Chand Mere Aangan Ka By Meem Aain Readelle50158 Episode 10 & 11
Rate this Novel
Episode 10 & 11
قسط نمبر 10👀
عمیر پولیس سٹیشن جا چکا تھا اور مشال آرام کرنے کے لئے گیسٹ روم میں جا چکی تھی۔ مسکان نیچے آئ تو لائبہ دادی جانکے آگے بیٹھی ان سے سر میں تیل لگوا رہی تھی۔ وہ بھی پاس آ کر وہیں بیٹھ گئی۔ مزاج ابھی بھی برہم تھے۔
“مل لیا اپنی سوتن سے؟”
لائبہ کے شرارت سے پوچھنے پر مسکان کا پارہ ایک دم ہائی ہوا تھا۔
“منحوس عورت اپنی اس کالی زبان سے ہمیشہ بد فعالی ہی کرنا تم۔ ذرا جو تمہیں کبھی شرم آئ ہو فضول بکواس کرتے وقت ۔ اس لومڑی کو تو ایسا سبق سکھاؤں گی کہ ساری زندگی یاد رکھے گی کہ کس سے پالا پڑا۔ ایسے اکڑ کر بیٹھی تھی جیسے یہ اس کا ہی گھر ہو۔ ٹینڈے جیسی شکل پر دو کلو میک اپ تھوپ کر اپنے نہ نظر آنے والے حسن کی جلوے دکھا رہی تھی میرے شوہر کو۔ غصہ تو اس بات کا ہے کہ اپنے اکلوتے بچپن کے شوہر کو میں نے آج تک اس نظر سے نہیں دیکھا جیسے وہ لومڑی دیکھ رہی تھی اور دکھ اس بات کا کہ تمھارے اس سڑیل بھائی نے اپنی اکلوتی بچپن کی بیوی جو کہ رج کہ حسین بھی ہے اس سے تو کبھی ایسے ہنس کر بات نہیں کی بلکہ ہمیشہ کریلے ہی چبا رہے ہوتے ہیں اور اس چڑیل کے سامنے کولگیٹ کا سستا اشتیہار بن کر دانتوں کی نمائش کر رہے تھے۔”
اس کہ یوں جل کر کہنے پر لائبہ ہنسی دبانے لگی۔ جب کہ مسکان کی زبان کو بریک بازو پر لگنے والی ہیئر برش سے لگی تھی۔ اس نے سی کرتے سامنے دیکھا جہاں دادی جان اسے گھور رہی تھیں۔
تمہیں کس دن عقل آۓ گی مسکان۔ جانتی ہو غیبت کتنا بڑا گناہ ہے۔ وہ یہاں پر تمہاری باتیں سن رہی ہے کیا جسے تم اتنا سنا رہی ہو۔”
دادی جان نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔
“پر دادی جان میں کون سا جھوٹ بول رہی ہوں۔ جو برائیاں اس میں ہیں ان کا ہی ذکر کر رہی ہوں بس۔”
اس کے منہ بسور کر کہنے پر وہ نفی میں سر ہلا گئیں۔
“آپﷺ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے اس عیب کا ذکر نہ کرو جسے وہ ناپسند کرتا ہو ۔ پوچھا گیا کہ آپﷺ کا کیا خیال ہے اگر وہ عیب واقعی میرے بھائی میں موجود ہو جس کا میں ذکر کروں آپﷺنے فرمایا جو عیب اس میں موجود ہو اور تم کہو تو یہی تو غیبت ہے جب کہ اگر وہ عیب اس میں موجود ہی نہ ہو اور تم کہو تو یہ بہتان ہے۔(صحیح مسلم)”
لائبہ اور مسکان سانس روکے ان کی باتیں سن رہی تھیں۔
“یاد رکھو بچے سب نے اپنی اپنی قبر میں جانا ہے مرنے کے بعد۔ دوسروں کے عیبوں کی تشہیر کر کے اپنے برے اعمال میں اضافہ کرنے سے بہتر ہے کے ہم اپنی زبان کی ڈائیٹنگ پر توجہ دیں۔ ہم جب کس سے پیار کرتے ہیں تو ہم کسی اور کے منہ سے اس کی برائی برداشت نہیں کر سکتے۔ اور اللّه نے تو ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ پھر اسے کیسے اچھا لگ سکتا ہے کہ اسی کے بندے ہی اس کے بندوں کی برائی کریں ان کی پیٹھ کے پیچھے۔ اور تم جانتی ہو کہ غیبت کرنے کی کیا سزا ہے؟”
ان کے پوچھنے پر وہ نفی میں سر ہلا گئی۔
“حدیث مبارکہ ﷺ ہے کہ جب مجھے معراج کے لئے لے جایا گیا تو مجھے ایسے لوگوں کے پاس لے جایا گیا جن کے ناخن تانبے کے تھےجن سے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرائیل نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے(غیبت کرتے تھے ) اور ان کی عزت سے کھیلتے تھے۔(سنن ابی داؤد)”
ان کی بات سن کر دونوں نے جھرجھری لی۔ مسکان اپنی جگہ سے اٹھ کر جلدی سے دادی جان کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
“دادی جان غیبت کا کفارو کیا ہے۔”
وہ دادی جان کا ہاتھ تھامتی آنکھوں میں خوف لئے مستفسر تھی۔
“غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی تم نے غیبت کی ہے اس کے لئے مغفرت طلب کرو(كنز الاعمال)۔ میری بچی اللّه سے توبہ کرو اور آئنده اس چیز سے اجتناب کرو۔”
ان کے کہنے پر وہ سر ہلا گئی اور ان کی گود میں ہی سر رکھ کر لیٹ گئی جب کہ دادی جان مسکراتے ہوئی اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں۔ وہ سکون محسوس کرتی آنکھیں بند کر گئی۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
“کیا! تم نے کیا کہا ذرا پھر سے کہنا۔”
مسکان اس کی بات سنتی چیخ پڑی تھی۔ لائبہ نے آگے ہوتے جلدی سے اس کے منہ پر اپنا ہاتھ جما دیا۔
“اف اپنے اس سپیکر کا واليم تو کم رکھو۔ کسی نے سن لیا تو میں تو بھری جوانی میں ہی اس دارِِ فانی سے کوچ کر جاؤں گی۔”
اس کے بولنے پر مسکان نے اپنے منہ سے اس کا ہاتھ ہٹاتے پاس پڑا کشن اٹھا کر لائبہ کو مارنا شروع کر دیا جب کہ وہ ارے ارے ہی کرتی رہ گئی۔
“میسنی عورت کتنی گھنی ہو تم آنکھیں بھی لڑا لیں بہانے بہانے سے ملاقاتيں بھی کر لی اور تو اور اظہار محبت بھی ہو گیا اور مجھے ہوا تک نہ لگنے دی۔ تم ایسا کرو بہن نکاح کروا کر ایک دفعہ ہی بتا دینا۔ یہ بار بار زبان کو زحمت دینے کا تردد کیوں کرنا۔”
