Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ahl e Dil (Episode 09)

Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar

احمر دھواں دھار گاڑی دوڑاتے ہوئے وہاں پہنچا تھا… لیکن…

وہ نوریہ نہیں تھی…

کمال نیازی پر جیسے قیامت آ کر گزر گئی تھی

“نوریہ…. ” اس لمحے انہیں احساس ہوا کہ وہ ان کے لئے کس قدر قیمتی تھی…

افسوس کے حوریہ کی قدر و قیمت کا اندازہ بھی انہیں تب ہی ہوا تھا جب وہ انہیں ہمیشہ کے چھوڑ گئی تھی

بہت عرصے تک وہ نارمل نہیں ہو سکے تھے

وہ مانتے یا نا مانتے… قصوروار تو وہ تھے… اپنی دونوں بیٹیوں

کیا ہو جاتا اگر وہ حوریہ سے کہہ دیتے کہ ٹھیک ہے… انصر سے شادی نہیں کرنی تو نہ کرو…. ؟؟؟

کیا ہو جاتا اگر وہ نوریہ سے کہہ دیتے کہ ٹھیک ہے… احمر سے شادی نہیں کرنی تو نہ کرو…؟؟؟

وہ دونوں شاید آج زندہ ہوتیں…

…………………..

اس رات کوئی بزنس گیدرنگ تھی…احمر آفس سے ذرا جلدی گھر آ گیا

“کیا کر رہی ہو ؟” ملائکہ کو کچن میں کھڑے دیکھا تو اس طرف آ گیا

“کھانا بنا رہی ہوں” وہ کافی مصروف تھی

“ملازمہ کہاں گئی ؟” احمر اس کے قریب آتے ہوئے بولا

“مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا اس کے ہاتھ کا کھانا…بہت مرچیں ڈالتی ہے, بچے دو دن سے کھا ہی نہیں رہے” وہ بولی

“ملائکہ… ” احمر نے کچھ دیر بعد اسے پکارا

“جی… ” وہ اس کی طرف دیکھنے لگی

“رات میں چلو گی میرے ساتھ… ؟” اس نے پوچھا

“کہاں… ؟؟؟”

“ایک بزنس گیدرنگ ہے… وہاں… ” وہ بولا

“کس حیثیت سے… ؟” ملائکہ نے پوچھا

“آف کورس بیوی کی حیثیت سے” وہ بولا

“دیکھ لیں احمر… وہاں مجھے اپنی بیوی کی حیثیت سے لے جانا آپ کو مہنگا نہ پڑ جاۓ…ظاہر ہے وہاں آپ کے ڈیڈ بھی ہوں گے, انصر بھی ہوں ہیں… ” وہ بولی

“کچھ نہیں ہوتا…تم بس اچھا سا تیار ہو جانا” وہ دھیرے سے کہتے ہوئے اوپر چلا گیا

لیکن ملائکہ کی بات سو فیصد درست تھی…

“احمر حافی… کمال نیازی کا داماد ہے… ” یہ بات پورا شہر جانتا تھا

سینکڑوں نظریں ان دونوں کی طرف اٹھی تھیں جب وہ ملائکہ کے ہمراہ ہال میں داخل ہوا

“یہ نوریہ کمال تو نہیں ہے… ” کئی ایک سرگوشیاں

“تو پھر یہ کون ہے ؟؟؟” کئی ایک چہ میگوئیاں

“احمر… تمہارا دماغ تو ٹھکانے پر ہے نا… ؟” کلیم حافی کی آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے

“کیا ہوا ڈیڈ… ؟” وہ انجان بن گیا

“سارا بزنس سرکل جانتا ہے کہ تم کمال نیازی کے داماد ہو, ابھی کچھ عرصہ پہلے تمہاری اور نوریہ کی شادی ہوئی ہے اور آج تم اسے اپنی بیوی بنا کر یہاں لے آۓ ہو” وہ اس پر برس پڑے, ملائکہ سے نظریں نہ اٹھائی گئیں

