ عمل اتنی تیزی سے کیا تھا کہ ساتھ بیٹھی لڑکی بھونچکی رہ گئی جب کہ اس کی اس جرآت پر عمیر نے داد میں ابرو اچکایا جسے اس کی جرآت سے بہت متاثر ہوا ہو۔
“ارے یہ کیا بتائیں گے میں خود اپنا تعارف كرواتی ہوں۔ مائی سیلف مسز مسکان عمیر ! ان کی بچپن کی بیوی ہوں میں اور یہ میرے بچپن کے شوہر۔ آپ مجھے بھابھی کہہ کر بلا سکتی تھی پر کیا ہے نا کہ آپ تو چہرے سے ہی مجھ سے عمر میں کافی بلکہ کافی زیادہ بڑی لگ رہی ہیں تو آپ بلاجھجک میرا نام لے سکتی ہیں۔ ویسے اگر آپ مجھے بھابھی کہہ کر بلانا چاہیں تو مجھے پھر بھی کوئی اعتراض نہیں۔ عمیر آپ نے ان کا تعارف نہیں کروایا؟”
وہ اس چڑیل کے ہونق چہرے کو دیکھ کر اپنا تعارف مکمل کرتی آخر میں عمیر کی طرف رخ موڑ کر اس سے مستفسر ہوئی تو اس کی گہری نظر خود پر دیکھ کر نظریں چرا گئی۔جب کہ ساتھ بیٹھی لڑکی اب تک شاک میں تھی۔ عمیر کو اس کا بھائی ہی بنا دیا۔ لائک سیریسلی؟
“یہ میری یونیورسٹی فرینڈ ہے مشال ! اسلام آباد سے آئ ہے جاب کے سلسلے میں کچھ عرصہ ہمارے گھر ہی قیام کرے گی۔”
اس کے بتانے پر مسکان کا دماغ ایک سیکنڈ میں گرم ہوا تھا۔ مطلب اب یہ چڑیل ان کے ساتھ رہے گی۔ وہ چاہ کر بھی اپنے تاثرات پر قابو نہ پا سکی جب کہ عمیر تفصیل سے اس کے بگڑے ہوئے تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس کی جیلسی عمیر کو مزہ دے رہی تھی۔
وہ ایک تیز نظر اس چڑیل پر ڈال کر جھٹکے سے وہاں سے اٹھ کر بھاگتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ گئی۔ عمیر نے ایک پریشان نظر اس کی پشت پر ڈالی جب کہ مشال هنه کر کے رہ گئی۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