Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ahl e Dil (Last Episode)

Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar

” ملائکہ۔۔۔۔۔ “

دعان کے لبوں پہ وہ لفظ اٹک کر رہ گیا تھا۔

” تت۔۔۔۔ تم۔۔۔۔ آخرکار۔۔۔۔ “

وہ تو جیسے پتھر کا بت بن کر رہ گئی تھی۔ سارے بدن کا خون گویا نچوڑ لیا گیا تھا اور اب زرد پڑ چکی رنگت، ہلدی جیسے چہرے سے اسے دیکھ رہی تھی۔

” دیکھو میں نے تمہیں ڈھونڈ ہی لیا۔۔۔ دیکھو، میں نے تمہیں ڈھونڈ ہی لیا ناں۔۔۔۔ “

وہ جیسے بھول چکا تھا کہ وہ کہاں ہے، کیوں ہے اور اسکے علاوہ وہاں اور کون کون موجود ہے۔ وہ تو ہر شے بھلاۓ بس اسے ہی دیکھتا بولتا جا رہا تھا۔

” میں نے فریال کی تصویر دیکھی تو وہ صورت جانی پہچانی لگی، میں بہت دنوں سے یہ یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ میں نے اسے پہلے کہاں دیکھا ہے۔ کئی راتیں میں نے اسی کشمکش میں گزاریں لیکن آخرکار میں نے تانے بانے جوڑ لئیے ملائکہ۔ دیکھو، میں تم تک پہنچ گیا۔۔۔۔ “

ملائکہ نے لمبی سانس بھری تھی۔

” لیکن اب دیر ہو چکی ہے دعان۔۔۔۔۔ “

دعان نے سختی سے نفی میں سر ہلایا تھا۔

” میرے اور تمہارے مقدر میں ملن تھا ہی نہیں۔۔۔۔ “

” ہرگز نہیں۔۔۔۔ ایسے مت کہو۔۔۔۔ “

وہ شدت سے بولا تھا

” ایسے ہی ہے۔ دعان ایسے ہی ہے۔۔۔۔ “

سب خاموش تماشائی بنے کھڑے، سیڑھیوں پہ کھڑے ان دو نفوس کو دیکھ رہے تھے۔

” کل کوئی اور تھا جو تمہاری اور میری محبت کے درمیان پہاڑ بنا کھڑا تھا۔ آج بھی کوئی ہے، وہیں کا وہیں۔۔۔۔۔۔ “

” فہد ؟؟؟؟ “

اس نے نا سمجھنے کے سے انداز میں سر ہلایا

” اسکی بات کیوں کر رہی ہوں۔ تم جانتی ہو وہ مر چکا ہے “

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس سے محبت کرنے لگی تھی۔

وہ اسکے شوہر کا دوست تھا۔ جگری دوست۔ وہ جس پہ اسکا شوہر آنکھیں بند کر کے ایمان لے آیا تھا۔

” دعان “

وہ دونوں ساتھ کام کرتے تھے۔ فہد کلیم حافی کی فیکٹری میں کام کرتا تھا اور وہیں اسکی دعان سے دوستی ہوئی تھی۔ دوستی گہری ہوتی گئی، کئی بار وہ فید کے ساتھ گھر آیا اور ایسے اس نے ملائکہ کو دیکھا۔ اور اس پہلی بار ملنے میں وہ جان گیا کہ وہ اسکے ساتھ خوش نہیں تھی۔ وہ نصیبوں سے تنگ تھی۔ تقدیر نے ہمیشہ اسکی باری میں ڈنڈی ماری تھی۔ پہلے ماں باپ کے ساتھ غربت دیکھی، پھر انکے بعد شوہر کے ساتھ بھی یہی حال رہا۔ فیکٹری کے ملازم کی تنخواہ ہی کیا ہوتی، ساتھ دو بچے اور ایک نند۔ وہ سر ڈھانپتی تو ننگے پیروں کو دیکھ کر کڑھتی رہتی۔ جلتی، کھپتی اور نصیبوں کو کوستی تھی۔