“کیا مطلب ہے بیوی بنا کر ڈیڈ… یہ میری بیوی ہے” احمر نے کہا

“احمر… اسے ابھی تک صرف میں نے تمہاری بیوی مانا ہے… باقیوں کو تمہاری یہ رام لیلا نہیں معلوم… اس گیدرنگ میں یہ تمہاری بیوی نہیں ہے…. ” وہ کہتے چلے گئے

“میں نے کہا تھا نا… ” احمر اس کی شکوہ کناں نظروں سے ہار سا گیا

“کیا یہ تمہاری بہو ہے حافی… ؟” دو, تین لوگ ان کی طرف چلے آۓ

“نہیں نہیں…. نوریہ تو ایک ہفتہ پہلے امریکہ چلی گئی تھی, یہ احمر کی سیکریٹری ہے” کلیم حافی نے فرداً فرداً سب کو بتا دیا, احمر بس غصے کے گھونٹ بھر کر رہ گیا تھا

“آؤ احمر… تمہیں لاشاری سے ملواؤں… افریکہ میں اس کی ذاتی گولڈ مایینز ہیں” کلیم حافی اسے لیکر آگے بڑھ گئے

ملائکہ کو شدت سے اپنے بے وقعت ہونے کا احساس ہوا تھا, آنکھیں لمحوں میں پانیوں سے بھر گئیں, بڑی مشکل سے خود کو کمپوز کرتے ہوئے وہ ایک کونے میں رکھی ٹیبل کی طرف آ گئی, آنسو چھلکنے کو بیتاب ہو رہے تھے

“کیا حال چال ہیں مسز احمر حافی… ” انصر مسکراتی نظروں سے اس کے سامنے والی کرسی پر آ کر بیٹھا تھا, وہ بس ایک نظر اسے دیکھ کر سر جھکا گئی

“ویسے تم بھی ڈرامہ تو اچھا کر لیتی ہو… تمہاری اور احمر کی جوڑی ہےت بہت پرفیکٹ… وہ کہتے ہیں نا کہ نیک مردوں کے لئے نیک عورتیں… اور بدکار مردوں کے لیے… ” ملائکہ نے اس کی بات کاٹ دی

“یہ لفظ احمر سن لیتا ہو گا آپ کی زبان سے… میں نہیں سنوں گی انصر” اسے غصہ آیا تھا

“ارے واہ… تم تو بولتی بھی بالکل احمر کی طرح ہو” وہ بولا

“ویسے کتنے دکھ کی بات ہے نا ملائکہ… کہ تمہارا شوہر سب کے سامنے سینہ تان کر تمہیں اپنی بیوی بھی نہیں کہہ سکتا… افسوس” وہ بولا, ملائکہ خاموش رہی

“ساری عمر یہ ہی ہو گا تمہارے ساتھ… بس کچھ دن اور عیش کر لو, پھر یہ ہی احمر حافی تمہارے ہاتھوں میں طلاق کا کاغذ پکڑاۓ گا, کیونکہ اس سے کہاں ایک پر گزارہ ہوتا ہے… ” انصر کہتا جا رہا تھا, ملائکہ نے نظریں گھما کر احمر کو کھوجا, وہ کچھ فاصلے پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا

انصر اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھ کر مسکرایا

“اس نے تو بھائی کو نہیں بخشا… تو تم کیا چیز ہو” وہ کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا, ملائکہ بس اپنے دل اور آنکھوں کو ہی سنبھالتی رہ گئی, واپسی پر گاڑی میں بھی وہ بالکل خاموش رہی, گھر پہنچتے ہی وہ تیر کی طرح گاڑی سے اتری تھی, احمر اوپر آیا تو وہ صوفے پر بیٹھی جوتے اتار رہی تھی, احمر نے دھیرے سے کوٹ کی جیب سے موبائل نکالا اور چارجنگ پر لگایا, ملائکہ جوتے اتار کر کھڑی ہو گئی, احمر اسے ہی دیکھ رہا تھا, اپنے دوپٹے سے پن کھینچ کر وہ واش روم کی طرف بڑھی تھی جب احمر نے اس کی کلائی تھام لی

