65.2K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14 & 15

“لائبہ یار اور کتنا ٹائم لگاؤ گی تیار ہونے میں؟ افطاری ہوئے بھی گھنٹہ گزر گیا اب تو۔ آ کر ٹیسٹ بھی تیار کرنا ہیں میں نے۔ خود تو ٹائم پر کر کے فارغ ہو گئی پر میرا تو کچھ خیال کرو یار!”
وہ تینوں شارق کے ساتھ شاپنگ کرنے جا رہی تھیں۔ مسکان اپنی دھن میں بولتی بغیر لائبہ پر دھیان دیے جلدی سے الماری سے اپنا بیگ نکالنے لگی۔
“تو مسکان میڈم کو ٹیسٹ یاد کرنے کی فکر بھی ہوتی ہے۔ واہ بھئی یہ تو نئی انفارمیشن ہے میرے لئے۔”
بھر پور طنزیہ آواز پر مسکان جھٹکے سے مڑی تو سامنے لائبہ کی جگہ لائبہ کا ہٹلر بھائی ٹانگ پر ٹانگ جمائے شان سے براجمان تھا۔ اس کے طنز پر وہ پیچ تاب کھا کر رہ گئی۔ دل کیا کوئی کرارا سا جواب دے اور وہ ایسا کر بھی گزرتی اگر فوراً یہ یاد نہ آ جاتا کہ وہ ہٹلر کا جانشین ایک سیکنڈ سے بھی کم وقفے میں مزاج بدلنے کا ہنر رکھتا ہے۔ یہاں مسکان کی زبان کھلی اور وہاں عمیر کا جلالی روپ باہر آیا۔ اسی لئے اس نے ضبط کرتے چپ رہنے میں ہی عافیت جانی۔
“خدا نخواستہ کہیں زبان کہیں ادھار تو نہیں دے آئ؟”
اس کی بات پر مسکان کا ضبط واقعی ٹوٹا تھا اب۔
“جی ہاں آپ کی محبوبہ کو ادھار دے آئ ہوں میں اپنی زبان۔ وہ کیا ہے نہ کہ آپ کی محبوبہ محترمہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی معصوم واقع ہوئی ہیں تو میں نے سوچا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی اس معصومیت کی وجہ سے کوئی ان کا بے جا فائدہ اٹھاۓ تو وہ بیچاری آگے سے کوئی معقول جواب بھی نہ دیں پائیں ۔ بس اسی سوچ کے پیش نظر میں اپنی زبان ان کو ادھار دے چکی ہوں۔”
اس کی فراٹے بھرتی زبان کو دیکھ کر وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو چکا تھا کہ کیا یہ لڑکی دو زبانیں رکھتی ہے کیوں کہ بقول اس کے وہ اپنی زبان ادھار دے چکی تھی۔ تو یہ فراٹے بھرتی دو گز لمبی زبان کس کی تھی جو ہمیشہ کی طرح قينچی کی دھار کو بھی پیچھے چھوڑ رہی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ اسے کوئی خاطر خواہ جواب دیتا لائبہ وہاں آ دھمکی۔
“مسکان یار چلو بھی اب کیا دیر ہے۔ ارے بھائی آپ یہاں! کوئی کام کرنے تھا کیا؟”
مسکان کو مخاطب کرتے اس کی نظر سامنے کھڑے عمیر پر پڑی تو وہ بہت حیران ہوئی۔ کیوں کہ وہ اس کے اور مسکان کے مشترکہ کمرے میں بہت کم آتا تھا۔
“بیٹا آپ اور نینا شارق کے ساتھ جائیں ہم لوگ وہاں جوائن کرتے ہیں آپ کو۔”
وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا تو وہ سر ہلاتی ایک نظر مسکان پر ڈال کر وہاں سے چل دی۔ مسکان اسے اشارے کرتی رہی کہ اسے بھی اپنے ساتھ لے کے جاۓ پر وہ اس وقت اس کے ہر اشارے کو نظر انداز کر کے وہاں سے کھسک چکی تھی۔ مسکان اس سے بعد میں نمٹنے کا ارادہ باندھتی وہاں سے نکلنے لگی جب وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک گیا۔ وہ جو آگے بڑھ رہی تھی اس کے پیچھے سے ہاتھ پکڑ کر ہلکا سا جھٹکا دینے پر اپنا توازن کھوتی اس سے پہلے کہ اس پر گرتی، وہ اس کا کندھے پر ہاتھ رکھ کر فاصلہ بنا گئی۔ اتنی سی قربت پر ہی اس کا دل دھک دھک کرنے لگا تھا۔ عمیر مبہوت ہوتا اس کے چہرے پر اترتے قوس قزاح کے رنگ دیکھنے لگا۔ کتنا دلکش نظارہ تھا یہ! سب سےپہلے مسکان ہوش میں آئ اور جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر اس سے فاصلے پر کھڑی ہو گئی۔ وہ اس سے آنکھیں نہیں ملا پا رہی تھی۔ اسے گھبراتے دیکھ کر عمیر خود پر کنٹرول کرنے لگا۔
“میں گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں جلدی پہنچو۔”
وہ اسے حکم دیتا کمرے سے نکل گیا جب کہ وہ جو اسے انکار کرنا چاہ رہی تھی اس کے یوں اچانک کمرے سے نکل جانے پر پیر پٹخ کر رہ گئی۔ اگر نہ جاتی تو بھی وہ ہٹلر کا جانشین اس کا جینا حرام کر دیتا۔ وہ بیگ کندھے پر لٹکا کر منہ بسورتی نیچے کی طرف بڑھ گئی۔
وہ نیچے پورچ میں آئ تو عمیر گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔ کالی شلوار قمیض، کالی پشاوری چپل اور مضبوط مردانہ كلائی میں راڈو کی گھڑی پہنے بال جیل سے سیٹ کیے وہ اتنا پیارا لگ رہا ہے تھا کہ وہ بے ساختہ ماشاءالله کہہ گئی اور دل ہی دل میں اس کی نظر اتارنے لگی۔
مسکان کو اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر کھڑا ہو گیا۔ وہ دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگی۔ وہ ابھی گاڑی سے چار قدم دور تھی جب مشال تیزی سے اس کے سامنے سے گزر کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔مسکان کا چہرہ اہانت سے لال پڑ گیا۔ وہ پچھلی سیٹ کی طرف بڑھنے لگی جب وہ اس کا ہاتھ تھام گیا۔ وہ اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔ پر اس کے انتہائی سنجیدہ تاثر دیکھ کر وہ جھرجھری لے کر رہ گئی۔
“مشال یہ جگہ مسکان کی ہے تم اٹھو یہاں سے اور تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”
وہ پوری سنجیدگی سے اس سے مخاطب تھا۔
“عمیر میں بور ہو رہی تھی گھر پر بہت۔تمہاری مدر نے بتایا کہ تم لوگ شاپنگ پر جا رہے ہو تو میں نے سوچا میں بھی تم لوگوں کے ساتھ چلتی ہوں۔تم مجھے منع تھوڑی کرو گے۔ اور مجھے پیچھے بیٹھنے کی عادت نہیں مسکان پیچھے بیٹھ جاۓ گی۔”
وہ ایک ادا سے کہتی آخر میں ایک تیکھی مسکراہٹ مسکان کی طرف اچھال گئی پر اس کی مسکراہٹ کو عمیر کے الفاظ نے بریک لگائی تھی۔
“اوکے تمہیں آنا ہے تو آ جاؤ کوئی بات نہیں ۔پر یہ جگہ مسکان کی ہے اور یہاں وہ ہی بیٹھے گی۔ ایک شوہر کے پہلو میں اس کی بیوی کی جگہ ہی ہوتی ہے اور وہی جچتی ہے اس کے ساتھ۔مجھے بلکل بھی گوارہ نہیں کہ میری بیوی کے ساتھ ہوتے ہوئے میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پر کوئی ایکس وائے زی بیٹھے پھر چاہے وہ میرا کوئی دوست ہی کیوں نہ ہو۔ سو پلیز!”
اس کے دو ٹوک الفاظ پر وہ چہرے پر زبردستی مسکراہٹ لاۓ اٹھ کر پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ عمیر نے مسکان کو ہاتھ سے پکڑ کر اندر بٹھایا اور اس کی طرف مسکراہٹ اچھال کر دروازہ بند کرتا ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
مسکان چہرے پر سنجیدگی طاری کیے بیٹھی تھی وہ الگ بات تھی کہ جس طرح عمیر نے اس کو مشال پر فوقیت دی اور مشال کو میٹھی میٹھی جھاڑ پلا دی مسکان کا دل کر رہا تھا زور زور سے قہقہے لگاۓ اور خوشی سے بھنگڑے ڈالے۔ عمیر وقتاً فوقتاً اس پر گہری نظر ڈال رہا تھا پر وہ خود کو بے نیاز ظاہر کرتی کھڑکی سے باہر دیکھنے میں مصروف تھی۔ مال پہنچنے پر عمیر نے گاڑی پارک کی اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اندرونی حصے کی طرف بڑھ گیا جب کہ جلتی بھنتی مشال بھی ان کے پیچھے پیچھے ہی تھی۔
آگے جا کر لائبہ نینا اور شارق بھی انہیں مل گئے تو وہ سب شاپنگ کرنے لگے۔ شارق اور لائبہ کی معنی خیز نظروں کی وجہ سے مسکان نے کافی دفعہ ہاتھ چھڑوانا چاہا پر عمیر کی ایک تیز نظر ہی اس کی مزاحمت ترک کر دیتی۔ عمیر اسے اپنی پسند سے دھڑا دھڑ شاپنگ کروانے میں مصروف تھا اور وہ حق دق سی اس کے تیور دیکھ رہی تھی اور یہی سوچ کر رہ جاتی کہ نا جانے کیا ہو گیا ہے اس جلاد کو آج۔ بوتیق سے نکلتے عمیر کی نظر ایک ڈمی پر ڈسپلے ہوئی فراک پر پڑی تو وہ ٹھہر سا گیا۔ وہ گلابی رنگ کی نازک سے کام والی پیروں کو چھوتی فراک تھی جس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ اس لباس میں مسکان کے نازک سراپے کو تصور کرتے عمیر کا دل گدگدانے لگا۔ اس کے قدم بے ساختہ اس ڈریس کی طرف بڑھتے جا رہے تھے۔
اس کی آنکھوں میں نظر آتی پسندیدگی مسکان کے ساتھ ساتھ وہاں آتی مشال نے بھی دیکھی تھی اور وہ جان چکی تھی کہ یہ کس کےلیے ہے اس لئے وہ تیزی سے اس ڈریس کی طرف لپكی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اگر اس پر ہاتھ رکھ دیتی تو وہ کبھی انکار نہ کرتا۔
“واہ عمیر دیکھو یہ کتنا پیارا ڈریس ہے نا بلکل میری چوائس کی طرح! میں تو بس یہی لوں گی۔”
اس کے کہنے پر مسکان کا چہرہ اتر گیا۔کتنا پسند آیا ہے تھا اسے یہ ڈریس۔ پر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ عمیر مشال کو کبھی انکار نہ کرتا اور شاید اسے یہ ڈریس مشال کے لئے ہی پسند آیا تھا۔ وہ اپنی نظریں پهير گئی۔
“آئ ایم سوری مشال تم کوئی اور ڈریس دیکھ لو کیوں کہ یہ ڈریس پہلے مجھے پسند آیا مسکان کے لئے اور میں یہی ڈریس لوں گا۔ تم کوئی اور دیکھ لو۔”
اس کی بات سنتی مشال اور مسکان دونوں نے بے یقینی سے اسے دیکھا جیسے یقین کرنے میں تامل ہو کہ یہ الفاظ عمیر کے ہی ہیں۔وہ زبردستی بھی اپنے چہرے پر مسکراہٹ نہ لا سکی اور وہاں سے چل دی۔ اسے یقین تھا کہ وہ پیچھے سے آواز دے کر کہہ دے گا کہ یہ ڈریس تم رکھ لو پر ایسا کچھ نہ ہوا۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ وہی ڈریس پیک کروا رہا تھا۔وہ ایک خونخوار نظر ان دونوں پر ڈال کر وہاں سے نکل گئی۔واپسی پر وہ پھر سے ہنس ہنس کر مشال سے باتیں کرتا مسکان کی ساری خوش فہمی ہوا میں اڑا گیا۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
تمام اہل خانہ اس وقت لاؤنج میں جمع تھے۔ سامنے بڑے صوفے پر خانم جان بیٹھی تھی اور ان کی بغل میں ان کے صاحب زادے یعنی حیا اور شاہین کے والد محترم براجمان تھے جنھیں وہ دونوں دا جان کہتے تھے۔ دائیں طرف پڑے ٹو سیٹر صوفے پر حیا اور شاہین جب کہ بائیں جانب پڑے صوفے پر امینہ بیگم براجمان تھیں۔بڑے صوفے کی بلکل سامنے سنگل صوفے پر پلوشہ اپنا آدھا چہرہ چھپا کر بیٹھی تھی۔ وقفے وقفےسے چوری چوری شاہین پر ایک آدھ نظر ڈال کر دوپٹہ دانتوں میں دبا کر شرم سے بے حال ہوتی وہ شاہین کو اپنی ان حرکتوں سے سخت کوفت میں مبتلا کر رہی تھی۔ جب وہ پشاور رہائش پذیر تھے تب بھی اس کی یہی حرکتیں شاہین کو زہر لگتی تھیں اور اب پھر سے وہی ڈرامہ شروع ہو چکا تھا۔
یہ گول میز کانفرنس خانم جان کے حکم پر قائم کی گئی تھی جہاں انھیں کوئی ضروری بات کرنی تھی اور وہ سب اچھے سے جانتے تھے کہ انہیں کون سے ضروری بات کرنی ہے۔ انہیں اب پلوشہ کی اماں حضور کا انتظار تھا جو پیٹ پوجا میں مصروف تھیں۔ اور پھر کچھ دیر بعد ہی آگیا وہ شہکار جس کا تھا سب کو انتظار ۔ انہوں نے اتے ہی امینہ بیگم کی جگہ سمبھالتے ایک زبردست سی ڈکار لی اور اپنی اس عظیم حرکت پر ڈھیٹ پن کی انتہا کرتے ہوئے دانت نکوسنے لگیں۔امینہ بیگم نے ایک نا گوار نظر ان پر ڈالی جب کہ حیا اور شاہین ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔ پلوشہ اس سب سے بے نیاز ہنوز شرمانے میں مصروف تھی۔
اتنے میں خانم جان نے ہنکار بھرتے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
“آپ سب جانتا ہی ہو گا کہ ام نے کس بات کے لئے سب کو اکٹھا کیا ہے۔ جیسا کہ بچوں kکے بچپن میں ہی یہ بات طے ہو چکا تھا کہ امارا پلوشہ شاہین خانا کا دلہن بنے گا تو اب وقت آ چکا ہے کہ ام چھوٹا سا رسم کر کے اپنی پلوشہ اور شاہین خانا کو ایک مضبوط رشتے میں باندھ دے۔ام کو یقین ہے کہ امارا بات پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔”
ان کی بات مکمل ہوتے ہی امینہ بیگم اپنی جگہ سے اٹھی تھیں۔
“پر ہمیں ہے اعتراض۔ جس کی زندگی کا فیصلہ ہے اسے ہے اعتراض۔”
ان کی بات پر ان کے مجازی خدا نے ان کی طرف دیکھا۔
“نیک بخت کیسا اعتراض؟”
ان کے پوچھنے پر شاہین دل ہی دل میں آیت الکرسی کا ورد کرنے لگا۔
