Rate this Novel
Episode 3
نور منزل میں گہما گہمی بھری ایک اور شام اتر چکی تھی۔ تمام اہلِ خانہ افطاری کے لئے ڈائننگ ٹیبل کے گرد پڑی کرسیوں پر تشریف فرماں تھے۔ کھانا میز پر چنا جا چکا تھا۔ مغرب کی اذان میں فقط پانچ منٹ رہ گئے تھے۔
“چلو بچو سب دعا مانگو اب۔حدیث مبارکہ ہے:
“تین لوگوں کی دعا کبھی رد نہیں کی جاتی: عادل حکمران، روزہ دار حتٰی کہ روزہ افطار کر لے اور مظلوم۔(ترمذی)”
اور افطاری سے پہلے کا وقت بہت فضیلت والا ہوتا ہے۔ اس وقت روزہ دار کی اپنے رب سے مانگی گئی ہر جائز دعا قبول ہوتی ہے۔”
دادی جان کی پرسوز آواز وہاں بیٹھے ہر فرد کے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔ ان کے کہنے پر سب نے مسکراتے ہوئے دعا کے لئے ہاتھ بلند کر لئے۔
“اللّٰهُ اکبر اللّٰهُ اکبر”
آذان کی گونج پر سب نے دعا مانگ کر منہ پر ہاتھ پهيرے اور افطاری کی دعا پڑھ کر روزہ افطار کیا۔
کھجور سے روزہ افطار کرنے کے بعد سب کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ٹھنڈا شربت حلق سے نیچے اتارا جاۓ۔ شازیہ بیگم نے ایک محلول پیالیوں میں ڈالا اور سب کے آگے رکھ دیا۔
“یہ کیا چیز ہے بڑی امی ؟”
سب سے پہلے سوال کرنے والی نینا ہی تھی۔ باقی افراد کی نظروں میں بھی یہی سوال تھا کہ وہ بهاپ اڑاتا محلول کیا ہے۔
“بیٹا یہ سوپ ہے۔ روزہ دار سحری سے لے کر افطاری تک بھوکا پیاسا رہتا ہے۔ اسکا معده خالی ہو جاتا ہے افطاری تک۔ ایسے میں جب وہ افطاری کرتے ہی سب سے پہلے ٹھنڈا شربت پیتا ہے تو وہ معده کے لئے بہت نقصانده ہوتا ہی۔اس لئے میں نے اور آمنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ سب سے پہلے تھوڑا گرم سوپ پیا جاۓ ۔ کھجور کھانے اور یہ سوپ پینے کے بعد معده خالی نہیں رہے گا۔ پھر ہم اس کے بعد کچھ بھی کھا سکتے ہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ یہ سوپ ہم نے داليں، دليه اور مرغی کا گوشت ڈال کر بنایا ہے۔ غذائیت بھی برقرار اور کوئی نقصان بھی نہیں۔”
ان کی تفصیل پر دادی جان مسکرا دیں۔
“بہت خوب بہو بیگم!”
انہوں نے دونوں بہوؤں کو شاباشی دی۔ پھر سب نےوہ مزیدار سوپ پیا اور اس کے بعد دوسرے لوازمات کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ افطاری کے بعد مرد حضرات نے مسجد کا رخ کیا اور خواتین نے برتن سمیٹ کر اپنے اپنے کمروں کا رخ کیا تا کہ رب کے حضور سجدہ کر کے اس پاک ذات کا شکر ادا کر سکیں۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد لائبہ اور مسکان چہل قدمی کے لئے نیچے لان میں آ گئیں۔ انہوں نے نینا سے بھی کہا ان کے ساتھ آنے کا پر وہ یہ کہہ کر ٹال گئی کہ اسے کالج کا کام کرنا ہے۔لہٰذا وہ دونوں نیچے آ گئیںں۔ وہ دونوں چہل قدمی کے ساتھ ساتھ باتیں بگهاڑنے میں مصروفِ عمل تھیں۔
“یار کل سے پھر یونیورسٹی جانا ہے۔ سچ پوچھو تو مجھے یہ سوچ کر ہی ہول اٹھ رہے ہیں کہ روزے کی حالت میں پہلے یونیورسٹی جاؤ پھر وہاں جا کر ٹیچرز کے ساتھ دماغ کھپاؤ اور پھر گھر آ کر افطاری بنانے میں بھی مدد کرواؤ۔ اُف کیا بنے گا ہمارا یار!”
مسکان منہ بسور کر کہتی لائبہ کے کندھے پر سر ٹکا کر آنکھیں موند گئی۔ کل سے ان دونوں کی کلاسز شروع ہو رہی تھیں اور سدا کی نالايك مسکان صاحبہ اب بھی یونیورسٹی جانے سے پریشان تھیں۔
“تمہیں ٹیچرز کے ساتھ دماغ کھپانے کی پریشانی ہے اور مجھے ان بیچارے ٹیچرز کے ساتھ همدردی جن کی سٹوڈنٹ تم ہو۔ پریشان تو تم ایسے ہو رہی ہو جسے ٹاپ تم نے ہی تو کرنا ہے۔”
طنز سے بھر پور آواز پر اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کر آواز کی سمت دیکھ جہاں وہ سفید شلوار قمیض اور سر پر ٹوپی پہنے اپنی باوقار اور سحر انگیز شخصیت کے ساتھ کھڑا تھا۔
“آپ سے کسی نے بات کی؟ خود تو ٹاپ کر کے بڑا تیر مار لیا اب آپ کو یہ لگتا ہے کہ ہر کوئی آپ کی طرح کتابی کیڑا ہوتا ہے۔ ہیں نا؟
لائبہ اسے کہنی مارتی اپنی طرف متوجہ کرنے لگی جو ہٹلر کی جانشین بنی کمر پر ہاتھ ٹکاۓ اس کے بھائی کے روبرو تھی۔
اس کے الفاظ پر عمیر کا چہرہ تن گیا۔ اس کے تاثرات کا جائزہ لیتی مسکان کی ہوا بھی نکل چکی تھی۔
“لائبہ بیٹا ایک کپ کافی پلا دیں۔”
وہ لائبہ کی طرف دیکھا نرمی سے بولا تو وہ ‘جی بھائی’ کہتی جلدی سے وہاں سے کھسک گئی۔
“مم۔۔۔میں بھی جاتی ہوں۔”
بوکھلا کر کہتی وہ لائبہ کے پیچھے بھاگنے لگی جب وہ اسے کہنی سے تھام کر ہلکا سا کھینچتا اس کا رخ اپنی طرف کر گیا۔
“کیا میں نے تمہیں جانے کا بولا؟”
اس کے خشک لہجے میں پوچھے گئے سوال پر وہ نفی میں سر ہلا گئی۔
“اچھا پھر اب بتاؤ مجھے تم۔ کیا کہہ رہی رہی آگے؟”
اس کے سوال پر وہ زور سے آنکھیں مِیچ گئی۔
“جواب دو!”
اسے چپ دیکھتے عمیر نے اسے ہلکا سا جھنجھوڑ کر اپنا سوال دہرایا۔
“وہ ۔۔۔ایکچولی۔۔۔آپ کو پتا ہے نا کہ زبان میں کوئی ہڈی نہیں ہوتی اس لئے بے وجہ پھسل جاتی ہے کبھی كبهار خود ہی۔ سیریسلی میں نے خود تو کچھ نہیں بولا تھا۔”
اس کی فضول ترین لاجک پر عمیر کو غصے کے ساتھ ساتھ ہنسی بھی آنے لگی پر اسے دیکھتے وہ اپنی ہنسی کو چھپا گیا۔
“کہاں سے لاتی ہو فضول باتوں کا اتنا اسٹاک؟ کبھی اتنا دماغ پڑھائی میں بھی چلایا ہو تو یونیورسٹی ٹاپ کر جاؤ۔”
اس کی ٹاپ کرنے والی بات پر مسکان نے آنکھیں گھماںٔیں۔
“بھائی آپ کی کافی!”
اتنے میں لائبہ چراغ کے جن کی طرح کافی لے کر وہاں حاضر ہوئی تو عمیر نے اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا۔ وہ ایک غصیلی نظر لائبہ کے بے چارگی لئے چہرے پر ڈال کر پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی تو لائبہ بھی جلدی سے کافی عمیر کو پکڑاتی اس کے پیچھے بھاگی۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
وہ بیٹھی کیمسٹری کے فارمولے یاد کر رہی تھی جب وہ وہاں آن وارد ہوا۔
“کیا کر رہی ہو چشمش؟”
وہ اس کی چوٹی کھینچتا ہوا بولا تو وہ چیخ اٹھی۔
“آہ! شارق بھائی میرا گنجا کر دیں گے کسی دن آپ ایسے میرے بال کھینچ کھینچ کر۔”
وہ شہادت کی انگلی سے اپنا چشمہ ناک سے اوپر کرتی بولی تو وہ اسے دیکھتا شرارت سے مسکرا دیا۔
“مینا چھپکلی!”
وہ اسے دیکھتا ایک دم بولا تو وہ چیخ کر اپنی جگہ سے اُچھل پڑی۔
“آہ! امی! شارق بھائی بچاؤ مجھے چھپکلی سے۔”
وہ چیختی چلاتی پورے کمرے میں اچھل رہی تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔
“چپ ہو جاؤ پاگل پورے گھر کو اکٹھا کرو گی اب کیا؟ کوئی چھپکلی نہیں ہے۔”
وہ اسے مسلسل چیختا دیکھ کر بولا کہ کہیں اس کی چیخوں سے گھر والے ہی نہ یہاں آ جائیں۔
“پر شارق بھائی آپ نے خود ہی ابھی کہا کے چھپکلی۔”
وہ حیرت سے آنکھیں پوری کھولتی اس کی طرف دیکھنے لگی۔
“ارے بدُھو! میں نے یہ کب کہا کہ یہاں چھپکلی ہے۔ میں نے تو یہ کہا کہ مینا چھپکلی!”
وہ مسکراہٹ دباۓ اس کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لینے لگا۔
نینا کو دو منٹ لگے تھے بات کو سمجھنے میں۔ سمجھ آتے ہی وہ چیخ پڑی۔
“شارق بھائی میں چھوڑوں گی نہیں آج آپ کو۔”
وہ غصے سے کہتی تکیہ پکڑ کر اسے مارنے لگی جب کہ وہ قہقہے لگاتا اپنا بچاؤ کرنے لگا۔
