Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar

شام کبھی کی غروب ہو چکی تھی۔
لالیاں چھلکاتا نارنجی آسمان اب سیاہ پڑنے لگا تھا۔ احمد لان میں چئیر پہ خاموش بیٹھا، بادام کے اونچے پیڑ پہ بولتے پرندوں کو کھوج رہا تھا۔
" اتنا بھی کیا ضروری ہے احمر اس بدیسی لڑکی سے شادی کرنا ؟؟ سچ بتائیں مجھے احمر، یہ بس شادی کے لئیے اتاؤلا پن نہیں ہے، ہے ناں ؟ "
اسکے کانوں میں ملائکہ کی بات آواز گونج رہی تھی ولید نے بھی ملائکہ کے گھر سے واپسی پہ آتے ہوۓ کچھ ایسا ہی کہا تھا۔
" محبت بھی نہیں ہے، جس لڑکی سے تو دو چار دن پہلے ملا ہے اس سے محبت کیسے ہو سکتی ہے۔ روپے پیسے کا چکر بھی نہیں ہے، تیرے پاس اللّٰہ کا دیا سب کچھ ہے۔ گرین کارڈ کا لالچ اور نا ہی کچھ اور۔ پھر کیوں احمر ؟؟؟؟؟؟ وہ ہی کیوں ؟؟؟؟؟ "
اس نے ہولے سے آنکھیں موند لیں۔
وہ منظر جو اس بھیگتی شام سے بھی زیادہ سیاہ تھا۔
" بھائی ہوتے ہوۓ ایسی نیچ حرکت۔۔۔۔ تجھے شرم نہیں آئی میری بیوی کے ساتھ یہ کرتے ہوۓ۔۔۔۔۔ احمر۔۔۔۔ بے غیرت، تیری ماں جیسی تیری بھابھی اور تو۔۔۔۔۔ لعنت ہے۔۔۔۔۔ "
وہ شور اسکی سماعتیں پھاڑنے کو تھا۔ وہ روتی ہوئی آوازیں، دبی دبی چیخیں، گھٹی گھٹی سانسیں۔
" بدکردار۔۔۔۔ بدکردار۔۔۔۔۔ "
اسکے لب کپکپا کر رہ گئے۔ اس کے کانوں میں صور پھونکا جا رہا تھا۔ احمر نے دونوں ہاتھوں سے کانوں کو ڈھانپ لیا تھا۔
" نن۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ "
" تیری اوقات ہی یہ ہے۔۔۔۔ تو جانور سے بھی بدتر ہے ۔۔۔۔ یہاں وہاں منہ مارتا ہے، رال ٹپکاتا ہے، بدنیتی دکھاتا ہے اور امانت میں خیانت کرتا ہے۔ تیری اوقات یہی ہے۔۔۔۔ "
" نن۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ "
" بدکردار۔۔۔۔۔ "
" نن۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ "
" احمر بھائی۔۔۔۔۔۔۔ "
کسی نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔ اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔ سامنے پریشان سا احسن کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ جو دونوں کانوں پہ ہاتھ رکھے، پسینے میں بھیگا ہوا تھا، تھر تھر کانپ رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *