Rate this Novel
Episode 2
قسط نمبر 02
شام کے پانچ بج چکے تھے۔ آمنہ بیگم اور شازیہ بیگم نے کچن کا رخ کیا تا کہ افطاری کی تیاری کر سکیں۔ اکبر صاحب اور اصغر صاحب اب تک آفس سے نہ لوٹے تھے۔ عمیر بھی ڈیوٹی پر تھا۔ زمان ابھی آفس سے آ کر ریسٹ کرنے اپنے کمرے میں جا چکا
تھا۔ مسکان اور لائبہ لاؤنج میں صوفے پر بیٹھیں اپنے سامنے ليپ ٹاپ کھولے کپڑوں کے ڈیزائن دیکھنے میں مگن تھیں۔ مسکان ساتھ ساتھ اپنے فون پر ایک دوست سے میسج پر بات کر رہی تھی ۔دادی جان بھی قریب صوفے پر بیٹھی تسبیح کرنے میں مصروف تھیں جب نینا آنکھیں مسلتی ہوئی وہاں آئ اور آ کر دادی جان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی۔
“دادی جان بہت روزہ لگ رہا ہے مجھے۔ حلق خشک ہو رہا ہے پیاس سے۔”
وہ ان کی گود میں سر رکھتے ہوئے منہ بسور کر بولی۔
“نہ میری بچی ایسے نہیں بولتے۔ اس طرح روزے کا اجر نہیں ملتا۔روزہ اسلام کا تیسرا اہم رکن ہے جو مسلمان کو مجاہدو اور ریاضت کی بھٹی میں سے گزار کر کندھن بنائے جانے کی طرف ایک اہم راہ ہے۔
رسول پاک نے رمضان کے متعلق خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا: “روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں؛ ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔” یعنی پہلی یہ کہ جب ہم روزہ رکھ کر پورا دن اپنے رب کی رضا کے لئے بھوکے پیاسے رہتے ہیں تو افطار کے وقت ہمارا خوشی کا عالم ہی نہیں رہتا۔ اور دوسرا یہ کہ روزہ دار کو روزے کے اجر میں آخرت میں اپنے رب کا دیدار نصیب ہو گا کیوں کہ اللّه پاک کا فرمان ہے کہ: ” روزہ میرے لئے ہے اور اس کا اجر میں خود ہوں۔” تو بتاؤ بھلا رب سے ملاقات سے بڑھ کر اور کیا ہوگا ایک مسلمان کے لئے۔ اور اگر بار بار ہم ایسے کہیں کہ روزہ لگ رہا ہے، بھوک لگ رہی ہے، پیاس لگ رہی ہے تو ایسے روزے کا اجر نہیں ملتا۔ سمجھی میری بچی؟”
وہ اسے پیار سے سمجهاتی ہوئی آخر میں سوال کر گئیں تو وو بے ساختہ اثبات میں سر ہلا گئی۔
“جی دادو میں آئیندا اس بات کا خیال رکھوں گی اور اپنی پچھلی غلطی کے لئے اللّه سے معافی بھی مانگ لوں گی۔”
وہ معصومیت سے بولی تو دادی جان خوش ہوتی اس کا ماتھا چوم گئیں۔
“مسکان! عمیر کا سوٹ استری کر دیا تم نے جو میں نے صبح دیا تھا تمہیں؟”
آمنہ بیگم کچن کے دروازے پر کھڑی مسکان کو آواز دے کر پوچھنے لگیں۔ ان کی بات سنتی مسکان تپ اٹھی تھی ان کے سوال پر۔
“امی میں نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا ان کا ہر کام کرنے کا۔ ان کی بہن بھی موجود ہے یہاں پر آپ ہر کام مجھے ہی کیوں کہتی ہیں؟”
اس کے تپے لہجے پر آمنہ بیگم غصے سے اس کی طرف آئیں۔
“بہت زبان چلنے لگ گئی ہے تمہاری۔ شوہر ہے وہ تمہارا بیبی کچھ ہوش کے ناخن لو۔ رونا پڑا رہتا اس کے کام کرتے وقت تمہیں۔ اٹھو فوراً! چھوڑو اس منحوس موبائل کی جان اور اس کے کپڑے اسٹری کر کے آؤ۔”
ان کے حکمیہ لہجے پر وہ پیر پٹختی ہوئی وہاں سے اٹھ کر اس کھڑوس کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ گود میں ليپ ٹاپ رکھے بیٹھی اس کی کاروائی ملاحظہ کرتی لائبہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔
“چھوٹی امی آپ مجھیے کیوں منع کرتی ہیں بھائی کے کاموں سے۔ ہر کام آپ اس کو ہی کہتی ہیں اور پھر موڈ خراب ہو جاتا ہے اس کا۔”
لائبہ سیریس ہوتی آمنہ بیگم سے پوچھنے لگی۔
“بیٹا ابھی سے عمیر کے کام کرنا شروع ہو گی تو ہی آگے جا کر عادت پڑے گی نا۔ بہت پریشان ہوں میں اماں جی اس لڑکی سے۔ ہر وقت عمیر سے بیزار رہتی ہے۔ ایسا کیسے چلے گا؟”
وہ لائبہ کو جواب دیتی آخر میں اپنی ساس سے مستفسر تھیں۔
“پریشان مت ہو آمنہ جب رخصتی ہو جاۓ گی تو خود ہی عقل آ جاۓ گی۔ میری بچی تھوڑی لاپرواہ ضرور ہے پر بے عقل نہیں۔ اور عمیر بہت ذمہ دار اور سمجهدار بچہ ہے خود ہی اس کو سنبھال لے گا۔”
ان کی باتوں پر آمنہ بیگم کچھ متفق ہوتی کچن میں واپس چلی گئیں۔
وہ اپنے دوست سے کال پر بات کرتا ہوا کمرے سے ملحق بالکنی میں نکل آیا۔ شام کے اس وقت سورج بس ڈوبنے کی تیاریوں میں تھا۔ ٹھنڈی ہوا اس کی روح میں سرایت کرتی ہوئی اس کے دل و دماغ پر خوشگوار اثر مرتب کر رہی تھی۔ آس پاس نظریں دوڑاتے وہ ایک منظر دیکھتا ٹھٹھک گیا۔ سامنے بنگلے کی بالکنی کا دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے کمرے کا منظر تھوڑا بہت واضح ہو رہا تھا کیوں کہ دونوں بنگلوں کی بالکنیوں میں زیادہ فاصلہ نہ تھا۔ سفید دوپٹے کے ہالے میں پر نور چہرہ لئے ایک لڑکی بیڈ پر بیٹھ کر ہاتھ میں تسبیح لئے کوئی ورد کرنے میں مشغول تھی۔ زمان کے دل نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے اتنا پاکیزہ اور پر نور چہرہ آج تک نہ دیکھا تھا۔ زمان کے دل نے وہ چہرہ قریب سے دیکھنے کی خواہش کی تھی۔
کسی کی نظروں کی تپش محسوس کر کے اس لڑکی نے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا اور پھر جلدی سے اٹھ کر دروازہ بند کر گئی۔ زمان خفت زدہ ہو گیا۔
“اف زمان! کتنی غیر اخلاقی حرکت کی ہے تو نے۔ کیا سوچ رہی ہو گی وہ کہ میں ایسے لڑکیاں تاڑتا ہوں؟ تف ہے تجھ پر۔ کیا ضرورت تھی یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھنے کی؟ پر یار جو بھی ہے وہ لڑکی بہت پاکیزہ لگ رہی تھی۔ شبنم کے پہلے قطرے کی طرح پاک!”
وہ خود سے بولتا آخر میں مسکرا دیا اور آخری نظر اس بالکنی پر ڈال کر خود بھی کمرے میں آ گیا۔
وہ نہا کر ابھی نیچے آئی تھی۔ افطاری کا وقت ہونے والا تھا۔ اس نے ہاتھ میں پہنی گھڑی پر وقت دیکھا اور کچن کی طرف بڑھ گئی۔
“لائبہ! بیٹا یہ کھجوريں اور بریانی سامنے والوں کی طرف دے آؤ۔ آج ہی نے لوگ شفٹ ہوئے ہیں سامنے والی گھر میں۔ میں نے سوچا یہ بھیج دیتے ہیں وہاں۔ آخر ہمسایوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ اب جاؤ اور جلدی دے آؤ افطاری ہونے والی ہے بس۔”
شازیہ بیگم کھانے کی ٹرے اس کے ہاتھوں میں پکڑاتی ہوئی بولیں تو وه جلدی سے سر پر آنچل ڈال کر ٹرے تهامتی باہر کی طرف بڑھ گئی۔
سامنے والے گھر کے گیٹ پر کھڑے ہو کر اس نے ٹرے ایک ہاتھ سے سمبھال کر دوسرے ہاتھ سے بیل بجائی اور پیچھے ہٹ کر دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے لگی۔
ایک منٹ کے انتظار کے بعد دروازہ کھلا تھا۔ لائبہ نے عارضوں سے پلکیں اٹھائیں تو اس کی کالی آنکھیں سامنے کھڑے نفس کی نیلی آنکھوں سے ٹکرائی تھیں۔ نیلی آنکھیں، سفید رنگت جس میں میں ہلکی سرخی گھلی تھی، گھنی مونچھیں اور ہلکی داڑھی لئے وہ مرد اسے پہلی نظر میں ہی کوئی پٹھان لگا تھا۔وہ بھی پر شوق نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
“کون ہے باہر شاہین خانا؟
ایک کڑک زنانا آواز لائبہ کے کانوں سے ٹکرائی تو اس نے جھرجھری لی۔ وہ آواز سن کر وہ لڑکا بھی دروازے کے آگے سے ہٹ کر سائیڈ پر کھڑا ہو گیا تو وہ کچھ جھجکتی ہوئی اندر داخل ہو گئی۔ سامنے ہی ایک سرخ و سفید بوڑھی عورت کھڑی تیکھی چتونوں سے اسے گھورنے میں مصروف تھیں۔ ان کے پیچھے ہی چہرے پر مسکان سجائے ایک شفیق سی عورت آئ اور لائبہ کی طرف آ گئی۔
“السلام علیکم آنٹی! میں سامنے والے گھر سے آئی ہوں یہ افطاری دینے۔”
وہ انہیں سلام کرتی کھانے کی ٹرے ان کی طرف بڑھا گئی۔ وہ لڑکا سائیڈ سے گزر کر اندر جا چکا تھا۔
“وعلیکم السلام بچے! بہت شکریہ ! اندر آؤ نا یہاں کیوں کھڑی ہو گئی۔”
ان کے لہجے اور اردو سے لائبہ کو یقین ہو گیا کہ وہ پٹھان ہیں۔
“نہیں آنٹی افطاری کا وقت ہو گیا ہے امی انتظار کر رہی ہوں گی ابھی۔ میں پھر کبھی چکر لگاؤں گی اور برتن بھی بعد میں لے جاؤں گی۔ ابھی مجھے اجازت دیں۔”
وہ مسکرا کر بولی تو وہ بھی اسے دیکھتی مسکرا دیں۔
“ٹھیک ہے بچے پر دوبارہ ضرور آنا مجھے بہت اچھا لگا تم سے مل کر۔ اپنی امی کو بھی لے کر آنا اور انھیں شکریہ بولنا میری طرف سے۔”
ان کی کہنے پر وہ حامی بھرتی انھیں خدا حافظ کہہ کر وہاں سے نکل آئی۔ اوپر بالکنی میں کھڑے وجود نے اس کے گھر میں داخل ہونے تک نظروں سے اس کا پیچھا کیا اور اس کے جانے کے بعد مسکرا کر سر جھٹکتا پیچھے ہٹ گیا
