104.6K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

وہ چھت پر ٹہل رہی تھی ۔ سوچوں کا مرکز وہ وجود تھا جسے کی نیلی آنکھیں لائبہ کے دماغ سے جیسے چپک ہی گئی تھیں۔
“اس کی ہٹلر دادی نے اس کا نام شاہین خانا لیا تھا۔ شاہین تو سمجھ میں آتا ہے پر یہ خانا کیا ہے؟ وہ پٹھان ہیں تو پٹھانوں کے نام کے ساتھ تو خان لگتا ہے۔پھر کیا بنا اس کا نام؟ ہاں! شاہین خان!”
وہ چھت پر یہاں سے وہاں ٹہلتی دماغ میں توڑ جوڑ کرنے میں مصروف تھی۔ اس کی نگاہیں آسمان سے ہوتی ہوئی سامنے گھر کی چھت پر گئیں تو اس کی آنکھیں حیرت سے پهيل گئیں۔ ابھی تو اس کو سوچ رہی تھی اور ابھی وہ نگاہوں کے سامنے آ گیا تھا۔
وہ ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھنے لگی جو اپنے موبائل میں گم دونوں کہنیاں اپنی چھت کی منڈیر پر ٹکاۓ کھڑا تھا۔
یک دم لائبہ کو شرارت سوجھی۔ اس نے چھت سے چھوٹے چھوٹے کنکر ہاتھ میں جمع کیے اور منڈیر کے پاس آ گئی۔
اس نے ایک كنكر لیا اور شاہین کے سر کا نشانہ لے کر كنكر اس پہ پھینک کر خود جھٹ سے نیچے جھک گئی۔ خوش قسمتی نے نشانہ سہی لگ گیا۔
شاہین نماز پڑھ کہ تازہ ہوا لینے کے لئے چھت پر آ گیا تھا۔ وہ واٹس ایپ پر آۓ میسیجز دیکھ رہا تھا جب اس کے سر پر کوئی چیز آ کر لگی۔ اس نے نظر چاروں طرف گھمائ پر کوئی زی روح دکھائی نہ دیا۔ اس نے سر جھٹک کر اپنی نظریں پھر سے موبائل پر جما لیں۔
لائبہ نے دو منٹ کے وقفے سے اوپر اٹھ کر دیکھا تو وہ پھر سے موبائل میں گم نہ جانے کون سے چھپے ہوئے خزانے کا سراغ لگا رہا تھا۔ وہ خوب بد مزہ ہوئی۔ اس نے پھر سے اس کے سر کا نشانہ لے کر كنكر پهينكا اور خود نیچے جھک گئی۔ عين اسی وقت شاہین نے نظر اٹھائی تو لائبہ کا سرمئی آنچل اس کی نظروں میں آ کر نیچے گم ہو گیا۔ وہ سمجھ گیا کہ کوئی اس سے شرارت کر رہا ہے۔ اس دفع اس نے اپنی نظریں وہاں سے نہ ہٹاںٌیں۔ لائبہ نے کھڑے ہوتے جسے ہے كنكر پھینکنے کے لئے ہاتھ ہوا میں بلند کیا اس کی نظریں سامنے کھڑے وجود کی نیلی آنکھوں سے ٹکرائیں ۔ اس کے دیکھنے پر شاہین نے آںٔبرو اچکا کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کہ یوں دیکھنے پر وہ گھبراتی بوکھلاتی باقی كنكر وہیں پھینکتی وہاں سے فرار ہو گئی۔
اس کی حالت پر وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔
“آہ! میری معصوم محبت کی معصوم کاروائی !”
وہ ہنس کر کہتا اپنا جملہ یاد آتے ٹھٹھک گیا۔
“محبت؟ ارے مجھے اس سے محبت کب ہوئی بھلا؟ مجھے تو وہ پہلی ہی نظر میں اچھی لگی بس۔ پر آج تک اور کوئی لڑکی تو اس قدر اچھی نہیں لگی مجھے۔ شاید پہلی نظر کی محبت والا نظریہ درست ہو! اف شاہین تم بھی اس محبت نامی جال میں پھنسنے کو ہو بس!”
وہ خود سے کہتا اپنے بالوں میں انگلیاں پهيرتا ایک نظر سامنے والی چھت پر ڈال کر نیچے کی طرف قدم بڑھا گیا۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
ہر سال کی طرح اس سال بھی نور منزل میں افطاری کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یہ دعوت صرف رشتہ داروں کے لئے ہی نہیں بلکہ اس کمیونیٹی کے ہر خاص و عام افراد کے لئے تھی۔ چاہے کوئی امیر ہو یا غریب، سب افراد ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر افطاری کرتے تھے۔
افطاری کا وقت ہونے والا تھا۔ دسترخوان پر کھانا چنا جا رہا تھا۔ گھر کی عورتیں اور ملازماںٔیں دسترخوان سجانے میں مصروف تھیں۔ گھر کے مرد لان میں تھے جہاں مردوں کی افطاری کا انتظام کیا گیا تھا۔
“عمیر بچے بات سنو! جامعہ میں بچوں کے لئے افطاری بھجوا دی نا؟”
دادی جان نے اپنے قریب سے گزر کر باہر لان میں جاتے ہوئے عمیر کو آواز دے کر پوچھا۔
دراصل گھر میں افطاری کے اہتمام کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑے جامعہ میں بھی حافظِ قرآن بچوں کے لئے افطاری کا سامان بھیجا جاتا تھا۔
“جی دادی جان آپ فکر نہ کریں میں خود لڑکوں کے ساتھ گیا تھا۔ ابھی واپسی ہوئی۔”
وہ ان کے ہاتھ چوم کر انہیں تسلی دینے لگا۔
“جیتے رہو میرے بچے اب جاؤ باہر افطاری کا وقت ہو چکا ہے۔”
وه اس کے سر پر پیار دیتے ہوئے بولیں تو وہ مسکرا کر سر ہلاتا باہر کی طرف قدم بڑھا گیا۔
کچن کے سامنے سے گذرتے ہوئے اس کی نظر اپنی زوجہ محترمہ پر پڑی تو وه بے ساختہ مسکرا دیا۔ ہر وقت لاپرواہ حلیہ رکھنے اور اچھل کود کرنے والی مسکان ہلکے آسمانی رنگ کے نفیس سے جوڑے میں بالوں کی چٹیا ایک کندھے پر ڈالے اور سر پر نفاست سے دوپٹہ اوڑھے، ملازمہ کو ہدایت دیتی کچن سے نکل رہی تھی۔ اپنی بات ختم کر کے وہ کچن سے باہر آئ تو سامنے ہی اسے محویت سے اپنی طرف تكتا ہوا پایا۔ اس کی گہری نظروں سے وہ کنفیوز ہوتی انگلیاں چٹخانے لگی۔ وہ دو قدم آگے بڑھاتا اس کے مقابل کھڑا ہو گیا۔
“بہت اچھی لگ رہی ہو۔بلکل میری پسند کے سانچے میں ڈھلی سیدھا دل میں اتر رہی ہو۔”
اس کی جذبات سے پر آواز پر مسکان کی ہتھیلیاں بھیگنے لگیں۔
“کنٹرول بھائی کنٹرول! مانا کہ آپ کی بیگم بہت حسین لگ رہی ہیں بلکہ سیدھا آپ کے دل پر لگ رہی ہیں پر وہ کیا ہے نا کہ ابھی تو اس تعریف کا نہ ہی موقع ہے اور نہ دستور۔ بہت سی نگاہیں اس وقت آپ دونوں کا طواف کر رہی ہیں۔ اس لئے پلیز مہمانوں کے جانے تک اور تنہائی ملنے تک اپنی نگاہوں پر تھوڑا پہرا لگا لیں۔”
لائبہ کی فراٹے بھرتی زبان سے جھڑتے پھولوں پر جہاں عمیر خجل ہوتا اسے ایک گھوری سے نوازتا وہاں سے کھسک گیا وہیں مسکان اس کے سر پر تھپڑ لگا کر مہمانوں کی طرف بڑھ گئی۔ لائبہ کھلکھلا کر ہنس دی ۔پھر اس کی نظر سامنے والے پٹھان کی سویٹ سی امی اور بہن حیا پر پڑی تو وہ ان کی طرف چل دی۔ اس نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ اس کی ہٹلر دادی نہیں آئ۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
افطاری کے بعد وہ تینوں حیا کو لئے مسکان اور لائبہ کے مشترکہ کمرے میں آ گئیں۔ بس پھر لائبہ کی فراٹے بھرتی زبان تھی اور نینا کی معصوم باتیں اور ساتھ ساتھ مسکان کی پھلجھڑیاں۔ حیا ان کی باتوں پر مسلسل ہنس رہی تھی۔
“آپی آپ شرعی پردہ کرتی ہیں کیا؟”
نینا کے پوچھے جانے والے سوال پر وہ مسکرا دی۔
“پردہ پردہ ہی ہوتا ہے۔ اس کی کوئی اقسام نہیں ہوتیں کہ ‘ عام پرده’ یا ‘ شرعی پردہ’ شرعیت میں ایک ہی پردہ ہے بس۔ تو جب اللّه نے اسے اقسام میں نہیں بانٹا تو ہم کون ہوتے ہیں ایسا کرنے والے!”
وہ دهیمے پروقار لہجے میں بولتی ایک سحر کا سماں بنا چکی تھی۔
“آپی اتنی گرمی میں آپ نقاب کر کے رکھتی ہیں آپ کو گھٹن نہیں ہوتی کیا؟”
لائبہ کے پوچھنے پر وہ نفی میں سر ہلا گئی۔
“نہیں بلکل بھی نہیں۔ نقاب میں صرف نا محرم کے سامنے کرتی ہوں۔ آپ لڑکیاں ہیں تو آپ کے سامنے میں صرف حجاب میں بیٹھی ہوں۔ اور جب آپ کوئی کام اپنے رب کی رضا کی خاطر کرتے ہیں تو اس میں ہمیشہ سرخرو ٹہر تے ہیں۔ اللّه آپ کو کسی مشکل میں پڑنے ہی نہیں دیتا۔ حضرت خدیجہ کا فرمان ہے کہ: ‘عورت کے لئے بہترین زیور پردہ ہے اور پردہ دار خواتین جنّت میں میری بیٹی فاطمہ کے ساتھ ہوں گی۔’ تو پھر تم خود ہی سوچو کہ اتنی بڑی سعادت حاصل کرنے کے لئے یہ چھوٹا سا عمل تو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔”
وہ تینوں دم سادھے اس کی باتیں سن رہیں تھی۔ یوں جسے اگر کسی کی آواز بھی نکلی یا کوئی ہلچل ہوئی تو سارا فسوں ٹوٹ جاۓ گا۔حیا نے ان تینوں پر ایک نظر ڈال کر پھر سے بولنا شروع کیا۔
“جانتی ہو کہ اسلام میں عورت کو پردے کا حکم کیوں ہوا؟ کیوں کہ زمانہِ جاہلیت میں جب عورتيں پردہ نہیں کرتی تھیں تو ان کی عزتیں غیر محفوظ تھیں۔ جب وہ گھروں سے باہر نکلتی تھیں تو آوارہ اور جاہل مرد ان پر آوازہ کستے اور ان کو بری نظر سے دیکھتے۔ پھر اللّه نے مسلمان عورتوں کو پردے کا حکم دیا۔ یہ مومن عورتوں پر جبر یا ظلم نہیں بلکہ ان کی عصمت کی حفاظت ہے۔ ایک عورت جب خود کو ہر طرح سے ڈھانپ کر گھر سے نکلتی ہے تو وہ اللّه کی حفاظت کے حصار میں ہوتی ہے۔ کسی نا محرم کی نظریں اس کے جسم کے کسی حصے کو نہیں چھوتی۔ پردہ تو نام ہی حفاظت کا ہے۔پھر اس سے کیسی پریشانی؟”
اس کا ایک ایک لفظ ان تینوں کے دل و دماغ پر ٹھنڈی پهوار کی طرح اثر کر رہا تھا۔
“پردہ بس مومن عورتیں ہی کیوں کرتی ہیں۔ دوسری عورتیں کیوں نہیں؟”
مسکان کے معصوم سوال پر وہ مسکرا دی۔
“اگر تم ایک دکان پر مٹھائی خریدنے کے لیے جاؤ اور تمہارے آگے دو قسم کی مٹھائیاں پڑی ہوں 1- مٹھائی کسی ٹرے میں پڑی ہو اور اس کو کسی چیز سے ڈهانپا بھی نہ گیا ہو۔ 2- کسی ڈبے میں پیک یا پھر کسی اچھے ریپر میں پیک مٹھائی۔ ان دونوں میں سے تم کون سے مٹھائی لینا پسند کرو گی؟’
وہ سوالیه نظروں سے تینوں کو دیکھنے لگی۔
“وہ مٹھائی جو پیک ہوئی ہوگی۔”
بنا کسی تامل کے وہ تینوں ایک دم بولیں تو حیا ہنس دی۔
” اچھا اور وہ کیوں؟”
وہ ٹھوڑی تلے ہاتھ رکھتی ایک اور سوال داغ گئی۔
“کیوں کہ ہمیشہ اچھی اور قیمتی چیز ہی پیک ہوئی ہوتی ہے۔ لوکل اور سستی چیز ہی کھلی پڑی ہوتی ہے۔”
مسکان کے جواب پر وہ کندھے اچکا کر مسکرا دی جسے کہہ رہی ہو یہی تو ہے تمہارے سوال کا جواب۔
نینا بے ساختہ اٹھتی اس کا گال چوم گئی تو حیا بری طرح جھینپ گئی۔ اس کی شرم سے لال رنگت دیکھتی وہ تینوں کھلکھلا کر ہنس دیں تو ان کی ہنسی میں حیا کی ہنسی بھی شامل ہو گئی۔ جب کہ تب سے دروازے کے باہر کھڑے زمان کو اس کی باتیں سن کر اس کے ساتھ ساتھ خود پر بھی فخر محسوس ہو رہا تھا جو اس لڑکی کو اپنے دل کے نہاں خانوں میں جگہ دی۔
وہ اس کو تین دفعہ بالکنی سے دیکھ چکا تھا۔ اس لڑکی کو اس نے جب بھی دیکھا حجاب میں ہی دیکھا۔اس کا دل اس کی طرف کھینچا چلا جاتا تھا۔دل ہر وقت اسے دیکھنے کی ضد کرتا رہتا تھا۔ افطاری پر ان لوگوں کو بھی بلایا گیا تھا۔ وہ دل ہی دل میں خوش ہو گیا کہ اس پری پیکر کو قریب سے دیکھ سکے گا۔ پر جب زمان کی نظر اپنی امی اور بھائی کے ساتھ گھر میں داخل ہوتی اس لڑکی پر پڑی تو وہ مسکرا دیا خود پر۔ کیوں کہ وہ حجاب اور نقاب میں مکمل خود کو ڈهانپے ہوئے تھی۔ وہ واقعی سب سے الگ تھی۔ اس سے پہلے کہ کسی اور کی نظر اس پر پڑتی وہ وہاں سے ہٹ گیا۔
وہ مسکان کو کافی کا کہنے آیا تھا اب اپنا ارادہ ترک کرتا وہاں سے چلا گیا۔