وہ کشن سائیڈ پر پھینک کر پیچھے ہو کر بیٹھ گئی اور اس پر طنز کے تیر برسانے لگی۔ اسے لائبہ نے اب بتایا تھا شاہین کے متعلق اور اب مشورہ مانگ رہی تھی کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ اس کے غصہ ہونے پر لائبہ اس کے قریب آ کر اس کا گال چوم کر اس کے گلے میں جھول گئی۔
“اچھا نا میری پیاری بہن معاف کر دو غلطی ہو گئی جو بتایا نہیں تمہیں پر مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ بھی مجھے پسند کرتا ہے اور اتنی جلدی اظہار بھی کر دے گا۔ پلیز تم تو سمجھو نا۔”
اس کے بے چارگی سے کہنے پر بالآخر مسکان کو اس پر ترس آ ہی گیا۔
“چلو پیچھے ہٹو موٹی اب کیا یاد کرو گی۔ معاف کیا تمہیں۔”
وہ اس پر احسان عظیم کرتی ہوئی بولی تو لائبہ نے شکر ادا کیا کہ زیادہ پاپڑ نہیں بیلنے پڑے۔
“اچھا بتاؤ نا اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ کل رات کو وہ چھت پر جواب لینے آۓ گا۔
لائبہ کی سنجیدگی دیکھ کر مسکان بھی سنجیدہ ہوئی کیوں کہ یہ واقعی ایک سیریس معملہ تھا۔
“دیکھو لائبہ مجھے لگتا ہے کہ تمہیں اس لڑکے کو موقع دینا چاہیے کیوں کہ اس نے آج کل کے لڑکوں کی طرح دوستی کا نہیں کہا۔ آج کل لڑکے محبت کے نام پر معصوم لڑکیوں کو بدنامی کے جال میں پھنسا لیتے ہیں۔ رات دیر تک ایک نا محرم سے گفتگو کرنا، گھر میں جھوٹ بول کر باہر ملاقاتیں کرنا یہ کون سی محبت ہے؟ محبت تو عزت کا دوسرا نام ہے۔ جو آپ سے محبت کرتا ہے اس کی سب سے پہلی خواہش ہی یہی ہوتی ہے کہ آپ کو اپنا محرم بنائیں۔ وہ آپ کو اپنی عزت سمجھتے ہیں اور کوئی خود کی عزت پر آنچ آنے دیتا ہے کیا؟ کبھی بھی نہیں! اس نے سیدھا رشتہ بھیجنے کی بات کی ہے اگر تو پھر وہ واقعی تم sسے محبت کرتا ہے۔ تم اسے کہہ دو کہ اگر واقعی تمہیں چاہتا ہے تو رشتہ بھیجے پر اس سب میں تمہارا نام نہیں آنا چاہیے۔ ٹھیک ہے نہ؟”
اس کے پوچھنے پر لائبہ اثبات میں سر ہلا کر اس کے گلے لگتی اسے خود میں بھینچ گئی۔
“تم سچ میں میری بہت اچھی بہن ہو۔”
اس کی بات پر مسکان مسکرا دی۔
“اچھا اب زیادہ سینٹی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ پیچھے ہو جاؤ موٹی میرا سانس بند ہو جاۓ گا۔”
اس کے کہنے پر لائبہ نے خونخوار نظروں سے اس کی طرف دیکھا جس نے اس کے اچھے خاصے جسم کو موٹا کہہ کر ہہی سکون لینا ہوتا تھا۔
“دفع مرو ذلیل عورت عزت کے لائق ہی نہیں مت۔”
وہ اس کے کندھے پر تھپڑ مارتی وہاں سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی جب کہ اس کے جانے کے بعد عمیر اور اس چڑیل کا سوچتے مسکان کے چہرے پر پھر سے پریشانی کے تاثرات ابھرے کہ نا جانے اب کیا ہو گا!
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
وہ دونوں لاؤنج میں بیٹھی پڑھ رہی تھیں جب نینا سیڑھیاں اترتی ہوئی وہاں آئ۔ دادی جان سو رہی تھیں جب کہ شازیہ اور آمنہ بیگم کچن میں تھیں۔ وہ ان دونوں کو ایک نظر دیکھتی کچن کی طرف بڑھ گئی۔ سادہ سیاہ لباس زیب تن کیے دوپٹہ سر پر اوڑھے اور بیگ کندھے پر لٹکائے ستا ہوا چہرہ لئے وہ کہیں جانے کو تیار کھڑی تھی۔
“امی میں سارہ کی طرف جا رہی ہوں کچھ نوٹس لینے ہیں ور ڈسکسس بھی کرنا ہے۔ کچھ دیر تک آ جاؤں گی۔”
وہ نظریں جھکا کر سپاٹ تاثرات لئے بولتی انہیں پریشان کر گئی۔
“پر بیٹا ابھی تو تمہاری طبیت بھی نہیں ٹھیک ہوئی اور اکیلی کیسے جاؤ گی۔”
آمنہ بیگم اس کی پیشانی چھو کر بخار کی تپش چیک کرتی فکر مندی سے بولیں۔
“امی میں ٹھیک ہوں اب بہت ضروری کام ہے جس کے لئے میرا جانا ضروری ہے آپ بس دعا کر دیجئے گا کہ کامیاب لوٹوں۔”
وہ آنکھیں بند کر کے خود پر ضبط کرتی اس کو گلے سے لگا کر پیچھے ہٹتی تیزی سے وہاں سے نکل آئ۔
اس کا دل بے تحاشہ دھڑک رہا تھا اس کا دماغ کہہ رہا تھا کہ واپس بھاگ جاؤ گھر پر وہ ضبط کرتی آٹو میں بیٹھ کر اپنی مطلوبہ منزل کی طرف روانہ ہو گئی۔ ان چند دنوں میں اس کی زندگی کیا سے کیا ہو گئی تھی۔ اس نے تو کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ اس کی زندگی ایسا پلٹا کھاۓ گی۔ پر وہ پگلی کیا جانتی تھی کہ عزت بچانے کی خاطر عزت کو ہی داؤ پر لگا کر گھر سے باہر قدم رکھ چکی تھی۔ وہ سوچوں کے گرداب میں پھنسی ہوئی تھی جب ڈرائیور کی آواز اسے ہوش میں واپس لے آئ
وہ آنکھ سے بہنے والا بے رنگ مائع صاف کرتی آٹو سے اتر گئی۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں اور کانپتے ہوئے وجود کے ساتھ آگے بڑھتی گئی۔ وہ ہوٹل میں داخل ہوئی اور مطلوبہ شخص کی تلاش میں نظریں آس پاس دوڑانے لگی جب وہ شخص خود ہی چلتا اس کے پاس آ گیا۔ اس کے پاس آتے ہی نینا کے چہرے پر خوف اور نا پسندیدگی کی لہریں چھا گئیں۔ وہ اسے دیکھ کر کمینگی سے مسکراتا اس کا بازو جکڑ کر اسے اپنے ساتھ گھسیٹنے لگا۔ وہ خود کو اس کی وحشیانا گرفت سے آزاد کروانے کے لئے مچلنے لگی پر ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ بے بسی سے آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنا شروع ہو چکے تھے۔
وہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹتا اوپر لے گیا اور ایک کمرے کے سامنے رک گیا۔ اسے کمرے کا لاک کھولتے دیکھ کر نینا کا رنگ فق ہوا۔ اس نے صرف اسے ہوٹل میں آنے کا کہا تھا پر اب اسے کمرے میں کیوں لے کر جا رہا تھا ۔
اس سے پہلے کہ وہ اس کی گرفت سے نکل کر وہاں سے بھاگتی وہ اسے کھینچ کر کمرے میں کرتا دروازہ بند کر گیا۔
“چھوڑو مجھے گھٹیا انسان۔ تم نے دھوکہ کیا ہے میرے ساتھ۔ تم نے بس بات کرنے کے لئے بلایا تھا مجھے۔ خدا غرق کرے تمہیں۔ اس کا عذاب نازل ہو تم پر۔”
وہ روتی چیختی نڈھال ہو رہی تھی پر اس کی فریاد سننے والا انسان نہیں کوئی وحشی تھا۔
“نہ نہ نہ۔ رونا نہیں۔ تم جانتی ہو کیا کہ میں تمہاری ان حسین آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا۔پیار کرتا ہوں تم سے۔ اور یہ بات بہت پیار سے سمجھا رہا ہوں کافی دن سے پر تم ماننے کو تیار نہیں۔ابھی بھی وقت ہے مان لو میری بات۔ زندگی بھر میرے دل پر ملکہ کی طرح راج کرو گی۔”
اس کہ کہنے پر وہ اس کے منہ پر تھوک گئی۔
“گھٹیا انسان نام بھی مت لو محبت کا۔ یہ محبت نہیں حوس ہے تمہاری جسے پیار کی چادر میں چھپانے کی ناکام کوشش میں ہو تم۔ تمھارے ساتھ زندگی گزارنے پر میں موت کو ترجیح دوں گی۔”
اس کے تھوکنے پر اس کا چہرہ اہانت سے سرخ پڑ گیا۔
“تیرے کو عزت راس نہیں نا تو اب خود کو مجھ سے بچا کر دکھا۔”
وہ تیش میں آتا اسے بیڈ پر دھکا دے گیا۔ وہ چیختی کسی کو مدد کے لئے بلانے لگی پر کوئی ہوتا تو آتا نا!
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
قسط نمبر 11👀
وہ ابھی سو کر اٹھا تھا۔ وجہ کانوں میں مسلسل پڑنے والی آوازیں تھی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ آوازیں کس کی اور کیوں ہیں۔ اس نے چہرے پر بیزار تاثرات سجاۓ بستر چھوڑا اور فریش ہونے کے لئے باتھ روم کا رخ کیا۔ فریش ہونے کے بعد اس نے نیچے کا رخ کیا جہاں بحث جوں کی توں جاری تھی۔ اس کے نیچے آنے پر حیا نے بے بسی سے اسے دیکھا۔ اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے تسلی دی اور خود آگے بڑھا جہاں اس کی مورے اور خانم جان روبرو کھڑی تھیں۔ ایک کا چہرہ ضبط سے سرخ پڑ رہا تھا تو دوسری کا تیش سے۔
حیا اور شاہین نے جب سے آنکھ کھولی تھی ہمیشہ اپنی ماں اور دادی کے درمیان چھتیس کا آکڑا ہی دیکھا تھا۔ اور وہ اپنی ماں کے صبر کو سلام کرتے تھے جنہوں نے ایسی تیکھی اور ہٹلر ساس کے ساتھ زندگی گزار دی۔ ساس کو اپنی شاکر، صابر اور ہر فن مولا بہو سے ہمیشہ بیر ہی رہا جس کی وجہ یہ تھی کہ بیٹے نے ان کی مرضی کو ٹھکرا کر اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کی تھی۔ اور یہ ایسا بیر تھا جو ان کی بہو آج تک ختم نہ کر سکی بلکہ ساس کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کی پر ان کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہ ٹھہری۔ انہوں نے ہمیشہ ساس کی ہر زيادتی برداشت کی۔ صبر کر کے منہ سی لیا پر اب بات اولاد کی آ گئی تھی تو کیسے اپنی اولاد کے ساتھ زيادتی برداشت کرتیں۔
“کیا ہوا مورے؟ کوئی پریشانی ہے کیا؟”
اس نے ماں کے پاس جاتے ان کے کندھے کے گرد بازو پهيلا کر ان کے سرخ چہرے کو دیکھ کر نرمی سے پوچھا۔
“تمہارا ماں کو پریشانی ہو یا اس کا دل جلے پر ام بتا رہا ہے کہ امارا بیٹی کے یہاں آنے پر اگر اس کو کوئی تکلیف ہوا تو ام یہاں ایک پل کے لئے بھی نہیں رکے گا اور پشاور واپس چلا جاۓ گا۔ ام بتا رہا ہے کہ ام اپنی پلوشہ کی شادی شاہین خانا سے کرے گا بس اور یہ امارا آخری فیصلہ ہے۔”
ان کی بات پر شاہین کو چار سو چالیس کیا ہزار والٹ کا جھٹکا لگا تھا۔ آنکھوں میں موجود ہلکی پھلکی نیند بھی اب کے بھک سے اڑی تھی۔آنکھوں کے پردوں پر لائبہ کا معصوم چہرہ لہرایا اور پھر پلوشہ کا بھاری سراپا گھوما۔ اس نے فورا سر جھٹکا۔
“ام بھی دیکھتا ہے کہ کیسے اس مکار عورت کا مکار اور چالاک بیٹی امارے بیٹے کی زندگی میں آتا ہے۔ ام نے ساری زندگی آپ کا ظلم برداشت کرتے گزار دی پر ام اپنی اولاد پر کوئی ظلم نہیں ہونے دے گا اب اور ہر کسی کے سامنے ڈٹ جاۓ گا۔”
امینہ بیگم تیش میں آ کر کہتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں ۔
حیا اور شاہین ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ انہوں نے اپنی ٹھنڈے مزاج والی ماں کو اتنے غصے میں آج پہلی دفعہ ہی دیکھا تھا۔ اس نے ایک نظر غصے سے کچھ بڑبڑاتی خانم جان کی طرف دیکھا اور اپنی مورے کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ حیا بھی اس کی تقلید میں قدم اٹھاتی وہاں سے نکل آئ۔
وہ کمرے میں آیا تو سامنے ہی اس کی مورے بیڈ پر بیٹھی اپنا غصہ ضبط کر رہی تھی۔ وہ دھیرے سے چلتا جا کر ان کے قدموں میں بیٹھ گیا تو وہ اسے دیکھ کر مسکراتی اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں۔
“مورے مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے۔”
اس کے کہنے پر انہوں نے آنکھوں سے اسے بات جاری رکھنے کا اشارہ کیا۔
” مورے میں لائبہ کو پسند کرتا ہوں اور اسے اپنے نکاح میں لینا چاہتا ہوں۔ آپ جتنی جلدی ہو سکے دا جان سے بات کریں اور پھپھو کے آنے سے پہلے لائبہ کی طرف رشتہ لے کر جائیں میرا۔”
اس کی بات سنتے امینہ بیگم کے چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ آ گئی۔ وہ بے ساختہ اس کی پیشانی پر لب رکھ گئیں۔
“میرا بچا تم فکر ہی نہ کرو۔ ام تمہارا شادی لائبہ سے ہی کرواۓ گا۔ وہ بچی ام کو بھی بہت پسند ہے۔ اس چالاک پلوشہ کو ہم اپنا بہو بلکل بھی نہیں بناۓ گا۔ ام آج ہی تمہارے دا جان سے بات کرتا ہے۔”
ان کی بات سنتے شاہین نے سکون بھرا سانس لیا اور مسکراتے ہوئے پھر سے ان کی گھٹنے پر سر ٹکا گیا۔
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
وہ چیختی چلاتی کس کو مدد کے لئے بلا رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس پر قابض ہوتا دروازہ دھڑام سے کھلا اور وہاں سے نمودار ہوتے چہرے کو دیکھتی وہ چھلانگ لگا کر اٹھتی خود کو اس کی گرفت سے چھڑواتی دروازے سے اندر داخل ہوتے شارق کی جانب بھاگی اور اس کے قریب پہنچ کر اس کے ساتھ لگ کر مزید رونے لگی۔ شارق کی آنکھیں سرخ ہوتی لہو چھلکا رہی تھیں۔ اس نے اپنے ساتھ لگی نینا کو بازو سے پکڑ کر الگ کیا اور نیچے زمین پر پڑا دوپٹہ اٹھا کر اسے اوڑھا دیا۔ وہ تیش کے عالم میں سامنے کھڑے لڑکے کی طرف بڑھا اور اس کے منہ پر پوری شدت سے مکا مارا۔ اس کے بعد اسکا ہاتھ نہیں رکا۔ وہ کچھ دیکھے سوچے بغیر پے در پے اسے لاتوں اور مکوں سے لہو لہان کر گیا جب کے ایک سائیڈ پر کھڑی نینا دونوں ہاتھ سختی سے اپنے منہ پر جماۓ اپنی چیخوں کا گلا گھونٹتی سسک رہی تھی۔ ہوٹل کی سیکورٹی نے وہاں آ کر بہت مشکل سے انہیں چھڑوایا۔ شارق نے انھیں خبردار کیا کہ اسے ابھی پولیس کے حوالے کیا جاۓ۔
ان کے جانے کے بعد وہ اس کی طرف بڑھ کر اسے کندھوں سے تھامتا جھنجھوڑ گیا۔
“نینا تم یہاں خود اپنی مرضی سے آئ ہو میں نے خود دیکھا تمہیں یہاں آتے ہوئے۔ کیوں کیا تم نے ایسا ڈیم اٹ! “
اس کے یوں چلانے پر اس کی سسسکیاں بلند ہو گئیں۔ اسے یوں سسکتے دیکھ کر وه پیچھے ہوتا خود پر ضبط کرنے لگا۔ دماغ تھوڑا ٹھنڈا ہونے پر وہ اس کی كلائی تھام کر اسے بیڈ پر بٹھا گیا اور پاس پڑی کرسی کھینچ کر خود اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
“مجھے شروع سے لے کر آخر تک سب بتاؤ اب۔ اور میں بلکل سچ سننا چاہتا ہوں۔”
اس کے کہنے پر وہ آنکھیں پونچھتی خود کو حقیقت بتانے کے لئے تیار کرنے لگی۔
“میری کالج کی بہت اچھی دوست تھی مفره۔ میرا اس سے ٹیلیفونک کنٹیکٹ بھی تھا۔ ہم ایک دوسرے سے اپنی تصویریں بھی شیئر کر لیتی تھی۔ مفره کا بھائی مجھے تنگ کرنا شروع ہو گیا۔ وہ کہتا تھا کہ مجھے پسند کرتا ہے۔ اس نے مجھے پرپوز کیا پر میں نے صاف انکار کر دیا۔ مفره نے میری تصویریں اس کو دے دیں ۔ اس نے۔۔۔اس نے۔۔”
وہ بات کو ادھورا چھوڑ کر ہاتھوں میں منہ چھپا کر بلکنے لگی۔ شارق کا چہرہ غصے اور ضبط سے سرخ پڑ گیا تھا۔ وہ دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں سختی سے بھینچے خود پر ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“بات جاری رکھو نینا”
اس کے سرد لہجے میں کہنے پر وہ اپنے آنسوؤں پر قابو پاتی خود کو بات مکمل کرنے کے لئے تیار کرنے لگی۔
” اس نے میری تصویروں کو بہت بری طرح ایڈٹ کیا اور مجھے بلیک میل کرنے لگا کہ میں اس سے شادی کے لئے ہاں کہہ دوں۔ اللّه کی قسم شارق بھائی وہ تصویریں میری نہیں ہیں میرا چہرہ استعمال کیا گیا ہے بس۔”
وہ اس کا سر تھپتھپانے لگا۔
“مجھے پورا یقین ہے تم پر۔”
اس کی یقین دہانی پر وہ اپنی بات پھر سے جاری کر گئی۔
“میں انکار کرتی رہی تو اس نے کہا کہ وہ یہ تصویریں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دے گا۔ میں اس کی منتیں کرنے لگی کہ ایسا نہ کرے۔ اب اس نے کہا کہ میں ہوٹل میں آ کر اس سے ایک دفعہ بات کر لو۔ میں نے حامی بھر لی۔ پر یہاں آ کر وہ زبردستی مجھے یہاں لے آیا۔ اب بھی اگر آپ نہ آتے تو۔”
اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتی وہ اسے ٹوک گیا۔
“مجھے آنا ہی تھا کیوں کہ اللّه نے مجھے تمہاری حفاظت کہ لئے بھیجا۔”
وہ اس کی بات پر سر ہلا گئی۔
“دیکھو نینا تمہیں سب سے پہلے اپنے گھر والوں پر اعتبار کرنا چاہیے تھا۔ تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ ہم تم پر اعتبار نہ کرتے۔ ہم سب تم سے بہت محبت کرتے ہیں نینا! تم ہمارے گھر کا سب سے چھوٹا بچا ہو۔ چھوٹے بچے سے تو سب کو پیار سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ تم نے غلط یہ کیا کہ اپنوں سے محبت تو کی پر اپنوں پر اور اپنوں کی محبت پر اعتبار نہ کیا۔ میں تو تمہارا بیسٹ بڈی ہوں نا! کسی اور کو نہیں تو مجھے ہی اپنا ہم راز بنا لیتی۔ محبت کی پہلی سیڑھی ہی اعتبار ہوتی ہے۔ یہ کیسی محبت ہے جس میں اعتبار کا کوئی عمل دخل ہی نہیں۔ ہر انسان ہی احتیاط کے لائق نہیں ہوتا بلکہ کچھ انسان اعتبار کے لائق بھی ہوتے ہیں۔ اپنے دل کی آنکھیں کھول کر تو دیکھتی۔اعتبار کی ڈور تهما کر تو ديكهتی۔ میں تمہیں کبھی بھی مایوس ننا ہونے دیتا۔ اگر میں نہ آتا آج تو تم بہت بڑی مصیبت میں پڑ جاتی۔ لڑکیوں کی عزت بہت نازک ہوتی ہے۔ کسی شفاف چمکدار أئینے کی طرح! اگر شیشے میں دراڑ آ جاۓ تو دنیا جہاں کی کوئی چیز بھی اسے نہیں جوڑ سکتی۔ اگر وقتی طور پر جڑ بھی جاۓ تو اس کےٹوٹنے نشان لاکھ تراش خراش کے بعد بھی نہیں جاتے۔ اور دوسری بات آج کل گھر والوں کے علاوہ کوئی بھی اعتبار کے لائق نہیں۔آج کل ہم نہیں جانتے کہ دوست کون ہے اور دشمن کون۔ یہاں تو آستین سے سانپ نکل آتے ہیں۔ آپ کسی پر کیسے اتنا بھروسہ کر سکتے ہیں کہ اپنی تصویریں ہے دے دیں۔ ٹھیک ہے دوستوں کو دکھاؤ اپنی تصویریں پر صرف اپنے موبائل کی حد تک۔ اپنی تصویر کسی کو بھیجنے والی احمقانہ حرکت کبھی بھول کر بھی نہ کرو۔جس دوست کی دوستی بھلی ہوتی ہے اس دوست کی دشمنی اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔جس دوست کے پاس آپ کے راز جمع ہوتے ہیں وہ دشمنی میں آپ کو ان ہی رازوں سے رسوا اور برباد کر سکتا ہے۔پانچوں انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں پر کسی کے اندر کی حقیقت ہم نہیں جانتے کہ کہن کیا ہے۔۔ ہم رسک نہیں لے سکتے۔ اپنی عزت پر تو بلکل بھی نہیں۔”
وہ اس کی باتوں سے سو فیصد متفق ہوتی اپنی بیوقوفی پر خود کو کوس رہی تھی۔ اس نے کیوں نہ ان پہلوؤں پر غور کیا۔
اٹھو اور باتھ روم میں جا کر منہ دھو کر اپنا حلیہ درست کرو۔ گھر میں کسی کو بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے اس بات کی۔ اور پریشان کیا ہو اس لڑکے سے میں اب بہت اچھے طریقے سے نمٹ لوں گا۔ گھر پر یہی کہنا کہ تم نے مجھے کال کی اور میں تمہیں لینے آ گیا۔اٹھو اب شاباش۔”
اس کے کہنے پر وہ سر ہلاتی اٹھی۔ تھوڑا آگے جا کر وہ رک گئی اور پلٹ کر شارق کو دیکھنے لگی ۔وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔اس کے دیکھنے پر مسکرا دیا۔
“تھینکس شارق بھائی۔ آپ سچ میں بہت اچھے ہیں۔ میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں چکا سکوں گی۔”
وہ نم آنکھوں اور بھرائی آواز میں بولتی نظریں جھکا گئی تو شارق اسے گھور کر رہ گیا۔ اپنی بات مکمل کرتی وہ باتھ روم میں گھس کر دروازہ بند کر گئی تو وہ اپنے بالوں میں انگلیاں پهيرتا خود کی پر سکون کرنے لگا.
🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙🌙
