Chand Mere Aangan Ka By Meem Aain Readelle50158 Episode 12 & 13
Rate this Novel
Episode 12 & 13
“کمرے میں آؤ فوراً!”
وہ انگلش کا ٹیسٹ تیار کرنے میں مصروف تھی جب موبائل پر آنے والے پیغام نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ عمیر کا یہ میسج پڑھتے وہ حیرت سے دوچار ہوئی۔ بھلا رات کے دس بجے اسے کیا کام پڑ گیا مسکان سے۔
“کیوں؟’
جوابی میسج کر کے وہ اس کا جواب آنے کا انتظار کرنے لگی۔
“زیادہ سوال مت کیا کرو۔ جتنا کہا ہے اتنا کرو۔”
اس کا جواب پڑھتے وہ جل بھن گئی۔ سائیڈ پر رکھا دوپٹہ اٹھا کر کندھے پر ڈالا اور موبائل وہیں چھوڑتے اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ پچھلے دنوں سے وہ چڑیل مشال عمیر کے ارد گرد ہی پائی جا رہی تھی اور وہ کھڑوس بھی ہنس ہنس کر اس سے باتیں کرتا اس کا دل جلا رہا رہا ۔ مسکان یہ سب دیکھتی صبر کے گھونٹ بھر کر رہ جاتی۔
وہ حسب عادت دروازہ کھٹکھٹائے بغیر اس کے کمرے میں داخل ہو گئی جہاں وہ بیڈ پر بیٹھا سامنے رکھے ليپ ٹاپ پر کام کرنے میں مصروف تھا۔ اس کے کمرے میں داخل ہونے پر اس نے ليپٹاپ سے نظریں ہٹا کر اس کی طرف دیکھا اور اس کے بیزار تاثرات دیکھ کر سر جھکاتا اپنی مسکراہٹ چھپا گیا۔
وه آ کر اس کی پاس کھڑی ہو گئی۔ نظریں جھکی ہوئی تھیں اور ہر وقت قينچی کی طرح چلنے والی زبان پر فلحال تالا لگا ہوا تھا۔
“تمہیں میں نے شام سے ٹیسٹ یاد کرنے کا کہا ہوا ہے اب تک یاد نہیں کر سکی تم۔”
اس کے پوچھنے پر بھی اس نے نظریں نہ اٹھائیں۔
“جی کر لیا یاد میں آپ کو لکھ کر دکھا دیتی ہوں۔”
اس کی بات پر وہ حیرت سے اسے تکنے لگا۔
“کیا واقعی سارا ٹیسٹ کر لیا تم نے یاد؟”
اس کے حیرت سے پوچھنے پر مسکان نے سر اثبات میں ہلایا اور واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اس کی واپسی دو منٹ بعد ہی ہوئی تھی اور ہاتھ میں رجسٹر کتاب اور ایک بال پوائنٹ موجود تھی۔ کتاب اس کے آگے رکھ کر وہ صوفے کی طرف بڑھنے لگی جب وہ آواز دے کر اسے روک گیا۔
“وہاں نہیں یہاں میرے پاس ہی بیٹھو تا کہ میں ساتھ ساتھ چیک کر سکوں کہ تم کیا لکھ رہی ہو۔”
اس کے ارشاد کے مطابق وہ بیڈ کی دوسری سائیڈ پر جا کر بیٹھ گئی۔ اس کے سوال بتانے پر وہ ان کے جواب لکھنا شروع ہو گئی جب کہ وہ اسے فرصت سے نہارنے میں مصروف۔
گلابی لباس پر دوپٹہ لا پرواہی سے ایک کندھے پر ڈال رکھا تھا۔ گھنے سیاہ بال اونچے جوڑے میں بندھے ہوئے تھے جس سے کچھ آوارہ لٹیں نکل کر چہرے پر گرتی اس کے گلابی گالوں کی چھو رہی تھیں۔وہ ایسے لا پرواہ حلیے میں بھی عمیر کے دل کے تار چھیڑ گئی۔ ابھی وہ اسے تکنے میں گم تھا جب دروازہ نوک کر کے مشال کمرے میں داخل ہوئی۔
اسے دیکھتے ہی مسکان نے ایسا منہ بنایا جیسے کڑوا بادام چبا لیا ہو البتہ خاموش ہی رہی۔
“اوہ عمیر! کتنا مس کیا میں نے تمہیں آج۔ اتنی دیر کیوں کر دی آنے میں؟”
