65.2K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

قسط نمبر 06
لائبہ یونیورسٹی کے لئے تیار ہو کر نیچے آئ تو شارق کو لان میں ٹہلتا ہوا پایا۔
“کیا ہوا اس طرح جلے پیر کی بلی کی طرح یہاں سے وہاں کیوں چکراتے پھر رہے ہو؟”
وہ اس کے کندھے پر سر ٹکا کر پوچھنے لگی۔
“یار لائبہ پتا نہیں کیوں کھٹی ڈکاریں آ رہی ہیں اور ایسا محسوس ہو رہا ہے جسے پیٹ پھٹنے والا ہو۔”
وہ بے چارگی سے بولتا اپنی چھوٹی بہن کے سامنے اپنا غم غلط کرنے میں مصروف تھا۔
اس کی بات سنتی وه پیچھے ہٹ کر سیدھی کھڑی ہوتی کمر پر ہاتھ ٹکا گئی۔
“عالی جاہ! میں بتاتی ہوں کہ ایسا کیوں ہے۔ کیوں کہ آپ سحری کرنے کے بعد خود کو اونٹ سمجھتے ہوئے یا پھر اپنے پیٹ کو تربيلا ڈیم سمجھ کر ڈھیروں ڈھیر پانی گٹک جاتے ہیں یوں کہ آپ کے پیٹ میں تھوڑا سا پانی نہیں بلکہ پانی میں تھوڑا سا پیٹ رہ جاتا ہے۔”
اس سے پہلے کہ وہ اس کی بات پر کوئی ری ایکشن دیتا پیچھے سے آتی مسکان اس کی بات اچک گئی۔
” اور کھانا ایسے کھاتے ہیں جیسے سحری نہیں کر رہے بلکہ ابا جی کے ولیمے پر آئے ہوئے ہیں۔بیچارہ معده خود پر اتنا ظلم برداشت کرنے کے بعد آوازیں تو پیدا کرے گا ہی نا۔”
شارق تو ہونق بنا ان دونوں کی قينچی کو بھی مات دیتی زبانوں کو دیکھ رہا تھا۔
“شرم کر لو تم دونوں۔ بڑا بھائی ہوں تم لوگوں کا۔ اور مسی تم نے دکھا ہی دیا نا چڑیل بھابھی والا روپ۔”
وہ ان دونوں کو بے یقینی سے کہتا آخر میں دانت پیستا مسکان سے مخاطب تھا۔
“حدِ ادب لڑکے! تمہیں تمیز نہیں کہ بڑی بھابھی سے کس طرح بات کی جاتی ہے۔ آ لینے دو ذرا اپنے بھائی کو آج! تمہارے سکریو تو میں کسواتی ہوں۔”
اس کے یوں رعب دار لہجے میں کہنے پر وہ قہقہہ لگاتا ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے لگا۔
“لائک سیریسلی؟ میری پیاری بھابھی صاحبہ آپ مجھے یعنی شارق احمد کو دھمکی دے رہی ہیں وہ بھی اپنے ان شوہر محترم کی جن کو دیکھ کر ہی آپ کے چہرے کی ہواںٔياں اڑ جاتی ہیں۔”
اس کے یوں مذاق اڑانے پر وہ غصے سے سرخ پڑ گئی۔
“یہ بڑی بھابھی صاحبہ اگر بھول گئی ہوں تو میں یاد کروا دوں کہ یونیورسٹی کے لئے دیر ہو رہی ہے۔ تم لوگوں کو چھوڑ کر مجھے پولیس سٹیشن بھی جانا ہے پھر۔”
عمیر کی طنزیہ بات پر گھبرانے کی بجاۓ وہ سیخ پا ہو گئی۔
“مجھے کہیں نہیں جانا آپ کے ساتھ۔ دیکھ رہے آپ! آپ کے اس سرد برتاوّ کی وجہ سے مجھے کیا باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ ذلیل کروا کر رکھ دیا مجھے۔ میری تو کوئی اوقات ہی نہیں۔”
وہ غصے سے کہتی آخر میں روتی ہوئی وہاں سے بھاگ گئی جب کہ پیچھے وہ تینوں حق دق کھڑے رہ گئے۔
“شارق یہ کیا حرکت تھی؟ کیوں بولا تم نے اسے ایسا۔ جانتے ہو کتنی سینسیٹیو ہے وہ چھوٹی چھوٹی بات بھی دل پر لے لیتی ہے اور تم نے بات بھی غلط کی۔”
وہ شارق کو ڈپٹتا ہوا بولا تو وہ شرمندگی سے سر جھکا گیا۔
“آئ ایم سوری بھائی! مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ یوں دل پر لے جاۓ گی بات۔ میں بس اسے تنگ کر رہا تھا۔ میں اس سے سوری کر لیتا ہوں۔”
اس کا شرمندہ لہجہ شارق کو بلکل بھی اچھا نہ لگا۔ وہ اس کا کندھا تھپتھپا کر اوپر کی طرف بڑھ گیا۔ اس کو کہاں گوارہ تھا کہ وہ آنسو بہاتی۔ پر عمیر اور لائبہ کے بار بار دروازہ بجانے اور آوازیں دینے پر بھی وہ باہر نہ آئ اور کان لپیٹ کر پڑی رہی۔ لائبہ نے بھی یونیورسٹی جانے کا ارادہ ترک کر دیا جب کہ عمیر بار بار کال آنے پر اس سے بعد میں نمٹنے کا ارادہ کرتا پولیس سٹیشن کی طرف بڑھ گیا۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
“امی میں حیا آپی کی طرف جا رہی ہوں۔ تھوڑی دیر تک آ جاؤں گی۔”
وہ دوپٹہ سر پر اوڑھتی کچن میں موجود شازیہ بیگم کو مطلع کرتی گھر کا گيٹ پار کر گئی۔
سامنے گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ وہ دروازہ ہلکے سے ناک کرتی گھر میں داخل ہو گئی۔ لاؤنج میں قدم رکھتے اس کی نظر جیسے ہی سامنے پڑی اس کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔ سامنے ہی ہٹلر کی جانشین بنی حیا کی دادی آنکھیں چھوٹی کیے اسے آنکھوں کے زریعے نگلنے کی کوشش میں تھی۔
وہ حلق تر کرتی آل تو جلال تو کا ورد کرتی دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ان کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔
“السلام علیکم!”
تیز آواز میں سلام جھاڑتی وہ انھیں گڑبڑانے پر مجبور کر گئی۔
“آہستہ آواز میں نہیں بولا جاتا تم سے لڑکی! بہرہ کرنے کے ارادے سے آئ ہو کیا؟”
وہ اسے دیکھتی نا گواری سے بولی تو لائبہ دانت نکوسنے لگی۔
“میں نے سوچا کہ زیادہ عمر میں سماعت کمزور ہو جاتی ہے نا تو اس لئے آپ بھی اونچا سنتی ہوں شاید!”
اس کی وضاحت پر ہٹلر دادی سخت تیور لئے اس کی جانب دیکھنے لگی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سخت بولتی حیا کی امی وہاں آتی اسے اپنے ساتھ لگا گئیں۔
“ارے لائبہ بچے تم کب آئ؟ ہمیں پتا بھی نہ چلا۔”
ان کے پیار کی مظاہرے دیکھتی ان کی ساس سر جھٹک گئی۔
“انٹی میں ابھی آئ بس۔ حیا آپی نے بلایا تھا۔کہاں ہیں وہ؟”
اس کے پوچھنے پر وہ اسے اپنے ساتھ لئے وہاں سے چل دیں۔
“بیٹا اوپر دائیں طرف دوسرا کمرہ حیا کا ہے۔ آپ اوپر چلی جاؤ۔”
ان کے بتانے پر وہ سر ہلاتی اوپر کی جانب چل دی۔
وه نظریں جھکائے سیڑھیاں پهلانگتی خود میں گم تھی۔ ہوش تو تب آیا جب سامنے سے آتا وجوداس سے ٹکرایا۔
“آہ!”
وہ گرنے کے خوف سے اپنی دونوں آنکھیں سختی سے میچ گئی۔ خود کو ہوا میں معلق پاتے اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں تو اس کی آنکھیں نیلی آنکھوں سے ٹکرائیں۔ اس کی آنکھوں سے نظریں ہٹا کر اس نے نیچے دیکھا جہاں وہ اس کی كلایٔ اپنے مضبوط ہاتھ میں جکڑے اسے گرنے سے بچا گیا تھا۔اس کے دیکھنے پر اس نے اس کی كلایٔ تھامے ہی ہلکا سا جھٹکا دیا تو وہ آگے ہوتی اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی۔ اس کے سمبھلتے ہی وہ اس کی كلائی چھوڑ کر اپنے اور اس کے درمیان فاصلہ قائم کر گیا۔ وہ گہری سانس بھرتی خود کو ریلیکس کرنے لگی۔
“آر یو اوکے؟”
اس کے نرمی سے پوچھنے پر وہ نظریں اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔ آہ! کتنی خوبصورت آواز تھی ظالم کی بلکل اس کی طرح ۔ اسے دیکھ کر لائبہ کے دل و دماغ میں ایک ہی نام گونجتا تھا۔ یوسف ثانی ! ہاں! اس قدر دلکش تھا وہ۔
“اف بدتمیز لائبہ شرم کر لو وہ تمھارے لئے نا محرم ہے اور تم روزے میں ہو۔”
وہ دل ہی دل میں خود کو شرم دلاتی اس کی سائیڈ سے نکلتی تیزی سے حیا کے کمرے میں گم ہو گئی۔ جب کہ اس کی پھر تی دیکھتا شاہین اسے دیکھ کر رہ گیا۔
“مس تیز گام!”