وہ یکدم رکی…اپنی کلائی پر اس کا لمس پا کر اس کی آنکھیں بھر آئیں

“ملائکہ… ” احمر نے اسے اپنی طرف موڑا تھا, وہ اس سے نظریں چرا گئی

کپکپاتے ہوۓ لب اور پانیوں سے لبا لب آنکھیں… چہرے پر پھیلتی سرخی اور ماتھے پر ابھرتا پسینہ

“ملائکہ… ” احمر کے کہنے کی دیر تھی…اس کی آنکھیں چھلک گئیں

“یار ایم سوری… ” احمر نے اسے اپنے دونوں بازوؤں میں لے لیا

“احمر… میں آپ کی ذات پر صرف ایک داغ ہوں… ایک داغ, جسے آپ ساری عمر بھی دھوئیں گۓ تو نہیں اترے گا” وہ رو رہی تھی, احمر نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں بھرا

“حالانکہ تم داغ نہیں ہوں لیکن پھر بھی… میں چاہوں گا کہ یہ داغ تا عمر میری ذات پر لگا رہے” احمر نے کہا, ملائکہ کی سرخ روئی روئی سی آنکھیں بس اس سے کچھ ہی فاصلے پر تھیں, وہ دھیرے سے اس کے چہرے پر جھکا, ملائکہ کے تھرتھراتے ہوۓ لب اس کے لبوں سے ٹکراۓ تھے

“ملائکہ… میں تم سے بہت …” اس سے پہلے کہ وہ انہیں مقید کرتا, ملائکہ دھیرے سے پیچھے کو ہو گئی, احمر نے بڑی زخمی نظروں سے اسے دیکھا تھا

“داغ کبھی بھی پیارے نہیں ہوتے احمر… ” وہ دھیرے سے کہتے ہوئے پیچھے کو مڑ گئی تھی

……………………………

وہ بڑی دیر سے موبائل سکرین نظروں کے سامنے کیے ٹیرس پر پڑی کرسی پر بیٹھا تھا, ٹانگیں سیدھی کر کہ سامنے میز پر دھر رکھی تھیں, سکرین پر کسی لڑکی کی تصویر تھی, اسے پتہ ہی نہ چلا کہ نوریہ کب اس کے پیچھے آن کھڑی ہوئی

اسے دعان کے پاس آۓ دو ہفتے گزر چکے تھے, دعان مسلسل نیٹ ورک سے باہر تھا, کمال نیازی ابھی تک اسے ڈھونڈ نہیں سکے تھے

نوریہ نے دھیرے سے موبائل اس کی انگلیوں سے کھینچ لیا

“پچھلے آدھے گھنٹے سے تم اس لڑکی کی تصویر دیکھ رہے ہو… کیا ہے اس میں ؟” نوریہ دھیمے سے مسکراتے ہوئے اس کے عین سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئ

“نور… یہ لڑکی کون ہے ؟” اس نے پوچھا

“موبائل تمہارا… تصویر تمہاری… مجھے کیا پتہ…؟” وہ ہنسی

“یہ وہی تصویر ہے جو تم نے اپنے نکاح والی رات مجھے بھیجی تھی” دعان نے کہا

“اوہ اچھا… “اب کے نوریہ نے دوبارہ موبائل سکرین کی طرف دیکھا

“کون ہے یہ… ؟؟؟” دعان نے پھر پوچھا

“تمہارے لئے یہ جاننا کتنا ضروری ہے ؟؟؟” نوریہ نے کہا

“پھر بھی… ” وہ بولا, نوریہ نے اسے صرف اپنے اور احمر کے نکاح کے بارے میں بتایا تھا, باقی کا کھیل وہ چھپا گئی تھی

“احمر کی کچھ لگتی تھی یہ… اب مجھے یاد نہیں” نوریہ نے کہا, دعان سمجھ گیا کہ وہ اسے حقیقت نہیں بتانا چاہ رہی

“ویسے دعان… ذرا غور سے دیکھو اسے…. ” نوریہ نے موبائل اس کی طرف بڑھایا

“اس کی شکل تھوڑی تھوڑی تم سے ملتی ہے… ” وہ شاید مذاق کر رہی تھی لیکن دعان یکدم چونک گیا

دو ہفتوں سے وہ اس لڑکی کی تصویر پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا, بارہا اسے لگا کہ شاید اس نے اس لڑکی کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے مگر کہاں… ؟؟؟؟ کچھ یاد نہ آتا, پچھلے سات سالوں کی ہر ہر لڑکی اسے یاد تھی لیکن… اب نوریہ کے کہتے ہی وہ چونک گیا, جھٹ سے موبائل پکڑا اور تصویر دیکھی

وہ واقعی اس سے ملتی جلتی تھی

“دعان… کہیں یہ تمہاری کوئی ہمشکل تو نہیں… ؟؟؟” نوریہ مسلسل ہنس رہی تھی

“یا پھر کوئی دور پار کی رشتے دار… ” وہ بولتی جا رہی تھی

“یا پھر تمہاری کوئی بہن… ” نوریہ کے کہتے ہی اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا تھا

“چھوڑ دو اسے… خود غرض انسان چھوڑ دو… ” ماضی کی کئی آوازیں

“بھابھی مجھے بچائیں… پلیز بھائی مجھے چھوڑ دیں… ” اس کم سن سی لڑکی کی رونے کی آواز

“فریال…. ” اس کے لبوں سے نکلی ہوئی سرگوشی نوریہ تک نہیں پہنچ سکی تھی

……………………………

اس دن بھی انصر علی کو لینے آیا تھا, وہ بیچارہ بچہ حسن اور حرم کے ساتھ کھیل میں مصروف تھا, انصر کے دو دفعہ بلانے پر بھی اس کے کان پر جوں نہ رینگی… اور وہ بھی آخر کو انصر تھا

اس نے علی کو اچھا ہی رگڑ دیا, اس کا رونا سن کر ملائکہ بھاگتی ہوئی باہر آئی تھی, اسے لگا شائد حسن نے اسے مارا ہے

“کیا ہوا علی… ؟” وہ حواس باختہ سی اس کی طرف بڑھی

“دفع ہو جاؤ… ” انصر نے انتہائی غصے سے اسے پیچھے کو دھکا دیا تھا, وہ لڑکھڑا کر زمین پر گر گئی

گیٹ سے اندر آتے احمر نے اسے زمین بوس ہوتے دیکھا تھا, لمحوں میں اس کا پارہ سو پر پہنچ گیا

“خبردار جو آئیندہ میری بیوی کو ہاتھ بھی لگایا تو… ” احمر نے آؤ دیکھا نا تاؤ… اس پر چڑھ دوڑا

“سالے تو میری بیوی کو بانہوں میں جکڑ سکتا ہے… میں اس دو ٹکے کی عورت کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا… “انصر وحشیوں کی طرح اس پر پل پڑا تھا, احسن اور کلیم حافی بھاگتے ہوئے اندر سے نکلے, علی اور اونچی آواز میں رونا شروع ہو گیا تھا

“احسن بچوں کو اندر لیکر جا…” کلیم حافی نے بمشکل ان دونوں کو چھڑوایا

“ڈیڈ.. آج اور ابھی فیصلہ کر دیں, یا تو یہ آئیندہ اس گھر میں نہیں آئیں گے… یا پھر میں یہ گھر چھوڑ دیتا ہوں بس” احمر نے منہ سے نکلتا خون صاف کرتے ہوئے کہا

“تو ابھی اسی وقت اس حرافہ کو لیکر یہاں سے دفع ہو… ” انصر کی زبان شعلے اگل رہی تھی

“انصر… شٹ اپ” کلیم حافی نے اسے گھرکا

“اگر یہ حرافہ ہے نا… یہ تن تنہا دو بچوں کی ماں اگر حرافہ ہے نا…. تو وہ بھی حرافہ ہی تھی جو امریکہ سے یہاں آئی تھی… آپ سے شادی کرنے… چلیں… میں تو دوشی ہوں نا… میری تو زبان پر یقین ہی نہیں ہے آپ کو… تو جائیں… جا کر اس کے باپ سے پوچھیں کہ کیا وہ آپ سے شادی پر راضی تھی… جائیں ” احمر زور سے دہاڑا تھا

“بکواس بند کر… ” انصر چیخا

“آپ کو قسم ہے آپ کے بیٹے کی انصر حافی… اگر اس کے باپ نے کہہ دیا کہ وہ آپ سے شادی پر آمادہ تھی تو میں اپنے ماتھے پر بدکار کھدوا لوں گا… ” احمر بولے جا رہا تھا

……………………………

وہ اپنا ضروری سامان پیک کر رہے تھے, کل رات ان کی امریکہ کی فلائیٹ تھی, انہوں نے سوچ لیا تھا کہ وہ وہاں جا کر دعان کا پتہ صاف کر دیں گے, وہ جانتے تھے کہ نوریہ اسی پاس ہو گی

تبھی ان کا سیل بجا…نمبر انجان تھا

“ہیلو… “

“ہیلو باس… ” وہ دعان تھا

کمال نیازی ایک لمحے کو تو سن رہ گئے

یہ سچ تھا… دعان کو ڈھونڈنا ناممکن تھا یہاں تک کے وہ خود انہیں اپنا پتہ دے دیتا

اور وہ دے رہا تھا… کیوں… ؟؟؟؟

“نوریہ کہاں ہے ؟؟؟” انہوں نے پوچھا

“سوئی ہوئی ہے… ” وہ بولا, کمال نیازی ایک لمحے کے لئے تو بول نہیں سکے تھے

“باس… ” وہ انہیں پکار رہا تھا

“دعان… کہاں ہو… ؟؟؟”

“گیٹ پر… ” س کے کہتے ہی وہ چونکے, اس سے پہلے کہ وہ چوکیدار کو کال کرتے, ان کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی تھی

“دعان… ” وہ دروازے میں کھڑا تھا

“ہماری ڈیل ہوئی تھی دعان.. تمہیں اس کی زندگی سے نکل جانا تھا” وہ بولے

“میں نکل گیا تھا… وہ دوبارہ آ گئی ” وہ بولا

“اسے مجھے واپس کر دو…” وہ بولے

“تاکہ آپ اسے دوبارہ کسی ایسے کے حوالے کر دیں جو اس کے لئے ان چاہا ہو” وہ بولا

“میں نے اس کے لئے بہترین سوچا تھا… ” وہ ڈھے سے گئے

“شاید اس نے بھی اپنے لئے بہترین ہی سوچا ہوتا باس… وہ دو قدم آگے کو آیا تھا

“چلیں پھر سے ڈیل کرتے ہیں… ” اس نے ایک تصویر ان کے سامنے کی تھی

“یہ کون ہے… ؟؟؟”

“پتہ نہیں… ” وہ بولے

“تو پتہ کریں… اور نوریہ واپس لے لیں” وہ مسکرایا

“تو ثابت ہوا کہ تمہارے لئے بھی نوریہ بس ایک ڈیل کی حد تک ہی اہم ہے… ہے نا دعان… ؟؟؟؟” وہ طنز سے مسکراۓ تھے

“وہ میری محبت ہے باس… لیکن میرے لیے محبت سب سے اہم نہیں ہے” دعان نے کہا

“تو سب سے اہم کیا ہے… ؟؟؟” وہ بول نہیں سکا, کمال نیازی نے دوبارہ تصویر کی طرف دیکھا

“تم خود کیوں نہیں ڈھونڈ لیتے… ؟؟” انہوں نے پوچھا

“ڈھونڈا ہے… نہیں ملی” وہ بولا

“کون ہے یہ… ؟؟؟

“یہ آپ کے داماد کی کچھ لگتی ہے… ” وہ بولا تھا اور کمال نیازی چونک گئے تھے

“احمر کی… ” وہ سوچ میں پڑ گئے

“گڈ بائے باس… ” انہیں شش و پنج میں مبتلا کر کہ وہ باہر نکل گیا تھا

“یہ ہے کون… ؟؟؟” وہ مسلسل سوچ رہے تھے

…………………………..

وہ آج حافی ہاؤس آۓ تھے… اتوار کا دن تھا, سبھی گھر پر تھے

“تمہیں تو کل واپس جانا تھا کمال… ” کلیم حافی ان سے نظریں نہیں ملا پاۓ

“ویزہ ایکسٹینڈ کروایا ہے” وہ بولے, نظریں تو وہ بھی نہیں ملا پاۓ تھے

“نوریہ کا کچھ پتہ چلا… ؟؟؟”

“فی الحال تو نہیں… ” وہ بولے, کلیم حافی انہیں ڈرائینگ روم میں لے آۓ

“احمر کہاں ہے ؟؟؟؟” انہوں نے پوچھا

“اوپر ہے… ” وہ بولے, ان کی پوری کوشش تھی کہ ملائکہ اور بچے نیچے نہ آئیں…انہوں نے جلدی سے احمر کو ٹیکسٹ کیا تھا

“اپنی بیوی اور بچوں سے کہنا کہ اوپر ہی رہیں… کمال آیا ہے”

“تجھ سے ایک بات کرنی تھی کلیم… ” کمال نیازی نے پہلو بدلتے ہوئے کہا

“ہاں… ” کلیم حافی غائب دماغی سے انہیں سن رہے تھے, دھیان سارا اوپر کی طرف تھا

“کہاں ہیں انکل… ؟؟؟” احمر کا ٹیکسٹ آیا

“ڈرائینگ روم میں… “

“یار نوریہ اور احمر کی شادی پر تیرے کوئی اور رشتے دار بھی آۓ تھے… ؟؟؟ میرا مطلب قریبی رشتے دار… ” انہوں نے موبائل سکرین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

“نہیں تو… “کلیم حافی مسلسل موبائل میں مگن تھے

“ڈیڈ… فریال کچن میں ہے… ” احمر کا ٹیکسٹ آیا تھا اور ساتھ ہی وہ خود بھی نیچے آ گیا, کمال نیازی کی نظریں موبائل پر تھیں

کلیم حافی نے بے چینی سے کچن کی طرف دیکھا

کمال نیازی نے موبائل پر اس لڑکی کی تصویر نکال لی, اس سے پہلے کہ احمر کچن کی طرف بڑھتا, فریال کچن سے نکلی تھی

“یہ کون ہے حافی… ؟؟؟” حالانکہ کمال نیازی موبائل والی لڑکی کا پوچھ رہے تھے لیکن… کلیم حافی کو لگا جیسے کچن سے نکلتی فریال کا پوچھ رہے ہوں

“یہ… وہ…. دراصل… ” ان سے بات نہ بن پڑی

“یہ میری سیکینڈ کزن ہے انکل… کراچی سے آئی ہے” احمر کی بات سن کر انہوں نے سر اٹھایا

فریال عین ان کے سامنے تھی… وہ بھونچکا رہ گئے

کبھی موبائل کو دیکھتے… تو کبھی سامنے کھڑی فریال کو..

“اچھا اچھا… کب تک رہے گی… ؟؟؟” وہ اپنی سوچوں میں غلطاں کلیم حافی کی پریشانی بھانپ ہی نہیں سکے تھے

“ابھی تو… رکے گی… کچھ دن” وہ بولے, احمر نے فریال کو اوپر جانے کا اشارہ کیا تھا

کمال نیازی مسلسل غائب دماغی سے اسے اوپر جاتا دیکھ رہے تھے

“دعان کو اس سے کیا سروکار… ؟؟؟” وہ سوچے جا رہے تھے

……………………….

“دعان… آگے کا کیا سوچا ہے تم نے… ؟؟؟” نوریہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی جو ابھی ابھی شاور لیکر نکلا تھا

“مطلب… ؟؟؟

“مجھے تمہارے ساتھ رہتے دو ہفتے ہو گئے ہیں… مجھے احمر سے خلع لینا ہے ” وہ بولی

“ادھر کیس دائر ہوا… ادھر تمہارے ڈیڈ تک بات پہنچی” وہ بولا

“تو پھر… نکاح کیسے کروں گی تم سے ؟؟؟؟” اس نے پوچھا, دعان دو قدم چل کر اس کی طرف آیا اور اس کے بالکل پاس بیٹھ گیا

“نور… واپس چلتے ہیں ؟؟؟” وہ دھیرے سے بولا تھا, نوریہ بس دم بخود اسے دیکھتی رہ گئی, دعان سے اس کی نظروں کا سامنا کرنا دوبھر ہو گیا تو نگاہیں پھیر لیں

“دعان… ” نوریہ نے اس کا چہرہ دوبارہ اپنے سامنے کیا تھا

“تم نے ڈیڈ کو بتا دیا نا… ” اس نے پوچھا, دعان نے سر جھکا لیا….نوریہ کی آنکھیں لبریز ہو گئیں, اس نے دعان کا ہاتھ پکڑا اور اپنے سر پر رکھا

“میری قسم کھا کر کہو کہ تمہاری زندگی میں میرے علاوہ کبھی کوئی لڑکی نہیں رہی دعان… ” وہ بمشکل اپنے آنسو روکے ہوئے تھی, دعان بول نہ سکا بس چپ چاپ اس کے سر پر سے اپنا ہاتھ ہٹا گیا, دھیرے سے اس کے پاس سے اٹھا اور ٹیرس پر نکل آیا

نوریہ اس کے پیچھے ہی باہر نکلی تھی

“میری ساری زندگی جھوٹ سہی نور… لیکن اکلوتا سچ یہ ہے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں… بے پناہ… تمہیں سننے کی, تمہیں دیکھنے کی, تمہیں ہمہ وقت محسوس کرنے کی عادت ہے مجھے… پکی عادت لیکن… حیرانی اس بات پر ہے کہ سات سال اس اندھیری دنیا میں رہنے کے باوجود میرا دل زندہ ہے… تبھی تو تم سے محبت کرتا ہے نور… تبھی تو… آج تک صرف ایک لفظ کے لیے ترس رہا ہے… معافی… ” وہ ریلنگ پر بازو رکھے کہتا جا رہا تھا

“واپس چلتے ہیں… تمہارے ڈیڈ سے پاس… ” وہ پھر بولا

“اور میری واپسی کے بدلے کیا سودا کیا تم نے ان سے ؟؟؟” آنسو پلکوں سے نکل آۓ تھے

“شاید ایک معافی… ” وہ سرگوشی میں بولا تھا

……………………

“The girl is in this house…”

اسے کمال نیازی کا میسیج آیا تھا, ساتھ ایک ایڈرس تھا

“میں اور نور آپ کو وہیں ملیں گے… ” اس نے جوابی ٹیکسٹ کیا تھا, کمال نیازی اسی وقت حافی ہاؤس چلے آۓ, انصر بھی وہاں پہنچا ہوا تھا اور اس کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ کچھ ہوا ہے

ملائکہ اور بچے فریال سمیت حسب عادت ان کی گاڑی دیکھتے ہی اوپر نظر بند کر دیئے گیے تھے, احمر ستا ہوا چہرہ لئے سنگل صوفے پر بیٹھا تھا, کمال نیازی, کلیم حافی کے برابر میں بیٹھ گئے

“کوئی پریشانی ہے کمال… ؟؟؟؟” ان کی رنگت اڑی اڑی سی تھی

“نہیں تو… ” وہ بولے

“نوریہ کا کچھ پتہ نہیں چلا انکل… ؟؟؟” انصر نے پوچھا تھا

“تھوری دیر تک چل جاۓ گا… ” وہ بس دم ہی دل میں کہہ کر رہ گئے تھے

کچھ ہی دیر بعد چاۓ آ گئی… پھر گیٹ کے باہر کسی گاڑی کا ہارن سنائی دیا…رات کے نو بج رہے تھے, کمال نیازی کے ماتھے پر پسینہ ابھر آیا

“کمال… چاۓ ” کلیم حافی نے یاد دلایا, تبھی قدموں کی آہٹ ابھری تھی….دروازہ کھلا

وہ نوریہ کمال ہی تھی… اور اس کے پیچھے… بلیک جوگرز… بلیک جینز… بلیک جیکیٹ… وہ کون تھا… ؟؟؟

“نوریہ… میرے بچے” کمال نیازی نے دو قدم اٹھاۓ تھے جب دعان نے انہیں انگلی کے اشارے سے روک دیا

“وی لڑکی کہاں ہے باس… ” آس نے پوچھا

“کونسی لڑکی… ؟؟؟” حلیم حافی کے منہ سے نکلا

“یہ کس لڑکی کی بات کر رہا یے کمال… کون ہے یہ… ؟؟؟” انہوں نے پھر پوچھا تھا

“وہ کہاں ہے… ؟؟؟ وہ لڑکی… احمر کی کزن… “کمال نیازی کے لبوں سے نکلا

“تجھے اس سے کیا سروکار… ؟؟؟” کلیم حافی حیرانی سے بولے, کمال نیازی نے نظریں جھکا لیں

“وہ لڑکی… باس… ؟؟؟” دعان نے دوبارہ کہا تھا

“کمال… تو نے اپنی بیٹی کے بدلے اس بچی کا سودا کر دیا… ؟؟؟” کلیم حافی ششدر رہ گئے, احمر دو قدم چل کر دعان کے سامنے آیا تھا

“کون ہو تم… ؟؟؟” اس نے پوچھا , دعان نے جیکیٹ کی جیب سے پستول نکالی اور نوریہ کے سر پر رکھ دی

“وہ لڑکی کہاں ہے باس… ؟؟؟” دعان نے کہا, نوریہ دم بخود کھڑی رہ گئی تھی, احمر نے تاسف سے اس کی طرف دیکھا

“اس کے لئے وقت چاہئیے تھا نا تمہیں… تاکہ یہ کسی وقت تمہارے سر پر پستول رکھ سکتا…” وہ بولا, نوریہ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں

“اوپر ہے… ” کلیم حافی کے پیچھے کھڑے انصر نے کہا تھا, احمر نے غصے سے اس کی طرف دیکھا

“فریال… ” دعان نے اسے آواز دی تھی

…………………………

“فریال… ” وہ آواز ان چاروں نے سنی تھی

“یہ کون ہے… ؟؟؟” فریال چونک گئی جبکہ ملائکہ… وہ ششدر سی تھی

“فریال… ” آواز دوبارہ آئی تھی, فریال ایک دم اٹھی

“فریال رکو… ” ملائکہ اس کے پیچھے دوڑی تھی, فریال بھاگتی ہوئی سیڑھیاں اتری

عین درمیان میں آ کر ٹھٹھک گئی

لاؤنج میں شطرنج سجی ہوئی تھی… سب اسے ہی دیکھ رہے تھے

دعان اسے دیکھ کر گنگ تھا… پستول نیچے کرتے ہوئے وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھا

فریال انجان سی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی, وہ چلتا گیا… پھر سیڑھیاں چڑھا… ایک… دو.. تین

فریال کے پاس سے گزر گیا

شطرنج کے سارے مہرے یکدم حیران ہوۓ تھے… وہ فریال سے دو قدم اوپر کھڑی ملائکہ کے سامنے آن رکا

وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی

“ملائکہ… “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *