Rate this Novel
Episode 7
وہ گاڑی گیٹ سے نکالنے لگا تو گیٹ کے پاس گم سم کھڑی نینا کو دیکھ کر گاڑی روک گیا۔ اس نے شیشے سے سر باہر نکال کر سیٹی بجائی پر وہ متوجہ نہ ہوئی۔ اس نے زور سے ہارن بجايا تو وہ تیز آواز سنتی ہوش میں آئ۔شارق نے اسے پاس آنے کا اشارہ کیا تو وہ ہولے ہولے پیر گھسیٹتی شارق والی سائیڈ پر گاڑی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔
“کیا ہوا ایسے کیوں کھڑی ہو اور اب تک کالج کیوں نہیں گئی؟”
اس کے پوچھنے پر وہ اپنی كلایٔ پر بندھی گھڑی اس کی آنکھوں کے سامنے کر گئی۔
“کیوں کہ پانچ منٹ لیٹ تھی اس لئے وین چھوڑ کر چلی گئی۔”
وہ اسے بتانے کے ساتھ اپنا بازو پیچھے کر گئی۔
“چلو آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں۔ یونیورسٹی ہی جا رہا ہوں پہلے تمہیں ڈراپ کر دیتا ہوں۔”
وہ کہتے ہی فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول گیا تو وہ بھی چپ چاپ آ کر بیٹھ گئی۔ اس کے بیٹھتے ہی شارق نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
گاڑی میں خاموشی چھایٔ ہوئی تھی۔ وہ گاڑی ڈرائیو کرتے گاہے بگاہے اس پر بھی نظر ڈال لیتا جو گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کو گھور رہی تھی۔ آنکھوں کے گرد ہلکے پڑنے شروع ہو چکے تھے۔ پیلی رنگت، ویران آنکھیں اور مرجھایا ہوا چہرہ لئے یہ لڑکی اس کی نینا سے بہت مختلف نظر آ رہی تھی۔
“مینا! تم ٹھیک ہو؟”
وہ فکرمند نظر آتا تھا۔
“جی ٹھیک ہوں۔ مجھے کیا ہونا ہے؟”
وہ الٹا اس سے سوال کر گئی۔
“کوئی مسئلہ یا پریشانی ہے تو تم مجھ سے شیئر کر سکتی ہو۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ تمہیں ناامید نہیں ہونے دوں گا۔”
وہ اس کے تاثرات جانچنے میں مصروف تھا۔ اس کی بات سن کر نینا کا رنگ پهیكا پڑ گیا۔
“نن۔۔نہیں تو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ سب ٹھیک ہے۔”
وہ اسے یقین دلانے کی خاطر چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجا گئی پر سامنے والا اتنا بیوقوف ہرگز نہ تھا کہ اس کے چہرے کے رنگ پہچان نہ پاتا۔
“گڈ! اگر کبھی کوئی بھی پریشانی ہو تو سب سے پہلے میرے پاس آنا کیوں کہ میں تمہارا بیسٹ فرینڈ ہوں اور بیسٹ فرینڈ سے کبھی کوئی بات نہیں چھپاتے! میں سہی کہہ رہا ہوں نا؟
اس کے پوچھنے پر وہ سر ہلا گئی۔
گاڑی کالج کے گیٹ کے باہر رکی تو وہ اسے الوداع کہتی گیٹ سے اندر داخل ہو گئی جب کہ شارق کا دماغ اس وقت بہت سے دهاگوں میں الجھا ہوا تھا۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
وہ آڑھی ترچھی بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی جب آمنہ بیگم نے کمرے میں قدم رکھا۔
“مسکان پانچ بجے تک تیار ہو جانا عمیر کے ساتھ افطاری پر جانا ہے تمہیں اور میں کوئی بہانا نہیں سنوں گی اب!”
اس پہ حکم صادر کر کے وہ یہ جا وہ جا۔ جب کہ وہ ہونق بنی ان کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“افطاری پر جانا ہے! وہ بھی ان کھڑوس کے ساتھ! یہ امی کو بھی نہ جانے کیا ہو گیا ہے۔ ابھی سے روزہ لگنے لگا شاید۔”
وہ ان کی بات کو ہوا میں اڑاتی اپنا موبائل پکڑ کر گیم كهيلنے میں مگن ہو گئی۔ آدھے گھنٹے کے بعد لائبہ کمرے میں داخل ہوئی تو اسے یوں ہی لاپرواہی سے موبائل میں گم پا کر تپ اٹھی۔
“تم ابھی تک مُردوں کی طرح ایسے ہی پڑی ہو۔ تیار کیوں نہیں ہوئی؟ بھائی آنے ہی والے ہوں گے اب تو!”
وہ اس کے سرہانے پہنچ کر موبائل اس کے ہاتھ سے کھینچ گئی۔
” مجھے تیار کس لئے ہونا ہے اور تمھارے کھڑوس بھائی کے آنے کا وقت ہو گیا ہے تو میں کیا کروں؟ پھلووں کی پتياں لے کر دروازے میں کھڑی ہو جاؤں ان کے استقبال کے لئے یا پھر ان کے قدموں میں پلکیں بچھا دوں!”
وہ جو پہلے ہی عمیر پر بھری بیٹھی تھی اس کے سوال پر پھٹ ہی پڑی۔
“اف دماغ سے خالی عورت بھائی کے ساتھ افطاری پر نہیں جانا کیا؟ تم بھائی کی کال نہیں اٹھا رہی نہ میسج کا جواب دے رہی تو انہوں نے مجھے کال کر کے کہا کہ تمہیں بتا دوں کہ سفید جوڑا پہن کے تیار ہو جو یونیورسٹی کے میلاد پر پہنا تھا اور میں نے تب ہی تمہیں میسج بھی کر دیا تھا۔ اب تک تیار کیوں نہیں ہوئی پھر تم؟
اس کے بتانے پر مسکان کو غش پڑتے پڑتے رہ گیا۔ عمیر سچ میں اسے خود باہر لے کا جا رہا تھا اور اس کی مرضی کا لباس پہننے کی فرمائش بھی کر رہا تھا! کیا سچ میں؟
“اب اٹھ بھی جاؤ یا بیٹھے بیٹھے ہی جم گئی ہو؟”
اس کے یوں مراقبے میں جانے پر وہ دانت پیس کر بولی تو ہوش میں آتی چھلانگ لگاتی بیڈ سے اٹھی۔
“تمہارے بھائی سے کسی اچھے کی امید تو نہیں مجھے۔ کیا پتا باہر لے جا کر بےعزتی ہی کرنی ہو۔”
اس کے مشکوک لہجے پر لائبہ نفی میں سر ہلا گئی۔
“تم کبھی کچھ اچھا نہ سوچنا۔ اتنے جلاد بھی نہیں میرے بھائی جتنا تم بنا دیتی ہو۔ دفع مرو اب جلدی سے تیار ہو جاؤ۔”
وہ اسے باتھ روم کی طرف دھکیلتی ہوئی بولی۔
“ہاں اتنے زیادہ نہیں ہیں پر کچھ کم بھی نہیں ہیں۔”
وہ لائبہ کے سر پر تھپڑ رسید کرتی کھٹاک سے دروازہ بند کر گئی تو لائبہ دانت کچکچا کر رہ گئی۔ پھر الماری ککی طرف بڑھ گئی تا کہ اس کے کپڑے،جوتا اور جیولری وغیرہ نکال سکے۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
سفید سوٹ زیب تن کیے وہ گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا اس محترمہ کا انتظار کر رہا تھا جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ اس نے ایک نظر کلائی میں بندھی گھڑی پر ڈالی جو ساڑھے پانچ بجے کا وقت بتا رہی تھی۔ گھڑی سے نظر ہٹا کر اس نے جیسے ہی سامنے دیکھا اس کی آنکھیں ایک پل کو ساکت ہوئی تھیں۔ سینے میں دھڑکتے دل کی رفتار معمول سے کچھ زیادہ ہوئی تھی۔اس کی پسند کے لباس میں ملبوس، لبوں اور گالوں پر ہلکی سی سرخی لئے اور لمبی پلکوں کو مسکارے سے سجاۓ، سر پر سفید ہی آنچل اوڑھے وہ عمیر احمد کو مبہوت کر گئی تھی۔
خود پر گڑی عمیر کی نظریں دیکھتی مسکان کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگنے لگیں۔ اس کے نہ نہ کرنے کے باوجود لائبہ اسے تیار کر چکی تھی۔ وہ سہج سہج کر قدم اٹھاتی جسے ہی اس کے قریب آئ وہ ٹرانس سے نکلتا ایک مسکراتی ہوئی نظر اس پر ڈال کر فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول گیا۔ اس کے بیٹھنے کے بعد وہ دروازہ بند کرتا گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آیا اور گاڑی آگے بڑھا گیا۔
ہوٹل میں پہنچنے پر وہ گاڑی سے نکلتا اس کی سائیڈ پر آ کر ایک جینٹل مین کی طرح اس کے لئے دروازہ کھول کر ایک ہاتھ اس کے آگے بڑھا گیا۔
وہ جھجک کر اس کے مضبوط ہاتھ میں اپنا نازک ہاتھ دیتی باہر آ گئی۔ عمیر نے اس کا ہاتھ پھر بھی نہ چھوڑا اور اسے اپنے ساتھ لیئے ہوٹل کے اندرونی حصے کی طرف قدم بڑھا دیے۔
وہ اسے لئے پہلے سے ریزرو کیے گئے ٹیبل پر آ گیا۔ اس کے لئے کرسی کھینچ کر پہلے اسے بٹھایا پھر سامنے والی کرسی پر خود بیٹھا۔ مسکان کی زبان تو جسی گم ہی ہو گئی تھی کہیں۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ عمیر ہی ہے۔ اس کھڑوس کا یہ روپ ہضم کرنا کافی مشکل تھا اس کے لئے۔
“ہائے! کتنا شاندار بندہ ہے یار!”
اونچی آواز میں کیے گئے تبصرے پر دونوں کی نگاہ بے ساختہ ساتھ والے ٹیبل پر پڑی جہاں ایک لڑکی عمیر کو نہارتی اپنی ساتھی لڑکی سے کہہ رہی تھی۔ عمیر نے فوراً اپنی نظریں وہاں سے ہٹا کر دوبارہ مسکان پر مرکوز کر لیں۔
“مسکان آج صبح کیا ہوا تھا؟ آئ اتنا شدید ری ایکشن کس بات پر تھا؟ اس کے بعد میں تمہارے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹاتا رہا تم نے نہیں کھولا۔ پھر کالز کرتا رہا پر تم نے ایک بھی کال ریسیو نہیں کی۔ میسجز کرتا رہا پر تم نے ایک بھی میسج کا جواب نہیں دیا۔ اس سب کی وجہ پوچھ سکتا ہوں؟”
عمیر مسلسل بول رہا تھا پر وہ سن ہی کہاں رہی تھی اس کی آواز۔ اس کی نظریں اور کان سامنے بیٹھی لڑکی پر تھیں جو عمیر کو دیکھتی اپنے جلوے دکھانے میں مصروف تھی۔ نیل پینٹ سے سجے چڑیلوں کی طرح لمبے لمبے ناخنوں کو ایک ادا سے اپنے چہرے پر پهيرتی چست لباس پہنے کولگیٹ کا اشتہار بنی وہ لڑکی مسکان کو اس قدر بری لگ رہی تھی جس قدر بریانی میں الائچی!
“دھیان کہاں ہے تمہارا؟ تم سے مخاطب ہوں میں!”
اس کے جهنجهلا کر کہنے پر مسکان نے شعلہ برساتی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
“میرا دھیان وہیں ہے جہاں کچھ دیر پہلے آپ کا تھا۔”
اس نے سلگ کر کہتے نظریں دوبارہ اس چڑیل کی طرف گھماںٔیں تو وه اس کی نظر کا اشارہ سمجھتا سر پکڑ کر رہ گیا۔
“خدا کو مانو یار! اس کی اونچی آواز پر ایک بے ساختہ نظر اس طرف اٹھی تھی میری۔ تم بھی اچھے سے جانتی ہو اس کے بعد میں نے غلطی سے بھی اس طرف نہیں دیکھا۔ پھر یہ شکوہ کیسا؟”
وہ بیچارہ بے قصور ہوتے ہوئے بھی صفائی دے رہا تھا اور ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس کی کانچ سی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس کی نم آنکھیں اور كپكپاتے لب دیکھتا وہ تڑپ اٹھا۔
“چندہ! تمہیں یقین نہیں کیا مجھ پر؟”
وہ آگے کو ہوتا اس کے ہاتھ تھام کر بے چینی سے بولا تو وہ شکوہ کن نم آنکھوں سے اس کی آنکھوں میں ایک پل کو جھانکتی نظریں جھکا گئی جسے کہہ رہی ہو کہ یقین کی ڈور تهمایٔ ہی کب آپ نے مجھے۔اتنے میں اذان ہو گئی تو دونوں چپ چاپ افطاری کرنے لگے۔ اس کے بعد عمیر باتیں کرتا رہا جس کا جواب وہ ہاں یا نہ میں دیتی رہی بس۔ واپسی کا سفر بہت خاموشی سے طے کیا گیا تھا۔ گاڑی گھر میں رکتے ہی وہ دروازہ کھول کر باہر نکلی اور بغیر کچھ کہے سنے تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گئی جب کہ وہ بے بسی سے آنکھیں میچ کر سر سیٹ کی پشت سے لگا گیا۔ پتا نہیں ان دونوں کے درمیان کب سب ٹھیک ہو گا! وہ بس سوچ کر رہ گیا۔
