104.6K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

وہ منہ کے برے برے زاویے بناتی سامنے رکھی میتھ کی کتاب کو دیکھ رہی تھی۔ وہ اور لائبہ دونوں عمیر کے پاس ٹیوشن پڑھتی تھیں۔ لائبہ پڑھائی میں اچھی تھی جب کہ مسکان کچھ سست۔ آج دونوں پہلے دن یونیورسٹی گئی تھیں اور آج ہی میتھ کا ٹیسٹ مل گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ لائبہ کی منع کرتی کہ عمیر کی نہ بتاۓ ٹیسٹ کے متعلق، وہ بھائی کی چمچی بھائی کو بتا بھی چکی تھی کہ ان دونوں کا ٹیسٹ ہے کل اور اس نے بھی حکم صادر کر دیا کہ وہ افطاری سے پہلے ان دونوں کا ٹیسٹ لے گا لہٰذا ان دونوں میں سے سونے کا کوئی بھی نہ سوچے۔ یہ بات اس نے خاص مسکان کی طرف دیکھ کر کی تھی اور وہ تو تپ ہی اٹھی تھی پر اس کھڑوس کو کچھ نہیں کہہ سکتی تھی اس لئے ضبط کر گئی۔
لائبہ نماز پڑھنے گئی تھی اور وہ کتاب کو گھورنے میں مصروف تھی جب پاس پڑا اس کا موبائل بجنے لگا۔اس نے ہاتھ بڑھا کر موبائل پکڑا تو سامنے موبائل کی سکرین پر “کھڑوس کالنگ” لکھا آ رہا تھا۔
“کھڑوس کی کال کیوں آ رہی ہے اب؟ کوئی نیا حکم ہی صادر کرنا ہو گا ضرور۔”
اس نے سوچتے ہوئے کال اٹھا کر موبائل کان پہ لگایا۔
“ہیلو!”
مری مری آواز میں کہتی وہ سامنے والے کا پارہ ہائی کر گئی۔
“السلام علیکم! یہ ہیلو کیا ہوتا ہے؟ سلام نہیں لی جاتی کیا؟ اپنے ہوش و حواس قائم رکھا کرو۔”
اس کی بات پر وہ آنکھیں گھما کر رہ گئی۔
“اچھا سنو روم میں آؤ مجھے میری ایک فائل نہیں مل رہی تم نے ہے رکھی ہو گئی کہیں وہ ڈھونڈ دو آ کر اور مجھے امید ہے تم نے ٹیسٹ بھی یاد کر لیا ہوگا۔ اس لئے اچھے بچوں کی طرح اپنا رجسٹر کتاب وغیرہ لے کر جلدی میرے روم میں پہنچو۔”
وہ حکم صادر کرتا اس کا جواب سنے بغیر کھٹاک سے کال بند کر گیا جب کہ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے موبائل کو دیکھتی رہ گئی۔ ابھی تو اس کو آدھا ٹیسٹ بھی یاد نہیں ہوا تھا ۔
وہ غصے سے اٹھی اور تن فن کرتی نیچے آ گئی۔ سامنے ہی آمنہ بیگم بیٹھی تسبیح کر رہی تھیں۔وہ پير پٹختی ان کے پاس پہنچی۔
“امی سمجھا لیں اپنے داماد کو!”
وہ چیخ کر کہتی آمنہ بیگم کا دل دہلا گئی۔
” کیوں اب کیا کر دیا میرے معصوم بچے نے جو تم یوں چیخ چیخ کر اپنا حلق خشک کر رہی ہو روزے کی حالت میں۔”
انہوں نے تیوری چڑھا کر اس کی جانب دیکھا۔
” امی آج آپ بتا ہی دیں مجھے کہ ایسی کون سی دشمنی تھی دادا حضور کو مجھ سے جو جاتے جاتے اپنا جلاد پوتا میرے گلے باندھ گئے۔”
اس کی حالت ایسی تھی جسے بس ابھی ہی رو دے گی۔ وہ منہ بسورتی دهپ سے ان کے نزدیک صوفے پر بیٹھ گئی۔
“تم جیسا نا شکرا انسان میں نے اپنی زندگی میں آج تک نہ دیکھا اور نہ سنا۔ ارے دشمنی تو وہ میرے ہیرے جسے بیٹے سے نکال گئے جو تمھارے جیسی کوڑھ مغز اور کام چور لڑکی اس کے پلے باندھ دی۔”
ان کی گوہر افشانی پر اس نے تڑپ کر ان کی جانب دیکھا۔
“ان کو ہیرا کہہ کر آپ اب ہیرے کی بے عزتی کر رہی ہیں امی میں بتا رہی ہوں آپ کو۔ ایک نمبر کے سانڈ ،سڑیل، کھڑوس ، بوڑھی روح، اور ۔۔۔اور ۔۔۔”
وہ اس کو زور و شور سے خطاب دیتی ابھی اور نام سوچ رہی تھی جب ایک آواز سن کر اسکی روح فنا ہوئی تھی۔
“ہاں اور بھی یاد کر لو آرام سے کوئی جلدی نہیں۔”
پشت سے ابھرتی بھاری ٹھنڈی ٹھار آواز سن کر آواز اس کے حلق میں ہی دب کر رہ گئی۔
عمیر تو اس کی خیالات جان کر عش عش کر اٹھا تھا۔
تھا کچھ یوں کہ ان سب کی دادی جان یعنی نور بانو بیگم اور ان کے مجازی خدا کبیر احمد کو اللّه نے دو بیٹوں سے نوازا۔ بڑے بیٹے اکبر احمد کی شادی شازیہ بیگم سے کی تو اللّه نے ان کو تین بچوں سے نوازا۔ سب سے بڑا عمیر احمد جو پولیس ڈیپارٹمنٹ میں تھا۔ اس سے چھوٹا شارق احمد جو یونیورسٹی کے آخری سال میں تھا اور اس سے چھوٹی لائبہ جس کا ابھی دوسرا سمیسٹر شروع ہوا تھا۔
دوسرے نمبر پر آتے تھے اصغر احمد اور ان کی اہلیہ آمنہ بیگم۔ اللّه نے ان دونوں کو ایک بیٹے اور دو بیٹیوں سے نوازا۔ سب سے بڑا زمان احمد جو ایم بی اے کرنے کے بعد اپنے باپ اور تایا کے ساتھ بزنس سمبھال رہا رہا تھا۔ اس سے چھوٹی مسکان جو لائبہ کے ساتھ ہی دوسرے سمیسٹر میں تھی اور سب سے چھوئی نینا جو کالج کی طالبہ تھی۔
یہ تھی نور بانو اور اکبر احمد کی آل اولاد۔ نور منزل کے سب افراد کے درمیان پیار اور اتفاق مثالی تھا۔ اپنے بچوں کو ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کے لئے کبیر صاحب نے اپنے سب سے بڑے پوتے اور سب سے لاڈلی پوتی کو سب کی رضامندی سے نکاح کے بندھن میں باندھ دیا۔عمیر اس وقت دس برس کا تھا جب کہ مسکان دو برس کی۔ ان دونوں میں بچپن سے بہت محبت تھی۔ مسکان اپنا سب سے زیادہ وقت عمیر کے پاس گزارتی۔ وہ بھی اسکول سے انے کے بعد فقط مسکان کا ہو کر رہ جاتا۔ نکاح کے وقت وہ اتنا چھوٹا بھی نہ تھا کہ کچھ سمجھتا نہ۔ وہ بہت خوش تھا کہ اس کی ڈول ہمیشہ کے لئے اس کی ہو جاۓ گی۔ پر پھر پتا نہیں کیا ہوا کہ وہ اس سے دور ہوتا چلا گیا۔ جیسے جیسے عمر کا فرق بڑھتا گیا ویسے ویسے ان دونوں کے درمیان فاصلے بھی بڑھتے ہی چلے گئے۔ وہ اس سے کوئی فرمائش کرتی وہ ان سنی کر دیتا۔ وہ اس کی گود میں بیٹھ کر کہانی سننے کے لئے مچلتی تو وہ اسے جھڑک کر خود سے دور کر دیتا۔ وہ لاڈ سے اس کے ساتھ سونے کا کہتی تو وہ اسے کمرے سے نکال دیتا۔ اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے ان کے درمیان موجود فاصلے طوالت اختیار کر گئے۔ مسکان کے ننھے ذہن میں یہ بات سما گئی کہ وہ اسے پسند نہیں کرتا۔ اور یہ بات کچے ذہن پر ایسی نقش ہوئی کہ وقت کے ساتھ پختہ ہوتی گئی۔
“عمیر بیٹا چھوڑو اس کو یہ تو ہے ہی باولی کچھ بھی الٹا سیدھا بولتی ہے۔ تم آؤ یہاں میرے پاس بیٹھو۔”
آمنہ بیگم مسکان کو ایک تگڑی گھوری سے نواز کر عمیر کو اپنے پاس بیٹھنے کر کہنے لگیں۔
“نہیں چھوٹی امی ان دونوں کا ٹیسٹ ہے۔ لائبہ میرے روم میں چلی گئی ہے میں بس اسے ہی بلانے آیا تھا۔ چلو تم پہلے ہی وقت کم رہ گیا ہے پھر ٹیسٹ پورا نہیں ہو پاۓ گا۔ “
وہ نرمی سے آمنہ بیگم کو منع کرتا آخر میں سخت لہجہ اپناتے ہوئے اس سے بولا تو وہ شکوہ کن نظروں سے آمنہ بیگم کو دیکھنے لگی جیسے کہہ رہی ہو کہ دیکھا میں نے کہا تھا نا کہ کوئی دشمنی ہے ان کو مجھ سے اور یہ ہیں ہی کھڑوس۔ بغیر عمیر پر ایک بھی نظر ڈالے وہ وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
وہ سب افطاری کے بعد نماز ادا کر کے لاؤنج میں جمع تھے۔
“مسکان بیٹا آج چاۓ نہیں ملے گی کیا؟”
اکبر صاحب کے کہنے پر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“جی ابھی لائی۔”
اس سے پہلے کہ وہ اٹھ کر جاتی دادی جان کی آواز نے اسے روک لیا۔
“بچے چاۓ رہنے دو ایسا کرو ادرک، پودینے اور سونف کا قہوہ بنا لاؤ۔”
وہ اسے ہدایت دیتی پھر سے تسبیح میں مصروف ہو گئیں۔
“پر کیوں دادو؟ پہلے تو افطاری کے بعد سب چاۓ ہی پیتے ہیں پھر آج قہوہ کیوں؟”
ٹیسٹ اچھا نہ ہونے پر عمیر سے عزت افزائی کی وجہ سے مزاج اب تک برہم تھے پر ذہن میں آیا سوال پوچھے بغیر چین کیسے آتا! تب ہی سوال کر بیٹھی۔
“کیوں کہ بیٹا ان تین اجزاء سے بنا قہوہ پینے سے پیاس بھی نہیں لگتی اور لاغری و سستی بھی دور ہوتی ہے۔ طبیت ہشاش بشاش ہو جاتی ہے۔ یہ قہوہ پینے سے معده بھی درست رہتا ہے۔ ابھی سب کے لئے قہوہ بنا لاؤ۔ اگر بعد میں کسی کو چاۓ کی طلب ہوئی تو وہ چاۓ پی لے گا پھر۔ اٹھو لائبہ تم بھی بہن کے ساتھ جاؤ کچن میں۔”
وہ مسکان کو قہوے کے فواںٔد بتاتی آخر میں لائبہ کو اس کے ساتھ جانے کا بولیں تو وہ دونوں کچن کا رخ کر گئیں۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
وہ کالج سے آنے کے بعد اپنے کمرے میں بند ہو گئی تھی۔ لائبہ ایک دفعہ دیکھنے آئ پر تب وہ سو رہی تھی۔ افطاری کے وقت کمرے سے باہر نکلی اور سب کے ساتھ بیٹھ کر افطاری کی۔ اس کے بعد پھر ایک ضروری ٹیسٹ یاد کرنے کا کہتی اپنے کمرے میں بند ہو گئی۔
وو کہہ کر گئی تھی کہ کوئی اسے ڈسٹرب نہ کرے۔ وہ تکیے میں منہ دیے پڑی تھی جب دروازہ بجا۔ وہ ان سنی کر کے لیٹی رہی۔ پر دستک دینے والا بھی کوئی مستقل مزاج بندہ تھا جو بار بار دستک دیے جا رہا تھا۔ وہ اٹھی اور سب سے پہلے اپنی آنکھیں دوپٹے سے رگڑ کر صاف کیں پھر لباس درست کیا اور آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔
سامنے شارق کھڑا تھا۔
“شارق بھائی آپ؟ کوئی کام تھا آپکو کیا؟”
وه آنکھیں جھکا کر بولی جب کہ وہ گہری نظروں سے اس کے ستے ہوئے چہرے کی جانب دیکھ رہا تھا۔
“کیا ہوا مینا ؟ روئی ہو نا تم؟ بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے۔”
اس کے اتنے پیار سے پوچھنے پر نینا سے اپنے آنسوؤں پر قابو پانا مشکل لگنے لگا۔
“نہیں تو۔۔۔کچھ بھی نہیں ہوا۔”
وہ دھیمے لہجے میں جواب دیتی رخ موڑ کر اندر چلی گئی تو وہ بھی اس کے پیچھے آ گیا۔
“کچھ تو ضرور ہوا ہے اور میں جانتا ہوں کہ روئی ہو تم اس لئے جلدی سے بتا دو اب کہ کیوں روئی۔”
اس کے کہنے پر وہ زبردستی مسکان چہرے پر سجا گئی۔
“وہ دراصل شارق بھائی میرے سر میں بہت درد ہے دوپہر سے۔ بس اسی لئے۔”
اس کے بتانے پر شارق نے گہرا سانس بھرا۔ کتنا پریشان ہو گیا تھا وہ۔
“پاگل لڑکی کوئی دوائی لینی تھی نا۔ ایسے کمرے میں بند پڑی ہو۔ اٹھو اور چل کر دوائی لو۔ مجھے میری مینا ہمیشہ چہچہاتی ہوئی اچھی لگتی ہے۔”
وہ فکر مندی سے بولتا اسے سچ میں مسکرانے پر مجبور کر گیا۔
“میں دوائی لے چکی ہوں بس اب سوؤں گی کچھ دیر تو ٹھیک ہو جاؤں گی۔”
اس کے کہنے پر وہ سر ہلا کر اس کی جانب مسکراہٹ اچھالتا وہاں سے چل دیا جب کہ وہ دروازہ بند کر کے بیڈ پر گرتی قسمت کی ستم ذریفی پر پھر سے رو دی۔ اس نادان نے کہاں سوچا تھا کہ قسمت اس کے ساتھ اتنا بڑا کھیل کھیلے گی اور اس معصوم کی عزت یوں داؤ پر لگ جاۓ گی۔ یوں ہی روتے سسکتے کب نیند کو دیوی اسے اپنے پروں میں چھپا گئی اسے علم بھی نہ ہوا۔ اور نیند تو سولی پر لٹکے انسان کو بھی آ جاتی ہے۔ وہ تو پھر نرم بستر پر محو استراحت تھی۔