“امارا بیٹا کسی اور کو پسند کرتا ہے اور ہمیں بھی وہ لڑکی دل سے پسند ہے۔ آپ بھی جانتا ہے اس خاندان کو۔ ہمارے سامنے والے بنگلے سے نور بانو بیگم کا پوتی ہے وہ۔ لائبہ بچی کی بات کر رہا ہم۔”
ان کے بتانے پر ان کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
“همم۔۔۔ وہ تو کافی اچھے لوگ ہیں اور بچی بھی بہت پیاری اور سلجھی ہوئی ہے۔خانم جان یہ بچوں کی زندگی کا معملہ ہے ہمیں ان پر زبردستی کر کے ان کا زندگی خراب نہیں کرنا چاہیے۔ اکثر والدین اپنے بچوں پر زبردستی اپنا مرضی مسلط کرتا ہے پر پھر بچے اپنی زندگی میں خوش نہیں رہ پاتے اور اکثر تو غلط قدم بھی اٹھا لیتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچے کی پسند دیکھے پھر اس کو پرکھے۔ اگر تو اس کا پسند مسلمان ہے نیک ہے شریف ہے تو پھر بسم اللّه کر کے بات آگے بڑھاے پر اگر اس کا پسند اس کی حق میں بہتر نہیں ہے تو اپنے بچے کو پیار سے سمجھائے۔ پسند کی شادی کا حق تو ہمارا اسلام بھی دیتا ہے۔ پھر ہم کون ہوتے اسے برائی گرداننے والے۔ ام کو تو خوش ہونا چاہیے کہ ہماری اولاد نے غلط قدم نہیں اٹھایا بلکہ اگر کسی کو پسند کیا تو سیدھا آ کر ماں باپ کو بتایا اور حلال رشتہ بنانا چاہا۔ اولاد کو بھی خیال کرنا چاہیے کہ اگر ماں باپ پھر بھی راضی نہیں ہو رہا تو اپنا معملہ اللّه کی سپرد کر کے صبر کر لے۔اللّه انسان کا کبھی برا نہیں ہونے دیتا۔ جو اولاد ماں باپ کی عزت کے ساتھ اپنی عزت مٹی میں ملا دے وہ کہ بھی یاد رکھے کہ یہ دنیا مکافات عمل ہے آج ہم جو بیجیں گے کل وہی کاٹیں گے۔”
ان کی بات سنتی خانم جان ناک چڑھا کر ان کی بات کاٹ گئی۔
“بس بس اپنا یہ تقریر کہیں اور جا کر کرنا۔ ام نے جو کہہ دیا وہی ہوگا۔”
اپنے بھائی کی بات سنتی پلوشہ کی ماں روتی پیٹتی بین کرنا شروع ہو چکی تھی۔ پلوشہ آنکھوں میں آنسو لئے تیزی سے وہاں سے نکلی۔ پر اگلے ہی لمحے سب گھر والوں نے اس کی چیخیں سنی تھیں۔ وہ بوکھلا کر تیزی سے اس کی طرف بڑھے جو زمین کو سجدہ کرتی بازو پکڑے كراه رہی تھی۔ پاؤں پھسل کر گرنے کے باعث اس کا بازو زمین پر لگا اور جسم ببھاری ہونے کی وجہ سے سارا وزن بازو پر پڑ گیا۔ شاہین اور دا جان اسے لے کر جلدی سے ڈاکٹر کے پاس چلے گئے۔
شاہین نے وہاں پہنچ کر اپنے ایک دوست سمیر کو بھی کال کر دی۔ سمیر کے آنے کے بعد وہ زبردستی دا جان کو گھر بھیجتا ساری رام کتھا سمیر کو سنا چکا تھا اور سمیر کا شیطانی دماغ تیزی سے کچھ سوچنے میں مصروف ہو چکا تھا۔ آخر اس کے یار کی محبت اور زندگی کا معملہ تھا۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
قسط نمبر 15
مال سے واپسی پر عمیر انھیں ڈراپ کر کے کہیں چلا گیا تھا۔ مشال کی دل جلاتی مسکراہٹ دیکھ کر مسکان کا دل کر رہا تھا اس کا چہرہ ہی نوچ ڈالے۔ عمیر نے اسے ٹیکسٹ کیے تھے جنھیں دیکھنا بھی اس نے گوارہ نہ کیا تھا۔ مسکان لائبہ اور نینا تینوں اپنی ماؤں کے ساتھ کچن میں موجود تھیں اور افطاری بنانے میں ان کی مدد کروا رہی تھیں کیوں کہ آج نینا اور مسکان کی خالہ آ رہی تھیں افطاری پر۔ افطاری کے بعد سب بڑے لاؤنج میں بیٹھ گئے اور لڑکیاں چاۓ اور قہوہ بنانے کچن کچن کا رخ کر گئیں۔
مسکان کی خالہ سعدیہ بیگم نے گلا کھنگارتے بات کا آغاز کیا۔
“اماں جی میں آج ایکدرخواست لے کر آپ کے پاس آئ ہوں۔ یہ بات میں پہلے اپنی بہن سے بھی کر سکتی تھی پر چوں کہ آپ اس گھر کی بڑی ہیں اور میری ماں کی جگہ ہیں اس لئے میں سیدھا اپ سے ہی بات کر رہی ہوں۔ میں اپنے بیٹے حذیفہ کے لئے نینا کا رشتہ لے کر آئ ہوں اور مجھے امید ہے کہ آپ مجھے مثبت جواب دیں گی۔”
ان کی بات سنتا ہر فرد حیران تھا۔نینا گھر کو سب سے چھوٹی بچی تھی جس کے متعلق ایسا کسی نے بھی نہ سوچا تھا۔ شارق تو حق دق بیٹھا تھا۔ اس نے تو ایسا تصور بھی نہ کیا تھا کہ اتنی جلدی کوئی اس کی مینا کے لئے سوالی بن کر آ سکتا ہے۔
“پر ہماری نینا بہت چھوٹی ہے ابھی۔ ہم نے ابھی ایسا کچھ نہیں سوچا۔”
آمنہ بیگم کی بات سے نور منزل کا ہر فرد متفق تھا۔
“ارے ہم کون سا آج ہی رخصت کر کے لے جائیں گے۔ابھی نکاح کریں گے اور دو سال بعد رخصتی۔”
ان کے پاس حل بھی موجود تھا۔
“ٹھیک ہے بیٹا ہم سوچ کر جواب دیں گے۔”
اتنے میں لڑکیاں چاۓ قہوہ کے آئیں. شارق نے نینا پر ایک نظر ڈال کر ساتھ بیٹھے حذیفہ کی طرف دیکھا جو نینا کو گہری نظروں سے دیکھنے میں مصروف تھا۔ اس کا پارہ ایک دم ہائی ہوا تھا۔
” مینا میرے لیے ایک کپ کافی بنا کر لاؤ۔”
اس کی بات پر نینا نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“پر شارق بھائی آپ تو اس ٹائم کافی نہیں پیتے پہلے۔”
اس کے معصومیت سے کہنے پر وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔
“جو کہا ہے وہ کرو بس۔”
وہ بس اسے فلحال حذیفہ کی نظروں کے حصار سے دور کرنا چاہ رہا ہے رتھا جب کہ اس کے سخت لہجے پر وہ آنسو پیتی کچن کا رخ کر گئی۔
مہمانوں کے جانے کے بعد سب نے اس رشتے پر تھوڑا غور و خوض کیا تو سب کو ہی یہ رشتہ بہت مناسب لگا۔ وہ سب اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے تو شارق نے بھی دادی جان کے کمرے کا رخ کیا۔ وہ صوفے پر بیٹھی تسبیح کرنے میں مشغول تھیں۔ شارق ان کے پاس جا کر ان کے گھٹنے پر سر ٹکا کے نیچے زمین پر بیٹھ گیا۔ وہ پیار سے اس کے سر میں انگلیاں چلانے لگیں۔
“کیا ہوا ہے میرے بچے؟ اتنے بے سکون کیوں لگ رہے ہو؟”
ان کے پوچھنے پر وہ منہ بنا کر ان کی جانب دیکھنے لگا۔
“میرا سکون آپ لوگ جو چھیننے جا رہے ہیں!”
منہ بنا کر کہتا وہ انہیں اتنا پیارا لگا کہ وہ اس کا ماتھا چوم گئیں۔ وہ معملے کو نوعیت سمجھ چکی تھیں پر اس کے منہ سے سننا چاہتی تھیں۔
“دادی جان نینا کے رشتے کے بارے میں کیا سوچا آپ سب نے؟”
توقع کے عين مطابق پوچھے گئے سوال پر ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ٹھہر گئی۔
“ہاں سب رضامند ہیں انشاء اللّه ایک دو دن میں مثبت جواب دے دیا جاۓ گا۔”
ان کی بات پر اسے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
“دادی جان آپ ان لوگوں کو منع کر دیں۔”
وہ دل کی آواز پر ہمت کرتا انہیں دو ٹوک الفاظ میں انکار کا سنديا دے گیا۔
“پر کیوں بچے؟ اچھا خاصا معقول رشتہ ہے اور ویسے بھی آج کل کہاں اچھے رشتے ملتے ہیں۔ کیا گارنٹی ہے کہ اگر ہم اس رشتے سے ابھی انکار کر دیں تو بعد میں کوئی اور اچھا رشتہ مل جاۓ گا۔”
ان کے پوچھنے پر وہ جلدی سے سیدھا ہو کر بیٹھتا ان کے ہاتھ تھام گیا۔
“دادی جان میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں کہ مینا کے لئے اپ کو اس سے بھی اچھا رشتہ ملے گا۔ ایسا لڑکا ملے گا جو نہ صرف ہماری مینا کے حق میں بہتر ہوگا بلکہ اس سے بہت محبت بھی کرتا ہو گا اور اپنی جان سے بھی عزیز رکھے گا اسے۔”
وہ اس کے پر یقین لہجے میں بے چینی بھانپتی اپنی مسکراہٹ چھپانے لگیں۔
“اچھا جی اور کہاں سے ملے گا ہمیں ایسا رشتہ؟”
ان کے پوچھنے پر وہ سر کھجانے لگا۔
“زیادہ دورسے نہیں بلکہ یہیں آپ کی پوتی کے سامنے والے کمرے سے!”
اب کہ وہ چاہ کر بھی اپنی ہنسی کو قابو نہ کر سکی تھیں۔
“چل پرے ہٹ شریر! اگر اتنے ہی اتاولے ہو رہے تھے تو پہلے آ جاتے میرے پاس۔”
وہ پیار سے اس کے بال سنوارنے لگیں۔
“مجھے تھوڑی اندازہ تھا کہ آپ کی پوتی اتنی بڑی ہو چکی ہے کہ اتنی جلدی اس کے لئے رشتہ بھی آ جاۓ گا۔ آپ بس جیسے بھی کر کے سب گھر والوں کو منائیں جلد از جلد۔”
اس کی فرمائش پر وہ سر ہلاتی اسے خوشی کی نوید بخش گئیں۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
وہ دونوں سامنے موجود گدھے پر نظریں ٹکا کر کھڑے تھے جو دھڑا دھڑ ٹھونسنے میں مصروف تھا۔مزید دس منٹ گزرے تو وہ دونوں اسے شرر بار نظروں سے دیکھنے لگے۔ ان کے تیور دیکھ کر وہ گڑبڑا کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
“ہاں تو اب بتا کہ اس کے باپ سے کیا بولنا ہے تو نے؟”
سمیر کے پوچھنے پر گدھے نما ڈاکٹر سیدھا ہو کر بیٹھا۔
“یہی کہ ان کی مریضہ کا بازو ٹوٹ چکا ہے اور اس کو سہی ہونے میں تین ماہ لگیں گے اور اس دوران بازو پر پٹی رہےگی اور بازو کو بلکل بھی حرکت نہیں دینی۔”
اس کی بات پر وہ سر ہلاتا اسے داد دینے لگا۔ شاہین نے دا جان کو کال کر کے ہسپتال انے کا کہا۔ سمیر کی عظیم سوچ پر وہ دونوں چند ہزار کا کھانا اس ڈاکٹر کو کھلا کر اسے خرید چکے تھے۔ تین ماہ کے لئے شادی کا بھوت اس کی خانم جان اور ان کی بیٹی اور نواسی کے سر سے اتر جاتا۔ اس دوران وہ کوئی نہ کوئی جگاڑ کر کے گھر والوں کو لائبہ کے لئے منا ہی سکتا تھا۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
عمیر پولیس سٹیشن سے آنے کے بعد اپنے کمرے میں ریسٹ کرنے جا چکا تھا اور اس کی تاکید تھی کہ کوئی اسے ڈسٹرب نہ کرے۔ مشال چڑیل بھی آفس سے آنے کے بعد سے اب تک اپنے کمرے سے باہر نہ نکلی تھی۔ مسکان نے شکر کیا تھا اس بات پر۔
رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ سب سو رہے تھے پر مسکان عجیب سی بے چینی کا شکار تھی۔ ٹھنڈی ہوا لینے کی غرض سے وہ نیچے لان میں چہل قدمی کرنے آ گئی۔ اس کی نگاہ اوپر عمیر کے کمرے کی کھڑکی کی طرف پڑی تو وہاں جلتی لائٹ کو دیکھ کر اسے حیرت ہوئی۔ اس نے اندر کی طرف قدم بڑھاۓ اور عمیر کے کمرے کا رخ کر گئی۔ اپنی نوک نہ کرنے والی عادت کے تحت وہ ایک دم دروازہ کھول گئی پر سامنے کا منظر اسے پتھر بنا گیا تھا۔
عمیر بیڈ پر نیم دراز تھا جب کہ اس کے انتہائی نزدیک بیٹھی مشال اس پر جھک رہی تھی۔ مسکان پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھتی یقین نہ کر پا رہی تھی۔
آہٹ پر عمیر کی نظر جیسے ہی بے یقین کھڑی مسکان پر پڑی وہ مشال کو خود سے دور جھٹکتا تیزی سے اٹھ کر اس کے پاس آیا۔ اس کی آنکھوں میں موجود بے یقینی عمیر کو تڑپا گئی تھی ۔
“مسکان میری بات سنو ایسا کچھ ۔۔۔۔”
وہ بات کرنے کے ساتھ اس کا ہاتھ تھامنے لگا تو وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر چیختی اس کی بات کاٹ گئی۔
“چپ ہو جائیں پلیز مجھے ایک لفظ نہیں سننا۔ کتنی نادان تھی نا میں جو یہ سمجھتی تھی کہ آپ بچپن سے اب تک مجھ سے ہی پیار کرتے ہیں۔ میں سوچتی تھی کہ شاید میری لمبی زبان اور بچکانا حرکتوں پر آپ مجھ سے نالاں رہتے ہیں پر میں یہ نہیں جانتی تھی کہ میں تو آپ کے دل میں کہیں تھی ہی نہیں۔ کتنی بیوقوف تھی نا میں پر اللّه کا شکر ہے کہ اس نے وقت پر میری آنکھیں کھول دیں۔ مجھے بھیک میں ملی ہوئی سیاہ محبت نہیں چاہیے۔ یہ محبت تھوڑی ہوتی ہے۔
محبت تو سفید رنگ کی طرح ہوتی ہے۔ صاف، پاکیزہ، فرحت بخش، آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والی اور امن جو! جو آنکھوں کے راستے آپ کے اندر اترتی آپ کے قلب کو جکڑتی اسے اپنے بس میں کر لیتی ہے اور محبت کا شکنجہ آکٹوپس کے شکنجے سے بھی مضبوط ہوتا ہے جو آپ پر اپنی پکڑ کبھی ڈھیلی نہیں کرتا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس پکڑ میں سختی آتی جاتی ہے۔
مجھے بھی محبت کے آکٹوپس نےجکڑلیا تھا پر اللّه نے وقت پر میری آنکھیں کھول دیں۔ مجھے آج خود سے آپ کے گریز کی سمجھ بھی آ گئی۔ بہت شکریہ آپ کا۔ پر ایک بات یاد رکھیے گا عمیر میں ساری زندگی آپ کو معاف نہیں کروں گی۔”
اپنی بات مکمل کر کے وہ روتی ہوئی تیزی سے وہاں سے نکل گئی جب کہ وه اسے آوازیں دیتا رہ گیا۔
“عمیر!”
مشال کمیگی سے خوش ہوتی عمیر کے پاس آئ اس سے پہلے وه اس کا بازو پکڑتی وہ اسے بازو سے پکڑ کر کمرے سے باہر نکال گیا۔
“دفع ہو جاؤ یہاں سے شکل گم کرو اپنی۔”
وہ چیخ کر کہتا اس کے منہ پر دروازہ بند کر گیا جب کہ وہ هقہ بقہ سی کمرے کے بند دروازے کو دیکھنے لگی