اسے لقب سے نوازتا وہ مسکراہٹ چھپاتا ایک نظر حیا کے کمرے کے بند دروازے پر ڈالتا نیچے کی طرف بڑھ گیا۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
نور بانو بیگم لاؤنج میں بیٹھی تسبیح کرنے میں مشغول تھیں جب ان کی نظر کچن کے دروازے سے نکلتی اپنے آنسو صاف کرتی ملازمہ پر پڑی۔ انہیں سخت حیرت ہوئی۔ ان کے گھر میں آج تک ملازموں سے ناروا سلوک نہیں رکھا گیا تھا۔ نہ ہی کبھی ادنیٰ سمجھا گیا تھا۔ جو کھانا گھر کے افراد کے لئے بنتا وہی کھانا ملازموں کو دیا جاتا۔پھر آج ان کے گھر کی ملازمہ کی آنکھوں میں آنسو کیوں؟
“شانو یہاں آؤ۔”
انہوں نے ملازمہ کو آواز دی تو وہ جھٹ سے ان کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی ۔
“جی حکم کریں اماں بی!”
وہ مؤدب سی سر جھکا گئی۔
“یہاں بیٹھو میرے پاس اور بتاؤ کہ کیوں رو رہی تھی تم؟”
ان کے کہنے پر وہ ان کی پاس ہی صوفے پر بیٹھ گئی کیوں کہ انھیں پسند نہ تھا کہ خود وہ اونچی جگہ پر بیٹھیں اور ملازم زمین پر۔
ان کے پوچھنے پر اس کے رکے ہوئے آنسو پھر سے جاری ہو گئے۔
“اماں بی یہ آنسو کسی غم یا پریشانی کے نہیں بلکہ تشکر کے ہیں۔ پچھلے مہینے کی تنخواہ مل چکی تھی اور وہ استعمال بھی ہو گئی۔ رمضان کا مہینہ شروع ہوا تو میں بہت پریشان تھی کہ گھر کا سودا سلف کہاں سے آۓ گا۔ تنخواہ ایڈوانس میں مانگتے ہوئے بھی شرم محسوس ہو رہی تھی۔ پر ابھی شازیہ باجی اور آمنہ باجی نے نہ صرف اس مہینے کی ایڈوانس تنخواہ دی بلکہ راشن کا بڑا بیگ اور بچوں کے عید کے کپڑوں کے لئے پیسے بھی دیے۔ اور کہہ رہی تھیں کہ دوسرے عشرے کے آخر میں ضرورت مندوں میں کپڑے تقسیم کریں گے تو مجھے بھی دو سوٹ دیں گے تب۔ اماں بی میں آپ سب کا شکریہ کیسے ادا کروں۔ آپ لوگوں کے لئے دل سے خود بخود دعائیں نکلتی ہیں۔ اللّه آپ لوگوں کو اتنا نوازے کہ آپ سے سمبهالا نہ جاۓ۔
وہ آخر میں پھر سے رو پڑی تو نور بانو بیگم اسے اپنے ساتھ لگا گئیں۔
“ایسے نہیں روتے بچے بس اللّه کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اور اس میں احسان کیسا؟ ملازمین کو ان کی اجرت وقت پر ہی دے دینی چاہیے۔ وہ محنت کرتے ہیں تو ان کو ان کی محنت کا معاوضہ دینے میں ديری کیسی! انہوں نے مقررہ وقت تک محنت و مشقت سے ایک کٹھن وقت کاٹا ہوتا ہے اس امید پر کہ اپنی حق حلال کی کمائی حاصل کرنے کے بعد اپنی ضروریات زندگی پوری کریں گے۔ مالکوں نے ملازموں کو ان کی اجرت تو ہر حال میں دینی ہی ہوتی ہے چاہے وقت پر دیں یا اس میں ديری کریں۔ تو بہتر یہی ہے نا کہ یہ کام وقت پر کریں تا کہ ہماری لاپرواہی ان لوگوں کے لئے کسی پریشانی یا تکلیف کا باعث نہ بنے۔ اور میری بہوؤں نے رمضان کے تقدس میں تم لوگوں کی اجرت کے علاوہ مدد بھی کی تو یہ بہت نیک کام کیا۔ مجھے ان کی اس سوچ اور کام پر فخر محسوس ہو رہا ہے کہ انہوں نے یہ بات سمجھی کہ ہماری طرح ملازمین بھی انسان ہیں جن کی اس مہینے بہت سی اضافی ضروریات ہو سکتی ہیں۔ جاؤ شاباش اپنا کام کرو اب اور آنسو بہانے کی بجاۓ اپنے رب کا شکر ادا کرو۔”
وہ اس کے سر پر پیار دیتی ہوئی بولیں تو وہ مسکراتی ہوئی ان کے ہاتھ چوم کر وہاں سے اٹھ گئی جب کہ وہ بھی ایک فخریہ نظر کچن میں کھڑی اپنی بہوؤں پر ڈالتی واپس تسبیح میں مشغول ہو گئیں۔