وہ عمیر کے ساتھ ہی بیٹھتی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فکر دکھانے لگی جب کہ اس کی ڈرامہ بازی پر مسکان ضبط کرتی رہ گئی۔
“ہاں بس آج کام کچھ زیادہ تھا اسی لئے دیر ہو گئی۔”
اس کے بتانے پر وہ سر ہلاتی مسکان کی طرف رخ کر گئی۔
“ارے مسکان تم! میں نے دیکھا ہی نہیں تمہیں ۔ ایکچولی عمیر کو دیکھنے کے بعد میرا دھیان کہیں اور گیا ہی نہیں۔ خیر تم اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو؟”
وہ ایسے ظاہر کرنے لگی جیسے واقعی ہی مسکان کو یہاں نہ دیکھا ہو پہلے جب کہ اس کے آخری سوال پر اس کا پارہ ایک دم ہائی ہوا تھا۔
“مشال آپی یہ سوال آپ کو مجھ سے نہیں بلکہ مجھے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ آپ اس وقت یہاں کیا کر رہی ہیں۔ کیا آپ نہیں جانتی کہ رات کہ اس پہر کسی نا محرم کے کمرے میں جانا کتنی غلط حرکت ہے۔ جہاں تک رہی میری یہاں موجودگی کی بات تو میں اس وقت اپنے شوہر کے کمرے میں موجود ہوں نہ کہ ایک نا محرم کے کمرے میں! اور پلیز ایٹ لیسٹ گھر کے مردوں کے سامنے دوپٹہ لے کر آیا کریں۔ سر پر نہ سہی گلے میں ہی سہی۔”
اس کی باتوں پر عمیر آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگا جیسے یقین کرنے میں تامل ہو کہ یہ سب مسکان نے ہی بولا ہے جب کہ سبکی کے احساس سے مشال کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔
“تم۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ مشال اپنی بات پوری کرتی مسکان ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی اور عمیر سے مخاطب ہوئی۔
“آپ کی اسپیشل فرینڈ آ گئی ہیں اب آپ ان کو کمپنی دیں میں خود ہی لکھ کر چیک کر لوں گی۔”
تیکھے لہجے میں اپنی بات کرتی عمیر کی بات سنے بغیر وہ اس کے آگے سے اپنی کتاب جھپٹ کر اٹھاتی وہاں سے نکل گئی جب کہ دروازہ زور سے بند کیا۔ ٹھا کی آواز پر مشال اپنی جگہ سے اچھل پڑی جب کہ عمیر لب بھینچے اپنا غصہ ضبط کرنے لگا۔
کمرے میں آتے ہی اس نے نے ہاتھ میں پکڑی چیزیں اسٹڈی ٹیبل پر پهينكی اور خود اوندهے منہ بیڈ پر گر کر رونے لگی۔ لائبہ جو ابھی شاہین سے بات کر کے چھت سے آئ تھی اس کی حرکت پر بوکھلا گئی اور اٹھ کر تیزی سے اس کے پاس آ کر بیٹھی۔
“مسکان کیا ہوا میری جان؟ اس طرح کیوں رو رہی ہو اور کہاں گئی تھی تم اس وقت پلیز کچھ تو بتاؤ۔”
وہ زبردستی اس کا رخ موڑنے لگی۔ وہ اٹھ کر اس کے گلے لگتی بلک بلک کر رونے لگی۔ اسے یوں روتے دیکھ کر لائبہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
“لائبہ کچھ بھی نہیں بچا سب ختم ہو گیا۔”
اس کی بات پر لائبہ نے دہل کر اس کی طرف دیکھا۔
“کیا اول فول بک رہی ہو؟ سیدھی طرح بتاؤ کیا ہوا ہے ورنہ میرا سانس بند ہو جاۓ گا آج۔”
لائبہ نے اسے کندھوں سے پکڑ کر زبردستی خود سے دور کیا اور اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑے۔
“اب مجھے بتاؤ سکون سے کہ کیا ہوا ہے۔”
وہ اس کے آنسو پونچھتی ہوئی بولی تو وہ بہت اپنے آنسوؤں پر ضبط کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
“تم جانتی ہو نا لائبہ میں نے کبھی عمیر سے کوئی شکایت نہیں کی۔ بچپن میں کتنا پیار کرتے تھے مجھ سے پر اب تو پیار کرنا تو دور کبھی ہنس کر بات بھی نہیں کرتے۔ بس ہر وقت ڈانٹتے رہتے ہیں یا غصہ کرتے رہتے ہیں۔آج کل تو لڑکیوں کے منگیتر بھی اتنا پیار کرتے ہیں گفٹس دیتے ہیں رات دیر تک بات کرتے ہیں چاکلیٹس دیتے ہیں اتنے بڑے اور پیارے ٹیڈی بیئرز دیتے ہیں پھول دیتے ہیں پر تمھارے بھائی نے کبھی ایک پتہ بھی نہیں دیا۔ چلو یہ سب بھی نہ کرتے کوئی بات نہیں تھی پر میرے پر سوتن تو نہ لاتے۔”
اس کے یوں معصومیت سے بولنے پر جہاں لائبہ کو اس پر بےپناہ پیار آیا وہیں اس کی بیوقوفانہ باتوں پر وہ سیخ پا ہو گئی۔پر اس کو روتے دیکھ کر وہ اسے پھر سے اپنے ساتھ لگا گئی ۔
“پاگل ایسے کیوں بول رہی ہو اور وہ کب سوتن لاۓ تم پر۔؟”
وہ کہتی سوں سوں کرتی مسکان کے بال سہلانے لگی۔
“وہ مشال میری سوتن اور کون! دیکھنا لائبہ تم بہت جلد عمیر اس ٹینڈی سے دوسری شادی کر لیں گے۔ ابھی میں عمیر کے کمرے میں ٹیسٹ دے رہی تھی ان کو تو وہاں پر آ گئی وہ دوپٹے کے بغیر نائٹ ڈریس میں ہی اور عمیر کے ساتھ جڑ کر بیٹھی تھی جب کہ عمیر نے بھی اسے کچھ بھی نہیں کہا۔ میں سوتن کیسے برداشت کروں گی لائبہ؟”
اس کی باتوں پر لائبہ کا دل کیا کہ اپنے بال نوچ لے۔ نہ جانے کہاں سے اتنی فضول باتیں اس کے دماغ میں آتی تھیں۔
“مسکان یار تم کیوں ایسا فضول سوچ رہی ہو؟ یقین کرو ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا۔بھائی ایسے بلکل بھی نہیں اور بہت پیار کرتے ہیں وہ تم سے۔”
اس کی بات سنتے ہی مسکان پیچھے ہوتی اس کے ہاتھ جھٹک گئی۔
“میں کیسے بھول گئی کہ تم میری دوست بعد میں اور ان کی بہن پہلے ہو۔ تم بھلا کیوں اپنے بھائی کے خلاف کوئی بات برداشت کرو گی۔”
وہ درشتگی سے کہتی اپنی سائیڈ پر لیٹتی چادر منہ تک تان گئی جب کہ لائبہ اسے بے بسی سے دیکھ کر رہ گئی جو کوئی بات سننے کو تیار نہ تھی اور بد گمان ہوئی تھی۔ وہ اس پر آخری بے بس نگاہ ڈال کر اپنی جگہ پر جا کر لیٹ گئی پر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
وہ نک سک سے تیار ہو کر گھر سے جیسے ہی نکلا اس کے عین سامنے ایک ٹیکسی رکی۔ وہ متجسس ہوا کہ کون ہو سکتا ہے پر جیسے ہی اس کی نظر گاڑی سے نکلتی برقہ پوشوں پر پڑی وہ ایک سرد اہ بھر کے رہ گیا۔ ٹوپی برقع پہنے وہ دونوں خواتین اسے دیکھتی جھٹ سے اس کی طرف بڑھی تھیں۔ ایک پورے جوش میں تھی جب کہ دوسری شرمائی لجائی سی ۔ شاہین نے واچ مین کو اشارہ کر کے سامان اندر لے جانے کا بولا۔ ان کا سامان دیکھ کر شاہین کو یوں معلوم ہو رہا رہا جیسے پورا سال یہاں گزارنے آئ ہوں۔ وہ بیزار کھڑا تھا۔یہ بیزاری اکتاہٹ میں تب بدلی جب اس کی پھوپھی محترمہ نے اسے ساتھ لپٹا کر اس کے بال بگهاڑے۔ وہ ان دونوں کو لئے اندر آ گیا۔
“گل مینا میرا بچا!”
شاہین کی خانم جان اپنی بیٹی کو دیکھتی اس کی طرف بڑھی اور اسے اپنے ساتھ لگاتے پیار کرنے لگیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لگتی جو رونا شروع ہوئیں تو شاہین اور حیا دونوں بوکھلا گئے جب کہ امینہ بیگم جانتی تھی ان کی حرکتوں کو اس لئے چپ چاپ کھڑی ان کا جذباتی ملاپ دیکھ رہی تھی
“خانم جان ام سے نہیں ملے گا آپ؟”
پلوشہ کی آواز سنتے وہ اسے بھی اپنے ساتھ لپٹا چکی تھیں۔جب کہ امینہ بیگم اور حیا سے وہ دونوں سرسری سا ملی تھیں۔
“پلوشہ بچے بچے نقاب ہٹا دو اتنا گرمی سے آیا ہے تم!”
خانم جان کے کہنے پر وہ کچھ فاصلے پر کھڑے واچ مین کی طرف دیکھنے لگی جو منتظر کھڑا تھا کہ اسے جانے کی اجازت ملے تو وہ جاۓ باہر واپس۔
“خانم جان ام کسی نا محرم کو اپنا چہرہ نہیں دکھاتا۔”
اس کی بات پر وہ تو نہال ہی ہو گئیں جب کہ بیچارہ واچ مین خوامخواہ ہی شرمندہ ہو کر رہ گیا اور شاہین کا اشارہ ملتے ہی فوراً وہاں سے چل دیا۔
اس کے جانے کے بعد پلوشہ نے سکون سے چہرے پر گرا پردہ الٹایا اور چہرے پر ایک شرمگیں مسکراہٹ سجائے شاہین کی طرف دیکھا۔ اس کو حرکت دیکھتے حیا اپنی مسکراہٹ ضبط کرنے کی کوشش میں هلكان ہونے لگی جب کہ شاہین تو اسے دیکھ کر رہ گیا۔مطلب حد ہے! وہ واچ مین ننا محرم تھا محترمہ کے لئے پر شاہین نہیں۔
“مجھے ایک بہت ضروری کام سے جانا ہے شام کو ملاقات ہو گی۔”
وہ سب کو دیکھ کر کہتا اپنی ماں کے سر پر بوسہ تیزی سے وہاں سے نکل گیا جب کہ خانم جان اسے آواز بھی نہ دے سکی۔ وہ ایک نظر امینہ بیگم اور حیا پر ڈال کر سر جھٹکتی دونوں ماں بیٹیوں کو لئے اپنے کمرے کی طرف چل دیں۔
“مورے اب کیا ہوگا؟ خانم جان نے تو اتنی جلدی پھوپھی جان کو بلا بھی لیا۔”
ان کے جانے کے بعد حیا پریشانی سے امینہ بیگم سے مخاطب ہوئی۔
“کچھ نہیں ہوتا میرا بچی میں ہوں نا! اللّه سب خیر کرے گا۔”
اس کے تسلی دینے پر وہ سر ہلا گئی پر جانتی تھی اپنی خانم جان کی ضد کو بھی۔خیر جو ہو گا دیکھا جاۓ گا!
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
قسط نمبر 13
نور منزل کے تمام افراد سحری کے لئے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ چکے تھے۔ وہ سب سحری شروع کر چکے تھے جب مشال آنکھیں ملتی ہوئی وہاں آن وارد ہوئی اور عمیر کے ساتھ والی کرسی پر ٹک گئی۔ نور بانو بیگم اور ان کی دونوں بہوؤں نے ایک ناگوار نظر اس کے حلیے پر ڈالی جو نائٹ ٹروزر شرٹ میں ملبوس تھی۔ اس نے جمائی روکتے ہاتھ بڑھا کر گلاس میں جوس ڈالا اور دھیرے دھیرے نزاکت سے پینے لگی۔مسکان کے سنجیدہ تاثرات اسے دیکھنے کے بعد بلکل سپاٹ ہو چکے تھے۔
“بیٹا صرف جوس سے ہی روزہ رکھو گی کیا؟ کھانا بھی کھاؤ نا!”
نور بانو بیگم کے کہنے پر اسے اچھو لگ گیا۔
“ایکچولی گرینڈ ماں میں روزہ نہیں رکھتی۔ مجھے جاب پر جانا ہوتا ہے تو اتنی دیر بھوکی پیاسی نہیں رہ سکتی میں۔”
وہ جواب دیتی پھر سے گلاس منہ کو لگا چکی تھی۔
“بیٹا اگر تم جان لو نا کہ ایسے جان بوجھ کر روزہ چھوڑنے کا کتنا سخت گناہ ہے تو تم کبھی روزہ نہ چھوڑو۔تم اپنی نوکری کے لئے اللّه کا فرض کیا گیا ایک اہم رکن چھوڑ رہی ہو۔ دیکھو عروج اور رجوع دو مختلف معانی رکھنے والی بلکل مختلف الفاظ ہیں پر یہ دونوں الفاظ ہی ایک جیسے چار حروف سے مل کر بننے ہیں۔بس تھوڑی سی ردو بدل کے بعد ہی عروج رجوع میں جب کہ رجوع عروج میں بدل جاتا ہے۔ پس تم جب اپنے رب کی طرح رجوع کرو گے تو وہ تمہیں عروج عطاء فرمائے گا . پر اللّه سے منہ موڑ کر آپ کبھی بھی عروج حاصل نہیں کر سکتے۔ روزہ صرف بیماری کی حالت میں معاف ہے پر وہ بھی ہمیں صحت یابی کے بعد رکھنا پڑتا ہے جو ہم سے چُھوٹا ہو۔
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: جو شخص رمضان کا ایک روزہ بھی بلا عذر شرعی (سفر اور مرض) کے بغیر چھوڑ دے پھر مدت العمر اس کی تلافی کے لئے روزے رکھے تب بھی ایک روزے کی کمی پوری نہ ہو گی۔(ترمذی ، ابو داؤد)
اور میں نے دیکھا ہے کہ تم نمازیں بھی نہیں پڑھتی۔ ماشاءالله سے بڑی ہو چکی ہو تم کوئی ننھی بچی نہیں ہو جسے نماز کی فضیلت کا علم نہ ہو۔ قرآن پاک میں اللّهﷻ نے بار بار نماز قائم کرنے کی تاکید کی ہے۔ قیامت کے دن جن اعمال کا حساب ہو گا ان میں اول نمبر نماز کا ہے۔ فجر خوبصورتی کو بڑھاتی ہے اور فجر ادا کرنے سے پورا دن اللّه کی رحمت کے حصار میں گزرتا ہے۔ ظہر انسان کی آمدنی میں اضافہ کرتی ہے۔اللّه اپنے ان بندوں پر رزق کے تمام در وا کر دیتا ہے جو ظہر کی نماز ادا کرتے ہیں۔ رزق میں کشادگی پیدا ہوتی ہے۔عصر کی نماز انسان کو تندرستی عطاء کرتی ہے۔ جو انسان عصر کی نماز ادا کرتا ہے اللّه اسے صحت و تندرستی عطاء فرماتا ہے۔اسے کامل شفا بخشتا ہے۔ جو انسان مغرب کی نماز ادا کرتا ہے اللّه اسے ہر مشکل اور پریشانی سے نجات عطاء فرماتا ہے۔ مصیبتیں اس کے پاس بھی نہیں بھٹکتیں۔ ذہنی سکون ميسر آتا ہے اور جو انسان عشاء کی نماز ادا کرتا ہے وہ سکون بھری نیند لیتا ہے۔ شیطانی خیالات اور وسوسے اس سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔ انسان اللّه کی رحمت کے حصار میں رات گزارتا ہے۔اس لئے نماز قائم کیا کرو میری بچی۔”
مشال ان کے لیکچر سے بور ہوتی مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر سر ہلانے لگی۔ اس کا دھیان مسلسل عمیر پر تھا جب کہ عمیر کا مسکان پر! اس کی نظریں بھٹک بھٹک کر اس کے صبیح چہرے پر جا رہی تھیں جو ناراضگی میں منہ پھلا کر بیٹھی ایک کیوٹ سی بچی لگ رہی تھی۔ مشال کی نظروں کی تپش سے عمیر نے بس پل بھر کو اس کی طرف دیکھا پر اسی پل بھر میں ہی مسکان کی نظر عمیر کی طرف اٹھی تھی پر اس کی نظریں مشال کے چہرے پر محسوس کرتی وہ لب بھینچ کر اپنا چہرہ موڑ گئی۔ ان دونوں کو دیکھتے لائبہ اور شارق نے پریشان نظروں کا تبادلہ کیا۔ نہ جانے یہ اونٹ کس کڑوٹ بیٹھتا اب!
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
نینا آج دو دن کے بعد کالج جا رہی رہی۔وہ بیگ لیتی لاؤنج سے گزرنے لگی جب شارق نے اسے پکارا۔
“مینا آج کالج میں چھوڑ کر آؤں گا تمہیں۔ تم گاڑی میں بیٹھ کر بس دو منٹ ویٹ کرو میں اوپر کمرے سے اپنا بیگ لے آؤں بس۔”
اس کے کہنے پر وہ سر ہلا کر اس کی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔ وہ گاڑی میں بیٹھتی اپنی سوچوں میں گم ہو چکی تھی۔ دروازہ بند ہونے کی آواز پر وہ حقیقی دنیا میں واپس لوٹی جہاں وه بیگ پچھلی سیٹ پر رکھتا گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔
“پریشان ہو؟”
اس کے پوچھنے پر وہ نفی میں سر ہلا گئی۔
“گڈ! میرے ہوتے ہوئے پریشان ہونے کی ضرورت بھی نہیں ہے میری مینا کو۔”
وہ پھر بھی چپ ہی رہی۔
“تم سے ایک مدد چاہیے تھی۔ کیا تم ایک کام میں میری مدد کرو گی پلیز؟”
اس کی بات پر وہ سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھنے لگی ۔ بھلا وہ کیسے اس کی مدد کر سکتی تھی۔ ایسا بھی کیا کام تھا جس کے لئے شارق کو اس کی مدد درکار تھی۔
“ایکچولی میری ایک چھوٹی سی پیاری سی مینا تھی جو کہ میری سب سے اچھی دوست بھی تھی۔ ہر وقت شور مچاتی پورے گھر میں اڑتی پھرتی میری مینا کہیں کھو گئی ہے۔ جہاں ہر وقت شور اور کھکھلاہٹیں ہوتی تھیں اب وہاں گہرا سناٹا ہے۔ میں بہت مس کرتا ہوں اپنی بیسٹ فرینڈ کو۔کیا تم اسے ڈھونڈنے میں میری مدد کرو گی؟”
اس کے لہجے میں چھپی اداسی محسوس کرتی وہ اپنے ہونٹوں کو کھینچ تان کر دونوں اطراف میں پهیلاتی ہنس دی۔ پر اس کی ہنسی کا کھوکھلا پن شارق کو کیسے محسوس نہ ہوتا۔ پر وہ اسے اس فیز سے نکالنا چاہتا تھا سو خود بھی ہنس دیا پر اسے کچھ محسوس نہ ہونے دیا۔
“ارے یہ تو میری مینا ہے! اتنی جلدی مل بھی گئی۔ واہ بھئی لگتا ہے اب سے ہر کام میں تمہاری مدد لینی پڑے گی۔میرا کام تو یوں چٹکیوں میں ہو جایا کرے گا۔ مسکراتی رہا کرو حسین لڑکی تمہارے دوست کو سکون ملتاہے۔”
اس کے لہجے کا مان اور پیار محسوس کرتی وہ اس دفعہ دل سے مسکرا دی۔واقعی وہ اس کا سب سے بہترین دوست تھا جس نے اس کی عزت کی حفاظت کر کے اس کے دل میں اور بھی آعلیٰ مقام پا لیا تھا۔ پر اس کے دل میں پنپتے جذبوں سے وہ اب تک نا آشنا ہی تھی۔ اسے مسکراتے دیکھ کر وہ بھی دل ہی دل میں شکر ادا کرتا اسے مسکرا کر دیکھتا ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہو گیا۔ اسے امید تھی کے اس کے دل کے ساتھ ساتھ وہ اسے بھی جیت لے گا!
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
وہ کچھ ضروری سامان لینے کے لئے مارکیٹ گئی ہوئی تھی ڈرائیور کے ساتھ۔ اب اندھیرا ہونے کو تھا۔ وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھی موبائل میں کچھ دیکھنے میں مگن تھی جب گاڑی جھٹکے سے رکی۔
“کیا ہوا انکل آپ نے گاڑی کیوں روک دی۔”
اس کے سوال پر ڈرائیور نے سامنے دیکھنا شروع کر دیا۔ حیا نے ان کی نظروں کے تعاقب میں جوں ہی دیکھا تو اس کے اوسان خطا ہو گئے۔ سامنے ہی دو موٹر سائیکلوں پر چار آوارہ نو جوان ان کا راستہ روکے کھڑے تھے۔ حیا نے جلدی سے آیت الکرسی کا ورد کرنا شروع کر دیا۔
“انکل آپ ان سے پوچھ لیں انھیں جو بھی چاہیے آپ دے دیں انہیں۔ جان سے بڑھ کر کچھ بھی عزیز نہیں ہوتا۔”
اس کی پریشان آواز سنتے وہ اثبات میں سر ہلا گئے تبھی ان میں سے ایک لڑکا آگے بڑھا اور شیشہ بجایا۔
“باہر نکل بڈھے! چل جلدی نکل اور اس وقت جو کچھ بھی پاس ہے سب ہمارے حوالے کر دے ورنہ بھیجا اڑا دیں گے تیرا۔”
وہ بدتمیزی سے بولتا ڈرائیور کو بازو سے پکڑ کر باہر نکال گیا۔ اب تک ان کو نظر پیچھے بیٹھی حیا پر نہیں گئی تھی۔ اس لڑکے کے اشارے پر دوسرا لڑکا آگے بڑھ کر گاڑی کی تلاشی لینے لگا جب اس کی نظر پیچھے ڈری سہمی بیٹھی حیا پر گئی۔ اس کی آنکھیں خباثت سے چمکنے لگیں۔
“باس ذرا ایک نظر پیچھے بھی ڈال لو۔”
اس کی آواز پر وہ پیچھے آیا جھک کر شیشے سے اندر دیکھنے لگا جب کہ حیا کی دعاؤں میں تیزی آ گئی تھی۔
“ارے اس بڈھے نے تو ہوا بھی نہ لگنے دی کہ اتنا نایاب پیس چھپا کر رکھا ہے۔ کیوں بے بڈھے تجھے کیا لگا تھا کہ اس چھپی ہوئی حسینہ کو ہماری نظروں سے اوجھل رکھ لے گا۔ آج ہم یہاں سے سارا مال بھی لوٹ کر جائیں گے اور ساتھ میں اس حسینہ کو بھی۔ ڈبل مزے۔۔ہاہاہا!”
وہ چاروں خباثت سے قہقہے لگانے لگے جب کہ حیا کا رنگ سپید پر گیا۔
“دیکھو تم لوگوں کی بھی ماں بہنیں ہوں گی پلیز اس پر بری نظر نہ ڈالو تم لوگ سے پیسے اور ہمارے موبائل بھی رکھ لو پر رمضان کے مہینے کے صدقے یہ ظلم نہ کرو۔ اللّه کو پکڑ بہت مضبوط ہے اس سے ڈرو۔”
بیچارہ ڈرائیور ان کے سامنے ہاتھ جوڑتا منتیں کرنے لگا پر انہوں نے اس کی ایک بھی فریاد وپ پر کان نہ دھرا۔ پہلے والے لڑکے نے حیا کو بازو سے پکڑ کر کھینچ کر باہر نکالا۔ وہ اس کا بیہودہ لمس پاتے ہی چیخنا شروع ہو گئی اور مدد کے لئے کسی کو پکارنے لگی پر اس کی پکار سننے والا وہاں کوئی نہ تھا۔ دو لڑکے ڈرائیور کو سختی سے دبوچے کھڑے تھے۔ حیا کے چیخنے پر اس لڑکے نے ایک زوردار تھپڑ حیا کے منہ پر دے مارا۔ تھپڑ کی شدت اتنی تھی کہ اسے اپنے منہ میں خون کا ذائقہ گھلتا ہوا محسوس ہوا۔ نقاب ڈھیلا ہو چکا تھا۔ اس سے پہلے کے وہ ہاتھ بڑھا کر اس کا نقاب ہٹاتا کسی نے پیچھے سے اس کا سر پکڑ کر پوری شدت سے زمین پر دے مارا۔ اس کی چیخیں سنتی حیا کے منہ سے بھی بے ساختہ چیخ برآمد ہوئی تھی۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ سختی سے منہ پر جما کر اپنی چیخوں کا گلا گھونٹنے لگی۔
زمان اور عمیر ایک دوست سے ملنے کے لئے جا رہے تھے جب زمان کی نظر کچھ دور اندھیرے میں کھڑی ایک گاڑی پر پڑی جس کے پاس دو لوگ ایک آدمی کو قابو کیے کھڑے تھے جب کہ دو گاڑی کے شیشے پر جھکے ہوئے تھے۔ اسے کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا۔ اس نے عمیر کی توجہ اس طرف دلائی تو ایک پولیس والا ہونے کی وجہ سے وہ فوراً معملے کی نزاکت کو سمجھ گیا۔ ان دونوں نے گاڑی وہیں روکی اور پچھلے راستے دبے پاؤں اس کے پاس پہنچ گئے۔
عمیر نے پیچھے سے ان دونوں کو دبوچا جب کہ حیا کو وہاں اس حالت میں دیکھتا وہ اپنے حواس ہی کھو بیٹھا تھا اور بغیر کچھ دیکھے اور سوچے اس لڑکے پر پل پڑا۔ چوتھا لڑکا بھاگنے کو پر تولنے لگا پر عمیر اور زمان کو دیکھتے ڈرائیور میں بھی ہمت آ گئی اور اس نے اس چوتھے لڑکے کو ڈھا لیا۔ تینوں لڑکوں کی کچھ خاطر تواضح کر کے عمیر نے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے اور پولیس سٹیشن کال کر دی۔جب کہ زمان بے دریغ اس لڑکے کو مارتا جا رہا تھا جس نے حیا کو تھپڑ مارا اور اس پر بری نظر ڈالی۔
“زمان چھوڑو مر جاۓ گا یہ۔ میں خود اسے دیکھ لوں گا۔”
عمیر نے زبردستی زمان سے اس لڑکے کو چھڑوایا۔اسے چھوڑتا وہ حیا کی طرف بڑھا جو ڈری سہمی سکڑ کر بیٹھی رو رہی تھی۔
“اٹھیں حیا کچھ بھی نہیں ہوا اور آپ اس وقت اکیلی ڈرائیور کے ساتھ کیوں نکل آئیں؟ دماغ ٹھیک ہے آپ کا۔ اگر ہم نہ آتے تو جانتی ہیں کیا ہوتا؟”
اس کے سخت لہجے پر وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ زمان نے بالوں میں انگلیاں پهنسا کر اپنا غصہ ضبط کرنے کی کوشش کی ۔
“چپ ہو جائیں پلیز یار اب ایسے آپ کو روتے ہوئے نہیں دیکھ پا رہا ڈیم اٹ! چلیں اب ہمارے ساتھ ہم آپ کو گھر ڈراپ کر دیتے ہیں۔”
حیا کو کہتے اس نے ڈرائیور کو بھی گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“زمان تم انہیں گھر چھوڑ آؤ میں ان کو لے کر پولیس سٹیشن جا رہا ہوں تم بھی وہیں آ جانا۔”
اس کی بات پر زمان سر ہلاتا گاڑی کی طرف بڑھا تو حیا بھی اس کے پیچھے چل دی۔ زمان نے اس کے لئے پچھلا دروازہ کھولا اور اس کے بیٹھنے کے بعد خود بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی وہاں سے بهگا لے گیا۔
جس وقت اس کی گاڑی گھر کے آگے رکی ٹھیک اسی وقت شاہین کی گاڑی بھی وہاں رکی تھی۔ حیا کو زمان کی گاڑی سے بے حال حالت میں اترتا دیکھ کر وہ ایک دم پریشان ہو اٹھا۔ اسے دیکھتے ہی حیا تیزی سے اس کی طرف بڑھی اور اس کے گلے لگ کر رونے لگی۔ زمان نے آگے بڑھ کر ساری صورتحال شاہین کے گوش گزار کی جسے سن کر اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔
“بہت شکریہ یار آج اگر تم نہ ہوتے تو نا جانے کیا ہو جاتا۔ میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔”
شاہین کے تشکرانا انداز پر زمان اسے گھورنے لگا۔ دو تین ملاقاتوں میں ان کی اچھی دوستی ہو چکی تھی۔
“دفع ہو کمینے کوئی احسان نہیں کیا میں نے۔ تمہارا دوست ہونے کے ناطے یہ میرا فرض تھا اور ویسے بھی میرے سامنے کسی لڑکی کی بھی عزت پہ حرف آ رہا ہوتا تو میرا یہی رد عمل ہوتا اور یہ تو پھر تمہاری بہن ہیں۔اب تم اندر لے جاؤ انہیں کافی ڈری ہوئی ہیں۔”
شاہین اس کی بات سے متفق ہوتا اس سے مصافحہ کر کے حیا کو لے کر گھر کے اندرونی حصے کو طرف بڑھ گیا تو ان کی پشت پر آخری نظر ڈالتا زمان بھی پولیس سٹیشن کی طرف گاڑی موڑ گیا۔