ایسے میں دعان آیا اور سب کچھ بدلنے لگا۔

عورت کا مقناطیس تو پتھر کو بھی اپنی اور کھینچ لے، وہ کمزور سا انسان کیا شے تھا۔ بے ایمانی اور حکم عدولی اسکی سرشت میں ہے تو جس پھل کو کھانے سے انکار کیا گیا، اسی کی طلب بیدار ہوئی۔

ملائکہ تحائف پا کر خوش تھی۔

رنگ رنگ کے کپڑے جوتے اور تو اور ایک ہیرے کی انگوٹھی۔

وہ جو کلیم حافی کے ہیرے موتی کالے سے سفید کرتا تھا، اسکے لئیے ایک ہیرے کی کیا اوقات۔ پر اس دو بچوں کی ماں کے لئیے وہ ” ہیرہ ” تھا جو اسکے شوہر سے زیادہ چمکدار تھا۔

” میرا تم بن گزارا نہیں ہے دعان۔ میں اب اسکے ساتھ نہیں رہ سکتی ہوں۔ مجھے اب اسکے ساتھ سے گھن آتی ہے اور اسکے گھر میں گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ مجھے پار لگا دو دعان۔ مجھے پار لگا دو “

فہد کو نشے کی لت پہلے بھی تھی پر یونہی کبھی کبھار۔ اچھے سے اچھا، مہنگے سے مہنگا نشہ اسے دعان نے فراہم کیا اور دنیا کی سب سے گھٹیا لت۔ جوا۔

” بس کچھ دن انتظار کرو۔۔۔ وہ دھیرے دھیرے ختم ہو جاۓ گا۔۔۔۔ اسکے بعد ہم شروعات کریں گے۔۔۔۔ بس تھوڑا سا انتظار۔۔۔۔۔ “

وہ اسکے لمس محسوس کرتی، نشے میں دھت فہد کے پاس کھڑی فریال کو بتاتی کہ کیسے اسکا بھائی اسے مارتا ہے اور کتنا ظالم ہے۔ وہ دونوں تو جو بھی کچھ چاہتے تھے، تقدیر نے کھیل کچھ اور ہی کھیلا تھا۔

کلیم حافی دعان کو کام کے سلسلے میں اپنے ساتھ باہر لیکر گئے تھے۔ فہد کا نشہ ٹوٹ رہا تھا لیکن اسکے پاس نشہ تھا اور نا ہی اسے خریدنے کے لئیے رقم۔ وہ اس رات جوا کھلینے گیا اور فریال کو ہار آیا۔

اس رات جب فریال کو اس سے بچاتے بچاتے ملائکہ نے اسکے سر پہ وار کیا تھا۔ اس گھر کو چھوڑنے سے پہلے وہ جان چکی تھی کہ نشے سے ختم ہو چکا اسکا شوہر کھوکھلا درخت بن چکا تھا جو ایک ہی وار میں کٹ کر زمین بوس ہو چکا تھا۔ اسے پتہ تھا وہ بیوہ ہو چکی ہے اور ساتھ ہی اپنے شوہر کی قاتل بھی بن چکی ہے۔ دعان سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ ہوتا بھی تو شائد وہ اس لمحے گھر سے نکل جانے کو ہی ترجیح دیتی کہ قتل اسکی نام نہاد محبت کو بھی دھواں بنا کر ہوا میں تحلیل کر چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” تت۔۔۔۔ تو وہ سب جھوٹ۔۔۔۔۔ وہ سب جھوٹ تھا۔۔۔۔ آپ نے، آپ نے میرے بھائی کو۔۔۔۔۔ “

فریال کانپ رہی تھی۔ اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ماں جیسی بھابھی نے اسکے ساتھ وہ سب کیا تھا۔ کھڑے کھڑے اسے چکر آرہے تھے۔

” آپ نے میرے بھائی کو مار ڈالا۔ آپ نے مجھے، ہمیں برباد کردیا “

وہ حلق کے بل چلائی تھی۔

” وہ تمہیں کسی کو ہار چکا تھا فریال۔ وہ جواری اور شرابی انسان، وہ تمہاری کیا حفاظت کرتا۔۔۔ “

ملائکہ نے رسان سے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھنا چاہا جسے اس نے درشتی سے جھٹک دیا تھا۔

” خبردار جو مجھے ہاتھ لگایا۔ انہیں شرابی اور جواری آپ نے ہی بنایا ہے۔ آپ تھیں، آپ تھیں جس نے ایک بہن کے دل میں بھائی کے لئیے اور دو معصوم بچوں کے دلوں میں انکے باپ کے لئیے نفرت ڈالی۔ آپ نے برباد کردیا سب کچھ۔۔۔ آپ نے سب۔۔۔۔ “

” بس۔۔۔۔ “

دعان نے سختی سے کہا تھا۔

” دودھ کا دھلا نہیں تھا وہ۔ کوئی چھوٹا بچہ نہیں تھا کہ کسی کے لگاۓ کسی راہ لگ جاتا۔ “

” بکواس بند کرو اپنی “

وہ زور سے چلائی

” تم بھی اپنی بکواس بند کرو “

وہ ویسے ہی جواب میں چلایا تھا۔

” دعان “

کمال نیازی آگے بڑھے تھے۔

” تم نے کہا تھا کہ میں تمہیں اس لڑکی تک پہنچا دوں، تم میری بیٹی لوٹا دو گے۔ میرا اور تمہارا معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ اب تم جانو اور یہ سب جانیں۔ “

وہ کہہ کر مڑے اور سختی سے نوریہ کا بازو پکڑ کر کھینچا تگا۔

” چلو نوریہ “

” ڈیڈ۔۔۔۔۔ “

” شٹ اپ “

وہ زور سے دھاڑے اور اسے گھسیٹتے ہوۓ باہر نکل گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” میں نے تمہیں ہر جگہ ڈھونڈا۔۔۔ مارا مارا پھرتا رہا۔۔۔ تم ملی ہی نہیں ملائکہ۔۔۔۔ یقین کرو میں تمہاری تلاش میں ساری ساری رات جاگتا رہا، ہر ہر اہٹ پہ، تمہارے انتظار میں۔۔۔۔۔ “

اسکی آنکھوں میں دیکھتا وہ کہتا چلا گیا

” چلو یہ آزمائش ختم ہوئی، ہمارا انتظار ختم ہوا، امتحان ختم ہوا۔ اب میں اور تم، ہمارے درمیان اب کوئی نہیں آۓ گا۔۔۔۔ چلو میرے ساتھ۔۔۔۔ “

تبھی احمر کے زور سے ہنسنے کی آواز پہ اس نے چونک کر دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھتا، قہقہے لگا رہا تھا۔

” اوہ لنڈے کے رومیو۔۔۔۔۔ “

بمشکل وہ بولا تھا

” جانتا ہے میں تیرے ساتھ کیا کرسکتا ہوں ؟؟؟؟ تیرے پہ کیا کیا جرم ہے ؟؟؟؟ پہلے تو نے میری بیوی کو حبس جا میں رکھا، اتنے دن تک اسے یرغمال بناے رکھا، پھر میرے ہی گھر میں اسلحے کے ساتھ گھسا اور میری بیوی کے سر پہ بندوق رکھی۔ اسکے بعد اب میری ہی بیوی کو کہہ رہا ہے چل میرے ساتھ۔۔۔۔ “

دعان نا سمجھنے کے سے انداز میں اسے دیکھنے لگا

” ہاں۔۔۔۔ میں، احمر حافی، ملائکہ کا شوہر ہوں “

وہ چبا چبا کر بولا تھا۔ دعان نے بے یقینی سے مڑ کر دیکھا۔ ملائکہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

” میں نے تم سے کہا تھا ناں دعان۔ میں اور تم ابھی بھی بہت دور ہیں۔ تمہارے اور میرے بیچ آج بھی کوئی اور موجود ہے “

وہ بہت دیر تک سپاٹ چہرے سے اسے دیکھتا رہا تھا۔ پھر یکدم نفی میں گردن ہلائی اور پلٹا تھا۔

” نہیں، میں آج وہ سب نہیں ہونے دوں گا جو سالوں پہلے ہو چکا۔ اب کی بار میں تمہیں خود سے جدا نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔ “

اسکا ہاتھ شرٹ کے نیچے رینگتا رہا۔ احمر نے دیکھا وہ پستول نکال چکا تھا۔ اسکے نشانے پہ وہ ہی تھا، وہ خود کہ وہی تھا جو اب اسکے حلق میں اٹکا کانٹا تھا۔ دعان کی انگلی ٹریگر پہ تھی جب اس نے انصر کو اپنی جگہ سے ہلتے دیکھا تھا۔

گولی چل گئی تھی۔

لمحے کے ہزارویں حصے میں انصر اسکے سامنے آ چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انصر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں تھا۔

احمر، ڈیڈ، احمد وہیں کوریڈور میں موجود تھے۔ ڈاکٹرز اسکی حالت کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں تھے۔ گولی پھیپھڑے کو بہت زیادہ متاثر کر چکی تھی۔ اسے ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا۔

” انسپکٹر صاحب مجھے وہ جلد از جلد سلاخوں کے پیچھے چاہئیے۔ وہ میرے گھر میں گھس آیا اور میرے بیٹوں پہ گولی چلائی، مجھے قانون نے انصاف نہیں دلایا تو میں بہت برا کروں گا سب کے ساتھ۔۔۔ “

کلیم حافی صاحب بیٹے کی حالت دیکھتے تھے تو رو پڑتے تھے۔ وہ نالیوں میں جکڑا، بے بس سا بستر پہ پڑا تھا۔

” بھائی نے یہ سب کیوں کیا ۔۔۔۔ “

احمر وہیں انکے پاس شیشے کے پاس کھڑا اسے آئی سی یو میں لیٹا دیکھ رہا تھا۔

” ایک طرف تو اتنی نفرت، اتنا غصہ کہ وہ میری شکل دیکھنے کے روادار نہیں تھے اور دوسری طرف یوں۔۔۔۔ میری موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔۔ “

انہوں نے کرب سے اسے دیکھا

” ماس بھی ناخنوں سے جدا ہوتا ہے بھلا۔۔۔۔ “

اس نے باپ کو دیکھا جو بوڑھی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔

” اسے پتہ تھا تو بے قصور ہے۔ اسے پہلے دن سے پتہ تھا۔ بس اسے گواہی چاہئیے تھی۔ کسی ایسے انسان کی گواہی جو اسکے دل کے فیصلے پہ مہر ثبت کر سکے۔ وہ اسے کلیم حافی نے دیدی تھی احمر۔۔۔۔ “

وہ نا سمجھنے کے سے انداز میں باپ کو دیکھتا رہا۔

” ہاں حافی جانتا تھا کہ وہ تجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ حوریہ۔ ویسے ہی جیسے اسے پتہ تھا کہ نوریہ احمر سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ سب کچھ جانتے ہوۓ بھی اس نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ ساتھ تم دونوں کی زندگی بھی تباہ کردی۔ “

وہ بولتے چلے گئے۔ احمر سکتے کے عالم میں کھڑا رہ گیا۔ تبھی احمد دوڑا ہوا انکی طرف آیا تھا۔

” بب۔۔۔ بھائی۔۔۔ وہ فریال کا فون آیا تھا۔۔۔ ملائکہ بھابھی نے خودکشی کر لی ہے۔۔۔۔۔ “

