Chand Mere Aangan Ka By Meem Aain Readelle50158 Last updated: 18 August 2025
Rate this Novel
Chand Mere Aangan Ka
By Meem Aain
وہ چھت پر ٹہل رہی تھی ۔ سوچوں کا مرکز وہ وجود تھا جسے کی نیلی آنکھیں لائبہ کے دماغ سے جیسے چپک ہی گئی تھیں۔ "اس کی ہٹلر دادی نے اس کا نام شاہین خانا لیا تھا۔ شاہین تو سمجھ میں آتا ہے پر یہ خانا کیا ہے؟ وہ پٹھان ہیں تو پٹھانوں کے نام کے ساتھ تو خان لگتا ہے۔پھر کیا بنا اس کا نام؟ ہاں! شاہین خان!" وہ چھت پر یہاں سے وہاں ٹہلتی دماغ میں توڑ جوڑ کرنے میں مصروف تھی۔ اس کی نگاہیں آسمان سے ہوتی ہوئی سامنے گھر کی چھت پر گئیں تو اس کی آنکھیں حیرت سے پهيل گئیں۔ ابھی تو اس کو سوچ رہی تھی اور ابھی وہ نگاہوں کے سامنے آ گیا تھا۔ وہ ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھنے لگی جو اپنے موبائل میں گم دونوں کہنیاں اپنی چھت کی منڈیر پر ٹکاۓ کھڑا تھا۔ یک دم لائبہ کو شرارت سوجھی۔ اس نے چھت سے چھوٹے چھوٹے کنکر ہاتھ میں جمع کیے اور منڈیر کے پاس آ گئی۔ اس نے ایک كنكر لیا اور شاہین کے سر کا نشانہ لے کر كنكر اس پہ پھینک کر خود جھٹ سے نیچے جھک گئی۔ خوش قسمتی نے نشانہ سہی لگ گیا۔ شاہین نماز پڑھ کہ تازہ ہوا لینے کے لئے چھت پر آ گیا تھا۔ وہ واٹس ایپ پر آۓ میسیجز دیکھ رہا تھا جب اس کے سر پر کوئی چیز آ کر لگی۔ اس نے نظر چاروں طرف گھمائ پر کوئی زی روح دکھائی نہ دیا۔ اس نے سر جھٹک کر اپنی نظریں پھر سے موبائل پر جما لیں۔ لائبہ نے دو منٹ کے وقفے سے اوپر اٹھ کر دیکھا تو وہ پھر سے موبائل میں گم نہ جانے کون سے چھپے ہوئے خزانے کا سراغ لگا رہا تھا۔ وہ خوب بد مزہ ہوئی۔ اس نے پھر سے اس کے سر کا نشانہ لے کر كنكر پهينكا اور خود نیچے جھک گئی۔ عين اسی وقت شاہین نے نظر اٹھائی تو لائبہ کا سرمئی آنچل اس کی نظروں میں آ کر نیچے گم ہو گیا۔ وہ سمجھ گیا کہ کوئی اس سے شرارت کر رہا ہے۔ اس دفع اس نے اپنی نظریں وہاں سے نہ ہٹاںٌیں۔ لائبہ نے کھڑے ہوتے جسے ہے كنكر پھینکنے کے لئے ہاتھ ہوا میں بلند کیا اس کی نظریں سامنے کھڑے وجود کی نیلی آنکھوں سے ٹکرائیں ۔ اس کے دیکھنے پر شاہین نے آںٔبرو اچکا کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کہ یوں دیکھنے پر وہ گھبراتی بوکھلاتی باقی كنكر وہیں پھینکتی وہاں سے فرار ہو گئی۔ اس کی حالت پر وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔ "آہ! میری معصوم محبت کی معصوم کاروائی !" وہ ہنس کر کہتا اپنا جملہ یاد آتے ٹھٹھک گیا۔ "محبت؟ ارے مجھے اس سے محبت کب ہوئی بھلا؟ مجھے تو وہ پہلی ہی نظر میں اچھی لگی بس۔ پر آج تک اور کوئی لڑکی تو اس قدر اچھی نہیں لگی مجھے۔ شاید پہلی نظر کی محبت والا نظریہ درست ہو! اف شاہین تم بھی اس محبت نامی جال میں پھنسنے کو ہو بس!" وہ خود سے کہتا اپنے بالوں میں انگلیاں پهيرتا ایک نظر سامنے والی چھت پر ڈال کر نیچے کی طرف قدم بڑھا گیا۔ 🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