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دعان گرفتار ہو چکا تھا۔

اس نے پولیس کے سامنے اپنا ہر جرم قبول کر لیا تھا۔ انصر پہ گولی چلانے سے پیچھے ماضی کے ہر گناہ تک اور اس سب میں اس نے کمال نیازی کا نام بار بار لیا تھا۔ اسکے پاس نیازی کے کالے دھندوں کے ثبوت تھے۔ کمال نیازی کو شائد اسکا پہلے سے اندازہ تھا، تبھی وہ بیٹی کے ساتھ پہلے ہی ملک چھوڑ گئے تھے۔

ملائکہ ہسپتال تک زندہ نہیں پہنچ پائی تھی۔ دونوں ہاتھوں کی رگیں کاٹ لینے کی وجہ سے اسکا خون بہت زیادہ بہہ گیا تھا۔ ابھی وہ اسکی ڈیڈی باڈی کو گھر بھیج بھی نہیں سکے تھے کہ انہیں انصر کے گزر جانے کی اطلاع مل گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دعان نے سر اٹھا کر دیکھا۔

احمر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ آخری انسان جسکی وہ توقع کر سکتا تھا۔ اس نے اچھنبے سے اسے دیکھا تھا۔

” حیران ہو رہے ہو ناں مجھے یہاں دیکھ کر ؟؟؟؟ “

احمر نے سپاٹ چہرے سے اسے دیکھا تھا۔

” کیا اب اس سب سے کوئی فرق پڑتا ہے ؟؟؟ “

احمر نے لاپرواہی سے کندھے اچکا دئیے

” ہاں شائد تم ٹھیک کہہ رہے ہو “

وہ زرا رکا

” لیکن اگر تم یہ جان لو کہ میں کون ہوں تو شائد تمہیں فرق پڑے۔ اور میں یہی چاہتا ہوں “

وہ اسے دیکھتا بولتا چلا گیا۔

” میں چاہتا ہوں تم باقی کی زندگی اس کال کوٹھڑی میں اسی ذہنی اذیت سے گزارو جو تمہاری وجہ سے بہت سارے انسانوں نے برداشت کی ہے۔ فہد نے۔۔۔۔ فریال نے۔۔۔۔ ملائکہ نے۔۔۔۔ نوریہ نے۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ میں نے۔۔۔۔۔ “

دعان کی آنکھیں پھیلتی چلی گئیں۔

” کک۔۔۔۔ کون ہو۔۔۔۔ تت۔۔۔۔ تم۔۔۔۔ “

وہ سلاخوں کے پاس بہت دیر خاموش کھڑا رہا تھا۔

” تمہیں یہ پوچھنا چاہئیے کہ فہد کون تھا۔۔۔۔۔ “

وہ ٹھنڈے لہجے میں بولا تھا۔

” کلیم حافی کی ناجائز اولاد۔۔۔۔۔۔ یا یوں کہوں کہ وہ جائز اولاد جسے انہوں نے ہمیشہ ناجائز کہا اور سمجھا۔۔۔۔۔ “

دعان سکتے میں آ گیا تھا۔

” میرے باپ نے اسے کبھی اپنا بیٹا نہیں مانا لیکن میری ماں۔۔۔ ہاں وہ ان جیسی نہیں تھیں۔۔۔۔ جائز رشتے سے دیکھیں تو میرے باپ کی دوسری بیوی اور ناجائز تو پتہ نہیں کتنے رشتے تھے۔۔۔۔ انہی میں سے ایک رشتے کا نتیجہ فہد تھا۔۔۔۔۔ اسے نہیں پتہ تھا لیکن میری ماں نے مجھے مرتے مرتے کیا تھا، وہی سب جو اسکی ماں مرتے وقت میری ماں سے کہہ گئی تھی۔۔۔۔۔ جب تک اور جہاں تک ممن ہوا میں نے اسکا خیال رکھا اور مدد کی مگر۔۔۔۔۔ مجھ سے بھی بھول ہوئی اور وہ تم سے مل گیا۔۔۔۔ یا تم اسے مل گئے۔۔۔۔ میں ملک سے باہر تھا اور جو ماہانہ رقم فہد کو بھجواتا وہ اس تک پہنچانے والے کھاتے رہے۔۔۔۔۔ مجھے تب پتہ چلا جب اسکے کومہ میں ہونے کی اطلاع ملی۔۔۔۔ “

وہ بولتا جا رہا تھا اور دعان شاکڈ بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔

” میں نے تب ہی ٹھان لیا تھا کہ اسکے قاتل کو چھوڑوں گا نہیں۔ تمہیں ٹریس کیا اور ملائکہ کو بھی۔ اسے یہ لگتا تھا کہ اس سے پہلی ملاقات محض ایک اتفاق تھی یا پھر حادثہ۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ سب ویسے ہی ہوا جیسے میں نے چاہا۔۔۔۔ “

وہ سلاخوں کے پاس کھڑا اسے دیکھتا، سب بتاتا چلا گیا۔

” مبارک ہو دعان، تم جلد اپنے کئیے کی سزا پانے والے ہو۔ جیسے ملائکہ نے پا لیا وہ سب جو اس نے بویا تھا۔ “

سرد لہجے میں اسے کہہ کر وہ واپسی کے لئیے پلٹ گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ ماہ بعد :

نیویارک کی فضا میں برف کے زرات اڑتے پھر رہے تھے۔ آسمان پوری طرح سے رات کی سیاہی نے ڈھانپ رکھا تھا۔ سمندر کنارے چلتے چلتے نوریہ نے رک کر اپنی جیکٹ درست کی اور دونوں ہاتھوں کو آپس میں رگڑا تھا۔ اس شدید ٹھنڈ میں اسے وہ انتہائی گرم دن یاد آیا تھا جو اس نے پہلی مرتبہ پاکستان میں گزارا تھا۔ وہ اسے یاد کر کے ہولے سے مسکرا دی تھی۔

تبھی اسے اپنی پشت پہ آہٹ محسوس ہوئی تھی۔ اس نے آہستگی سے پلٹ کر دیکھا تھا۔

وہ اسکی طرف ہی بڑھا رہا تھا۔ جینز، جاگرز، نیلی شرٹ جس پہ اس نے لمبا اوور کوٹ پہن رکھا تھا۔ گلے میں مفلر اور ماتھے پہ بکھرے بال۔ داہنے ہاتھ کی انگلیوں میں دبی سگریٹ جس سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ اس کے دل کی دھڑکنیں ہمیشہ کی طرح اسے دیکھتے ہی بے تال ہونے لگی تھیں۔

” تمہیں دیکھتے ہی میرے ذہن میں ایک سوال آتا ہے “

اس کے نزدیک آتے ہی نوریہ نے کہا تھا۔

” وہ کونسا وقت تھا جب میں نے تمہیں اپنا دل دیدیا تھا ؟؟؟ “

اسکے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ وہ اسکے سامنے پہنچ کر رک گیا تھا۔ نوریہ بہت دیر اسکے ماتھے پہ بکھرے بالوں کو دیکھتی رہی پھر ہولے سے بالوں کو ہٹایا تھا۔ اسکی پیشانی پہ زخم کا وہ نشان واضح ہوا تھا۔ وہ جسے چھو کر نوریہ کا دل پرسکون ہونے لگتا تھا۔ اس نے ہولے سے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگا لیا تھا۔ اسکی آغوش میں نوریہ نے گہری سانس بھری تھی۔

” میں نے دنیا کا ہر نشہ چکھ رکھا ہے میری زندگی کے نور۔ تم سے زیادہ مدہوش کرنے والا میں نے کسی شے کو نہیں پایا ہے “

نوریہ اس سے جدا ہوئی اور بغور اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا۔

” ہم اب کبھی جدا نہیں ہوں گے نا احمر “

احمر دھیمے سے مسکرا دیا اور ہولے سے اسکی پیشانی کو چوما تھا

” تمہارے اور میرے درمیان تیسری اب بس موت ہوگی “

وہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ساحل سمندر کے پاس رکھے اس بینچ پہ آ بیٹھے تھے۔ وہاں ایک باسکٹ رکھی تھی جس میں دو گلاس تھے، ایک بوتل، اور کچھ کھانے کی اشیاء تھیں۔

” تو ہم آج کی رات یہی گزارنے والے ہیں ؟؟؟ “

ںوریہ نے اسے دیکھا تو اس نے سر ہلایا تھا

” کیوں نہیں “

بوتل اٹھا کر وہ اب گلاس سیدھے کرنے لگی تھی۔

” فریال کا کچھ پتہ چلا ؟؟؟؟ “

ملائکہ کی خودکشی کے اگلے ہی دن وہ بچوں کو لیکر گھر سے چلی گئی تھی۔ احمر نے اسے ڈھونڈنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔ اسکے ساتھ جتنا کچھ برا دوسروں نے کیا تھا، اب کم از کم اسے باقی زندگی اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار ملنا چاہئیے تھا۔

” میں نے اسکے نہیں ڈھونڈا لیکن کسی اور نے ڈھونڈ لیا ہے شائد “

نوریہ نے اچھنبے سے اسے دیکھا

” احسن ؟؟؟ “

وہ خاموش رہا۔

نوریہ نے مشروب سے بھرا گلاس اسکی طرف بڑھایا تھا۔ گلاس تھام کر احمر نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔

” جب میں نے تم سے کہا کہ دعان کو اپنے جال میں لپیٹ کر پاکستان تک لاؤ، تو تم نے یہ کیوں کیا ؟؟؟؟ صرف میرے کہنے پہ ؟؟؟؟ “

اسے دیکھ کر کندھے اچکاۓ اور باسکٹ میں سے پھل نکالنے لگی۔ احمر نے سمجھنے کے سے انداز میں سر ہلایا اور گلاس منہ سے لگا لیا۔ بہت دیر تک وہ گھونٹ گھونٹ پیتا رہا یہاں تک کہ گلاس ختم ہو گیا۔ گلاس بینچ پہ رکھ کر وہ سیدھا ہوا تو اسے چکر سا محسوس ہوا تھا۔ اس نے آہستگی سے ماتھے کو مسلا تھا۔ یکدم اسے سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگی تھی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے شرٹ کے اوپری بٹن کھولنے کی کوشش کی تھی۔

نوریہ خاموش بیٹھی، بغور اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ احمر اب بری طرح سے گلے کو مسل رہا تھا۔ وہ سانس نہیں لے پا رہا تھا۔

” میں نے دعان کو اپنے جال میں لپیٹا اور اسے پھانسی کے پھندے تک پہنچایا۔ تمہیں واقعی لگتا ہے کہ وہ سب میں نے تمہارے کہنے پہ کیا ؟؟؟؟ اس لئیے کیا کہ وہ تمہارے سوتیلے بھائی کے مرنے کی وجہ تھا ؟؟؟؟؟؟ “

احمر اکھڑی اکھڑی سانسیں لیتا، پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جو پرسکون بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔

” ڈیڈ نے کبھی حوریہ کا برا نہیں چاہا تھا۔ انہیں پتہ تھا دعان اسکے قابل نہیں ہے۔ وہ کسی کے قابل نہیں تھا۔ اس نے ہمیشہ اسے بس استمعال کیا۔ اسکا جسم، اسکا پیسہ، بس۔۔۔۔۔ “

احمر نے اپنی ناک سے وہ مائع بہتا محسوس کیا تھا۔ کانپتے ہاتھ سے اس نے اس مائع کو انگلی کی پور پہ لیا تھا۔ خون بہتا ہوا اسکی ٹھوڑی تک پہنچ چکا تھا۔

” لیکن وہ حوریہ کے مرنے کی وجہ نہیں تھا۔ ہے ناں احمر ؟؟؟؟؟؟ “

وہ پتھرائی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا

” تت۔۔۔۔ تمہیں کک۔۔۔۔۔ کیسے ؟؟؟؟؟؟ “

نوریہ سپاٹ چہرے سے اسے دیکھ رہی تھی۔

” تمہیں اس پہ رحم نہیں آیا احمر ؟ جب وہ تمہارے سامنے روئی، گڑگڑائی، تمہیں اس پہ ترس نہیں آیا ؟؟؟؟ تم نے اس کی عزت کو تار تار کیا اور مرنے کے بعد بھی اسے ہی بدکرار کہا۔ احمر، تمہیں اس پہ رحم نہیں آیا ؟؟؟؟؟؟؟؟ “

” مم۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔ “

وہ بمشکل سانس لے پا رہا تھا۔

” اس رات، جب تم نے اس کے ساتھ زبردستی کی، جانتے ہو اس نے مجھے کال کی اور مجھ سے مدد مانگی۔ میری بے بسی محسوس کر سکتے ہو ؟؟؟؟؟ میں جس سے سچی محبت کرتی تھی وہ میری بہن کی عزت کا قاتل نکلا۔۔۔۔ وہ مر رہی تھی اور میں سات سمندر پار تھی۔۔۔۔ احمر، میری بے بسی محسوس کر سکتے ہو ؟؟؟؟؟؟؟ “

احمر ساحل کی گیلی ریت پہ ڈھے چکا تھا۔ اسکی سانسیں حلق میں اٹکنے لگی تھیں۔ بند ہوتی آنکھوں اور چکراتے ذہن کے پردوں پہ وہ کچھ مٹے مٹے منظر تھے۔

وہ لڑکا جسے اسکا بڑا بھائی بتایا گیا تھا۔۔۔۔ اس سے زیادہ ذہین فطین۔۔۔۔ ڈیڈ کا لاڈلہ۔۔۔۔ وہ جلن۔۔۔۔ وہ بات بے بات انصر کی مثالیں۔۔۔۔ وہ چڑ جو اسے بھائی سے تھی۔۔۔۔۔ بچپن میں انصر کے کھلونے توڑتا وہ خود۔۔۔۔ اسکے میڈلز زمین پہ پھینکتا ہوا۔۔۔۔ اسکے پسندیدہ کپڑے جلاتا ہوا۔۔۔۔ اور۔۔۔ اور وہ رات۔۔۔۔۔ حوریہ کی چیخیں۔۔۔۔ اسکے آنسو۔۔۔۔۔

” ہم اہلِ دل پہ تم پتھر دل ہمیشہ ظلم ہی کرتے آۓ ہو۔۔۔۔”

نوریہ کی آواز اسے دور سے آتی سنائی دی تھی۔

” میری بہن کا بدلہ پورا ہوا۔ میں تب سات سمندر پار جا کر اسکی مدد نہیں کر سکی تھی لیکن آج تمہیں سات سمندر پار بلا کر میرا انتقام پورا ہوا۔۔۔۔۔ الودع۔۔۔۔۔۔ “

وہ آنکھیں کھول کر اسے ایک آخری بار دیکھنا چاہا تھا لیکن یہ ممکن نہیں ہو سکا تھا۔ وہیں ساحل کی رات پہ پڑے پڑے، اس برفیلی رات میں اس نے ان قدموں کو خود سے دور جاتا محسوس کیا تھا۔ زندگی نے موت سے شکست کھانے سے پہلے وہ آخری بازگشت سنی تھی۔

” تمہارے اور میرے درمیان تیسری اب بس موت ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *